Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 31

“میں نے پوچھازنیشہ کو کیا ہوا ہے؟”
زوہان کی پریشان نظریں زنیشہ پر ٹکی ہوئی تھیں۔۔۔ جسے سٹریچر میں اندر لے جایا گیا تھا۔۔۔
“تم ہوتے کون ہو میری بہن کے بارے میں کچھ بھی پوچھنے والے۔۔۔۔ میں اُس کا خیال رکھنا اچھے سے جانتا ہوں۔۔۔ دور رہو اُس سے ورنہ اچھا نہیں ہوگا تمہارے ساتھ۔۔۔۔۔۔”
آژمیر زوہان کی جانب پلٹتے غرایا تھا۔۔۔
“ہونہہ۔۔۔۔ اگر خیال رکھ سکتے ہوتے تو اُس حسیب جیسے گھامڑ کے ساتھ نکاح کروانے کی کوشش نہ کرتے اپنی بہن کا۔۔۔۔ جو خود اپنی حفاظت بھی نہیں کرسکتا۔۔۔۔۔۔”
زوہان بھی تپا تھا۔۔۔۔ دونوں ایک دوسرے کے مقابل آنکھوں میں شعلوں کی سی لپک لیے ایک دوسرے ہو گھور رہے تھے۔۔۔۔ کوئی اُن کی ایک دوسرے کے لیے یہ شدید نفرت دیکھ کر نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ دونوں بھائی ہیں۔۔۔۔
“ہر کوئی تمہاری طرح بدمعاش نہیں ہوتا۔۔۔۔ جو ہر ٹائم دوسروں کو مارنے مروانے کے بارے میں سوچتا رہے۔۔۔۔ اور اسلحہ ہر وقت اپنی جیب میں رکھے۔۔۔۔۔”
آژمیر کا بس نہیں چل رہا تھا زوہان کی آنکھ ہی پھوڑ دے۔۔۔۔ جو اُس کے سامنے یوں سینہ تان کے کھڑا تھا۔۔۔
“میری بدمعاشی مجھے بہت عزیز ہے۔۔۔۔ کم از کم تمہاری طرح دو روپ لے کر تو نہیں پھر رہا۔۔۔۔ نام نہاد معزز اور شریف انسان بننے کا مجھے کوئی شوق نہیں ہے۔۔۔۔”
زوہان نے بھی کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی تھی۔۔۔ دونوں زنیشہ کی پریشانی میں ایک دوسرے پر بھڑاس نکال رہے تھے۔۔۔۔
“بس کرو تم دونوں۔۔۔۔۔۔”
اِس سے پہلے کے اُن کی یہ لڑائی مزید آگ بن کر اُن سمیت اردگرد کے ماحول کو بھی جھلسا دیتی شمسہ بیگم کی آواز پر دونوں نے پلٹ کر اُس جانب دیکھا تھا۔۔۔
جہاں شمسہ اور نفیسہ بیگم کھڑیں اُن دونوں کو خفگی بھری نظروں سے گھور رہی تھیں۔۔۔
“میں بتاتی ہوں زوہان کیا ہوا ہے زنیشہ کو اور کس وجہ سے وہ اِس حال میں پہنچی ہے۔۔۔؟؟؟؟”
شمسہ بیگم اِس وقت شدید غصے اور دکھ کا شکار تھیں۔۔۔۔
نفیسہ بیگم سب جان چکی تھیں۔۔۔ اِس لیے بس خاموش افسوس بھری نظروں سے اُن دونوں بپھرے شیروں کو دیکھ رہی تھیں۔۔ جن میں سے کوئی ایک بھی جھکنے یا ہار ماننے کو تیار نہیں تھا۔۔۔۔
“تم دونوں زمہ دار ہو زنیشہ کی اِس حالت کے۔۔۔۔ جب اُس نے ہوش سنبھالا تھا۔۔۔ تم دونوں کو ہی پایا تھا اپنے اردگرد۔۔۔۔ تم دونوں کی محبت لینا جانتی تھی وہ۔۔۔۔ یہ نفرت ، ضد اور دشمنی نہیں۔۔۔۔ اور پھر اچانک زوہان تم سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر چلے گئے۔۔۔۔ اور ساتھ ہی تم میری زنیشہ کے کچے زہن سے بھی اُتر گئے۔۔۔۔ لیکن اب پھر اچانک یاد آگئی اُس کی تو دوبارہ حق جمانے پہنچ گئے۔۔۔۔ وہ کب تک تم دونوں کے اِس انتقام اور نفرت میں پسے گی۔۔۔۔
تم دونوں کو جو کرنا ہے کرو۔۔۔۔ لیکن میری زنیشہ بہت معصوم ہے۔۔۔ اُس نازک کلی کو اِس سب میں مت مسلو۔۔۔۔ جس بچاری کے قریبی رشتے ہی ہمیشہ سے اُس کی تکلیف کا باعث بنتے آئے ہیں۔۔۔۔
پہلے اُس کا باپ اور ساتھ میں اب تم دونوں۔۔۔۔۔
کیسی محبت ہے تم دونوں کی اُس کے لیے۔۔۔ اُسے ہی سزا دے رہے ہو۔۔۔ اُس معصوم کو بنا کسی قصور کے اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔۔۔۔۔ “
شمسہ بیگم نے آخر کار آج اپنی چپ توڑ دی تھی۔۔۔ اتنے دنوں سے زنیشہ کو اذیت میں مبتلا دیکھ وہ ایسی پھٹی تھیں۔۔۔ کہ اُن دونوں کو بھی چپ کروا دیا تھا۔۔۔۔۔
وہ دونوں ہی اِس بات سے انجان تھے کہ زنیشہ تکلیف میں تھی۔۔۔۔ یہ بات جان کر دونوں کے دل درد سے بھر گئے تھے۔۔۔
@@@@@@@@@
ماورا لوگ اپنی ٹیم کے ساتھ آج گاؤں کے رہائشی علاقے کی جانب نکلے ہوئے تھے۔۔۔۔ جہاں اُنہیں وہاں کے لوگوں کے ٹیسٹ کرکے وہاں پھیلتی مختلف بیماریوں کو ڈائی گنوز کرنا تھا۔۔۔۔
آتے وقت منہاج اُن کے ساتھ ہی تھا اور ٹیم لیڈر کی حیثیت سے اُن کی پوری طرح راہنمائی کرتا اُنہیں ہدایت دے رہا تھا۔۔۔۔
اُنہیں پانچ گھنٹے لگ گئے تھے آج کا ٹاسک کمپلیٹ کرنے کے لیے۔۔۔۔ کام کے دوران منہاج نے نہ کوئی اُلٹی سیدھی بات کی تھی۔۔۔ اور نہ ہی حرکت۔۔۔۔ جس کی وجہ سے ناچاہتے ہوئے بھی ماورا بار بار اُس کی جانب متوجہ ہورہی تھی۔۔۔۔ صبح کے واقع کے بعد ماورا کو لگا تھا کہ وہ اپنے مزاج کے مطابق اُسے پھر سے ڈانٹے گا، غصہ ہوگا کہ وہ اسامہ جیسے لڑکے کے ساتھ کیوں تھی۔۔۔۔۔
مگر ماورا کی سوچ کے برعکس ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔۔۔۔ اُسے منہاج بہت ہی سنجیدہ لگا تھا۔۔۔۔ اُن کی پوری ٹیم اِس وقت وہاں زرا سائیڈ پر رکھے چھوٹے چھوٹے پتھروں پر بیٹھی تھی۔۔۔۔ جبکہ منہاج اُن کے سامنے کھڑا اُن کو کل کے ٹاسک کے حوالے سے اگلی بریفنگ دے رہا تھا۔۔۔۔ وہ اُن لوگوں کا موسٹ سینئر اور فائنل سمسٹر میں تھا۔۔۔ وہ یہ کیمنگ مختلف جگہوں پر کئی بار کر چکے تھے۔۔۔۔ اِس لیے اُسے اِس بارے میں سارا علم تھا۔۔۔۔
سب لوگ پوری توجہ سے اُسے سن رہے تھے۔۔۔ جبکہ ماورا کو نجانے اچانک کیا ہوا تھا کہ وہ اُس کی باتوں سے زیادہ اِس بات پر توجہ دینے لگی تھی کہ منہاج سب کی جانب دیکھ رہا ہے لیکن اُس کی جانب ایک بار بھی نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔
وہ خفگی بھرے تاثرات چہرے پر سجائے منہاج کو گھورنے لگی تھی۔۔۔۔ ہمیشہ اُسے اِس شخص کی توجہ ملی تھی۔۔ اب اچانک توجہ ہٹ جانا ماورا کو کسی صورت برداشت نہیں ہورہا تھا۔۔۔
وہ جو ہر بار منہاج سے دور جانے اُس سے ہر تعلق توڑنے کا عہد کرتی تھی۔۔۔۔۔ منہاج کی ایک جھلک دیکھتے ہی سب کچھ دھڑے کا دھڑا رہ جاتا تھا۔۔۔۔ محبت انسان کو ایسے ہی بے بس کردیتی تھی۔۔۔ جو حال ماورا کا ہورہا تھا۔۔۔۔۔
وہ اپنی ہی سوچوں میں گم بے دھیانی میں ٹھوڑی کے نیچے ہتھیلی جمائے منہاج کو یک ٹک دیکھے گئی تھی۔۔۔۔
بلیک جینز کے اُوپر آف وائٹ شرٹ پہنے، بازو کے کف کہنوں سے تھوڑا آگے فولڈ کیے، بالوں کو جیل لگا کر نفاست سے سیٹ کیے اپنے ڈیشنگ لک کے ساتھ پورے ماحول پر چھایا ہوا لگ رہا تھا۔۔۔۔
ماورا اِس بات سے انجان کے منہاج اپنی بات ختم کرچکا ہے۔۔۔۔ اُسی طرح بیٹھی اُسے دیکھے گئی تھی۔۔۔
اُسی لمحے منہاج نے اُس کی جانب دیکھتے اُس کی آنکھوں میں جھانکتے سوالیہ انداز میں بھنویں اُٹھائے تھے۔۔۔۔
ماورا لمحہ بھر کو گڑبڑا گئی تھی۔۔۔۔
“کیا آج سارا دن یہی بیٹھ کر اپنے پیا کو گھورنے کا ارادہ ہے۔۔۔۔ وہ پانچ منٹ ہوئے اپنی بات ختم کرچکا ہے۔۔۔۔”
بیلا کے ٹہوکے پر ماورا ہوش کی دنیا میں لوٹتی اپنی بے اختیار حرکت پر شرم سے لال ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ منہاج اُسی کی جانب دیکھ رہا تھا۔۔۔ ماورا کا دل چاہا تھا شرم سے ڈوب مرے۔۔۔۔
“چلو۔۔۔۔۔”
وہ بیلا کو آنے لا اشارہ کرتی وہاں سے نکل گئی تھی۔۔۔
“مجھے دال میں کچھ کالا لگ رہا ہے۔۔۔۔ یہ جو تم دونوں نگاہوں ہی نگاہوں میں اپنے آپسی معاملات سنوار رہے ہو، میں اچھے سے سمجھ رہی ہوں۔۔۔”
بیلا اُس کی سُرخ پڑتی رنگت پر چوٹ کرتے بولی۔۔۔۔۔۔۔
“فضول مت بکو ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔”
ماورا نے اُس کے اُلٹے سیدھے اندازوں پر اُسے گھڑکا تھا۔۔۔۔
جب ایک چھوٹی سی دو پونیوں والی پیاری سی لڑکی ماورا کی راہ میں آئی تھی۔۔۔۔
اور بنا کچھ بولےماورا کا ہاتھ پکڑ کر اُس کھینچ کر دائیں جانب جانے کا اشارہ کرنے لگی تھی۔۔۔۔
“کیا ہوا بچے؟؟؟”
ماورا نے اِس لڑکی کو یہاں پہلی بار دیکھا تھا۔۔۔۔ اُس کے یوں کھینچنے پر ماورا حیرت زدہ سی اُس کے ساتھ چلنے لگی تھی۔۔۔۔ جب وہ اُسی طرح اُس کا ہاتھ تھامے دو تین چھوٹی پہاڑیوں کے درمیان بنے راستوں میں سے گزرتی اُسے لیے آگے بڑھی تھی۔۔۔۔
جب آگے آتے ماورا سمیت بیلا کی آنکھیں بھی حیرت کی زیادتی سے پھٹی تھیں۔۔۔۔
سامنے نظر آتا وسیع و عریض میدان مختلف رنگوں کے بے پناہ خوبصورت پھولوں سے بھرا پڑا تھا۔۔۔۔ اُن کی سائیڈوں پر دو مالی سر جھکائے کھڑے تھے۔۔۔۔
ہمیشہ سے پھولوں کی دیوانی ماورا تو اپنے سامنے ایک ساتھ اتنے پھول دیکھ خوشی سے پاگل ہو اُٹھی تھی۔۔۔۔ کچھ پھولوں کے بکے بنا کر رکھے گئے تھے۔۔۔ اور کچھ پھول نازک سی رنگ برنگی ڈوریوں سے بندھے ہوئے تھے۔۔۔
دیکھنے سے صاف لگ رہا تھا کہ یہ سارے پھول یہاں خاص طور پر لائے گئے ہیں۔۔۔
سیاہ اور سفید گلابوں کے بکے ماورا کو بے حد پسند آئے تھے۔۔۔۔ وہ اُن کو ہاتھوں میں لے کر محسوس کرتی اُن کی خوشبوں اپنی سانسوں میں اُتارنے لگی تھی۔۔۔۔
“ماورا یہ سب کس نے کیا ہے؟؟؟”
بیلا بھی اردگرد پھیلی خوشبوں اور حسین منظر کے زیرِ اثر مسمسرائز سی ماورا سے مخاطب ہوئی تھی۔۔۔۔۔
بیلا کی بات پر ماورا بھی ہوش کی دنیا میں لوٹتی پلٹ کر اُس بچی کی جانب متوجہ ہوئی تھی۔۔۔۔ جو اُسے کھینچ کر یہاں تک لائی تھی۔۔۔۔
“بیٹا یہ سب کس نے کیا ہے۔۔۔؟؟؟”
ماورا اُس بچی کے قریب آئی تھی۔۔۔۔
وہ پھولے گالوں والی چھوٹی سی پٹھانی بہت پیاری تھی۔۔۔۔ اُس نے اب بھی منہ سے کوئی جواب دینے کے بجائے۔۔۔۔ پھولوں کے وسطی حصے کی جانب اشارہ کیا تھا۔۔۔۔
اور اُسی خاموشی کے ساتھ وہاں سے بھاگ گئی تھی۔۔۔
ماورا الجھی سی پھولوں کے درمیان بنائے راستے سے گزرتی درمیان میں پہنچی تھی۔۔۔۔ اُس نے وہاں اب غور کیا تھا۔۔
وہاں پھولوں سے لکھا گیا تھا۔۔۔
“فار مائی بیوٹیفل وائف مسز ماورا منہاج درانی۔۔۔۔۔”
مختلف پھولوں کو استعمال کرکے یہ تحریر اتنی خوبصورتی سے لکھی گئی تھی کہ ماورا پل بھر کو کچھ بول بھی نہیں پائی تھی۔۔۔۔
“ماورا دیکھو۔۔۔ اِدھر بھی کچھ لکھا ہے۔۔۔۔”
بیلا کے اشارے پر ماورا وہیں کھڑے کھڑے دائیں جانب پلٹی تھی۔۔۔۔۔
جہاں لکھا تھا۔۔۔
“میری زندگی کے اِس مہکتے پھول کو کسی سے پھول مانگتا میں دوبارہ نہ دیکھوں۔۔۔ “
بڑے ہی پیار بھرے انداز میں صبح کے واقع کے حوالے سے وارن کیا گیا تھا۔۔۔۔
“واؤ ماورا کیا فلمی لو ہے تم دونوں کا۔۔۔۔۔ تم نے صبح صرف ایک پھول کو دیکھا اور تمہارے ہیرو نے یہاں کے سارے پھول تمہارے قدموں میں ڈال دیئے۔۔۔۔۔ ہاؤ رومینٹک ۔۔۔۔۔”
بیلا کی بات پر ماورا نے اپنے دل میں جھانکا تھا۔۔۔۔
وہ پھر سے اُس ستمگر کی اسیر ہورہی تھی۔۔۔
جو دو بار اُس کا دل توڑ چکا تھا۔۔۔۔
کیا اب پھر وہ کوئی غلطی کرنے جارہی تھی۔۔۔۔
ماورا بیلا کی باتوں کا بنا کوئی جواب دیئے وہاں سے نکل گئی تھی۔۔۔۔۔
@@@@@@@@@
“زنیشہ کیا چاہتی ہے؟؟؟”
آژمیر نے مختصراً پوچھا تھا۔۔۔۔ اُس کے لیے اپنی بہن کی خوشی سے زیادہ کچھ اہم نہیں تھا۔۔۔
“زنیشہ کی زندگی میں سب سے اول مقام پر تم ہو آژمیر۔۔۔۔۔ تمہاری خاطر وہ اپنی جان تک قربان کرنے سے پہلے ایک پل کے لیے بھی نہیں سوچے گی۔۔۔۔ اور ایسا وہ ایک بار کر بھی چکی ہے۔۔۔۔ لیکن یہ بھی ایک بہت بڑا سچ ہے کہ وہ زوہان سے بے پناہ محبت کرتی ہے۔۔۔۔ وہ اپنے منہ سے یہ بات شاید زندگی بھر نہ کہے۔۔۔۔ مگر اُس کی اُداس آنکھوں میں نظر آتا ہے کہ وہ کتنا چاہتی ہے زوہان کو۔۔۔۔۔۔
تم دونوں اپنی ضد میں اُس کے معصوم جذبات کو خون مت کرو۔۔۔۔ وہ ٹوٹ کر بکھر جائے گی۔۔۔۔”
اب کی بار جواب نفیسہ بیگم کی جانب سے آیا تھا۔۔۔ جو آژمیر میران کو ہلا کر رکھ گیا تھا۔۔۔ کیا واقعی زنیشہ زوہان سے محبت کرتی تھی؟ وہ کیوں نہیں دیکھ پایا تھا یہ سب۔۔۔۔۔؟؟
جبکہ دوسری جانب زوہان کا حال کافی مختلف تھا۔۔۔۔ اُسے کہیں نہ کہیں اپنے لیے زنیشہ کی محبت کا علم تھا۔۔۔۔ مگر اُس کی شدت اتنی زیادہ تھی وہ نہیں جانتا تھا۔۔۔۔
شمسہ بیگم نے گھبرا کر آژمیر کے تاثرات دیکھے تھے۔۔۔ جو آنکھوں میں سرد تاثرات لیے خاموش کھڑا تھا۔۔۔۔
“آژمیر۔۔۔۔۔”
نفیسہ بیگم نے پکارا تھا اُسے۔۔۔۔
“تو آپ دونوں چاہتی ہیں۔۔۔ میں زنیشہ کو اِس شخص کے حوالے کردوں۔۔۔۔ جو میری بہن کو صرف میری دشمنی کی وجہ سے استعمال کرتا آیا ہے۔۔۔ وہ معصوم اور نادان ہے۔۔۔ اِس کے فریب میں آگئی۔۔۔۔ مگر میں اایسا کبھی نہیں کروں گا۔۔۔۔۔۔”
آژمیر کو کسی صورت یقین نہیں تھا زوہان پر۔۔۔۔
آژمیر کو ابھی بھی اُسی فیصلے پر اَڑا دیکھ نفیسہ اور شمسہ بیگم کے چہرے پر مایوسی پھیل گئی تھی۔۔۔۔
زوہان نے پلٹ کر خود سے کچھ فاصلے پر کھڑے آژمیر کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
“میں بے پناہ محبت کرتا ہوں تمہاری بہن سے۔۔۔۔۔”
زوہان دوبارہ آژمیر کے مقابل آن کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔ جس بات کا اقرار اُس نے آج تک اپنے سامنے بھی نہیں کیا تھا۔۔۔ آج وہ آژمیر کے سامنے کر گیا تھا۔۔۔۔
نفیسہ اور شمسہ بیگم کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری تھی۔۔۔۔ زنیشہ زوہان کے لیے اتنی اہم تھی کہ وہ اُس کی خاطر آژمیر کے آگے جھک رہا تھا۔۔۔۔
“اِس پوری دنیا میں مجھ سے زیادہ بہتر اس کے لیے کوئی نہیں ہوسکتا۔۔۔۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں نہ پہلے کبھی زنیشہ کو ہمارے درمیان دشمنی کے لیے استعمال کیا ہے اور نہ مرتے دم تک کبھی ایسا کرسکتا ہوں۔۔۔۔۔ “
زوہان بہت ہی دھیمے لہجے میں بول رہا تھا۔۔۔ جبکہ اُس کے اتنے نرم انداز پر وہ تینوں پل بھر کو حیران ہوئے تھے۔۔۔۔ لیکن یہ بھی سچ تھا زنیشہ کے لیے زوہان دل سے اتنا ہی نرم تھا۔۔۔۔
آژمیر اور زوہان میں چاہے جتنی بھی نفرت اور دوریاں سہی۔۔۔ مگر آژمیر زوہان کی آنکھوں کی تحریر آج بھی بہت اچھے سے سمجھتا تھا۔۔۔۔
زوہان آج کچھ پل کے لیے ہی سہی زنیشہ کی خاطر آژمیر کے سامنے جھکا تھا۔۔۔۔ جو زوہان جیسے اُونچی ناک رکھنے والے بندے کے لیے چھوٹی بات بالکل بھی نہیں تھی۔۔۔۔
اُسے لمحہ لگا تھا فیصلہ کرنے میں۔۔۔ اور یہ بات تو وہ خود بھی جانتا تھا کہ اُس کے علاوہ اگر اِس روِ زمین پر کوئی زنیشہ کی خاطر اپنی جانب دے سکتا تھا تو وہ ملک زوہان میران ہی تھا۔۔۔۔
حاعفہ کے اپنی زندگی میں آنے اور محبت جیسے میٹھے جذبے سے واقف ہونے کے بعد وہ کم ازکم اِس رشتے کا دشمن تو نہیں بن سکتا تھا۔۔۔۔
زنیشہ کی زوہان کے لیے محبت جان کر تو وہ پہلے ہی اِس معاملے میں نرم پڑ چکا تھا۔۔۔ اب رہی سہی کسر بھی پوری ہوگئی تھی۔۔
آژمیر اُمید بھری نظروں سے اپنی جانب تکتی نفیسہ اور شمسہ بیگم کی جانب اقرار میں سر ہلاتا باہر نکلتے ڈاکٹرز کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔۔۔
@@@@@@@@
زنیشہ مسلسل زہنی ٹینش کا شکار رہنے کی وجہ سے بے ہوش ہوئی تھی۔۔۔ اوپر سے ٹھنڈ میں اتنی دیر رہنے کی وجہ سے رہی سہی کسر شدید بخار مے پوری کردی تھی۔۔۔۔
آژمیر نکاح کے لیے مان گیا تھا۔۔ یہ کوئی چھوٹی بات نہیں تھی۔۔۔ نفیسہ اور شمسہ بیگم کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا تھا۔۔۔۔ جبکہ اُن کی نسبت زوہان نے اُن کے سامنے ایسے خوشی بھرا کوئی ری ایکشن نہیں دیا تھا۔۔۔۔ ڈاکٹر سے زنیشہ کے ٹھیک ہونے کا سن کر وہ نفیسہ بیگم کے ساتھ وہاں سے نکل آیا تھا۔۔۔ اُسے جو چاہیئے تھا وہ مل چکا تھا۔۔۔۔
زنیشہ نے نوٹ کیا تھا کہ آژمیر اُس کا خیال تو پوری طرح سے رکھ رہا تھا مگر اُس نے زنیشہ سے ٹھیک سے بات نہیں کی تھی۔۔۔۔
ہاسپٹل سے لے کر گھر آنے تک اُس نے زنیشہ سے کوئی خاص بات نہیں کی تھی۔۔۔۔ جبکہ اُن کی نسبت شمسہ بیگم کی خوشی چھپائے نہیں چھپ رہی تھی۔۔۔ زنیشہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا آخر اُس کی بے ہوشی کے دوران ایسا کیا ہوا۔۔۔
آژمیر کے سامنے وہ کچھ پوچھ نہیں سکتی تھی۔۔۔ اِسی لیے اپنے کمرے میں آنے تک خاموشی ہی رہی تھی۔۔۔۔
“اماں سائیں لالہ اتنے سیریس کیوں ہیں؟؟ مجھے اُن کا موڈ بہت خراب لگ رہا ہے۔۔۔ کچھ ہوا ہے کیا؟؟”
زنیشہ روم میں آتے ہی شمسہ بیگم کے آگے اپنی حیرت کا اظہار کر گئی تھی۔۔۔۔
جس کے جواب میں شمسہ بیگم نے اُسے گلے لگا کر پیشانی چومتے اُسے مزید حیران کردیا تھا۔۔۔
“اماں سائیں۔۔۔۔”
اُس نے سوالیہ نظروں سے اُن کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
“آژمیر تمہارے اور زوہان کے نکاح کے لیے مان گیا ہے۔۔۔۔”
شمسہ بیگم نے بہت آرام سے زنیشہ کے سر پر بم پھوڑا تھا۔۔۔۔
“کک کیا؟؟؟ کیسے۔۔۔؟؟؟”
زنیشہ سے الفاظ ادا کرنا مشکل ہوئے تھے۔۔۔ اُس نے پتھرائی نگاہوں سے اُن کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
جس پر شمسہ بیگم نے اُسے ہاسپٹل میں ہوا تمام واقع کہہ سنایا تھا۔۔۔
زنیشہ ساری بات سن کر سر پکڑ کر بیٹھ گئی تھی۔۔ اُس کے چہرے کا رنگ زرد پڑ چکا تھا۔۔۔
“تو اِس وجہ سے لالہ مجھ سے ناراض ہیں۔۔۔ اماں سائیں یہ کیا کیا آپ نے۔۔۔۔ لالہ کے سامنے یہ سب کہنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔۔؟”
زنیشہ اُن سے سخت خفا دیکھائی دے رہی تھی۔۔۔۔
“کیونکہ میں مزید اپنی بیٹی کو چھپ چھپ کر روتا نہیں دیکھ سکتی تھی۔۔۔۔ اِس میں کچھ غلط نہیں ہے۔۔۔ کیا تم محبت نہیں کرتی زوہان سے۔۔۔۔ تمہاری الماری کے لاکر میں زوہان کی تصویر موجود نہیں ہے کیا؟؟؟؟”
شمسہ بیگم نے سوالیہ نظروں سے زنیشہ کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
“اماں سائیں مگر۔۔۔۔۔ “
زنیشہ نے کچھ بولنا چاہا تھا جب شمسہ بیگم ہاتھ اُٹھا کر اُسے وہیں ٹوک گئی تھیں۔۔۔
“تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ ریسٹ کرو۔۔۔۔ اور یقین رکھو مجھ پر۔۔۔۔ میں اپنی بیٹی کے ساتھ کبھی کچھ غلط نہیں ہونے دوں گی۔۔۔۔ “
شمسہ بیگم زنیشہ کو بیڈ پر لیٹاتیں اُس پر کمبل درست کرتے بولیں۔۔۔۔
جبکہ زنیشہ کی دھڑکنیں تو یہ سوچ کر بھی جگہ پر نہیں آرہی تھیں۔۔ کہ زوہان بھی یہ بات جان چکا ہے۔۔۔ کہ وہ اُس سے محبت کرتی ہے۔۔۔۔
اور آژمیر اُس کا سنجیدہ انداز زنیشہ کو الگ خوف میں مبتلا کر رہا تھا۔۔۔ یہ فیصلہ اُس کی زندگی کا سب سے خوبصورت فیصلہ تھا مگر وہ بہت سی سوچوں کی وجہ سے ٹھیک سے اِس کی دلفریبی محسوس بھی نہیں کر پارہی تھی۔۔۔
کوئی انجانہ خوف تھا جو اُس کے دل کے کسی کونے میں سر اُٹھاتا اُسے بے چین کررہا تھا۔۔۔۔۔
@@@@@@@
“گھر کے ہر فرد کے بارے میں سوچنا ہے، پریشانی کو اُن کے قریب بھٹکنے بھی نہیں دینا ہے۔۔۔۔ مگر اپنا زرا سا بھی خیال نہیں ہے۔۔۔۔۔ وہ دن کب آئے گا جب آژمیر میران اپنے بارے میں سوچے گا۔۔۔۔”
آژمیر اپنے روم کے ٹیرس پر کھڑا ماضی کی تلخ حقیقتوں کو زہن سے جھٹکنے کی کوشش کرتا سیگریٹ پر سیگریٹ پھونک رہا تھا۔۔۔ جب اُسے اپنے عقب سے شمسہ بیگم کی آواز سنائی دی تھی۔۔۔
“اماں سائیں آپ۔۔۔۔ آپ کب آئیں۔۔۔۔؟؟”
آژمیر سیگریٹ سائیڈ پر رکھی ایش ٹرے میں مسلتا اُن کی جانب متوجہ ہوا تھا۔۔۔۔
“بس ابھی آئی ہوں۔۔۔۔ اپنے سوال کا جواب لینے۔۔۔۔ یہ صرف میرا سوال نہیں بلکہ گھر کے ہر فرد کا سوال ہے۔۔۔۔۔ “
شمسہ بیگم سینے پر بازو باندھے آژمیر کے سامنے اُسی کے سخت لہجے لی نقل اُتارتے بولیں۔۔۔ جو وہ ہر ایک کے ساتھ رکھتا تھا۔۔۔
آژمیر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔۔۔
“اندر چلتے ہیں۔۔۔۔ یہاں کافی ٹھنڈ ہے۔۔۔۔”
آژمیر اُن کے خیال سے کہتا اُنہیں بازو کے حصار میں لیے اندر بڑھ گیا تھا۔۔۔۔۔
“میں آج اِس سوال کا جواب لیے بغیر نہیں جانے والی۔۔۔۔”
روم میں آتے شمسہ بیگم نے اپنے وجیہہ بیٹے کو گھورا تھا۔۔۔ جس نے اپنے گرد ایک سختی کا خول چڑھا کر سب کو خود سے دور کردیا تھا۔۔۔۔
“آژمیر میران اپنے بارے میں سوچ چکا ہے۔۔۔ اور بہت اچھا سوچا ہے۔۔۔۔”
آژمیر حاعفہ کو تصور میں لاکر مسکراتا شمسہ بیگم کو حیران کر گیا تھا۔۔۔ اُنہیں کسی ایسے جواب کی توقع بالکل بھی نہیں تھی۔۔۔
“کک کیا مطلب ؟؟؟؟۔۔۔”
شمسہ بیگم خوشگوار حیرت میں گھرے بولیں۔۔۔
“آپ کے مطابق میری اِس روکھی پھیکی زندگی کو سنوارنے والی آچکی ہے۔۔۔۔ بہت جلد آپ سے ملوانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔۔۔۔”
شمسہ بیگم نے نوٹ کیا تھا کہ اُس لڑکی کا ذکر کرتے آژمیر کے چہرے پر ایک انوکھی سی مسکان تھی۔۔۔ جو اُس کے دلکش مغرور نقوش کو مزید حسین بنا رہی تھی۔۔۔۔ اُنہوں نے آج سے پہلے ایسی مسکان آژمیر کے چہرے پر کبھی نہیں دیکھی تھی۔۔۔
اُن کو یقین نہیں آرہا تھا کہ اُن کی دعائیں یوں آج کے دن ایک ساتھ قبول ہوجائیں گی۔۔۔۔ نہ صرف زنیشہ اور زوہان والا معاملہ حل ہوچکا تھا۔۔۔ بلکہ آژمیر کی زندگی میں بھی کوئی لڑکی آچکی تھی۔۔۔
“کون ہے وہ اچھی لڑکی۔۔۔۔؟؟؟ کیسی دکھتی ہے..؟؟؟”
شمسہ بیگم ممتا بھرے متجسس لہجے میں بولی تھیں۔۔۔۔
“یہ تو آپ مجھے آپ بتائیں گی اُس سے مل کر۔۔۔۔”
آژمیر کی بات پر شمسہ بیگم مسکرا کر رہ گئی تھیں۔۔۔۔ اُس نے اتنی بڑی بات اُنہیں بتا دی تھی۔۔۔ اُن کے لیے یہی کافی تھا۔۔۔۔۔
@@@@@@@@
زنیشہ تکیے پر سر رکھے آنے والے وقت کے خوف۔
میں گھری ہوئی تھی۔۔۔ جب سائیڈ پر پرا موبائل زور و شور سے بج اُٹھا تھا۔۔۔
زنیشہ ایکدم سوچوں سے نکلتی ہڑبڑا کر رہ گئی تھی۔۔۔۔
اُس نے بے دلی سے ہاتھ بڑھاتے موبائل سکرین اپنی آنکھوں کے سامنے کی تھی۔۔۔۔
جہاں جگمگاتا نمبر دیکھ اُس کی دھڑکنیں منتشر ہوئی تھیں۔۔۔
“ملک زوہان کالنگ۔۔۔۔”
یہ الفاظ ہمیشہ اُس کی حالت غیر کر جاتے تھے۔۔۔
اُس نے بہت زیادہ بہادری کا مظاہرہ کرتے کال کاٹ دی تھی۔۔۔ یہ دلیری بھرا کام کرتے اُس کے ہاتھ کانپنے لگے تھے۔۔۔
مگر اِس وقت وہ کم از کم زوہان سے بات کرنے کے موڈ میں تو بالکل بھی نہیں تھی۔۔۔
کال کاٹنے کے چند سیکنڈ بعد دوبارہ زوہان کا نام اُس کی موبائل سکرین پر روشن ہوا تھا۔۔۔۔
زنیشہ نے اِس بار بھی وہی عمل دوہرایا تھا۔۔۔ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ بھلا اتنی زیادہ بہادری اچانک اُس میں کہاں سے آگئی تھی۔۔ لیکن اِس بہادری کا انجام کتنا خطرناک نکلنے والا تھا اِس سے وہ کہیں نہ کہیں واقف تھی۔۔۔۔
کال بند ہوچکی تھی۔۔۔ حیرت انگیز طور پر کچھ دیر تک ویسی ہی خاموشی چھائی رہی تھی۔۔۔ زنیشہ کو لگا تھا کہ اب وہ شاید غصہ ہوکر اُسے دوبارہ کال نہیں کرے گا۔۔۔۔
لیکن چند پل گزرنے کے بعد زوہان کی جانب سے جو میسج موصول ہوا تھا۔۔۔۔ اُسے پڑھتے زنیشہ کے ہاتھ سے فون چھوٹتے چھوٹتے بچا تھا۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔