No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
“لالہ سائیں بہت بڑی گڑبڑ ہوگئی ہے۔۔۔ آپ جلدی سے یہاں پپہنچیں۔۔۔۔۔”
ثاقب پریشانی زدہ لہجے میں آژمیر کو واپس آنے کا بولنے لگا تھا۔
“میں کچھ ہی دیر میں وہاں پہنچ رہا ہوں۔۔۔۔۔”
آژمیر بنا اُسے مزید کچھ بولنے کا موقع دیئے سرد لہجے میں مختصراً کہتا فون بند کر گیا تھا۔۔۔۔۔ اُسے پہلے ہی ساری خبر مل چکی تھی۔۔۔۔ جس کی وجہ سے وہ اپنا کام وہیں ادھورا چھوڑتا واپس آگیا تھا۔۔۔
میران پیلس میں قدم رکھتے اُس کے جبڑے مزید بھینچ گئے تھے۔۔۔۔
ہال میں اِس وقت گھر کے تمام افراد موجود تھے۔۔۔۔ بہت سارے مہمان بھی آچکے تھے۔ جو خود یہاں پیش آنے والی افتاد پر ہکا بکا کھڑے تھے۔ اُسے اندر داخل ہوتا دیکھ کشمالہ بیگم روتی ہوئی اُس کی جانب بڑھی تھیں۔۔۔
“آژمیر میرے بیٹے کا کچھ پتا نہیں چل رہا۔۔۔ وہ ملک زوہان کہیں اُسے نقصان نہ پہنچا دے۔۔۔۔ میرے بیٹے کو کچھ ہوا میں جیتے جی مر جاؤں گی۔۔۔ تم نے کہا تھا اُس جنونی شخص سے میرے بیٹے کی حفاظت کرو گے۔۔۔۔ “
کشمالہ بیگم اُس کے سینے سے لگیں رونے کے درمیان بولی تھیں۔۔۔
جبکہ باقی سب کی بھی خوف اور پریشانی سے یہی حالت تھی۔۔۔۔ ملک زوہان اپنا وار کرچکا تھا۔۔۔۔ وہ سب جس بات کے لیے ڈرے ہوئے تھے۔۔۔ اُس نے اُن کے ڈر کو سچ کرتے اتنی سیکیورٹی کے باوجود ذیشان کو غائب کروا دیا تھا۔۔۔
“میرا اب بھی وعدہ ہے آپ سے۔۔۔ ذیشان کو میں آپ کے پاس واپس لاؤں گا۔۔۔۔۔ آپ سب حوصلہ رکھیں۔۔۔۔”
آژمیر کو اپنی جگہ ذیشان پر بے حد غصہ آرہا تھا۔ جب وہ سب کو بول کر گیا تھا کہ آج کے دن کسی بھی بدمزگی سے بچنے کے لیے۔۔۔ وہ سب گھر سے باہر نہ نکلیں تو ذیشان اُس کے ہتھے کیسے چڑھ گیا تھا۔۔۔۔
آژمیر بظاہر سب کو تسلی دیتا وہاں سے نکل آیا تھا۔ اُس کا غصہ لمحے کے ساتھ بڑھتا جارہا تھا۔۔۔ ملک زوہان ذیشان کو غائب کرکے اور اُس کے سب گھر والوں کو اِس حوالے سے خوفزدہ کرکے آخرکار زنیشہ کی شادی رکوانے میں کامیاب ہوچکا تھا۔۔۔۔
آژمیر دنوں ہاتھوں کی مُٹھیاں سختی سے بھینچے، دانت پر دانت چڑھائے اپنے غصے سے اُبلتے ہوئے دماغ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرنے لگا تھا۔۔۔۔۔ ورنہ اُس کا دل چاہ رہا تھا۔۔۔۔ ابھی جاکر اُس ملک زوہان کو اپنے ہاتھوں سے ختم کردے جو اُس کے خاندان کی خوشیوں کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گیا تھا۔۔۔۔۔
آژمیر ابھی اِسی کشمکش میں اُلجھا ہوا تھا۔۔۔ جب اُس کے موبائل کی بجتی رنگ ٹون نے اُسے اپنی جانب متوجہ کیا تھا۔۔۔۔
“سائیں آپ کا فون۔۔۔۔۔۔”
ڈرائیور کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھے فیصل نے فون اُس کی جانب بڑھاتے اُسے متوجہ کیا تھا۔۔۔۔
آژمیر نے بھی بنا نمبر پر غور کیے کال پک کرتے فون کان سے لگایا تھا۔۔۔
“کیسے ہو میرے پیارے بھائی؟۔۔۔ آپ تو کافی خوش ہوگے تم۔۔۔۔ آخر کو تمہاری لاڈلی بہن کی شادی جو ہے۔۔۔۔ یقین مانو۔۔۔۔ مجھے بھی اِس بات کی دلی خوشی تھی۔۔۔۔ اِس لیے خود کو تمہیں فون کرنے سے نہیں روک پایا۔۔۔۔۔ کیونکہ دشمنی کے علاوہ بھی تو ایک بدصورت ترین رشتہ ہے ہمارا۔۔۔۔ اُسی ناطے سے ہی سوچا مبارک باد دینی تو بنتی ہے ہے۔۔۔۔۔۔”
ملک زوہان کا ٹھنڈا ٹھار زہر میں ڈوبا لہجہ آژمیر میران کو سلگا کر رکھ گیا تھا۔۔۔۔۔
“میں تم جیسے بزدلوں سے نہ تو بات کرنا پسند کرتا ہوں اور نہ ہی مبارک باد وصول کرنا۔۔۔۔ جسے دشمنی کے آداب ہی نہ پتا ہوں۔۔۔۔ اُسے میں اپنا دشمن مانتا ہی نہیں ہوں۔۔۔۔۔ اگر اتنی ہی ہمت رکھتے ہو۔۔۔۔۔ تو میرے منہ پر آکر مقابلہ کرو میرا۔۔۔۔۔ پھر جیت کے دیکھاؤ مجھے تب مانوں میں تمہیں۔۔۔۔ یوں بزدلوں کی طرح پیٹھ پیچھے میرے خاندان والوں کو ٹارگٹ کرکے تم خود کو اگر فاتح سمجھ رہے ہو۔۔۔۔ تو تم سے زیادہ بے وقوف اِس پوری دنیا میں کوئی نہیں دیکھا میں نے۔۔۔۔۔ “
آژمیر نے اپنے اندر کی آگ باہر نکالتے اُسے اُس کی اوقات واضح کرنی چاہی تھی۔۔۔۔
جبکہ اُس کے برعکس اُس کی بات سن کر دوسری جانب سے زوہان کا زوردار قہقہ سپیکر پھاڑتا اُس کے کانوں میں سنائی دیا تھا۔۔۔۔۔
“ملک آژمیر میران۔۔۔ لفظوں سے کھیل کر دوسروں کو خود سے نیچے ثابت کرنا تو بہت اچھے سے آتا ہے تمہیں۔۔۔۔ میں نے پیٹھ پیچھے کچھ نہیں کیا۔۔۔۔ جس عظیم شخص کو تم نے اپنی لاڈلی بہن کو اور میری بچپن کی منگ کے لیے چنا تھا اُسے کل سے آگاہ کررکھا تھا میں نے۔۔۔۔۔ کہ میں کل آکر اُس کی شادی رکوا کر رہوں گا۔۔۔۔ آگے سے اُس نے مجھے وہاں آنے کا چیلنج کرکے میری ضد مزید بڑھا دی۔۔۔ تم جانتے ہو نا مجھے اچھے سے کوئی مجھے چیلنج کرے تو اُس کا جواب تو میں دے کر ہی رہتا ہوں۔۔۔۔۔ تو وہی کیا میں نے۔۔۔۔۔۔ تمہارے گھر میں آکر۔۔۔۔۔ تمہارے اُس ذیشان کے کمرے میں ہی جاکر اُسے عقل سیکھائی کے آئندہ مجھے چیلنج کرنے کی غلطی نہ کرے۔۔۔۔۔ “
ملک زوہان بات کے دوران کچھ سیکنڈ کے لیے رُکا تھا۔۔۔۔ اُس کی بات کی گہرائی تک پہنچتے آژمیر ٹھٹھکتا ڈرائیور کو گاڑی واپس میران پیلس کی جانب موڑنے کا اشارہ کر گیا تھا۔۔۔۔
“عجیب ہیں تمہارے خاندان والے۔۔۔۔۔ جو شخص اپنے ہی کمرے کی الماری میں بند ہے۔۔۔۔ اُسے ڈھونڈنے کے لیے پورے گاؤں کا چپا چپا چھان مارا ہے۔۔۔۔۔ تمہاری حویلی میں تمہارے لاڈلے ذیشان کے کمرے میں گھس کر اُسے پیٹا ہے۔۔۔۔ اور تم ابھی بھی مجھے بزدل کہہ رہے ہو۔۔۔۔ تم سب ہی عجیب لوگ ہو۔۔۔۔ اگر اِسے تم میری بزدلی کہتے ہو۔۔۔۔تو ہاں مجھے بزدل ہونا منظور ہے۔۔۔۔ “
ملک زوہان کے الفاظ زہر خند طنز میں ڈوبے ہوئے تھے۔۔۔۔
“ایک بات اور کہنا چاہوں گا۔۔۔۔۔ کافی آستین کے سانپ پال رکھے ہیں تم نے اپنے آس پاس۔۔۔۔ پہلے اُن سے نبٹ لو.۔۔۔۔۔ پھر مجھ سے دشمنی نبھانا۔۔۔۔۔۔ کہیں ایسے نہ ہو۔۔۔۔۔ میرے کچھ کرنے سے پہلے ہی وہ پیٹھ میں خنجر کھونپ کر تمہیں مجھ سے پہلے ہی ختم کردیں۔۔۔۔۔۔”
ملک زوہان نے دشمنی کا حق نبھاتے، اُسے اُس کے دشمنوں سے آگاہ کیا تھا۔
“تم اپنی ہمدردیاں اپنے پاس رکھو تو زیادہ بہتر ہو گا۔۔۔۔ میں اچھے سے جانتا ہوں۔۔۔۔ اپنے گھر میں چھپے غداروں کو۔۔۔۔ جنہیں ہر بار تم میرے خلاف استعمال کرکے مجھے مات دینے کی کوشش کرتے ہو۔۔۔۔۔ جیسے شیر ہمیشہ اکیلا شکار کرتا ہے۔۔۔۔ میں بھی ویسے ہی اکیلے لڑنے کا عادی ہوں۔۔۔۔ کبھی بنا کسی کا سہارا لیے اکیلے مقابلہ کرنے کی ٹرائے ضرور کرنا۔۔۔۔۔ تمہارے مقدر میں مات لکھ کر اپنے قدموں میں نہ پٹخ دیا تو میرا نام بھی۔۔۔۔۔ ملک آژمیر میران نہیں۔۔۔۔۔ “
آژمیر اپنے چنگارتے لہجے میں بولتا اب کی بار ملک زوہان کے اندر آگ دہکا گیا تھا۔۔۔۔۔
فون بند کرتے اُس نے حویلی میں رابطہ کرتے ذیشان کے کمرے کی تلاشی کے کا کہا تھا۔۔۔۔ کیونکہ پہلے اُس کے پوچھنے پر یہی کہا گیا تھا کہ ذیشان گھر پر موجود ہے ہی نہیں۔۔۔۔ تمام جگہیں چیک کی جاچکی ہیں۔۔۔۔۔۔۔
@@@@@@@@
حاعفہ نگینہ بائی اور کرامت خان سے اُس شخص کی دہشت کے قصے سنتے اپنے لرزتے دل کے ساتھ کوٹھے کو عارضی طور پر خیر آباد کہتی وہاں سے نکل آئی تھی۔۔۔۔۔
اُس کے لیے پوش علاقے میں ایک بہت ہی خوبصورت فلیٹ خریدا گیا تھا۔۔۔۔۔ جہاں اُسے رہنا تھا، اِس،ناٹک کے دوران۔۔۔۔۔ اُس کے ساتھ ایک کُل وقتی ملازمہ اور ایک ڈرائیور کو بھی بھیجا گیا تھا۔ جو دونوں ہی اصل میں نگینہ بائی کے جاسوس تھے۔۔۔۔اور اُنہیں حاعفہ کی پل پل کی خبر دینے کو کہا تھا۔۔۔۔۔ وہ لوگ حاعفہ کی زہانت اور عقلمندی سے اچھی طرح واقف تھے۔۔۔۔۔ آج تک حاعفہ نے کبھی کوٹھے سے بھاگنے کی کوشش نہیں کی تھی۔۔۔۔ کیونکہ وہ ماورا کو کسی مقام پر پہنچا کر ہی یہاں سے فرار چاہتی تھی۔۔۔۔۔ وہ ماورا کے حوالے سے کسی قسم کا رسک نہیں لینا چاہتی تھی۔۔۔۔ مگر حاعفہ خود اور نگینہ بائی بھی جانتی تھی کہ اگر حاعفہ چاہتی تو شاید اب تک کوٹھے سے فرار اختیار کر چکی ہوتی۔۔۔۔
اُنہیں ابھی بھی حاعفہ سے کسی قسم کی بے اعتباری نہیں تھی۔۔۔۔ کیونکہ جب تک ماورا اُن کی نظروں کے سامنے تھی۔۔۔۔ حاعفہ ایسا کچھ کرنے کے بارے میں سوچتی بھی نہیں۔۔۔۔ مگر پھر بھی احتیاطاً اُنہوں نے دو جاسوس حاعفہ کے آس پاس چھوڑ رکھے تھے۔۔۔۔۔۔
حاعفہ نے گھوم پھر کر سارا فلیٹ دیکھا تھا۔۔۔۔ جو اتنا لگژری اور خوبصورت تھا کہ حاعفہ کے پژمردہ چہرے پر بھی ہلکی سی مسکان کے ساتھ، آنکھوں میں اُداسی مزید بڑھ گئی تھی۔ اُسے بھی تو ہمیشہ ایسی ہی عزت بھری چاردیواری کی خواہش رہی تھی۔۔۔۔ جو عارضی طور پر کی سہی مگر اُس انجان شخص کی وجہ سے پوری ہوگئی تھی۔۔۔۔
“رانی صاحبہ آپ کے لیے چائے بنا کر لاؤں۔۔۔۔”
ملازمہ اُسے صوفے کی بیک سے سر ٹکا کر آنکھیں موندے دیکھ اُس کے قریب آتی۔۔۔۔ کندھے دبانے لگی تھی۔۔۔۔
وہ خود بھی کہیں نہ کہیں حاعفہ کی کیفیت سمجھ رہی تھی۔۔۔۔۔
“نہیں عابدہ تم بھی تھک گئی ہوگی۔۔۔۔ آتے ساتھ ہی ڈسٹنگ میں لگ گئی تھی۔۔۔۔ جاؤ آرام کر لو۔۔۔۔”
حاعفہ جس نے کوٹھے پر خود کو بہت مغرور اور نک چڑھی مشہور کروا رکھا تھا۔۔۔۔ اُس کے قریبی لوگ ہی صرف جانتے تھے کہ وہ دل کی کتنی نرم اور دوسروں کا احساس کرنے والی حساس لڑکی تھی۔۔۔۔۔
ملازمہ اُس کی بات پر نرم تشکرانہ مسکراہٹ سے اُسے دیکھتی وہاں سے نکل گئی تھی۔
آنے والے وقت کا سوچتے حاعفہ کی بے چینی لمحہ با لمحہ بڑھتی جارہی تھی۔۔۔۔ اُس کا دل اندر سے بہت زیادہ خوفزدہ تھا۔۔۔۔۔ یہی سوچ اُسے ناگ بن کر ڈسی جارہی تھی کہ کیا وہ اب بھی اپنی عزت محفوظ رکھ پائے گی۔۔۔۔۔ کیا اُس پاکدامن اُس شخص کے ہاتھوں داغدار ہونے والا تھا۔۔۔۔ یا پھر وہ اُس کے حق میں آگے آنے والے وقت کے لیے بہتر ثابت ہونے والا تھا۔۔۔۔۔
یہ سب سوچتے حاعفہ کا سر درد سے پھٹنے لگا تھا۔ اِن جان لیوا سوچوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کی خاطر وہ وہاں سے اُٹھتی چائے بنانے کے لیے کچن کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔۔
@@@@@@@@@
ماورا نے دو دن کی چھٹی کے بعد یونیورسٹی میں قدم رکھا تھا۔۔۔۔ اُس کی ساری ہاسٹل فرینڈز نے اُس کے اچانک گھر چلے جانے پر حیرت کا اظہار کیا تھا۔ ماورا نے اپنے رب کا صد شکر ادا کیا تھا کہ یہاں کسی کو بھی اس کے کارنامے کی خبر نہیں ہوئی تھی۔۔۔ ہاسٹل اور یونیورسٹی انتظامیہ اکثر اپنی رپوٹیشن خراب ہونے کے ڈر سے ایسی باتیں چھپا جاتے تھے۔۔۔۔۔ ماورا کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا۔۔۔
اُسے ایکسپیل تو کیا گیا تھا مگر حاعفہ کی ضد پر کرامت خان نے اپنے رسورسز استعمال کرتے اُسے واپس سے یونیورسٹی میں انٹری دلوا دی تھی۔
ماورا ایک میڈیکل کی سٹوڈنٹ تھی۔۔۔۔ یونیورسٹی کے اندر ہی باقی ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ ہی میڈیکل کالج بنایا گیا تھا۔۔۔ اِس یونیورسٹی کا شمار ملک کی ٹاپ یونیورسٹیز میں ہوتا تھا۔۔۔
اِس لیے یہاں کا میرٹ بہت ہائی تھا۔۔۔ یہاں یا تو بھاری جیب والے امیر کبیر لوگوں کے بچے پڑھ سکتے تھے یا پھر ماورا جیسے زہین طالبات۔۔۔۔ جو اِس یونیورسٹی کے میرٹ پر آنے کے لیے دن رات ایک کردیتے تھے۔۔۔۔ اور آخر کار اپنی محنت کا لوہا منوا کر ہی رہتے تھے۔۔۔۔
ماورا بھی یونیورسٹی میں میرٹ پر اپنا ایڈمیشن ہوجانے پر بہت خوش تھی۔۔۔ مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ یہاں آکر وہ سادہ سی بے لوث لڑکی کسی کی سازش کا شکار ہوکر۔۔۔۔ اپنی ساری محنت اپنے ہاتھوں گنوانے کے در پر ہوجائے گی۔۔۔۔
ماورا ایک ایسی بہت بڑی بھول کر چکی تھی۔۔۔۔ جس کے لیے وہ خود کو زندگی میں کبھی معاف نہ کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔۔
“ماورا کن سوچوں میں گم ہو یار۔۔۔۔ جلدی چلو۔۔۔ کلاس شروع ہونے میں ایک دو منٹ رہ گئے ہیں صرف۔۔۔۔ سر اگر ہم سے پہلے پہنچ گئے تو انٹر نہیں ہونے دیں گے کلاس میں۔۔۔۔۔”
اُس کی دوست صوفیہ اُسے تھکے تھکے قدم اُٹھاتے دیکھ بولتی تیزی سے آگے بڑھی تھی۔۔۔۔ صوفیہ کی آواز اُسے اپنی سوچوں سے باہر کھینچ لائی تھی۔۔۔۔
نازک دودھیا کلائی پر بندھی رسٹ واچ پر نظر دوڑاتے وہ بھی جلدی سے آگے بھری تھی۔۔۔ صوفیہ تو تیز تیز قدموں سے بھاگتے ہوئے آگے نکل گئی تھی۔۔۔۔ وہ بھی آگے بڑھی ہی تھی جب کوریڈور کا موڑ مڑتے وہ سامنے سے آتے شخص کو نہیں دیکھ پائی تھی۔۔ سنبھلنے کی کوشش کے باوجود ماورا کا سر اُس شخص کے فولادی سینے سے ٹکرا گیا تھا۔۔۔۔ ماورا کو اپنے سر میں ٹیسیں اُٹھتی محسوس ہوئی تھیں۔۔۔۔
اُس کے قدم ایک دم سے لڑکھڑا سے گئے تھے۔۔۔۔ اِس سے پہلے کے وہ زمین بوس ہوئی اپنی بکس کے اُوپر جا گرتی۔۔۔۔۔ مقابل کھڑے اُسے حیرت بھری نظروں سے دیکھتے شخص کا سکتا ٹوٹا تھا۔ اُس نے ماورا کے گرد بازو حمائل کرتے اُسے گرنے سے محفوظ رکھا تھا۔۔۔۔
ماورا کے نتھنوں سے مقابل کی دلفریب خوشبو ٹکرائی تو اُسے شدید جھٹکا لگا تھا۔۔۔۔ اُس نے نگاہیں اُٹھا کر اُوپر دیکھا تھا۔۔۔۔ جہاں وہ شخص بھی بے یقینی کی تصویر بنے کھڑا اُسے دیکھی جارہا تھا۔۔۔۔
ماورا کے تن بدن میں ناگواری اور شدید نفرت کی لہر دوڑ گئی تھی۔۔۔ اُس شخص کے اپنے گرد لپٹے بازو کا حصار توڑنے میں اُس نے لمحہ نہیں لگایا تھا۔۔۔۔
وہ آگ اُگلتی نظروں سے سامنے کھڑے دنیا کے سب سے بڑے دھوکے باز اور دوغلے شخص کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔
“دوبارہ میرے قریب آنے یا مجھے چھونے کی کوشش بھی کی تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔۔۔ مسٹر منہاج درانی۔۔۔۔۔۔ نفرت سے بھی بڑھ کر اگر کوئی جذبہ ہوتا تو وہ رکھتی ہوں میں تمہارے لیے۔۔۔۔۔۔ بہت بُرا کیا ہے تم نے میرے ساتھ۔۔۔۔ میرا اللہ تمہیں اِس کی سزا ضرور دے گا۔۔۔۔۔ میرے قدموں میں گر کر گڑگڑاؤ گے تب بھی معاف نہیں کروں گی تمہیں۔۔۔۔۔۔”
منہاج درانی کو دیکھ اُس کے دل زخم پھر سے اُدھڑ گیا تھا۔۔۔۔ وہ جتنا سوچ کر آئی تھی۔۔۔۔ اِس شخص سے بلانا تو دور اِس کی شکل بھی نہیں دیکھے گی۔۔۔۔ ابھی اُسے سامنے دیکھ وہ خود پر سے اختیار کھو بیٹھی تھی۔۔۔
ناگواریت بھری نظروں سے اُسے دیکھتے اپنی بکس اُٹھائے وہ وہاں سے نکلنے لگی تھی۔۔۔۔ جب اُس کی بات خاموشی سے سنتے منہاج درانی نے اُس کی کلائی اپنی گرفت میں دبوچتے اُسے دیوار کے ساتھ لگاتے خود اُس کی جانب مڑا تھا۔۔۔۔ ماورا کی کمر بہت زور سے دیوار کے ساتھ ٹکرائی تھی۔۔۔۔ پہلے سر اور اب کمر سے درد اُٹھتا اُس کی آنکھوں میں نمی بھر گیا تھا۔۔۔۔ ماورا کی بکس ہاتھ سے چھوٹ کر پھر زمین بوس ہوئی تھیں۔۔۔۔ اِس حصے میں رش کم ہوتا تھا۔۔۔ اور اِس وقت تو ماورا کی بدقسمتی سے اکا دکا سٹوڈنٹس بھی دیکھائی نہیں دے رہے تھے۔۔۔۔
“تم گھٹیا شخص۔۔۔۔۔ کیا بدتمیزی ہے یہ؟؟؟ چھوڑو مجھے۔۔۔۔”
ماورا نے اُس کی حرکت پر طیش میں آتے۔۔۔۔ اُس پر ہاتھ اُٹھانا چاہا تھا۔۔۔۔ مگر اُس کا اُٹھا ہاتھ اپنے چہرے تک پہنچنے سے پہلے ہی منہاج درانی بیچ میں ہی روکتا اپنی گرفت میں لے گیا تھا۔۔۔۔۔
“یہ غلطی دوبارہ کبھی بھول کر بھی مت کرنا۔۔۔۔ ورنہ اِس کا انجام تمہاری سوچ سے بھی کہیں زیادہ ہوگا۔۔۔۔۔”
اپنی گرفت میں پھڑپھڑاتی ماورا کو دیکھ وہ شوخی بھری مسکراہٹ سے گویا ہوا تھا۔۔۔ماورا کا دل چاہا تھا اِس شخص کے خوبرو چہرے سے یہ دل جلاتی مسکراہٹ نوچ لے۔۔۔۔۔
وہ اُسے خود کو آزاد کروانے کی پوری کوشش کررہی تھی۔۔۔۔ مگر اُس لمبے چوڑے مضبوط قد و قامت والے شخص کے سامنے اُس کی مزاحمت ایک چیونٹی سے زیادہ کچھ نہیں تھی۔۔۔۔
“اور کیا کہا تم نے؟؟؟….. میں تمہارے قدموں میں گر کر تم سے معافی مانگوں گا۔۔۔۔۔ ہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔ تم تو پہلے سے بھی زیادہ نان سینس بولنے لگی ہو یار۔۔۔۔۔۔۔میں نے کچھ غلط نہیں کیا تمہارے ساتھ۔۔۔۔ وہی کیا جو ایک طوائف زادی ڈیزرو کرتی ہے۔۔۔۔ ہم شریفوں اور عزت دار لوگوں کے معاشرے میں تم جیسیوں کی کوئی جگہ نہیں۔۔۔۔۔۔ تمہارا کام گھنگرو پہن کر ناچنا ہے۔۔۔۔۔ یہ بکس پڑھنا نہیں۔۔۔۔۔ میرا تو شکریہ ادا کرنا چاہیئے تمہیں۔۔۔۔ سویٹ ہارٹ۔۔۔۔۔ تمہیں تمہاری اصل جگہ پہنچا دیا تھا۔۔۔۔۔”
منہاج درانی بات کے اختتام میں زہر خند لہجے میں پھنکارتا، آنکھوں میں اُس کے لیے حقارت لیے دیکھتا وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔۔۔
جبکہ ماورا کتنے ہی لمحے ساکت سی وہاں کھڑی رہی تھی۔۔۔ منہاج کے کہے جانے والے الفاظ اُس کے کانوں میں گونجتے، اُس کے دل پر نشتر کی طرح چلتے اُسے لہولہان کرگئے تھے۔۔۔۔
وہ جانتی تھی خود کو جتنا بھی غیر مردوں کی نظروں سے چھپا کر اور اپنا دامن پاک صاف رکھ لیتی۔۔۔۔ مگر اُس کی حقیقت ہمیشہ یہی رہنی تھی کہ وہ ایک طوائف زادی ہے۔۔۔۔ جسے وہ کبھی اپنی ذات سے جدا کرکے ایک با عزت زندگی نہیں گزار سکتی تھی۔۔۔۔
اُس کی آنکھوں کے کٹورے لبالب پانیوں سے بھر گئی تھیں۔۔ جن سے کئی آنسو ٹوٹ کر ماورا کے گالوں پر پھسلتے بے مول ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔
@@@@@@@@@
“زنیشہ میری جان تمہیں تو بہت سخت بخار ہے۔۔۔”
شمسہ بیگم اور باقی سب ذیشان کی گمشدگی اور باقی سب معاملے کی وجہ سے اتنے اُلجھے ہوئے تھے۔۔۔ کہ اُنہیں زنیشہ کا خیال ہی نہیں رہا تھا۔۔۔۔
آژمیر کی اطلاع پر جیسے ہی ذیشان کے کمرے کی تلاشی لی گئی تو۔۔۔۔ اُسے الماری میں رسیوں سے بندھا پایا گیا تھا۔۔۔۔ منہ پر بھی پٹی بندھی تھی۔۔۔۔ جس کی وجہ سے وہ مدد کے لیے کسی کو بلا نہیں پایا تھا۔۔۔۔۔
اُس کے چہرے اور جسم پر زخموں کے نشان بھی تھے۔۔۔ جو اُسے ملک زوہان نے اُسی کے کمرے میں آکر پیٹتے، شادی کے گفٹ کے طور پر دیئے تھے۔۔۔۔
سب لوگ ذیشان کی حالت دیکھ سہم گئے تھے۔۔ ملک زوہان نے جو کہا تھا وہ کردیکھایا تھا۔۔۔۔ اُس نے شادی تو رُکوا دی تھی۔۔۔۔ مگر وہ آژمیر میران کے قہر کو آواز دے گیا تھا۔۔۔۔ آژمیر میران کے غضب ناک تاثرات بتا رہے تھے کہ اِس بار وہ ملک زوہان کو بخشنے کا ارادہ بالکل بھی نہیں رکھتا تھا۔۔۔
وہ بنا کسی سے کوئی بات کیے۔۔۔۔ پتھریلے تاثرات کے ساتھ میران پیلس سے نکل گیا تھا۔۔۔۔
اُس کو اِس قدر غیض و غضب سے جاتا دیکھ سب گھر والے مزید پریشان ہو اُٹھے تھے۔۔۔ اب پتا نہیں آژمیر میران زوہان کو اِس عمل کی سزا دینے کے لیے کیا کرنے والا تھا۔۔۔۔۔
ذیشان کی حالت ایسی نہیں تھی کہ شادی کی تقریب کی جاسکتی۔۔۔۔ اِس لیے فلحال اِس معاملے میں خاموشی اختیار کرلی گئی تھی۔۔۔۔
شمسہ بیگم کو جیسے ہی زنیشہ کا خیال آیا تو وہ اُس کے کمرے میں آگئی تھیں۔۔۔ جو کل سے ملازمین کے رحم و کرم پر ہی تھی۔۔۔۔
مگر اُس کے بخار میں پھنکتے نقاہت زدہ وجود کو دیکھ اُن کا دل منہ کو آگیا تھا۔۔۔۔ اپنی لاڈلی کو وہ اِس حالت میں نہیں دیکھ سکتی تھیں۔۔۔۔
اُنہیں زنیشہ ڈری ڈری خوفزدہ سی لگی تھی۔۔۔۔ اُن کی آواز سنتے ہی وہ اُن کے قریب ہوتی اُن کی آغوش میں چھپ گئی تھی۔۔۔۔
“میں نے آپ سب سے کہا تھا۔۔۔۔ وہ بہت خطرناک ہے۔۔۔ جو کہا ہے وہ ضرور کرے گا۔۔۔۔ آپ لوگوں نے میری بات نہیں مانی۔۔۔۔ اگر وہ لالہ کو کوئی نقصان پہنچا دیتا تو میں مرجاتی۔۔۔۔ وہ کیوں کرتا ہے آخر لالہ اور ہم سب سے اتنی نفرت۔۔۔۔۔۔۔”
زنیشہ اُن کی گود میں منہ چھپائے وہ سوال کررہی تھی۔۔۔ جن کے جواب اُس سمیت میران پیلس کے باقی لوگ بھی جاننا چاہتے تھے۔۔۔۔ مگر اِن سوالوں کے جواب دینے سے قاصر تھیں وہ۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
