Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 56

“بابا پلیز۔۔۔۔۔ “
منہاج چاہے ماورا پر بہت غصہ تھا۔۔۔۔ مگر اُسے ماورا کے بارے میں کچھ بھی سننا گوارہ نہیں تھا۔۔۔۔
“آپ اچھے سے جانتے ہیں میں کتنی محبت کرتا ہوں آپ سے۔۔۔۔ مگر میں وہ بالکل بھی نہیں کر پاؤں گا جو آپ مجھے کرنے کو کہہ رہے ہیں۔۔۔۔ میرا دل صرف ایک ہی لڑکی کے لیے دھڑکتا ہے۔۔۔ جس کے سوا میں کسی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔۔۔۔۔ “
منہاج تو کسی صورت اُن کی بات ماننے کو تیار ہی نہیں تھا۔۔۔۔ جیسے ماورا کے علاوہ کسی اور کا نام لینا گناہ ہو اُس کے لیے۔۔۔۔۔
“ٹھیک ہے۔۔۔۔ میں تمہارے ساتھ زبردستی نہیں کروں گا۔۔۔۔ لیکن تمہیں میری خاطر یہاں آنا ہوگا۔۔۔۔۔ ایک بار اُس لڑکی کو دیکھ تو لو۔۔۔۔ مجھے پورا یقین ہے اُسے دیکھنے کے بعد تم انکار کر ہی نہیں پاؤ گے۔۔۔۔ اتنی پیاری ہے وہ۔۔۔۔۔ اور اگر تمہیں پسند نہ آئی تو بھی میں تمہارے فیصلے کا احترام کروں گا۔۔۔۔ اب اپنے باپ کی خاطر اتنا تو کر ہی سکتے ہو تم۔۔۔۔”
شہاب درانی نے اُسے ہر طرف سے گھیر لیا تھا۔۔۔۔ اُن کی ایموشنل بلیک میلنگ کے بعد اُس کے پاس انکار کرنے کا جواز ہی نہیں بچا تھا۔۔۔
“اوکے آرہا ہوں میں۔۔۔۔۔”
منہاج بے دلی سے جواب دیتا فون بند کر گیا تھا۔۔۔۔
اُس کی تکلیف میں کئی گنا اضافہ ہوچکا تھا۔۔۔ اُس کے دل کی بے چینی ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بڑھتی ہی جارہی تھی۔۔۔۔۔ کسی طور قرار نہیں تھا اُسے۔۔۔۔۔۔
گزرتا ایک ایک پل اُسے یہ باور کروا رہا تھا کہ ماورا اُس کے لیے کتنی ضروری تھی۔۔۔۔ ماورا کے بغیر اب مزید جی پانا ناممکن ہوچکا تھا اُس کے لیے۔۔۔۔۔۔
ایک بوجھل سانس ہوا میں خارج کرتا وہ اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔
@@@@@@@@@
زوہان بارات لے کر پہنچ چکا تھا۔۔۔۔ جس کا آژمیر نے ہی آگے بڑھ کر استقبال کیا تھا۔۔۔۔ آژمیر کی گرمجوشی کا جواب زوہان نے بھی اُسی کے انداز میں مصافحہ کرکے دیا تھا۔۔۔۔
دونوں ہی جانتے تھے وہ یہ سب صرف زنیشہ کی خوشی کے لیے کررہے تھے۔۔۔ ورنہ اُن کے درمیان موجود خلا ابھی بھی ویسے کا ویسا ہی تھا۔۔۔۔ زوہان ابھی بھی آژمیر کو اپنا دشمن سمجھتا تھا۔۔۔۔ اور آژمیر اب بھی پوری طرح دشمنی کے اصول نبھانے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔۔
زوہان بلیک تھری پیس سوٹ میں ملبوس اپنی سحر انگیز پرسنیلٹی کے ساتھ محفل پر چھایا وہاں موجود ہر شخص کی توجہ اپنی جانب کھینچ رہا تھا۔۔۔۔ وہیں آژمیر سیاہ کلف لگی قمیض شلوار میں عنابی لبوں پر سجی گھنی مونچھوں کو تاؤ دیتے قاسم صاحب کی کسی بات پر مسکراتا وہ اِس لمحے کسی ریاست کا شہزادہ معلوم ہورہا تھا۔۔۔۔ اُسے دیکھ کر لگا رہا تھا جیسے آج ایک دنیا فتح کرلی ہو اُس نے۔۔۔۔۔
اتنا خوش آج تک کسی نے اُن دونوں کو نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔ ہمیشہ چہرے پر مغروریت بھرے سخت تاثرات سجائے وہ لوگوں سے فاصلے پر ہی رہتے آئے تھے۔۔۔۔ مگر آج اُن کے انداز بہت مختلف اور سب کے لیے حیرانی کا باعث بھی تھے۔۔۔۔
اُن دونوں سے نظریں ہٹائے نہیں ہٹ رہی تھیں۔۔۔۔ بقول فریحہ کے آج خاندان کی بے شمار لڑکیوں کے دل ٹوٹے تھے۔۔۔۔ کیونکہ خاندان کے دو سب سے زیادہ خوبرو شخصیت کے مالک نوجوان اُن کی پہنچ سے دور جاچکے تھے۔۔۔۔۔
اب بس اُنہیں شدت اور بے قراری سے انتظار تھا اپنی دلہنوں کا۔۔۔۔۔۔
“میری زندگی کا ایک مقصد تو پورا ہوچکا ہے۔۔۔ اب بہت جلد۔۔۔۔ میں دوسرے کی تکمیل بھی پا لوں گا۔۔۔۔۔”
زوہان نے فاتحانہ نظریں اپنے سامنے کھڑے آژمیر پر ڈالتے اُسے آنے والے وقت سے آگاہ کیا تھا۔۔۔۔۔
“ملک زوہان بھی خوش فہمیوں کے زیرِ اثر جینے لگا ہے۔۔۔۔ مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا۔۔۔۔”
آژمیر نے طنزیا لہجے میں جواب دیتے اُس کی بات مذاق میں اُڑائی تھی۔۔۔۔
“خود پر اتنا غرور بھی کبھی کبھی نقصان کا باعث بنتا ہے ْآژمیر میران۔۔۔۔ میں تو تمہیں صرف آگاہ کررہا ہوں۔۔۔ ایسے نہ ہو۔۔۔۔ ملک فیاض میران ہاسپٹل کے بیڈ پر پڑے پڑے ڈاکٹرز کی کوتاہی سے دم توڑ جائے۔۔۔ اور تم کچھ نہ کر پاؤ۔۔۔۔۔.”
زوہان سفاکیت سے بولتا دبے لفظوں میں آژمیر کو بہت بڑی دھمکی دے گیا تھا۔۔۔۔
جس پر آژمیر نے نفرت آمیز نگاہوں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
“اور جس دن ایسا ہوا۔۔۔۔ وہ تمہارا بھی اِس دنیا میں آخری دن ہوگا۔۔۔۔۔ میں زنیشہ کا خیال بھی نہیں کروں گا۔۔۔۔”
آژمیر نے بھی بنا کوئی لحاظ رکھتے حساب بے باک کیا تھا۔۔۔۔۔
اُن دونوں کو شعلہ برساتی نظروں سے ایک دوسرے کی جانب دیکھتا پاکر قاسم صاحب اور شاکر صاحب جلدی سے اُن کے قریب آئے تھے۔۔۔۔ اِن دونوں کا غصہ ہی خطرناک تھا۔۔۔۔ وہ اتنے اہم موقع پر کوئی بدمزگی نہیں چاہتے تھے۔۔۔۔۔۔
“آژمیر، زوہان یہ وقت اِن باتوں کا بالکل بھی نہیں ہے۔۔۔۔ سب گیسٹ آپ دونوں کی طرف ہی متوجہ ہیں۔۔۔۔”
قاسم صاحب کے احساس دلانے پر وہ دونوں ہی رُخ موڑتے پلٹ گئے تھے۔۔۔۔
“اِن دونوں بھائیوں کی دشمنی نجانے کب ختم ہوگی۔۔۔۔ اور ختم ہونے سے پہلے نجانے مزید کتنی تباہی لائے گی۔۔۔۔۔۔۔”
قاسم صاحب پریشانی بھرے لہجے میں بولتے شہاب درانی کی جانب بڑھ گئے تھے۔۔۔۔
“بیٹا آپ لمبے سفر سے آئیں ہیں۔۔۔۔ اگر چاہیں تو کچھ دیر ریسٹ کرلیں۔۔۔۔۔”
قاسم صاحب منہاج کی جانب دیکھتے فکرمندی سے بولے تھے۔۔۔۔۔
@@@@@@@@@
شہاب درانی نے قاسم صاحب کو ماورا اور منہاج کے بارے میں سب بتا دیا تھا۔۔۔۔ قاسم صاحب کچھ لمحوں کے لیے تو کچھ بول ہی نہیں پائی تھی۔۔۔۔
اُن کی دونوں بیٹیوں نے کیا کیا مشکلات دیکھی تھیں۔۔۔ اُن کی ندامت مزید بڑھی تھی۔۔۔ مگر وہیں اپنے پروردگار کے حضور شکر گزار بھی تھے۔۔۔ جنہوں نے اُن کی بیٹیوں کو غلط ہاتھوں میں نہیں جانے دیا تھا۔۔۔۔
بلکہ دونوں کے نصیب میں محبت کرنے والے باکردار مرد لکھے تھے۔۔۔۔ جو نہ صرف اُن سے بے پناہ محبت کرتے تھے بلکہ اُنہیں عزت بھی دیتے تھے۔۔۔۔۔
روشن پیشانی اود چوڑے دینے والا سامنے کھڑا نوجوان اُنہیں اپنی ماورا کے لیے بہت پسند آیا تھا۔۔۔ اگر حاعفہ کے لیے آژمیر کسی انعام سے کم نہیں تھا۔۔۔ تو ماورا کو بھی منہاج درانی سے بہتر کوئی نہیں مل سکتا تھا۔۔۔۔ یہ اُس کی خوش بختی تھی کہ اتنا اچھا انسان اُس کی قسمت میں لکھ دیا گیا تھا۔۔۔۔
قاسم صاحب کو اِس سے بڑھ کر کچھ چاہییے ہی نہیں تھا کہ شہاب درانی کا بیٹا اُن داماد بن تھا۔۔۔۔
منہاج کا غیر معمولی سنجیدہ انداز اور چہرے کا سرد پن دیکھ شہاب درانی مسکرا دیئے تھے۔۔۔۔ کیونکہ یہ کچھ پل کے مہمان ہی تھے۔۔۔۔
منہاج اِس وقت گرے پینٹ شرٹ میں ملبوس سلیوز کہنیوں تک فولڈ کیے۔۔۔۔ بڑھی ہوئی شیو اور شکن آلود پیشانی کے ساتھ بہت ہی ڈیشنگ لگ رہا تھا۔۔۔۔ نجانے کتنی ستائش بھری نگاہیں اُس پر ٹکی ہوئی تھیں۔۔۔ مگر منہاج کو اِس سب کی پرواہ نہیں تھی۔۔۔۔۔
وہ بس جلد از جلد یہاں سے نکل جانا چاہتا تھا۔۔۔۔
اُس نے خفگی بھری نگاہوں سے شہاب درانی کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ جنہیں دیکھ کر لگ رہا تھا کہ وہ اُسےبلانے کا مقصد فراموش کر چکے ہیں۔۔۔۔
اُسے اپنے بابا کو اتنا خوش دیکھ حیرت ہوئی تھی مگر وہ بنا کچھ بولے خاموش ہی رہا تھا۔۔۔
“میں زرا اُن سے مل لوں۔۔۔۔”
قاسم صاحب دوسرے گیسٹ کی جانب بڑھ گئے تھے۔۔۔۔ جب منہاج شہاب درانی کی جانب پلٹا تھا۔۔۔۔
“آپ شاید بھول رہے ہیں۔۔۔ آپ نے مجھے یہاں کسی مقصد کے تحت بلایا تھا۔۔۔۔ مجھے ابھی واپسی کے لیے بھی نکلنا ہے۔۔۔۔۔ “
منہاج بھنویں تنے خفگی سے بولا تھا۔۔۔۔
“مجھے نہیں معلوم تھا تم لڑکی کو دیکھنے کے لیے اتنے اتاولے ہو۔۔۔۔۔”
شہاب درانی تو آج الگ ہی موڈ میں تھے۔۔۔۔جسے سمجھنے سے وہ قاصر تھا۔۔۔۔
“وہ رہی۔۔۔۔۔ گولڈن ڈریس میں۔۔۔۔ یہ لڑکی مجھے اپنی بہو کے رُوپ میں بہت پسند آئی ہے۔۔۔۔”
ماورا جو لہنگا پکڑے سیڑھیاں اُترتی ساتھ آتی لڑکیوں کی باتوں پر مسکراتی منہاج درانی کی پوری دنیا ساکت کر گئی تھی۔۔۔۔
جس ہستی کے لیے وہ دیوانوں کی طرح تڑپ رہا تھا اُسے یوں اپنے سامنے آتا دیکھ اُس کا بے جان دل زور سے دھڑک اُٹھا تھا۔۔۔۔
وہ بالکل ٹھیک تھی۔۔۔۔ اور اُس کے سامنے تھی۔۔۔۔
منہاج کے لیے یقین کر پانا مشکل ہوا تھا۔۔۔۔
اُس نے ماورا کی جانب قدم بڑھانا چاہے تھے۔۔۔۔ جب شہاب درانی نے اُس کا بازو تھام کر روک دیا تھا۔۔۔۔
“تم لوگوں کے رشتے سے یہاں کوئی واقف نہیں ہے۔۔۔۔ بی کیئر فل۔۔۔۔ وہ ایک لڑکی ہے اور اِس گھر کی بیٹی بھی۔۔۔۔۔ تمہاری کسی بھی حرکت سے اُس کا امیج مشکوک ہوسکتا ہے۔۔۔۔”
شہاب درانی اُسے رسانیت بھرے انداز میں سمجھاتے وہیں روک گئے تھے۔۔۔۔
جس کی بے قرار نگاہیں ماورا پر جمی ہوئی تھیں۔۔۔۔
لیکن اگلے ہی لمحے اُس کے رگوں وپے میں غصے کی شدید لہر دوڑ گئی تھی۔۔۔۔ وہ اُس کی جدائی میں مجنوں بنا پھر رہا تھا۔۔۔ جبکہ ماورا کا سجا سنورا کھلکھلاتا رُوپ دیکھ کر یہی لگا رہا تھا کہ وہ بہت آسانی سے اُسے فراموش کیے بیٹھی ہے۔۔۔۔۔
منہاج کا دل تو اِسی لمحے جاکر اُس کی عقل ٹھکانے لگا دینے کا چاہا تھا۔۔۔۔ مگر اردگرد موجود لوگ اِس وقت ماورا کے لیے ڈھال ہی ثابت ہوئے تھے۔۔۔۔۔
“آپ کو بہت مزا آیا نا مجِھے مزید تڑپا کر۔۔۔۔ یہ بات آپ مجھے فون پر بھی بتا سکتے تھے نا۔۔۔۔”
منہاج کو لگا تھا نجانے کتنا بڑا بوجھ اُس کے اُوپر سے ہٹ گیا ہو۔۔۔۔ اُسے اُس کی چھینی سانسیں واپس لوٹا دی گئی تھیں۔۔۔ وہ بے پناہ خوش تھا۔۔۔۔
اُس کی آنکھوں کی مخصوص دلکش مسکراہٹ واپس لوٹتی دیکھ شہاب درانی بے حد خوش تھے۔۔۔۔
“اگر فون پر بتا دیتا تو اپنے بیٹے کی یہ خوشی کیسے دیکھ پاتا۔۔۔۔ میں نے قاسم سے سارے معاملات طے کرلیئے ہیں۔۔۔۔ بہت جلد ہم اپنی بہو کو رخصت کروا کر اپنے ساتھ لے جائیں گے۔۔۔۔۔”
شہاب درانی اُسے خوش دیکھ خوش تھے۔۔۔۔
“ہممہ۔۔۔ مگر اُس سے بھی پہلے آپکی بہو کے ہوش ٹھکانے لگانے کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔ جو اُس نے میرے ساتھ کیا ہے۔۔۔۔ اتنی آسانی سے تو میں اُسے بخشنے والا بالکل بھی نہیں ہوں۔۔۔۔”
منہاج درانی اب اپنی تڑپ کا بدلہ سود سمیت لینے کا ارادہ کرچکا تھا۔۔۔۔ ماورا کب کی سیڑھیوں سے ہٹ چکی تھی۔۔۔۔ مگر اُس منہاج کی نگاہوں میں تو اُس کا ہوش رُبا رُوپ جم کررہ گیا تھا۔۔۔۔
“کیا مطلب۔۔۔۔ ؟؟؟”
شہاب درانی نے سوالیہ نظروں سے اُسے دیکھا تھا۔۔۔
“ماورا کو کوئی نہیں بتائے گا کہ اُس کا رشتہ مجھ سے طے ہوا ہے۔۔۔۔ جو پرینک میرے ساتھ کیا ہے۔۔۔۔ اب وہ زرا اپنی بہو کو بھی برداشت کرنے دیں۔۔۔۔”
منہاج کا پلان سن کر شہاب درانی اُسے باز رکھنے کا کہتے ساتھ مسکرا دیئے تھے۔۔۔۔
مگر منہاج اب کسی کی سننے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔۔۔۔۔ اُس نے متلاشی نگاہوں سے اردگرد دیکھا تھا۔۔۔ لیکن اب وہ کہیں نہیں تھی۔۔۔۔
@@@@@@@@@
“ماشاء اللہ ماشاء اللہ اللہ نظرِ بد سے بچائے میری بچیوں کو۔۔۔۔ آج تو لگتا ہے۔۔۔۔ آسمان سے حوریں زمین پر اُتر آئی ہیں۔۔۔۔۔”
شمسہ بیگم نے اُن دونوں کے دلہناپے کو دیکھ کر بے ساختہ نظر اُتاری تھی۔۔۔۔۔ دونوں پر ٹوٹ کر رُوپ آیا تھا۔۔۔۔ وہاں موجود تمام خواتین سے نظریں ہٹانا مشکل ہوا تھا۔۔۔۔
“آج تو خیر نہیں اُن دونوں کی۔۔۔۔۔ کیا غضب ڈھا رہی ہو یار تم دونوں۔۔۔۔”
ماورا نے دونوں کی بلائیں لیتے محبت سے چور لہجے میں کہا تھا۔۔۔۔ وہ خود بھی گولڈن لہنگے میں سٹریٹ بالوں کو نازک کمر پر کھلا چھوڑیں، لائٹ سے میک اپ اور نفیس سی جیولری زیب تن کیے نظر لگ جانے کی حد تک پیاری لگ رہی تھی۔۔۔۔۔
ماتھے پر لگی بندیاں اُس کے سراپے کو چار چاند لگا رہی تھی۔۔۔۔۔ مسکراتے چہرے اور اُداس آنکھوں کے ساتھ ہر طرف کھلکھلاتی پھرتی وہ حاعفہ کو بہت بے چین سی لگی تھی۔۔۔۔
مگر چاہنے کے باوجود حاعفہ اِس وقت سب کے بیچ گھرے ہونے کی وجہ سے کچھ پوچھ نہیں پائی تھی۔۔۔۔
اُوپر سے آنے والے لمحوں کا سوچتے اُس کی سانسیں مدھم سے مدھم تر ہوتی جارہی تھیں۔۔۔۔ جب اُسے پوری طرح خود کو اُس دشمنِ جاں کے حوالے کردینا تھا۔۔۔۔ جو اُس کی پور پور کا مالک تھا۔۔۔۔ جس کی وہ دیوانی تھی۔۔۔۔ اور آج کے دن دل و جان سے اُسے منانے کو تیار اُس کی ساری ناراضگی ختم کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔۔
مگر اگلے ہی لمحے اُس کا تصور کرتے دھڑکنیں بے قابو ہوجاتی تھیں۔۔۔۔ کیونکہ آژمیر کی شدتوں کی معمولی سی جھلک وہ دیکھ چکی تھی۔۔۔۔ اب تک وہ اُس سے دور رہ کر اُسے جتنا تڑپا چکی تھی۔۔۔۔ آج اُسے اپنے بچاؤ کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی۔۔۔۔ اور وہ بچنا چاہتی بھی نہیں تھی۔۔۔۔ وہ خود بھی اُتنا ہی تڑپی تھی اُس کے لیے۔۔۔۔ اب وہ بھی اُس کی مضبوط پناہوں میں سکون و آسودگی بھری زندگی گزارنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔
“ماورا۔۔۔۔۔۔”
ماورا اپنی لپسٹک ٹھیک کرتے پلٹی تھی جب زنیشہ نے اُس کا ہاتھ پکڑتے مخاطب کیا تھا۔۔۔۔
“زوہان اور آژمیر لالہ میں باہر سب ٹھیک ہے نا۔۔۔۔”
زنیشہ کو بہت سی باتوں کے ساتھ ایک یہ فکر بھی ستا رہی تھی۔۔۔۔۔
“ہاں سب بالکل ٹھیک ہے۔۔۔۔۔ تم اِس بارے میں فکر مت کرو۔۔۔۔۔ بلکہ اپنے اُس کھڑوس اور اکڑو ہزبینڈ سے نبٹنے کا سوچو۔۔۔۔۔”
ماورا اُسے چھیڑتی فریحہ کی پکار پر اُس کی جانب متوجہ ہوئی تھی۔۔۔۔
“ماورا تمہیں قاسم چچا بلا رہے ہیں نیچے۔۔۔۔۔”
فریحہ کی بات پر ماور سر ہلاتی نیچے کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔۔۔
پورے ہال میں نظریں دوڑانے کے باوجود اُسے قاسم صاحب تو کہیں نظر نہیں آئے تھے۔۔۔۔ مگر خود پر کسی کی نگاہوں کی تپیش محسوس کرتے ماورا نے اُلجھی نگاہوں سے چاروں طرف دیکھا تھا۔۔۔۔ لیکن اُسے وہاں کوئی بھی اپنی جانب متوجہ نظر نہیں آیا تھا۔۔۔۔
ماورا کی گھبراہٹ ایک دم بڑھی تھی۔۔۔ اُسے مسلسل اپنا آپ کسی کی گہری نگاہوں کے حصار میں معلوم ہوا تھا۔۔۔۔۔۔ مگر کس کی۔۔۔۔۔ ؟؟؟
@@@@@@@@@
زوہان اپنے دوست کے ساتھ باتوں میں مصروف تھا جب اُس کی نظر انٹرنس سے داخل ہوتی زنیشہ پر پڑتی واپس پلٹنا بھول گئی تھی۔۔۔۔
اُسے لگا تھا کوئی اپسرا لال جوڑے میں ملبوس اُس کی جانب چلتی آرہی ہے۔۔۔۔ آژمیر کا ہاتھ تھامے دھیرے دھیرے قدم اُٹھاتی لال جوڑے میں وہ اپنا پور پور اُس کے لیے سجائے سولہاں سنگھار کیے ہوئے تھی۔۔۔۔
بلڈ ریڈ لہنگے میں شارٹ فل سلیو بلاؤز کے ساتھ سر پر بھاری دوپٹہ سجائے،بالوں کو جوڑے کی شکل میں قید کیے وہ نازک سی گڑیا معلوم ہورہی تھی۔۔۔۔۔
مہندی لگے ہاتھ اور نازک کلائیاں سونے کے کنگن اور گجروں سے سجیں زوہان کو ہوش بھلا گئی تھیں۔۔۔۔ وہ پہلے ہی اُس کی کلائیوں کا دیوانہ تھا۔۔۔ آج تو اُن کی سجاوٹ نے اُس کے دل پر قیامت برپا کردی تھی۔۔۔۔
گردن میں جڑاؤں ہار، کانوں میں بھاری جھمکے اور ماتھے پر لگائی ماتھا پٹی۔۔۔۔۔ زنیشہ کا ایک ایک سنگھار زوہان کی دھڑکنوں کو پاگل کرگیا تھا۔۔۔۔
اُسے قریب آتے دیکھ زوہان آگے بڑھا تھا۔۔۔۔۔ آج پھر وہ دونوں آمنے سامنے تھے۔۔۔۔ زنیشہ نے سر اُٹھا کر دونوں کے پتھریلے تاثرات خوفزدہ نظروں سے دیکھے تھے۔۔۔۔
“میری بہن کو کبھی ہماری دشمنی میں مت لانا۔۔۔۔۔”
آژمیر کچھ دیر پہلے کی ہوئی تلخ کلامی کے زیرِ اثر بولا تھا۔۔۔۔
“اگر ایسا کرنا ہوتا تو بہت پہلے کرچکا ہوتا۔۔۔۔۔ زنیشہ میرے لیے کیا ہے۔۔۔۔ تم میران پیلس والے کبھی جان ہی نہیں پاؤ گے۔۔۔۔ “
زنیشہ کا ہاتھ آژمیر کی گرفت سے لیتا وہ اُسے اچھی طرح باور کروا گیا تھا۔۔۔۔
آژمیر اُس سے یہی اُگلوانا چاہتا تھا۔۔۔۔ زنیشہ کے سر پر لب رکھتا اُسے زوہان کے حوالے کرگیا تھا۔۔۔۔ دشمنی سہی مگر دونوں کی جان زنیشہ میں بستی تھی۔۔۔ اِس بات سے دونوں ہی آگاہ تھے۔۔۔۔
@@@@@@@@@
ہال میں دو سٹیج بنائے گئے تھے۔۔۔۔ ایک پر زوہان زنیشہ کو لے کر بڑھ گیا تھا.۔۔ جبکہ دوسرا ابھی خالی تھا۔۔۔۔۔
آژمیر زوہان کے حوالے تو اُس کی دلہن کر چکا تھا مگر اب اُسے شدت سے اپنی زندگی کا انتظار تھا۔۔۔ کچھ ہی لمحوں بعد حاعفہ کو قاسم صاحب کی چھاؤں میں اندر داخل ہوتا دیکھ آژمیر اپنی سانسیں روک گیا تھا۔۔۔۔
ریڈ زمین کو چھوتے بھاری کامدار لہنگے میں سیج سیج چلتی وہ نظریں جھکائے خود پر آژمیر کی نگاہوں کی تپش اچھے سے محسوس کرپارہی تھی۔۔۔۔ جس کی وجہ سے اُس کی ہتھیلیاں نم ہوئی تھیں۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔