Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

“یی یس سر۔۔۔ آئم اوکے۔۔۔۔۔”
حاعفہ آژمیر کے اتنے سنجیدہ تاثرات دیکھ بمشکل بول پائی تھی۔۔۔۔
“آپ کو جو فائل بھجوائی گئی تھی وہ ریڈی ہوگئی۔۔۔۔؟”
آژمیر اُس کے سامنے کرسی پر براجمان ہوتا کام کے متعلق پوچھنے لگا تھا۔۔
“نو سر ابھی رہتی ہے۔۔۔۔”
حاعفہ اُس کی خود پر اُٹھتی نگاہوں سے گھبراتی نم ہوتی ہتھیلیوں کو بھینچ گئی تھی۔۔۔
“اوکے۔۔۔ اُس میں کچھ چینجنگز کرنی ہیں۔۔۔ دیکھائیں فائل میں آپ کو بتا دیتا ہوں۔۔۔۔”
آژمیر عام سے لہجے میں بولتا اُس سے فائل کے متعلق استفسار کرنے لگا تھا۔۔۔۔
“جی سر۔۔۔۔”
حاعفہ نے اپنے سامنے ہی رکھی فائل اُس کے آگے کی تھی۔۔۔ اور ساتھ ہی پین بھی اُسے تھمانے کے لیے بڑھایا تھا۔۔۔ حاعفہ کے ہاتھ بُری طرح لرز رہے تھے۔۔ جیسے ہی آژمیر نے پین تھامنے کے لیے ہاتھ بڑھایا حاعفہ کا ہاتھ بے دھیانی اور بوکھلاہٹ میں اُسے ٹچ کر گیا تھا۔۔۔۔
حاعفہ کے پورے وجود میں برقی رو سی دوڑ گئی تھی۔۔۔ اُس نے تیزی سے ہاتھ واپس کھینچا تھا۔۔
آژمیر نے خاموشی نگاہوں سے اُس کی یہ ساری حرکتیں نوٹ کی تھیں۔۔۔۔
“اینی پرابلم مس حاعفہ۔۔۔۔ آپ کی طبیعت ٹھک ہے اب؟؟؟”
آژمیر اُس کا لرزنا، کانپنا اور سُرخ پڑتا چہرا نوٹ کرچکا تھا۔۔۔ اِس لیے اپنے سامنے کھلی فائل بند کرتا بغور اُس کی جانب دیکھتا حاعفہ کو پہلے سے بھی زیادہ کنفیوژ کر گیا تھا۔۔۔
وہ اچھی بھلی دوسروں کو اپنے اشاروں پر نچانے والی کانفیڈنٹ لڑکی اِس ایک شخص کے سامنے آتے خود ہی پاگل ہوجاتی تھی۔۔۔ آژمیر میران کی شخصیت کے سحر میں وہ پور پور ڈوبتی باقی ہر کام کے لیے ناکارہ ہورہی تھی۔۔۔۔ اُسے یہاں آژمیر کو اپنی محبت اور حُسن کے جال میں اُلجھانے بھیجا گیا تھا۔۔۔
مگر وہ تو اُلٹ ہی کر بیٹھی تھی۔۔۔۔
“یس سر میں ٹھیک ہوں۔۔۔”
حاعفہ اُس کی نگاہوں کے ارتکاز سے گھبراتے بولی۔۔۔ جبکہ آژمیر کی نگاہیں تو اُس کی صبیح پیشانی پر آئےکٹ کے نشان پر جمی ہوئی تھیں۔۔۔
“یہ فائل لے کر میرے آفس میں آئیں۔۔۔۔ وہیں ڈسکس کرتے ہیں۔۔۔۔”
آژمیر اُس کی کیفیت گہری نظروں سے دیکھتا وہاں سے اُٹھ گیا تھا۔۔۔۔
اُس کے جاتے ہی حاعفہ نے کب سے روکی سانس ہوا میں خارج کی تھی۔۔۔۔
“اُف میرے خدا۔۔۔۔ یہ کوئی انسان ہے یا جادوگر۔۔۔۔ اِس کی ایک نظر ہی ہلا کر رکھ دیتی ہے۔۔۔۔ میں کیسے اِسے اپنی اداؤں کا دیوانہ بناؤں۔۔۔ یہ شخص تو لمحہ با لمحہ مجھے اپنا اسیر کیے جارہا ہے۔۔۔۔”
حاعفہ ایک عجیب سے کشمکش میں پھنس چکی تھی۔۔
اُسی لمحے اُس کا موبائل بجا تھا۔۔۔ سکرین پر اُسی شخص کا نمبر جگمگا رہا تھا۔۔۔۔ جو اُسے آژمیر کے حوالے سے اُس کے کام سے آگاہ کرتا تھا۔۔۔
“آژمیر میران کو آپ پر شک ہوچکا ہے۔۔۔ اُس نے اپنے دو آدمیوں کو آپ کی معلومات حاصل کرنے کے لیے لگایا ہے۔۔۔۔ جس کو فلحال تو ہم نے ہینڈل کرلیا ہے۔۔۔ مگر آژمیر میران چپ بیٹھنے والا نہیں ہے۔۔۔ اُسے اگر زرا سی بھی بھنک پڑ چکی ہے تو وہ معاملے کی تحقیق ہر حال میں کروا کر رہے گا۔۔۔۔ آپ کا کام بہت سول چل رہا ہے۔۔۔۔ جلد از جلد اپنا مقصد پورا کریں۔۔۔ کیونکہ اگر آژمیر کو آپ کی اصلیت پتا چل گئی تو وہ کسی قیمت پر نہیں چھوڑے گا۔۔۔۔”
وہ آدمی اپنی بات کہہ کر فون رکھ چکا تھا۔۔۔ جبکہ حاعفہ اُسی پوزیشن میں فون کان سے لگائے بیٹھی رہی تھی۔۔۔
اُس کے بنا کچھ کیے ہی آژمیر کو اُس پر شک ہوچکا تھا۔۔۔ حاعفہ کی ایک ایک حرکت پر جس طرح نظر رکھی جارہی تھی۔۔۔ حاعفہ چاہ کر بھی آژمیر کو کچھ نہیں بتا سکتی تھی۔۔۔ اگر بتاتی تو اُس کے ساتھ ساتھ ماورا کی جان کو بھی خطرہ تھا۔۔۔ ماورا پر تو زرا سی خراش آتی برداشت نہیں تھی اُسے۔۔۔۔
@@@@@@@
“ہم سب اچھے سے جانتے ہیں اکرام حنیف کوئی عام آدمی بالکل بھی نہیں ہے۔۔۔۔ اُس کے کتنے خطرناک لوگوں کے ساتھ تقلقات ہیں اِس بات سے کوئی ناواقف نہیں ہے۔۔۔ اللہ کا شکر ہے کہ اُس کے پہلے وار سے بنا کسی بڑے نقصان سے دوچار ہوئے زنیشہ کو آژمیر اور زوہان نے بچا لیا۔۔۔۔ مگر ضروری نہیں قسمت ہر بار قسمت ہمارا ساتھ دے گی۔۔۔
اِس سے پہلے کہ وہ گھٹیا شخص دوبارہ کچھ کرے۔۔۔ ہمیں زنیشہ کی حفاظت کے لیے اہم اقدامات کرنے ہونگے۔۔۔۔ یوں ہاتھ پر ہاتھ دھرے رکھ کر نہیں بیٹھ سکتے ہم۔۔۔۔۔”
قاسم میران کے چہرے پر فکر کی لکیریں نمایاں تھیں۔۔
اِس وقت ہال کمرے میں گھر کے تمام بڑے موجود سب سے گھمبیر اور پریشان کن معاملے پر غورو فکر کررہے تھے۔۔۔
اکرام حنیف واپس آچکا تھا۔۔۔ اور اُس کے ارادے نیک بالکل بھی نہیں تھے۔۔۔ کہنے کو تو وہ زنیشہ کا سگا باپ تھا مگر درحقیقت اُسی سے ہی زنیشہ کو سب سے زیادہ خطرہ لاحق تھا۔۔۔۔
“وہ زنیشہ سے اپنے بھتیجے کا نکاح کروانا چاہتا ہے۔۔۔ زنیشہ کے لیے سب سے بڑی سیکورٹی ہی یہی ہے کہ اُس کا نکاح کردیا جائے۔۔۔۔”
شاکر میران نے پرسوچ انداز میں اپنی تجویز پیش کی تھی۔۔۔
“مگر اکرام نے تو صاف لفظوں میں دھمکی دی ہے کہ اگر زنیشہ کا کسی سے نکاح کیا گیا تو وہ اُسے مروا دے گا۔۔۔ ہم کیسے حسیب کو موت کے منہ میں دھکیل سکتے ہیں۔۔۔۔”
آمنہ بیگم نے فوراً اپنے شوہر کی بات ٹوکتے اُنہیں ایسی ویسی حامی بھرنے سے روکا تھا۔۔ جب سے زنیشہ سے اُن کے بیٹے کا رشتہ طے ہوا تھا۔۔۔ حسیب پر مسلسل خطرے کی تلوار لٹکتی ہی رہتی تھی۔۔۔ پہلے ملک زوہان کی تو اب اکرام حنیف کی۔۔۔
وہ اب ایسا ہرگز نہیں چاہتی تھیں۔۔۔ زنیشہ اُنہیں پسند تھی مگر اپنے بیٹے کی زندگی سے بڑھ کر نہیں۔۔۔
شاکر صاحب سمیت وہاں بیٹھے باقی سب افراد نے بھی اُن کی اِس رشتے کے حوالے سے ناپسندیدگی نوٹ کر لی تھی۔۔۔
“آمنہ یہ۔۔۔۔۔”
شاکر صاحب نے اُنہیں سرزنش کرنی چاہی تھی۔۔ جب شمسہ بیگم نے ٹوک دیا تھا۔۔۔
“شاکر بھائی آمنہ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہے۔۔۔ حسیب کو اِن دشمنیوں کے بیچ اُلجھا کر ہم اُس کے ساتھ زیادتی کریں گے۔۔۔۔ ہم نے جو حسیب اور زنیشہ کا رشتہ جوڑا تھا۔۔۔ اُسے یہیں پر ختم کردینا ہے مناسب ہے۔۔۔۔”
شمسہ بیگم کی بات پر باقی سب بھی متفق ہوئے تھے۔۔۔ حسیب کسی طور بھی زوہان اور اکرام حنیف کا مقابلہ کرکے زنیشہ کی اور اپنی حفاظت نہیں کرسکتا تھا۔۔۔
“تو پھر اِن حالات میں ایسا شخص کہاں سے ملے گا۔۔۔ جو ہماری زنیشہ کے لیے پرفیکٹ ہو۔۔ جو اُسے اُس کے باپ کے شر سے بھی محفوظ رکھے۔۔۔ اور اُس کے قابل بھی ہو۔۔۔۔”
قاسم صاحب بھی اب زنیشہ کی حسیب سے شادی کروانے کے حق میں نہیں تھے۔۔۔۔
“ہے ایک شخص۔۔۔۔ جو میری بیٹی کو خوش بھی رکھے گا اور اُس پر زرا سی آنچ بھی نہیں آنے دے گا۔۔۔۔”
شمسہ بیگم نے وہاں بیٹھے تمام افراد پر ایک سرسری نگاہ ڈالتے پریقین لہجے میں کہا تھا۔۔۔
“کون۔۔۔؟”
حمیرا بیگم کو لگا تھا جیسے وہ جانتی ہوں شمسہ بیگم کے دماغ میں کس کا نام چل رہا ہے۔۔۔
“ملک زوہان میران۔۔۔۔”
شمسہ بیگم نے اتنے دنوں سے دل میں چلتی بات کہہ دی تھی۔۔۔
جس کے بعد اُن کی توقع کے عین مطابق سب کو شدید جھٹکا لگا تھا۔۔۔۔
“شمسہ بھابھی یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں۔؟؟؟… ہم ایک دشمن سے زنیشہ کو بچانے کے لیے دوسرے کے حوالے کردیں۔۔۔ آپ ایسا بول بھی کیسے سکتی ہیں۔۔۔۔”
سب سے پہلے شاکر صاحب نے ہی اپنا اعتراض اُٹھایا تھا۔۔۔ وہ ابھی تک حسیب کی وہ حالت بھولے نہیں تھے۔۔۔ جو زوہان نے زنیشہ سے شادی روکنے کے لیے کیا تھا اُس کے ساتھ۔۔۔۔۔
“شمسہ بھابھی زوہان کے رشتہ لانے پر آپ سمجھ بیٹھیں۔۔۔ وہ سچ میں ہماری زنیشہ کو چاہتا ہے۔۔۔۔ زوہان نے وہ سب صرف آژمیر کی ضد میں کیا۔۔۔ ورنہ اُس کے دل میں میران پیلس کے کسی بھی فرد کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔۔۔۔ وہ ہمیں برباد کرنا چاہتا ہے۔۔۔ اور زنیشہ کی شادی اُس سے کرکے ہم اپنی بربادی کا سامان خود کریں گے۔۔۔ “
حمیرا بیگم کو بھی زوہان والی چوائس بالکل بھی پسند نہیں آئی تھی۔۔۔۔
“آپ سب کو جو لگتا ہے وہ اپنی جگہ ٹھیک ہے۔۔۔۔ مگر میں جانتی ہوں میں نے زوہان کی آنکھوں میں زنیشہ کی فکر دیکھی ہے۔۔۔ اگر وہ زنیشہ کا دشمن ہوتا تو کبھی اُسے بچانے اکرام کے گھر نہ پہنچ جاتا۔۔۔ اور آژمیر کے نام کی گولی اپنے وجود پر نہ کھاتا۔۔۔۔ زوہان اُتنا بُرا نہیں ہے جتنا ہم نے اُسے مان لیا ہے۔۔۔ میرے خیال کے مطابق زوہان کے علاوہ زنیشہ کے لیے کوئی انسان پرفیکٹ میچ نہیں ہوسکتا۔۔۔۔۔”
شمسہ بیگم نے اپنی سوچ سب کے سامنے کھل کر بیان کردی تھی۔۔۔ اُن کی بات میں کچھ ایسا تھا۔۔۔ کہ کوئی اُنہیں جھٹلا نہیں پایا تھا۔۔۔۔
“آژمیر کبھی نہیں مانے گا۔۔۔۔ “
قاسم صاحب کو بھی شمسہ بیگم کی دلیل کچھ حد تک زوہان کے حوالے سے رضامند کر گئی تھی۔۔۔۔ لیکن وہ راضی ہو بھی جاتے تب بھی آژمیر کا ماننا ناممکن سی بات تھی۔۔۔ جو بھی تھا مگر آخری فیصلہ آژمیر کا ہی ہونا تھا۔۔۔
“آژمیر کے لیے اُس کی نفرت، ضد اور انا اپنی بہن سے زیادہ اُوپر نہیں ہے۔۔۔ وہ زنیشہ کی حفاظت کرسکتا ہے۔۔۔ مگر جہاں تک نکاح کی بات ہے،اُس کے لیے اُسے بھی زوہان کے لیے ماننا پڑے گا۔۔۔۔ جب تم زنیشہ کا نکاح نہیں ہوجاتا۔۔۔۔ اکرام اُسے اپنے پاس لانے کے لیے کسی بھی حد تک جائے گا۔۔۔۔ “
شمسہ بیگم پہلے ہی خود کو آژمیر سے اِس موضوع پر بات کرنے کے لیے تیار کرچکی تھیں۔۔۔۔
@@@@@@@
کافی دیر کے بعد حاعفہ کو ہوش آیا تھا کہ آژمیر نے اُسے بلایا ہے۔۔۔ وہ جلدی سے فائل اُٹھاتی باہر کی جانب دوڑی تھی۔۔۔
ہڑبڑاہٹ میں بنا ناک کیے وہ عجلت میں اندر داخل ہوئی تھی۔۔۔ جب اُسی لمحے آژمیر فون کان سے لگائے چہرے پر کافی برہمی بھرے تاثرات سجائے باہر نکلتا سامنے سے وارد ہوتی حاعفہ کو نہیں دیکھ پایا تھا۔۔۔ اچانک حاعفہ کے سامنے آجانے پر دونوں کا زور دار تصادم ہوا تھا۔۔۔
حاعفہ کا سر اُس کے مضبوط پتھر جیسے کندھے سے ٹکراتا بُری طرح دکھنے لگا تھا۔۔۔ اُس کے ہاتھ سے فائل چھوٹ کر زمین بوس ہوئی تھی۔۔۔ اُس کے گرد اوڑھی سیاہ چادر کا ایک پلو نیچے ڈھلک گیا تھا۔۔۔
آژمیر نے بروقت اُس کے گرد حصار کھینچتے اُسے گرنے محفوظ رکھا تھا۔۔۔۔ حاعفہ نے بے دھیانی اور گھبراہٹ میں آژمیر کے کوٹ کے کالر دونوں مٹھیوں میں دبوچ رکھے تھے۔۔۔۔
آژمیر کے بازو کا مضبوط لمس اپنی کمر پر محسوس کرتے حاعفہ کے تن بدن میں کرنٹ دوڑ گیا تھا۔۔ اُس کی سحر انگیز خوشبو حاعفہ کے نتھنوں سے ٹکراتی اُس پر حاوی ہونے لگی تھی۔۔۔
آژمیر ابھی بھی فون پر مصروف کسی پر بھڑک رہا تھا۔۔۔ نجانے آج اُسے اتنا غصہ کیوں اور کس پر آرہا تھا۔۔۔۔
حاعفہ اپنی پوزیشن کا خیال کرتی فوراً پیچھے ہٹی تھی۔۔۔ مگر چند انچ ہلنے پر ہی اُس کی گردن میں بہت سخت کھینچاؤ آیا تھا۔۔۔ اُس کی گردن میں پہنی چین آژمیر کی شرٹ کے بٹن سے اُلجھ گئی تھی۔۔۔
حاعفہ کی جان لمحہ بھر کے لیے حلق میں آن اٹکی تھی۔۔۔ اگر آژمیر کو اُس پر شک تھا تو وہ اِسے اُس کی کوئی چال بھی سمجھ سکتا تھا۔۔۔ حاعفہ اِسی گھبراہٹ میں لرزتے ہاتھوں کے ساتھ اپنی چین آزاد کروانے لگی تھی۔۔۔ جو نجانے کیسے پھنسی ہوئی تھی کہ اُس کی اتنی کوشش کے بعد وہ نکلنے کے بجائے مزید اُلجھتی جارہی تھی۔۔۔
آژمیر جو بہت امپورٹنٹ کال پر مصروف تھا اُس نے نظریں جھکا کر اپنے سینے سے لگی کھڑی حاعفہ کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ جو سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ اُس سے دور ہونے کی کوشش میں چین کھینچتی اپنی نازک گردن کو بھی اچھا خاصہ ہرٹ کرچکی تھی۔۔۔
اُس کی دودھیا گردن پر رگڑ کے نشان واضح تھے۔۔۔ آژمیر نے ایک نظر ڈالنے کے بعد واپس نگاہ پھیر لی تھی۔۔۔
“آنی آپ چاہتی ہیں۔۔۔ میں اپنی بہن کو ایک درندے سے بچانے کے لیے دوسرے درندے کے حوالے کردوں۔۔۔۔”
آژمیر نے حاعفہ کو ہاتھ کے اشارے سے مزید خود کو ہرٹ کرنے سے روکا تھا۔۔۔ حاعفہ اُس کا اشارہ سمجھ نہیں پائی تھی۔۔۔ اُسے لگا شاید اُس کا قریب کھڑا ہونا آژمیر کو بُرا لگ رہا ہے۔۔۔ جلدی سے نکالنے کے چکر میں اُس نے چین کو زور سے جھٹکا دیا تھا۔۔ جس کی وجہ سے اُن کی گردن پر زور دار کھنچاؤ آتا اُس کو چھلنی کر گیا تھا۔۔۔
حاعفہ کے منہ سے ہلکی سی سرکاری بر آمد ہوئی تھی۔۔۔ جس پر آژمیر کا پارہ مزید چڑھ گیا تھا۔۔۔ اُس نے حاعفہ کے دونوں ہاتھ اپنی سخت گرفت میں لیتے چین سے ہٹائے تھے۔۔۔
وہ اِس وقت نفیسہ بیگم سے بات کررہا تھا چاہ کر بھی فون نہیں رکھ سکتا تھا۔۔۔
“میرا زوہان اپنا آپ قربان کردے گا مگر زنیشہ پر آنچ بھی نہیں آنے دے گا۔۔۔ تم اِس بات سے اچھی طرح واقف ہو۔۔۔ تمہارے بعد زوہان ہی وہ واحد انسان ہے جو اپنی جان دے بڑھ کر زنیشہ کی حفاظت اور اُس سے محبت کرسکتا ہے۔۔۔۔”
نفیسہ بیگم نے زوہان کی وکالت کی تھی۔۔۔
جبکہ دوسری جانب حاعفہ بے یقینی سے آژمیر کا یہ عمل دیکھے گئی تھی۔۔۔
“کس محبت کی بات کررہی ہیں آپ۔۔۔۔۔ آپ کا بیٹا صرف اور صرف مجھے برباد کرنے کے لیے میری بہن کو مہرا بنا رہا ہے۔۔۔ وہ خود یہ بات میرے سامنے کرچکا ہے۔۔۔ آپ مزید اُس پر پردے ڈال کر میری اُس کے حوالے سے سوچ نہیں بدل سکتیں۔۔۔۔”
آژمیر نے اُن کو اُن کے بیٹے کی اصلیت سے آگاہ کیا تھا۔۔۔
آژمیر کی نگاہیں حاعفہ کی گردن سے نکلتی خون کی چھوٹی سے لکیر پر ٹکی ہوئی تھیں۔۔۔ یقیناً اُسے اپنے ہی ہاتھوں اپنی گردن پر دیئے زخموں پر اب تکلیف ہونا شروع ہوچکی تھی۔۔۔
آژمیر اِس بے وقوف لڑکی کو دیکھ تاسف سے سر ہلا کر رہ گیا تھا۔۔۔
“میں بعد میں بات کرتا ہوں آپ سے۔۔۔۔”
آژمیر حاعفہ کے زخم پر نظریں گاڑھے مختصراً بولتا کال کاٹ گیا تھا۔۔
“واٹس رانگ ود یو۔۔۔۔ کوئی اپنے آپ کو یوں ہرٹ کرتا ہے کیا؟؟”
آژمیر کی غصیلی نظریں اُس کی خراش زدہ خون آلود گردن پر جمی ہوئی تھی۔۔۔
حاعفہ نے بنا کچھ بولے آژمیر کی گرفت میں موجود اپنے ہاتھ واپس کھینچے تھے۔۔۔ آژمیر نے بھی خیال آتے اُسے آزاد کیا ہے جب اُس کی نظر حاعفہ کے گلابی ہاتھوں پر بنے اپنی اُنگلیوں کے نشان پر پڑی تھی۔۔۔
“یہ۔۔۔۔”
آژمیر کا دماغ گھوم گیا تھا۔۔۔۔
یہ لڑکی اتنی نازک تھی کہ اُس کے زرا سے سختی دیکھانے پر واضح نشانات اُس کے ہاتھوں پر چھپ گئے تھے۔۔
“آئم سوری سر۔۔۔”
حاعفہ بلاوجہ ہی شرمندہ ہوئی تھی۔۔۔۔
جتنی نازک آپ ہیں۔۔۔ اُس سے کہیں زیادہ کیئر لیس بھی ہیں۔۔۔ اپنا خیال رکھا کریں۔۔۔ انسان کی اپنی حفاظت ہر چیز پہلے آتی ہے۔۔۔”
اِس وقت وہ دونوں ایک دوسرے کے کافی قریب کھڑے تھے۔۔۔ جہاں حاعفہ کا دل اُس کی تپیش زدہ نگاہیں محسوس کرتا۔۔۔ پسلیاں توڑ کر باہر آنے کو تیار تھا۔۔۔ وہیں آژمیر اُلجھی نگاہوں سے اِس عجیب و غریب لڑکی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
آژمیر نے اُس کا بازو پکڑ کر اُسے ہلکا سا اپنے مزید قریب کرکے اُس کی چین کو ڈھیلا کرتے بٹن کے ساتھ اُلجھے دونوں بلوں کو نکال دیا تھا۔۔۔
آژمیر کے مزید قریب آنے پر اُس کی گرم سانسیں اور محسور کن قربت حاعفہ کی حالت غیر کر گئی تھی۔۔۔ اُس کی شور مچاتی دھڑکنیں اُسے پاگل کر رہی تھیں۔۔۔
“یس سر۔۔۔۔۔ میں رکھتی ہوں اپنا خیال۔۔۔۔”
حاعفہ اُس سے فاصلے پر ہوتی سوکھے لبوں پر زبان پھیرتی اپنی صفائی پیش کرتے بولی۔۔۔۔
“آپ کی گردن پر کافی خراشیں آئی ہیں۔۔۔اور خون بھی نکل رہا ہے۔۔۔۔”
آژمیر اُسے مضبوطی سے شال لپیٹتے دیکھ بولنے سے خود کا روک نہیں پایا تھا۔۔۔ جو بھی تھا اُس کے تصادم کی وجہ سے ہی حاعفہ کو یہ زخم آئے تھے۔۔۔ جو معمولی نوعیت کے ہونے کے باوجود آژمیر کی توجہ اپنی جانب کھینچ رہے تھے۔۔۔۔
حاعفہ نے اُس کی فکر پر حیرانی سے نگاہیں اُٹھا کر آژمیر کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
کیا وہ واقعی اُس کی جانب متوجہ ہورہا تھا۔۔
یا یہ اُس کی کوئی خوبصورت غلطی فہمی تھی۔۔۔
“سر میں ٹھیک ہوں۔۔۔ یہ معمولی سا زخم ہے خود ہی ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔۔”
حاعفہ زمین پر پڑی فائل اُٹھاتے لاپرواہی سے بولی تھی۔۔۔
آژمیر نے خاموش نگاہوں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
“سر یہ فائل۔۔۔۔”
حاعفہ اُس کی جانچتی نگاہوں سے گھبراتی فائل اُس کی جانب بڑھا گئی تھی۔۔۔
“کل شام ہمیں کراچی جانا ہے۔ دو دن کا سٹے ہوسکتا وہاں۔۔۔ تیار رہیئے گا۔۔۔۔ یہ فائل میرے ٹیبل پر رکھ دیں۔۔۔ ابھی مجھے ضروری کام سے جانا ہے بعد میں دیکھ لوں گا۔۔۔۔”
آژمیر اُس کی جانب سے نگاہوں کا زاویہ بدلتا سنجیدگی سے اپنی بات کہتا وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔
جبکہ حاعفہ اُس کے ساتھ دو دن رہنے کے خیال سے ہی چکرا کر رہ گئی تھی۔۔۔ جس شخص کے ساتھ وہ چند گھنٹے نہیں گزار سکتی تھی۔۔۔ اُس کے ساتھ اب حاعفہ کو اتنا ٹائم رہنا پڑنا تھا۔۔۔۔
حاعفہ کا دل چاہا تھا اِس سب سے کہیں دور بھاگ جائے۔۔۔۔۔ جہاں صرف وہ ہو اور آژمیر میران کا خیال۔۔۔ نہ سر پر لٹکتی دھوکے اور فریب کی تلوار اور نہ اپنے ایک طوائف زادی ہونے کا غم۔۔۔
@@@@@@@@
اُس دن زوہان سے ملنے کے بعد اُس کا موڈ بہت سخت آف رہا تھا۔۔۔ زوہان نے جس طرح خود ک تکلیف دی تھی وہ سب یاد آتے زنیشہ کی تڑپ میں مزید اضافہ ہوجاتا تھا۔۔۔
وہ چاہے جتنا بھی جھٹلاتی مگر ملک زوہان اُس کے دل میں بہت اُونچے مقام پر تھا۔۔۔۔ اب سے نہیں نجانے کب سے۔۔۔۔
زنیشہ اُس کی خیریت جاننا چاہتی تھی۔۔۔ مگر اُس کے آس پاس ایسا کوئی نہیں تھا، جس سے وہ زوہان کے متعلق پوچھ سکتی۔۔۔۔
زنیشہ نے دل کو بہت سمجھایا تھا مگر وہ چاہ کر بھی اُس کے حوالے سے بے گانگی نہیں برت پائی تھی۔۔۔ زوہان سب خاندان والوں کو خود سے دور کرکے۔۔۔ اُن سے دشمنیاں قائم کرکے خود کو جس طرح اذیت میں رکھے ہوئے تھا۔۔۔ یہ بات سب سے زیادہ زنیشہ کے لیے ہی تکلیف کا باعث تھی۔۔۔۔
اُس نے اُس کھٹور اور سنگدل شخص کی مغروریت کے آگے ایک بار پھر گھٹنے ٹیکتے اُسے کال ملائی تھی۔۔۔۔
ایک بار۔۔۔ دو۔۔۔۔ تین۔۔۔ بیل مسلسل جارہی تھی۔۔۔ مگر دوسری جانب سے کال پک کرنے کی زحمت نہیں کی گئی تھی۔۔۔
“اُف میرے خدا۔۔۔۔ کسی انسان میں اتنی اکڑ بھی نہیں ہونی چاہئے۔۔۔ ایک تو ہر معاملے میں غلطی بھی اپنی ہوتی اُوپر سے اٹیچوڈ بھی مجھے ہی دیکھانا ہے۔۔۔۔ بیٹھے رہیں اِسی زعم میں اب نہیں کروں گی کال۔۔۔۔۔”
زنیشہ غصے سے بھڑکتی موبائل بیڈ پر اُچھالتی روم سے نکل گئی تھی۔۔۔۔
اُسے کچھ دیر پہلے آمنہ پھوپھو نے بلایا تھا۔۔۔ اِس لیے وہ سلیقے سے سر پر دوپٹہ اوڑھتی اُن کے پورشن کی طرف بڑھ گئی تھی۔۔۔
جب حسیب کے روم کے باہر سے گزرتے اُس کے کانوں میں زوہان کا نام پڑا تھا۔۔۔۔

حسیب سے شاید دروازہ بے دھیانی میں کھلا رہ گیا تھا۔۔۔ زنیشہ دروازے کے قریب ہوتی کان لگائے اُس کی بات سننے لگی تھی۔۔۔۔

“زوہان نے جو میرے ساتھ کیا، اب اُس کا حساب چکانے کا وقت آچکا ہے۔۔۔ وہ جیسے ہی اپنی اُس گرل فرینڈ کے ساتھ آج رات کی پارٹی کے لیے نکلے گا۔۔۔ اُس پر حملہ کروا دینا۔۔۔۔ اُس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا۔۔۔ آج اُس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔۔۔ بیچارہ ملک زوہان بے خبری میں ہی مارا جانے والا کے۔۔۔۔ “

حسیب کے منہ سے نکلنے والے الفاظ اُس کے رونگٹے کھڑے کر گیا تھا۔۔۔

اُس کا دل چاہا تھا۔۔۔ ابھی شور مچا کر سب گھر والوں کو اکٹھا کرلے۔۔مگر زوہان کے حوالے سے کوئی اُس کی حسیب کے خلاف بات نہیں سنے گا۔۔۔ اور حسیب کے مکر جانے کے چانسز بھی زیادہ تھے۔۔۔

زنیشہ کم از کم زوہان کی سلامتی پر تو کسی قسم کا رسک نہیں لے سکتی تھی۔۔۔۔

وہ بھاگتے قدموں سے واپس اپنے روم میں بھاگی تھی۔۔۔

زوہان اُس کی کال اٹینڈ نہیں کررہا تھا۔۔۔ زنیشہ نے اُس کے منیجر حاکم کا نمبر پریس کیا تھا۔۔۔۔

“تمہارے وہ اُلٹی کھونپڑی والے باس کہاں ہیں۔۔۔؟؟ جلدی سے بات کرواؤں میری اُن سے۔۔۔”

زنیشہ حاکم کے ہیلو کے جواب میں فوراً بولی تھی۔۔۔ اُس کو سمجھ نہیں آرہی تھی وہ کس نام سے نوازے اُس دنیا جہان کے مغرور اور سنکی شخص کو۔۔۔۔

“میم وہ سر بزی ہیں۔۔۔۔ “

حاکم بنا نام پوچھے ہی سمجھ گیا تھا۔۔۔ کہ یہ محترمہ کون ہوسکتی تھیں۔۔۔ جو زوہان کو اتنے استحقاق کے ساتھ ایسے القابات سے پکار رہی تھیں۔۔۔۔

“میں نے کہا ابھی اور اِسی وقت بات کرواؤ میری اُن سے۔۔۔ وہ چھپکلی تو ہر وقت اُن کے ساتھ چپکی رہتی ہے۔۔۔۔ “

زنیشہ کے جل کر بولنے پر حاکم نے موبائل کان سے ہٹاتے حیرت سے سکرین جو گھورا تھا۔۔

بھلا اُسے کیسے معلوم تھا کہ زوہان اِس وقت ثمن کے ساتھ ہے۔۔۔۔

“اوکے میم۔۔۔۔”

وہ حامی بھرتا ڈرائینگ روم میں براجمان زوہان اور ثمن کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔

“سر زنیشہ میڈم آپ سے بات کرنا چاہتی ہیں۔۔۔۔”

حاکم اجازت مانگتا اندر داخل ہوا تھا۔۔۔ زوہان ثمن سے بہت اہم معاملات ڈسکس کررہا تھا۔۔ اِس وقت حاکم کی مداخلت اُسے سخت ناگوار گزری تھی۔۔۔

اُس کے ماتھے پر آئی تیوری کے بل دیکھ حاکم جلدی سے اپنے آنے کا ریزن بتاتا ہولے سے منمنایا تھا۔۔۔۔

جسے سنتے زوہان کی شکنیں کچھ کم ہوئی تھیں۔۔۔۔

“فرمائیں اب کیا مسئلہ ہے آپ کو؟؟؟”

زوہان بنا سلام دعا کے فون کان سے لگاتا بے لچک سپاٹ لہجے میں بولا تھا۔۔۔

“مسئلہ میرے ساتھ نہیں آپ کے ساتھ ہے۔۔۔ کال کیوں نہیں پک کررہے میری۔۔۔۔ لڑکیوں سے زیادہ نخرے ہیں آپ کے۔۔۔۔۔”

زنیشہ غصے سے بھڑکتی نان سٹاپ بولے گئی تھی۔۔۔۔

“ایکسکیوزمی۔۔۔۔ محترمہ آپ ہوش میں تو ہیں۔۔۔ یہ کیا طریقہ ہے بات کرنے کا۔۔۔”

زوہان اُسے وہیں ٹوکتا سرد لہجے میں گویا ہوا۔۔۔۔

جس پر زنیشہ اچانک ہوش میں آتی اپنی زبان دانتوں تلے دبا گئی تھی۔۔۔

وہ اِس وقت اِس قدر ٹینشن کا شکار تھی کہ لمحہ بھر کو بھول گئی تھی کہ اِس وقت وہ کس سے ہٹلر سے بات کررہی ہے۔۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔