No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
“منہاج واٹس ہیپنگ ود یو۔۔۔۔ تم پچھلے دو دن سے نہ ہی یونی آرہے ہو اور نہ ہی میری کالز پک کررہے ہو۔۔۔۔”
فجر منہاج کو آج فائنلی آتا دیکھ خفگی سے گویا ہوئی تھی۔۔۔
“تو اِس کا یہی مطلب بنتا نا کہ میں بزی ہوں۔۔۔۔ تم کالز کر کے اپنی انرجی کیوں ویسٹ کرتی رہی ہو۔۔۔۔”
منہاج فجر کا جواب دیتا اپنے دوستوں کے بیچ آن بیٹھا تھا۔۔۔۔ فجر، طلحہ، حارث اور ثنا اُس کے بچپن کے دوست تھے۔۔۔۔ ہمیشہ ہر جگہ اکٹھے رہے تھے۔۔۔ میڈیکل کی فیلڈ بھی تینوں نے ایک ساتاھ جوائن کی تھی۔۔۔۔ وہ سب منہاج کی ماورا کے لیے پسندیدگی سے واقف تھے۔۔۔۔ مگر منہاج کے اچانک اُس سے دور ہوجانا۔۔۔ پھر ماورا کا یونی سے غائب رہنا اور اُس کے واپس آنے پر منہاج کا اُس کی جانب نگاہ اُٹھا کر دیکھنا بھی نہیں یونی کے باقی سٹوڈنٹس سمیت اُن سب کے لیے بھی حیران کن تھا۔۔۔
مگر منہاج کا اِن دنوں موڈ اتنا خراب رہتا تھا کہ اُن میں سے کوئی کچھ پوچھ ہی نہیں پایا تھا۔۔۔
“منہاج تم جانتے ہو یونی میں آج کل کیا چل رہا ہے؟”
اب کی بار ثنا کی زبان میں کھجلی ہوئی تھی۔۔۔۔
“کیا چل رہا ہے ؟….”
منہاج لاپرواہ انداز میں ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بولا۔
“سر وقاص اور آصف ہاتھ دھو کر ماورا نور کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔ اور آئی تھنک وہ اُن کا شکار بن بھی رہی ہے۔۔۔۔ اگر اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہو تو دیکھ لو۔۔۔۔ سامنے کھڑے ہیں۔۔۔۔”
ثنا کے بجائے طلحہ نے تفصیل سے جواب دیتے اُس کی توجہ ماورا کی جانب دلوائی تھی۔۔۔۔
منہاج نے فوراً گھوم کر اُس جانب دیکھا تھا۔۔۔ جہاں واقعی ماورا سر وقاص اور آصف کے ساتھ ہی کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔
اُن دونوں کی رپوٹیش پوری یونی میں بہت خراب تھی۔۔۔۔ جو لڑکیاں اِن کے قریب نظر آتی تھیں۔۔۔۔ اگلے چند ہفتوں میں وہ لڑکیاں یونی سے لاپتہ ہوجاتی تھیں۔۔۔۔ اُن دونوں کے خلاف بہت سے کیسز چلے تھے۔۔۔ اِنہیں یونی سے نکالا بھی گیا تھا۔۔۔ مگر ہر طرح کی انویسٹی گیشن کے بعد بھی اِن کے خلاف ہوئی ٹھوس ثبوت نہیں مل پایا تھا۔۔۔۔ کچھ وقت کیس چلنے کے بعد اُنہیں باعزت طریقے سے اِس معاملے سے بری کردیا گیا تھا۔۔۔
لیکن لڑکیاں غائب ہونے کا سلسلہ وقفے وقفے سے ابھی بھی جاری تھا۔۔۔۔ اُن کی نظر کافی ٹائم سے ماورا پر تھی۔۔۔ مگر اُس کے منہاج کے ساتھ ہونے کی وجہ سے وہ ایسا کچھ نہیں کر پائے تھے۔۔۔ ماورا جیسی حسین چڑیا کو قابو کرنا اُن کی پہلی ترجیح تھی۔۔ یہ سنہری موقع وہ جانے دینا نہیں چاہتے تھے۔۔۔۔
ماورا کو اُن کے ساتھ کھڑا دیکھ منہاج اندر تک جل اُٹھا تھا۔۔ چاہے وہ ماورا سے جتنی بھی نفرت کا اظہار کرتا مگر اُسے یوں کسی اور کا شکار بنتا نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔ بنا کسی کا لحاظ کیے وہ اپنی جگہ سے اُٹھ کر اُن کی سمت بڑھ گیا تھا۔۔
طلحہ وغیرہ نے روکنے کی پوری کوشش کی تھی مگر وہ اَن سنی کرتا آگے بڑھ گیا تھا۔۔۔
“جی سر میں یہ ورک شاپس ضرور اٹینڈ کروں گی۔۔۔ “
ماورا اُن کے ہاتھوں سے کوئی لیٹر تھامتی خوشدلی سے بولی تھی۔۔۔ جب منہاج نے اُن کے سر پر پہنچتے ماورا سے وہ لیٹر چھین کر کئی ٹکڑوں میں بانٹ کر واپس اُس کی جانب اُچھال دیا تھا۔۔۔۔ اُس کا یہ عمل اتنا غیر متوقع اور پھرتی لیے ہوئے تھا کہ ماورا سمیت وہ دونوں بھی اُسے ایسا کرنے سے روک نہیں پائے تھے۔۔۔۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے منہاج؟؟ “
سر وقاص اُسے وہاں دیکھ آگ بھگولا ہوئے تھے۔۔۔ اُنہیں اپنی دو دن کی محنت رائیگاں ہونے کے ساتھ ساتھ یہ سونے کی چڑیا اپنے ہاتھوں سے نکلتی معلوم ہورہی تھی۔۔۔۔ ماورا بھی منہاج کی آنکھوں سے نکلتے غصے کے شعلے دیکھ اپنی جگہ سہم سی گئی تھی۔۔۔۔
“ابھی تو بہت تمیز سے پیش آیا ہوں۔۔۔ اِس لڑکی سے دور رہو تم دونوں۔۔۔۔ ورنہ تمیز اور لحاظ تو بھولوں گا ہی سہی۔۔۔ بلکہ تم دونوں کبھی اِس جگہ بھٹک بھی نہیں پاؤ گے۔۔۔۔۔ اپنی سلامتی چاہتے ہو تو اِس سے دور رہو۔۔۔۔۔”
منہاج اُنہیں برفیلے لہجے میں اچھے سے وارن کرتا ماورا کا ہاتھ تھامے وہاں سے نکل آیا تھا۔۔۔۔ ماورا اُس سے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کرتی ساتھ کھنچی چلی جارہی تھی۔۔۔۔
“منہاج درانی چھوڑو میرا ہاتھ۔۔۔ سب لوگ دیکھ رہے ہیں۔۔۔۔ میں تمہاری کوئی زرخرید غلام نہیں ہوں جو تم میرے ساتھ یہ سب کررہے ہو۔۔۔۔۔”
ماورا کا صبر جواب دے گیا تھا۔۔۔۔ وہ اُس کے ہاتھ پر اپنے ناخن گاڑھتی غصے سے چلائی تھی۔۔۔ مگر منہاج کے سر پر جوں تک نہ رینگی تھی۔۔۔ وہ اُسی طرح اُسے اپنے ساتھ لیے پارکنگ تک آیا تھا۔۔۔
“گاڑی میں بیٹھو۔۔۔۔”
منہاج نے گاڑی کا دروازہ اَن لاک کرتے اُسے اندر بیٹھنے کا کہا تھا۔۔۔۔
اُس کا یہ دھونس بھرا انداز ماورا کو مزید پتنگے لگا گیا تھا۔۔۔۔
“کیوں میں کیوں بیٹھوں تمہاری گاڑی میں؟”
ماورا اُس کا ہاتھ اپنے ناخنوں سے اچھی طرح زخمی کر چکی تھی۔۔۔ اور اب اُس کے مقابل کھڑی اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی تھی۔۔۔۔
“کیونکہ میں تمہیں تمہاری اوقات سے بڑھ کر قیمت ادا کرنے کو تیار ہوں۔۔۔۔ بہت شوق ہے نا تمہیں مردوں کے بیچ رہنے کا تو وہ مرد میں ہی کیوں نہ سہی۔۔۔۔۔ میں تمہارے اُس کرامت خان کو تمہاری منہ مانگی قیمت ادا کرچکا ہوں۔۔۔۔ اب تمہیں میرے ساتھ چلنا ہی ہوگا۔۔۔۔ تم انکار نہیں کرسکتی۔۔۔”
منہاج کو ماورا پر بہت غصہ آرہا تھا کہ وہ اُن کے بارے میں سب جانتے ہوئے بھی، اُن گھٹیا لوگوں کے پاس کھڑی ہی کیوں تھی۔۔۔ وہ جانتے بوجھتے خود کو خطرے میں جھونک رہی تھی۔۔۔جس کی سزا تو بنتی ہی تھی۔۔۔۔
منہاج چہرا اُس کے قریب کرتا اُس کی بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں میں جھانکتا اُسے لمحہ بھر کو لڑکھڑانے پر مجبور کرگیا تھا۔۔۔ اُس نے نفی میں سر ہلاتے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
“تم جھوٹ بول رہے ہو۔۔۔۔ کرامت ایسا کچھ نہیں کرسکتا۔۔۔۔”
کرامت پیسوں کی خاطر کچھ بھی کرسکتا تھا۔۔۔مگر ماورا یہ جانتی تھی کہ حاعفہ نے اُس کے ہاتھ باندھ رکھے تھے اِس معاملے میں۔۔۔۔ وہ چاہ کر بھی اُس کی قیمت نہیں لگا سکتا تھا۔۔۔۔
“اِس میں اتنی حیرانی کی کیا بات ہے۔۔۔۔ تم نے خود ہی تو کہا تھا۔۔۔۔ کہ جو تمہاری سب سے زیادہ قیمت لگاتا ہے تم اُس کی ہوجاتی ہو۔۔۔۔ تو پھر آج پیسوں نے تمہیں میری جھولی میں پھینکا ہے۔۔۔۔”
منہاج نے اُسے دوبارہ گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا۔۔۔ مگر ماورا وہاں سے ہٹنے کی کوشش کرتی صاف انکاری تھی۔۔۔۔
“تم آرام سے نہیں مانو گی۔۔۔۔”
منہاج ہونٹ بھینچے کچھ پل اُس کے بیٹھنے کا ویٹ کرتا رہا تھا۔۔۔ مگر اُسے ٹس سے مس نہ ہوتا دیکھ آگے بڑھ کر اُسے بانہوں میں اُٹھا کر گاڑی کے اندر بیٹھا گیا تھا۔۔۔۔ ماورا سکتے کی کیفیت میں اُس کی یہ حرکت دیکھے گئی تھی۔۔۔۔ جو اب خود فرنٹ سیٹ پر آن بیٹھا تھا۔۔۔۔ ماورا نے دروازہ کھولنا چاہا تھا مگر وہ پہلے ہی لاک کرچکا تھا۔۔۔
ماورا کو ایکدم منہاج سے خوف محسوس ہونے لگا تھا۔۔۔۔ جو ہونٹوں پر سیٹی کی کوئی شوخ سی دھن بجاتا نگاہیں سامنے روڈ پر مرکوز کیے ڈرائیونگ میں مصروف تھا۔۔۔۔
ماورا تو اِسی چیز میں اُلجھی ہوئی تھی کہ آخر کرامت اُس کا سودا کیسے کرسکتا تھا۔۔۔۔ لیکن وہیں اُس لالچی شخص سے کسی بھی بات کی اُمید کی جاسکتی تھی۔۔۔۔ یہ خیال آتے ہی ماورا کا پورا وجود لرز اُٹھا تھا۔۔۔۔ اُس کا نازک وجود منہاج درانی کا مقابلہ کرپانے سے قاصر تھا۔۔۔۔
@@@@@@@@@
“بھابھی کیا ہوا ہے؟ سب خیریت ہے نا؟ یہ سب بڑے ڈرائنگ روم میں کیوں جمع ہیں؟ کوئی آیا ہے کیا۔۔۔۔”
زنیشہ نے ابھی ابھی آژمیر کی گاڑی تیزی سے پورچ میں آتے دیکھی تھی۔۔۔ گھر کی بڑی خواتین اور مرد حضرات بھی وہاں جمع تھے۔۔۔۔ وہ ابھی سو کر اُٹھی تھی۔۔۔ اِس لیے اُسے اندر چلتے معاملے کی کچھ خبر نہیں تھی۔۔۔۔
باہر بھی سب لڑکیوں کے پریشانی زدہ چہرے دیکھ وہ پوچھے بنا نہیں رہ پائی تھی۔۔۔۔
“جب ملک زوہان میران پیلس میں آئے تو بھلا خیریت کیسے ہو سکتی ہے۔۔۔”
ثمرہ بھابھی تشویش زدہ لہجے میں بولی تھیں۔۔۔ جبکہ اُن کی بات سن کر زنیشہ اپنی جگہ سے ہل گئی تھی۔۔۔۔
“کیا؟؟؟ وہ کیوں آئے ہیں یہاں۔۔۔”
زنیشہ کے منہ سے چیخ کی صورت یہ الفاظ ادا ہوئے تھے۔۔۔۔
“تمہارا رشتہ لے کر۔۔۔۔۔”
فریحہ نے اُس کے قریب آتے اگلا دھماکا کیا تھا۔۔۔۔ زنیشہ کو اپنا دماغ گھومتا ہوا محسوس ہوا تھا۔۔۔ اِس شخص کو فساد پھیلانے کے علاوہ زندگی میں اور کوئی کام نہیں تھا کیا۔۔۔۔ اُس نے تو اُس دن اُس کی کہی بات کو سیریس ہی نہیں لیا تھا۔۔۔
“لالہ اور باقی سب تو بہت غصے میں ہونگے۔۔۔۔”
زنیشہ کو فکر لاحق ہوئی تھی۔۔۔ اُسے رہ رہ کر خود پر غصہ آرہا تھا کیونکہ زوہان اُسی کی وجہ سے اُس کے سب گھر والوں کو بلیک میل کرتا تھا۔۔۔
“نفیسہ خالہ بھی ساتھ آئی ہوئی ہیں زوہان کے۔۔۔۔ اِس لیے ابھی معاملہ تھوڑا کنٹرول میں ہے۔۔۔۔ تم جانتی ہو وہ ہی واحد ہستی ہیں جن کا لحاظ آژمیر لالہ بھی کرتے ہیں اور ملک زوہان بھی۔۔۔۔ “
ثمرہ نے اُسے اب تک اندر کی فضا پرامن ہونے کی اصل وجہ بتائی تھی۔۔۔ جسے سن کر اتنی پریشانی میں بھی زنیشہ کے ہونٹوں پر نرم مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔۔۔
“نفیسہ آنی آئی ہیں اور آپ مجھے اب بتا رہی ہیں۔۔۔ مجھے ملنا ہے اُن سے۔۔۔۔”
زنیشہ ہر بات بھلاتی ایک دم بچوں کی طرح ایکسائیٹڈ ہوتے ڈرائنگ روم کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔
“زنیشہ پاگل ہوگئی ہو۔۔۔۔ اندر ملک زوہان بھی بیٹھا ہے۔۔۔ تم اُس کے سامنے کیسے جا سکتی ہو۔۔۔۔ آژمیر لالہ بہت غصہ کریں گے۔۔۔۔”
فریحہ نے اُس کی کلائی تھام کر اُسے روکنا چاہا تھا۔۔
“پر مجھے نفیسہ آنی سے ملنا ہے۔۔۔ اِس کے علاوہ کوئی موقع نہیں ملے گا اُن سے ملنے کا۔۔۔۔ اتنے سالوں بعد آئے اِس موقع کو گنوانا نہیں چاہتی میں۔۔۔۔”
زنیشہ اُن کی کوئی بھی بات سننے کو تیار ہی نہیں تھی۔۔۔۔ بنا اپنے حلیے پر دھیان دیئے وہ ڈرائنگ روم میں قدم رکھ چکی تھی۔۔۔
@@@@@@@@
ٹی پنک گھٹنوں سے نیچے آتے کلیوں والے سمپل سے فراک میں جس کے کناروں پر پنک کلر کی ہی نفیس سی موتیوں کی لیس لگائی گئی تھی، چوڑی دار بازو، گھنے بالوں کی ڈھیلی سی چٹیا کی گئی تھی، سونے کی وجہ سے جس میں سے بالوں کی بہت سی لٹیں نکل کر اُس کے چہرے کے گرد بکھر گئی تھیں۔۔۔ ریشیمی دوپٹہ سلکی بالوں سے پھسل کر کندھوں پر لڑھکا ہوا تھا۔۔۔۔ گلابی سوٹ میں اُس کا پورا چہرا گلابیاں چھلکاتا دیکھنے والوں کو اپنا اسیر کرنے کے لیے کافی تھا۔۔۔
وہ اندر داخل ہوتی بنا اِردگرد غور کرتی سیدھی نفیسہ بیگم کی جانب بڑھی تھی۔۔۔ اُس کے چہرے پر چھلکتی انوکھی خوشی وہاں بیٹھے تمام افراد کی نظروں سے پوشیدہ نہیں رہ سکی تھی۔۔۔
نفیسہ بیگم بھی زنیشہ کو وہاں دیکھ بہت خوش ہوئی تھیں۔۔۔۔ اور اپنی جگہ سے اُٹھتے اُسے اپنی بانہوں کے حصار میں لیتے سینے میں بھینچ لیا تھا۔۔۔
نفیسہ بیگم کے ساتھ ہی صوفے پر براجمان زوہان اور سامنے والے صوفے پر بیٹھے آژمیر دونوں نے ہی بے اختیار غصے سے مُٹھیاں بھینچ لی تھیں۔۔۔ زنیشہ کا اِس حلیے میں سب کے سامنے آنا اُنہیں بہت ناگوار گزرا تھا۔۔۔۔ بہت غور سے اُن دونوں کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھتیں شمسہ بیگم سے اُن کا یہ عمل پوشیدہ نہیں رہ پایا تھا۔۔۔۔ وہ اپنے ہونٹوں پر اُمڈ آتی بے ساختہ مسکراہٹ روک نہیں پائی تھیں۔۔۔۔
یہ دونوں جو ایک دوسرے کے جانی دشمن بنے بیٹھے تھے۔۔۔۔ اِن کی بہت سی باتیں اور عادتیں ایک جیسی تھیں۔۔۔ جس بات کو جانتے ہوئے بھی وہ بہت آسانی سے نظر انداز کیے ہوئے تھے۔۔۔۔
اُن دونوں کے لیے زنیشہ بہت اہم تھی۔۔۔۔ دونوں ہی اُسے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے تھے۔۔۔ مگر ہمیشہ اُن کی دشمنی میں سب سے زیادہ تکلیف زنیشہ نے ہی برداشت کی تھی۔۔۔ وہی سب سے زیادہ پستی آئی تھی۔۔۔۔
شمسہ بیگم جانتی تھیں کہ اِس دشمنی کو ختم بھی زنیشہ ہی کرسکتی تھی۔۔۔ مگر وہ اپنے خاندان والوں کی مخالفت مول لے کر زنیشہ کا رشتہ زوہان سے نہیں کروا سکتی تھیں۔۔۔۔
“کیسا ہے میرا بچہ؟ “
اُسے خود سے علیحدہ کرتے اُس کی پیشانی پر کب رکھتے نفیسہ بیگم محبت سے چور لہجے میں بولی تھیں۔۔۔۔
“میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔ آپ کیسی ہیں؟”
زنیشہ اُن کے ہاتھ تھامے جواباً اُسی محبت سے گویا ہوئی تھی۔۔۔۔ جب اچانک اُس کی نظر نفیسہ بیگم کے دائیں جانب بیٹھے زوہان پر پڑی تھی۔۔۔ جو اُس کا سب کزنز کے سامنے سر سے دوپٹہ اُترا ہونے کی وجہ سے اُسے کھا جانے والی نظروں سے گھور رہا تھا۔۔۔ زنیشہ نے فوراً نگاہیِں اُس کی جانب سے پھیر لی تھیں۔۔۔ اُس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا تھا۔۔۔ وہ سمجھ نہیں پائی تھی کہ آخر زوہان اُسے اتنے غصے سے کیوں گھور رہا ہے۔۔۔۔ آخر اُس نے غلط کیا کیا تھا۔۔۔۔۔
اِس سے پہلے کہ اُن دونوں میں سے کوئی زنیشہ کے کندھوں سے لڑھکتے دوپٹے کو دیکھ کر بھڑک اُٹھتا شمسہ بیگم خود ہی اُٹھ کر آگے بڑھی تھیں۔۔۔ اور نامحسوس طریقے سے زنیشہ کا دوپٹہ اُس کے سر پر ڈالتے وہ اُسے پیچھے سے اپنے حصار میں لیا تھا۔۔۔
“زنیشہ بیٹا آنی سے مل لیا اب آپ جاؤ۔۔۔۔”
شمسہ بیگم نے نہایت دھیمی آواز میں بولتے اُسے وہاں سے جانے کا کہہ دیا تھا۔۔۔۔ زنیشہ ابھی نفیسہ بیگم سے بات کرنا چاہتی تھی۔۔۔ مگر ماں کی آنکھوں کا اشارہ سمجھتی بُرے بُرے منہ بناتی وہاں سے نکل گئی تھی۔۔۔
زنیشہ کے ہی رشتے کی بات چلنے کی وجہ سے وہاں جو پہلے ماحول بہت گرم تھا اُس کے اچانک آجانے کی وجہ سے اب کچھ حد تک بہتری آگئی تھی۔۔۔۔
زنیشہ آج بھی جس محبت سے نفیسہ بیگم سے ملی تھی وہ بات کسی کے لیے بھی نظر انداز کیے جانے کے قابل نہیں تھی۔۔۔
یہ دیکھ جہاں ملک زوہان کی آنکھوں کی روشنی مزید بڑھ گئی تھی۔۔۔۔ وہیں آژمیر میران کا غصے کے مارے ہونٹ مزید بھنچ گئے تھے۔۔۔
“زنیشہ تم کبھی تو دماغ استعمال کرلیا کرو۔۔۔ کچھ کرنے سے پہلے۔۔۔۔ نفیسہ خالہ تم سے ملنے نہیں بلکہ ملک زوہان کے لیے تمہارا رشتہ مانگنے آئی ہیں۔۔۔ اور تم اُن سے ایسے گرمجوشی سے مل رہی ہو۔۔۔۔ جیسے دل و جان سے راضی ہو اِس رشتے کے لیے۔۔۔۔”
اُس کے باہر آتے ہی فریحہ نے اُسے آڑھے ہاتھوں لیا تھا۔۔۔۔
“اندر میرے لالہ بھی بیٹھے ہیں۔۔۔ اور میں پورے یقین سے کہہ سکتی ہوں وہ مجھے کبھی ملک زوہان کے حوالے نہیں کریں گے۔۔۔۔ چاہے وہ جو بھی کرلے۔۔۔۔ نفیسہ آنی سے ملنے کا موقع اتنے ٹائم بعد ملا میں کیسے نہ جاتی اُن سے ملنے۔۔۔۔”
زنیشہ کو لمحے بھر کے لیے فریحہ کی بات نے تشویش میں مبتلا کیا تھا مگر اگلے ہی لمحے وہ پورے اعتماد سے بولتی وہاں سے ہٹ گئی تھی۔۔۔
@@@@@@@@
جاری ہے۔۔۔۔۔
دو دن سے لائٹ نہیں ہے۔۔۔ موبائل کی چارجنگ نہ ہونے کی وجہ سے نہ ایپی لکھ پائی نہ پوسٹ کر پائی۔۔۔ ابھی شام میں آئی لائٹ تو یہ ایپی لکھ کر پوسٹ کررہی ہوں۔۔۔۔
کل انشاء اللہ لانگ ایپی دینے کی کوشش کروں گی۔۔۔
