Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 51

“تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی حاعفہ کے بارے میں ایسی بکواس کرنے کی۔۔۔۔۔ حاعفہ کو کچھ نہیں ہوا۔۔۔۔۔ کوئی اُسے کچھ نہیں کرسکتا۔۔۔۔۔ میں پوری دنیا کو آگ لگا دوں گا۔۔۔۔۔ “
آژمیر اِس وقت آپے سے باہر ہوچکا تھا۔۔۔ حاعفہ کے لیے ڈیڈ باڈی کا لفظ اُس کا دل چیڑ گیا تھا۔۔۔ جبکہ باقی سب حیرت و بے یقینی سے آژمیر کا یہ الگ رُوپ دیکھ رہے تھے۔۔۔۔ حاعفہ کے لیے اُس کا یہ دیوانہ پن اُن سب کو ہی شدید حیرت میں ڈال گیا تھا۔۔۔
جبکہ ماورا بھیگی آنکھوں سے یہ سب دیکھتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔۔۔ حاعفہ کی خواہش تھی آژمیر میران کی آنکھوں میں اپنے لیے ایسی ہی دیوانگی اور چاہت دیکھنے کی۔۔۔۔۔ وہ چاہتی تھی جیسے وہ آژمیر کو ٹوٹ کر چاہتی تھی۔۔۔۔ اُس کی ایک جھلک پر پاگل ہو اُٹھتی تھی۔۔۔ ویسی ہی محبت آژمیر میران اُس سے کرے۔۔۔۔۔
آج وہ سب ہورہا تھا۔۔۔ مگر اِسے دیکھنے والی موجود نہیں تھی۔۔۔۔
“آژمیر بیٹا ہمیں جوش سے نہیں ہوش سے کام لینا ہوگا۔۔۔۔ اکرام حنیف نے جو کیا ہے اُسے اُس کی عبرت ناک سزا ضرور ملے گی۔۔۔”
شاکر صاحب نے آگے بڑھتے آژمیر کو نارمل کرنا چاہا تھا۔۔۔۔۔
“نہیں جب تک میں حاعفہ کو سہی سلامت اپنے سامنے نہ دیکھ لوں۔۔۔ اور اُس کمینے کے ٹکڑے ٹکڑے نہ کر دوں۔۔۔ آرام سے نہیں بیٹھ سکتا تھا۔۔۔۔”
وہ اُن کا ہاتھ جھٹکتا فیصل کے ہاتھ سے بندوق چھینتا باہر کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ زوہان پہلے سے ہی باہر کی جانب جا چکا تھا۔۔۔۔
اُس کی لال آنکھیں اور بھینچے نقوش بتا رہے تھے۔۔۔ کہ اِس وقت وہ کس اذیت سے گزر رہا تھا۔۔۔
بے پناہ محبت کرتا تھا وہ زنیشہ سے۔۔۔ اپنی ماں کے بعد اب اُسے کسی قیمت پر کھونا نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔ زنیشہ کے بغیر اُس کی زندگی کتنی خالی اور ویران تھی۔۔۔ اُسے آج شدت سے اندازہ ہوا تھا۔۔۔
وہ دونوں لڑتے تھے جھگڑتے تھے۔۔۔ مگر زوہان سکون بھی صرف اُسی کی قربت میں محسوس کرتا تھا۔۔۔
وہ اپنی زندگی کا یہ واحد سکون اور دل کا قرار خود سے دور نہیں جانے دینا چاہتا تھا۔۔۔۔
زوہان اور آژمیر کو یوں بپھرے زخمی شیروں کی طرح میران پیلس کی دہلیز پار کرتا دیکھ۔۔۔ اُن سب کے دل ہول اُٹھے تھے۔۔۔۔
شمسہ بیگم تو لڑکھڑا کر پیچھے پڑی کرسی پر جاگری تھیں۔۔۔۔ بہت مشکلوں سے تو اُن کی بیٹی کی زندگی میں خوشیاں داخل ہوئی تھیں۔۔۔۔ جن کو پورا ہونے سے پہلے ہی نظر لگ گئی تھی۔۔۔۔ اور آژمیر۔۔۔ حاعفہ کے لیے اُس کی تڑپ دیکھ وہ ایک پل میں سمجھ گئی تھیں۔۔۔ کہ یہ وہی لڑکی تھی جس سے اُن کے بیٹے نے ٹوٹ کر محبت کی تھی۔۔۔۔۔
اور تقدیر نے اُسے۔۔۔۔ اُس کی زندگی میں شامل ہونے سے پہلے ہی چھین لیا تھا۔۔۔۔
@@@@@@@@@@@
آژمیر اور زوہان اپنے آدمیوں کی پوری فوج کے ساتھ اکرام حنیف کے اُس خفیہ ڈیرے پر پہنچ چکے تھے۔۔۔ جو اُس کے مطابق ابھی تک کسی کی نظر میں نہیں تھا۔۔۔
مگر یہ اُس کی غلط فہمی تھی۔۔۔۔ وہ دونوں بہت پہلے سے اکرام حنیف کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھے۔۔۔۔ حاعفہ والے واقع کے بعد سے آژمیر کو اکرام حنیف کی تلاش تھی۔۔۔۔
جو پوری ہوئی بھی تھی تو آج۔۔۔۔۔
“زوہان تم باہر ہی رکو۔۔۔۔ میں اندر جاؤں گا۔۔۔۔ ہمیں پوری طرح شیور نہیں ہیں کہ وہ لوگ اندر ہوں۔۔۔۔ یہ ہمارے لیے کوئی ٹریپ بھی ہوسکتا ہے۔۔۔۔ “
آژمیر اپنے ساتھ ساتھ زوہان کو بھی خطرے کے منہ میں نہیں جانے دینا چاہتا تھا۔۔۔۔ اِس لیے سرد تاثرات کے ساتھ اُسے وہیں رکنے کا اشارہ کرتا آگے بڑھا تھا۔۔۔
“نہیں میں بھی ساتھ چلوں گا۔۔۔۔ اندر تمہارا اکیلا جانا مناسب نہیں ہے۔۔۔۔ باہر ہمارے آدمی موجود ہیں سب سنبھال لیں گے۔۔۔۔۔”
زوہان بھی آژمیر کو اکیلے جانے دینے کے حق میں نہیں تھا۔۔۔۔ اُن کے پیچھے کھڑے فیصل اور حاکم ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے تھے۔۔۔۔
ان دونوں بھائیوں کی محبت بھری نفرت کو وہ لوگ آج تک سمجھ نہیں پائے تھے۔۔۔ جو اپنے ساتھ ساتھ باقی سب کی آنکھوں میں بھی دھول جھونک رہے تھے۔۔۔۔
اِس وقت بحث کرنے کا ٹائم نہیں تھا۔۔۔۔ وہ دونوں ہی اندر کی جانب بڑھ گئے تھے۔۔۔۔
اُنہوں نے اب تک پولیس کو انفارم نہیں کیا تھا۔۔۔۔ وہ ابھی اکرام حنیف کو اپنے پلان کے مطابق اس طرح ہی قابو کرنا چاہتے تھے۔۔۔۔
اُس پاگل شخص کا کوئی بھروسہ نہیں تھا۔۔۔۔ خود کو بچانے کی خاطر وہ اپنی بیٹی کو بھی نقصان پہنچا سکتا تھا۔۔۔۔
اُس اندھیرے میں ڈوبے بنگلے کے باہر ہی اکرام حنیف کے آدمی بندوقیں اُٹھائے مستدی سے کھڑے تھے۔۔۔۔ جن کو ٹھکانے لگانے کا کام فیصل اود حاکم کا ہی تھا۔۔۔۔
اکرام حنیف کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ جو لوگ اکیلے اکیلے ہی اُس پر بھاری تھے اُن کا گھٹ جوڑ اُس پر کتنا بڑا قہر بن کر ٹوٹنے والا تھا۔۔۔۔۔
وہ دونوں کھڑکی کے راستے اندر داخل ہوئے تھے۔۔۔ جہاں طرف اندھیرا ہی چھایا ہوا تھا۔۔۔۔۔
اُن کے قدم روشن دان سے جھانکتی چاند کی ہلکی سی روشنی میں نظر آتی سیڑھیوں کی جانب بڑھے ہی تھے۔۔۔ جب اُوپر سے سنائی دیتی زنیشہ کی چیخ اُن دونوں کو ہی تڑپا گئی تھی۔۔۔۔۔
وہ بنا ایک لمحے کے لیے بھی سوچے دیوانہ وار سیڑھیاں چڑھتے آواز کی سمت کا تعین کرنے لگے تھے۔۔۔۔ جب دائیں جانب موجود روم سے دوبارہ چیخنے کی آواز پر وہ لمحہ بھی ضائع کیے اندر داخل ہوئے تھے۔۔۔۔۔
@@@@@@@@@@
“مجھے شرم آتی ہے یہ کہتے ہوئے کہ تم جیسا گھٹیا انسان میرا باپ ہے۔۔۔۔۔ جو آج تک اپنی بیٹی کے لیے کچھ کر تو نہیں پایا بلکہ اُس کا حق چھیننے کے لیے اُس کی شادی کے دن اُسے اغوا کرنے پہنچ گیا۔۔۔۔۔ اگر میری زندگی میں آژمیر لالہ اور زوہان جیسے مرد نہ ہوتے تو آج میں مرد ذات سے شدید نفرت کرتی۔۔۔۔ صرف تمہاری وجہ سے۔۔۔۔۔
مگر ایک بات یاد رکھنا تم چاہے جتنے مرضی پلان بنا لو۔۔۔۔ کبھی کامیاب نہیں ہو پاؤ گے۔۔۔۔ آژمیر لالہ اور زوہان ایسا کبھی ہونے ہی نہیں دیں گے۔۔۔۔۔ اور ابھی جو تم نے کیا ہے نا۔۔۔۔۔ اِس کی سزا کے طور پر اُنہوں نے تمہیں کتے کی موت نہ مارا تو میرا نام بدل دینا۔۔۔۔۔۔”
زنیشہ کا بس نہیں چل رہا تھا سامنے کھڑے اپنے اِس نام نہاد باپ کو اپنے ہاتھوں سے ختم کردے۔۔۔۔۔ جس نے آج تک اُسے اور اُس کی ماں کو ذلت اور تکلیف کے سوا کچھ نہیں دیا تھا۔۔۔۔
بھلا کونسا باپ اپنی بیٹی کو اُس کی شادی کے فنکشن میں سے اغوا کرسکتا تھا۔۔۔۔ وہ جائیداد کی خاطر۔۔۔۔۔
“تیری بہت زبان چلنے لگ گئی ہے۔۔۔۔۔ اپنے اُس شوہر اور بھائی کے دم پر۔۔۔۔ وہ سنتے ہونگے تیری یہ زبان درازی میں نہیں سن سکتا۔۔۔۔ لگتا ہے سب سے پہلے اِسے ہی کاٹنا پڑے گا۔۔۔۔۔”
اکرام حنیف کے دل میں سامنے بیٹھی مہندی کی دلہن کی طرح سجی اپنی سگی بیٹی کے لیے رحم نہیں تھا۔۔۔۔
“حاعفہ کہاں ہے۔۔۔۔؟؟؟؟”
زنیشہ کو حاعفہ کی فکر کھائے جارہی تھی۔۔۔۔ جو شخص بیٹی ہونے کے باوجود اُسے نہیں بخش رہا تھا۔۔۔ اُس نے حاعفہ کے ساتھ کیا سلوک کیا ہوگا یہ سوچ ہی اُس کا دل دہلا دیتی تھی۔۔۔۔
“بڑی فکر ہے تجھے اُس لڑکی کی۔۔۔۔ عجیب دوغلے لوگ ہو تم سب میران پیلس والے۔۔۔۔ یہ وہی لڑکی ہے جس نے میرے کہنے پر تیرے بھائی کو دھوکا دیا۔۔۔۔ اُسے مارنا چاہا۔۔۔۔ اور اب تیرا بھائی واپس اُسے سر پر بیٹھانا چاہتا ہے۔۔۔۔ پوری دنیا کے سامنے اپنا نام بنانے والا درحقیقت اتنا بے وقوف ہے کوئی نہیں جانتا۔۔۔۔۔ اپنے ہاتھوں اپنی بربادی لکھنے کا بہت شوق ہے اُسے۔۔
ویسے یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ اب بھی وہ لڑکی میرے ساتھ مل کر یہ سب کررہی ہو۔۔۔۔ اور جو کام پچھلی بار ادھورا رہ گیا ہو۔۔۔ وہ اب پورا کرنا چاہتی ہو۔۔۔۔”
اکرام حنیف نے نہایت ہی چالاکی سے زنیشہ کے دماغ کے ساتھ کھیلنا چاہا تھا۔۔۔
اور زنیشہ کے تاثرات بتا رہے تھے کہ وہ کافی حد تک کامیاب ہو بھی چکا ہے۔۔۔۔۔
زنیشہ کی نظروں کے سامنے ایک ایک پل گھومنے لگا تھا۔۔۔۔ حاعفہ کا آژمیر سے چھپنا، ماورا کی سرگوشی میں کی جانے والی باتوں پر شرمانہ اور آژمیر کا پلٹ کر اُسے دیکھنا، اُسے نہ پاکر ہر طرف متلاشی بے قرار نگاہوں سے اُسے ڈھونڈنا۔۔۔۔ ایک گھر میں رہتے ہوئے بھی وہ یہ سب کیسے نہیں محسوس کر پائی تھی۔۔۔۔
کہ حاعفہ ہی وہ لڑکی ہے جس سے اُس کے لالہ نے بہت محبت کی تھی۔۔۔۔ حاعفہ ہی کے کہنے پر وہ آج گھر میں تیار ہونے کے بجائے پارلر گئی تھی۔۔۔۔ اُسے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ اُس معصوم صورت کے پیچھے اتنا گھناؤنا رُوپ چھپا تھا۔۔۔۔
وہ ایک بار پھر اُس کے لالہ کو دھوکا دے رہی تھی۔۔۔ زنیشہ کو اِس لمحے حاعفہ سے شدید نفرت محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔۔
جو اُس کے لالہ کے دل اور زندگی دونوں کے ساتھ کھیل رہی تھی۔۔۔۔
“وہ کہاں ہے اِس وقت….؟؟؟”
زنیشہ ایک آخری بار حاعفہ سے ملنا چاہتی تھی اُس سے پوچھنا چاہتی تھی کہ آخر وہ اُس کے بھائی کی دشمن کیوں تھی۔۔۔
“بہت جلد پتا چل جائے گا تمہیں۔۔۔۔۔ مگر اُس سے پہلے تمہیں یہ پیپرز سائن کرنے ہونگے۔۔۔۔۔”
اکرام حنیف اپنا ایک داؤ کھیل چکا تھا۔۔۔ اب دوسرے کی باری تھی۔۔۔۔
“نہیں میں سائن نہیں کروں گی۔۔۔۔ میں یہ جگہ تمہارے نام کرکے، وہاں بسے لاکھوں یتیموں جو بے گھر نہیں کرسکتی۔۔۔۔ میں ایسا کبھی نہیں کروں گی۔۔۔۔”
زنیشہ صاف انکاری تھی۔۔۔۔ جس پر اکرام حنیف نے اپنے وقت کا زیاں ہوتے دیکھ ایک زور دار تھپڑ زنیشہ کے چہرے پر رسید کیا تھا۔۔۔۔
درد اور خوف کے مارے زنیشہ کے ہونٹوں سے بے ساختہ چیخ برآمد ہوئی تھی۔۔۔۔
“سائن تو تجھے کرنے پڑیں گے۔۔۔۔۔ ورنہ آج میں تجھے زندہ نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔”
زنیشہ کو بالوں کو بے دردی سے کھینچتے اُس نے ایک اور زور داد تھپڑ زنیشہ کے چہرے پر رسید کیا تھا۔۔۔۔
جس پر وہ نازک جان درد سے بلبلا اُٹھی تھی۔۔۔۔
مگر اِس سے پہلے کی اکرام حنیف مزید اُسے تکیف دیتا دروازہ کھلا تھا۔۔۔۔ اور اندر داخل ہوتے دونوں افراد کو دیکھ جہاں زنیشہ کی آنکھوں کی بجھی جوت دوبارہ جل اُٹھی تھی۔۔۔۔ وہیں اکرام حنیف کو اپنی موت سر پر ناچتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔۔
“دیکھو تم دونوں قریب مت آنا۔۔۔۔ ورنہ میں اِسے اپنے ہاتھوں سے ختم کردوں گا۔۔۔۔۔”
زنیشہ کی کنپٹی پر بندوق تانے وہ اُن دونوں کے قدم وہیں جکڑ گیا تھا۔۔۔۔ آژمیر نے زنیشہ کو وہاں سہی سلامت دیکھ بے قراری سے اردگرد نگاہیں دوڑائی تھیں۔۔۔۔ مگر حاعفہ کو وہاں نہ پاکر اُس کا دل پاگل ہو اُٹھا تھا۔۔۔۔
اُس کا دل چاہا تھا ابھی اِسی وقت اس درندے کی کھونپڑی اُڑا دے۔۔۔۔
زنیشہ اُن کی نگاہوں کے سامنے تھی اُسے تو وہ بچا لیتے۔۔۔ مگر حاعفہ کا ابھی تک کچھ پتا نہیں تھا۔۔۔ وہ ایسا رسک نہیں لے سکتے تھے۔۔۔۔
“یہ تمہاری بیٹی یے اِسے چھوڑ دو۔۔۔۔۔ تمہاری دشمنی ہم سے ہے۔۔۔۔ جو کرنا ہے ہمارے ساتھ کرو۔۔۔۔۔ “
آژمیر نے اُسے لفظوں کے جال میں اُلجھانا چاہا تھا۔۔۔۔ حاعفہ کی فکر میں اُس کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔۔۔ جو حاعفہ کے بارے میں کہا جارہا تھا اگر وہ واقعی سچ ہوتا تو۔۔۔۔ اِس سے آگے کی سوچ اُس کی روح فنا کر جاتی تھی۔۔۔۔
“زنیشہ کی ساری جائیداد اب میرے نام ہے۔۔۔۔ اُس کے سائن کرنے یا اُسے نقصان پہنچانے سے تمہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔۔۔۔ “
زوہان نے ایک قدم آگے اُٹھاتے جھوٹ کا سہارا لیتے زنیشہ کے ماتھے پر سجی اُس بندوق کا رُخ اپنی جانب مُڑوانا چاہا تھا۔۔۔۔
زنیشہ نے نفی میں سر ہلایا تھا۔۔۔۔ مگر زوہان کی آنکھوں کے سرد اشارے پر وہ بہتی آنکھوں سے اُن دونوں کو دیکھے گئی تھی۔۔۔۔
جو آج ایک بار پھر اُس کی خاطر اپنی جان ہتھیلی پر رکھے وہاں آن پہنچے تھے۔۔۔۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اکرام حنیف سب سے زیادہ اُنہیں کو دشمن تھا۔۔۔۔
زنیشہ کے چہرے پر بنے اُنگلیوں کے نشانات قریب آجانے کی وجہ سے زوہان پر واضح ہوتے اُس کا خون کھولا گئے تھے۔۔۔۔
“تم جھوٹ بول رہے ہو۔۔۔۔۔ “
اکرام حنیف اُلجھ چکا تھا۔۔۔۔
“یہ بالکل سچ کہہ رہا ہے۔۔۔۔ ہمیں پتا تھا کہ تم زنیشہ پر اُس جائیداد کو لے کر حملہ کروا سکتے ہو۔۔۔ اِس لیے حفاظتی اقدام کے طور پر ساری جائیداد زوہان کے نام کردی گئی تھی۔۔۔”
آژمیر بھی مصلحت کے تحت بولے جانے والے اُس کے جھوٹ میں شریک ہوا تھا۔۔۔۔
“زنیشہ کو ہمارے حوالے کردو۔۔۔۔ میں پراپرٹی کے یہ سائن پیپر تمہارے حوالے کردوں گا۔۔۔۔۔”
زوہان نے پاکٹ سے کوئی پیپر نکال کر اکرام حنیف کی جانب بڑھائے تھے۔۔۔۔ اور دوسرے ہاتھ سے زنیشہ کو مانگا تھا۔۔۔۔
اکرام حنیف للچائی آنکھوں میں پیپرز کی جانب دیکھتا پیپر تھامنے کے ساتھ ساتھ زنیشہ کو بھی زوہان کی جانب دھکیل گیا تھا۔۔۔۔
وہ جانتا تھا کہ یہ لوگ اُس کے ساتھ کوئی ہوشیاری نہیں کرسکتے تھے کیونکہ ابھی آژمیر کی جان اُس کے پاس قید تھی۔۔۔۔
ڈری سہمی، روتی بلکتی زنیشہ کو خود میں بھینچتے زوہان نے اُس کے کمر کے پیچھے رسیوں سے باندھے ہاتھوں کھول کر۔۔۔۔ نرمی بھرے انداز میں سہلائے تھے۔۔۔۔
زنیشہ کی رسیوں کے نشان سے ہوتی لال کلائیاں دیکھ اُس کی آنکھوں میں خون اُتر آیا تھا۔۔۔۔ مگر حاعفہ کے خیال سے بہت مشکل سے وہ خود پر ضبط کیے کھڑا رہا تھا۔۔۔۔
زوہان نے جائیداد کے وہ جعلی پیپرز بھی کچھ عرصہ پہلے اِس طرح بنوائے تھے۔۔۔ کہ کسی بہت ہی ایکسپرٹ کا پکڑ پانا بھی مشکل ہوجاتا۔۔۔۔ اکرام حنیف بھی اُن کاغذات کی ہر طرح سے جانچ پڑتال کرنے کے بعد اُنہیں نہایت ہی حفاظت سے اپنے کوٹ کی پاکٹ میں سجا گیا تھا۔۔۔۔
“حاعفہ کہاں ہے۔۔۔۔؟؟؟؟”
آژمیر کی آواز میں موجود تڑپ پر زوہان کے سینے سے لگی زنیشہ نے بھی سر اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ کچھ دیر پہلے کی اکرام حنیف کی کہیں باتیں اُس کے دماغ میں گونجنے لگی تھیں۔۔۔۔۔
وہ اب اُس مطلبی اور احسان فراموش لڑکی کے ہاتھوں اپنے بھائیوں کو مزید تکلیف اُٹھاتے نہیں دیکھ سکتی تھی۔۔۔۔
“اپنی بہن سے پوچھو۔۔۔۔ وہ زیادہ اچھے سے بتا سکتی ہے تمہیں۔۔۔۔”
اکرام حنیف کی بات پر آژمیر اور زوہان دونوں نے زنیشہ کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
جس پر زنیشہ بھائی کی تکلیف پر بھیگتی آنکھوں کے ساتھ اکرام حنیف کے منہ سے ادا کی گئی ساری بات اُنہیں بتاتی چلی گئی تھی۔۔۔۔
اکرام حنیف کی نگاہیں آژمیر پر فوکس تھیں۔۔۔ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ آژمیر اِس کہانی پر یقین کرے گا یا اُسے اب کوئی نئی چال چلنی پڑے گی۔۔۔۔
جیسے جیسے زنیشہ بول رہی تھی آژمیر کے چہرے کے نقوش بدلتے جارہے تھے۔۔۔۔ اُس کے رگ و پے میں ایک سکون سا سرایت کرگیا تھا یہ جان کر کہ اُس کی حاعفہ زندہ تھی۔۔۔۔ اُس کے لیے اِس سے بڑھ کر آج کی تاریخ میں کوئی بات ہو ہی نہیں سکتی تھی۔۔۔۔
زوہان نے بھی شکر ادا کیا تھا۔۔۔۔۔ اُس سے بہتر آژمیر کی تکلیف کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا۔۔۔۔۔
“میں یقین نہیں کرسکتا اِس سب پے۔۔۔۔ یہ تمہاری بنائی گئی کوئی کہانی بھی ہوسکتی ہے۔۔۔۔ کوئی ٹھوس ثبوت ہے تو بتاؤ۔۔۔۔ “
آژمیر نے سرد تاثرات کے ساتھ اکرام حنیف کو گھورا تھا۔۔۔ جس نے زنیشہ کی زبانی یہ کہانی اُس تک پہنچائی تھی۔۔۔۔۔۔
“خود پر اتنا بڑا الزام لے کر مجھے کوئی کہانی سنانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ یہ دیکھ لو اپنی آنکھوں سے۔۔۔۔ اِس کے بعد بھی اگر تم سمجھے کہ یہ لڑکی معصوم اور بے قصور ہے تو تم سے بڑا بے وقوف اور عقل کا اندھا اِس پوری دنیا میں کوئی نہیں ہوگا۔۔۔۔۔”
اکرام حنیف نے اُس کا خیر خواہ بنتے موبائل نکال کر اُس پر ریکارڈ کی گئی حاعفہ کی ویڈیو آژمیر کے سامنے لہرائی تھی۔۔۔۔
مہندی کے لباس میں سجی سنوری وہ آژمیر کی تڑپ مزید بڑھا گئی تھی۔۔۔۔ اُس کی پیشانی سے نکلتا خون دیکھ آژمیر نے سختی سے مُٹھیاں بھینچ لی تھیں۔۔۔۔
مگر حاعفہ کے منہ سے نکلنے والے الفاظ آژمیر سمیت، زنیشہ اور زوہان کو بھی ساکت کر گئے تھے۔۔۔۔
“میں آژمیر میران کی زندگی میں صرف ایک دھوکا اور فریب بن کر داخل ہوئی تھی۔۔۔۔ مجھے نہ پہلے اُس شخص سے محبت تھی نہ ہی اب ہے۔۔۔۔ میں نے یہ سب اکرام حنیف کے کہنے پر کیا۔۔۔ پہلے اپنی بہن کی زندگی محفوظ کرنے کے لیے اور اب اپنی۔۔۔۔ کیونکہ مجھے آژمیر سے شادی نہیں کرنی۔۔۔۔ جو شخص مجھے ایک جگہ قید کرکے۔۔۔ اور اپنے سہارے باندھ کر رکھے مجھے ایسا مرد نہیں چاہیئے۔۔۔۔ اور میں یہ بھی جانتی ہوں کہ آژمیر میران کو مجھ سے محبت نہیں ہے۔۔۔۔ بلکہ کوئی شریف مرد کسی طوائف زادی سے نہ ہی محبت کرسکتا ہے اور نہ اُسے اپنی بیوی بنا سکتا ہے۔۔۔۔
اتنا بڑا ظرف آج کل کسی مرد میں بھی نہیں ہے۔۔۔ میرے نام کے ساتھ قاسم میران کا نام ہی کیوں نہ جڑا ہو۔۔۔ میری ساری زندگی تو ایک کوٹھے میں ذلت اور رسوائی کے زیرِ اثر ہی گزری ہے۔۔۔۔۔
اور ویسے بھی آژمیر میران کا میری زندگی میں کوئی مقام نہیں ہے۔۔۔۔ جس شخص کو میں اپنے ہاتھوں ختم کرنا چاہتی تھی اور آج بھی اپنے پیچھے موت کے منہ میں دھکیل رہی ہوں۔۔۔ بھلا اُس کی جگہ میرے دل میں تو دور کی بات میری زندگی میں بھی کیسے ہوسکتی ہے۔۔۔۔۔
مجھے صرف اُن پیسوں سے غرض تھا۔۔۔۔ جو مجھے اب مل چکے ہیں۔۔۔۔ اب میں آگے کی زندگی کسی کے بھی سائے تلے نہیں بلکہ آزاد گزارنا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔”
حاعفہ مضبوط اور بے لچک لہجے میں بنا رکے بول رہی تھی۔۔۔ اور اُس کی آنکھیں بھی اُس کے الفاظ کا پورا ساتھ دے رہی تھیں۔۔۔۔ دیکھ کر کہیں سے بھی نہیں لگ رہا تھا کہ کسی نے یہ سب حاعفہ سے زبردستی بلوایا ہو۔۔۔۔
زنیشہ آژمیر کے چہرے پر تکیلف کے آثار دیکھ بلک بلک کر رو دی تھی۔۔۔۔
آخر ہمیشہ اُس کے بھائی کے ساتھ ہی یہ سب کیوں ہوتا تھا۔۔۔۔ آژمیر مٹھیاں بھینچے پتھریلی نگاہوں سے یک ٹک ایک ہی جگہ کو گھور رہا تھا۔۔۔۔
زوہان آژمیر کی جانب پلٹا تھا۔۔۔۔ دونوں کی نگاہیں چار ہوئی تھیں۔۔۔۔ اور اگلے ہی لمحے وہ نگاہیں پھیرتے اکرام حنیف پر گاڑھ گئے تھے۔۔۔
“یہ لڑکی میری سب سے بڑی گنہگار ہے۔۔۔۔ تم سے بھی زیادہ۔۔۔ ایک بار میں دل کے ہاتھوں مجبور اِسے معاف کرچکا ہوں۔۔۔ مگر اب ایسی بے وقوفی کرکے اِسے اپنے دل سے دوبارہ کھیلنے کا موقع نہیں دے سکتا۔۔۔۔ میں اِسے اپنے ہاتھوں سے ختم کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔ اگر تم مجھے ایسا کرنے دو تو آج کے دن تمہاری جان بخشی ہو سکتی ہے۔۔۔۔”
آژمیر ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولتا زنیشہ کو خوفزدہ کرگیا تھا۔۔۔۔
“لالہ نہیں پلیز یہ غلط ہے۔۔۔۔ آپ ایسا کچھ نہیں کریں گے۔۔۔۔ زوہان پلیز روکیں نا لالہ کو۔۔۔۔”
زنیشہ اپنے بھائی کو قتل کرنے نہیں دینا چاہتی تھی۔۔۔ اُسے خود اِس وقت حاعفہ سے شدید نفرت محسوس ہورہی تھی۔۔۔۔ مگر آژمیر کے ہاتھ خون سے رنگتے نہیں دیکھنا چاہتی تھی وہ۔۔۔۔
“وہ جو کرنے جارہا ہے اُسے کرنے دو۔۔۔۔”
زوہان نے سرد لہجے میں وارن کرتے زنیشہ کو وہیں خاموش کروا دیا تھا۔۔۔۔
وہ دونوں بھائی ایک دوسرے کو جتنا اچھے سے سمجھتے تھے۔۔۔۔ شاید آج تک اتنا اُنہیں کوئی نہیں سمجھ پایا تھا۔۔۔۔
“ٹھیک ہے۔۔۔ میں تمہاری بات ماننے کو تیار ہوں۔۔۔ مگر جب تک تم اُس لڑکی کو ختم نہیں کردیتے۔۔۔ یہ دنوں میرے نشانے پر ہونگے۔۔۔۔ بنا کسی ہتھیار کے۔۔۔۔۔”
اکرام حنیف نے بھی ثابت کردیا تھا کہ وہ کوئی کچا کھلاڑی نہیں تھا۔۔۔۔
“ٹھیک ہے۔۔۔۔ مجھے منظور ہے۔۔۔۔۔”
آژمیر نے کچھ بولنا چاہا تھا۔۔ مگر اُس سے پہلے ہی زوہان نے حامی بھر لی تھی۔۔۔۔
وہ آژمیر کی خاطر اپنی جان داؤ پر لگا رہا تھا۔۔۔۔ کیونکہ اکرام حنیف کا کوئی بھروسہ نہیں تھا۔۔۔وہ وعدہ کرنے کے باوجود بھی اُن پر گولی چلا سکتا تھا۔۔۔۔
زنیشہ نے حیرت بھری نگاہوں سے اُن دونوں کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ جو ایک پل کے لیے ایک دوسرے کی جان لینے کو تیار رہتے تھے اور اگلے ہی پل ایک دوسرے کی خاطر جان قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے۔۔۔۔۔
اِن دونوں کے اِس انوکھے رشتے کو سمجھنا اُس کے لیے زندگی کا سب سے مشکل ترین کام تھا۔۔۔۔
آژمیر نظروں ہی نظروں میں زوہان کو کوئی اشارہ کرتے اکرام حنیف کے آدمی کے ساتھ وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔۔
@@@@@@@@@@
آژمیر اکرام حنیف کے آدمی کے ساتھ ہی دوسرے کمرے میں داخل ہوا تھا۔۔۔۔۔
جہاں سامنے ہی اُس کی دشمنِ جاں چہرا گھٹنوں پر گرائے بازو اپنے گرد مضبوطی سے پھیلائے بیٹھی تھی۔۔۔۔۔
آژمیر کی اپنی گن پر گرفت مزید تیز ہوئی تھی۔۔۔۔
آہٹ پر حاعفہ نے سر اُٹھا کر اُوپر دیکھا تھا۔۔ اور پھر اُس کے لیے جیسے دنیا تھم گئی تھی۔۔۔
آژمیر جن نگاہوں سے اُسے دیکھ رہا تھا حاعفہ سمجھ چکی تھی کہ وہ اُس کی ریکارڈنگ سن چکا ہے۔۔۔۔ جس کے بعد نفرت کے سوا آژمیر کے دل میں اُس کے لیے کسی اور جذبے کا بچنا ناممکن سی بات تھی۔۔۔۔۔
حاعفہ اپنی جگہ سے اُٹھی تھی۔۔۔۔۔ اُس کا پورا وجود لرز رہا تھا۔۔۔۔
اُس اپنی موت سے زیادہ آژمیر کی آنکھوں میں اپنے لیے نفرت دیکھنے کا غم کھائی جارہا تھا۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔