Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 59

زوہان اپنے دوستوں کو رخصت کرتا اُس طرف آیا تھا۔۔۔ جہاں نفیسہ بیگم اور ثمن پہلے ہی اُس کی بیوی کو اُس کی خواب گاہ تک پہنچانے کا کام کرچکی تھیں۔۔۔۔
زوہان سرشار سا گہری سانس ہوا میں خارج کرتا روم کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔ جہاں اُس کی عزیز از جان ہستی موجود تھی۔۔۔۔
زوہان نے بہت شدت سے اُسے پانے کی چاہت کی تھی۔۔۔۔ اور اُس کے رب نے آج اُسے اُس کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی عطا کردی تھی۔۔۔۔ وہ آج بے پناہ خوش تھا۔۔۔۔
زوہان نے جیسے ہی دروازہ کھولنے کے لیے ہینڈل گھمایا اُسے شدید جھٹکا لگا تھا۔۔۔۔ دروازہ اندر سے لاک تھا۔۔۔۔
اور ایسی جرأت زنیشہ میران کے سوا کوئی نہیں کرسکتا تھا۔۔۔۔
زوہان کو اُسی کے کمرے سے باہر رکھنا صرف اُس کی یہ خونخوار جنگلی بلی ہی کرسکتی تھی۔۔۔۔
“زنیشہ دروازہ کھولو۔۔۔۔۔”
زوہان نے لہجے کو سخت رکھتے اُسے آواز لگائی تھی۔۔۔ وہ جانتا تھا زنیشہ قریب ہی ہوگی۔۔۔۔
“نہیں کھولوں گی۔۔۔۔ جائیں آپ اپنی ثمن کے پاس۔۔۔۔ اب کیوں آئے ہیں یہاں۔۔۔ اب بھی نہ آتے۔۔۔۔”
زنیشہ تڑخ کر بولی تھی۔۔۔۔ وہ زوہان کی سخت سے سخت بات، اُس کا شدید غصہ۔۔۔۔ سب کچھ برداشت کرسکتی تھی۔۔۔۔۔۔
مگر کسی لڑکی کا زوہان کے قریب بھٹکنا اُسے ایسے ہی غصے سے پاگل کردیتا تھا۔۔۔۔
“تم دل سے کہہ رہی ہو…. چلا جاؤں میں اُس کے پاس۔۔۔۔”
زوہان دروازے سے کمر ٹکائے ہونٹوں پر شریر مسکراہٹ سجائے بولتا اُسے سرتاپا آگ میں جھلسا گیا تھا۔۔۔۔
“ہاں چلے جائیں۔۔۔۔۔”
زنیشہ آنکھوں میں نمی بھرے غصے سے چلائی تھی۔۔۔۔ اُسے زوہان سے ایسے جواب کی توقع بالکل بھی نہیں تھی۔۔۔۔۔
“اوکے ڈارلنگ۔۔۔۔۔ اپنا خیال رکھنا۔۔۔۔ صبح ملاقات ہوگی۔۔۔۔”
زوہان کی آواز کے ساتھ ہی دور جاتی اُس کے بھاری قدموں کی چاپ زنیشہ کی سانسیں روک گئی تھی۔۔۔ آنسو جھڑی کی صورت اُس کے گالوں پر بکھر گئے تھے۔۔۔۔
اُس نے جھٹکے سے دروازہ کھولتے باہر نکل کر دیکھا تھا۔۔۔۔۔ وہ واقعی جاچکا تھا۔۔۔۔ زنیشہ بھیگی آنکھیں لیے پلٹنے ہی والی تھی۔۔۔۔ جب پیچھے سے دو مضبوط بانہوں نے اُس کے نازک وجود کو پھولوں کی طرح اُٹھاتے خود میں سمیٹ لیا تھا۔۔۔۔
زنیشہ کے منہ سے بے ساختہ چیخ برآمد ہوئی تھی۔۔۔۔
لیکن زوہان کا چہرا دیکھتے ہی اُس کی آنکھوں کے بجھے دیپ جل اُٹھے تھے۔۔۔۔
وہ بھلا سوچ بھی کیسے سکتی تھی۔۔۔۔ کہ زوہان اُسے چھوڑ کر کسی اور کے پاس جاسکتا تھا۔۔۔۔ وہ صرف اُس کا تھا۔۔۔۔ اُس سے بے وفائی کسی صورت نہیں کرسکتا تھا۔۔۔۔
زنیشہ کو اُسی طرح بانہوں میں اُٹھائے وہ روم میں داخل ہوتا۔۔۔۔۔ دروازہ لاک کر گیا تھا۔۔۔۔
“نیچے اُتاریں مجھے۔۔۔۔۔ بہت بُرے ہیں آپ۔۔۔۔”
زنیشہ اُس کے ہاتھوں ایک بار پھر پاگل بن جانے پر تپ کر بولی تھی۔۔۔۔ اور اپنے آپ کو اُس کے حصار سے نکالنے کی کوشش کرنے لگی تھی۔۔۔۔
“اچھا اور جو تم نے ابھی کیا وہ بھلا کون کرتا ہے۔۔۔۔۔ اپنے نئے نویلے بچارے معصوم دلہے کے ساتھ۔۔۔۔۔”
زوہان کو اُس کے ناراضگی سے پھولے گلابی گالوں پر ٹوٹ کر پیار آیا تھا۔۔۔۔
“معصوم۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟ آپ نہ ہی معصوم ہیں اور نہ ہی بچارے۔۔۔۔۔۔ بہت تیز ہیں آپ۔۔۔۔۔ وہ چڑیل آپ کا پیچھا کب چھوڑے گی۔۔۔۔”
زنیشہ مسلسل اُس کا حصار توڑنے کی کوششوں میں تھی۔۔۔۔۔
مگر زوہان اُسے اُسی طرح بانہوں میں اُٹھائے صوفے پر آن بیٹھا تھا۔۔۔۔۔ زنیشہ آرام سے اُس کی گود میں سما گئی تھی۔۔۔۔ وہ جو کب سے اُس پر اپنے غصے کا اظہار کررہی تھی۔۔۔۔
اچانک اُس کی اتنی قربت کا احساس ہوتے وہ دور کھسکی تھی۔۔۔۔ مگر اب دیر ہوچکی تھی۔۔۔۔ زوہان کی مضبوط گرفت نے اُسے اِس بات کی اجازت نہیں دی تھی۔۔۔۔
“میں بہت تھک گئی ہوں۔۔۔۔ مجھے چینج کرکے آرام کرنا ہے ۔۔۔۔”
زنیشہ کی دھڑکنیں تیز ہوئی تھیں۔۔۔۔
“اور تمہیں ایسا کیوں لگتا کہ میں آج کی رات تمہاری ایک بھی سنوں گا۔۔۔۔۔”
زوہان نے جھک کر اُس کے گجرے کی مہک کو اپنی سانسوں میں اُتارتے کہا۔۔۔۔۔ اُسے کے بے حد قریب آجانے پر زنیشہ کی حالت غیر ہوئی تھی۔۔۔۔۔
“مجھے آپ کا گھر دیکھنا ہے۔۔۔۔۔۔”
زنیشہ اُس کی توجہ خود پر سے ہٹانے کے لیے کچھ بھی بول رہی تھی۔۔۔۔
“رئیلی تم ابھی یہ گھر دیکھنا چاہتی ہو۔۔۔۔۔”
زوہان اُسے اپنے مزید قریب کرتا گھورتے ہوئے بولا تھا۔۔۔۔
“ہاں وہ میں۔۔۔۔۔”
زنیشہ کو سمجھ نہیں آئی تھی وہ کیا کرے۔۔۔۔ زوہان کی بے باک نگاہیں اُسے ہوش بھلا رہی تھیں۔۔۔۔ اپنے دونوں ہاتھوں کی اُنگلیوں کو آپس میں مڑورتے وہ کنفیوژ ہوتی زوہان کی وارفتگیوں پر سرتاپا لال ہوئی تھی۔۔۔
“دروازہ لاک کرکے تو بڑی شیرنی بن رہی تھی۔۔۔۔ اب کیا ہوا؟؟؟ کہاں گئی ساری بہادری۔۔۔۔۔؟؟؟”
زنیشہ کا یہ شرمایا گھبرایا حسین رُوپ اُسے گستاخی پر اُکسا رہا تھا۔۔۔۔۔
اُس نے ہاتھ بڑھا کر زنیشہ کی ماتھا پٹی کو چھیڑا تھا۔۔۔۔ زنیشہ اُس کے ہاتھوں کی بڑھتی چھیڑ خانیوں پر لال ہوتی اُس کی بات کا کوئی جواب نہ دے پائی تھی۔۔۔
“ثمن آپ کے اتنے کلوز کیوں ہیں۔۔۔۔۔؟؟؟؟”
زنیشہ کی سوئی ابھی بھی وہیں اٹکی دیکھ زوہان گہرا سانس بھر کر رہ گیا تھا۔۔۔۔
“وہ صرف میری دوست ہے۔۔۔۔ اِس سے بڑھ کر کچھ نہیں۔۔۔۔ اُس کا اور تمہارا کوئی مقابلہ نہیں۔۔۔۔ بلکہ میری نظر میں تمہارا کسی بھی لڑکی سے کوئی مقابلہ نہیں ہے۔۔۔۔ تم میرے دل میں بستی ہو۔۔۔۔ جہاں پر آج تک کوئی اور رسائی حاصل نہیں کر پایا۔۔۔۔۔ اور نہ آگے ایسا ممکن ہے۔۔۔۔۔ تم مجھے عطا کیا گیا وہ انمول تحفہ ہو۔۔۔ جسے پانے کے بعد میری یہ نامکمل ذات مکمل ہوتی معلوم ہورہی ہے۔۔۔۔ آج تک میں کسی کے آگے نہ جھکا ہوں۔۔۔ نہ کسی کے آگے اپنی اذیت بیان کی ہے۔۔۔۔ سوائے تمہارے۔۔۔۔ کیونکہ تم ہی وہ واحد ہستی ہو۔۔۔۔ جو صرف میرے لیے اُتاری گئی ہو۔۔۔۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تمہاری زندگی میں، میں بہت بعد آتا ہوں۔۔۔۔ ہمیشہ ہر جگہ فرسٹ پریفرینس رہنے والا۔۔۔ میرا یہ محبت کا پجاری دل تمہارے معاملے میں اتنے پر بھی اکتفا کرنے کو تیار ہوگیا ہے۔۔۔۔ تو سوچوں پھر کیا ہو تم ملک زوہان کے لیے۔۔۔۔۔ “
زوہان نے اُس کے کانوں کی لوح کو چھوتے اُسے اُس کی حیثیت سے آگاہ کیا تھا۔۔۔۔۔ جبکہ اُس کی آنکھوں میں ناچتی اذیت دیکھ زنیشہ کو اپنا دل کٹتا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔۔
“آپ کو کس نے کہا میرے دل کے بارے میں کوئی بھی ججمنٹ دیں۔۔۔۔۔؟”
زنیشہ کے دل میں اُس کی ایک بات کھب کر رہ گئی تھی کہ ملک زوہان زنیشہ میران کی زندگی میں بہت بعد میں آتا تھا۔۔۔۔ وہ اُس کا حصار ڈھیلا پڑنے پر اُس کے اوپر سے اُٹھ گئی تھی۔۔۔۔ اُس کا یوں دور ہونا زوہان کا کس قدر ناگوار گزرا تھا۔۔۔۔ اُس کی آنکھوں میں اُبھرتا سرد پن واضح کر گیا تھا۔۔۔
“تو کیا محبت بھی نہیں ہے مجھ سے۔۔۔۔۔؟؟؟؟۔”
زوہان نے طنز کرتے سائیڈ دراز سے سیگریٹ نکالتے ۔۔۔۔ سیگریٹ کے ساتھ ساتھ اُسے بھی اچھی طرح سلگھا دیا تھا۔۔۔۔۔
“محبت نہیں ہے۔۔۔۔ اِسی لیے سب سے بغاوت کی تھی آپ سے شادی کرنے کے لیے۔۔۔۔۔”
زنیشہ کو زوہان کا اِس قدر بے اعتبار ہونا اور اُس کی آنکھوں میں ہلکورے لیتی اذیت تڑپا گئی تھی۔۔۔۔
“تم ابھی بھی بھول رہی ہو۔۔۔۔ مجھ سے شادی سے انکار کرنے والی تم ہی سب سے پہلی تھی۔۔۔۔۔۔”
زوہان اپنا ٹھکرایا جانا بھولا نہیں تھا۔۔۔۔ زوہان اپنی جگہ سے اُٹھتا ہوتا اُس کے مقابل آن کھڑا ہوا تھا۔۔۔
“وہ کسی مصلحت کے تحت تھا۔۔۔ مگر اُس کا یہ مطلب نہیں کہ میں آپ سے محبت نہیں کرتی۔۔۔ اور آپ میری فرسٹ پریفرینس نہیں۔۔۔۔”
زنیشہ اُس کی آنکھوں میں جھانکتے بولی۔۔۔۔
“تو کیا ہوں میں۔۔۔۔؟؟؟”
زوہان اُس کے منہ سے سننا چاہتا تھا۔۔۔۔
“میں جواب دوں گی۔۔۔ مگر پہلے اِسے ہٹائیں۔۔۔۔”
زنیشہ کا اشارہ سیگریٹ کی جانب تھا۔۔۔۔ وہ جس طرح دھواں اپنے اندر لیتا پھر باہر نکلا رہا تھا۔۔۔ زنیشہ اِس ہٹ دھرم شخص کے خود کو اذیت دیتے اِس انداز پر شدید تکلیف سے دوچار ہوتی بے بسی سے اُسے دیکھ کر رہ گئی تھی۔۔۔۔
“یہ میرا نشہ ہے۔۔۔ میں نہیں چھوڑ سکتا اِسے۔۔۔ اور ویسے بھی ایک نشہ چھوڑنا تب ہی آسان ہوتا ہے۔۔۔۔ جب اُس سے کہیں زیادہ پاور فل ڈوز دی جائے۔۔۔۔ اور ویسے بھی اِسے منہ سے ہٹا کر میں کیا کروں گا جب میری بیوی مجھے منہ لگانے کو تیار ہی نہیں ہے۔۔۔۔۔”
زوہان اُس کے ریڈ لپسٹک سے سجے ہونٹوں پر چوٹ کرتا اُس کو سرتاپا لال کرگیا تھا۔۔۔۔
“آپ کیا چاہتے ہیں۔۔۔۔؟؟؟”
اُس کے قریب آتے وہ اُس کی آنکھوں میں جھانکتے بولی۔۔۔۔
“مطلب تم ابھی تک جانتی ہی نہیں ہو کہ میں کیا چاہتا ہو ں۔۔۔۔۔۔”
زوہان اُس کے سوال پر سوال کررہا تھا۔۔۔۔
اُس کی بات پر زنیشہ بنا کچھ کہے آگے بڑھی تھی۔۔۔۔ اُس کی شرٹ سینے سے مُٹھیوں میں جکڑےاُس کے بے حد قریب آئی تھی۔۔۔
آج تک ہمیشہ وہ اپنی محبت کا اظہار کرتا آیا تھا۔۔۔ اُس کے قریب آنے کی کوششیں کرتا رہا تھا۔۔۔ لیکن زنیشہ نے ہمیشہ اُس سے دور جانے کی کوشش ہی کی تھی۔۔۔۔کبھی اُس کی جانب خود سے قدم نہیں بڑھائے تھے۔۔۔
اُسے زوہان کا ایک ایک شکوہ حق بجانب لگا تھا۔۔۔۔
“آپ کیا ہیں میرے لیے آپ کبھی جان ہی نہیں سکتے۔۔۔۔ زنیشہ میران سانسیں لینا تو چھوڑ سکتی ہے۔۔۔ مگر ملک زوہان کے بغیر جینا نہیں۔۔۔۔ آپ شاید یہ بھول رہے ہیں کہ کسی اور سے شادی کرنے سے بہتر میں نے زہر کھانے کو ترجیح دی تھی۔۔۔۔
آپ کو ہمیشہ خود سے دور کرنے کی کوشش صرف اِس لیے تاکہ آپ اور لالہ آپس میں اُلجھ کر ایک دوسرے کو نقصان نہ پہنچا دیں۔۔۔۔ آپ میری پہلی ترجیح ہیں۔۔۔۔ “
زنیشہ ایک ہی سانس میں بولتی زوہان کو جیسے الگ ہی دنیا کا راہی بنا گئی تھی۔۔۔۔
کچھ دیر رُک کر اُس نے اپنے اُٹھائے جانے والے اگلے قدم کے لیے خود کو تیار کیا تھا۔۔۔۔
“آپ کو یہ نشہ چھوڑنا ہوگا۔۔۔۔ کیونکہ اب اِس سے پاور فل نشہ آپ کے پاس ہے۔۔۔۔۔۔”
زنیشہ یہ کہتے ساتھ اُسی کے سہارے پنجوں کے بل اُوپر ہوتے اُس کے ہونٹوں سے سیگریٹ نکال کر دور پھینکتی۔۔۔۔ اُس کے عنابی ہونٹوں پر اپنے نازک لبوں کا ہلکا سا لمس چھوڑتے پیچھے ہٹی ہی تھی۔۔۔ جب زوہان اُس کی کمر میں بازو حمائل کرتا اُس کی ساری راہیں مسدود کرگیا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے چند سیکنڈز کے لیے جس نشے سے روشناس کروانا چاہتی تھی۔۔۔ زوہان پل بھر میں اُس کا شکار ہوتا زنیشہ کو خود میں اُلجھا گیا تھا۔۔۔۔ زنیشہ کو اُس کی نازک کمر سے تھامے اُسے پوری طرح اُٹھائے زوہان خود کو سیراب کرتا چلا گیا تھا۔۔۔۔
زنیشہ اُس کی اِس قدر دیوانگی پر سہم کر رہ گئی تھی۔۔۔۔ اُس نے زوہان کے کندھے کو مضبوطی سے جکڑ رکھا تھا۔۔۔۔ ْزوہان کو اُس کی گہری سانسں مزید مدہوش کررہی تھی۔۔۔۔۔۔
آج پہلی بار تو وہ اُس کے قریب آئی تھی خود سے۔۔۔۔ وہ اِس موقع سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کے موڈ میں لگ رہا تھا۔۔۔۔
جب کافی دیر بعد جاکر زوہان نے اُس کی سانسوں کو آزادی بخشتے اُس کے لال چہرے اور بھیگی آنکھوں کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
جو ایک نگاہ اُسے گھورتی۔۔۔۔ مگر اگلے ہی لمحے اُس کی بے باک نگاہوں پر چہرا اُس کے سینے میں چھپا گئی تھی۔۔۔۔
“تھینکس اِس میٹھے نشے کا عادی بنانے کے لیے۔۔۔۔۔”
زوہان کی بے باک سرگوشی زنیشہ کو خود میں سمٹنے پر مجبور کر گئی تھی۔۔۔۔۔
زوہان نے اُس کے چہرے پر تھکن کے آثار دیکھتے ہاتھ بڑھا کر اُس کے کے دوپٹے کی پنز نکالتے اُس کا بوجھ ہلکا کرنا چاہا تھا۔۔۔۔۔
“میں کر لوں گی۔۔۔۔۔”
زنیشہ نے بنا اُس کی شوخ نگاہوں کی جانب دیکھتے کہا تھا۔۔۔۔
“آر یو شیور۔۔۔۔۔”
زوہان نے اُس کے نیکلیس کو چھوتے پوچھا تھا۔۔۔۔
یہ نازک سی لڑکی اپنی ہمت سے کہیں بڑی حرکت کرکے اُس کے سارے شکوے دور کر گئی تھی۔۔۔۔۔
زنیشہ نے اثبات میں سرہلاتے ڈریسنگ ٹیبل کی جانب قدم بڑھائے۔۔۔۔۔
زوہان اُسی سمت چہرا کرتے بڑے سکون سے صوفے پر براجمان ہوا تھا۔۔۔۔۔
زنیشہ بنا دیکھے بھی اُس کی نگاہوں کی تپیش خود پر محسوس کرتی حد سے زیادہ نروس ہورہی تھی۔۔۔۔ اُس زوہان کے خیال سے ہی ابھی تک وہ بھاری دوپٹہ اپنے کندھے پر ڈال رکھا تھا۔۔۔۔۔
اور ساتھ ساتھ اپنا نیکلیس کی ڈوری کھولنے میں مصروف تھی۔۔۔۔ جو اُس کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ کی وجہ سے کھل ہی نہیں رہی تھی۔۔۔۔
“کیا میں کوئی مدد کرسکتا ہوں۔۔۔۔؟”
زوہان کب سے اُسے ڈوری سے اُلجھتا دیکھ اپنی جگہ سے اُٹھا تھا۔۔۔۔
“نہیں۔۔۔۔۔”
اُسے اپنی جانب آتا دیکھ زنیشہ نے صاف انکار کیا تھا۔۔۔۔ مگر وہ زوہان ہی کیا جو کسی کی اتنی آسانی سے سن لے۔۔۔۔۔۔
زنیشہ اُلٹے قدموں دور ہوئی تھی۔۔۔۔ جب زوہان نے قریب آتے ایک ہی جست میں اُس کی نازک کلائی کو جکڑتے اُسے اپنے سامنے کھڑا کیا تھا۔۔۔۔۔
جس کی وجہ سے سامنے مرر میں دونوں کا نمایاں ہوتا عکس زنیشہ کے چہرے پر گھبراہٹ کے ساتھ ساتھ مسکراہٹ بھی بکھیر گیا تھا۔۔۔۔۔
“تم آج اتنی حسن لگ رہی ہو۔۔۔ کہ دل چاہ رہا ہے ایک پل کے لیے بھی تمہیں اپنے سینے سے جدا نہ کروں۔۔۔۔ ہمیشہ سے میں تمہارے اِس قیامت خیز حُسن سے گھائل ہوتا آیا ہوں۔۔۔۔ پہلے تو ہمیشہ اپنے بہک جانے کے خوف سے اِس حُسن کو خراج نہیں بخش سکا۔۔۔۔۔۔ لیکن آج میں ہر حد بندی توڑ کر تمہیں بتانا چاہتا ہوں۔۔۔ کہ تم کس قدر قیمیتی ہو میرے لیے۔۔۔۔ میری نس نس میں نشہ بن کر اُتر چکی ہو۔۔۔۔ جس میں اب ساری زندگی گزار دینے کی خواہش رکھتا ہوں میں۔۔۔۔۔۔”
زوہان اُس کے کانوِں میں رس گھولتا اُس کے نیکلس کو۔۔۔۔ نازک گردن سے جدا کر گیا تھا۔۔۔۔ جو پوری طرح لال ہوچکی تھی۔۔۔۔
زوہان جھکا تھا اور اُس پر اپنے ہونٹوں کا لمس چھوڑتا زنیشہ کو بوکھلا کر رکھ گیا تھا۔۔۔۔ زوہان کے اِس جارحانہ عمل پر زنیشہ کی سانسیں منتشر ہوئی تھیں۔۔۔۔
لیکن اِس بار زنیشہ نے اُس سے دور جانے کی غلطی نہیں کی تھی۔۔۔۔۔
“مجھے میری منہ دیکھائی چاہیے۔۔۔۔”
زنیشہ کو اُس کا دھیان بھٹکانے کے لیے اِس سے بہتر جواز کوئی نہیں ملا تھا۔۔۔۔ کیونکہ وہ جانتی تھی زوہان کو اِن سب رسموں کا نہ کچھ آئیڈیا تھا اور نہ خاص انٹرسٹ۔۔۔۔۔
لیکن اُس کا منہ حیرت سے اُس وقت کھلا تھا جب زوہان اپنی پاکٹ سے دو انتہائی بیش قیمت پائل نکالتا اُس کے قدموں کے قریب جھکا تھا۔۔۔۔
زنیشہ سکتے میں آتی اُس کی کاروائی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
جو اُس کے نازک پیر کو اپنے گھٹنے پر رکھ گیا تھا۔۔۔۔ اُس کے گلابی ملائم پیروں کی نرماہٹیں محسوس کرتے اُس نے باری باری اُن میں نازک سی پائلیں پہنا دی تھیں۔۔۔۔
زنیشہ اُس کے اتنے محبت بھرے انداز پر اُس کی اسیر ہوئی تھی۔۔۔۔ ملک زوہان کی دشمنی کی شدت تو سب نے دیکھی تھی۔۔۔ مگر اُس کی محبت کی شدتیں دیکھنا صرف زنیشہ کو نصیب ہورہی تھیں۔۔۔۔
اِس وقت اُسے اپنا آپ ہواؤں میں اُڑتا محسوس ہوا تھا۔۔۔
وہ جھکی تھی اور بنا زبان سے کوئی لفظ ادا کیے اُس نے زوہان کی چوڑی پیشانی پر اپنے لب رکھ دیئے تھے۔۔۔
اِس نرم گرم لمس نے زوہان کو اندر تک سرشار کردیا تھا۔۔۔
“میں اپنی رسم پوری کرچکا ہوں۔۔۔ اب تمہاری باری ہے۔۔۔۔”
زوہان اپنی جگہ سے اُٹھتا اُسے سرتاپا گہری نظروں سے دیکھتا خوفزدہ کرگیا تھا۔۔۔۔
“میرے پاس کوئی گفٹ نہیں ہے۔۔۔۔”
زنیشہ نے اُس کے تیوروں سے گھبرا کر پیچھے ہٹتے نفی میں سر ہلایا تھا۔۔۔
“تمہارے پاس سب کچھ ہے۔۔۔۔ “
زوہان کو اُس کے چہرے پر چھائے قوس و قزاح کے رنگ بہکنے پر محبور کررہے تھے۔۔۔۔۔
“مجھے چھوڑ کر تو نہیں جاؤ گی نا۔۔۔۔۔؟؟؟”.
زوہان اُس کو اُلٹے قدموں پیچھے جاتے دیکھ دیوانہ وار نگاہوں سے اُس کے سہانے روپ کو آنکھوں میں بسائے بولا تھا۔۔۔
“کبھی نہیں۔۔۔۔۔۔”
زنیشہ کے لب بمشکل ہلے تھے۔۔۔۔
“میں چاہے جتنا بھی بُرا بن گیا تب بھی۔۔۔۔؟؟؟”
زوہان آنے والے وقت سے آگاہ تھا۔۔۔۔
“آپ کو سدھاروں گی۔۔۔۔ مگر چھوڑ کر کبھی نہیں جاؤں گی۔۔۔۔۔”
زنیشہ آج اُسے اپنے سارے اقرار سونپ دینا چاہتی تھی۔۔۔۔ وہ اِس مشکل ترین شخص کو پیار سے ٹھیک کرنا چاہتی تھی.
“اور اگر نہ سُدھرا تو۔۔۔۔”
زوہان نے اُس کا دوپٹے کا پلو کھینچا تھا۔۔۔۔ اُسے بھاری بھرکم دوپٹے کے بوجھ کو وہ پہلے ہی بہت مشکل سے اُٹھائے ہوئے تھی۔۔۔۔ اُس کے زرا سے جھٹکے پر وہ زنیشہ کے نازک وجود سے جدا ہوا تھا۔۔۔۔۔
پردہ ہٹ جانے پر اُس کے نازک وجود کی رعنائیاں زوہان کو مزید بہکا گئی تھیں۔۔۔۔
“تو آپ کو اتنا پیار دوں گی۔۔۔ کہ آپ میری بات ماننے پر مجبور ہوجائیں گے۔۔۔۔”
زنیشہ اُس کی بےباک نگاہوں کے وار سہتی شرم سے دوہری ہوئی تھی۔۔۔۔
“تو پھر کیا خیال ہے۔۔۔۔ اُس پیار کی شروعات آج اور ابھی سے ہی نہیں کردینی چاہیے۔۔۔۔۔”
زوہان کی آنکھوں کا بدلتا رنگ دیکھ وہ چند قدم پیچھے ہٹی تھی۔۔۔۔ جب بے دھیانی میں اُس کا پیر لہنگے میں اُلجھا تھا۔۔۔۔
مگر اُس کے گرنے سے پہلے ہی زوہان نے اُسے اپنی بانہوں میں سمیٹ لیا تھا۔۔۔۔۔
“مجھ سے فرار ناممکن ہے۔۔۔ چاہے جتنا بھی بھاگ لو۔۔۔ لوٹ کر اِنہیں پناہوں میں آنا ہے تمہیں۔۔۔۔۔”
زنیشہ کو بانہوں میں بھرتا وہ بیڈ کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔
“زوہان مجھے۔۔۔۔۔”
زنیشہ نے کچھ بولنا چاہا تھا۔۔۔ مگر زوہان اُس کا سر تکیے پر ٹکاتا اُس کے چہرے پر اپنی محبت کے پھول کھلاتا اُس کی جان نکلا گیا تھا۔۔۔۔
زنیشہ نے اُس کا کالر سختی سے مُٹھیوں میں جکڑ رکھا تھا۔۔۔۔
“آئی کانٹ لو ود آؤٹ یو۔۔۔۔۔”
زوہان نے اُس کے کان پر جھک کر سرگوشی کرتے۔۔۔۔ اُس کے کانوں کی لوح چوم لی تھی۔۔۔۔
“کیا تم پوری دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرو گی میری خاطر۔۔۔۔؟؟؟ صرف میرا بن کر رہنے کے لیے؟؟؟”
زوہان اُس پر اپنی شدتیں اور محبتیں اُنڈیلتا اُس کے تن من میں صرف اپنی چھاپ چھوڑ جانا چاہتا تھا۔۔۔۔
زنیشہ اُس کے لمس میں بڑھتی دیوانگی دیکھ کانپ کررہ گئی تھی۔۔۔۔
ایک دنیا اِس انسان کے خلاف تھی مگر اُسے قطعاً پرواہ نہیں تھی۔۔۔۔ اُسے تو بس اپنی بانہوں میں پناہ گزیں صرف اِس ایک لڑکی سے غرض تھی۔۔۔۔
اُس کی محبت کے معاملے میں وہ خود غرض ہوجانا چاہتا تھا۔۔۔۔
زوہان کی بات کے جواب میں زنیشہ نے بمشکل اثبات میں سر ہلایا تھا۔۔۔۔

“میں ہمیشہ سے آپ ہی کی تھی۔۔۔۔۔”
زنیشہ نے اُس کی شدتوں سے گھبرا کر اُس کے سینے میں پناہ ڈھونڈتے نہایت ہی مدھم سرگوشی کی تھی۔۔۔۔
لیکن یہ جان لیوا سرگوشی زوہان کے کانوں سے ٹکراتی اُس کے جذبات میں مزید طغیانی برپا کرگئی تھی۔۔۔
“زوہان۔۔۔۔”
وہ اُس کی گردن پر جھکا ہی تھا۔۔۔ جب زنیشہ کی کمزور سی خوف سے کانپتی آواز نے اُسے اُس کے سُرخی مائل اُس کی قربت سے دہکتے چہرے کی جانب دیکھنے پر مجبور کردیا تھا۔۔۔۔
“کیا ہوا زندگی۔۔۔۔۔؟؟؟”
زوہان نے اُن کی ٹھوڑی پر لب رکھتے اُس کا چہرا اپنے بے حد قریب کیا تھا۔۔۔۔
“مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔۔”
زنیشہ اُس کی والہانہ نگاہوں کی جانب دیکھنے سے اجتناب برت رہی تھی۔۔۔۔
“کس سے۔۔۔۔۔”
زوہان نے جھک کر اُس کے گلابی نرم و ملائم گال پر پانے ہونٹوں کا شدت بھرا لمس چھوڑتے اُس کی جان مزید مشکل میں ڈالی تھی۔۔۔۔
“آپ سے۔۔۔۔۔”
زنیشہ کی آواز کانپ اُٹھی تھی۔۔۔۔۔
جبکہ اُس کی بات پر زوہان کا بے ساختہ قہقہ برآمد ہوا تھا۔۔۔۔ جس پر زنیشہ نے اپنا مذاق اُڑانے پر اُسے گھورا تھا۔۔۔۔ لیکن اُس کے خوبرو دلکش نقوش سے پھر نظریں نہیں ہٹا پائی تھی۔۔۔
کوئی مرد ہنستے ہوئے بھلا اتنا خوبصورت اور پیارا بھی لگ سکتا تھا۔۔۔۔۔ زنیشہ یک ٹک اُسے دیکھے گئی تھی۔۔۔۔
“آج تو تمہیں مجھ سے ڈرنا بھی چاہیے۔۔۔۔۔ کیونکہ آج میں تمہاری ایک نہیں سننے والا۔۔۔۔۔”
زوہان اُس کو اپنی جانب مبہوت ہوکر دیکھتا پاکر اُس کے لال ہوتے ناک کو چھو گیا تھا۔۔۔۔
“پہلے جیسے میری ہر بات مانتے ہیں نا….”
زنیشہ نے اُسے یاد دلانا چاہا تھا کہ وہ اُس کی کوئی بات نہیں سنتا تھا۔۔۔۔
“تم نے کبھی پیار سے منوانے کی کوشش ہی نہیں کی۔۔۔۔”
زوہان اُس کے بالوں کا جوڑا کھولتے اُن میں چہرا چھپاتے بولا۔۔۔۔
زنیشہ کا پورا وجود ہولے ہولے لرز رہا تھا۔۔۔ جسے محسوس کرتے زوہان اُسے پوری طرح خود میں سمیٹنے لگا تھا۔۔۔
“تو اگر پیار سے منایا تو مان جائیں گے۔۔۔۔۔؟؟؟”
زنیشہ جان بوجھ کر بات کو طویل کررہی تھی۔۔۔
مگر وہ اپنی اِن معصوم ہوشیاریوں میں ملک زوہان میران کو نہیں اُلجھا پائی تھی۔۔۔۔
“میری اتنی مجال کہ نہ مانوں۔۔۔۔۔۔ جانِ من سب مانوں گا مگر اِس وقت جو تم کرنے کی کوشش کررہی ہو۔۔۔ وہ نہیں ہونے دوں گا۔۔۔۔۔”
زوہان اُسے دور کھسکتے دیکھ اُس کی چوری پکڑ چکا تھا۔۔۔۔ ایک ہی جھٹکے میں زنیشہ کو اپنی جانب کھینچتے وہ اُس پر حملہ آور ہوا تھا۔۔۔ اور اُس کے نازک وجود کو پوری طرح اپنے مضبوط چوڑے وجود کے پیچھے چھپا گیا تھا۔۔۔۔
اُس کے جارحانہ انداز پر زنیشہ کھلکھلا اُٹھی تھی۔۔۔۔ اُس کی ہنسی کی جلترنگ میں کھوتا زوہان اُسے پوری طرح اپنے آپ میں اُلجھا گیا تھا۔۔۔۔۔
زنیشہ کے چہرے پر خوشی اور آسودگی کے رنگ دیکھ زوہان کا دل بھی سکون سے بھر گیا تھا۔۔۔۔۔
اِس پھولوں سی لڑکی نے آج اُس کی زندگی میں داخل ہوکر۔۔۔۔ اُس کی بے چین کب سے تڑپتی بھٹکتی روح کو قرار بخش دیا تھا۔۔۔۔
باہر ہر شے برف کی پھوار سے ڈھکی جا چکی تھی۔۔۔ لیکن آج کی رات زوہان میران کی زندگی میں اُجالا بن کر اُتری تھی۔۔۔۔ اُسے اُس کی سب سے قیمتی شے سونپ گئی تھی۔۔۔۔۔
زنیشہ کی خود سپردگی پر زوہان اُسے محبت پاش نگاہوں سے دیکھتا اپنے اندر سمیٹ گیا تھا۔۔۔۔
@@@@@@@@@
منہاج ماورا کے روم کا دروازہ دھکیلتا اندر داخل ہوتے پلٹ کر لاک چڑھا گیا تھا۔۔۔۔ اِس لڑکی کی لاپرواہی پر اُسے جی بھر کر غصہ آیا تھا۔۔۔۔
مگر کمرے میں قدم رکھتے اُسے لگا تھا وہ کسی فریزر میں آن گھسا ہو۔۔۔۔ میران پیلس کے ہر کونے پر ہیٹر آن تھے۔۔۔۔ کوریڈور بھی انتہائی گرم تھے۔۔۔۔
مگر ماورا کے کمرے میں تو لگتا تھا برف جمی ہو۔۔۔
منہاج نے فکرمندی سے اردگرد نظریں دوڑائی تھیں۔۔۔۔ جب وہ اُسے بیڈ پر سکڑی سمٹی پڑی نظر آئی تھی۔۔۔۔
منہاج ایک لمحے کی بھی دیر کیے بنا اُس کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ اور اُس کے برف ہوئے وجود کو اپنی پناہوں میں لیتے۔۔۔۔۔ اُس کا چہرا تھپتھپایا تھا۔۔۔۔
“ماورا آنکھیں کھولو۔۔۔۔ ماورا۔۔۔؟؟؟”
منہاج اُسے آنکھیں نہ کھولتے دیکھ بے چین ہوا تھا۔۔۔۔ وہ خود بھی ڈاکٹر تھا سمجھ گیا تھا اُسے اِس وقت حرارت کی ضرورت تھی۔۔۔۔ شدید ٹھنڈ کے باعث بے ہوش ہوچکی تھی۔۔۔۔ اُسے بیڈ پر لٹا کر۔۔۔ سر احتیاط سے تکیے پر ٹکاتے منہاج نے کمفرٹر اُس پر اوڑھا دیا تھا۔۔۔۔
کھڑکی بند کرکے پردے برابر کرتے اُس نے ہیٹر آن کردیا تھا۔۔۔۔ اور واپس اُس کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ جس کے ہونٹ بالکل نیلے ہوچکے تھے۔۔۔۔
منہاج اُسے کے برابر میں لیٹتا اُسے اپنے قریب کھینچتا۔۔۔۔ اپنے وجود کی حرارت بخشنے لگا تھا۔۔۔۔ خود پر اوڑھی گرم شال بھی اُس نے ماورا کے گرد اوڑھ دی تھی۔۔۔۔ اُس کے نازک سفید پڑتے ہاتھوں کو مسلتے منہاج اُسے خود میں بھینچ گیا تھا۔۔۔۔۔
جب اُس کی نظر ماورا کی باریک نائٹی پر پڑی تھی۔۔۔۔ بمشکل اُس کے ہوش رُبا حُسن سے نظریں چراتے منہاج اُٹھا تھا اور الماری سے اُس کے لیے گرم سی ٹی شرٹ نکال لایا تھا۔۔۔۔ اتنی ٹھنڈ میں اِس قدر باریک نائٹی پہننے کا کام اِس لڑکی کے سوا کوئی نہیں کرسکتا تھا۔۔۔
اُس نے دوبارہ اُس کے قریب نیم دراز ہوتے اُسے وہ ٹی شرٹ پہنا دی تھی۔۔۔۔۔ یہ سب کرتے وہ اُس کے بے پناہ قریب تھا۔۔۔ اُس کے وجود کی رعنائیوں سے اُس نے کیسے نظریں چرائی تھیں۔۔۔۔ یہ وہی جانتا تھا۔۔۔۔
منہاج کی بھرپور کوششوں کے بعد جاکر بلاآخر ماورا کی ٹھنڈ کم ہونے لگی تھی۔۔۔۔
منہاج نے اُس کو نارمل ہوتے دیکھ جھک کر اُس کی پیشانی چوم لی تھی۔۔۔۔ اِس لڑکی نے کچھ دیر کے لیے اُس کی جان اٹکا کر رکھ دی تھی۔۔۔۔
اُس کے لمس پر نیند میں بھی کسمساتی وہ منہاج کے گرد اپنا بازو حمائل کرتی اپنا چہرا اُس کے سینے میں چھپا گئی تھی۔۔۔۔۔
منہاج جو کب سے خود پر ضبط کیے بیٹھا تھا اُس کی یہ بے خودی میں سرزد کی جانے والی حرکتیں منہاج کے جذبات بھڑکا گئی تھیں۔۔۔۔
“میرے ساتھ بہت غلط کیا تم نے۔۔۔۔۔ بہت بڑی سزا دوں گا اِس کے لیے۔۔۔۔”
منہاج کروٹ کے بل اُس پر جھکتا اُس کے کان میں سرگوشی کرتے بولا تھا۔۔۔۔
ماورا جس کے حواس اب پوری طرح سے بیدار ہورہے تھے۔۔۔۔ خود پر کسی کو پوری طرح حاوی دیکھ وہ جی جان سے لرز اُٹھی تھی۔۔۔۔ مگر منہاج کی سرگوشی اُسے بند آنکھوں کے ساتھ مسکرانے پر مجبور کر گئی تھی۔۔۔۔
جب منہاج کی اگلی حرکت اُس کی آنکھیں کھولنے کے ساتھ ساتھ۔۔۔۔ اُس کے چودہ طبق روشن کرگئی تھی۔۔۔۔
کیونکہ منہاج اُس کی گردن پر چھوڑے گئے اپنے نشان پر دوبارہ لب رکھ چکا تھا۔۔۔۔
ماورا کو اپنی سانسیں رکھتی محسوس ہوئی تھیں۔۔۔۔
اُس نے منہاج کو دور کرنا چاہا تھا جس پر وہ اُس کی دونوں کلائیاں گرفت میں لیتا تکیے کے ساتھ لگا گیا تھا۔۔۔۔۔۔
“منہاج۔۔۔۔۔”
وہ تڑپی تھی۔۔۔۔
منہاج کی بڑھی شیو کی چبھن اُس کی سانسیں بکھیر گئی تھیں۔۔۔۔
اُس کے وجود میں ہوتی لرزش محسوس کرتے منہاج اُس سے دور ہوا تھا۔۔۔ اِس سے پہلے کہ وہ اُس کے پاس سے اُٹھتا ماورا اُس کا کالر اپنی مُٹھی میں جکڑتی اُسے اپنے قریب ہونے پر مجبور کر گئی تھی۔۔۔۔
“آپ مجھ سے دور نہیں جاسکتے۔۔۔۔”
ماورا کی آواز بھیگی تھی۔۔۔۔ پورا کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔۔ وہ اب بھی اُس کا چہرا نہیں دیکھ پائی تھی۔۔۔۔ لیکن منہاج کی کی جانے والی سرگوشیاں اُسے اُس کے ہونے کا یقین دلا گئی تھیں۔۔۔۔
“کیوں ایسا کرنے کا حق صرف تمہارا ہی ہے۔۔۔۔؟؟؟”
منہاج اُس کی شہہ رگ پر اُنگلی پھیرتا سرد لہجے میں بولتا اُس کو خوفزدہ کرگیا تھا۔۔۔۔
“میں نے جان بوجھ کر کچھ نہیں کیا۔۔۔۔”
ماورا کی آنکھیں سے آنسو لڑھکا تھا۔۔۔۔
“مگر میں اب جو کروں گا۔۔۔۔ وہ جان بوجھ کر ہی ہوگا۔۔۔۔ اور تمہارے لیے میرے جنون کو سہہ پانا مشکل ہوجائے گا۔۔۔”
منہاج اُس کے بال ہٹاتا اُس کے کندھے پر جھکا تھا۔۔۔۔
اور اپنے جارحانہ عمل سے ماورا کو کسمسانے پر مجبور کرگیا تھا۔۔۔۔
ماورا کی گرفت اُس کے کالر پر مضبوط ہوئی تھی۔۔۔۔
وہ شدید غصے میں تھا جس کا اندازہ ماورا اُس کے لمس سے لگا پارہی تھی۔۔۔۔
اُسے اِس وقت مزید چھیڑنے کی ہمت نہیں تھی ماورا میں۔۔۔۔
اُس نے منہاج کا کالر اپنی مُٹھی سے آزاد کردیا تھا۔۔۔۔ وہ سرتاپا لرز رہی تھی۔۔۔۔ منہاج نے کچھ ہی دیر میں اُس پر اپنی قربت کا رنگ چڑھا دیا تھا۔۔۔۔۔
“تیار رہنا۔۔۔۔ میرا جنون اور انتقام سہنے کے لیے۔۔۔۔ “
اُس کے بالوں میں ہاتھ پھنسا کر اُس کا چہرا اپنے چہرے کے بے پناہ قریب کرتے، اُس کی نرماہٹوں اور حدتوں کو محسوس کرتا۔۔۔۔ ایک بات پھر اُس کی جان نکال گیا تھا۔۔۔۔۔۔
منہاج جا چکا تھا مگر کتنی ہی دیر ماورا خود کو سنبھال نہیں پائی تھی۔۔۔۔ اُس کے دھکتے گال گزرے لمحوں کی داستان سنارہے تھے۔۔۔۔۔
اپنی بے قابو ہوتی دھڑکنوں کا شمار لگاتے نجانے کب اُس کی آنکھ لگی تھی۔۔۔۔ وہ جان نہیں پائی تھی۔۔۔۔۔ سوتے وقت بھی ایک میٹھی سی مسکان اُس کے لبوں کا احاطہ کیے ہوئے تھی۔۔۔۔۔
@@@@@@@@@@

جاری ہے