No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
“پر اماں سائیں وہ حملے تو بہت پہلے ہوئے تھے۔۔۔ اُن لوگوں کو تو لالہ سائیں نے پکڑ لیا تھا۔۔۔۔ وہ معاملہ اب دب چکا ہے۔۔۔۔ اب مجھے بھلا کیا خطرہ۔۔۔۔۔”
زنیشہ نے ایک آخری کوشش کرنی چاہی تھی۔۔۔۔
“زنیشہ آپ کب سے اتنی ضد کرنے لگی ہیں۔۔۔۔ وہ معاملہ اگر دب گیا ہے۔۔۔۔ ہم تب بھی آپ کی حفاظت پر کسی قسم کا رسک نہیں لے سکتے۔۔۔۔ آپ تیاری کرلیں۔۔۔۔ کل سے آپ نے یونی جانا ہے۔۔۔۔ یہ آپ کے لالہ کا فیصلہ ہے۔۔۔۔ شاید آپ ایک بات پھر یہ بات بھول رہی ہیں۔۔۔۔”
شمسہ بیگم اُسے اچھے سے باور کروایا تھا۔۔۔ کہ وہ دوسری بار آژمیر کے فیصلے کے خلاف جارہی تھی۔۔۔
“اوکے اماں سائیں مجھے منظور ہے۔۔۔۔۔”
آژمیر اُس کی پچھلی حرکت پر پہلے ہی اُس سے ناراض تھا۔۔۔۔ وہ اب اُسے مزید خفا نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔ اِس لیے بے دلی سے ہی سہی مگر رضامندی دے گئی تھی۔۔۔۔۔
“شاباش۔۔۔۔ میرا بچہ۔۔۔۔”
شمسہ بیگم اُس کا گلابی ملائم گال محبت سے چومتی کمرے سے نکل گئی تھیں۔۔۔
اُن کے جاتے ہی زنیشہ دروازہ اندر سے لاک کرتی اپنی الماری کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔ اور وہاں بنے خفیہ لاکر کو کیز سے کھولنے لگی تھی۔۔۔۔ جہاں لوگ اپنی قیمتی چیزیں پیسے اور زیورات رکھتے تھے۔۔۔۔ وہاں اُس نے ایک تصویر بہت سنبھال کر رکھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔
ابھی بھی ٹوٹے فریم والی وہ تصویر پوری احتیاط سے اُٹھاتے وہ بیڈ پر آن بیٹھی تھی۔۔۔۔ یہ فریم اُس نے اپنی شادی والی رات غصے سے توڑا تھا۔۔۔۔
“اپنی دشمنی اور بدلے میں میری لائف سپوئل کر رہے ہیں آپ۔۔۔۔ جس کے لیے کبھی معاف نہیں کروں گی میں آپ کو۔۔۔۔ آئی ہیٹ یو۔۔۔۔۔ آئی ہیٹ یو سو مچ۔۔۔۔۔۔”
زنیشہ سائیڈ دراز سے سیاہ مارکر نکالتی اُس کی تصویر پر ایک اور کراس لگا گئی تھی۔۔۔۔
“آپ سے بچنے کے لیے مجھے باڈی گارڈ۔۔۔ کو اپنے ساتھ لیے پھرنا پڑے گا۔۔۔۔ آپ کو اِس بات کی زرا پرواہ نہیں ہے۔۔۔۔ لوگ مجھ پر کتنا ہنسیں گے۔۔۔۔ کہ میں خود اپنی حفاظت بھی نہیں کرسکتی۔۔۔۔ مگر اصل بات یہ ہے۔۔۔ کہ مجھے آپ سے خطرہ ہے۔۔۔۔۔ آپ مجھے نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔۔۔۔کیوں کر رہے ہیں آپ ایسا۔۔۔ کیوں ہیں آپ اتنے بُرے۔۔۔ کیوں ۔۔۔”
زنیشہ گالوں پر بہہ آئے آنسو بے دردی سے صاف کرتی اذیت بھرے لہجے میں بولی تھی۔۔۔۔
اور پھر ہمیشہ کی طرح اُس تصویر سے شکوہ کرتی اُسے مضبوطی سے اپنی گرفت میں جکڑے نیند کی آغوش میں جاچکی تھی۔۔۔۔
@@@@@@@@
ماورا تیز تیز قدموں سے سیڑھیاں اُترتی یونی کی بیک سائیڈ کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔۔ اُس کا چھٹیوں کی وجہ سے اچھا خاصا حرج ہوگیا تھا۔۔۔۔ اُسے صوفیہ نے سارے لیکچر سمجھانے کا وعدہ کیا تھا۔۔۔ اِبھی اُن دونوں کا پلان یونیورسٹی کے بیک سائیڈ والے حصے میں بیٹھ کر سٹڈی کرنے کا تھا۔۔۔ کیونکہ باقی تو ہر جگہ سٹوڈنٹس کا اتنا رش لگا رہتا تھا کہ پڑھنے کے بارے میں سوچنا بھی محال تھا۔۔۔۔
اِس لیے اُنہوں نے وہ حصہ سلیکٹ کیا تھا۔۔۔۔
صوفیہ پہلے ہی وہاں جاچکی تھی۔۔۔۔ جبکہ ماورا ابھی کلاس فیلو سے نوٹس لے کر وہاں ہی جارہی تھی۔۔۔ بیک سائیڈ پر آکر اُس کی متلاشی نظریں دصوفیہ کو ڈھونڈنے لگی تھیں۔۔۔
صوفیہ تو شاید وہاں نہیں تھی۔ ۔۔مگر وہاں ایک طرف کا نظر آتا منظر دیکھ ماورا کے کانوں سے دھویں نکلے تھے۔۔۔ شرمندگی کے مارے اُس سے وہاں سے جانے کے لیے بھی قدم اُٹھانا محال ہوئے تھے۔۔۔۔
کیونکہ وہاں ایک لڑکا اور لڑکی انتہائی نازیبا حرکتیں کرتے قابلے اعتراض حد تک ایک دوسرے کے قریب اپنا نامہ اعمال سیاہ کرنے میں مصروف تھے۔۔۔۔
“تمہارے لیے تو یہ نارمل ہوگا نا۔۔۔۔۔عادت ہوگی تمہں یہ سب کرنے کی۔۔۔۔۔”
اپنے عقب سے اُٹھتی طنز سے ڈوبی آواز سنتے ماورا کا حلق اندر تک کڑوا ہوا تھا۔۔۔۔ شرمندگی کے مارے اُس کا چہرا مزید جھک گیا تھا۔۔۔۔
وہ بنا کوئی جواب دیئے وہاں سے پلٹی تھی۔۔۔ جب منہاج بے اُس کی کلائی اپنی گرفت میں لیتے اُسے واپس اپنی جانب کھینچ لیا تھا۔۔۔۔ خود کا اور اپنی بات کا اگنور کیا جانا اُسے قطعاً پسند نہیں تھا۔۔۔۔ جو ماورا اچھے سے جاننے کے باوجود کر گئی تھی۔۔۔
@@@@@@@@
اپنے مقررہ وقت پر وہ یونی کے لیے تیار تھی۔۔۔ بے دلی سے ناشتہ کیے وہ حسیب کے ساتھ باہر گاڑی تک آئی تھی۔۔۔ جہاں اُس کا باڈی گارڈ اُس کے ڈرائیور کے ساتھ مستعدی سے سر جھکائے کھڑا اُس کا ویٹ کررہا تھا۔
مہرون لانگ شرٹ اور ٹراؤزر میں ملبوس سیاہ شال سے خود کو ڈھکے وہ بُرے بُرے منہ بناتے حسیب کی جانب دیکھ رہی تھی۔ کہ شاید کہیں سے کچھ مہلت مل جائے۔۔۔۔
“میری بہنا۔۔۔ اب اِس سے چھٹکارا پانا مشکل یے تمہارے لیے۔۔۔۔ کیونکہ اِس میں تمہاری سیفٹی بھی ہے۔۔۔۔ اور آژمیر لالہ کا آرڈر بھی۔۔۔۔”
حسیب نے بھی کندھے اُچکا کر اُس کی کسی قسم کی بھی مدد سے انکارکردیا تھا۔۔۔ جس کے جواب میں زنیشہ بُرا سا منہ بناتے گاڑی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔۔ اُس نے ایک نظر ہی اپنے باڈی گارڈ کی جانب ڈالی تھی۔۔۔۔ اُس کی شکل دیکھ کر ہی زنیشہ کو کوفت ہوئی تھی۔۔۔۔ لمبے بال، گھنی داڑھی اور مونچھیں۔۔۔۔ اور دراز قد و قامت۔۔۔۔ اِس باڈی بلڈر کو دیکھ زنیشہ کو دشمنوں کا تو نہیں پتا مگر اُس کی دوستوں نے بھی اس کے قریب نہیں آنا تھا۔۔۔۔
وہ اِسی طرح الٹے سیدھے منہ بناتی آنے والے وقت کا سوچتی کوفت زدہ سی بیٹھی تھی۔۔۔۔ جب گاڑی یونی کے پارکنگ ایریا میں جا رکی تھی۔۔۔۔
زنیشہ کے اُترتے ساتھ ہی اُس کا باڈی گارڈ مزمل بھی اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگا تھا۔۔۔۔ آژمیر اُس کی یونیورسٹی انتظامیہ سے پہلے ہی بات کرچکا تھا۔۔۔۔ اِس لیے یونی کے مین گیٹ پر اُس کا یونی کارڈ چیک کرواتے ہی مزمل کو اُس کے ساتھ اندر بھیج دیا گیا تھا۔۔۔۔
جس پر زنیشہ کی آخری اُمید بھی ٹوٹ گئی تھی۔۔۔
“ارے زنیشہ اتنے دنوں سے یونی کیوں نہیں آئی تم۔۔۔۔ کہاں تھی؟؟۔۔۔۔ ہمیں پتا چلا کہ تمہاری شادی ہوگئی ہے۔۔۔۔”
فضا اور سحرش اُسے دیکھتے ہی خوشگوار حیرت سے گویا ہوئی تھیں۔۔۔ دونوں کی نظریں فاصلے پر رکتے مزمل کی جانب نہیں اُٹھی تھیں۔۔۔۔
“ہاں ہونی تھی شادی۔۔۔۔ مگر کسی کھڑوس، اکڑو اور گھمنڈی شخص کی من مانیوں کی وجہ سے رُک گئی۔۔۔۔ “
زنیشہ نے زوہان کو سنہری القابات سے نوازتے اپنے دل کی بھڑاس نکالی تھی۔۔۔
“پہلی بار کسی کو اپنی شادی خراب ہونے کے بارے میں اتنی خوشی سے بتاتے دیکھ رہی ہوں میں۔۔۔۔۔ “
فضا کو اُس کے انداز سے وہ کہیں سے بھی افسردہ نہیں لگی تھی۔۔۔۔
کلاس کا ٹائم ہونے والا تھا۔۔۔۔ وہ لوگ یونی کی جانب بڑھ گئی تھیں۔۔۔ جب فضا اور سحرش کو محسوس ہوا تھا۔۔۔۔ جیسے پیچھے چلتا شخص کافی ٹائم سے اُن کا پیچھا کررہا ہے۔۔۔۔
وہ اُسے سبق سیکھانے پیچھے مُڑنے ہی والی تھیں۔ سب زنیشہ نے اُن کا بازو تھام کر روم لیا تھا۔۔
“کوئی ڈرامہ کریٹ کرکے میری مزید بےعزتی مت کروانا۔۔۔۔۔ یہ میرا باڈی گارڈ ہے۔۔۔۔ اور اب فل ٹائم سائے کی طرح میرے ساتھ ہی رہے گا۔۔۔۔”
“واٹ۔۔۔۔؟؟؟”
زنیشہ کی بات پر دونوں نے حیرت بھری نظروں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
جس پر زنیشہ اُنہیں معاملہ پوری تفصیل سے سمجھا گئی تھی۔۔۔۔ جس پر وہ سمجھنے سے قاصر تھیں کہ کیسا ری ایکٹ کریں۔۔۔۔۔
جو چیزیں فلموں اور ڈراموں میں دیکھی تھیں۔۔۔۔ وہ اب حقیقت میں اُن کو دیکھنے کو مل رہی تھی۔۔۔ اُنہیں اِس بات کا علم تھا کہ زنیشہ کا تعلق کسی بڑے خاندان سے ہے۔۔۔ مگر اِس سب کا اندازہ بالکل بھی نہیں تھا۔۔۔۔
زنیشہ کی بات کے جواب میں وہ دونوں خاموشی سے سر اثبات میں ہلا گئی تھیں۔۔۔۔
اپنی دوستوں کے بدلتے انداز پر زنیشہ نے خفگی بھری نظر پیچھے آتے گارڈ پر ڈالی تھی۔۔۔۔ وہ بھی اپنی ڈارک براؤن آنکھوں سے اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ نظروں کے تصادم پر زنیشہ کو اُس کی آنکھوں میں عجیب سے مقناطیسی کشش محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔ جس پر وہ گھبراتی چہرا موڑ گئی تھی۔۔۔۔
اُسے یہ شخص حلیے اور حرکتوں دونوں سے ہی مشکوک لگا تھا۔۔۔۔ اُس کے گھر والے بھی کیا تھے۔۔۔۔ ایک غنڈے نما شخص کو اُس کی حفاظت سونپ دی تھی۔۔۔۔۔۔
@@@@@@@@@
پہاڑوں میں گھرے خوبصورت سے پرل کانٹینٹل ہوٹل میں ہل چل عروج پر تھی۔۔ گیسٹ کا آنا جانا لگا ہوا تھا۔۔۔۔ یہاں سیاحوں کا اتنا رش ہوتا تھا۔۔۔۔ کہ پہلے سے ہی ٹیبلز کی بکنگ کروائی جاتی تھی۔۔۔ ورنہ عین ٹائم پر ٹیبلز ملنا تقریباً ناممکن امر ہی تھا۔۔۔۔
ہوٹل کی انتظامیہ اتنے رش کے باوجود سب کچھ بہت اچھے سے مینیج کرتی تھی۔۔۔ مگر آج وہاں کا عملہ پہلے سے بھی زیادہ چاکو چوبند نظر آرہا تھا۔۔۔۔ کیونکہ آج وہاں ملک آژمیر میران نے آنا تھا۔۔۔۔ اُس کا اسسٹنٹ پہلے سے ہی بکنگ کروا چکا تھا۔۔۔۔ ہوٹل کی طرف سے سارے انتظامات کیے جاچکے تھے۔۔۔۔ مگر پھر بھی مظفر آباد کی اتنی بڑی شخصیت کی آمد نے اُن کے ہاتھ پیر پھلا رکھے تھے۔۔۔۔۔
ابھی کچھ دیر پہلے ہی منیجر کو باہر آژمیر کے پہنچنے کی اطلاع ملی تھی۔۔۔ وہ اُس کے استقبال کے کیے دروازے کے قریب پہنچا تھا۔۔۔۔ جہاں سے آژمیر اپنے آدمیوں سے آگے چلتا تیز قدموں سے اندر داخل ہوا تھا۔۔۔۔
منیجر کی خوش آمدید کا سر کی ہلکی سی جنبش سے جواب دیتا وہ اپنے مطلوبہ ٹیبل کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔ جہاں پہلے ہی اُس کے کلائنٹس بیٹھے اُس کے منتظر تھے۔۔۔۔۔
یہ قدرے الگ تھلگ وی آئی پی ٹیبل تھا۔۔۔ جو باقی ٹیبلز سے زرا ہٹ کر پرسکون گوشے میں لگایا گیا تھا۔۔۔۔ آژمیر پوری دلجمعی سے اپنی بزنس میٹنگ میں مصروف تھا، جب اچانک اُس کی نظر پاس سے گزرتی ویٹرس پر پڑی تھی۔۔۔۔ کلائنٹ کی بات کا جواب دیتا لمحے بھر کو آژمیر کو بریک لگی تھی۔۔۔۔
اُس نے ایک کے بعد دوسری نظر ڈالتے اُس لڑکی کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ یہ وہی تھی جس کا اُس دن اُس کی گاڑی سے ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔۔۔۔
مگر آج وہ اُس دن سے قدرے مختلف حلیے میں تھی۔۔۔ اُس دن جو لڑکی سیاہ شال میں پوری طرح لپٹی ہوئی تھی۔۔۔۔ صرف اُس کے حسین چہرے کے علاوہ کچھ دیکھائی نہیں دے رہا تھا۔۔۔۔ آج وہ ویٹرس کے وائٹ اور بلیک کلر کے چست سے ڈریس میں دوپٹے کو آگے سیٹ کیے۔۔۔۔۔ بالوں کو جوڑے کی شکل میں قید کیے وہ اپنے بے پناہ حُسن کی نمائش کرتی آژمیر کو ایک دم زہر لگی تھی۔۔۔۔۔
اُس دن جس لڑکی کو دیکھ پاکیزگی کا احساس ہوا تھا۔۔۔۔ آج اُس کو یوں لوگوں کا مرکزِ نگاہ بنے دیکھ آژمیر کو اُس پر بہت غصہ آیا تھا۔۔۔۔
مگر وہ ہونٹ بھینچے واپس اپنے کلائنٹس کی جانب متوجہ ہوا تھا۔۔۔ جو اُس کے بدلتے سخت تاثرات دیکھ حیرت سے اُسے دیکھ رہے تھے۔۔۔۔ آژمیر کو جب بھی غصہ آتا تو اُس کی سفید رنگت بالکل سُرخ ہوجاتی تھی۔۔۔۔ جس سے مقابل باآسانی اُس کے غصے کا انداز لگا پاتا تھا۔۔۔۔
“مسٹر آژمیر۔۔۔۔۔ ایوری تھنگ از آل رائٹ۔۔۔۔”
سامنے بیٹھے حمید صاحب نے اُس کے متغیر ہوتے تاثرات دیکھ تشویش سے پوچھا تھا۔۔۔۔۔
“یا۔۔۔۔ آئم اوکے۔۔۔۔۔”
آژمیر نے جواب دیتے پلٹ کر واپس حاعفہ کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔۔ جو اب ایک ٹیبل پر کولڈ ڈرنک سرو کررہی تھی۔۔۔۔۔ جس پر چار آدمی بیٹھے نازیبا انداز سے اُس کے نازک سراپے کو گھور رہے تھے۔۔۔۔ آژمیر کو اُس لڑکی میں کوئی انٹرسٹ نہیں تھا۔۔۔ وہاں باقی بھی بہت سی ویٹرس اِسی لباس میں ملبوس تھیں۔۔۔۔ مگر آژمیر حاعفہ کو پہلے چادر میں دیکھ چکا تھا۔۔۔ اُسے بس یہی بات ڈسٹرب کررہی تھی۔۔۔ کہ آخر ایسی کیا مجبوری تھی۔۔۔ اِس لڑکی کو یہ جاب کرنے کی کہ وہ اپنے سر سے چادر اُتارنے پر محبور ہو گئی تھی۔۔۔۔
آژمیر آگ اُگلتی نظروں سے اُن مردوں کی جانب دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ جب حاعفہ کو واپس پلٹتا دیکھ اُن اوباش مردوں میں سے ایک نے حاعفہ کا ہاتھ تھام لیا تھا۔۔۔۔
اور بس۔۔۔۔ یہیں پر آژمیر کا صبر ختم ہوا تھا۔۔۔۔ وہ اپنی آنکھوں کے سامنے کسی لڑکی کے ساتھ یہ سب ہوتا نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔
وہ اپنی جگہ سے اُٹھتا پتھریلے تاثرات کے ساتھ اُس جانب بڑھا تھا۔۔۔۔ وہ ٹیبل قدرے سنسان ایریا میں تھا۔۔۔۔ اِس وجہ سے اُن لوگوں کو یہ گھٹیا حرکت کرنے کی شے مل گئی تھی۔۔۔۔۔ حاعفہ اپنی کلائی چھڑوانے کی سر توڑ کوشش کررہی تھی۔۔۔۔ مگر وہ آدمی اُس سے فری ہونے کی کوشش کرتا۔۔۔ نمبر کا مطالبہ کررہا تھا۔۔۔۔
جب اُسی لمحے آژمیر اُن کے سر پر پہنچتا اُس کے شخص کے منہ پر زور دار گھونسہ مارتے اُسے کرسی سمیت پیچھے پھینک گیا تھا۔۔۔
“گھٹیا شخص۔۔۔۔ تمہیں کس نے حق دیا اِس لڑکی کی بنا اجازت اُسے چھونے کا۔۔۔۔۔ تم جیسے نفس پرستوں کو تو اِس دنیا سے ہی خارج کر دینا چاہیئے۔۔۔۔”
آژمیر اونچی آواز میں دھاڑا تھا۔۔۔۔
حاعفہ سمیت باقی سب نے بھی دہل کر اُس غصے سے بپھرے شیر کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
آژمیر نے سب سے پہلے اپنا کوٹ اُتار کر حاعفہ کے گرد لپیٹ دیا تھا۔۔۔ جبکہ حاعفہ اُس کے اِس عمل پر آنکھیں پھاڑے بے یقینی سے اُسے دیکھے گئی تھی۔۔ وہ اپنے گرد لپٹے کوٹ کی گرمائش محسوس کرتی سن سی اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں پائی تھی۔۔۔
جبکہ آژمیر اُس شخص کو گریبان سے دبوچتا زمین سے اُٹھاتے بُری طرح اُس کے منہ پر مکے برساتا اُس کا چہرا لہولہان کر گیا تھا۔۔۔۔۔
اُس کے آدمی خاموشی سے ہاتھ باندھے اُس کے پیچھے کھڑے رہے تھے۔۔۔۔ انہیں آژمیر کو روکنے کی اجازت نہیں تھی۔۔۔۔ ہوٹل کی انتظامیہ نے وہاں پہنچتے بامشکل اُس شخص کو آژمیر کے شکنجے سے آزاد کروایا تھا۔۔۔۔
مگر آژمیر نے پہلے اُس پکڑ کر حاعفہ کے قدموں کی جانب دھکیل دیا تھا۔۔۔۔ جو اُس کے بولنے سے پہلے ہی حاعفہ کے سامنے ہاتھ جوڑتا اپنی گھٹیا حرکت کی معافی مانگ گیا تھا۔۔۔
“آئم۔سوری سر۔۔۔۔۔ یہ سب۔۔۔۔۔”
منیجر آژمیر کی جتاتی نظروں کے جواب میں منمنا کررہ گیا تھا۔۔۔۔
“جیسے اپنی گھر کی عورتوں کی عزت کا خیال ہوتا ہے۔۔۔۔ ویسے ہی اپنے عملے کی خواتین کی عزت کا خیال رکھنا آپ کا فرض ہے۔۔۔۔ آئندہ خیال رکھیئے گا۔۔۔۔”
آژمیر اُسے سخت لمجے میں وارن کرتا اب کی بار بت بنی حاعفہ کی جانب پلٹا تھا۔۔۔
“آپ میرے ساتھ آنا پسند کریں گی۔۔۔ بات کرنی ہے آپ سے۔۔۔۔۔”
آژمیر آگ اُگلتی نظروں سے اُس کی جانب دیکھتے ایک طرف بنے ٹیرس کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔ حاعفہ نے درزیدہ نظروں سے منیجر کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ جو اُسے آژمیر کی بات سننے کا اشارہ کررہا تھا۔۔۔۔ جس پر ناچار حاعفہ اپنی اُنگلیاں مروڑتی مرے مرے قدموں سے اُس کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔۔
@@@@@@@@@
“سائیں جیسا آپ نے کہا تھا سب کچھ ویسا ہی ہوا۔۔۔۔۔ مجھے بہت حیرانی ہورہی ہے۔۔۔۔ کہ آپ آژمیر میران کو اتنے اچھے طریقے سے کیسے جانتے ہیں۔۔۔۔ آپ دونوں تو دشمن ہیں ایک دوسرے کے۔۔۔۔۔ کافی دوری ہے آپ دونوں کے درمیان۔۔۔۔ پھر آپ کو کیسے معلوم ہوتا کہ کس بات پر آژمیر میران کیسا ری ایکٹ کرے گا۔۔۔۔۔”
ملک زوہان کے آدمی نے فوری طور پر اُسے اطلاع دیتے ساتھ بھرپور حیرت کا اظہار کیا تھا۔۔۔۔
جبکہ اُس کی بات پر زوہان کی آنکھوں میں تلخی بھری مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔۔۔۔
“دشمن کی رگ رگ سے واقف ہونا ہے، اُس کی کمزوریوں سے آگاہی ہی تو آپ کو اصل جیت کے راستے پر لے جاتی ہے۔۔۔۔ ملک زوہان نے زندگی میں جیتنا ہی سیکھا ہے۔۔۔۔ اپنے گنہگاروں کو معاف کرنا نہیں، اُن کو اُن کے جرم کی دوہری سزا دینا آتا ہے مجھے۔۔۔۔۔ جو کہ میں ہر حال میں دے کر رہوں گا۔۔۔۔ آژمیر میران کو تڑپتے دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔۔ ویسے ہی ٹوٹ کر بکھرے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں جیسا اُنہوں نے میرے ساتھ کیا۔۔۔۔۔۔ میران خاندان کو برباد کیے بنا میرے دل کو سکون نہیں مل پائے گا۔۔۔۔ میرے دلی سکون کے لیے آژمیر میران اور اُس کے خاندان کو برباد ہونا پڑے گا۔۔۔۔۔”
آژمیر زہر خند لہجے میں بولتا فون کاٹ گیا تھا۔۔۔۔ میران خاندان کا نام آتے ہی اُس کی آنکھوں میں خون اُتر آتا تھا۔۔۔۔۔ اُس کا دل چاہتا تھا ایک ایک کرکے سب کو گولیوں سے اُڑا دے۔۔۔۔ مگر پھر اُس کا دل اُن سب کو اتنی آسان موت دینے کو بھی نہیں مانتا تھا۔۔۔۔ اور آژمیر سے تو اُس کی دوہری دشمنی چل رہی تھی۔۔۔۔ آژمیر اُس سے اُس کا سب کچھ چھوڑنے کے باوجود بھی ابھی تک سکون سے نہیں بیٹھا تھا۔۔۔۔ وہ اب بھی اُس کے ہر عمل کے بدلے اُس کا نیا نقصان کر دیتا تھا۔۔۔۔۔ آژمیر میران کے لیے تو کسی قسم کی معافی کا سوال پیدا ہو ہی نہیں سکتا تھا۔۔۔۔ سب سے کڑی سزا وہ اُسی کو دینے کا ارادہ ہی رکھتا تھا۔۔۔۔
@@@@@@@@@
جاری ہے۔۔۔۔۔
Ye novel kysa lag raha apko???? Apny likes or comments sy zarur btain…..
