No Download Link
Rate this Novel
Episode 26
زوہان کو تو کبھی کسی کی پرواہ رہی نہیں تھی۔۔ مگر اِس وقت وہاں ہال میں اُن کے خاندان کے تقریباً سبھی لوگ موجود تھے۔۔۔ جن کی نظریں پہلے سے ہی زوہان پر فکس تھیں۔۔۔ زوہان خاندان کے کسی فنکشن میں نہیں آتا تھا۔۔۔ وہ ہمیشہ سب سے الگ رہنا ہی پسند کرتا تھا۔۔۔ مگر کاشف سے اُس کی دوستی بہت پرانی تھی۔۔۔ کاشف اُس کے بہت زیادہ کلوز تھا۔۔۔۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اُسے انکار نہیں کرپایا تھا۔۔۔ اور اپنی زندگی کے سب سے ناپسندیدہ لوگوں کے درمیان موجود تھا اِس وقت۔۔۔۔
مگر ایک انسان کو دیکھ ملک زوہان اپنے احساسات پر قابو نہیں رکھ پایا تھا۔۔۔ جس ہستی کی اپنی لائف میں موجود اہم مقام کو وہ شروع سے جھٹلاتا آرہا تھا۔۔۔ ہمیشہ اُسی کے سامنے جاکر ہی وہ بے خود ہوتا تھا۔۔۔۔
“چلیں۔۔۔۔”
زنیشہ کرن کو اشارہ کرتی وہاں سے آگے بڑھ گئی تھی۔۔۔۔۔ زوہان کی نظروں نے دور تک زنیشہ کا پیچھا کیا تھا۔۔۔
جو بات وہاں موجود میران خاندان کے افراد کے ساتھ ساتھ باقی سب نے بھی بہت گہرائی سے نوٹ کی تھی۔۔۔
“زوہان وہ چلی گئی ہیں۔۔۔۔”
کاشف اُسکی جانب دیکھتے شرارتی لہجے میں گویا ہوا تھا۔۔۔۔
“تم مجھے دیکھ رہے تھے۔۔۔۔”
زوہان نے اُسے گھوری سے نوازا تھا۔۔۔
“صرف میں نہیں سارا میران خاندان دیکھ رہا ہے کہ کیسے ملک زوہان آژمیر میران کی لاڈلی بہن کو گھور رہا ہے۔۔۔۔”
کاشف کی بات پر زوہان کے چہرے پر مسکراہٹ کا زرا سا تاثر نمایاں ہوا تھا۔۔۔ زنیشہ کی ایک جھلک اُس کے خراب موڈ پر بہت خوشگوار اثر چھوڑ گئی تھی۔۔۔۔
“بہت جلد میران خاندان دیکھتا رہ جائے گا۔۔۔ اور میں اِن کی لاڈلی کو اِن کے بیچ سے لے جاؤں گا۔۔۔۔”
زوہان زیرِ لب بڑبڑاتا کاشف کے ساتھ آگے بڑھ گیا تھا۔۔۔ اُسے زنیشہ کا یوں خود کو ڈھانپ کر رکھنا بہت اچھا لگا تھا۔۔۔۔ اُس کا دل ایک بار پھر زنیشہ کو دیکھنے کا خواہشمند ہوا تھا۔۔۔ لیکن اب وہ وہاں کہیں بھی نہیں تھی۔۔۔
@@@@@@@@
ماورا پانی میں ڈوب جانے کے خوف سے اتنی سہم چکی تھی۔۔۔ کہ کتنے ہی پل وہ اُس اپنائیت بھرے حصار سے لگی کھڑی رہی تھی۔۔۔
جب کچھ لمحوں بعد مقابل کی گرم سانسیں اپنی پیشانی پر محسوس کرتے ماورا نے جھٹکے سے دور ہونا چاہا تھا۔۔۔ مگر منہاج درانی اِس بات کے لیے ابھی تیار نہیں تھا۔۔۔
اُس نے ماورا کے خوف سے کانپتے نازک وجود کو پوری طرح اپنے حصار میں قید کررکھا تھا۔۔۔
ماورا حواس بحال ہوتے ہی سمجھ چکی تھی کہ یہ دلفریب خوشبو اور استحقاق بھرا انداز کس کا ہوسکتا ہے۔۔۔۔
جب رہی سہی کسر پیشانی پر محسوس ہوتے منہاج کے ہونٹوں کے لمس نے پوری کردی تھی۔۔۔۔
اِس دھکتے لمس نے ماورا کو جی جان سے لرزا کر رکھ دیا تھا۔۔۔ منہاج کی یہ نرم گرم قربت اُس پر سکون بخشتا ایک سحر طاری کرنے لگی تھی۔۔۔۔
“چھوڑو مجھے۔۔۔۔”
ماورا اِس شخص کے فریب میں دوبارہ نہیں آنا چاہتی تھی۔۔۔ اِس لیے اچانک ہوش میں آتے ماورا نے اُس کا حصار توڑ کر دور ہونا چاہا تھا۔۔۔۔
“اب ایسا ممکن نہیں ہے۔۔۔۔”
منہاج درانی تو آج اُسے الگ ہی زون میں لگا تھا۔۔۔
اُس کی خمار آلود آواز اور کانوں کی لوح پر محسوس ہوتے ہونٹ کے لمس پر ماورا کا دل دھک سے رہ گیا تھا۔۔۔
وہ دونوں جھیل کے سائیڈ پر قدرے نچلے حصے میں کھڑے تھے۔۔۔ جہاں وہ باقی سٹوڈنٹس کی نگاہوں سے بالکل اوجھل تھا۔۔۔ اور اِس بات کا منہاج درانی خوب فائدہ بھی اُٹھا رہا تھا۔۔۔
“تم سمجھتے کیا ہو خود کو۔۔۔۔ میرے وجود کو کھلونا سمجھ رکھا ہے تم نے۔۔۔۔ جب دل چاہے گا قریب آؤ گے۔۔۔۔ اپنی تسکین حاصل کرو گے۔۔۔ اور پھر کوئی نئی تہمت لگا کر دھتکار کر چلے جاؤ گے۔۔۔۔ میں نے تمہیں کہا تھا میرے قریب مت آنا۔۔۔”
ماورا کو اُس کا یہ استحقاق بھرا انداز آگ لگا گیا تھا۔۔۔
یہ انسان اُس کی سوچ سے زیادہ ڈھیٹ اور خود سر تھا۔۔۔
“واٹ ربش۔۔۔۔ یہ کیا بولی جارہی ہو تم۔۔۔ پاگل ہوگئی ہو کیا۔۔۔۔ میں نے کب یوز کیا تمہیں۔۔۔ نکاح ہونے کے باوجود اپنا حق استعمال نہیں کیا۔۔۔۔ اور تمہارے منہ میں جو آرہا ہے۔۔۔ وہ اوٹ پٹانگ بولی جارہی ہو۔۔۔۔”
منہاج اُس کا چہرا اپنے مقابل کرتے حیرانگی بھرے مگر زرا سخت لہجے میں بولا تھا۔۔۔۔ جبکہ ماورا اپنے کچھ زیادہ اُلٹا بول جانے پر شرمندگی سے لال ہوئی تھی۔۔۔
“تو کیوں آتے ہو میرے قریب۔۔۔۔ دور رہو مجھ سے۔۔۔۔”
ماورا اُس کے سینے پر دونوں ہتھیلیاں جما کر اُسے خود سے دور دھکیلنے کی کوشش کرتے بولی تھی۔۔۔
جس کے ردعمل کے طور پر منہاج اُس کی کمر میں بازو حمائل کرتا اُسے مزید قریب کر گیا تھا۔۔۔
“اپنی بیوی کے قریب نہیں جاؤں گا تو اور کس کے جاؤں گا۔۔۔”
منہاج اُس کی لال پڑتی رنگت دیکھ شوخی سے بولا تھا۔۔۔
ماورا کو اُس کے جارحانہ لمس پر کرنٹ سا چھو گیا تھا۔۔۔
“چھوڑو مجھے ورنہ میں چیخ چیخ کر سب کو یہاں اکٹھا کر لوں گی۔۔۔ دنیا والوں کی نظروں میں میں تمہاری بیوی نہیں ہوں۔۔۔”
ماورا اپنی کمر سے اُس کا بازو ہٹانے کی کوشش کرتے چلائی تھی۔۔۔
“اوکے چلاؤ۔۔۔۔ میں دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔ چلاتے ہوئے تم کتنی حسین لگو گی۔۔۔۔ اور مجھے کتنی محبت سے تمہیں چپ کروانا پڑے گا۔۔۔”
منہاج کو اُسے چھیڑنے میں مزا آنے لگا تھا۔۔۔۔ اُس کے پھولے گال پر ہولے سے دانت گاڑھتے وہ ماورا کو غصے اور خفت سے لال کر گیا تھا۔۔۔
“سب لوگوں کے سامنے بہت اچھا امیج بنا رکھا ہے نا تم نے۔۔۔۔ اب دیکھو تمہاری اصلیت کیسے میں سب کے سامنے لاتی ہوں۔۔۔ “
ماورا اُس کی بڑھتی جسارتوں پر لال پیلی ہوتی بولی بولی تھی۔۔۔
ماورا نے چلانے کے لیے منہ کھولا ہی تھا۔۔۔ جب منہاج اُس کا چہرا ہاتھوں کے پیالے میں لیتا اُس کی سانسیں اپنی سانسوں میں اُلجھا گیا تھا۔۔۔۔
@@@@@@@@
حاعفہ لیڈیز واش روم میں کسی مرد کو کھڑا دیکھ خوف سے کانپ گئی تھی۔۔۔ اِس وقت واش روم میں اُس کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔۔۔
“تت تم کون ہو؟؟؟ یہاں کیا کررہے ہو؟؟؟”
اُس شخص کے دیکھنے کے انداز پر حاعفہ کو اپنے گرد خطرے کی گھنٹیاں بجتی محسوس ہوئی تھیں۔۔۔
“تمہارا عاشق۔۔۔۔۔”
وہ شخص خباثت سے مسکراتا اُس کی جانب بڑھا تھا….
“دیکھو۔۔۔ وہیں رک جاؤ۔۔۔ میرے قریب مت آنا۔۔۔”
حاعفہ نے لرزتی لہجے میں اُسے وارن کرنا چاہا تھا۔۔۔ اُسے سمجھ نہیں آرہی تھی آژمیر کو مدد کے لیے یہاں سے کیسے پکارے۔۔۔
“ملک آژمیر میران سے بہت حساب نکلتے ہیں میرے۔۔۔ ہر بار اُس نے بھری محفل مجھے بے عزت کیا ہے۔۔۔ آج اُس کی سیکرٹری کی صورت اُس کے سارے حساب کلیئر ہوجائیں گے۔۔۔۔ ویسے آژمیر میران نے اتنی حسین سیکرٹری رکھی ہوئی ہے۔۔۔ یقین نہیں آرہا۔۔۔۔ لگتا ہے وہ بھی ہمارے جیسے شغل پالنے لگا ہے۔۔۔۔۔”
وہ شخص حاعفہ کے قریب آتا ہوس بھری نظروں سے اُس کے چادر میں ڈھکے ہوئے سراپے کو گھورنے لگا تھا۔۔۔
حاعفہ کو اِس وقت شدت سے رونا آیا تھا۔۔۔ وہ جو کوٹھے کی غلاظت سے آج تک اپنی عزت محفوظ رکھتی آئی تھی۔۔۔ اِس وقت اُسے بچانا مشکل لگا تھا۔۔۔
اُس نے شدت سے اپنے پروردگار کو پکارتے مدد مانگی تھی۔۔۔ جو ہمیشہ اُسے ایسی سچویشن سے بچاتا آیا تھا۔۔۔۔
“دور رہو مجھ سے۔۔۔۔”
حاعفہ نے اُسے اپنے قریب آتا دیکھ دور دھکیلتے وہاں سے نکلنا چاہا تھا۔۔۔۔
جب وہ شخص اُسے بازو سے پکڑتا اپنی جانب کھینچ گیا تھا۔۔۔۔ حاعفہ اُس سے اپنا بازو چھڑوانے کی پوری کوشش کررہی تھی۔۔۔ مگر اُس سے مقابلہ کر پانا بہت مشکل تھا۔۔۔۔
حاعفہ نے اللہ سے مدد مانگتے آژمیر کو پکارا تھا۔۔۔۔ مگر تب تک اُس شخص کا ہاتھ حاعفہ کی چادر تک پہنچ چکا تھا۔۔۔۔۔
جب اُسی لمحے حاعفہ کے کانوں میں دروازے پر ہوتی آہٹ سنائی دی تھی۔۔۔
@@@@@@@@
میٹنگ روم میں سب لوگوں کے آتے میٹنگ سٹارٹ ہوچکی تھی۔۔۔ سب لوگ باری باری پراجیکٹ کے حوالے سے اپنی پریذنٹیشن دے رہے تھے۔۔۔ آژمیر بھی بڑے افیکٹ وے میں اپنی پریزنٹیشن دیتا واپس کرسی پر آن بیٹھا تھا۔۔۔۔
اُس کا دھیان بار بار حاعفہ کی جانب جارہا تھا۔۔۔ جو ابھی تک میٹنگ روم میں نہیں آئی تھی۔۔۔ اُس نے کام کے حوالے سے اتنی لاپرواہی کبھی نہیں برتی تھی۔۔۔ اور آج تو کام بھی اتنا امپورٹنٹ تھا۔۔۔ آژمیر کے دل کو عجیب سی بے چینی نے آن گھیرا تھا۔۔۔
وہ سمجھ نہیں پارہا تھا کہ اتنی امپورٹنٹ میٹنگ، جس سے اُس کی کمپنی کو کروڑوں کا فائدہ پہنچ سکتا تھا۔۔۔ اُس میں وہ چاہنے کے باوجود اپنا دھیان حاعفہ سے نہیں ہٹا پارہا تھا۔۔۔۔
“فیصل میں ابھی تھوڑی دیر میں آتا ہوں۔۔۔ یہاں سب سنبھال لینا۔۔۔۔”
آژمیر اپنے منیجر کو ہدایت دے کر حیران چھوڑتا میٹنگ روم سے نکل آیا تھا۔۔۔ جہاں ابھی کچھ دیر تک، کس کمپنی کو پراجیکٹ ملا اِس فیصلے کی اناؤنسمنٹ ہونے والی تھی۔۔۔۔ مگر آژمیر میران جیسے سٹرانگ بندے کے دل و دماغ پر اِس وقت عجیب قسم کی بے چینی چھائی ہوئی تھی۔۔۔۔۔
آژمیر حاعفہ کا نمبر ٹرائے کرتا اُس کے روم کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ مگر وہاں پہنچ کر روم اُس کے روم کو لاک دیکھ آژمیر کی ٹینشن مزید بڑھی تھی۔۔۔ نہ وہ اُس کی کال پک کررہی تھی نہ وہ اپنے روم میں موجود تھی۔۔۔ یہاں وہ کسی کو جانتی بھی نہیں تھی تو پھر آخر گئی کہاں تھی۔۔۔
“ایکسکیوزمی۔۔۔۔۔”
آژمیر نے پاس سے گزرتی ایک ویٹرس کو بلا کر حاعفہ کا حلیہ بتاتے اُس کے بارے میں پوچھا تھا۔۔۔۔ جس پر ویٹرس نے حاعفہ کو آخری بار واش روم کے ایریا میں دیکھا تھا۔۔۔۔۔
آژمیر کو اب تشویش ہونے لگی تھی۔۔۔ اُس نے اُسی لمحے ہوٹل کے منیجر کو بلواتے اگلے پانچ منٹ کے اندر حاعفہ کو ڈھونڈنے کا آرڈر دیا تھا۔۔۔۔
“سر پلیز کول ڈاؤن۔۔۔۔ ہم ڈھونڈ لیں گے اُنہیں۔۔۔ شی ول بی فائن۔۔۔۔”
منیجر نے آژمیر کا جاہ و جلال بھرا رُوپ دیکھتے اپنے پورے عملے کو متحرک کیا تھا۔۔۔۔ آژمیر کی بے چینی لمحہ با لمحہ بڑھتی جارہی تھی۔۔۔۔
“سر لیڈیز واش روم اندر سے لاک ہے۔۔۔۔”
ویٹرس کی دور سے آتی آواز پر آژمیر فوراً اُس طرف دوڑا تھا۔۔۔۔
“ڈوپلیکیٹ کیز کہاں ہیں؟؟؟”
دروازے کے قریب پہنچتا وہ اونچی آواز میں دھاڑا تھا۔۔۔ یہ ہوٹل کا سب سے لاسٹ پورشن تھا۔۔۔ جہاں لوگوں کا آنا جانا کم ہی ہوتا تھا۔۔۔۔
ویٹر کو کیز لے جانے کے لیے بھاگتا دیکھ آژمیر دروازے کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ اُس کے پاس انتظار کرنے کا ٹائم نہیں تھا۔۔۔۔ پوری شدت سے دروازے پر ضربیں لگاتے وہ اُس کے لاک کو توڑنے کی کوشش کررہا تھا۔۔۔ منیجر کے اشارے پر پاس کھڑے ویٹرز بھی آژمیر کی مدد کے لیے آگے بڑھے تھے۔۔۔ جب اگلے ہی لمحے دروازے کا لاک ٹوٹ جانے کی وجہ سے وہ
کھلتا چلا گیا تھا۔۔
@@@@@@@@
فائزہ کی ضد تھی کہ زنیشہ اُس کے ساتھ باقی کزنز کے ساتھ سٹیج تک اُسے چھوڑنے آئے۔۔۔۔ مگر زنیشہ اتنے لوگوں کی نگاہوں کا مرکز بننے کو کسی صورت تیار نہیں تھی۔۔۔ اور ملک زوہان کی موجودگی تو الگ ہی اُس کا خون خشک کیے دے رہی تھی۔۔۔
اُسے رہ رہ کر خود پر غصہ آرہا تھا کہ آخر اتنا تیار ہونے اور یہ ہیوی ڈریس پہننے کی ضرورت ہی کیا تھی۔۔۔ سمپل بن کر آنے میں آخر کیا گناہ تھا۔۔۔
لیکن اب وہ کچھ نہیں کرسکتی تھی۔۔۔ اور نہ فائزہ اور باقی اُسے میک اپ صاف کرنے دے رہی تھیں۔۔۔
“زوہان لالہ تمہیں کھا نہیں جائیں گے جو اتنا کانپ رہی ہو۔۔۔۔”
فائزہ اُسے بار بار اپنی شال درست کرتا دیکھ چھیڑتے ہوئے بولی۔۔۔۔
“جتنا اچھا تم لوگ اُسے سمجھتی ہو۔۔۔ اتنا اچھا وہ اکڑو انسان ہے نہیں۔۔۔۔”
زنیشہ اپنی ہی روانی میں فائزہ کو اُسکے مطلب کا جواب دے گئی تھی۔۔۔۔
“مطلب واقعی تمہارا یہ گھبرانا شرمانا زوہان لالہ کے لیے ہی ہے۔۔۔۔”
فائزہ فوراً اُس کی جانب مڑتی ایکسائیٹڈ ہوئی تھی۔۔۔
“مجھے لگتا ہے۔۔۔ تم آج اپنی مہندی والے دن بھی میرے ہاتھوں مار کھانے والی ہو۔۔۔۔ میرا اُس انسان سے کوئی رشتہ نہیں ہے۔۔۔۔ اور نہ ہی مجھے اُس سے کوئی فرق پڑتا ہے۔۔”
زنیشہ فائزہ کو گھوری سے نوازتے وارن کر گئی تھی۔۔۔
“چلو دیکھ لیں گے۔۔۔ اپنی اِس بات میں کتنی غلط ہو تم۔۔۔۔”
فائزہ اُسے چھیڑنے سے باز نہیں آئی تھی۔۔۔۔
کاشف اور فائزہ کا نکاح پہلے ہوچکا تھا۔۔۔ اسلیے اب اُنہیں ایک ساتھ بیٹھا کر مہندی کا فنکشن کیا جانا تھا۔۔۔
فائزہ کے بے حد اصرار پر زنیشہ اُس کے ساتھ دوپٹے کی چھاؤں میں چلتی برائیڈل روم سے نکل کر سیڑھیاں اُترتی ہال میں داخل ہوئی تھی۔۔۔ ہال کی انٹرنس پر کھڑے ہوکر زنیشہ کی نظر سٹیج پر کاشف کے ساتھ بیٹھے زوہان پر پڑی تھی۔۔۔ وہ بھی اب اُس کی جانب متوجہ ہوچکا تھا۔۔۔ اور کافی گہری نگاہوں سے اُسے گھور بھی رہا تھا۔۔۔
“میں آگے تمہارے ساتھ نہیں آسکتی۔۔۔۔ “
زنیشہ فائزہ کے کان میں آہستہ سے بولی تھی۔۔
“ہاں جی وہ تو مجھے بھی لگ رہا ہے۔۔۔ جو تمہاری حالت ہے ابھی تھوڑا آگے چل کر تو تم نے بے ہوش ہی ہوجانا ہے۔۔۔میرے بجائے سب کو تمہیں سنبھالنا پڑے گا۔۔۔”
فائزہ اُس کی رگ رگ سے واقف تھی۔۔۔ اُس کی کیفیت اچھے سے سمجھ رہی تھی۔۔۔
“فائزہ کے ساتھ جو لڑکی ہے یہ زنیشہ ہی ہے نا۔۔۔ آژمیر میران کی بہن۔۔۔ یہ تو میری سوچ سے بھی کہیں زیادہ خوبصورت ہے۔۔۔ بہت تعریفیں سن رکھی ہیں اِس حسنیہ کی، آج دیکھنے کا اتفاق بھی ہوگیا۔۔۔”
سٹیج پر بیٹھے کاشف کے ایک کزن فاخر نے زنیشہ کی جانب پسندیدگی بھری نظروں سے دیکھتے کاشف سے پوچھا تھا۔۔۔
زنیشہ نے اپنے آپ کو پوری طرح شال میں چھپا رکھا تھا۔۔۔ مگر پھر بھی اُس کا سجا سجایا دو آتشہ حُسن چھپائے نہیں چھپ رہا تھا۔۔۔
فاخر کی بات زوہان کے کانوں میں پڑتی اُسے آگ لگا گئی تھی۔۔۔ اِس سے پہلے کہ وہ بنا کسی کا لحاظ کرتا فاخر کا حشر بگاڑ دیتا کاشف نے جلدی سے زوہان کے ہاتھ پر دباؤ ڈالتے کول رہنے کا اشارہ کیا تھا۔۔۔
“زوہان پلیز۔۔۔۔۔”
کاشف التجائی لہجہ میں بولا تھا۔۔
مگر وہ زوہان ہی کیا جو کسی کی سن لے۔۔۔ وہ بھی زنیشہ کے حوالے سے کی جانے والی کوئی بات۔۔۔
زوہان اپنی جگہ سے اُٹھتا فاخر کا گریبان دبوچ چکا تھا۔۔۔
“وہ لڑکی میری ہونے والی بیوی ہے۔۔۔۔ اگر آئندہ اُس کی جانب اِن غلیظ نگاہوں سے دیکھا تو دوبارہ کچھ دیکھنے کے قابل نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔۔”
زوہان فاخر کو منہ پر ایک زور دار پنچ رسید کرکے واپس صوفے پر پھینکتا سٹیج سے اُتر گیا تھا۔۔۔ ہال میں موجود زیادہ لوگ دلہن کی جانب متوجہ تھے۔۔۔ لیکن کچھ نے سٹیج پر پیش آیا یہ منظر بھی دیکھا تھا۔۔۔
کاشف بھی فوراً زوہان کے پیچھے بھاگا تھا۔۔۔
“زوہان پلیز کول ڈاؤن میں اُسے سمجھا دوں گا۔۔۔ آئندہ وہ ایسی کوئی بات نہیں کرے گا۔۔۔ “
کاشف زوہان کو بازو سے پکڑ کر روکنے کی کوشش کرتے بولا تھا۔۔۔
وہ دونوں سائیڈ پر تھے، اِس وقت کوئی اُن کی جانب متوجہ نہیں تھا۔۔۔۔
“یہ کیسے گھٹیا لوگوں کو گھر کی عورتوں کے بیچ بلا رکھا ہے تم نے۔۔۔۔۔”
زوہان اِس وقت جتنے غصے میں تھا کوئی بعید نہیں تھی۔۔۔ کہ وہ کاشف کو بھی ایک پنچ رسید کردے۔۔۔
“زنیشہ کہاں ہے۔۔۔؟؟؟”
زوہان نے سٹیج کی طرف جاتی فائزہ کے ساتھ زنیشہ کو تلاشنہ چاہا تھا۔۔۔ مگر زنیشہ اب اُس کے ساتھ نہیں تھی۔۔۔
اُس نے بے چینی سے ہال کے چاروں اطراف نظریں دوڑائی تھیں۔۔۔ جب اُسے وہ ایک کونے میں کھڑی نظر آئی تھی۔۔۔۔
زوہان تیز قدم اُٹھاتا مشتعل سا اُس کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔
“ابھی اِن موصوف کا کہنا ہے کہ اِنہیں زنیشہ سے محبت نہیں ہے۔۔ محبت نہیں ہے تو یہ حال ہے اگر محبت ہوگئی تو نجانے کیا ہوگا۔۔۔۔ “
کاشف مسکراتا ہوا سٹیج کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔
زنیشہ کو سب کی نگاہوں کا مرکز بننے کی وجہ سے کوفت محسوس ہورہی تھی۔۔۔ اِس لیے وہ ایک کونے میں قدرے الگ تھلگ جگہ پر آن کھڑی ہوئی تھی۔۔۔ جب اچانک اُسے زوہان اپنی جانب آتا دیکھائی دیا تھا۔۔۔
زنیشہ کا دل زور سے دھڑک اُٹھا تھا۔۔۔ اُس نے گھبرا کر اِردگرد دیکھا تھا مگر اِس جلاد سے بچانے کے لیے اِس وقت آس پاس کوئی موجود نہیں تھا۔۔۔۔
زوہان کے بگڑے تیور زنیشہ کی سانسیں روک گئے تھے۔۔۔
“آا۔۔۔۔ آپ۔۔۔۔”
اُس کے قریب پہنچنے پر زنیشہ ابھی اتنا ہی بول پائی تھی۔۔۔۔ جب زوہان اُسے بنا کچھ بولنے کا موقع دیئے بغیر اُس کی کلائی انتہائی نرمی مگر مضبوطی سے تھامتا اُسے لیے ہال سے نکلتا برائیڈل روم کی جانب جاتی سیڑھیاں چڑھنے لگا تھا۔۔
زنیشہ بنا کوئی مزاحمت کیے بے جان گڑیا کی طرح اُس کے ساتھ کھینچتی چلی گئی تھی۔۔۔۔
@@@@@@@@
سامنے کا منظر دیکھ آژمیر کا خون کھول اُٹھا تھا۔۔۔ اُس کا روایتی بزنس حریف جمال قریشی حاعفہ کی چادر کھینچتا اُسے زبردستی اپنے قریب کرنے کی کوشش کررہا تھا۔۔۔۔ حاعفہ کے سر اور کندھوں سے شال ڈھلک چکی تھی۔۔۔ جسے دیکھ آژمیر کا دماغ بالکل اُلٹ گیا تھا۔۔۔۔
جمال قریشی آژمیر اور ہوٹل کے عملے کو اتنی جلدی وہاں پہنچتا دیکھ ہکا بکا رہ گیا تھا۔۔۔۔
“کمینے۔۔۔۔ میں چھوڑوں گا نہیں تمہیں۔۔۔ “
آژمیر کی کنپٹی کی رگیں باہر کو اُبھر آئی تھیں۔۔۔
وہ جمال قریشی کو گریبان سے پکڑتا اُسے بُری طرح پیٹنے لگا تھا۔۔۔ اُس کے بالوں کی گدی سے پکڑتے آژمیر نے اُس کا سر سائیڈ پر بنے واش بیسن پر دے مارا تھا۔۔۔۔ جس کے بعد اُس نے یہ عمل روکا نہیں تھا۔۔۔ جمال قریشی کوشش کے باوجود اُس بپھرے شیر کی گرفت سے خود کو آزاد نہیں کروا پایا تھا۔۔۔۔
حاعفہ ایک کونے میں ساکت سی کھڑی یہ سب دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ اُس نے ایک بار ہی تو پکارا تھا اس شخص کو۔۔۔۔ اور وہ فرشتہ بن کر اُسکی مدد کو پہنچ چکا تھا۔۔۔۔
آژمیر کے جنونی عمل پر جمال قریشی کا سر پھٹ گیا تھا۔۔۔۔ اور خون کی ندیاں جاری ہوچکی تھیں۔۔۔ مگر آژمیر کا جنون کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔۔۔
منیجر اور ویٹر اُسے روکنے کی کوشش کرتے ہلکان ہوچکے تھے۔۔۔۔ مگر آژمیر تو جیسے آج اُس خبیث شخص کو جان سے مارنے کے بعد ہی چھوڑنے والا تھا۔۔۔۔
ویٹرز میں سے کسی نے فیصل اور آژمیر کی باقی ٹیم کو انفارم کردیا تھا۔۔۔۔ وہ سب بھی بھاگے آئے تھے۔۔۔۔فیصل آژمیر کے غصے سے اچھی طرح واقف تھا۔۔۔۔
“سر پلیز چھوڑ دیں اُسے وہ مرجائے گا۔۔۔۔ “
فیصل اور باقی سب نے بہت مشکل سے آژمیر کے چنگل سے خون میں لت پت جمال قریشی کو آزاد کروایا تھا۔۔۔۔
آژمیر اُسے نیچے پھینکتا غصے سے گہرے گہرے سانس لیتا حاعفہ کی جانب پلٹا تھا۔۔۔ جو دھندلائی آنکھوں سے آژمیر کی جانب دیکھ رہی تھی۔۔۔ اُس کا ڈھکا وجود دیکھ آژمیر کا غصہ کچھ حد تک نارمل ہوا تھا۔۔۔۔
آژمیر کے اشارے پر اُس کی ٹیم ممبر ثنا حاعفہ کو لیے اُس کے روم کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔
حاعفہ کچھ دیر پہلے اپنے ساتھ پیش آئے واقع کے خوف سے تو کچھ حد تک باہر آگئی تھی۔۔۔ مگر آژمیر میران کا اپنے لیے یہ رُوپ دیکھ اُس کا دل خوف سے بھر گیا تھا۔۔۔ آژمیر کا انداز عام بالکل بھی نہیں لگا تھا اُسے۔۔۔
وہ اُس کی اتنی کیئر کرنے لگا تھا کہ اپنی اتنی امپورٹنٹ میٹنگ چھوڑ صرف اُس کی تلاش میں نکل آیا تھا۔۔۔
تو کیا وہ واقعی اُس سے محبت کرنے لگا تھا۔۔۔
حاعفہ اپنے دل میں اُٹھتے سوالوں سے اُلجھتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔۔۔ اگر آژمیر واقعی اُس سے محبت میں گرفتار ہورہا تھا۔۔۔ تو یہ بات آگے چل کر آژمیر کے لیے کافی درد ناک ثابت ہونے والی تھی۔۔۔
یہی وہ خوف تھا جو آج رونما ہوئے باقی واقعات کے ساتھ اُس پر حاوی ہوتا حاعفہ کو رُلا گیا تھا۔۔۔
“مس حاعفہ پلیز سب ٹھیک ہے۔۔۔۔ سر نے ٹائم پر پہنچ کر آپ کو بچا لیا۔۔۔ کچھ نہیں ہوا۔۔۔ سب ٹھیک ہے۔۔۔۔”
ثنا حاعفہ کی حالت کے پیشںِ نظر مسلسل اُسے تسلی دینے کی کوشش کرنے لگی تھی۔۔۔ مگر حاعفہ کے آنسو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔۔۔
وہ چہرا ہاتھوں پر گرائے پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی ۔۔۔ ثنا اُسے چپ کروانے میں ناکام ہوتی باہر نکل گئی تھی۔۔۔
جب کچھ دیر بعد آژمیر اندر داخل ہوا تھا۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
