Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 54

بھاری قدموں کی چاپ بنا دیکھے بھی وہ پہچان گئی تھی۔۔۔۔ کہ کس کی ہوسکتی تھی۔۔۔۔ اُسے تو لگا تھا زوہان اب تک جاچکا ہوگا۔۔۔۔ مگر اُس کے قریب آنے پر حصار میں جکڑتی اُس کی سحر انگیز خوشبو زنیشہ کو ایک ہی جگہ پر جکڑ گئی تھی۔۔۔۔
وہ ہل بھی نہ پائی تھی۔۔۔۔۔
جب زوہان سینے پر بازو باندھے اُس کے مقابل آن کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔۔ اُس کی نگاہ ابھی زنیشہ کے سندر مکھڑے پر پڑی ہی تھی۔۔۔۔جب اگلے ہی لمحے زنیشہ چہرے پر گھونگھٹ گرتی رُخ موڑ گئی تھی۔۔۔۔۔
“یہ کیا ہے۔۔۔۔۔؟”
زوہان کی پیشانی پر خفگی سے بل واضح ہوئے تھے۔۔۔۔
“آپ کو تو ویسے بھی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔۔۔۔ مجھے دیکھنے میں۔۔۔۔ اور یہ رسم کا ایک حصہ ہے۔۔۔ آپ کل تک میرا چہرا نہیں دیکھ سکتے۔۔۔۔۔”
زنیشہ نے بھی اپنا غصہ نکالنے کا یہ طریقہ نکالا تھا۔۔۔۔
یہ مغرور شخص ویسے تو قابو آنے والا نہیں تھا۔۔۔۔۔
“یہ سب تم پر ہی مہنگا پڑ سکتا ہے۔۔۔۔ سو پلیز میرے سامنے یہ ناٹک بند کرو۔۔۔۔۔”
زوہان کے آگے بڑھنے پر زنیشہ چند قدم مزید پیچھے ہوئی تھی۔۔۔۔۔
“میں کوئی ناٹک نہیں کررہی۔۔۔۔۔ صرف اپنی شادی کی رسمیں نبھارہی ہوں۔۔۔۔”
زنیشہ بھی اپنی جگہ پر ڈٹی اُس کو اپنا چہرا دیکھانے کو بالکل بھی تیار نہیں تھی۔۔۔۔ اُس کی بے چینی پر زنیشہ کو بہت مزا آرہا تھا۔۔۔۔
لیکن اگلے ہی لمحے بے ساختہ اُس کے منہ سے چیخ برآمد ہوئی تھی۔۔۔۔ جب زوہان نے اُس کی نازک کمر میں بازو حمائل کرتے اُسے اپنی جانب کھینچ لیا تھا۔۔۔۔
اور ہاتھ بڑھا کر اُس کا دوپٹہ سر سے بھی پیچھے اُلٹتے اُس نے اُس کے حسین رُوپ سے اپنی بےقرار روح کو ٹھنڈک بخشی تھی۔۔۔۔
“میرے خیال میں تم کل کے بجائے آج رخصت ہونا چاہتی ہو۔۔۔۔۔ اور ٹرسٹ می میران پیلس کے کسی ایک فرد کی بھی جرأت نہیں کہ مجھے میری بیوی کو یہاں سے لے جانے سے روکے۔۔۔۔ تمہارے بھائی کی بھی نہیں۔۔۔۔۔”
زوہان کی گرم سانسیں محسوس کرتے زنیشہ نے اُس سے دور ہونا چاہا تھا۔۔۔۔
“آپ بہت بُرے ہیں۔۔۔۔۔”
زنیشہ نے اُس کی حرکت پر ناراضگی سے کہا تھا۔۔۔
“یہ میں جانتا ہوں کوئی نئی بات کرو۔۔۔۔”
زوہان اُس کے دلفریب مہک اُڑاتے سراپے کا دیوانہ ہوا تھا۔۔۔۔ یہ دلنشین نازک سراپا صرف اُس کے نام پر سجایا گیا تھا۔۔۔۔ یہ احساس ہی اتنا انوکھا اور فرحت بخش تھا کہ زوہان اُس کی تصویر دیکھ کر خود کو یہاں آنے سے روک نہیں پایا تھا۔۔۔۔۔
“آپ کو مجھ سے بالکل بھی محبت نہیں ہے۔۔۔۔”
زنیشہ نے مزاحمت کرنے کے ساتھ ساتھ اُس کی معلومات میں بھی اضافہ کیا تھا۔۔۔۔
جب اگلے ہی لمحے زوہان اُسے دیوار کے ساتھ لگاتا اُس کی دونوں کلائیاں پکڑ کر دائیں بائیں دیوار کے ساتھ ٹکاتا پوری طرح اُس پر حاوی ہوا تھا۔۔۔۔
“اِس بات کا جواب میں تمہیں کل ہی دوں گا۔۔۔ عملاً پوری محبت کے ساتھ۔۔۔۔۔۔”
زوہان کا ہونٹوں سے عین نیچے معلوم ہوتا دھکتا لمس اور اُس کی جان نکالتی سرگوشی سن کر زنیشہ کے وجود کا سارا خون چہرے پر سمٹ آیا تھا۔۔۔۔
زنیشہ کے چہرے کی نرماہٹیں محسوس کرتے زوہان کے تپتے بھڑکتے دل کو جیسے سکون محسوس ہونے لگا تھا۔۔۔۔۔
یہ واحد ہستی تھی اُس کی زندگی میں جو اُسے سکون پہنچا سکتی تھی۔۔۔۔ جس کی قربت میں وہ اپنے دل کا درد فراموش کرجاتا تھا۔۔۔۔ آج بھی ایسا ہی ہوا تھا۔۔۔۔
کل کا دن جہاں اُسے اُس کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی سونپنے والا تھا۔۔۔ وہیں اُس سے اگلا دن ہر سال کی طرح اُس پر بہت بھاری ثابت ہونے والا تھا۔۔۔۔۔ پرسوں کے دن ہی اُس کی ماں کو اُس کی آنکھوں کے سامنے انتہائی بے دردی سے جلا کر ختم کیا گیا تھا۔۔۔۔
اُس کی ماں کو اُس سے چھین لیا گیا تھا۔۔۔
یہ مہینہ شروع ہوتے ہی زوہان کی تکلیف کئی گنا بڑھ جاتی تھی۔۔۔۔ اور برسی والے دن تو زوہان خود کو ایک کمرے میں بند رکھتا تھا۔۔۔۔ نہ کسی سے کوئی بات کرتا اور نہ کسی کو اپنے پاس آنے کی اجازت دیتا تھا۔۔۔۔۔
اُس کی زندگی کے مشکل ترین دنوں میں سب سے زیادہ مشکل دن تھے یہ۔۔۔۔۔ وہ اِن دنوں میں کوئی ایسا ہی ساتھی چاہتا تھا جو اُسے سنبھالے۔۔۔ اُسے اپنے ہونے کا سکون بخشے۔۔۔۔۔
اور اس بار وہ لاشعوری طور پر اِس بات کی توقع کررہا تھا۔۔۔ اپنی عزیز از جان ہستی اپنی بیوی سے۔۔۔۔
“زوہان۔۔۔۔۔۔”
زوہان اُس کی گردن پر جھکتا اپنا گہرا لمس چھوڑ گیا تھا۔۔۔۔ زنیشہ اُس کی شدت پر لرز اُٹھی تھی۔۔۔۔
“جی میری جان۔۔۔۔۔۔”
زوہان اپنی ایک چھوٹی سی گستاخی پر اُس کی غیر ہوتی حالت دیکھ مسکرائے بنا نہیں رہ پایا تھا۔۔۔۔
“تم میری سوچ سے بھی زیادہ نازک ہو۔۔۔۔ ڈونٹ وری بہت احتیاط سے رکھو گا تمہیں۔۔۔۔۔”
زوہان اُس کی پھولی سانسوں اور لال چہرے پر چوٹ کرتا معنی خیزی سے بولا تھا۔۔۔۔ اور ساتھ ہی اُس کی پیشانی پر لب رکھتا پلٹا ہی تھا۔۔۔۔
مگر اُس کے دور ہونے سے پہلے ہی زنیشہ اُس کا کالر اپنی نازک گرفت میں مقید کرتی اُس کا رُخ اپنی جانب موڑ گئی تھی۔۔۔۔
زوہان اُس کی اِس حرکت پر حیران ہوتے پلٹا تھا۔۔۔
“آپ کو کیا ہوا ہے۔۔۔۔؟؟”
زوہان کی لال آنکھیں زنیشہ کو بے چین کرگئی تھیں۔۔۔۔ اُس کی کارگزاری کے بعد پھولی سانسیں بہال کرتے اُس نے نازک لبوں سے بمشکل یہ الفاظ ادا کیے تھے۔۔۔۔
زوہان کی آنکھوں میں چھپی وحشت اور تکلیف کا احساس زنیشہ کو بھی پریشان کر گیا تھا۔۔۔۔
جس پر زخمی مسکراہٹ سے اُس کی جانب دیکھتے زوہان ہاتھ بڑھا کر اُسے اپنے سینے میں بھینچ گیا تھا۔۔۔۔۔
“میں بہت بکھرا ہوا ہوں۔۔۔۔ مجھے سمیٹ لو۔۔۔۔ کیونکہ ایسا کرنے کا حق تمہارے علاوہ میں نے کبھی کسی کو نہیں دیا۔۔۔۔ محبت اور سکون چاہتا ہوں میں اب اپنی زندگی میں۔۔۔۔ تھک چکا ہوں خود سے لڑ لڑ کے۔۔۔۔۔ اور یہ دونوں چیزیں صرف تم ہی دے سکتی ہو مجھے۔۔۔۔ میں اپنے آپ کو پوری طرح تمہارے سپرد کرتا ہوں۔۔۔۔ مجھے سنبھال لو۔۔۔۔ اور سمیٹ لو۔۔۔۔
بہت بُرا بھی ہوں۔۔۔ ضدی بھی اور انا پرست بھی۔۔۔۔۔ لیکن تمہارے بغیر رہ بھی نہیں سکتا۔۔۔۔ مجھے کبھی چھوڑ کر مت جانا۔۔۔۔ اگر تم مجھ سے دور ہوئی تو پوری دنیا کو جلا کر رکھ دوں گا۔۔۔۔۔ نجانے کیوں اِس دل کو لگتا ہے۔۔۔۔ اب تک کی طرح آگے بھی میری بیوی پوری دنیا کا اعتبار کرلے گی۔۔۔ سوائے مجھ پر بھروسہ کرنے کے۔۔۔۔۔۔
تمہیں بھی تو میں ہمیشہ ہر معاملے میں غلط ہی لگا ہوں نا۔۔۔۔۔ لیکن دیکھو میرا دیوانہ دل پھر بھی تمہیں چھوڑ نہیں پایا۔۔۔۔ تمہاری اسیری دن بدن اِس دل میں بڑھتی ہی جارہی ہے۔۔۔۔۔ “
زوہان زنیشہ کو پل بھر میں اپنا آپ سونپتا اُس کے بے یقینی سے آدھ کھلے ہونٹوں کو چھوتا وہاں سے پلٹ گیا تھا۔۔۔۔
جبکہ زنیشہ کتنے ہی لمحے وہاں سے ہل بھی نہیں پائی تھی۔۔۔۔۔
زوہان کا کہا ایک ایک لفظ اُس کے کانوں میں گردش کرتا اُس کی آنکھوں سے آنسو بہہ جانے کا سبب بنا تھا۔۔۔۔ لیکن پھر بھیگی آنکھوں کے ساتھ وہ ہولے سے مسکرا بھی دی تھی۔۔۔۔
“آپ صرف اور صرف میرے ہیں۔۔۔۔ اتنی محبت سے سمیٹوں گی آپ کو۔۔۔۔۔ کہ گزرا اذیت ناک ماضی بہت جلد بھول جائیں گے آپ۔۔۔۔۔ “
اپنے اردگرد پھیلی اُس کی مسحور کن خوشبو سانسوں میں بساتی وہ واپس روم کی طرف بڑھ گئی تھی۔۔۔۔ کیونکہ اُس کا وہ جانِ ستمگر ایک بار پھر اُس کا حلیہ خراب کر گیا تھا۔۔۔۔۔
@@@@@@@@@
رات گئے میران پیلس میں ایک بار پھر شہنائیاں بج اُٹھی تھیں۔۔۔۔ مہمان تو جا چکے تھے مگر گھر کی نوجوان پارٹی کسی صورت مہندی کا فنکشن پورا کیے بغیر ٹلنے کے موڈ میں نہیں تھی۔۔۔۔
دونوں دلہنوں کے حلیے درست کرکے اُنہیں گھونگھٹ کے ساتھ ہی سٹیج پر بیٹھا دیا گیا تھا۔۔۔۔ مگر دونوں دلہا حضرات آج جو مار دھاڑ کرکے آئے تھے۔۔۔ اُنہیں بلانے کی جرأت اُن میں سے کوئی نہیں کرپایا تھا۔۔۔ تمام کزنز اور فرینڈز ڈھول پیٹنے کے ساتھ ساتھ لڈی بھنگڑے میں بھی مصروف تھے۔۔۔۔۔
جبکہ خواتین اُنہیں مہندی لگانے میں مصروف تھیں۔۔۔ جن کے ہٹتے ہی تمام ینگ پارٹی اُن دونوں پر حملہ آوور ہوئی تھی۔۔۔۔
“یار کیا کبھی کسی نے سوچا تھا کہ دی گریٹ آژمیر میران۔۔۔۔ جن کی ایک دھاڑ پر اگلے کی خوف کے مارے جان نکل جاتی ہے۔۔۔۔ اُسی آژمیر میران کی اتنی رومینٹک سائیڈ بھی دیکھنے کو ملے گی کبھی۔۔۔۔۔”
فجر حاعفہ کو مہندی لگانے کے ساتھ ساتھ باآواز بلند بولتی سب کے چہروں پر شرارتی مسکراہٹ بکھیر گئی تھی۔۔۔۔ جبکہ حاعفہ کا چہرا شرم سے لال ہوا تھا۔۔۔۔
آژمیر کی جان لیوا قربت کے لمحے یاد کرنے سے ہی حاعفہ کا وجود لرز اُٹھا تھا۔۔۔۔
اُسے ابھی اپنے روٹھے دشمنِ جاں کو منانے کا مشکل ترین مرحلہ پار کرنا تھا۔۔۔۔ آنے والے لمحوں کا سوچ اُس کی جان آدھی ہوچکی تھی۔۔۔۔ جتنا وہ اب اب تک آژمیر کو تڑپا چکی تھی۔۔۔۔ کل اُس سب کا ہی حساب دینا تھا۔۔۔۔
اِس بار اُسے کسی قسم کی کوئی مہلت نظر نہیں آرہی تھی۔۔۔۔ اور وہ اُس محبت بھرے بپھرے طوفان سے بچنے کی خواہش رکھتی بھی نہیں تھی۔۔۔۔
اُسے اب صرف اُن مضبوط پناہوں کی چاہت تھی۔۔۔۔ جنہوں نے اُس کے سارے غم خود میں سمیٹ لیے تھے۔۔۔۔۔
“وہی تو میں کہوں کہ لالہ کو اچانک نیچے کی سٹڈی سے اُوپر بکس رکھنے کا خیال کیوں آگیا اچانک۔۔۔۔ اِن کے ہٹلر شوہر نامدار سے برداشت نہیں ہوا کہ میں اُن کی بیوی کا نام زبان پر لایا ہی کیوں۔۔۔۔ بھابھی جان پہلے ہی بتا دیتیں تو اِس معصوم کی یہ نازک کمر تو ٹوٹنے سے بچ جاتی۔۔۔۔”
حاشر کی روہانسی آواز میں کہی جانے والی بات پر سب حیران ہوئے تھے۔۔۔۔
مگر جیسے جیسے وہ ساری بات بتاتا گیا تھا۔۔۔۔ اُس کے ساتھ ہی وہاں قہقوں کا سیلاب آچکا تھا۔۔۔۔
“واؤ آژمیر لالہ کتنے اتنے پوزیسیو ہیں۔۔۔ یقین نہیں آتا۔۔۔۔۔”
اریبہ بہت متاثر نظر آئی تھی۔۔۔۔
“ظاہر سی بات ہے۔۔۔۔ آژمیر لالہ کے سامنے اُن کی بیوی کو چھیڑو گے تو یہ حشر تو ہوگا۔۔۔۔ شکر کرو ابھی وہ درگت نہیں بنی جو زوہان لالہ نے حسیب کی بنائی تھی۔۔۔۔ “
فجر نے لقمہ لگاتے اپنے ہی بھائی کا مذاق اُڑایا تھا۔۔۔۔
اور پھر سب کے توپوں کے رُخ کب سے مزے سے ہنستی، انجوائے کرتی زنیشہ کی جانب مُڑ چکے تھے۔۔۔۔
“تو اور کیا۔۔۔ ایک ہی وار میں مقابل کا شکار کرنے والا۔۔۔۔ میران پیلس کے ہر فرد کو اپنی اُنگلیوں پر نچا کر رکھنے والا اِس بُری طرح سے ہماری زنیشہ کی محبت کا شکار ہوجائے گا بھلا یہ بات کون جانتا تھا۔۔۔۔”
یہ بولنے والا ذیشان تھا۔۔۔۔ اُس کی بات کے جواب میں لگائے جانے والے قہقہوں پر زنیشہ اُنہیں گھور بھی نہیں پائی تھی۔۔۔۔
“ہاں تو اور کیا۔۔۔۔۔ اتنے سالوں میں میران پیلس پر ایک نگاہِ غلط نہ ڈالنے والا۔۔۔۔ اب اپنی دلہنیا کو لے جانے کے لیے بے قرار کتنے چکر لگا چکا ہے۔۔۔۔۔ محبت انسان کو ایسے ہی بدل دیتی ہے۔۔۔۔۔”
فریحہ نے بھی اپنا حصہ ڈالا تھا۔۔۔۔۔
“ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔ وہ ابھی بھی اُتنے ہی اکڑو اور گھمنڈی ہیں۔۔۔۔۔ میری وجہ سے تو بالکل بھی نہیں بدلے۔۔۔۔ غصہ ایسے ہی ناک پر سوار رہتا ہے۔۔۔۔۔”
وہاں آژمیر اور باقی سب مرد حضرات کے ساتھ داخل ہوتے زوہان سے انجان زنیشہ بڑے مزے سے اُس کی شان میں قصیدہ گوئی کر گئی تھی۔۔۔۔
سب کی نظر شمسہ بیگم کے بہت اصرار پر بلا کر لائے قاسم صاحب کے ساتھ کھڑے دونوں دلہا صاحبان پر پڑ چکی تھی۔۔۔ سوائے حاشر کے۔۔۔۔
“یہ تو سچ ہے۔۔۔۔ جب تک اُن دونوں کے ناک پر بیٹھا غصہ نہ دیکھ لیں۔۔۔۔ یقین ہی نہیں ہوتا کہ اُن کی سانسیں چل بھی رہی ہیں یا نہیں۔۔۔۔۔”
حاشر کی بات ابھی کمپلیٹ ہی ہوئی تھی۔۔۔۔ جب آژمیر نے پیچھے سے آکر اُس کا کان پکڑ لیا تھا۔۔۔۔
“رئیلی۔۔۔۔ اپنے اِن خیالات کا اظہار پہلے کیوں نہیں کیا تم نے۔۔۔۔۔”
اُسے کان سے پکڑ کر اُوپر اُٹھاتے آژمیر مصنوعی خفگی سے بولا تھ۔۔۔۔ اُسے اتنے عرصے بعد اِس طرح خوشگوار رُوپ میں دیکھ سب کے چہروں پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔۔
گھونگھٹ کے نیچے سر جھکائے بیٹھی حاعفہ آژمیر کی موجودگی محسوس کرتی مزید خود میں سمٹ کر رہ گئی تھی۔۔۔۔۔
جبکہ زنیشہ بھی ابھی اپنے بولے جانے والے جملوں پر خود کو کوس کر رہ گئی تھی۔۔۔۔ گھونگھٹ کے اندر سے زوہان کے تاثرات دیکھ وہ اچِھے سے سمجھ گئی تھی کہ وہ اُس کی بات سن چکا ہے۔۔۔۔۔
وہ دونوں رف حلیے میں بھی بھر پور مردانہ وجاہت کے ساتھ محفل پر چھائے معلوم ہوئے تھے۔۔۔ اُن کے آتے ہی محفل کے رنگ بدل گئے تھے۔۔۔۔
پہلے جو اُن کی دلہنوں کے کان کھا رہے تھے۔۔۔ اب اُن کے قریب بھی نہیں بھٹکے تھے۔۔۔۔۔
@@@@@@@@@
آژمیر بازو صوفے کی پشت پر پھیلاتے پھیل کر بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔ جس سے حاعفہ کا نازک وجود پوری طرح اُس کے حصار میں معلوم ہورہا تھا۔۔۔۔۔
حاعفہ کی تو یہ سوچ سوچ کر جان نکل رہی تھی کہ آژمیر کو منائے کیسے۔۔۔۔۔ کیونکہ جواباً آژمیر سے کسی شرافت کی اُمید قطعاً نہیں تھی اُسے۔۔۔۔۔
جب اچانک کسی خیال کے تحت اُس کی گلابی پنکھڑیاں مسکرا اُٹھی تھیں۔۔۔۔ اِس سے اچھا موقع اور کوئی نہیں ہوسکتا تھا۔۔۔۔ زوہان اور زنیشہ الگ صوفے پر بیٹھے تھے۔۔۔ جبکہ باقی سب ناچ گانے میں مصروف تھے۔۔۔ ابِھی اُن کی جانب کوئی مخاطب نہیں تھا۔۔۔۔ وہ آرام سے آژمیر سے بات کرسکتی تھی۔۔۔۔ اور وہ یہاں سب کے سامنے کوئی گستاخی بھی نہیں کرسکتا تھا۔۔۔( جو کہ سراسر حاعفہ کی خام خیالی تھی۔۔۔۔۔)
“مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔۔۔۔۔ بلکہ معافی مانگنی ہے۔۔۔۔۔”
حاعفہ جھکی گردن اُوپر اُٹھاتی گھونگھٹ کے اندر سے آژمیر سے مخاطب ہوئی تھی۔۔۔۔
“لیکن میں نے معافی کا مطالبہ کیا ہی نہیں۔۔۔۔”
آژمیر اُس کی بات سننے کو تیار ہی نہیں تھا۔۔۔
وہ اُسے بتانا چاہتی تھی کہ کس طرح آج اکرام حنیف نے اُسے آژمیر کی جان کے بدلے بلیک میل کرکے وہ سب بولنے پر محبور کیا تھا۔۔۔۔
حاعفہ نے گھونگھٹ کے اندر سے ہی اُس کو گھورا تھا۔۔۔ جب اُسی لمحے آژمیر نے بھی چہرا گھما کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ گرین اور ییلو امتزاجسے کے فراک پہنے، پوری طرح سجی سنوری اُس کے پہلو میں بیٹھی یہ لڑکی اُس کے لیے زندگی سے بڑھ کر تھی۔۔۔۔
اُس کا یہ نرم و نازک خوشبوئیں بکھیرتا وجود اُس کے حواسوں پر اثر انداز ہوتا اُسے بہکنے پر محبور کر رہا تھا۔۔۔ اُوپر سے اُس کے منانے کی یہ ننھی منی کوششیں سونے پر سوہاگہ کا کام کر رہی تھیں۔۔۔۔
اُس کے پنک جالی دار دوپٹے سے آژمیر اُس کی گھوری با آسانی دیکھ پایا تھا۔۔۔۔ خود پر ضبط نہ رکھ پاتے ہلکا سا جھکا تھا اور باری باری اُس کی دونوں آنکھیں چوم لی تھی۔۔۔۔۔
ماورا کے کیمرے سے یہ دلکش منظر محفوظ نہیں رہ پایا تھا۔۔۔۔
حاعفہ تو آژمیر کی اِس کھلے عام بے باکی پر جی جان سے لرز اُٹھی تھی۔۔۔۔۔ اِس شخص کو وہ کہیں بھی چھیڑنے کی غلطی نہیں کر سکتی تھی۔۔۔۔
“آج تک کسی کی جرأت نہیں ہوئی میرے سامنے غصہ دیکھانے کی۔۔۔۔ مگر میں دل و جان سے چاہتا ہوں۔۔۔ تم مجھ پر غصہ کرو اور پھر میں اُسے ایسے ہی اپنے طریقے سے ٹھنڈا کروں۔۔۔۔”
آژمیر نے اُس کی کمر میں بازو حمائل کرکے اُسے اپنے قریب کھینچتے سرگوشی بھرے انداز میں بولتے حاعفہ کے الفاظ اُس کے حلق میں ہی اٹکا دیئے تھے۔۔۔۔ جو گھبراہٹ کے مارے آہستہ آہستہ اُس سے دور کھسک رہی تھی۔۔۔۔۔ آژمیر کی زیرک نگاہ سے اُس کی یہ چوری پوشیدہ نہیں رہ سکی تھی۔۔۔۔ وہ اِس شخص کے کیسے سمجھاتی کہ اِس وقت وہ دونوں سٹیج پر بیٹھے سب کی نگاہوں کا مرکز تھے۔۔۔
“آپ مجھے منانے ہی نہیں دے رہے۔۔۔۔ کیسے مناؤ میں آپ کو۔۔۔۔۔”
کافی دیر کے بعد حاعفہ بول پانے کے قابل ہوئی تھی۔۔۔۔ اُس کے اتنے معصومانہ انداز میں خفگی کرنے کا انداز آژمیر کا دل لُوٹ گیا تھا۔۔۔۔
اُس کے لبوں پر اَن چھوئی دلکش مسکراہٹ بکھری تھی۔۔۔ جس کی ایک دنیا دیوانی تھی۔۔۔۔۔۔
“میری جان یہ آپ پر ڈیپنڈ کرتا ہے۔۔۔۔ کہ کیسے مناتی ہیں آپ مجھے۔۔۔۔ ویسے میں بہت ہی عام سا بندہ ہوں۔۔۔۔ پیار محبت کی زبان بہت اچھے سے سمجھتا ہوں۔۔۔۔ مجھے منانا تو مشکل ہے ہی نہیں۔۔۔۔۔”
آژمیر کی بات میں چھپی معنی خیزی حاعفہ کو سرتاپا لال کرگئی تھی۔۔۔۔
آژمیر کا بازو ابھی تک اُس کی کمر کے گرد لپٹا ہوا تھا۔۔۔ جو حاعفہ کے بھاری دوپٹے کی وجہ سے ابھی تک کسی کی نگاہوں میں نہیں آسکا تھا۔۔۔ لیکن اُس کے ہاتھ کی نہ رکتی گستاخیاں حاعفہ کی دھڑکنیں منتشر کرگئی تھیں۔۔۔۔
جب اُسی لمحے سویرا اُنہیں اپنی جانب آتے دیکھائی دی تھی۔۔۔۔ ہاتھ میں بہت ہی پیارا ڈیکوریٹڈ باؤل اُٹھائے، جس میں گلاب جامن موجود تھے وہ اُن کے سامنے آن کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔
“بہت بہت مبارک ہو آپ دونوں کو۔۔۔۔ میں بہت خوش ہوں آپ لوگوں کے لیے۔۔۔۔ اور تھینکیو سو مچ آژمیر آپ نے مجھے معاف کردیا۔۔۔۔۔”
سویرا حاعفہ کی جانب جتاتی نظروں سے دیکھتی آژمیر سے مخاطب ہوئی تھی۔۔۔ اُس کے یوں وارفتگی بھری نظروں سے آژمیر کو دیکھنے پر حاعفہ کا خوشی سے کھلتا چہرا مانند پڑا تھا۔۔۔۔
“میں یہ سپیشل میٹھائی اپنے ہاتھوں سے بنا کر لائی ہوں تمہارے لیے۔۔۔۔ میں چاہتی ہوں تم مجھے معاف کردو۔۔۔ میں نے آج غصے میں بہت کچھ غلط بول دیا تمہارے بارے میں۔۔۔۔۔”
سویرا نے پچھلی ساری باتوں پر معافی مانگتے گلاب جامن سپون پر رکھتے اُس کی جانب بڑھائی تھی۔۔۔۔
مگر حاعفہ تک پہنچنے سے پہلے ہی آژمیر اُسے آدھے میں روک چکا تھا۔۔۔۔
“حاعفہ سے پہلے تمہارا منہ میٹھا ہونا چاہیئے۔۔۔۔ تم نے زیادہ بڑا دل دیکھایا ہے۔۔۔۔”
آژمیر سپون واپس اُس کی جانب موڑتا گلاب جامن سویرا کو ہی کھلا گیا تھا۔۔۔۔ جس پر سویرا کی شکل دیکھنے لائق تھی۔۔۔ آژمیر اُس کی چال اُسی پر اُلٹ گیا تھا۔۔۔۔
اصل معاملہ سمجھنے سے انجان حاعفہ آژمیر کے اِس طرح سویرا کو میٹھائی کھلانے پر خفا ہوتی اُس سے ہلکا سا دور کھسکی تھی۔۔۔۔
جسے نوٹ کرتے آژمیر اُسے واپس اپنی جانب کھینچ گیا تھا۔۔۔ اِس بار حاعفہ کو اُس کی گرفت میں واضح سختی محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔۔
“مجھ پر غصہ ہو یا ناراضگی۔۔۔۔ یا کچھ بھی۔۔۔۔ مگر بھول کر بھی مجھ سے دور جانے کا یہ عمل واپس مت دوہرانا۔۔۔ میں اب کی بار برداشت نہیں کر پاؤں گا۔۔۔۔”
اُس کے کان کے قریب جھک کر سرگوشی کرتا وہ اُسے پل بھر کے لیے خوفزدہ کرگیا تھا۔۔۔۔ حاعفہ اچھے سے جانتی تھی آژمیر کو اُس کا خود سے دور ہونا کس قدر گراں گزرتا تھا۔۔۔ اور ابھی بھولپن میں وہ ایسا کرکے آژمیر کو مزید خفا کر گئی تھی۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔