Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

اُس کے ہر اُٹھتے قدم کے ساتھ پائل کی چھن چھن کی آواز سنسان پڑے کوریڈور میں ایک ارتعاش سا پیدا کررہی تھی۔ اُسے آج پھر پور پور سجایا گیا تھا کسی نامحرم کے لیے۔ کل کے اُس کے رقص میں اِسی شخص نے اُس کی سب سے بڑی بولی لگائی تھی۔ اتنی بڑی قیمت شاید ہی آج تک کبھی کسی طوائف کی لگائی گئی ہو۔ پورے کوٹھے پر اُس کی واہ واہ کی جارہی تھی، نگینہ بائی اُس کے واری صدقے جارہی تھیں۔ وہ تو پہلے ہی اُسے اپنے کوٹھے کی ملکہ بلاتی تھیں۔ اُس کا دوآتشہ حُسن تھا ہی ایسا، مومی مجسمے پر ایک نظر ڈالنے کے بعد اگلا شخص اُس کے قدموں میں ڈھیر ہوئے بنا نہیں رہ پاتا تھا۔
آج تو اُس کا قیامت خیز رُوپ مزید اپنے حُسن کا قہر ڈھانے کو تیار تھا۔
مگر اِس وقت اُس نے اپنے حُسن کی تباہ کاریوں کو ایک سیاہ چادر میں چھپا رکھا تھا۔ جسے اُس نے اپنے آج رات کے خریدار کے آگے ہی آشکار کرنا تھا۔
اُس نے سرد و سپاٹ تاثرات کے ساتھ نیم تاریک خواب گاہ میں قدم رکھا تھا۔ یہ اِس محل نما گھر کے مالک کا کمرہ تھا شاید، وہ تاریکی میں بھی اِس بات کا اندازہ لگا سکتی تھی۔ پورے بیڈ روم میں جگہ جگہ رنگ برنگے دیے روشن تھے۔ جو اُس کمرے کی خوابناکی اور رومانوی ماحول میں مزید اضافہ کررہے تھے۔
اُس نے کمرے کے چاروں اطراف نظریں گھمائی تھیں۔ جب اُس کی نظر سامنے کرسی پر بیٹھے شخص پر پڑی تھی۔ اُس کے ہاتھ میں شراب کا گلاس تھا، مگر رُخ مخالف سمت ہونے کی وجہ سے وہ اُس کا چہرا نہیں دیکھ پائی تھی۔ نہ ہی اُس کے اندر ایسی کوئی خواہش تھی۔
“خوش آمدید حاعفہ، آخر تم میری دسترس میں آہی گئی۔ پہلے بتاتی تمہاری یہ اوقات ہے،تو بہت پہلے تمہیں پیسوں سے خرید لیتا، یہ کام تو کبھی میرے لیے مشکل نہیں تھا۔”
وہ شخص بنا رُخ اُس کی جانب موڑے بولی جارہا تھا۔ جبکہ حاعفہ اِس جانے پہچانے لب و لہجے پر اپنی جگہ گنگ کھڑی تھی۔ جس شخص کا سامنا کرنے سے پہلے وہ موت کو گلے لگانا پسند کرتی، اُس کے یہاں ہونے کا تصور اُس کے وجود سے جان نکال گیا تھا۔ اُس کے دل نے شدت سے خواہش کی تھی۔ کاش یہ اُس کا وہم ہو، نہیں وہ شخص بھلا یہاں کیسے ہوسکتا تھا۔
”کک۔۔۔۔کون۔۔۔؟“
یہ لفظ ادا کرتے اُس کی زبان ہکلا گئی تھی۔
مگر جیسے ہی اُس شخص نے اپنی جگہ سے اُٹھ کر رُخ اُس کی جانب موڑا۔ حاعفہ کی نگاہوں میں پورا کمرا گھوم گیا تھا۔ اُس کے لیے اپنے قدموں پر کھڑا ہونا مشکل ہوگیا تھا۔
“کیا ہوا یقین نہیں آرہا مجھے زندہ دیکھ۔۔۔۔۔تمہارے مطابق تو مر چکا ہونگا نا میں۔۔۔۔۔؟”
اُس شخص کی سرد منجمند کرتی آواز حاعفہ کے کانوں سے ٹکراتی اُس کا رنگ فق کر گئی تھی۔
وہ اِس وقت سیاہ کلف لگے لباس میں کندھوں پر ڈارک براؤن شال ڈالے اپنی سحر انگیز شاندار پرسنیلٹی کے ساتھ اُسے لہو رنگ انتقامی نظروں سے سر سے لے کر پیر تک دیکھتا زمین میں گاڑھ گیا تھا۔
”اِس سے پہلے کتنوں کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔“
حاعفہ کی نم آنکھیں اُوپر اُٹھانے پر وہ اپنا جملہ ادھورا چھوڑ گیا تھا۔ مگر وہ ادھوارا جملہ بھی اتنا نوکیلا تھا کہ حاعفہ کو اپنا دل لہولہان ہوتا محسوس ہوا تھا۔
”کیا ہوا ایک طوائف زادی سے اِس کے علاوہ اور کیا سوال کرسکتا ہوں میں۔۔۔۔۔۔؟“
زہر خند لہجے میں بولتا وہ اُس کے بہت پاس آن پہنچا تھا۔ حاعفہ پتھر بنی اپنی جگہ پر جم چکی تھی۔
مگر اگلے ہی لمحے اُس آگ اُگلتے شخص کی جارحانہ کاروائی پر حائفہ کی آنکھ سے آنسو نکلتے بے مول ہوئے تھے۔ جن کی اب مقابل کے آگے کوئی قیمت نہیں تھی۔
اُس نے حاعفہ کی کلائی موڑ کے کمر سے لگائی تھی۔ اُسے اپنی کلائی ٹوٹتی محسوس ہوئی تھی۔ مگر وہ کچھ بھی بول کر اِس بپھرے زخمی شیر کے غصے کو مزید ہوا نہیں دینا چاہتی تھی۔
”کیوں کیا میرے ساتھ اتنا بڑا دھوکا۔۔۔۔۔صرف پیسوں کے لیے؟؟؟۔۔۔۔۔۔تم ایک بار بولتی میں دنیا کی ہر چیز تمہارے قدموں میں ڈھیر کر دیتا، مگر تم نے تو مجھے انسان سے وحشی بنا کر وہ نقصان کیا ہے، جس کی کبھی بھرپائی نہیں ہوسکے گی۔۔۔۔۔“
اُس نے اپنی بات ختم کرتے حاعفہ کو کسی اچھوت شے کی طرح دھکا مارتے دور پھینکا تھا۔
اُس کے اتنے ناروان سلوک کے باوجود حاعفہ کے منہ سے زرا سی آواز تک نہیں نکلی تھی۔ ابھی یہ تو کچھ بھی نہیں تھا۔ اِس شخص کی قہر برساتی نگاہیں بتا رہی تھیں کہ جو کچھ وہ اِس کے ساتھ کرچکی تھی، اُس کی سزا بہت اذیت ناک ہونے والی تھی۔
@@@@@@@@

پورے میران پیلس کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔ آج اُس خاندان کی لاڈلی بیٹی کی مہندی تھی۔ ہر طرف بجتی شہنائیاں، اشتہار انگیز کھانوں کی خوشبو اور ہنستے مسکراتے خوبصورت چہرے ماحول کو چار چاند لگا رہے تھے.
میران پیلس کے بڑے سے لان میں مردوں کے بیٹھنے کا اہتمام کیا گیا تھا جہاں محفل موسیقی جاری تھی۔ جبکہ سب خواتین کے لیے اندرورنی حصے میں ہی ساری ارینجمنٹس کی گئی تھیں۔ بڑے سے ہال کمرے میں پیلی چادریں بچھائی گئی تھیں۔ جس کے وسط میں لڑکیاں بیٹھی ڈھولکی رکھے مختلف گانوں پر سُر بکھیر رہی تھیں۔ رقص کی شوقین لڑکیاں اور خاندان کی باقی عورتیں اُن کے اردگرد دائرے کے شکل میں لڈی اور ڈانس کرتی محفل کو مزید دوبالا کررہی تھیں۔ ہر طرف خوشیاں تھیں، مسکراہٹیں تھیں۔
مگر کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ ایسے میں ایک ہستی ایسی بھی تھی جو زندگی اور موت کی کشمکش میں اپنی سوچوں میں اُلجھی بیٹھی تھی۔ اُس سے فیصلہ نہیں ہوپارہا تھا کہ زندگی کے اِس موڑ پر موت کو گلے لگانا ٹھیک تھا۔۔۔ یا زندگی کو تھوڑی مہلت اور ملنی چاہیئے تھی.
لیکن جو آگے چل کر اُس کے ساتھ ہونے والا تھا۔ وہ اُسے اپنے لیے موت سے بھی بدتر سمجھتی تھی۔
کچھ دیر اِسی سوچ کے زیرِ اثر رہنے کے بعد اُس کی ویران آنکھیں ایک فیصلے پر پہنچ کر چمک اُٹھی تھیں۔۔۔۔
اِس سے بہتر فیصلہ اُس کے لیے کوئی نہیں ہوسکتا تھا۔
نیچے ہال میں ابھی بھی ویسا ہی ماحول جما ہوا تھا۔ رونق میلا اپنے عروج کو پہنچ چکا تھا۔ جب اچانک وہاں ملازمہ کی دی جانے والی خبر نے ہر طرف سناٹا طاری کردیا تھا۔
“بی بی سرکار۔۔۔۔ بی بی سرکار۔۔۔غضب ہوگیا۔۔۔”
نوراں بھاگتی ہوئی ہال میں ایک جانب سجے سنورے لکڑی کے تخت پر بیٹھی شمسہ بیگم کے پاس آئی تھی۔ اُن نے دل پر ہاتھ رکھتے دہل کر ملازمہ کی جانب دیکھا تھا۔ اُن کے اشارے پر میوزک رک چکا تھا۔ ملازمہ کے ہوائیاں اُڑاتے چہرے سے لگ رہا تھا، بات چھوٹی بالکل بھی نہیں تھی.
کسی انہونی کے خیال سے اُن کا دل دھڑک اُٹھا تھا۔
“کیا ہوا نوراں؟”
اُن کے ساتھ ساتھ باقی سب کی نظریں بھی نوراں پر ٹکی ہوئی تھیں۔۔۔
“بی بی سرکار وہ۔۔۔وہ۔۔۔۔ زنیشہ بی بی۔۔۔”
نوراں پھولی سانس کے ساتھ الفاظ ادا ہی نہیں کر پارہی تھی۔ اُس کا پورا وجود تھر تھر کانپ رہا تھا۔
“کیا ہوا زنیشہ کو۔۔۔؟”
فضیلا بیگم کے دل پر ہاتھ پڑا تھا۔ وہ بھی آگے بڑھی تھیں۔
“اُن۔نن۔۔۔ اُنہوں نے زہر لے لی۔۔۔”
نوارں کے الفاظ تھے یا آسمان ٹوٹا تھا میران پیلس پر۔۔۔۔ سب خواتین پھٹی پھٹی نظروں سے نوراں کی جانب دیکھ رہی تھیں۔
ہال کے دروازے پر کھڑے سرفراز کے کانوں تک بھی یہ بات پہنچ چکی تھی۔ وہ اُنہیں قدموں پر باہر کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔
جس لڑکی کی شادی پر کچھ دیر پہلے شہنائیاں بج رہی تھیں۔ اب کچھ لمحوں بعد اُسی کی وجہ سے وہاں صفحہ ماتم بچھ گیا تھا۔۔۔۔
گھر کے مرد حضرات بھی یہ خبر ملتے بھاگے اندر آئے تھے۔ اور زنیشہ کو فوری طور پر ہاسپٹل لے جایا گیا تھا۔ کچھ دیر پہلے کے کھلے چہرے اب مرجھا چکے تھے۔
بہت سوں کے چہرے پر آنے والے وقت کا سوچ کر تفکر نمایاں تھا۔ کوئی نہیں سوچ سکتا تھا کہ زنیشہ کی اِس حرکت کے بعد آنے والا طوفان کتنی بڑی تباہی لا سکتا تھا۔۔۔
ملک آژمیر میران تک بھی یہ خبر پہنچا دی گئی تھی۔ وہ کسی بھی وقت پہنچ سکتا تھا۔ جس کے بعد کیا کیا ہوسکتا یہ سوچ ہی اُن سب کے دل لرزانے کے لیے کافی تھی۔
زنیشہ کی حالت کافی سیریس تھی، اُس کو فوری طور پر آئی سی یو لے جایا گیا تھا۔۔۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ لڑکی اتنا بڑا قدم اُٹھا سکتی تھی۔ مگر اب جو ملک آژمیر میران اُس کے اِس اقدام کے بعد کرنے والا تھا یہ بات بھی اُن سب کی سانسیں روکے ہوئی تھی۔

@@@@@@@@@

“سچی محبت کرتے ہو مجھ سے۔۔۔۔”
وہ معصوم شہزادی سامنے کھڑے شخص کی جانب اُمید بھری نظروں سے دیکھتے ہولے سے مسکائی تھی۔ جس پر اُس کے روئی جیسے گالوں پر پڑنے والی گڑھے نمایاں ہوئے تھے۔ یہ دل موہ لیتا منظر سامنے کھڑے شخص کی دھڑکنیں تیز کر گیا تھا۔
“محبت نہیں عشق ہے تم سے۔۔۔۔ چاہو تو آزما لو۔۔۔ کبھی پیچھے ہٹتا نہیں پاؤ گی۔۔۔۔”
اُس کے گلابیاں چھلکاتے نرم و ملائم ہاتھ اپنی گرفت میں لیتے وہ اُس کی اُمید پر کھڑا اُترا تھا۔ اُس معصوم شہزادی کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی۔ جس سے اُن خوبصورت گڑھوں کی دلکشی مزید اُجاگر ہوئی تھی۔
“مجھے دھوکا تو نہیں دو گے نا۔۔۔۔۔”
وہ معصوم شہزادی جیسے ابھی بھی مقابل کے جواب سے مطمئین نہیں لگ رہی تھی۔ شاید اُس کا دل اُس سامنے کھڑے شخص کی باتوں پر ایمان نہیں لاپارہا تھا۔
“کبھی نہیں۔۔۔۔ اپنی سانسوں سے دھوکا کر جاؤں گا۔۔۔ مگر تم سے کبھی نہیں۔۔۔۔”
اُس نے معصوم شہزادی کی اُداس کانچ سی سبز آنکھوں میں جھانکتے اپنے سچے ہونے کا یقین دلایا تھا۔
“کیا تمہاری دنیا والے مجھے قبول کر لیں گے؟؟؟”
یہ بات پوچھتے اُس معصوم شہزادی کی آنکھوں میں نمی جھلملا گئی تھی۔ جسے اُس نے پلکیں جھپکتے اندر دھکیل دیا تھا۔
اُس کے اندر کچھ ایسا تھا جو اُسے چین لینے نہیں دے رہا تھا۔ وہ ٹھیک سے خوش نہیں ہوپارہی تھی۔
“کیا تمہارے لیے اتنا کافی نہیں کہ میں نے قبول کرلیا تمہیں۔۔۔؟؟”
مقابل اُسے کسی بھی طرح مطمئین کرنا چاہتا تھا۔۔۔
“لیکن اگر تمہیں مجبور کردیا گیا مجھے چھوڑنے کے لیے تو مجھے چھوڑ دو گے۔۔۔۔؟”
وہ پھر سے اُداس ہوئی تھی.۔۔۔۔
شاید اُس کے لیے کسی بھی مرد پر بھروسہ کرنا زندگی کا سب سے مشکل ترین کام تھا. اُسے دھوکے سے، تنہا رہ جانے سے سب سے زیادہ ڈر لگتا تھا۔
قسمت کے کھیلے جانے والے کھیل سے انجان وہ مقابل کے تسلی دیتے الفاظ پر بجھے دل سے یقین کرتی مسکرا دی تھی۔۔۔۔۔۔
@@@@@@@@@

تار کول کی سیاہ دور تک بچھی سڑک پر پانچ گاڑیوں کا قافلہ اردگرد کی ہر شے ہوا کے دوش پر اُڑاتا اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھا۔ جیسے اُن کے مالک کو اپنی منزل پر پہنچنے کی بہت جلدی ہو۔۔
راستے میں آئی کسی بھی چیز کی پرواہ کیے بنا وہ قافلہ آگے سے آگے بڑھتا جارہا تھا۔۔۔۔
وہ بہت ہی خوبصورت پہاڑی راستہ تھا۔ جس کے ایک جانب بہت ہی خوبصورت جھیل بہہ رہی تھی۔۔جبکہ دوسری جانب سرسبزے سے ڈھکی اونچی اونچی پہاڑیاں واقع تھیں۔ اُس روڈ پر سفر کرنے والوں کے لیے یہ بہت ہی حسین نظارہ ہوتا تھا۔ لیکن اِس وقت اُس گاڑی میں سوار شخص کے اعصاب ناقابلے یقین حد تک تنے ہوئے تھے۔ اُنگلیوں میں دبا سگریٹ جل کر راکھ ہوتا اُس کی اُنگلیوں کو بھی جلا گیا تھا۔ مگر اُس شخص کو تو اِس تکلیف کی پرواہ تک نہیں تھی۔ نہ اُنگلیوں کو جلاتے سگریٹ کی پرواہ تھی اور نہ ہی آس پاس سے دوڑتے بھاگتے حسین مناظر اُس کے بے تاثر چہرے پر کوئی خوشگواریت لا پائے تھے۔
یہ حسین وادیاں آزاد کشمیر کے شہر مظفر آباد کے سب خوبصورت گاؤں نیاز پورا کی جانب جاتی تھیں۔ وہ شخص بھی جلد از جلد وہاں پہنچ جانا چاہتا تھا۔

@@@@@@@@@

وہ واش روم سے شاور لے کر نکلی تھی۔ اُس کا نازک کومل بدن وائٹ کلر کی نائٹی میں مزید رعنائیاں بکھیرتا دیکھنے والے کے ہوش گم کرنے کے لیے کافی تھا۔ مگر اُس کا دیدار کرنا بہت کم خوش قسمت دعویداروں کے نصیب میں آتا تھا۔ اُس تک رسائی حاصل کر پانا ہر ایک کی بس کی بات نہیں تھی۔ نگینہ بائی کے اِس کوٹھے پر سب سے زیادہ بولی اُسی کی لگائی جاتی تھی۔
اِسی بات نے اُسے کافی مغرور بنا دیا تھا۔ پر غرور بھی اُس حُسن کی ملکہ پر جچتا تھا۔ اُس کی کانچ سی شہد آگہیں نگاہیں اتنی قاتلانہ تھیں کہ دیکھنے والا اُن کے وار سے بچ نہیں پاتا تھا۔ اُسے لوگوں کو اپنا دیوانہ بنانا اچھے سے آتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اِس کوٹھے پر راج کرتی تھی۔۔۔ وہاں کی باقی تمام لڑکیاں اُس کے بے پناہ حُسن سے خار کھاتی تھیں۔ جو اپنی مرضی کی مالک تھی۔۔۔ بہت کم وہ رقص کرتی تھی۔ وہ بھی اُس وقت جب اُس کا موڈ ہوتا تھا۔ مگر جس دن اُس کا رقص ہوتا شہر بھر کے تمام شرفاء شرکت ضرور کرتے۔۔۔۔
“رانی صاحبہ آپ کا لباس تیار کردیا ہے میں نے۔۔۔۔”
وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی اپنے گداز ہاتھوں پیروں پر لوشن سے مساج کررہی تھی۔ جب ملازمہ اُس کی ساری چیزیں تیار کرتی اُس سے مخاطب ہوئی تھی۔
اُسے اُس کے مزاج اور ادا و انداز کی وجہ سے رانی صاحبہ کہہ کر ہی پکارا جاتا تھا۔ اُس کے ناز نخرے رانیوں سے کم کے بھی نہیں تھے۔ کسی سے دبنا اُس نے سیکھا ہی نہیں تھا۔ سوائے ایک انسان سے اور وہ تھیں اُس کی نگینہ بائی۔۔۔۔ جن کے ہاتھ میں اُس کی ایک ایسی کمزوری تھی۔۔۔۔ جس کی خاطر حاعفہ ہر بار اُن کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوجاتی تھی۔ اُس کی زندگی کی سب سے بڑی کمزوری تھی جس کی خاطر وہ اپنی جان بھی اُن کی ہتھیلی پر رکھنے سے باز نہ آتی۔۔۔۔
@@@@@@@@

گولڈن فل کام والے شرارے میں وہ اپنے قیامت خیز حُسن کے ساتھ غضب ڈھا رہی تھی۔ اُوپر سے اُس کا اداؤں بھرا رقص نجانے کتنوں کے دلوں پر کاری وار کر گیا تھا. مگر وہ مغرور حسینہ اپنی اداؤں کا جادوں چلاتی واپس اپنی خواب گاہ میں لوٹ آئی تھی۔ کسی کی جرأت نہیں تھی اُس کی مرضی کے بغیر اُس کے قریب آئے۔۔۔
اُس کی ایک بات تھی جو شاید ہر شخص کی توجہ مزید اپنی جانب کھینچی تھی۔ کہ اُس نے ہمیشہ پورا لباس پہنا تھا. اُس کے رقص کے دوران وہ خود کو بھاری لہنگے اور دوپٹے میں ایسا کور رکھتی تھی کہ دیکھنے والے کا دل مزید للچا جاتا تھا۔ اُوپر سے اُس کے قاتلانہ اداؤں بھرے نین نقش جلدی پر تیل کا کام کرتے تھے۔ اُس اپسرا کی مانگ ہر رقص کے بعد بڑھ جاتی تھی. مہینے میں اُس کا رقص صرف دو بار ہی ہوتا تھا۔ جس پر نگینہ بائی اپنی جھولی اچھی طرح بھر لیتی تھیں۔ وہ اُن کی سونے کی چڑیا تھی جسے وہ ہمیشہ کے لیے اپنے پنجرے میں قید رکھنا چاہتی تھیں۔
حاعفہ سنگھار میز کے سامنے بیٹھی تھی۔ اُس کی خاص ملازمہ اُس کی جیولری اُتار رہی تھی۔ جب اچانک اُس کے کانوں میں کسی کی دل دہلا دینے والی چیخیں پڑتی اُس کی سانسیں روک گئی تھیں۔ حاعفہ نے جھٹکے سے آنکھیں کھولی تھیں۔
“یہ۔۔۔ یہ۔۔۔ آواز تو میری۔۔۔ میری ماورا کی ہے۔۔۔۔”
حاعفہ یہ آواز لاکھوں میں بھی پہچان سکتی تھی. اُس کے جینے کی اکلوتی وجہ تھی وہ۔۔۔۔
حاعفہ ملازمہ کے ہاتھ جھٹکتی باہر کی جانب بھاگی تھی۔۔۔۔ جہاں باہر دونوں بر آمدے لڑکیوں سے بھرے پڑے تھے۔ نگینہ بائی کے کمرے کا دروازہ بند تھا۔ مگر سب کے کان اور آنکھیں اُدھر ہی ٹکی ہوئی تھیں۔
اندر سے آتی ماورا کی چیخیں حاعفہ کا دل چیڑ گئی تھیں۔۔۔ وہ لڑکیوں کو سائیڈ پر کرکے راستہ بناتی آگے بڑھی تھی۔ اور نگینہ بائی کے کمرے کا دروازہ دھکیل کر سیدھی اندر گھسی تھی۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔