No Download Link
Rate this Novel
Episode 39
منہاج کی اِس اچانک دی جانے والی اطلاع پر ماورا شاکی نظروں سے اُسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
اتنی مشکلات اور مسائل کے بعد جاکر کہیں اُن کا رشتہ ٹھیک ہوا تھا۔۔۔ اور منہاج پھر اُس سے دور جانے کی بات کررہا تھا۔۔۔۔
ماورا بنا کچھ بولے خاموشی سے اُسے دیکھے گئی تھی۔۔۔۔۔
“ماورا۔۔۔۔ میں بہت جلد تمہیں وہاں بلوا لوں گا۔۔۔۔”
منہاج اُس کی آنکھوں میں اُترتی نمی دیکھ اپنی بات مکمل نہیں کر پایا تھا۔۔۔۔
اُس کا چہرا ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے وہ نرمی سے بولا تھا۔۔۔۔ مگر ماورا نے اِس بات کا بھی کوئی جواب نہیں دیا تھا۔۔۔۔
وہ پلیکیں جھکائے اُس سے خفگی کا اظہار کررہی تھی۔۔۔۔
“میں بابا کو ہمارے بارے میں سب بتا چکا ہوں۔۔۔۔ میں چاہتا ہوں جانے سے پہلے ایک بار تمہیں اپنی فیملی سے ملواتا جاؤں۔۔۔۔ میں اب مزید ہم دونوں کے درمیان کوئی غلط فہمی نہیں آنے دینا چاہتا۔۔۔۔ “
منہاج نے ہاتھ کے انگوٹھے سے اُس کا گال سہلاتے ماورا کے سر پر ایک اور بم پھوڑا تھا۔۔۔۔۔
“کیا۔۔۔۔؟؟”
ماورا نے جھٹکے سے سر اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ جو پہلے ہی دل و جان سے اُس کی جانب متوجہ تھا۔۔۔۔۔
“اپنے سسرال والوں سے نہیں ملنا چاہتی تم۔۔۔۔”
منہاج اُس کے ری ایکشن پر اُسے چھیڑتے ہوئے بولا۔۔۔
“تمہارے بابا مان گئے۔۔۔؟؟؟”
ماورا کے لیے اِس بات پر یقین کرنا مشکل ہوا تھا۔۔۔۔
“وہ تو کب سے مانے ہوئے ہیں۔۔۔۔اور تم سے ملنے کے منتظر ہیں۔۔۔۔”
منہاج اُس کے ناک سے اپنا ناک مس کرتا اُس کے گال کو ہونٹوں سے چھوتے بولا۔۔۔۔ ماورا اُس کی بڑھتی جسارتوں پر بری طرح لال ہوچکی تھی۔۔۔
وہیں منہاج کے الفاظ اُس کے چہرے پر بے ساختہ مسرت کے رنگ بکھیر گئے تھے۔۔۔۔
“میرے بارے میں سب جاننے کے باوجود بھی مان گئے وہ؟؟”
ماورا کو ابھی بھی اِس بات پر یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔۔
“ہاں تمہارے بارے میں سب جاننے کے بعد تو وہ اور بھی زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔۔۔ کہ اُن کہ بہو اتنی بہادر اور باکردار لڑکی ہے۔۔۔۔ “
منہاج اُسے محبت پاش نظروں سے دیکھتے اپنے لفظوں سے معتبر کرگیا تھا۔۔۔۔
ماورا کی آنکھوں میں آنسو جھلملا گئے تھے۔۔۔۔
“کیا ہوا میری جان۔۔؟؟ اگر تم ابھی اُن سے ملنے کے لیے تیار نہیں ہو تو میں تمہیں فورس نہیں کروں گا۔۔۔۔”
منہاج اُس کی آنکھوں میں آئے آنسو برداشت نہیں کرپایا تھا۔۔۔۔
جس پر ماورا نے رونے کے ساتھ ساتھ فوراً نفی میں سرہلایا تھا۔۔۔۔
“نہیں میں ملنا چاہتی ہوں۔۔۔۔”
ماورا جس بے ساختگی سے بولی تھی۔۔۔ منہاج اپنا قہقہ نہیں روک پایا تھا۔۔۔۔
“مطلب اِس طرف مجھ سے بھی زیادہ جلدی ہے۔۔۔”
اُس کے نرم و ملائم گال کھینچتے منہاج نے اُسے چھیڑا تھا۔۔۔۔ جس پر ماورا بلش کرتی چہرا جھکا گئی تھی۔۔۔۔
“ہم باہر کیسے جائیں گے۔۔۔۔؟”
ماورا اُس کی شوخیوں پر گھبرا کر اُس کا دھیان دوسری جانب موڑتے بولی۔۔۔۔
اُس کی احتیاط پر منہاج ہولے سے مسکرا دیا تھا۔۔۔
“ایسے۔۔۔۔”
اُس کے ہاتھ میں اپنا موبائل پکڑا کر، اگلے ہی لمحے منہاج اُسے بانہوں میں اُٹھا چکا تھا۔۔۔۔ ماورا کی ہولے ہولے معمول پر آتی دھڑکنیں پھر سے منتشر ہوئی تھیں۔۔۔۔
وہ نہیں چاہتا تھا اندھیرے میں چلتے ماورا کو کوئی ٹھوکر لگے۔۔۔۔
موبائل پر آن ٹارچ کی روشنی میں چلتے وہ ایک کھڑکی کے پاس آن رُکا تھا۔۔۔ جسے ہلکے سے پش کرنے پر وہ کھلتی چلی گئی تھی۔۔۔
منہاج کی اِس چلاکی پر ماورا نے اُسے گھور کر دیکھا تھا۔۔۔ وہ پوری تیاری کے ساتھ آیا تھا۔۔۔
بنا ماورا کو نیچے اُتارے وہ اُسے لیے کھڑکی پھلانگ گیا تھا۔۔۔۔ لائبریری گراؤنڈ فلور پر ہونے کی وجہ سے اُسے زیادہ مشکل پیش نہیں آئی تھی۔۔۔۔
“ہم ہمیشہ ساتھ رہیں گے نا؟؟؟”
منہاج ماورا کو اُس کے ہاسٹل کے سامنے ڈراپ کرنے آیا تھا۔۔۔ جب گاڑی سے اُتر کر اُس کے مقابل آتے ماورا نے نجانے کس احساس کے زیرِ اثر اُس سے سوال کیا تھا۔۔۔۔
“آف کورس مائی لو۔۔۔۔”
اُس کے گرد بازو حمائل کرتے منہاج اُس کی پیشانی پر بوسہ دیتے یقین بولا تھا۔۔۔۔
اُس کا یہ یقین کب تک قائم رہنے والا تھا یہ وہ خود بھی نہیں جانتا تھا۔۔۔۔۔
@@@@@@@@
“آپ کا کام ہوچکا ہے…. آپ نے جیسا کہا تھا میں نے ویسا ہی کیا۔۔۔۔ اب آپ کو بھی میری بات پوری کرنی ہوگی۔۔۔۔”
نگینہ بائی اپنے کمرے میں بیٹھی شراب کا گلاس ہاتھ میں پکڑے مسکراتے ہوئے کسی سے کال پر بات کرنے میں مصروف تھی۔۔۔۔
“ویلڈن۔۔۔۔ اگلے تیس منٹ کے اندر اپنا بینک اکاؤنٹ چیک کرلینا۔۔۔ تمہیں تمہارا انعام مل جائے گا۔۔۔۔۔”
دوسری جانب سے کہے جانے والی بات پر نگینہ بائی کھل کر مسکرائی تھی۔۔۔۔
جس عورت نے اپنی مری بہن کی بیٹیوں کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا تھا اُس کے لیے پیسوں سے بڑھ کر بھلا کیا ہوسکتا تھا۔۔۔۔ حاعفہ مینٹلی اتنی ڈسٹرب تھی کہ اِس عورت کے کھیل کو سمجھ ہی نہیں پائی تھی۔۔۔ اور ایک بار پھر اُس کے جال میں پھنس گئی تھی۔۔۔۔
“آج آپ کی بیٹیاں آپ کے پاس پہنچ جائیں گی۔۔۔۔ اُس کے بعد اِس کوٹھے کا اُن سے کوئی ناطہ نہیں رہے گا۔۔۔۔ کرامت کو بھی میں سنبھال لوں گی۔۔۔۔”
نگینہ بائی نے اپنی طرف سے پوری یقین دہانی کروائی تھی۔۔۔۔ کہ وہ اپنا کام بہت اچھے طریقے سے کرچکی ہے۔۔۔۔۔
“گڈ۔۔۔۔ تم خود بھی یہ بات اچھی طرح زہن نشین کرلو اور اُس کرامت کو بھی کہہ دینا کہ میری بیٹیوں کے دور دور تک نظر نہ آئیں مجھے۔۔۔۔ اب وہ اپنے باپ کے سائے میں ہیں۔۔۔ کوئی اُن کا بال بھی بیکار نہیں کرسکتا۔۔۔۔ “
دوسری جانب سے سرد و سپاٹ لہجے میں وارن کرتے فون بند کر دیا گیا تھا۔۔۔۔
حاعفہ اپنے باپ سے شدید نفرت کرتی تھی۔۔۔ جس نے اُس کی ماں سے بے وفائی کی تھی۔۔۔ جس کی وجہ سے اُن کی ماں اور اُن دونوں بہنوں نے اتنی اذیت ناک زندگی کاٹی تھی۔۔۔ وہ ایسے بزدل شخص کو معاف کرنا تو دور۔۔۔ زندگی بھر اُس کی شکل دیکھنے کو تیار نہیں تھی۔۔۔
نگینہ بائی کو اُس نے سختی سے کہہ رکھا تھا کہ اگر اُن کا باپ آئے تو وہ اُن کے بارے میں اُنہیں کچھ نہ بتائیں۔۔۔ اگر نگینہ بائی نے کچھ بتایا تو وہ اپنی جان دے دے گی۔۔۔۔
نگینہ بائی خود اچھی خاصی سونے کی چڑیا ہاتھ سے جانے دینے کے حق میں نہیں تھی۔۔۔
اِس لیے ہر دو مہینے بعد اُن دونوں بہنوں کی تلاش میں آنے والے اُن کے بے کس باپ کو خالی ہاتھ لوٹا دیا جاتا تھا۔۔۔
جب کچھ وقت پہلے اُس شخص نے نگینہ بائی سے تفصیل سے بات کرتے اُسے کا مزاج جاننا چاہا تھا۔۔۔ نگینہ بائی اُسے ایک انتہائی لالچی عورت لگی تھی۔۔۔۔
اُسے پہلے سے ہی شک تھا کہ اُس کی بیٹیاں ابھی بھی اِسی کوٹھے پر موجود ہیں۔۔۔۔
نگینہ بائی کو منہ مانگی قیمت اور بلینک چیک سائن کرکے دینے کا وعدہ کرتے اُس لالچی عورت کے منہ سے سچ نکلوانے میں اُسے لمحہ بھی نہیں لگا تھا۔۔۔
نگینہ بائی نے پیسوں کی لالچ میں سب کچھ بتا دیا تھا۔۔۔ حاعفہ کی باپ سے نفرت اور اُس کی خود کو ختم کرنے کی دھمکی بھی۔۔۔۔
اتنے سال اُس کی بیٹیاں اِس جگہ پر پلی بڑی تھیں۔۔۔ اِس حقیقت نے اُن کے باپ کو مزید ندامت کی کھائی میں دھکیل دیا تھا۔۔۔۔ وہ اب کسی قیمت پر ان دونوں کو اِس جگہ پر رہنے نہیں دینا چاہتے تھے۔۔۔۔
تبھی یہ پلان بنا تھا۔۔۔۔ جس کے بارے میں پوری طرح سے لاعلم ہوتے حاعفہ اِسکا حصہ بن گئی تھی۔۔۔۔۔۔
اُسے قطعاً اندازہ نہیں تھا کہ نگینہ بائی اُسے آژمیر سے دور رہنے کا کہہ کر جس جگہ بھیج رہی تھی وہ جگہ اُس کے باپ کی جاگیر تھی۔۔۔۔
@@@@@@@@
ماورا گہری نیند سورہی تھی۔۔۔ جب تکیے کے پاس رکھے موبائل پر وائبریشن ہوئی تھی۔۔۔۔ ماورا نے مندی مندی آنکھوں سے سکرین کو گھورتے کال کاٹنی چاہی تھی مگر وہاں جگمگاتا حاعفہ کا نمبر دیکھ ماورا جلدی سے اُٹھ بیٹھی تھی۔۔۔۔
حاعفہ رات کے اِس پہر اُسے کال کیوں کررہی تھی۔۔۔
ماورا نے کال اٹینڈ کرنے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لگایا تھا۔۔۔۔
“آپی خیریت آپ ٹھیک ہونا؟ اِس ٹائم کال کیوں کی۔۔۔؟؟”
ماورا پریشانی بھرے لہجے میں گویا ہوئی تھی۔۔۔
“ماورا پندرہ منٹ ہیں تمہارے پاس۔۔۔۔ اپنا ضروری سامان پیک کرو اور فوراً نیچے گیٹ پر آؤ میں تمہارا انتظار کررہی ہوں۔۔۔۔”
حاعفہ کے الفاظ ماورا کے ہوش اُڑا گئے تھے۔۔۔
اُس نے جلدی سے کھڑکی سے باہر دیکھا تھا۔۔۔ جہاں اُسے گیٹ کے پاس ایک گاڑی کھڑی نظر آئی تھی۔۔۔
“پر آپی ہوا کیا ہے؟ ہم اِس طرح سے اچانک کہاں جارہی ہیں۔۔۔؟”
ماورا کو کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی۔۔۔ حاعفہ رات کے اِس پہر اُس کے ہاسٹل کیوں اور کیسے آئی تھی۔۔۔۔
“ماورا تمہارے سارے سوالوں کے جواب مل جائیں گے تمہیں۔۔۔۔ پندرہ منٹ کے اندر نیچے آؤ۔۔۔ ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔۔۔۔”
حاعفہ کی اپنی حالت اِس وقت بہت عجیب سی ہورہی تھی۔۔۔ وہ اپنا دل بہت پیچھے آژمیر میران کے پہلو میں چھوڑ آئی تھی۔۔۔ ویران آنکھوں کے ساتھ بیٹھی وہ اندر سے بالکل خالی خالی محسوس کررہی تھی۔۔۔ جیسے ویرانی اور اُجاڑ پن کے سوا کچھ نہ بچا ہو اُس کے پاس۔۔۔۔۔
حاعفہ کی آواز میں ایک عجیب سا درد محسوس کرتے ماورا نے دوبارہ اُس سے کوئی سوال نہیں کیا تھا۔۔۔
وہ اپنے سارے ڈاکومنٹس اور باقی ضروری سامان لیے وہاں سے نکل گئی تھی۔۔۔ وارڈن کی شاید پہلے ہی حاعفہ سے بات ہوچکی تھی۔۔۔ اِس لیے گیٹ کھول دیا گیا تھا اور ماورا باآسانی باہر آتی حاعفہ کے ساتھ گاڑی میں آبیٹھی تھی۔۔۔
“آپی یہ سب کیا ہے؟؟”
گاڑی میں بیٹھتے ماورا نے سوالیہ نظروں سے حاعفہ کا آنسوؤں سے تر چہرا دیکھا تھا۔۔۔۔
حاعفہ جو پہلے ہی بامشکل خود پر ضبط رکھ پارہی تھی۔۔۔ ماورا کے پوچنے پر اُس کے گلے سے لگتی ہچکیوں کے دوران اُسے خود پر گزرتی تمام اذیت اور تکلیف دہ لمحوں سے آگاہ کرگئی تھی۔۔۔۔
جسے سن کر ماورا کو اپنا دل درد سے پھٹتا محسوس ہوا تھا۔۔۔ اُس کی بہن اُس کی خاطر کتنی تکلیفوں سے گزری تھی۔۔۔ اُسے بالکل اندازہ ہی نہیں تھا۔۔۔۔
وہ بھی حاعفہ کے ساتھ لگی اُسے چپ کرواتے کرواتے خود بھی رو دی تھی۔۔۔۔
“میں اُن سے بہت محبت کرتی ہوں ماورا۔۔۔۔ مگر وہ مجھ سے اُتنی ہی زیادہ نفرت کرنے لگے ہیں۔۔۔ میں جانتی ہوں وہ مجھے خود سے دور تو رکھیں گے ہی صحیح مگر طلاق بھی دے دیں گے۔۔۔۔ اگر ایسا ہوا تو میں مر جاؤں گی۔۔۔۔ وہ تو مجھ سے جدا ہو ہی چکے ہیں مگر اُن کا نام ہمیشہ میرے ساتھ جُڑا رہے۔۔۔۔ اِس لیے میں اُن کی دنیا سے بہت دور آگئی۔۔۔۔۔۔۔”
حاعفہ نے بہتی آنکھوں کے ساتھ اُسے اپنی دکھ بھری داستان سنا دی تھی۔۔۔ جسے سن کر ماورا کا اپنا دل خون کے آنسو رونے لگا تھا۔۔۔
“میں چاہتی ہوں وہ مجھے کبھی نہ ڈھونڈ پائیں۔۔۔ اور تم یہاں یونی کی اپنی تمام دوستوں سے رابطہ ختم کردو۔۔۔ تاکہ وہ کسی بھی ذریعے سے ہم تک نہ پہنچ پائیں۔۔۔۔ کیا تم میری خاطر یہ کرو گی۔۔۔؟”
حاعفہ کی بات پر ماورا کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا تھا۔۔۔۔
سب سے رابطہ ختم کرنے کا مطلب منہاج سے بھی دور رہنا تھا۔۔۔ اِس خیال سے ہی ماورا کی آنکھیں جھلملا گئی تھیں۔۔۔ اُس نے پلکیں اُٹھا کر حاعفہ کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ جو اُمید بھری نظروں سے ماورا کی جانب ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔
حاعفہ آج تک اُس کے لیے اپنا آپ تک قربان کرتی آئی تھی۔۔۔ اُسے زرا سی بھی تکلیف سے بچانے کے لیے اپنے دل پر ہر وار سہتی آئی تھی۔۔۔۔
اُس نے ماں سے بڑھ کر اُس کا خیال رکھا تھا، باپ بھائی سے بڑھ کر تحفظ اور شفقت مہیا کی تھی۔۔۔ اور بہنوں جیسا مان بخشا تھا۔۔
اِس نازک سی لڑکی نے تن تنہا اُس کے سارے رشتے نبھائے تھے۔۔۔ اور آج تک کبھی ایک بار بھی جتانا ضروری نہیں سمجھا تھا۔۔۔۔ آج بھی اُس نے ماورا کو ایسا ہی کرنے کے لیے کوئی حکم صادر نہیں کیا تھا۔۔۔ وہ اُس سے صرف پوچھ رہی تھی۔۔۔۔
ماورا کو آج پہلی بار حاعفہ کی خاطر قربانی دینی تھی۔۔۔ جو اُس کے لیے حد درجہ تکلیف دہ اور دل کے کئی ٹکڑے کر گئی تھی۔۔۔ مگر ماورا اپنی اِس بہن کی خاطر اپنا پیار بھی قربان کرنے کا حوصلہ رکھتی تھی۔۔۔۔
اگر وہ حاعفہ کو منہاج کے بارے میں بتا دیتی تو شاید حاعفہ کبھی بھی اُسے ایسا کرنے کو نہ کہتی اور یہاں بھی خود ہی پھنس جاتی۔۔۔ مگر ماورا اب مزید سیلفش نہیں بننا چاہتی تھی۔۔۔ اب اُسے بھی اپنا بہن والا فرض نبھانا تھا۔۔۔۔
“جی آپی میں بالکل کروں گی۔۔۔۔ “
ماورا نے یہ کہتے ساتھ اپنے موبائل کا سارا ڈیٹا ڈیل کردیا تھا۔۔۔۔ اور خاموشی سے موبائل اُس کی جانب بڑھا دیا تھا۔۔۔ حاعفہ تو پہلے ہی یہ کام کرچکی تھی۔۔۔ اُس نے کھڑکی کھولتے دونوں موبائل گاڑی سے باہر اُچھال دیئے تھے۔۔۔ تاکہ اب اُن کو کوئی ٹریس نہ کر پائے۔۔۔۔
کچھ لمحوں بعد گاڑی میں بالکل سناٹا چھا گیا تھا۔۔۔۔
دونوں ہی ایک دوسرے سے رُخ موڑے سیٹ کی پشت سے سر ٹکائے گاڑی سے باہر بھاگتے دوڑتے مناظر کو دیکھتیں اپنے آنسو ایک دوسرے سے چھپانے لگی تھیں۔۔۔۔
اُس انسان سے ہمیشہ کے لیے دور چلے جانا جسے آپ دیوانگی کی حد تک چاہتے ہو۔۔۔ یہ کس قدر اذیت ناک ہوتا ہے کوئی اِس وقت اُن دونوں سے پوچھتا۔۔۔۔۔
ماورا جو منہاج کی باتیں سننے کے بعد اتنی خوشی خوشی سوئی تھی۔۔۔ اُسے ایک لمحے کے لیے بھی خیال نہیں آیا تھا کہ اُس کے پیار کو خود اُس کی نظر ہی لگ جائے گی۔۔۔۔۔
@@@@@@@@
فیصل اور شاہد کمرے کے باہر ہاتھ باندھے کھڑے بے بسی سے ایک دوسرے کی جانب دیکھ رہے تھے۔۔۔ آژمیر کے کمرے سے مسلسل اتنی دیر سے چیزیں ٹوٹنے کی آوازیں آرہی تھیں۔۔۔ اُس نے شدید غصے کے عالم میں پورے کمرے کا حشر نشر کردیا تھا۔۔۔
وہ لڑکی ایک بار پھر اُسے دھوکا دے کر چلی گئی تھی۔۔۔ حاعفہ پر ایک بار پھر اعتبار کرنے کی اُسے بہت کڑی سزا ملی تھی۔۔۔۔
اُس کا دل چاہ رہا تھا پوری دنیا کو تہس نہس کردے۔۔۔۔ یا اُس لڑکی کو ڈھونڈ کر اپنے ہاتھوں سے ختم کردے۔۔۔۔ جو اُس کے دل کو کھلونا سمجھ کر کھیل کر چلی گئی تھی۔۔۔
حاعفہ کا اب یہ دوسری بار کا کیا کاری وار آژمیر میران سے سہنا مشکل ہورہا تھا۔۔۔۔
فیصل آژمیر کے جنونی غصے سے اچھی طرح واقف تھا۔۔۔ اُسے ڈر تھا کہ کہیں آژمیر خود کو ہی نقصان نہ پہنچا دے۔۔۔۔
جب اُسی لمحے آژمیر دھڑ سے دروازہ کھولتے باہر نکلتا جم ایریا کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔ اُس کے ہاتھ سے بہتا خون اُن دونوں کی آنکھوں سے پوشیدہ نہیں رہ سکا تھا۔۔۔۔
فیصل کا دل چاہا تھا وہ لڑکی اُس کے سامنے ہو اور وہ اُسے شوٹ کردے۔۔۔۔ جس نے اُس کے مالک کو اتنی اذیت میں مبتلا کردیا تھا۔۔۔۔
جم میں گئے آژمیر کو مزید پانچ گھنٹے گزر چکے تھے۔۔۔ وہ بُری طرح پنچنگ باکس پر برستا اپنا سارا غصہ اُس بے جان شے پر نکال رہا تھا۔۔۔۔
فیصل میران پیلس میں کسی کو یہ سب بتانے کی گستاخی بالکل بھی نہیں کرسکتا تھا۔۔۔۔ سوائے شمسہ بیگم کے۔۔۔۔ مگر وہ اُنہیں بھی یہ سب بتا کر اب مزید پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔
کیونکہ آژمیر کو سنبھالنا کسی کے بس کی بات نہیں تھی۔۔۔۔ وہ تب ہی سنبھلتا تھا جب اُس کا غصہ اُتر جاتا۔۔۔۔
لیکن اب اتنی دیر گزر جانے کے باوجود آژمیر کو نہ نکلتا دیکھ فیصل نے ہمت جمع کرتے، اپنے انجام سے بے پرواہ ہوتے اندر جانے کا فیصلہ کیا تھا۔۔۔
آژمیر کا جلالی رُوپ دیکھ فیصل خوف سے کانپ کررہ گیا تھا۔۔۔ وہ چھوٹے قدم اُٹھاتا آژمیر کے پاس پہنچا تھا۔۔۔
“سر۔۔۔۔.”
اُس نے دھیمی آواز میں آژمیر کو پکارا تھا۔۔۔۔
مگر آژمیر کو دیکھ کر لگ رہا تھا اُس نے سنا ہی نہ ہو۔۔۔۔
“سر ایک گھنٹے بعد آپ کی بہت امپورٹنٹ میٹنگ ہے۔۔۔۔”
فیصل اب کے قدرے اُونچی آواز میں بولتا آژمیر کو اپنی جانب متوجہ کرگیا تھا۔۔۔۔
آژمیر نے ہاتھ روکتے لہو رنگ آنکھوں سے فیصل کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ فیصل کو لگا تھا آژمیر کا پڑنے والا ایک پنچ بھی اُس کا جبڑا ہلا کر رکھ جائے گا۔۔۔۔
اِسی خوف سے اُس نے میٹنگ والی فائل آژمیر کی جانب بڑھا دی تھی۔۔۔۔
“تم آفس جاکر ٹیم کو ریڈی کرو۔۔۔۔ میں کچھ دیر تک آتا ہوں۔۔۔۔”
آژمیر سرد و سپاٹ لہجے میں بولتا فیصل کو جانے کے لیے بول گیا تھا۔۔۔
آژمیر کی یہی خاصیت تھی کہ وہ کسی اور کا غصہ کسی دوسرے پر نہیں نکالتا تھا۔۔۔۔۔ ورنہ اِس وقت وہ جتنی تکلیف میں تھا وہ صرف تنہا رہنا چاہتا تھا۔۔۔
مگر اِس میٹنگ میں نہ جاکر وہ ایک ویک سے اِس پراجیکٹ پر کام کرتی اپنی ٹیم کی محنت رائیگان نہیں جانے دے سکتا تھا۔۔۔۔
اُسے اپنے درد میں بھی اپنے سے منسلک لوگوں کا خیال تھا۔۔۔ اور حاعفہ اِسی اچھے انسان کا دل دکھانے کی وجہ بن گئی تھی۔۔۔۔
@@@@@@@@
میٹنگ روم ميں داخل ہوتے ہی آژمیر کا پہلا سامنا ملک زوہان سے ہوا تھا۔۔۔۔ زوہان آژمیر کو دیکھ پل بھر کے لیے چونک اُٹھا تھا۔۔۔۔
جن آنکھوں میں اُس نے ہمیشہ ایک شان بے نیازی اور کامیابی کی چمک دیکھتی تھی۔۔۔۔ آج اُن کی بجھی جوت اور ویرانیاں اُس کے لیے کافی حیرت کی بات تھی۔۔۔۔
“کیا ہوا آژمیر میران۔۔۔۔؟؟؟ تمہاری شکل سے لگ رہا ہے۔۔۔ اِس پراجیکٹ پر مجھ سے لڑنے سے پہلے ہی خوف کھا گئے ہو۔۔۔۔”
زوہان آژمیر کے ساتھ والی کرسی پر براجمان ہوتے اُسے چھیڑنے کی غرض سے اُسے مخاطب کر بیٹھا تھا۔۔۔
“میرے خیال اِس کا فیصلہ وقت پر ہی چھوڑ دیتے ہیں کہ جیت کس کی قسمت میں لکھی ہے اور ہار کس کی۔۔۔۔”
اپنی اندر بڑھتی بے چینی پر قابو پانے کی کوشش کرتے آژمیر نے سیگریٹ سلگھایا تھا۔۔۔
“اینی پرابلم۔۔۔۔”
زوہان کو آژمیر کا اتنے آرام سے دیئے جانے والا جواب چونکا گیا تھا۔۔۔۔ نجانے کس احساس کے تحت اُس نے آژمیر سے پوچھا تھا۔۔۔
“تم جانتے ہو تم دنیا کے آخری انسان بھی ہوگے تب بھی میں کم از کم تم سے ہمدردی لینا پسند نہیں کروں گا۔۔۔ تو ایسے سوال پوچھو ہی مت جن کے جواب نہیں ملنے۔۔۔۔”
آژمیر نپے تلے الفاظ میں زوہان کو اُس کی حد بتا گیا تھا۔۔۔ زوہان اُسے کوئی سخت جواب دینا چاہتا تھا مگر نجانے کس کیفیت کے زیرِ اثر وہ خاموش ہی رہا تھا۔۔۔۔
میٹنگ روم میں تقریباً تمام کمپنیز کے ہیڈ آچکے تھے۔۔۔۔ اب وہاں اُس انٹرنیشنل کلائنٹ کے آنے کا انتظار تھا۔۔۔ جو مارکیٹ میں اب تک کا سب سے بڑا پراجیکٹ دلوانے والا تھا۔۔۔ جس کے بعد کوئی بھی کمپنی آسمان کی بلندیوں ہر پہنچ جاتی۔۔۔۔۔ ہر کمپنی آج دل و جان سے یہ پراجیکٹ اپنے نام کرنے کی تیاری سے آئی تھی۔۔۔ آج کا مقابلہ کافی ٹف ہونے والا تھا۔۔۔۔۔
سب اُس کلائنٹ کے منتظر تھے۔۔۔ جب اُسی لمحے میٹنگ روم کا دروازہ کھلا تھا۔۔۔
اور اندر آنے والی ہستی کو دیکھ سب کی آنکھیں غیر یقینی کی حد تک کھلنے کے ساتھ ساتھ اُس سے ہٹ کر آژمیر کی جانب اُٹھی تھیں۔۔۔ جس کے چہرے کا بدلتا رنگ اُس کی اندر کی کیفیت بتا گیا تھا۔۔۔
“سویرا شیخ۔۔۔۔۔”
زوہان نے ہونٹ گول کرتے سامنے سے چل کر آتی لیڈی کا نام پکارا تھا۔۔۔
جہاں سب شاک میں تھے۔۔۔ وہاں آژمیر کے علاوہ ایک زوہان ہی تھا جو اِس ساری سچویشن کو انجوائے کررہا تھا۔۔۔۔
آژمیر میران اور سویرا شیخ والے واقع سے بزنس کمیونٹی کا کوئی فرد ایسا نہیں تھا جو واقف نہ ہو۔۔۔۔
سویرا شیخ پوری دلجمی کے ساتھ اردگرد موجود لوگوں کی پرواہ کیے بغیر آژمیر میران کو نہارتی اپنی سیٹ پر جا بیٹھی تھی۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
