Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

“زنیشہ کچھ نہیں ہوا سب ٹھیک ہے۔۔۔۔۔ زوہان آژمیر کو کبھی نقصان نہیں پہنچائے گا۔۔۔۔۔ اور نہ آژمیر اتنا کمزور ہے کہ اُس کے کیے جانے وار کا مقابلہ ہی نی کرپائے۔۔۔ تم یہ فضول باتیں سوچ کر خود کو ہلکان مت کرو۔۔۔۔ دیکھو کیا حالت بنا رکھی ہے تم نے اپنی۔۔۔ “
شمسہ بیگم اُسے کندھوں سے تھام کر واپس بیڈ پر لٹاتیں، اُس کا زرد چہرا دیکھ فکرمندی سے بولی تھیں۔۔۔۔ وہ یہی سمجھی تھیں۔ کہ زوہان نے جو ذیشان کے ساتھ کیا وہ اُس کی وجہ سے اتنی ڈری ہوئی ہے۔۔۔۔ مگر وہ یہ نہیں جانتی تھیں کہ یہ ڈر و خوف زوہان کے اِس کمرے میں آکر ادا کیے جانے والے الفاظ کی وجہ سے ہے۔۔۔۔۔ زوہان کی دی جانے والی دھمکی ابھی بھی اُس کے کانوں میں گونجتی اُسے نئے سرے سے خوف میں مبتلا کر جاتی تھی۔۔۔۔۔
وہ چاہ کر بھی یہ بات شمسہ بیگم یا گھر کے کسی بھی فرد کو نہیں بتا سکتی تھی۔۔۔ کیونکہ اگر یہ بات آژمیر تک پہنچ جاتی تو آژمیر نے اِس حرکت پر زوہان کو کسی قیمت پر معاف نہیں کرنا تھا. اور جواب میں زوہان بھی کسی سے کم نہیں تھا۔
اِس لیے اُس نے یہ بات اپنے دل کے اندر ہی دفن کرنا مناسب سمجھا تھا۔۔۔
@@@@@@@@@
آژمیر میران شدید غصے میں شہر کی جانب روانہ تھا۔ کیونکہ اُسے یہی اطلاع ملی تھی کہ زوہان اپنے شہر والے گھر میں ہے۔۔۔ اِس لیے وہ جلد از جلد وہاں پہنچ کر آج ملک زوہان کی عقل ٹھکانے لگانے کا پورا ارادہ رکھتا تھا۔۔
ملک زوہان کی حرکتیں دن بدن بڑھتی جارہی تھیں۔۔۔ جن پر بند باندھنا اب ضروری ہوگیا تھا۔۔۔
وہ لوگ ابھی آدھے راستے میں ہی پہنچے تھے۔ آس پاس سنسان جنگل موجود تھا۔۔۔ گاڑی اپنی فل رفتار سے چل رہی تھی۔۔۔ جب اچانک سامنے روڈ پر اُنہیں سیاہ شال میں ملبوس کوئی تن تنہا لڑکی تیز تیز قدموں سے چلتی نظر آئی تھی۔۔۔ ڈرائیور نے فل سپیڈ میں ہونے کی وجہ سے گاڑی کا بمشکل کنٹرول کرتے بریک لگائی تھی۔۔۔ مگر پھر بھی وہ اُس لڑکی کو ٹکراؤ سے بچانے میں ناکام ہوا تھا۔۔۔۔
گاڑی کی زرا سی ٹھوکر سے سامنے چلتی لڑکی اُچھل کر روڈ پر جاگری تھی۔۔۔۔
“جمال یہ کیا کیا تم نے؟؟…. آنکھیں بند کرکے گاڑی چلا رہے تھے کیا۔۔۔ جو تمہیں روڈ پر چلتی لڑکی نظر نہیں آئی۔۔۔۔”
آژمیر پہلے ہی شدید غصے میں تھا۔۔۔ اُوپر سے ڈرائیور کی حرکت پر اُسے مزید تپ چڑھی تھی۔۔۔ جو نجانے کونسی مصیبت اُس کے گلے ڈال چکا تھا۔۔۔۔
پیچھے آتی گارڈز کی گاڑیاں بھی رک چکی تھیں۔۔۔
“معذرت سائیں۔۔۔۔۔”
ڈرائیور بس منمنا کر رہ گیا تھا۔۔۔۔
“سائیں میں دیکھتا ہوں۔۔۔۔۔”
ڈرائیور کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھا فیصل جلدی سے نیچے اُترا تھا۔۔۔۔
آژمیر ہونٹ بھینچے وہیں بیٹھا رہا تھا۔۔۔
“سائیں وہ لڑکی بے ہوش ہوچکی ہے۔۔۔ اور اُس کے ماتھے سے بہت زیادہ خود بہہ رہا ہے۔۔۔ یہ اُس لڑکی کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔۔۔۔”
فیصل نے کھڑکی سے آکر آژمیر کو بتایا تھا۔۔۔ سامنے ہوش و خرد سے بیگانہ لڑکی کے بے پنا حُسن کو دیکھ اُس کی آنکھیں چندھیا گئی تھیں۔۔
“لڑکی بہت زیادہ خوبصورت ہے۔۔۔ یہ آس پاس جنگل بھی ہے۔۔۔۔ کہیں کوئی چڑیل ویل تو نہیں ہے۔۔۔ ورنہ اِس جگہ تن تنہا لڑکی کا کیا کام۔۔۔۔۔ ویسے اتنی حسین لڑکی میں سے آج تک نہیں دیکھی۔۔۔۔۔ اتنی سفید ہے وہ۔۔۔ اندھیرے میں بھی اُس کی دودھیا رنگت دھمک رہی تھی۔۔۔ کاش آج وہ اکیلی ہی مل جاتی۔۔”
فیصل کے پیچھے کھڑے گارڈز آژمیر کے اپنی جانب متوجہ ہونے سے انجان اپنی ہانکی جارہے تھے۔
اُن کی باتیں سن کر آژمیر کے چہرے کے تاثرات بگڑے تھے۔۔۔ وہ گارڈز کو ہی کہنے والا تھا کہ اُس لڑکی کو ہاسپٹل لے جاؤ۔۔۔۔ مگر اُنہیں اُس لڑکی کے حُسن میں قصیدے پڑھتے دیکھ آژمیر کو اِس طرح ہوش سے بیگانہ لڑکی کو اُن سب کے ساتھ بھیجنا ٹھیک نہیں لگا تھا۔۔۔۔
آژمیر اُن پر ایک سخت نظر ڈالتا گاڑی سے باہر نکلا تھا۔۔۔۔ جبکہ آژمیر کو باہر نکلتا دیکھ وہ دونوں مؤدب بنے سر جھکا گئے تھے۔۔
جب اُن کے سامنے آتے آژمیر نے دونوں کے منہ پر پر ایک ایک تھپڑ رسید کیا تھا۔۔۔۔ اُسے اُن کا ادا کیس جانے والا آخری جملہ آگ بگھولا کرگیا تھا۔۔۔۔
“جیسی عزت و احترام اپنی گھر کی عورتوں کے لیے رکھتے ہو۔۔۔۔ باہر موجود تمام عورتوں کو بھی اُسی نظر سے دیکھنا شروع کردو۔۔۔۔۔ معاشرے میں عورتیں تم جیسی گھٹیا سوچ رکھنے والوں کی وجہ سے محفوط نہیں ہیں۔۔۔۔ جہاں تن تنہا لڑکی دیکھی، اپنی لال ٹپکانے پہنچ جاتے ہو۔۔۔۔۔ اگر ایسا ہی کوئی تمہاری گھر کی عورتوں کے بارے میں سوچے تو کیسا لگے گا تمہیں۔۔۔۔۔۔۔”
آژمیر اُن پر غصیلی سرد نگاہ ڈالتا اُس لڑکی کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔ جو واقعی حُسن کا مومی مجسمہ تھی۔۔ باقی وہ پوری طرح سے سیاہ شال میں کور تھی۔۔۔ بس اُس کا دودھیا دلکش نقوش سے سجا چہرا سامنے تھا۔۔۔۔ ماتھے سے نکلتا خون اُس کے آدھے چہرے کو تر کر چکا تھا۔۔۔۔ گاڑی کی ہیڈ لائٹس میں اُس کے ستواں ٹھنڈ سے گلابی پڑتی ناک میں پہنی نتھ جگمگا رہی تھی۔۔۔۔ سیاہ شال میں ڈھکے یونء
آژمیر نے فوراً اُس کے دلفریب چہرے سے نظریں پھیر لی تھیں۔۔۔ وہ مضبوط اعصاب کا مالک تھا۔۔۔ جتنا بھی حُسن اُس کے سامنے ہوتا وہ خود کو بہکنے سے بچانا اچھی طرح جانتا تھا۔۔۔
آگے بڑھ کر اُس لڑکی کو بانہوں میں اُٹھاتے وہ اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گیا تھا۔ اُسے گاڑی کی بیک سیٹ پر لٹاتے وہ خود ڈرائیور کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر آن بیٹھا تھا۔۔۔ فیصل اب گارڈز کی گاڑی میں تھا۔۔۔۔ اُن کی گاڑیاں تیزی سے ہاسپٹل کی جانب روانہ ہوئی تھیں۔۔۔
آژمیر زوہان کے پاس جلد از جلد پہنچ کر اُس کی عقل ٹھکانے لگانا چاہتا تھا۔۔۔۔ مگر اِس لڑکی کو یوں بے یارو مددگار چھوڑنے پر بھی اُس کا دل نہیں مان رہا تھا۔۔۔۔
اِس لیے پہلے وہ اِس لڑکی کو ہاسپٹل پہنچا کر اِس کا ٹریٹمنٹ کروانا چاہتا تھا۔۔۔۔
@@@@@@@@
منہاج درانی سے ٹکراؤ کے بعد ماورا کا دماغ ڈسٹرب ہوچکا تھا۔۔۔ بنا کوئی کلاس اٹینڈ کیے وہ ہاسٹل واپس آگئی تھی۔۔۔۔ منہاج اُس کی سچائی جانتا تھا۔۔ اگر وہ یہ بات یونی میں سب کے سامنے مشہور کر دیتا تو اُسے کوئی بھی یونی میں ٹکنے نہ دیتا۔۔۔۔ ماورا کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ منہاج درانی جیسے ناسور سے بچنے کے لیے وہ کیا کرے۔۔۔۔
@@@@@@@@
آژمیر اُس لڑکی کو لیے سیدھا ہاسپٹل پہنچا تھا۔۔ ڈاکٹرز کے مطابق روڈ پر گرنے کی وجہ سے اُس کے ماتھے پر چوٹ آئی تھی۔۔۔ بے ہوش ہونے کی وجہ بھی یہی تھی۔۔۔ اُس کی بینڈیج کرکے ڈرپ لگا دی گئی تھی۔۔۔ کچھ ہی دیر میں اُسے ہوش آجانا تھا۔۔۔۔ آژمیر اُس لڑکی کے ہوش میں آنے تک وہیں رُکا تھا۔۔۔۔ اور ساتھ میں ملک زوہان کے رٹرن گفٹ کی بھی تیاری کرنے لگا تھا۔۔۔۔
“سائیں اُس لڑکی کو ہوش آگیا ہے۔۔۔۔۔ “
آژمیر کال کاٹتا واپس پلٹا تھا جب فیصل نے اُسے اُس لڑکی کے ہوش میں آجانے کی اطلاع دی تھی۔۔۔
آژمیر اثبات میں سر ہلاتا اُس روم کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔ اِس لڑکی کا یوں سنسان روڈ پر اچانک آجانا اُسے میں اچنبھے میں ڈال گیا تھا۔۔۔
اُس کے دشمنوں کی کمی نہیں تھی۔۔۔ یہ دشمنوں کی جانب سے کی گئی کوئی سازش بھی ہوسکتی تھی۔۔۔ اِس لیے وہ اِس لڑکی سے بات اور جانچ پڑتال کیے بنا جانے نہیں دینا چاہتا تھا۔۔۔۔
اُسے آتا دیکھ گارڈ نے جلدی سے دروازہ کھولا تھا۔۔۔ آژمیر تیزی سے اندر داخل ہوا تھا۔۔۔ جب اُس کی نظر سامنے بیڈ پر تکیوں کے سہارے ٹیک لگائی بیٹھی لڑکی پر پڑی تھی۔۔۔
لرزتے دل کے ساتھ وہاں بیٹھی حاعفہ نے بھی اپنی گھنیری پلکوں کی باڑ اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ اُسے نرس سے ہی پتا چلا تھا کہ کوئی آژمیر نامی شخص اُسے یہاں لایا تھا۔۔۔ اور اب اُس کے ہوش میں آنے کے بعد اُسے ملنا چاہتا تھا۔۔۔۔
حاعفہ کو جو کرنے کو کہا گیا تھا ابھی تک سب ٹھیک چل رہا تھا۔۔۔۔ مگر اب آگے آژمیر میران کا سامنا کرنے سے اُس کی حالت غیر ہورہی تھی۔۔۔ اُس کا دل بہت گھبرا رہا تھا۔۔۔ نجانے وہ شخص کتنا خطرناک ہو۔۔۔۔۔ اور کہیں وہ پکڑی نہ جائے۔۔۔۔۔
اُسے صبح ہی کال آئی تھی، اُسی شخص کی جس نے اب آژمیر میران کو اپنے جال میں پھنسانے کے لیے اُسے ساری آگاہی دینی تھی۔۔۔۔ آج بھی اُسی کے کہنے پر ہی وہ ڈرائیور کے ساتھ اُس سنسان روڈ پر پہنچی تھی۔۔۔۔ اُس کا ڈرائیور گاڑی کو چند کلو میٹر دور جھاڑیوں میں چھپائے کھڑا تھا۔۔۔۔ تاکہ آژمیر اور اُس کے آدمیوں کی نظروں میں نہ آسکے۔۔۔۔۔
آژمیر کی گاڑی کو قریب آتا دیکھ حاعفہ جان بوجھ کر سامنے آئی تھی۔۔۔۔ کیونکہ اُسے بتایا گیا تھا کہ آژمیر میران سے سامنا ہونا اتنا آسان نہیں تھا۔۔۔۔ اِس لیے حاعفہ کو یہ موقع سب سے اچھا لگا تھا۔۔۔۔
جس کا بھرپور فائدہ اُٹھاتے وہ اب آژمیر میران کے سامنے تھی۔۔۔۔
نرس نے اُس کے اندر آنے کا بتایا تھا۔۔۔ حاعفہ کا دل خوف کے مارے بیٹھا جارہا تھا۔۔۔۔ جب دروازہ کھولتے ایک رعب دار پرسنیلٹی کا مالک خوبرو شخص اندر داخل ہوا تھا۔۔۔۔ سیاہ لباس میں کریم کلر کی گرم شال اپنے چوڑے کندھوں کے گرد لپیٹے وہ مقناطیسی نگاہیں اُس کی جانب اُٹھائے قریب آیا تھا۔۔۔۔ اُس کی خود پڑ گڑھی سنجیدگی بھری سیاہ آنکھیں حاعفہ کا دل زور سے دھڑکا گئی تھی۔۔۔ وہ جس طرح حاعفہ پر نگاہیں گاڑھے کھڑا تھا۔۔۔ اُس کے خوف سے اپنے ہاتھوں کی لرزش چھپانے کے لیے حاعفہ نے بیڈ کی چادر کو مُٹھی میں دبوچ لیا تھا۔۔۔
آژمیر میران نے ہونٹ سختی سے بھینچ رکھے تھے۔۔۔ ہونٹوں پر سجی گھنیری مونچھیں اُس کی رعب دار پرسنیلٹی میں مزید اضافہ کررہی تھیں۔۔۔۔
“کون ہو تم؟؟؟ اور رات کے پہر اُس سنسان روڈ پر کیا کررہی تھی۔۔۔؟؟”
حاعفہ کو کڑے تیوروں سے گھورتے اُس نے سختی بھرے لہجے میں استفسار کیا تھا۔۔۔
اُس کی زیرک نگاہیں حاعفہ کے چہرے پر ٹکی ہوئی تھیں۔۔۔ جو خود کو کمپوز کرنے کی پوری کوشش کررہی تھی۔۔۔۔ وہ نہیں چاہتی تھی، آژمیر کو اُس پر زرا سا بھی شک ہو۔۔۔۔۔
“حاعفہ نور نام ہے میرا۔۔۔۔۔ “
حاعفہ نے اپنے چہرے کے گرد لپٹی شال کو مزید درست کرتے اُسے جواب دیا تھا۔۔۔
“کچھ غنڈے میرے پیچھے لگے ہوئے تھے۔۔۔ مجھے پتا ہی نہیں چلا اور میں وہاں آن نکلی۔۔۔۔ اور اچانک آپ کی گاڑی سے ٹکرا گئی۔۔۔۔”
حاعفہ نے اپنا خشک حلق تر کرتے سر جھکائے جواب دیا تھا۔۔۔۔
کیونکہ آژمیر میران کی جانچتی نگاہیں اُس پر ٹکی ہوئی تھیں۔۔۔۔ ہمیشہ لوگوں کو اپنی قاتل نگاہوں سے مات دینے والی حاعفہ اِس وقت اِس شخص کے سامنے نگاہیں اُٹھانے سے قاصر تھی۔۔۔۔
“اپنے گھر والوں کا نمبر بتاؤ۔۔۔۔ تاکہ وہ یہاں سے آکر لے جائیں تمہیں۔۔۔۔۔”
آژمیر نے موبائل پاکٹ سے نکالتے اُس سے نمبر مانگا تھا۔۔۔
حاعفہ کے چہرے کا رنگ متغیر ہوا تھا۔۔۔۔
“میرا اِس دنیا میں کوئی نہیں ہے، میرے پیرنٹس کی ڈیتھ ہوچکی ہے۔۔۔۔ میں اکیلی رہتی ہوں۔۔۔۔”
حاعفہ نے فوراً سنبھلتے جواب دیا تھا۔۔۔۔
“اپنے گھر کا ایڈریس بتاؤ۔۔۔۔۔”
آژمیر نے نیا سوال داغا تھا۔۔۔۔ اُس کی سرد نگاہیں ہنوز حاعفہ پر ٹکی ہوئی تھیں۔۔۔ اِس لڑکی کی گھبراہٹ اُسے شک میں مبتلا کررہی تھی۔۔۔۔
“میں خود گھر چلی جاؤں گی۔۔۔۔آپ نے اب تک میری جتنی مدد کی، اُس کے لیے بہت مشکور ہوں میں۔۔۔۔”
حاعفہ جذبز ہوئی تھی۔۔۔۔ اِس شخص کی موجودگی اُس پر بہت بھاری پڑ رہی تھی۔۔۔ اِس کی ساحرانہ شخصیت کے سامنے اُس سے بولنا محال ہورہا تھا۔۔۔ وہ بھلا اُسے اپنی محبت کے جال میں کیسے پھنساتی۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی بات کے جواب میں آژمیر اُس پر ایک نگاہ ڈالتا وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔۔ وہ پہلے ہی اخلاقیات کے چکر میں اِس لڑکی کے پیچھے اپنا کافی ٹائم ضائع کر چکا تھا۔۔۔۔۔۔
اِس لڑکی کا تن تنہا وہاں پایا جانا اُسے مشکوک تو لگا تھا۔۔۔ مگر اُس کا آژمیر سے یوں گریز برتنا اُس کا شک دور کرگیا تھا۔
آژمیر کے جاتے ہی حاعفہ نے سکھ کا سانس ہوا میں خارج کرتے تکیے سے سر ٹکا دیا تھا۔۔۔
جس شخص سے وہ ٹھیک سے بات بھی نہیں کر پارہی تھی۔۔۔۔ اُس سے آگے رکھے جانے والے ریلیشن کا سوچ حاعفہ کی کیفیت غیر ہوئی تھی۔۔۔۔
اُس کا بہت سے مردوں سے سامنا ہوا تھا۔۔۔ مگر اِس شخص میں ایک الگ ہی کشش تھی۔۔۔۔ جو حاعفہ کو خود میں جکڑ رہی تھی۔۔۔
جہاں ایک طرف آژمیر میران کو ایک شریف النفس انسان کے روپ میں دیکھ کر اُسے سکون ملا تھا، وہیں اُس کی شخصیت کے آگے حاعفہ کو اپنا سارا کانفیڈنس اور زہانت صفر ہوتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔ حاعفہ کو یہاں آنے سے پہلے یہی بتایا گیا تھا۔ کہ اگر آژمیر میران کے سامنے اُس کی اصلیت کھل گئی کہ وہ اُسے دھوکا دینے آئی ہے یہاں۔۔۔۔ تو اُس کا آژمیر میران کے قہر سے بچ پانا ناممکن تھا۔۔
@@@@@@@@@
جاری ہے۔۔۔۔