No Download Link
Rate this Novel
Episode 38
حاعفہ خاموش کھڑی آژمیر کا ہر ستم سہنے کو تیار تھی۔۔۔۔ اُس نے آژمیر کا دل دکھایا تھا۔۔۔ آژمیر کی تکلیف اُس کے دل پر چھڑیاں چلا رہی تھی۔۔۔
اُس نے بے حد، بے پناہ چاہا تھا اِس شخص کو۔۔۔۔ اِس لیے اِس وقت بھی اپنی تکلیف سے زیادہ اُسے آژمیر کی تکلیف رُلا رہی تھی۔۔۔۔
“میں نے ایسا جان بوجھ کر نہیں کیا۔۔۔۔ میں مجبور تھی۔۔۔۔۔ مگر میں قسم کھا کر۔۔۔۔۔”
حاعفہ کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔۔۔ وہ آژمیر کی آنکھوں میں تیرتی وحشت اور اذیت نہیں دیکھ پا رہی تھی۔۔۔
اُس نے بولنا چاہا تھا جب گردن پر بڑھتی آژمیر کی گرفت کی سختی پر تکلیف کے عالم میں اُس کی بات ادھوری رہ گئی تھی۔۔۔۔
“تم نے اِس قدر بے وقوف سمجھ رکھا ہے مجھے۔۔۔۔ کہ تم اب اپنی جان بچانے کی خاطر میرے سامنے اپنی جھوٹی محبت کی قسمیں کھاؤ گی اور میں مان جاؤں گا۔۔۔۔ اگر تمہاری مجھ سے محبت اتنی ہی سچی ہوتی تو مجھے یوں دشمنوں میں گھرا دیکھ وہاں سے فرار نہ ہوجاتی۔۔۔۔ اُس وقت کھڑے ہوکر مجھے اپنی محبت کا یقین دلاتی۔۔۔۔
تمہیں لگا کہ آژمیر میران سے اتنا بڑا دھوکا کرکے تم بچ نکلو گی۔۔۔۔ مگر اب اپنی جان کے لالے پڑتے دیکھ تم پھر اُسی جھوٹی محبت کو بیچ میں لارہی ہو۔۔۔۔ جس سے اب میں شدید نفرت کرتا ہوں۔۔۔۔ محبت کا جذبہ میرے لیے دنیا کا سب سے بدصورت ترین جذبہ ہے۔۔۔۔ جسے ڈھال بنا کر تم جیسے لوگ۔۔۔ صرف دولت کی خاطر دوسروں کے جذبات سے کھیلتے ہو۔۔۔۔۔”
آژمیر آخر میں اتنے زور سے دھاڑا تھا کہ حاعفہ کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا تھا۔۔۔
گردن پر لمحہ با لمحہ بڑھتی آژمیر کی گرفت کی سختی پر حاعفہ کو اپنا دم گھٹتا محسوس ہونے لگا تھا۔۔۔ مگر وہ اپنے آپ کو آزاد کروانے کے لیے کوئی مزاحمت نہیں کررہی تھی۔۔۔۔
آژمیر جو اُسے اپنی جان بچانے کے لیے تڑپتے دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔ اُس کی آنکھوں میں درد کے ساتھ ساتھ پھیلتی آسودگی کے رنگ دیکھ آژمیر اُلجھ گیا تھا۔۔۔
وہ کسی صورت حاعفہ کو مارنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔۔۔۔ وہ اُسے زندہ رکھ کر اپنی اذیت کا بدلہ لینا چاہتا تھا۔۔۔ مگر اِس وقت موت کو اتنے قریب دیکھنے کے باوجود حاعفہ کا یہ پرسکون انداز آژمیر کو آگ بھگولا کر گیا تھا۔۔۔
اُس نے حاعفہ کی گردن آزاد کرتے اُسے پاس پڑے صوفے پر پھینک دیا تھا۔۔۔۔
حاعفہ کمر کے بل صوفے پر گرتی بُری طرح کھانسنے لگی تھی۔۔۔۔ آژمیر کی بے چینی مزید بڑھ چکی تھی۔۔۔۔ اِس لڑکی کو تکلیف دینے کے بعد بھی اُسے سکون نہیں مل پارہا تھا۔۔۔۔
آژمیر بیڈ سائیڈ پڑی شراب کی بوتل اُٹھانے بیڈ کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔ جب پانی کا گلاس اُٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھاتے حاعفہ نے بہت ہی پھرتی سے دو گولیاں آژمیر کے گلاس میں ڈال دی تھیں۔۔۔
حاعفہ جو کوٹھے سے پورے پلان کے ساتھ نکلی تھی۔۔۔ یہاں آکر آژمیر کو دیکھ وہ گولیاں دینے کا ارادہ ترک کر چکی تھی۔۔۔۔
مگر آژمیر کی باتیں سن کر اور اپنے لیے شدید نفرت دیکھ حاعفہ نے اپنے دل کا خون کرتے صرف آژمیر کی خوشی کی خاطر ہمیشہ کے لیے اُس سے دور جانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔۔۔۔
وہ دیکھ سکتی تھی کہ آژمیر اُسے دیکھ کر کس قدر اذیت کا شکار تھا۔۔۔۔ وہ اُس سے جتنا بدگمان اور دور ہوچکا تھا۔۔۔ حاعفہ اپنی پوری زندگی لگا کر بھی اُسے واپس نہیں لا سکتی تھی۔۔۔۔۔
وہ اُسے مارنا چاہتا تھا۔۔۔ یہ بات ہی حاعفہ کے دل پر آریاں پھیر گئی تھی۔۔۔۔
آژمیر کی باتیں اُسے بالکل ٹھیک لگی تھیں۔۔۔ اُس جیسی طوائف آژمیر جیسے باکردار شخص کے قابل کسی صورت نہیں تھی۔۔۔ اُسے کوئی بھی اچھی لڑکی مل سکتی تھی۔۔۔۔ جیسی وہ ڈیزرو کرتا تھا۔۔۔ لیکن وہ خوش قسمت لڑکی وہ کسی صورت نہیں ہوسکتی تھی۔۔۔۔
اِس سے پہلے کے آژمیر اُسے طلاق دیتا اور اُس سے اپنا نام جدا کر لیتا۔۔۔ حاعفہ خود ہی اُسے چھوڑ جانا چاہتی تھی۔۔۔ تاکہ اِس ایک نام پر پوری زندگی گزار دے۔۔۔۔ حاعفہ نور صرف اور صرف آژمیر میران کی تھی اور ہمیشہ اُسی کی رہنے والی تھی۔۔۔۔
@@@@@@@@
اُس کے پیچھے کھڑے زوہان کی نظریں اُس نازک دوشیزہ پر جم کر رہ گئی تھیں۔۔۔ اُس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ کبھی وہ اِس لڑکی کا اِس حد تک اسیر ہوجائے گا۔۔۔۔
اِسے حاصل کرنے کی اُس کی ضد جنون بن کر اُس کے رگ و پے میں اُتر جائے گا۔۔۔۔
یہ لڑکی سراپا عشق تھی اور وہ اِس عشق میں ڈوب جانا چاہتا تھا۔۔۔۔ مگر اُس کی مردانہ انا اُسے ایسا کرنے سے روکتی تھی۔۔۔
زنیشہ کے ایک بار پھر پکارنے پر وہ گہرا سانس ہوا میں خارج کرتا اُس کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔ وہ اُسے خود بلا رہی تھی۔۔۔ اِسی لیے وہ اُس کے پاس جارہا تھا۔۔۔ زوہان نے خود کو جواز پیش کیا تھا۔۔۔
“میری گردن ٹیڑھی ہوجانی ہے۔۔۔۔ پلیز جلدی سے یہ پنز نکال دو۔۔۔۔۔”
زنیشہ کی کمزور سی تھکی تھکی آواز زوہان کے ہاتھ اُس کی جانب بڑھا گئی تھی۔۔۔
زوہان نے ایک ایک کرکے زنیشہ کے دوپٹے کی ساری پنز نکال دی تھیں۔۔۔۔ جن کے ہٹتے ہی اُس کا دوپٹہ پھسل کر نیچے جاگرا تھا۔۔۔ اور زنیشہ نے اُس سنبھالنے کی کوشش کی بھی نہیں تھی۔۔۔
کیونکہ اُس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اُس کی مدد کرنے والا ملک زوہان میران ہے۔۔۔۔
دوپٹے کی رکاوٹ ہٹتے ہی زنیشہ کا تراشیدہ نازک سراپا اپنی تمام رعنائیوں سمیت زوہان کے سامنے تھا۔۔۔ زوہان نے فوراً نظریں پھیر لی تھیں۔۔۔۔
جیسے خود پر کنٹرول کھو دینے کا ڈر ہو۔۔۔۔
زنیشہ اب گلے میں پہنے بھاری نیکلس کی جانب ہاتھ بڑھا چکی تھی۔۔۔۔ زوہان خاموشی سے کھڑا اُس کی کاروائیاں دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
زنیشہ کی بہت کوششوں کے بعد بھی نیکلس کھلنے کا نام ہی نہیں کے رہا تھا۔۔۔۔ اُس کی بیوٹیشن نے ہیوی ہونے کی وجہ سے شاید گڑھ لگا دی تھی۔۔۔ جو اب کھل ہی نہیں رہی تھی۔۔۔۔
زنیشہ نے فریحہ سمجھ کر ایک بار پھر اُسے پکارا تھا۔۔۔۔
مگر جیسے ہی زوہان اُس کے مزید قریب ہوا، گردن سے مس ہوتی اُس کی اُنگلیوں کا لمس اور اُس کے وجود سے اُٹھتی خوشبو زنیشہ کے حواس جھنجھنانے کے لیے کافی تھی۔۔۔۔ یہ خوشبو تو وہ لاکھوں میں پہچان سکتی تھی۔۔۔۔
زنیشہ جھٹکے سے اُٹھتی واپس پلٹی تھی۔۔۔ جب اپنے عین پیچھے اُسے کھڑا دیکھ زنیشہ کے چہرے کا رنگ اُڑ چکا تھا۔۔۔۔ اپنے حلیے کا خیال کرتے اُس کا دل ڈوب مرنے کو چاہا تھا۔۔۔
وہ اتنی بے وقوف اور بے خبر کیسے ہوسکتی تھی۔۔۔ اتنی دیر سے وہ زوہان کو مدد کے لیے پکار رہی تھی۔۔۔۔ اِن سب سوچوں کے حاوی ہوتے اُس کا دل زور سے دھڑک اُٹھا تھا۔۔۔۔
“آپپ۔۔۔ آپ۔۔۔ یہاں؟؟؟؟؟”
زنیشہ سے بولنا محال ہوا تھا۔۔۔۔
اُس کی شکل سے لگ رہا تھا کہ اُس نے زوہان کی جگہ کسی جن کو دیکھ لیا ہو۔۔۔۔ اور اب بس خوف کے عالم میں بے ہوش ہونا باقی رہ گیا ہو۔۔۔۔
اُس کے تاثرات زوہان کے ہونٹوں پر دھیمی سی مسکراہٹ بکھیر گئے تھے۔۔۔۔
یہ لڑکی اُس سے اِس قدر ڈرتی تھی۔۔۔۔۔ آگے چل کر کیا ہونے والا تھا اُس کا۔۔۔۔
“آئی تھنک تمہیں میری ہیلپ چاہئیے تھی ابھی۔۔۔۔؟؟؟”
زوہان نے اُسے اُس کا پکارنا یاد دلایا تھا۔۔۔۔
“نن نہیں۔۔۔۔۔”
زنیشہ ہولے سے منمنائی تھی۔۔۔
وہ اِس وقت اُس کے سامنے بنا دوپٹے کے کھڑی تھی، اُس سے بولنا محال ہورہا تھا۔۔۔۔ زوہان کی نظروں کی گہری تپیش سے اُس سے پلکیں اُٹھانا مشکل ہوا تھا۔۔۔۔
زنیشہ کی نظریں مسلسل سٹول پر پڑے اپنے دوپٹے پر گڑھی ہوئی تھیں۔۔۔۔ زوہان اُس کی نرویسنس نوٹ کرچکا تھا۔۔۔
اُس نے جھک کر زنیشہ کا بھاری بھرکم دوپٹہ اُٹھاتے اُس کی جانب بڑھایا تھا۔۔۔۔
زنیشہ اُس کی اتنی عنایت پر حیران ہوتی آگے بڑھ کر دوپٹہ تھامنے ہی لگی تھی۔۔۔ جب زوہان نے اُس کی کلائی تھام کر اُسے اپنی جانب کھینچ لیا تھا۔۔۔۔
زنیشہ اِس حملے کے لیے قطعی تیار نہیں تھی۔۔۔ سیدھی اُس کے سینے سے جا ٹکرائی تھی۔۔۔۔۔
وہ ایک بار پھر اُس کے ہاتھوں بے وقوف بن چکی تھی۔۔۔۔ بھلا وہ اِس شخص سے اتنی شرافت اور رحم دلی کی اُمید کر بھی کیسے سکتی تھی۔۔۔۔
“ہیلپ مانگی تھی تو اُسے وصول بھی کرو مسز زوہان۔۔۔۔۔”
زوہان دونوں بازو اُس کی گرد کے گرد حائل کرتا اُس کو پوری طرح اپنے حصار میں لیتے اُس کے نیکلس کی گڑھا کھولنے لگا تھا۔۔۔۔ اِس چکر میں زنیشہ بالکل اُس کے سینے سے جا لگی تھی۔۔۔۔
زوہان کے چوڑے مضبوط سینے پر اپنی نازک ہتھیلیاں جماتے اُس نے درمیان میں فاصلہ برقرار رکھنے کی پوری کوشش کی تھی۔۔۔۔
اُس کی اِس قدر قربت پر زنیشہ کو اپنی جان ہوا ہوتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔ اُس کی دھڑکنیں اگلے پچھلے ریکارڈ توڑ چکی تھیں۔۔۔۔
نیکلس کھولنے کے دوران زوہان کی اُنگلیوں کا لمس اپنی گردن پر محسوس کرتے زنیشہ کے دل کی حالت غیر ہوئی تھی۔۔۔
زوہان کی گرم سانسیں اپنے کندھے پر محسوس کرتے زنیشہ پوری طرح ریڈ ہوچکی تھی۔۔۔۔
اُس کے لیے یہ لمحے جان لیوا ثابت ہورہے تھے۔۔۔
جب کچھ دیر کے بعد زوہان اُس کی نازک صراحی دار گردن کو نیکلس کے بوجھ سے آزاد کر گیا تھا۔۔۔۔
مگر اُسے اپنے حصار سے ابھی بھی آزاد نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔
زنیشہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔۔ اِس شخص کی جان نکالتی قربت سے کیسے بچے۔۔۔۔
کیونکہ اگلا لمحہ اُس کے لیے مزید مشکل ہوا تھا۔۔۔ جب زوہان اُسے اپنے حصار میں لیے کھڑا انتہائی قریب سے اُس کے چہرے کے ایک ایک نقوش کو دیوانہ وار نظروں سے دیکھے گیا تھا۔۔۔۔
“میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔۔۔”
زنیشہ سمجھ نہیں پارہی تھی زوہان کو آخر ہوکیا گیا تھا۔۔۔۔ جب اُسے اُس میں کوئی انٹرسٹ ہی نہیں تھا تو یہ سب کرنے کا کیا مطلب تھا۔۔۔
اِس مغرور شخص نے ایک بار بھی اُس کی تعریف نہیں کی تھی۔۔۔۔ یہ فکر زنیشہ کو الگ غصہ دلا رہی تھی۔۔۔۔۔
“مگر میں ایسا کچھ نہیں کررہا، جس سے تمہاری طبیعت افیکٹ ہو۔۔۔۔۔”
زوہان بازو اُس کی کمر کے گرد حمائل کرتا اُسے پوری طرح اپنے سہارے کھڑا کرتا مزید کمفرٹیبل کر گیا تھا۔۔۔۔ زنیشہ اُس شیر کے حصار میں معصوم سی چڑیا لگ رہی تھی۔۔۔۔ جسے زوہان نے تقریباً اُٹھا رکھا تھا۔۔۔۔
زنیشہ کے دل کی دہائیاں بڑھتی جارہی تھیں۔۔۔ اُسے ڈر تھا کہ کہیں اتنے قریب ہونے کی وجہ سے زوہان اُس کی دھڑکنوں کی آواز نہ سن لے۔۔۔۔ اُس نے خفگی بھری نظروں سے زوہان کو گھورا تھا۔۔۔۔
ایک طرف وہ اُس کی اتنی کیئر کررہا تھا۔۔۔۔ اتنی دشمنیوں کے باوجود اُسے اپنے نام لگوا کر رہا تھا۔۔۔ اور دوسری جانب وہ اُس سے محبت سے انکاری بھی تھا۔۔۔۔
زنیشہ کے لیے یہ شخص ایک پہیلی بن چکا تھا۔۔۔۔
“آپ کی گرل فرینڈ ناراض ہورہی ہوگی آپ کو جانا چاہیئے وہاں۔۔۔۔”
زنیشہ اُس کی شوخ نگاہوں سے بچتے اُس کا دھیان ثمن پر دلا گئی تھی۔۔۔۔
“مگر میں فلحال اپنی بیوی کے پاس رہنا چاہتا ہوں۔۔۔۔”
زوہان خمار آلود لہجے میں کہتا اُس کے بے حد قریب ہوتا اُس کی خوشبو اپنی سانسوں میں اُتارنے لگا تھا۔۔۔۔
زنیشہ اُس کے اِس عمل پر لمحہ بھر کو ہل کر رہ گئی تھی۔۔۔۔
“پپ پلیز۔۔۔۔”
زنیشہ نے اپنی لرزتی پلیکیں اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
جب زوہان نے اُس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے اپنے قریب کیا تھا۔۔۔۔ اور باری باری اُس کی دونوں آنکھیں چوم لی تھیں۔۔۔
اُس کا شدت بھرا لمس زنیشہ کی سانسیں منتشر کر گیا تھا۔۔۔ یہ شخص آج واقعی اپنے اگلے پچھلے حساب بے باک کرنے پر بضد تھا۔۔۔۔
“مجھ سے آج تک تمہارے علاوہ اتنے سوال جواب، اتنی لڑائیاں اور گستاخیاں کسی نے نہیں کی ہیں۔۔۔۔ اور اگر کسی نے ایسا کیا ہوتا تو اب تک اپنے انجام کو پہنچ چکا ہوتا۔۔۔۔ یہ حق صرف تمہیں حاصل ہے۔۔۔۔ لیکن تم اب بھی میری زندگی میں اپنی اہمیت سمجھ نہیں پائی۔۔۔۔
تم میرے لیے کتنی قیمتی ہو شاید تم کبھی نہ سمجھ پاؤ۔۔۔۔ تمہارے بغیر میرے لیے سروائیو کرنا ناممکن ہے۔۔۔۔ آئی کانٹ لو ود آؤٹ یو۔۔۔۔
تم صرف میری ہو اور تمہیں ہمیشہ میرا بن کر ہی رہنا ہوگا۔۔۔۔ ورنہ میں پوری دنیا کو آگ لگا دوں گا۔۔۔۔ اور اگر تم نے بھی مجھ سے دور جانے کی کوشش کی۔۔۔ تو اُس کی سزا بھگتنا تمہارے لیے مشکل ہوجائے گا۔۔۔۔ میری زندگی میں تمہارے علاوہ مجھے دور دور تک کوئی دیکھائی نہیں دیتا۔۔۔۔
میں جانتا ہوں میں بہت بگڑا ہوا ہوں اور شاید تم سب کی نظروں میں بہت بُرا بھی ہونگا۔۔۔۔۔ لیکن اب میں چاہتا ہوں تم مجھے سنوارو۔۔۔۔ مجھے سمجھو۔۔۔۔۔ میری اندر پنپتی اُس اذیت کو جانو۔۔۔۔ جس کی وجہ سے میں اب تک تڑپتا آیا ہوں۔۔۔
مجھے سدھار دو۔۔۔ اور اپنی بانہوں میں سمیٹ لو۔۔۔۔ میں جانتا ہوں میرا رُوٹھا ہوا سکون تم ہی دے سکتی ہو مجھے۔۔۔۔۔ آگے چل کر کبھی مجھ سے دور مت جانا۔۔۔ نہ مجھ سے کبھی بدگمان ہونا۔۔۔۔ میں برداشت نہیں کر پاؤں گا۔۔۔۔”
زوہان کے الفاظ تھے یا کوئی طلسم جو زنیشہ کو کسی اور ہی دنیا میں پہنچا گیا تھا۔۔۔۔ زنیشہ یک ٹک وارفتگی بھری نظروں سے اُسے دیکھے گئی تھی۔۔۔۔ مطلب وہ اُس سے محبت کرتا تھا۔۔۔۔
وہ بھی اُس کی زندگی میں اُتنی ہی اہمیت رکھتی تھی۔۔۔ جتنا زوہان اُس کے لیے اہم تھا۔۔۔
زوہان اپنی بات ختم کرتا زنیشہ کو لمحہ بھر کو اپنے مضبوط سینے میں بھینچ گیا تھا۔۔۔۔ کچھ لمحے اُسے محسوس کرتے ایسے ہی گزر گئے تھے۔۔۔ زوہان کو لگا تھا اُس کے بھٹکتے دل کو قرار مل گیا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔
زنیشہ کی سانسوں کی لمس اپنے سینے پر محسوس کرتے زوہان پرسکون ہوا تھا۔۔۔۔
مگر اگلے ہی لمحے اُس کی پیشانی پر لب رکھتے اُسے اپنی گرفت سے آزاد کرتا وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔۔۔
@@@@@@@
آژمیر اپنے اعصاب کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرتا بنا غور کیے وہ گلاس ہونٹوں سے لگا گیا تھا۔۔۔۔
“آپ پلیز اپنے ساتھ اتنا غلط مت کریں۔۔۔۔۔ جو سزا دینی ہے مجھے دیں۔۔۔۔”
حاعفہ آژمیر کو شراب کی بوتل کی جانب ہاتھ بڑھاتے دیکھ آگے بڑھی تھی۔۔۔ اور اُس سے بوتل چھین لی تھی۔۔۔۔
وہ اچھے سے جانتی تھی یہاں شراب رکھنے کا کام کرامت نے ہی کیا تھا۔۔۔ وہ ایسے ہی اپنے گاہکوں کو پوری طرح اپنے بس میں کرنے کی کوشش کرتا تھا۔۔۔۔۔ اور اُن کو ایسی چیزوں کا عادی کرکے اُن کو مینٹلی طور پر تباہ کردیتے تھے۔۔۔۔۔
حاعفہ کچھ عرصے میں ہی آژمیر کو پوری طرح سمجھ گئی تھی۔۔۔۔ وہ دل کا سچا اور پیارا انسان تھا۔۔۔۔ جسے اپنے سے جڑے رشتوں کا خیال رکھنا بہت اچھے سے آتا تھا۔۔۔۔
وہ اِس وقت اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بدقسمت لڑکی تصور کررہی تھی۔۔۔ جو آژمیر میران کو اپنے نام تو لگوا چکی تھی۔۔۔ مگر اُسے حاصل نہیں کرپائی تھی۔۔۔۔ اور شاید نہ کبھی کر پاتی۔۔۔
حاعفہ آژمیر کے مقابل آتی پورے حق سے اُس کے ہاتھ سے بوتل چھین گئی تھی۔۔۔
“تمہاری اتنی ہمت۔۔۔۔۔”
آژمیر کا پارہ مزید چڑھ گیا تھا۔۔۔۔ وہ جارحانہ تیور لیے اُس کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ مگر اُس سے پہلے ہی حاعفہ وہ بوتل دیوار کی جانب اُچھال چکی تھی۔۔۔۔
حاعفہ کی دونوں کلائیاں آژمیر کی گرفت میں قید ہوچکی تھیں۔۔۔۔
آژمیر کے ایک ہی جھٹکے سے وہ اُس کے سینے سے آن لگی تھی۔۔۔۔
“مجھے معاف کردیں۔۔۔۔”
حاعفہ اُس کی ضبط سے لال آنکھوں میں جھانکتے نم لہجے میں بولی تھی۔۔۔۔ آژمیر کا ہاتھ اُس کی کمر کے گرد لپٹا ہوا تھا۔۔۔ جس کی سختی اِس قدر تھی کہ حاعفہ کو اُس کی اُنگلیاں اپنی جلد میں دھنستی محسوس ہوئی تھیں۔۔۔
مگر وہ کمال ضبط کا مظاہرہ کیے آژمیر کے مقابل کھڑی اُسے حسرت بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
کاش وہ ایک بار اُسے معافی دے کر۔۔۔ اُس کی تڑپتی روح کو سکون پہنچا دے۔۔۔
لیکن حاعفہ کے منہ سے نکلنے والے یہ الفاظ اُس کے لیے مزید مشکل کھڑی کر گئے تھے۔۔۔۔
“کبھی معاف نہیں کروں گا تمہیں۔۔۔۔ کبھی نہیں۔۔۔۔ ساری زندگی تمہیں میری وحشت جھیلنی ہوگی۔۔۔۔ “
آژمیر اُس کے بالوں میں ہاتھ اُلجھاتا اُس کا چہرا اپنے بے حد قریب کرتا اپنی گرم سانسیں اُس پر چھوڑتا اُسے جھلسا گیا تھا۔۔۔۔
“میں مرنے کے بعد بھی معافی نہیں ملے گی۔۔۔۔”
یہ الفاظ ادا کرتے حاعفہ کی دونوں آنکھوں سے ضبط کے باوجود آنسو ٹوٹ کر گرے تھے۔۔۔۔
اُس کے چہرے پر رقم درد دیکھ آژمیر پل بھر کو ساکت ہوا تھا۔۔۔۔ اُسے لگا تھا کسی نے اُس کا دل مسل کر رکھ دیا ہو۔۔۔۔۔
سامنے کھڑی لڑکی کوئی عام لڑکی نہیں تھی۔۔۔۔ وہ ایک ساحرہ تھی جو ہر بار اُس پر اپنا سور پھونک کر اُسے اپنے سحر میں جکڑ رہی تھی۔۔۔
“اپنا انتقام پورا کیے بغیر اتنی آسانی سے مرنے نہیں دوں گا تمہیں۔۔۔۔”
آژمیر کو اُس کی بات سخت ناگوار گزری تھی۔۔۔۔
جھٹکے سے آژمیر اُس کی کمر کے گرد سے اپنے بازو ہٹا گیا تھا۔۔۔۔
آژمیر کے اچانک گرفت سے آزاد کر دینے پر حاعفہ لڑکھڑاتی سنبھلنے کی کوشش کے باوجود پیچھے موجود بیڈ پر جاگری تھی۔۔۔۔
“آژمیر۔۔۔۔ پلیز۔۔۔”
آژمیر کو خود پر جھکتا دیکھ حاعفہ لرزتی آواز میں چلائی تھی۔۔۔۔
آژمیر اپنے حواسوں میں نہیں تھا۔۔۔۔ حاعفہ اِس سچویشن میں ایسا کچھ نہیں ہونے دینا چاہتی تھی جس پر بعد میں آژمیر کو پچھتاوا ہوتا۔۔۔۔۔
آژمیر جو نشے کے زیرِ اثر تھا۔۔۔ آہستہ آہستہ اُس پر حاعفہ کی دی دوا اثر کرنے لگی تھی۔۔۔۔ وہ حاعفہ کی گردن پر جھکا تھا۔۔۔۔ حاعفہ نے سختی سے اپنی آنکھیں میچ رکھی تھیں۔۔۔۔۔
جب کچھ دیر بعد اُسے اپنے بازو پر موجود آژمیر کی گرفت ڈھیلی پڑنے کے ساتھ ساتھ، اُس کی سانسیں بھی مدھم پڑتی محسوس ہوئی تھیں۔۔۔۔
حاعفہ نے چہرا گھما کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ جو اُس کی گردن میں چہرا چھپائے دوا کے زیرِ اثر گہری نیند میں جاچکا تھا۔۔۔۔
چہرا موڑنے پر حاعفہ کے لب آژمیر کے چہرے سے مس ہوئے تھے۔۔۔۔
حاعفہ کتنے ہی لمحے اِس حسین منظر میں گم ایسے ہی پڑی رہی تھی۔۔۔۔ اُس نے اِس خوبرو جواں سالہ مضبوط مرد کو کس قدر بے بس اور اذیت میں مبتلا کرکے رکھ دیا تھا۔۔۔۔
حاعفہ کی آنکھ سے آنسو ٹوٹ کر گالوں پر پھسلے تھے۔۔۔۔ مگر آژمیر کے ساتھ گزرے یہ آخری لمحے وہ ہمیشہ کے لیے اپنے پاس سنبھال کر رکھنا چاہتی تھی۔۔۔۔
اُس نے اپنے پاس چھپایا خفیہ سیل فون نکال کر اُس میں اپنی زندگی کا یہ سب سے دلکش منظر قید کیا تھا۔۔۔۔
کتنے ہی لمحے یک ٹک اُسے دیکھتے رہنے کے بعد حاعفہ نے اپنا پورا زور لگاتے بہت مشکل سے آژمیر کو کندھے سے تھام کر پیچھے ہٹایا تھا۔۔۔۔
اور بہت ہی احتیاط سے اُس کا سر تکیے پر رکھتے اُس کے ماتھے پر عقیدت اور محبت بھرا بوسہ دیا تھا۔۔۔۔
“بہت محبت کرتی ہو آپ سے۔۔۔۔ نہیں رہ پاؤں گی آپ کے بغیر۔۔۔۔ مرجاؤں گی میں۔۔۔۔ “
حاعفہ اُس کا ہاتھ تھام کر ہونٹوں سے لگاتی ہچکیوں سے رو دی تھی۔۔۔۔
اُس کے سینے پر سر رکھتے اپنا درد اُس کے چوڑے سینے پر بہاتے، حاعفہ کو وہ تحفظ محسوس ہوا تھا جس کی اُسے ہمیشہ سے تلاش رہی تھی۔۔۔
آج سب کچھ پاکر بھی وہ خالی دامن رہ گئی تھی۔۔۔۔
نگینہ بائی کی کالز پر کالز آنے لگی تھیں۔۔۔ اُن کا پلان ریڈی تھا۔۔۔ حاعفہ کو ابھی تک نہ نکل پاتا دیکھ وہ پریشان ہوئی تھیں۔۔۔۔
حاعفہ آژمیر کے پاس سے اُٹھتی اُس کے پیروں کی جانب آئی تھی۔۔۔۔ اُس کے شوز اور ساکس اُتارتے حاعفہ نے اُس کے پیروں کو عقیدت سے چھوا تھا۔۔۔۔
“مجھے معاف کردیجیئے گا۔۔۔ میں بہت بُری ہوں۔۔۔۔ آج آخری بار بھی آپ کو دھوکا دے کر ہی جارہی ہوں۔۔۔۔”
حاعفہ اُس پر کمبل ڈال کر اُس کے کی دونوں آنکھوں کو چومتی ایک آخری نظر ڈالتی رُخ موڑ گئی تھی۔۔۔
خود کو بلیک شال سے اچھی طرح لپیٹتے وہ وہاں سے نکل گئی تھی۔۔۔۔
اُس کا ہر اُٹھتا قدم من من بھر کا ہوچکا تھا۔۔۔ اُس کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔۔ مگر مزید اذیت سے بچنے کے لیے اُس کے نزدیک اِس سے بہتر کوئی فیصلہ نہیں تھا۔۔۔۔
اپنی نادانی میں یا پھر عقلمندی میں وہ آژمیر میران کو ایک بار پھر دغا دے کر جارہی تھی۔۔۔ جس کا انجام کیا ہونے والا تھا۔۔۔۔ اُسے بالکل اندازہ نہیں تھا۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔
