No Download Link
Rate this Novel
Episode 63
ملک فیاض کے والد کی ڈیتھ کے بعد میران پیلس کے سربراہ وہی بن چکے تھے۔۔۔۔ اب اُنہیں کسی کا کوئی ڈر نہیں تھا۔۔۔۔
ملک فیاض نے بہت کوشش کی تھی کہ تحریمہ بیگم کا رویہ اُن کے ساتھ ویسا ہی محبت بھرا ہوجائے جس کی وجہ شروع سے خواہش کرتے آئے تھے۔۔۔۔۔
مگر وہ جس قدر ظلم اُن پر ڈھا چکے تھے۔۔۔۔ تحریمہ بیگم اُن کی شکل دیکھنے کی بھی روادار نہیں تھیں۔۔۔۔ وہ بارہاں اُنہیں اُن کے منہ پر بدعائیں دینے کے ساتھ ساتھ شدید نفرت کا اظہار کرچکی تھیں۔۔۔ جس کے بعد انہیں ہمیشہ کی طرح ملک فیاض کا درندوں جیسا رُوپ ہی دیکھنے کو ملتا تھا۔۔۔۔۔
جس کے ساتھ ہی اُن کی نفرت میں مزید اضافہ ہوجاتا تھا۔۔۔۔
شمسہ بیگم سمیت گھر کے تمام افراد ملک فیاض کا تحریمہ سے روا رکھا جانے والا نارواں سلوک نوٹ کرنے کے باوجود کچھ کر نہیں سکتے تھے۔۔۔۔ شمسہ بیگم تحریمہ بیگم کی سوتن ہونے کے باوجود اُن کی خستہ حالت اور ہر وقت یا تو گم صم رہنے یا پھر کسی کونے میں چھپ کر روتا دیکھنا برداشت نہیں کر پارہی تھیں۔۔۔
وہ نہیں جانتی تھیں اصل معاملہ کیا تھا۔۔۔ نہ ہی ملک فیاض نے اُنہیں اِس معاملے پر بولنے کی اجازت دی تھی۔۔۔۔ مگر وہ دل میں تحریمہ بیگم کے لیے ہمددری رکھتے اُن سے بات کرنے کی کئی بار کوشش کرچکی تھیں۔۔۔ لیکن تحریمہ بیگم نے کبھی بھی اُن کی کسی بات کا پلٹ کر جواب نہیں دیا تھا۔۔۔ وہ اِس بھلی عورت کی زندگی اپنی وجہ سے مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتی تھیں۔۔۔۔
آژمیر اور زوہان کو اِن معاملات سے دور ہاسٹل میں رکھا گیا تھا۔۔۔۔ جہاں سے وہ مہینے بعد دو دن کے لیے ہی لوٹتے تھے۔۔۔ زوہان کو تحریمہ بیگم سے دور رکھنا بھی ملک فیاض کی سزا کا ایک حصہ تھا۔۔۔۔ دونوں بھائیوں میں بے پناہ پیار تھا اِس لیے زوہان کے ساتھ ساتھ آژمیر نے بھی ضد کرتے ایک ہی جگہ پر پڑھنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔۔۔۔۔
آژمیر اور زوہان گھر کے بڑے بچے ہونے کے ناطے سب کے بہت لاڈلے تھے۔۔۔ اُن کا آپسی پیار بھی مثالی تھا۔۔۔ اُن کو دیکھ کر نہیں لگتا تھا کہ ماؤں کی طرف سے وہ سوتیلے ہیں۔۔۔ اور اُن دونوں کی لاڈلی تھی۔۔۔ زنیشہ۔۔۔۔۔
آژمیر ہمیشہ زنیشہ کو بہنوں کی طرح پروٹیکٹ کرتا تھا۔۔۔ زوہان کے لیے بھی وہ گلابی گالوں والی گڑیا ہر شے سے بڑھ کر تھی۔۔۔ مگر بچپن سے ہی سب کے کہنے کے باوجود وہ اُسے بہن نہیں کہتا تھا۔۔ بلکہ اُس کی زبان پر نجانے کہاں سے سن کر یہی جملہ چڑھا ہوا تھا کہ میں زنیشہ سے شادی کروں گا۔۔۔۔
اُس کے معصومیت بھرے انداز پر سب مسکرا اُٹھتے تھے۔۔۔۔کوئی نہیں جانتا تھا کہ اُس کا کچی عمر سے ہی شروع ہوا اُس کا جنون ہمیشہ اُس کے ساتھ رہنے والا تھا۔۔۔۔
تحریمہ بیگم نے زوہان کا بچپن خراب ہونے کے خیال سے اُسے اُس کے باپ کی حقیقت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا۔۔۔۔ وہ چاہتی تھیں کہ اُن کا بیٹا اُن کے مجرم سے اُن کا انتقام لے۔۔۔۔ مگر وہ چاہ کر بھی ایک بیٹے کو اُس کے باپ کے خلاف نہیں کر پائی تھیں۔۔۔۔
اُنہیں دنوں میران پیلس میں ایک نئی ملازمہ آئی تھی۔۔۔ تحریمہ بیگم بالکل بھی نہیں جانتی تھیں۔۔۔ کہ وہ فائز کی بھیجی گئی اُس کی خیر خواہ تھی۔۔۔۔
فائز جو اتنے سالوں سے تحریمہ بیگم کو مسلسل ڈھونڈنے میں لگا تھا۔۔۔۔ آخر کار اُن تک آن پہنچا تھا۔۔۔
لیکن گزرے سالوں میں ملک فیاض اتنا پاور فل ہوچکا تھا کہ فائز اُس سے الجھنے کی حیثیت میں نہیں تھا۔۔۔ اُسے کسی بھی صورت تحریمہ بیگم کو میران پیلس سے باہر نکالنا تھا۔۔۔
جس کے لیے اُس کی بھیجی گئی ملازمہ مددگار ثابت ہوئی تھی۔۔۔۔
تحریمہ بیگم فائز کا پیغام ملتے ہی نئے سرے سے جی اُٹھی تھیں۔۔۔ اتنے سالوں بعد ہی مگر اُنہیں اِس درندہ صفت شخص سے آزادی ملنے والی تھی۔۔۔۔۔
ملک فیاض کے بھانجے کا عقیقہ تھا ہمیشہ کی طرح ملک فیاض کی جانب سے تحریمہ بیگم کو میران پیلس سے نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔۔۔۔
تحریمہ بیگم کو اِس سے اچھا موقع کوئی نہیں ملا تھا۔۔۔ ملازمہ کے ذریعے اُنہوں نے فائز تک پیغام بھجوا دیا تھا کہ وہ گھر والوں کے نکلتے ہی میران پیلس کے پچھلے گیٹ سے اُنہیں لینے آجائیں۔۔۔۔۔
پلان کے مطابق فائز نے ویسا ہی کیا تھا۔۔۔ لیکن یہاں پر بھی قسمت نے تحریمہ بیگم کا ساتھ نہیں دیا تھا۔۔۔ ملک فیاض کوئی اہم فائل لینے گھر آن پہنچے تھے۔۔۔۔
اپنی بیوی کو اُس کے محبوب کے ساتھ فرار ہوتے دیکھ ملک فیاض کا بھیڑیا نما رُوپ ایک بار پھر سامنے آچکا تھا۔۔۔۔۔
تحریمہ بیگم کے لاکھ گڑگڑانے اور پیر پڑنے کے باوجود اُنہیں رحم نہیں آیا تھا۔۔۔۔ اُنہوں نے تحریمہ بیگم پر ایک اور ظلم کی داستان رقم کرتے اُن کی آنکھوں کے سامنے فائز کو گولیوں سے بھن کر رکھ دیا تھا۔۔۔۔
اُسی لمحے گھر والوں کو سرپرائز دینے کی خاطر ہنسی خوشی وہاں داخل ہوتے پندرہ سالہ آژمیر اور زوہان گولیوں کی آواز پر اُس سمت کا تعین کرتے تہہ خانے کی جانب دواڑے تھے۔۔۔۔
جس کا دروازہ اندر سے بند دیکھ وہ دونوں جلدی سے کھڑکی تک پہنچے تھے۔۔۔ جہاں کا منظر دیکھ اُن دونوں کے کچے زہنوں کو ہلا کر رکھ گیا تھا۔۔۔۔
ملک فیاض جسے وہ اپنے آئیڈیل باپ کے رُوپ میں دیکھتے تھے۔۔۔ اُسے کسی کے قاتل کے رُوپ میں دیکھنا اُن دونوں کی ہستی فنا کر گیا تھا۔۔۔ زوہان کی نظر خون میں لت پت فائز کے مردہ وجود پر سر رکھے روتی اپنی ماں پر پڑی تھی۔۔۔۔
اُن کے لیے معاملہ سمجھ پانا مشکل تھا۔۔۔ لیکن اگلے ہی لمحے تحریمہ بیگم کے منہ سے نکلنے والا ایک ایک لفظ زوہان کے کچے دماغ پر رقم ہوکر رہ گیا تھا۔۔۔۔
جو روتی بلکتی ملک فیاض کو بددعائیں دیتی اُن کا ایک ایک ظلم گنواتی چلی گئی تھیں۔۔۔۔ وقت بدل گیا تھا۔۔۔ مگر ملک فیاض کی سوچ اور روایتی بزدل اور کم ظرف مردوں جیسی چھوٹی سوچ نہیں بدلی تھی۔۔۔۔
اپنی بیوی کے منہ سے اپنے لیے نکلنے والے توہین آمیز الفاظ اور اُس کی اپنے محبوب کے ساتھ فرار ہونے کے لیے کی جانے والی کوشش ملک فیاض کی نظروں میں غلطی نہیں بلکہ ایک ایسا گناہ تھا جس کی کوئی معافی نہیں مل سکتی تھی۔۔۔۔
اپنے مقابل آن کھڑی ہوتی تحریمہ بیگم کے منہ پر تھپڑ رسید کرتے اُنہیں زمین کی نظر کرتے کچھ فاصلے پر پڑا مٹی کا تیل اُن پر چھڑک دیا تھا۔۔۔۔
اِس سے پہلے کے آژمیر اور زوہان اُن کا مقصد سمجھ پاتے اُنہوں نے ظلم کی انتہا کرتے تحریمہ بیگم کے وجود کو آگ کی نظر کردیا تھا۔۔۔۔
وہ دونوں چیختے چلاتے دروازہ پیٹتے رہ گئے تھے۔۔۔ مگر ملک فیاض بت بنا کھڑا رہا تھا۔۔۔۔ طاقت کے نشے نے اُس شخص کا دماغ خراب کردیا تھا۔۔۔۔ وہ کمزور اناپرست مرد ایک عورت کے منہ سے نکلنے والی اپنی اصلیت برداشت نہیں کرپایا تھا۔۔۔۔
وہ اُس عورت سے مقابلہ کرنے کی ہمت نہ رکھ پاتے اُس کا منہ ہمیشہ کے لیے بند کرگیا تھا۔۔۔ تحریمہ بیگم شروع سے کہتی آئی تھیں۔۔۔ اِس شخص کو اُن سے محبت نہیں تھی۔۔۔ محبت تو انسان کا ظرف بڑھا دیتی ہے۔۔۔ اُس کی سوچ میں وسعت لاتی ہے۔۔۔۔ اپنے محبوب کو اپنے ساتھ باندھنا نہیں بلکہ اُس کے سکھ میں اپنی خوشی ڈھونڈنا سیکھاتی ہے۔۔۔۔
محبت تو وہ تھی جو فائز نے اُن سے کی تھی۔۔۔ اور آج اُسی محبت کی خاطر اپنی جان تک قربان کرگیا تھا۔۔۔۔
ملک فیاض کا شمار معاشرے کے اُن مردوں میں ہوتا تھا جو عورت کے وجود سے تسکین حاصل کرنے سے زیادہ اُنہیں کوئی اہمیت دینا نہیں جانتے تھے۔۔۔ اُن کے مطابق عورت کا مرد سے اونچی آواز میں بات کرنا مرد ذات کی توہین تھی۔۔۔۔ لیکن مرد اُس بے ضرر مخلوق کے ساتھ ہر طرح کا سلوک رکھنے کے حقدار تھے۔۔۔۔
زوہان اور آژمیر کی لگاتار کوششوں کے بعد وہ بہت مشکلوں سے دروازہ توڑنے میں کامیاب ہوچکے تھے۔۔۔ مگر اندر داخل ہوتے ہی اپنی ماں کا راکھ بنا وجود دیکھ زوہان کی تو جیسے دنیا لُٹ چکی تھی۔۔۔۔۔
آژمیر بھی پھٹی پھٹی نگاہوں سے صدمے کی حالت میں یہ سب دیکھ رہا تھا۔۔۔ تحریمہ بیگم اُس کے لیے بھی ماں کا درجہ رکھتی تھیں۔۔۔۔
اُس کا دل چاہا تھا اپنے ہاتھوں سے اپنے درندے صفت باپ کو ختم کردے۔۔۔۔ مگر اُس کی سوچ سے پہلے ہی زوہان اِس بات پر عمل پیرا ہوتا ملک فیاض کی گری گن اُٹھاتا۔۔۔۔ اُس میں موجود ساری گولیاں ملک فیاض کے وجود میں اُتارتا چلا گیا تھا۔۔۔۔
آژمیر کے زوہان تک پہنچنے تک زوہان اپنی ماں کا انتقام پورا کرچکا تھا۔۔۔۔
آج پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ میران پیلس میں کے سارے ملازمین بھی اُس تقریب میں شرکت کرنے گئے تھے۔۔۔ اور آج کے آج ہی میران پیلس پر قیامت ٹوٹ گئی تھی۔۔۔۔
“زوہان یہ کیا کیا تم نے۔۔۔۔؟؟؟ چلو میرے ساتھ۔۔۔۔۔ “
آژمیر زوہان کے ہاتھ سے گن کھینچتا اُسے اپنے ساتھ گھسیٹتے باہر کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔
“آژمیر ابھی اُس کی سانسیں چل رہی ہیں۔۔۔۔ میں مار ڈالوں گا اُسے۔۔۔۔ اُس نے میری ماں کو مجھ سے چھین لیا۔۔۔۔۔”
زوہان چلاتا رہ گیا تھا۔۔۔۔ لیکن آژمیر اِس خوف سے کہ کہیں ملک فیاض کے قتل کے الزام میں زوہان کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔۔۔۔ وہ اُسے لیے میران پیلس سے نکل گیا تھا۔۔۔۔ وہ دونوں جس خاموشی کے ساتھ وہاں آئے تھے اُسی رازداری کے ساتھ واپس چلے گئے تھے۔۔۔
آژمیر سے زوہان کو کنٹرول کرنا بہت مشکل ہوگیا تھا۔۔۔ جو ظلم کی انتہا وہ دونوں دیکھ چکے تھے۔۔۔ زوہان کے ساتھ ساتھ آژمیر کا دل بھی خون کے آنسو رو رہا تھا۔۔۔۔
آژمیر نے زوہان کو قسم دے کر خاموش کروا دیا تھا کہ وہ کسی کے سامنے ملک فیاض کو مارنے کا سچ نہیں کہے گا۔۔۔۔ اگر اُس نے ایسا کچھ کرنے کی کوشش کی تو آژمیر اُس کا الزام اپنے سر لے لے گا۔۔۔۔ گن پر دونوں کی اُنگلیوں کے نشان تھے۔۔۔ اور دونوں ہی اُس وقت وہاں موجود تھے۔۔۔
اُن کی زندگیوں کا وہ بھیانک ترین واقع اُس دن کے بعد سے زوہان اور آژمیر کی شخصیات کو ایک دم بدل کر رکھ گیا تھا۔۔۔
زوہان کو جیسے ہی ملک فیاض کے بچ جانے کا پتا چلا تھا۔۔۔۔ وہ آژمیر پر شدید غصہ ہونے کے ساتھ ساتھ بدگمان ہوا تھا۔۔۔۔ وہ اس وقت زہنی طور پر اِس قدر تباہ ہوچکا تھا کہ اُسے ہر شخص اپنا دشمن لگ رہا تھا۔۔۔۔
وہ ملک فیاض کو ختم نہیں کر پایا تھا کیونکہ عین وقت پر آژمیر اُسے وہاں سے لے آیا تھا۔۔۔۔ اِس بات پر وہ آژمیر کو کبھی معاف نہیں کر پایا تھا۔۔۔۔ اور جس طرح خاندان کی بدنامی کے ڈر سے میران پیلس کے ہر فرد نے یہ اتنا بڑا ظلم چھپا لیا تھا اُس چیز نے زوہان کو ہر شخص سے نفرت کرنے پر مجبور کردیا تھا۔۔۔۔
آژمیر کے حوالے سے اُس کے دل میں بہت سی باتیں چلتی رہی تھیں۔۔۔ اُسے آژمیر میران پیلس کے باقی افراد کی طرح ظالم لگا تھا۔۔۔
اور دونوں کے درمیان اصل نفرت کا آغاز تو اُس وقت ہوا تھا جب زوہان کو پتا چلا تھا کہ آژمیر کے کال کروانے پر ہی گھر والوں نے بروقت پہنچ کر ملک فیاض کو ہاسپٹل پہنچایا تھا۔۔۔ اور یہی ریزن تھا کہ ملک فیاض کی جان بچ گئی تھی۔۔۔ مگر ایک ساتھ چھ گولیاں لگنے کی وجہ سے اُن کا بہت خون بہہ گیا تھا۔۔۔۔
جس کی وجہ سے وہ کومہ میں چلے گئے تھے۔۔۔۔ اور اتنا سال گزر جانے کے باوجود وہ ٹھیک نہیں ہوپائے تھے۔۔۔
آژمیر چاہتا تھا وہ ٹھیک ہوں۔۔۔ اور اُنہیں بھی ویسی ہی اذیت ناک سزا ملے جو۔۔۔ اُنہوں نے دو معصوم لوگوں کی جانیں لے کر دی تھی۔۔۔۔
لیکن اللہ نے ملک فیاض پر اپنی جانب سے ہی سزا تجویز کردی تھی۔۔۔ جس کے تحت وہ پچھلے اتنے سالوں سے زندہ لاش بنے بیڈ پر پڑے تھے۔۔۔۔
وہ دیکھ اور سن سکتے تھے۔۔۔ مگر کچھ بولنے اور اپنے جسم کے کسی بھی حصے کو زرا سا بھی ہلا پانے کے قابل نہیں تھے۔۔۔۔ اُن کے گھمنڈ اور تکبر نے اُنہیں اِس حال میں پہنچا دیا تھا۔۔۔۔
زوہان آژمیر سے بہت لڑا تھا۔۔۔ اُسے پتا تھا آژمیر کے کہنے پر ہی ملک فیاض کو سخت سیکیورٹی میں رکھا گیا تھا۔۔۔۔۔ وہ ملک فیاض تک پہنچ کر۔۔۔ اپنے ہاتھوں سے اُس کا گلا دبا کر ختم کردینا چاہتا تھا۔۔۔۔ لیکن آژمیر اُسے کچھ بھی بتانے کے حق میں نہیں تھا۔۔۔۔
وہ اپنے بھائی کے ہاتھ اپنے ہی باپ کے خون سے رنگتے نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔۔ اُس دن کے بعد سے دونوں کی دشمنی کا آغاز ہوا تھا۔۔۔۔
جس کی شروعات زوہان نے ہی کی تھی۔۔۔ لیکن اس کا ریزن آژمیر تھا۔۔۔۔ کیونکہ آژمیر زوہان کے سر کوئی الزام نہیں آنے دینا چاہتا تھا۔۔۔۔
زوہان ہمیشہ ہمیشہ کے لیے میران پیلس چھوڑ کر جاچکا تھا۔۔۔۔ سب نے اُسے روکنے کی بہت کوشش کی تھی۔۔۔ مگر آژمیر نے اُنہیں ایسا کرنے سے روک دیا تھا۔۔۔۔
آژمیر کے مطابق زوہان کا فلوقت یہاں سے چلے جانا اُس کی زہنی کنڈیشن کے لیے ٹھیک تھا۔۔۔۔
زوہان کو اُس بکھری حالت میں تحریمہ بیگم اور فائز کی مشترکہ کزن نفیسہ بیگم نے اپنی ممتا بھری آغوش میں لیتے سنبھالا تھا۔۔۔ تحریمہ بیگم کے غائب ہونے کے بعد سے نفیسہ بیگم ہی اُن کا سارا بزنس سنبھال رہی تھیں۔۔۔۔ فائز نے میران پیلس جانے سے پہلے نفیسہ بیگم کو ساری حقیقت سے آگاہ کررکھا تھا۔۔۔
نفسیہ بیگم جو اپنی بہن جیسی کزن کے مل جانے پر بے پناہ خوش ہوئی تھیں۔۔۔ کچھ گھنٹوں کے بعد اُن کی ڈیڈ باڈیز نے اُنہیں زندگی کے سب سے بڑے صدمے سے دوچار کردیا تھا۔۔۔۔۔ لیکن اُس مشکل وقت میں اُنہوں نے اپنا غم بھلا کر زوہان کو سنبھالا تھا۔۔۔۔ زوہان کو بہت عرصہ لگا تھا سنبھلنے میں۔۔۔۔ ۔۔۔ وہ اندر سے بالکل کھوکھلا ہوچکا تھا۔۔۔ محبت بھرا دل روکھنے والا نرم دل شخص خود پر بے حسی اور سرد پن کی چادر چڑھا گیا تھا۔۔۔۔
اُس کی میران پیلس والوں کے لیے نفرت دن بدن بڑھتی چلی گئی تھی۔۔۔ وہ اتنے بڑے ظلم پر خاموش ہوکر خود بھی اُس ظلم میں برابر کے شریک ہوچکے تھے۔۔۔
زوہان کے کہنے پر نفیسہ بیگم نے اُن پر کیس کرنے کی کوشش کی تھی۔۔۔ مگر کوئی ٹھوس ثبوت اور زوہان کے علاوہ کوئی گواہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ کیس لمبے عرصے تک نہیں چل پایا تھا۔۔۔۔
زوہان نہیں جانتا تھا لیکن اکثر اُس کی غیر موجودگی میں آژمیر اور زنیشہ نفیسہ بیگم سے ملنے آتے رہے تھے۔۔۔۔ اور آژمیر زوہان کے حوالے سے پوری طرح اُن سے رابطے میں رہا تھا۔۔۔۔
زوہان نے آژمیر اور میران پیلس کے باقی افراد کو ٹارچر کیا رکھا تھا۔۔۔ آژمیر زوہان کو اپنے ساتھ الجھائے رکھنے اور وہ کوئی انتہائی قدم نہ اُٹھا لے۔۔۔۔ اِسی غرض سے اُسے اب تک اِس دشمنی کو طول دیتا آیا تھا۔۔۔۔
مگر زنیشہ کے حوالے سے وہ کوئی کمپرومائز نہیں کرسکتا تھا۔۔۔۔ اُسے پہلے یہی لگا تھا کہ زوہان کی زنیشہ کے لیے یہ چاہت دیکھنا اُس کے انتقام کا ہی ایک حصہ تھا۔۔۔۔
لیکن جب اُسے یقین ہوا کہ زوہان سچ میں زنیشہ سے محبت کرتا ہے تو اُس نے یہ رشتہ جوڑنے میں زرا سا بھی ٹائم نہیں لگایا تھا۔۔۔۔
وہ اندر ہی اندر زوہان کو ایک مخلص ساتھی مل جانے پر دل سے خوش تھا۔۔۔ اور یہ بھی جانتا تھا کہ زنیشہ کے لیے زوہان سے بہتر جیون ساتھی کوئی نہیں ہوسکتا تھا۔۔۔۔۔
اتنے سال بیت چکے تھے۔۔۔ مگر نہ زوہان کے انتقام کی آگ ٹھنڈی ہوئی تھی۔۔۔ اور نہ اُن دونوں بھائیوں کے بیچ سلگھتی نفرت کی چنگاری بجھ پائی تھی۔۔۔۔۔
لیکن آژمیر نہیں جانتا تھا کہ زوہان کی اتنے سالوں کی کوششیں رنگ لانے والی تھیں۔۔۔۔ وہ بہت حد تک ملک فیاض کا سراغ لگا چکا تھا۔۔۔ اب بس تھوڑا سا انتظار تھا۔۔۔۔ جس کے بعد وہ اُس درندے کو اُس کی اصل جگہ پہنچانے والا تھا۔۔۔۔۔۔
@@@@@@@@
“کیا ہوا شاکر بھائی۔۔۔ آژمیر نے کچھ بتایا ہے۔۔۔۔ وہ اِس طرح پریشانی میں کہاں گیا ہے۔۔۔۔۔؟؟؟”
آژمیر کے اِس طرح اچانک چلے جانے پر وہ سب ہی اپنی جگہ پریشان بیٹھے تھے۔۔۔ کیونکہ آژمیر کال پک نہیں کررہا تھا۔۔۔ اور وہ جس طرح پریشانی کے عالم میں نکلا تھا۔۔۔ اُس کا انداز نارمل بالکل بھی نہیں تھا۔۔۔۔
“فیصل سے بات ہوئی ہے میری ابھی۔۔۔۔ “
شاکر صاحب آگے بولے جانے والے الفاظ پر اٹکے تھے۔۔۔ سب کی نگاہیں اُن پر ہی ٹکی ہوئی تھیں۔۔۔
“فیاض لالہ کو ہوش آگیا ہے۔۔۔۔ اور آژمیر سے بھی پہلے زوہان وہاں پہنچ گیا ہے۔۔۔۔۔ اِسی پریشانی میں آژمیر اتنی تیزی سے نکلا ہے یہاں سے۔۔۔۔ اب اللہ خیر ہی کرے۔۔۔۔ قاسم کی بات ہوئی ہے۔۔۔۔ شہاب بھائی صاحب سے۔۔۔۔ وہ لوگ پوری کوشش کررہے ہیں کہ زوہان کو فیاض لالہ تک نہ پہچنے دیں۔۔۔ لیکن آپ سب واقف تو ہیں زوہان کے غصے سے۔۔۔۔ اور جس قدر نفرت وہ اپنے باپ سے کرتا ہے۔۔۔۔ وہ اگر اُن تک پہنچ گیا تو۔۔۔۔ مزید سانسیں لینے کے قابل نہیں چھوڑے گا۔۔۔۔۔”
شاکر صاحب کی بات پر وہاں موجود حقیقت سے آگاہ لوگوں کو سانپ سونگھ گیا تھا۔۔۔۔
جبکہ باقی سب نے حیرانگی بھری نظروں سے شاکر صاحب کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
آژمیر نے ملک فیاض کو ٹریٹمنٹ کے لیے زوہان سے چھپا کر شہاب درانی کے ہاسپٹل میں رکھا ہوا تھا۔۔۔ کیونکہ وہ اُن کے علاوہ اتنا ٹرسٹ کسی پر نہیں کرسکتا تھا۔۔۔ اور شہاب درانی نے بھی اُس کے بھروسے کی لاج ہمیشہ رکھی تھی۔۔۔۔
زوہان کے آدمی کئی بار اُن کے ہاسپٹل تک پہنچے تھے۔۔۔ مگر شہاب درانی نے اُن کو بھنک بھی نہیں پڑنے دی تھی۔۔۔ اُن کے ریکارڈز میں ملک فیاض کا نام و نشان نہیں تھا۔۔۔۔۔ لیکن اِس بار زوہان نے پوری تیاری کے ساتھ اُن کو کچھ بھی کرنے کا موقع نہیں دیا تھا۔۔۔۔۔
“قاسم آژمیر کے پیچھے جاچکا ہے۔۔۔ میں بھی جارہا ہوں۔۔۔۔۔”
شاکر صاحب مزید کوئی بات کیے بنا وہاں سے نکل گئے تھے۔۔۔۔
“مجھے زوہان کے پاس جانا ہے اماں سائیں۔۔۔ وہ کچھ غلط نہ کردیں۔۔۔ “
زنیشہ کا دل زوہان کی فکر میں بیٹھا جارہا تھا۔۔۔ اُس کا غصہ کتنا جنونی تھا وہ سب اچھے سے جانتے تھے۔۔۔ اور اِس معاملے میں تو اُس کی غضبناکی کی کوئی انتہا ہی نہیں تھی۔۔۔۔
شمسہ بیگم تو خود سکتے میں تھیں۔۔۔۔ اُن کے شوہر نے جو ظلم ڈھایا تھا۔۔۔ اتنے سالوں کے بعد بھی وہ اپنے دل کو اُنہیں معاف کرنے کے لیے منا نہیں پائی تھیں۔۔۔۔
تحریمہ بیگم کی اُجاڑ ویران زندگی تو اُنہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی تھی۔۔۔۔
اُس بد قسمت عورت کا دکھ آج بھی اُن کے دل کو رُلا جاتا تھا۔۔۔۔ یہی وجہ تھی کہ زوہان اُنہیں بہت پیارا تھا۔۔۔۔ وہ اُس کا درد سمجھتی تھیں۔۔۔ لیکن یہ بھی چاہتی تھیں۔۔۔ کہ وہ اپنی نفرت ختم کرکے اُن کے ساتھ آکر رہے۔۔۔۔۔۔
شمسہ بیگم اُن کا سامنا بالکل بھی نہیں کرنا چاہتی تھیں۔۔۔ لیکن اس وقت وہ اپنے بچوں کو بھی اکیلا نہیں چھوڑ سکتی تھیں۔۔۔۔
زوہان اور آژمیر آج پھر ایک دوسرے کے آمنے سامنے آنے والے تھے۔۔۔۔ جس ٹکراؤ سے میران پیلس کا ہر فرد ڈرتا تھا۔۔۔۔۔
حاعفہ اور ماورا سمیت باقی سب بھی حقیقت سے انجان تھے۔۔۔ جب حاعفہ کے پوچھنے پر حمیرا بیگم اُنہیں سب بتاتی چلی گئی تھیں۔۔۔۔ اب آگے جو ہونے والا تھا اُس کے بارے میں گھر کے پر فرد کو معلوم ہونا اُن سب کے حق میں ہی بہتر تھا۔۔۔
اِس تلخ حقیقت کے بارے میں جان کر حاعفہ سمیت باقی سب کا دل بھی درد سے بھر گیا تھا۔۔۔ کوئی انسان اتنا ظالم بھلا کیسے ہوسکتا تھا۔۔۔۔
حاعفہ کے دل میں آژمیر کے لیے محبت اور عزت مزید بڑھ گئی تھی۔۔۔ جو اپنے سے جڑے ہر رشتے کا حق ادا کرنا جانتا تھا۔۔۔۔ اتنی مخالفت کے باوجود اُس نے آج تک اپنے بھائی کی فکر کرنا نہیں چھوڑی تھی۔۔۔۔
اور زوہان بھی اتنی بدگمانی اور ناراضگی کے باوجود چاہ کر بھی آج تک آژمیر کے ساتھ کچھ غلط نہیں کر پایا تھا۔۔۔۔ یہاں تک کہ اُس کی خاطر گولی تک اپنے وجود پر جھیل گیا تھا۔۔۔۔
اُن دونوں کا رشتہ بہت مضبوط اور پیارا تھا۔۔۔ اُن سب کے دل اب بس اِسی بات کے لیے دعا گو تھے۔۔۔ کہ وہ دونوں پھر سے پہلے جیسے ہوجائیں۔۔۔۔
لیکن ملک فیاض کے ہوش میں آنے اور زوہان کے عین اُسی ٹائم پر پہنچنے نے سارا معاملہ ہی خراب کردیا تھا۔۔۔۔
اُن میں سے کوئی بھی میران پیلس میں چین سے نہیں بیٹھ پایا تھا۔۔۔ آگے پیچھے اب کی گاڑیاں مظفر آباد میں موجود شہاب درانی کے ہاسپٹل کی جانب روانہ ہوچکی تھیں۔۔۔۔۔
@@@@@@@@@
“زوہان بیٹا جب تک آژمیر نہیں آجاتا میں آپ کو فیاض صاحب سے نہیں ملنے دے سکتا۔۔۔۔ پلیز میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو۔۔۔۔ “
شہاب درانی زوہان کو بہت مشکل سے روکے کھڑے تھے۔۔۔ جس کا بس نہیں چل رہا تھا۔۔۔ فوراً سے بھی پہلے اندر جاکر ملک فیاض کو ویسے ہی جلا کر راکھ کردے۔۔۔۔ جیسے اُس شخص نے اُس کی ماں کو جلایا تھا۔۔۔۔
“دیکھیں آپ سے میری کوئی دشمنی نہیں ہے۔۔۔ آپ پلیز بیچ میں آکر اپنا نقصان مت کریں۔۔۔۔۔”
زوہان اِس وقت کسی کا لحاظ رکھنے کے موڈ میں نہیں تھا۔۔۔ منہاج اِس وقت ایک بہت اہم آپریشن میں بزی تھا۔۔۔ اِس لیے وہ ابھی تک اِس سارے معاملے سے ناواقف ہی تھا۔۔۔
لیکن شہاب درانی اُسے ملک فیاض کی سیکیورٹی کی وجہ سے ہی اِس ساری حقیقت سے آگاہ کرچکے تھے۔۔۔ جسے سن کر ایک بار تو منہاج کا بھی خون کھول اُٹھا تھا۔۔۔ مگر وہ ڈاکٹر تھا اُس کا کام لوگوں کی زندگی لینا نہیں۔۔۔ نئی زندگی سونپنا تھا۔۔۔۔ اس لیے وہ ملک فیاض جیسے شخص کی کیئر کرنے پر مجبور تھا۔۔۔۔
“سر پیشنٹ اپنی فیملی ممبر سے ملنا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔”
اندر سے نکلتی نرس نے جو الفاظ ادا کیے تھے۔۔۔ اُس نے زوہان کے تن بدن میں چنگاریاں جلا کر رکھ دی تھیں۔۔۔۔
“تو آژمیر میران نے یہاں بھی مجھ سے جھوٹ بولا۔۔۔۔ “
زوہان نے مُٹھیاں سختی سے بھینچ رکھی تھیں۔۔۔ اِس سے پہلے کے وہ سامنے کھڑے شہاب درانی اور اُن سے پیچھے کھڑے گارڈز کو وہاں سے اُڑاتا اندر داخل ہوتا۔۔۔۔ جب آژمیر کی پکار پر اُس کی آنکھوں میں وحشت ناچ گئی تھی۔۔۔
وہ پلٹا نہیں تھا۔۔۔ جب آژمیر تشکر آمیز نگاہوں سے شہاب درانی کو دیکھتا اُس کے سامنے آن کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔
“تم اندر نہیں جاسکتے۔۔۔۔۔”
ْآژمیر نے اُس کی لال آنکھوں میں دیکھتے بے لچک انداز میں کہا تھا۔۔۔۔
میران پیلس سے لے کر یہاں تک کا سفر اُس نے کیسے کاٹا تھا۔۔۔ یہ وہی جانتا تھا۔۔۔۔ اُسے ملک فیاض کی فکر نہیں تھی۔۔۔ باپ کی محبت تو اُس کے دل سے اُسی وقت نکل گئی تھی۔۔۔ جب اُس نے اپنے باپ کو درندہ نما وحشی بنا دیکھا تھا۔۔۔
آژمیر کو فکر تھی تو زوہان کی۔۔۔۔ جو اپنے ہاتھ ملک فیاض کے خون سے رنگنے کے لیے پاگل ہورہا تھا۔۔۔ وہ ملک فیاض کو اِس حال میں پہنچانے کے باوجود خود کو اپنی ماں کا مجرم سمجھتا تھا۔۔۔ کہ یہ شخص اُن پر اتنے ظلم ڈھانے کے باوجود ابھی تک سانسیں لے رہا تھا۔۔۔۔
“تم تو میری سوچ سے بھی زیادہ گھٹیا نکلے آژمیر میران۔۔۔۔۔۔ منافق ہونے کے ساتھ ساتھ اتنے بڑے جھوٹے اور دھوکے باز نکلو گے مجھے یہ اُمید تو نہیں تھی تم سے۔۔۔۔۔ اُس شخص کی درندگی اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود اُسے یہاں آسائش بھری زندگی مہیا کر رہے ہو۔۔۔ تف ہے تم پر۔۔۔۔۔”
زوہان کا اشارہ ملک فیاض کے ہوش میں ہونے کی جانب تھا۔۔۔ اُسے آژمیر کی زبانی ہی یہی پتا تھا کہ ملک فیاض ابھی تک زندہ لاش کی طرح بیڈ پر پڑا ہے۔۔۔۔
مگر ابھی نرس کے الفاظ اُسے مزید تکلیف سے دوچار کرگئے تھے۔۔۔۔ اور وہ اُنہیں کا غصہ آژمیر پر نکالتے انتہائی تلخ ہوا تھا۔۔۔۔
قاسم صاحب اور باقی سب بھی آژمیر کے پیچھے وہاں پہنچ چکے تھے۔۔۔۔ لیکن کسی میں ہمت نہیں تھی۔۔۔ آگے بڑھ کر بپھرے شیر کی طرح دھاڑتے زوہان کو سنبھالنے کی۔۔۔۔ جو اُن کی سوچ سے بھی زیادہ غضبناکی کی انتہاؤں کو چھو رہا تھا۔۔۔۔
زنیشہ نے آگے آنا چاہا تھا مگر قاسم صاحب اُسے روک گئے تھے۔۔۔۔اِس وقت یہ سچویشن ْآژمیر ہی ہینڈل کرسکتا تھا۔۔۔۔۔
“ملک فیاض کو آج ہی ہوش آیا ہے۔۔۔۔۔”
آژمیر اُس کی اتنی تلخی کے باوجود مختصراً بولا تھا۔۔۔۔
“تمہیں لگتا ہے میں اب بھی تم پر یقین کروں گا۔۔۔۔ میرے راستے سے ہٹ جاؤ۔۔۔۔ ورنہ آج میں تمہارا لحاظ بھی نہیں کروں گا۔۔۔۔ شدید نفرت محسوس کررہا ہوں میں اِس وقت تم سے۔۔۔۔۔ میری اِس بات کو خالی دھمکی سمجھنے کی غلطی مت کرنا۔۔۔۔۔”
زوہان نے کوٹ کی پاکٹ سے پسٹل نکالتے آژمیر کے سینے پر رکھتے پیچھے کھڑے ہر شخص کی سانسیں روک دی تھیں۔۔۔۔ شمسہ بیگم اور حاعفہ نے تڑپ کر آگے آنا چاہا تھا۔۔۔ لیکن آژمیر نے ہاتھ کے اشارے سے اُن سب کو وہیں روک دیا تھا۔۔۔۔
زنیشہ تو نڈھال سی قاسم صاحب کے ساتھ لگی کھڑی اُن دونوں کو دھندلائی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
“تمہیں لگتا ہے۔۔۔ میں یقین کرلوں گا اس بات پر۔۔۔۔۔”
آژمیر ایک قدم مزید آگے بڑھا تھا۔۔۔ جس کی وجہ سے زوہان کے پسٹل کی نوک اُس کے سینے میں کھب سی گئی تھی۔۔۔ حاعفہ نے بُری طرح سسکتے ہونٹوں پر ہاتھ رکھتے خوف کے عالم میں اپنی منہ سے نکلتی چیخ کا گلا گھونٹا تھا۔۔۔۔
نشانہ آژمیر کے سینے پر تھا۔۔۔ مگر خنجر اُسے اپنے سینے میں پیوست ہوتا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔ زوہان جس قدر غصے میں تھا۔۔۔ کچھ بھی ہوسکتا تھا۔۔۔۔۔
“آژمیر میں سچ میں مار دوں گا تمہیں۔۔۔۔۔”
زوہان اُس کے اتنے یقین پر جیسے مزید پاگل ہوا تھا۔۔۔۔
“مار دو۔۔۔۔ میرا سینہ چھلنی کرکے اندر جاسکتے ہو تو جاؤ۔۔۔۔۔ “
آژمیر کے مضبوط لہجے پر پیچھے کھڑے تمام افراد کے دل خوف سے کانپ اُٹھے تھے۔۔۔۔۔ زوہان کا ہاتھ ٹریگر پر تھا۔۔۔ غلطی سے بھی گولی چل سکتی تھی۔۔۔ اُن سب کو یہی خوف کھائے جارہا تھا۔۔۔۔
لیکن آژمیر کو سامنے کھڑے اپنے بھائی پر پورا بھروسہ تھا۔۔۔۔ جو انجانے میں بھی اُسے نقصان نہیں پہنچا سکتا تھا۔۔۔۔
“تم اُس گھٹیا شخص کو بچانے کے لیے۔۔۔۔ یہ سب کررہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔”
زوہان کی آنکھوں میں خون اُتر آیا تھا۔۔۔
“نہیں میں اپنے بھائی کو بچانے کے لیے یہ کررہا ہوں۔۔۔ جس سے میں بے پناہ محبت کرتا ہوں۔۔۔۔ اور نہیں چاہتا وہ اپنے ہاتھ کسی ایسے شخص کے خون سے گندے کرے۔۔۔ جو انسانیت کے مرتبے سے بھی خود کو گرا چکا ہے۔۔۔۔”
آژمیر کے منہ سے نکلنے والے الفاظ پر زوہان نے جھٹکے سے سر اُٹھایا تھا۔۔۔۔۔
اُسے یقین نہیں آیا تھا کہ یہ الفاظ آژمیر نے ادا کیے تھے۔۔۔۔
اور بس زوہان میں اِس سے زیادہ آژمیر کے سینے پر پسٹل تاننے کی ہمت نہیں رہی تھی۔۔۔
“تمہیں کیا لگتا ہے۔۔۔۔ تم اِس طرح بناوٹی باتیں کرکے مجھے اپنے فریب میں اُلجھا کر اپنے باپ کو یہاں سے فرار کروا لو گے۔۔۔۔”
زوہان پسٹل پوری قوت سے زمین پر پٹختا آژمیر کا گریبان تھام گیا تھا۔۔۔۔ لیکن اِس بار بھی آژمیر اُسے بنا روکے ہاتھ گرائے کھڑا رہا تھا۔۔۔
وہ جانتا تھا کہ زوہان کو اُس پر بے پناہ غصہ ہے۔۔۔۔ وہ چاہتا تھا آج زوہان اپنے دل کی بھڑاس اُس پر نکال دے۔۔۔۔۔۔۔
“میں ایسا کچھ نہیں کرنا چاہتا۔۔۔۔ مجھے اُس شخص سے نہ پہلے ہمدردی تھی نہ ہی اب ہے۔۔۔۔ میں تمہیں یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ تم اپنی ماں کے مجرم کو سزا دینے میں ناکام نہیں رہے۔۔۔ بلکہ تم اُن کا انتقام اُسی وقت، اُسی جگہ پر لے چکے تھے۔۔۔۔۔ اور ملک فیاض کا بچنا میرے رب نے لکھا تھا۔۔۔۔ کیونکہ دوسروں کو اتنی تکلیف دے کر بھلا وہ شخص اتنی آسان موت کیسے مرسکتا تھا۔۔۔۔
اُس کا زندہ بچ جانا ہی اُس پر سب سے بڑا عذاب تھا۔۔۔۔ پچھلے اتنے سالوں سے وہ زندہ لاش کی طرح بستر پر پڑا ہے۔۔۔ اور آج جب اُسے ہوش آیا ہے۔۔۔۔تو جانتے ہو ڈاکٹر کو دو مہینے پہلے کیا ری پورٹس ملی تھیں اُن کی۔۔۔۔۔۔ اُنہیں بلڈ کینسر ہے۔۔۔ وہ بھی لاسٹ سٹیج پر پہنچ چکا ہے۔۔۔ وہ چند دنوں سے زیادہ سروائیو نہیں کرسکتے۔۔۔۔۔
ایسے شخص کو مار کر کیا کرو گے تم۔۔۔۔”.
آژمیر کی بولی جانے والی سچائی پر زوہان نے خاموش نگاہوں سے آژمیر کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
سب کے دل اپنے پروردگار کے اِس اانصاف پر جھک گئے تھے۔۔۔۔ جو کسی مظلوم کی آہ خالی نہیں جانے دیتا تھا۔۔۔ ملک فیاض نے ساری عمر تحریمہ بیگم کو تڑپایا تھا۔۔۔ اُن سے اُن کا سب کچھ چھین کر۔۔۔۔ ظلم کے پہاڑ توڑ کر رکھ دیئے تھے۔۔۔۔۔ تحریمہ بیگم کی آہیں اور سسکیاں رائیگان نہیں گئی تھیں۔۔۔۔۔
خدا کی لاٹھی بے آواز تھی۔۔۔ جب پڑتی تھی تو ملک فیاض جیسے انسانوں کے گھمنڈ اور تکبر سمیت اُن کو ایسے ہی زمین پر پٹخ دیتی تھی۔۔۔۔
“میں اُس شخص کا یہ عبرت ناک انجام اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔۔”
زوہان کے لہجے میں اب پہلے جیسی سختی مفقود تھی۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی بات پر آژمیر نے سر ہلاتے اُسی لمحے وہاں آئے منہاج کی جانب پلٹ کردیکھا تھا۔۔۔۔۔ جو ابِھی کچھ لمحے پہلے ہی وہاں آیا تھا۔۔۔
ماورا میران پیلس سے آمنہ بیگم کی کال آجانے کی وجہ سے کچھ سیکنڈ پہلے ہی وہاں سے ہٹی تھی۔۔۔۔
“آئیں آپ لوگ۔۔۔۔”
منہاج اُنہیں اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کرتا۔۔۔۔ دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہوا تھا۔۔۔۔
ملک فیاض کی حالت بہت نازک تھی۔۔۔۔ وہ ایک بار سب کو بلا کر معافی مانگنا چاہتے تھے۔۔۔ اس لیے آژمیر نے باقی سب کو بھی اشارہ کرتے اپنے پیچھے آنے کو کہا تھا۔۔۔
ملک فیاض پر نظر پڑتے ہی اُن سب کے دل خوفِ خدا سے کانپ اُٹھے تھے۔۔۔۔
جو اپنے بندوں کے حقوق غصب کرنے والوں کو معاف نہیں کرتا تھا۔۔۔۔ جس کی زندہ مثال اِس وقت ہڈیوں کا ڈھانچہ بنا ملک فیاض تھا۔۔۔۔
جس کی آنکھیں اندر دھنس چکی تھیں۔۔۔ کہ اُس سے دیکھ پانا مشکل ہورہا تھا۔۔۔ جبکہ اُس کے چہرے کی ہڈیاں بالکل واضح ہورہی تھیں۔۔۔
“شمسہ۔۔۔ آژمیر۔۔۔ زوہان۔۔۔ مج مجھے مععع معاف کردو۔۔۔۔۔ میں ب بہ۔۔۔ بہت۔۔۔ تک تکلیف میں ہوں۔۔۔۔ “
اُن سے بول پانا دشوار ہوا تھا۔۔۔ نرس نے اُنہیں بتایا تھا کہ جن لوگوں کو وہ صبح سے پکار رہیں ہیں وہ اُن کے پاس آچکے ہیں۔۔۔۔
ملک فیاض کو دیکھ زوہان کی آنکھوں میں وہ منظر پوری شدت سے روشن ہوا تھا جب وہ اُس کی ماں کو زندہ
جلاتا ایسے ہی ہڈیوں کے ڈھانچے میں بدل گیا تھا۔۔۔۔
“میری ماں بِھی تمہارے آگے ایسے ہی تڑپی تھی۔۔۔ کیا قصور تھا اُن کا۔۔۔ بولو۔۔۔ کیوں چھینا اُنہیں مجھ سے۔۔۔۔”
زوہان اب بھی اِس شخص کی خود غرضی پر ضبط نہ رکھ پاتے اُس کا گلا دبانے کی نیت سے اُس پر جھکا ہی تھا۔۔۔۔ جب آژمیر اور منہاج نے بروقت آگے آتے اُسے پوری طرح جکڑتے وہیں روک لیا تھا۔۔۔
“زوہان نہیں۔۔۔۔ “
آژمیر نے نفی میں سر ہلاتے اُسے دیکھا تھا۔۔۔ وہ دونوں ہی اُسے پکڑ کر وہاں سے لے گئے تھے۔۔۔ کیونکہ وہ جن انتقام بھری نظروں سے ملک فیاض کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ اُس سے کوئی بعید نہیں تھی۔۔۔ گارڈز سے گن لے کر ملک فیاض کے وجود کو گولیوں سے چھلنی کردے۔۔۔۔
ماورا جو اُسی لمحے روم میں داخل ہوئی تھی۔۔۔ زوہان کے ساتھ وہاں سے نکلتے منہاج کو دیکھ وہ اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں پائی تھی۔۔۔۔۔
منہاج کے اِس سچویشن میں یوں اچانک سامنے آجانے پر ماورا کو سمجھ ہی نہیں آیا تھا کہ کیسے ری ایکٹ کرے۔۔۔۔۔۔ اُس کے دل میں اتنے دنوں سے بھری بے چینی کہیں دور بھاگ گئی تھی۔۔۔۔ منہاج کو وائٹ کوٹ پہنا دیکھ وہ یہی سمجھی تھی کہ منہاج یہاں جاب کرتا ہے۔۔۔۔ اِس بات سے بے خبر کے وہ اُسی کے سسر کا ہاسپٹل تھا۔۔۔ ماورا تیز قدموں سے منہاج کے پیچھے بڑھی تھی۔۔۔ جو زوہان اور آژمیر کو شہاب درانی کے آفس تک چھوڑتا خود اپنے آفس کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔
وہ اُن دونوں بھائیوں کی پرائیویسی ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔ ماورا تیز تیز قدموں سے منہاج کے پیچھے بڑھ رہی تھی۔۔۔ جب ایک طرف کھڑی نرسز کی۔۔۔ کی جانے والی گفتگو اُس کے قدم زمین میں ہی جکڑ گئی تھی۔۔۔
@@@@@@@@@@
جاری ہے۔۔۔۔
