No Download Link
Rate this Novel
Episode 28
حاعفہ اِس کھنچاؤ پر آژمیر کے بے حد قریب صوفے پر آن گری تھی۔۔۔ اُس کے جسم کا سارا خون چہرے پر سمٹ آیا تھا۔۔۔۔ حیا، خفت، شرمندگی اور گھبراہٹ جیسے بہت سے جذبات ایک ساتھ اُس پر اثر انداز ہوئے تھے۔۔۔۔ اُس کا دل دھڑکنے کی تمام حدود کراس کرتا باہر آنے کے در پے تھا۔۔۔۔
آژمیر خاموش نگاہوں سے اِس حسین منظر کو دیکھتا اُس کی یہ گھبراہٹ انجوائے کررہا تھا۔۔۔۔
حاعفہ آژمیر کے کافی قریب تھی۔۔۔۔۔
“مس حاعفہ آپ نے جو کچھ کہا ابھی میں دوبارہ سننا چاہتا ہوں وہ ۔۔۔۔۔”
آژمیر کی گھمبیر سرگوشی حاعفہ کی سماعتوں سے ٹکراتی اُس کی دھڑکنیں اتھل پتھل کرگئی تھی۔۔۔
جس بات کا اقرار وہ کبھی آژمیر کے سامنے کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی۔۔۔۔ آج وہ اپنی ہی بے وقوفی کی وجہ سے اُس کے آگے بول چکی تھی۔۔۔۔
اُسے لگا تھا کہ آژمیر ایسا کچھ سن کر اُس پر غصہ کرے گا۔۔۔۔ مگر آژمیر کا اِس بات کو اتنی نرمی سے لینا اسی جانب اشارہ کررہا تھا کہ وہ بھی اُس کے بارے میں کوئی خاص جذبے رکھتا ہے۔۔۔۔
یہ سوچ حاعفہ کی دھڑکنوں کی رفتار مزید تیز کرگئی تھی۔۔۔۔
“سس سوری سر۔۔۔۔۔”
حاعفہ چہرہ جھکائے، آنکھیں سختی سے میچے اُس کی پوری توجہ خود پر ہونے کی وجہ سے ہولے ہولے کانپ رہی تھی۔۔۔
“مس حاعفہ اٹس اوکے۔۔۔۔ آپ اتنا ڈر کیوں رہی ہیں؟”
آژمیر نے نہایت نرمی سے اُس سے پوچھا تھا۔۔۔ شاید اتنی نرمی سے اُس نے آج تک کسی سے بات نہیں کی تھی۔۔۔ مگر یہ لڑکی اُس کے لیے اچانک سے بہت خاص ہوگئی تھی۔۔۔۔ اِس نازک سی لڑکی نے اُس جیسے خشک مزاج اور اُکھڑ آدمی کے دل میں اپنی محبت کی کونپل کھلا کر کوئی چھوٹا کام نہیں کیا تھا۔۔
اِس میں کچھ تو ایسا خاص تھا کہ آژمیر اِس کی معصومیت کے آگے اپنا دل ہار بیٹھا تھا۔۔۔۔
آج کا دن اُس کی زندگی کا سب سے خاص دن ہونے والا تھا۔۔۔ جس میں نہ صرف اُس کے آگے محبت جیسے طاقت ور جذبے میں گھرنے کا انکشاف ہوا تھا بلکہ ضرورت سے بھی کم بولنے والی، اُس سے ڈری سہمی، اُس کی پلکوں کی جنبش سے اُس کے خراب موڈ کا اندازہ لگانے والی حاعفہ نور انجانے میں ہی سہی مگر اُس کے آگے اپنی محبت کا اظہار کر گئی تھی۔۔۔۔
آژمیر میران کو ہمیشہ کی طرح لمحہ لگا تھا۔۔۔۔ اپنی زندگی کا آگے کا فیصلہ کرنے کا۔۔۔۔ وہ اب کم از کم اِس لڑکی کو تو خود سے جدا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔۔۔۔۔
آژمیر نے حاعفہ کے سامنے ظاہر نہیں کیا تھا۔۔۔ لیکن حاعفہ کا اقرار سن کر اُس کے دل و دماغ سے ساری فرسٹیشن ختم ہوگئی تھی۔۔۔۔ وہ کچھ دیر کے لیے اپنی تمام سوچوں کو پیچھے جھٹکتا پرسکون ہوا تھا۔۔۔
“سر پلیز۔۔۔۔۔”
حاعفہ کی کلائی ابھی بھی آژمیر کی گرفت میں تھی۔۔۔ اُسے محسوس ہورہا تھا آج اُس کا دل پسلیوں کی مضبوط دیوار توڑ کر باہر آکر رہے گا۔۔۔
بے شک آژمیر کی قربت میں گزارا ایک ایک پل اُس کی زندگی کا حاصل تھا۔۔۔ مگر اِس وقت آژمیر جس طرح اُس کی جانب اپنی ساری توجہ مرکوز کیے ہوئے تھا۔۔۔۔ یہ برداشت کرنا بھی اُس کی نازک جان کے لیے بہت زیادہ تھا۔۔۔۔
“اوکے چلی جائیے گا۔۔۔۔ مگر اُس سے پہلے میرے ایک سوال کا جواب دینا پڑے گا۔۔۔۔۔”
آژمیر جو ہمیشہ اِس حُسن کی ملکہ سے نظریں چراتا آیا تھا۔۔۔ اُس کے ساتھ اپنی حدود کا پورا خیال رکھا تھا۔۔۔ آج وہ اپنے دل کی خواہش پر ہر احتیاط بھلائے اُس سے نظریں بھی نہیں ہٹا پارہا تھا۔۔۔۔
اُس کی بات کے جواب میں حاعفہ کچھ نہیں بولی تھی۔۔۔ مگر اُس نے اپنی مزاحمت ترک کرتے نظریں ابھی بھی جھکا رہی تھیں۔۔۔
“کیا آپ مجھ سے شادی کریں گی۔۔۔۔۔؟”
آژمیر نے ایک ہی جملے میں حاعفہ کے سر پر بہت بڑا بم پھوڑا تھا۔۔۔۔ حاعفہ نے جھٹکے سے سر اُٹھاتے حیرت اور بے یقینی کے ساتھ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
مگر زیادہ دیر آژمیر کے خوبرو چہرے اور جذبے لوٹاتی آنکھوں میں نہیں دیکھ پائی تھی۔۔۔۔ اپنی تلخ حقیقت یاد آتے اُس کی آنکھیں دھندلا سی گئی تھیں۔۔۔۔
یہ حسین لمحات اور آژمیر کا اظہار حاعفہ کے لیے کسی حسین خواب سے کم نہیں تھے۔۔۔۔ مگر وہ یہ بھی جانتی تھی کہ آژمیر کی یہ محبت بہت کم وقت کے لیے تھی۔۔۔۔ جس دن آژمیر کو اُس کی اصلیت پتا چلتی۔۔۔ وہ دوبارہ اُس پر تھوکنا بھی پسند نہیں کرتا۔۔۔۔
مگر وہیں حاعفہ کے دل میں آژمیر کی عزت اور مقام مزید بڑھ گیا تھا۔۔۔۔ اُسے جیسے ہی پتا چلا تھا کہ وہ حاعفہ سے محبت کرتا ہے اور حاعفہ بھی اُس کے حوالے سے ایسی ہی فیلنگز کا شکار ہے تو اُس نے ایک پل نہیں لگایا تھا۔۔۔۔ اِس محبت کو حلال رشتے میں بدلنے کا فیصلہ کرنے میں۔۔۔۔
آژمیر جیسے باکردار اور عزت دار شخص کے ساتھ اُس جیسی طوائف زادی کا کوئی جوڑ نہیں تھا۔۔۔
اپنی بے بسی اور کم بختی پر حاعفہ کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر گرے تھے۔۔۔۔
“مس حاعفہ آر یو اوکے۔۔۔ کیا آپ کو میری بات بُری لگی۔۔۔۔؟”
آژمیر اُس کی کلائی اپنی گرفت سے آزاد کرتا اُس کی آنکھوں سے گرتے موٹے موٹے آنسو دیکھ فکرمند ہوا تھا۔۔۔۔
حاعفہ نے آنسو پونچھتے بے اختیاری میں فوراً نفی میں سر ہلایا تھا۔۔۔ جس پر آژمیر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔۔۔۔
“تو مطلب میں ہاں سمجھوں۔۔۔۔”
آژمیر ہلکا سا اُس کی جانب جھکا سیاہ شال میں پوری طرح لپٹے اُس کے نازک ہولے ہولے لرزتے وجود کو پر شوق نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔
اُس کی تپیش زدہ نظروں کی تاب نہ لاتے حاعفہ فوراً وہاں سے اُٹھتی واش روم میں قید ہوگئی تھی۔۔۔۔ آژمیر اُس کے اِس گریز پر ہولے سے مسکرا دیا تھا۔۔۔۔
اُس نے آج تک محبت کے بارے میں بہت کچھ سنا تھا۔۔۔ کہ سچی محبت اتنی آسانی سے نہیں ملتی تھی۔۔۔ محبت کا روگ پالنے والے اکثر زندگی ہار جاتے تھے مگر محبت حاصل کرنے میں ناکام رہتے تھے۔۔۔
محبت ایک حسین جذبے کے ساتھ زندگی کے بہت سارے درد سے بھی روشناس کرواتی تھی۔۔۔
لیکن آژمیر کو اِس وقت اپنا آپ سب سے زیادہ خوش قسمت محسوس ہورہا تھا کیونکہ اُس کے لیے اُس کی محبت پانا مشکل نہیں رہا تھا۔۔۔۔
مگر وہ شاید ابھی مقدر کے کھیلو سے پوری طرح واقف نہیں تھا۔۔۔۔ آنے والا وقت اُس کی زندگی کیسے پلٹ کر رکھنے والا تھا۔۔۔ وہ ابھی اِس بات سے انجان محبت کے میٹھے نشے میں گم تھا۔۔۔۔۔۔
@@@@@@@@
زنیشہ اپنا حلیہ درست کرتی روم سے باہر آگئی تھی۔۔۔۔ باہر آکر اُس کی نگاہوں نے سب سے پہلے زوہان کو ڈھونڈنا چاہا تھا۔۔۔۔ مگر وہ اُسے پورے ہال میں کہیں دیکھائی نہیں دیا تھا۔۔۔۔
زنیشہ کا غصے اور جلن سے بُرا حال ہوا تھا۔۔۔۔
“اپنی اُس لاڈلی کبوتری کے بلاوے پر نکل گئے ہونگے۔۔۔۔ میری جھوٹی فکر کا ناٹک کرتے ہیں۔۔۔۔ اگر اتنی فکر ہوتی تو آژمیر بھائی کی طرح مجھے مردوں کے بیچ زیادہ دیر نہ رہنے دیتے۔۔۔۔۔ میں ہی بے وقوف ہوں جو اُس گھمنڈی، مغرور اور خود پسند انسان کی باتوں میں آجاتی ہوں۔۔۔۔ اُنہیں کبھی میری پرواہ رہی ہی نہیں ہے۔۔۔ “
زنیشہ زوہان کو وہاں نہ پاکر اُس سے شدید بدگمان ہوئی تھی۔۔۔۔ یہ سوچ کر ہی اُس کی آنکھوں کے کنارے نم ہوئے تھے کہ زوہان اِس وقت کسی غیر عورت کے پاس تھا۔۔۔۔
زنیشہ ہونٹ چھباتی اپنی ہی سوچوں میں گم تھی۔۔۔۔ جب شمسہ بیگم پریشانی زدہ چہرا لیے اُس کے قریب آئی تھیں۔۔۔۔
“کیا ہوا اماں سائیں۔۔۔۔ آپ بہت پریشان لگ رہی ہیں۔۔۔۔ آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔۔۔۔۔”
زنیشہ شمسہ بیگم کا فکرمند چہرا دیکھ تشویش زدہ لہجے میں گویا ہوئی تھی۔۔۔۔
“حسیب پر پھر کسی نے حملہ کیا ہے۔۔۔۔ اُسے بہت زیادہ چوٹے آئی ہیں۔۔۔۔ ہاتھ تک نہیں ہلا پارہا۔۔۔۔ ہڈی وغیرہ تو بچ گئی۔۔۔۔ مگر ویسے بہت تکلیف میں ہے وہ۔۔۔۔۔ پتا نہیں کس نے دشمنی نکالی اُس مسکین پر۔۔۔۔۔ اُس نے بھلا کسی کا کیا بگاڑا ہے۔۔۔۔ بھیا بھابھی جاچکے ہیں۔۔۔ ہم سب بھی ابھی تھوڑی دیر میں نکلنے والے ہیں۔۔۔۔ میں نے مزمل کو بلوایا ہے۔۔۔۔ وہ تمہیں گھر چھوڑ دے گا۔۔۔۔۔”
شمسہ بیگم زنیشہ کا ساری تفصیل بتاتیں آخر میں ہدایت دے گئی تھیں۔۔۔۔
جبکہ زنیشہ صرف ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گئی تھی۔۔۔ وہ اچھے سے جانتی تھی یہ سب کس نے اور کیوں کیا ہے۔۔۔۔ ملک زوہان کسی کو معاف کردے یہ تو ممکن ہی نہیں تھا۔۔۔۔
لیکن اُسے اِس جگہ پر زوہان بالکل ٹھیک لگا تھا۔۔۔۔ حسیب اُس کو مروانے کے جو پلان بنا رہا تھا اُن کے انعام کے طور پر یہ زخم بالکل ٹھیک تھے۔۔۔
اگر زوہان پہلے سے اپنی سیکورٹی کے معاملے میں اتنا الرٹ نہ رہتا تو نجانے کتنی بڑی انہونی ہوسکتی تھی۔۔۔۔ جو سوچتے ہی زنیشہ کو اپنا دل رُکتا ہوا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔
“اماں سائیں۔۔۔۔ ہمیں مزمل کے ساتھ نہیں جانا۔۔۔۔۔”
زنیشہ کا اب دوبارہ اُس دھوکے باز مزمل پر بھروسہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔۔۔
اگر وہ اُس دن کی مزمل کی غلط بیانی آژمیر کو بتا دیتی تو اب تک آژمیر اُس کا کام تمام کردیتا۔۔۔۔۔ اور زوہان سے اُس کی ایک نئی جنگ شروع ہوجانی تھی۔۔۔ یہی وجہ تھی کہ زنیشہ اب تک خاموش تھی۔۔۔۔
وہ اُن دو بپھرے شیروں کو ایک دوسرے پر جھپٹنے کا کوئی نیا موقع نہیں دینا چاہتی تھی۔۔۔
“مگر بیٹا ہم سب ہاسپٹل ہی جارہے ہیں۔۔ آپ کو وہاں نہیں لے کر جاسکتے۔۔۔۔ مزمل آپ کو بحفاظت گھر پہنچا دے گا۔۔۔۔”
شمسہ بیگم نے اُسے دوٹوک جواب دیتے وہیں خاموش کروا دیا تھا۔۔۔۔
“لالہ پلیز جلدی سے واپس آجائیں۔۔۔۔ آپ سے بہت ساری باتیں شیئر کرنی ہیں۔۔۔۔ آپ کے علاوہ کوئی میری بات سنتا ہی نہیں۔۔۔۔۔”
زنیشہ کو اِس وقت آژمیر کی شدت سے یاد آئی تھی۔۔۔ وہ کبھی اُسے رات کے ٹائم گارڈز کے ساتھ اکیلا نہ بھیجتا۔۔۔۔ اور یہ بات اُسے اگر ابھی پتا چل جاتی تو اُس نے کسی کو بخشنا بھی نہیں تھا۔۔۔۔
زنیشہ پہلے زوہان کا ثمن کے پاس جانے کا سن کر ہی بہت ایموشنل تھی۔۔۔ اور اب شمسہ بیگم کے سختی سے بات کرنے کی وجہ سے مزید دلبرداشتہ ہوئی تھی۔۔۔۔
وہ ناراضگی میں ایک ہی کرسی پر ٹک کر بیٹھی تھی۔۔۔ جب اُسے باہر آنے کا بلاوا آیا تھا۔۔۔ مزمل گاڑی تیاری کرچکا تھا۔۔۔۔
زنیشہ کو قاسم صاحب گاڑی تک چھوڑنے آئے تھے۔۔۔۔ چند منٹوں میں اُنہیں بھی نکلنا تھا۔۔۔ مزمل نے آگے بڑھ کر زنیشہ کی سائیڈ کا دروازہ کھول دیا تھا۔۔۔۔ زنیشہ خاموشی سے بیک سیٹ پر براجمان ہوئی تھی۔۔۔ اُس کا موڈ سخت خراب تھا۔۔۔
جبکہ مزمل قاسم صاحب سے بات کرکے اُنہیں رخصت کرتا گاڑی کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔ زنیشہ کھا جانے والی نظروں سے اُس نمک حرام کو ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
لیکن اچانک سامنے کا بدلتا منظر دیکھ اُس کی آنکھیں بے یقینی کے احساس سمیت باہر کو اُبل پڑی تھیں۔۔۔۔ جب مزمل کے ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھولنے پر زوہان بڑے کروفر سے اندر داخل ہوتا سیٹ پر براجمان ہوا تھا۔۔۔۔
زنیشہ کو چیخنے چلانے کا زرا سا بھی موقع دیئے بغیر زوہان گاڑی وہاں سے نکال کر لے گیا تھا۔۔۔۔
@@@@@@@@
“ہمیں جلد از جلد کچھ کرنا ہوگا۔۔۔۔ زنیشہ کے باڈی گارڈز میں اضافہ ہونے والا ہے۔۔۔۔ پہلے صرف آژمیر اُس کی پاگلوں کی طرح حفاظت کررہا تھا۔۔۔۔ اب وہ جنونی انسان ملک زوہان بھی اِس کام میں شامل ہوچکا ہے۔۔۔۔۔ ہمیں کسی بھی طرح زوہان کی زنیشہ سے شادی ہونے دینے سے روکنا ہے۔۔۔۔۔ کیونکہ اگر ایسا کچھ ہوگیا تو زنیشہ کو اپنے پاس لانے کے چانسز بھی کم ہوجائیں گے۔۔۔۔۔”
اکرام حنیف اپنے بھائی اور بھتیجے کے ساتھ بیٹھ کر اپنی سگی بیٹی کے خلاف اُس کے اغوا کا پلان بنانے لگا تھا۔۔۔۔۔
“میرے اب تک کے ریسورسز کے مطابق زوہان اور زنیشہ کی شادی کے لیے میران پیلس کے تمام افراد مان چکے ہیں سوائے آژمیر میران کے۔۔۔۔۔ اور ہمارے لیے سب سے اچھی بات یہی ہے۔۔۔۔ کہ آژمیر کی اجازت اور رضامندی کے بغیر وہ لوگ کوئی فیصلہ نہیں کرتے۔۔۔۔ مطلب آخری فیصلہ ہمیشہ آژمیر کے پاس ہی ہوگا۔۔۔۔ “
جعفر اکرام کی بات کے جواب میں تفصیل بیان کرتے بولا تھا۔۔۔۔
“تو اُس کے لیے آژمیر کو زوہان سے مزید بدگمان کرنا پڑے گا۔۔۔ تاکہ اگر اُس کا مائینڈ بن بھی رہا ہو تو وہ تب بھی زوہان کے لیے کسی صورت نہ مانے۔۔۔۔ کیونکہ اگر ایک بار بھی زنیشہ کا نکاح زوہان سے ہوگیا تو وہ ہماری پہنچ سے بہت دور چلی جائے گی۔۔۔۔”
اکرام حنیف اپنا شاطر دماغ چلانا شروع کرچکا تھا۔۔۔۔
“تو اُس کے لیے ہمیں کیا کرنا پڑے گا چاچو۔۔۔۔”
حامد نے جلدی سے پوچھا تھا۔۔۔۔ اُس کے تو یہ بات ہی خوشی سے سونے نہیں دے رہی تھی کہ وہ حسین پری بہت جلد اُس کی ہونے والی تھی۔۔۔۔ مگر وہ اِس بات سے انجان تھا کہ ملک زوہان اپنی زنیشہ کے حوالے سے اُس کے ایسے خواب رکھنے کی بھی اُسے کتنی بڑی سزا دینے والا تھا۔۔۔۔
“آژمیر پر جان لیوا حملہ کروانا ہوگا۔۔۔۔ وہ بھی اِس پلاننگ کے ساتھ کہ اُس کا الزام جائے زوہان کے سر۔۔۔۔ جس کے بعد آژمیر تو دور کی بات میران پیلس کا کوئی فرد زوہان کو قبول نہیں کرے گا۔۔۔۔ زوہان اور آژمیر کے اِسی جھگڑے میں ہم زنیشہ کو اپنے پاس لے آئیں گے۔۔۔۔۔”
اکرام حنیف نے اپنی گھٹیا سوچ اُن کے سامنے رکھی تھی۔۔۔۔ جسے اُنہوں نے خوب سراہا بھی تھا۔۔۔۔
“مجھ سے میری بیٹی کو چھین کر اچھا نہیں کیا اِن لوگوں نے۔۔۔۔ اب اِنہیں اِن کے کیے کی سزا مل کر رہے گی۔۔۔۔ برباد کرکے رکھ دوں گا میں میران پیلس کو۔۔۔ اور وہ دونوں میران پیلس کے ہیرو اور ولن وہ تو زنیشہ کے چھن جانے پر ہی پاگل ہوجائیں گے۔۔۔۔ اُن دونوں کی کمزوری زنیشہ ہی ہے۔۔۔۔ اور اُس کا خود سے دور جانا اُن دونوں کو ہلا کر رکھ دے گا۔۔۔۔۔۔ اصل مزا تو تب آئے گا۔۔۔۔”
اکرام حنیف کمینگی سے بولتا آخر میں ہنسا تھا۔۔۔۔
@@@@@@@@@@
منہاج درانی بنا کوئی ضد اور انا بیچ میں لائے صاف گوئی سے اپنی محبت کا اظہار کرگیا تھا۔۔۔ اُسے وقت لگا تھا ماورا کی سچائی کو ایکسپٹ کرنے میں۔۔۔۔ مگر وہ اب پوری طرح دل و جان سے ماورا کو قبول کرچکا تھا۔۔۔۔۔ جس کا اظہار وہ اپنے لفظوں اور عمل سے بھی کرچکا تھا۔۔۔۔
ماورا جو خاموشی سے اُس کی باتیں سن رہی تھی۔۔۔ اگلے ہی لمحے اُس نے ایک ہی جھٹکے سے منہاج کو خود سے دور دھکیلا تھا۔۔۔۔
“تم نے کیا سمجھ رکھا ہے مجھے۔۔۔۔ ہر بار اپنی اِس جھوٹی محبت کے جال میں پھنسا کر مجھ سے اپنا مطلب نکال لو گے۔۔۔۔ اِس قدر بے وقوف سمجھ رکھا ہے تم نے مجھے۔۔۔۔۔ بعد میں اپنے دوستوں کے آگے ہنستے ہوگے نا مجھ پر۔۔۔۔ کہ کتنی بڑی ایڈیٹ اور تمہاری محبت میں ماری پاگل لڑکی ہوں میں۔۔۔۔ تم ہر بار میرے جذبات سے کھلواڑ کرتے ہو اور میں ہر بار تمہاری باتوں میں آجاتی ہوں۔۔۔۔۔ مگر اب مزید ایسا نہیں ہوگا۔۔۔۔۔ اب مزید میں تمہیں اپنے جذبات سے کھیلنے کی اجازت نہیں دوں گی۔۔۔۔ ہم دونوں کی بہتری اِسی میں ہے کہ تم مجھ سے دور رہو۔۔۔۔۔ ورنہ۔۔۔۔۔”
ماورا غصے اور اذیت سے پُر نم لہجے میں بولتی آخر میں سانس لینے کو رکی تھی۔۔۔۔
“ورنہ کیا۔۔۔۔۔”
منہاج اُس کی بات کو زرا بھی سیریس لیے بغیر اُس کی کلائی اپنی گرفت میں لیتا اُس کے ہوا سے اٹھکیلیاں کرتے بالوں کو اُنگلیوں پر لپیٹتا محبت پاش لہجے میں بولتا ماورا کو مزید تپا گیا تھا۔۔۔۔۔
“تم۔۔۔۔۔”
ماورا اُس سے دور ہونے کی کوشش کرتی پیچھے ہوئی تھی۔۔۔۔ جب اُس کا پیر بُری طرح لڑ کھڑایا تھا۔۔۔۔ وہ گرنے کو تھی جب منہاج نے زرا سا جھکتے اُسے کسی مومی گڑیا کی طرح اپنی بانہوں میں اُٹھا لیا تھا۔۔۔ چاروں طرف نیم تاریکی پھیل چکی تھی۔۔۔۔ دور کیمپس میں جلتی روشنیاں، جھیل میں بہتے پانی کی آواز اور یہ مہکتی ہوائیں بہت کی رومانوی ماحول پیش کررہی تھیں۔۔۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے چھوڑو مجھے۔۔۔۔”
ماورا کا دل چاہ رہا تھا منہاج درانی کا یہ مسکراتا چہرا نوچ لے۔۔۔۔ جو اُس کی سیریس باتوں کو بھی ہوا میں اُڑا دیتا تھا۔۔۔۔
“تم جانتی ہو اِن علاقوں میں اکثر کپلز ہنی مون کے لیے آتے ہیں۔۔۔۔”
منہاج جھک کر اُس کی ٹھنڈ سے لال ہوئی ناک پر ہونٹ رکھ کر اُنہیں حرارت بخشتا ماورا کی سانسیں منتشر کرگیا تھا۔۔۔۔
ماورا اُس کی نگاہوں کی تپیش اور لفظوں کا مفہوم سمجھتی خود میں سمٹی تھی۔۔۔۔
منہاج درانی چھوڑو مجھے ورنہ میں شور مچا کر سب کو اکٹھا کر۔۔۔۔۔”
اُس کی بات سنتے منہاج کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی۔۔۔۔ جسے دیکھتے ماورا کو بھی ابھی تھوڑی دیر پہلے اپنی اِسی دھمکی کا ری ایکشن یاد آیا تو وہ جلدی سے اپنی زبان دانتوں تلے دباتی بات ادھوری چھوڑ گئی تھی۔۔۔۔
اُس کی اِس احتیاط پر منہاج اپنا بے ساختہ اُمڈ آنے والا قہقہ نہیں روک پایا تھا۔۔۔۔
“کیا ہوا سویٹ ہارٹ خاموش کیوں ہوگئی۔۔۔۔ میں توچاہتا ہوں تم شور مچاؤ۔۔۔۔ اور پھر میں پہلے سے بھی کہیں زیادہ محبت سے تمہیں خاموش کرواؤں۔۔۔۔ “
منہاج اُس کے سختی سے آپس میں بھینچے گلابی ہونٹوں کو نگاہوں کی فوکس میں لیتے بولا۔۔۔ جبکہ اِس شخص کی بے باکی پر ماورا کے کانوں کی لوحِ تک لال ہوئی تھیں۔۔۔۔
ماورا کو ابھی تک اِسی طرح وہ بانہوں میں اُٹھائے اپنے سینے سے لگائے کھڑا تھا۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
