No Download Link
Rate this Novel
Episode 20
زنیشہ ڈرائیور کے ساتھ مطلوبہ ہاسپٹل پہنچی تھی۔۔ جہاں مزمل کے مطابق آژمیر کو لایا گیا تھا۔ زنیشہ کا پورا وجود کانپ رہا تھا۔۔ اُس سے اِس وقت چلنا محال ہورہا تھا۔۔۔
جیسے ہی ڈرائیور نے آئی سی یو کے بجائے ایک پرائیویٹ وی آئی پی روم کی جانب اشارہ کیا۔۔۔ زنیشہ کی آنکھوں میں حیرت کے ساتھ ساتھ تشویش بھی واضح ہوئی تھی۔۔۔ اگر آژمیر کا اتنا سیریس ایکسیڈنٹ ہوا تھا تو پھر اُسے یہاں روم میں کیوں رکھا گیا تھا۔۔۔
دل میں خوف اور خدشات لیے زنیشہ باہر کھڑے گارڈ کے دروازہ کھولنے پر لرزتے قدموں سے اندر داخل ہوئی تھی۔۔۔ اُس کا پورا چہرا آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا۔۔۔
مگر جیسے ہی اُس کی نظر سامنے بیڈ پر تکیے سے ٹیک لگائے بیٹھے وجود پر پڑی اُس کی نگاہوں میں ہر چیز گھوم گئی تھی۔۔۔
وہاں آژمیر تو کہیں نہیں تھا مگر ملک زوہان اپنی رعب دار پرسنیلٹی کے ساتھ پورے ماحول پر چھایا اُسے کڑے تیوروں سے گھور رہا تھا۔۔۔
زنیشہ کا پورا وجود ہولے ہولے لرز رہا تھا۔۔ سامنے بیٹھے زوہان کو دیکھ زنیشہ کو لمحہ لگا تھا یہ جاننے میں کہ وہ ایک بار پھر ملک زوہان کے ہاتھوں بے وقوف بن کر خود بخود اُس کی دسترس میں پہنچ گئی ہے۔۔
زنیشہ کا بھیگا چہرا زوہان کی نگاہوں کے فوکس میں تھا۔۔۔ اُس نے ملک زوہان کی بات نہیں مانی تھی۔۔۔ جس کی اتنی سزا تو بنتی ہی تھی۔۔۔
“آپ نے اتنا گھٹیا جھوٹ بول کر دھوکے سے بلایا مجھے یہاں۔۔۔۔۔ آپ لالہ کے بارے میں ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہیں۔۔۔۔”
زنیشہ کے دل کو ابھی تک کسی صورت سکون نہیں ملا رہا تھا۔۔۔
وہ وہیں سے واپس پلٹ جانا چاہتی تھی مگر زوہان کو اُس کے اتنے گھٹیا مذاق پر بخشنے کو بھی دل نہیں چاہا تھا اُس کا۔۔۔۔ وہ زوہان کے قریب آتی طیش کے عالم میں بولی تھی۔۔۔
غصے اور شدید غم کی وجہ سے اُس کا چہرا بالکل لال ہوچکا تھا۔۔۔ پھولے نتھنوں کے ساتھ وہ زوہان کو ناراضگی سے گھور رہی تھی۔۔۔
جواباً زوہان کے تیور بھی کچھ کم خطرناک نہیں تھے۔۔۔ زنیشہ نے اُس کی بات نہ مان کر حسیب کو اُس پر ترجیح دی تھی۔۔۔ جو زوہان کے نزدیک کسی بھی طرح زنیشہ کی سیکورٹی کا اہل نہیں تھا۔۔۔
“صرف سوچنا تو بہت عام سی بات ہے۔۔۔۔ وقت آنے پر میں ایسا کروا بھی سکتا ہوں۔۔۔۔”
زوہان زنیشہ کا اپنے سامنے یہ نیا رُوپ انتہائی دلچسپی سے دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔ جو لڑکی اُس کے مقابل آتے تھر تھر کانپنے لگتی تھی آج وہ اپنے بھائی کی وجہ سے اُس کے آگے شیرنی بنی کھڑی تھی۔۔۔۔
زوہان کے سفاکیت بھرے جواب پر زنیشہ نے نفی میں سر ہلاتے افسوس بھری نگاہوں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
“ہر بار میں آپ کے اِس چہرے کے فریب میں آکر دھوکا کھا جاتی ہوں۔۔۔ مگر لالہ بالکل ٹھیک کہتے ہیں۔۔۔ آپ میں انسانیت بالکل ختم ہوچکی ہے۔۔۔ آپ کو اپنے بدلے اور انتقام سے آگے کچھ دیکھائی ہی نہیں دیتا۔۔۔ آپ جو کچھ کررہے ہیں ایک دن ضرور پچھتائیں گے اِس پر۔۔۔۔”
زنیشہ اِس وقت شدید غصے میں یہ بھول چکی تھی کہ یہی شخص تھا جس کی خاطر کل وہ آژمیر کے سامنے آنسو بہاتی اُسے بے حس قرار دے رہی تھی۔۔۔ اور آج وہ آژمیر کی خاطر زوہان سے لڑ رہی تھی۔۔۔
یہی اصل حقیقت تھی زنیشہ میران کی، اُس کے لیے وہ دونوں ہی بہت زیادہ اہمیت رکھتے تھے۔۔۔ مگر اُس نے یہ بات آج تک اپنے آپ سے بھی پوشیدہ رکھی ہوئی تھی۔۔
زنیشہ اُسے غصے سے بولتی وہاں سے پلٹی تھی۔۔۔ جب زوہان تکیے کے سہارے بیڈ پر پوری طرح اُٹھ بیٹھا تھا۔۔۔ اُس کے کندھے پر گولی لگی تھی۔۔۔ اِس لیے اُس حصے کو ہلانا بھی محال تھا۔۔۔ سیدھا ہونے پر اُس کے کندھے پر دباؤ آیا تھا۔۔ درد کی وجہ سے زوہان کے منہ سے ہلکی سی کراہ نکلی تھی۔۔۔۔
جو وہاں سے جاتی زنیشہ کے کانوں میں پڑتی اُس کا دل بے چین کر گئی تھی۔۔۔
زنیشہ ایک جھٹکے سے پلٹی تھی۔۔ اور زوہان کو تکلیف میں دیکھ بھاگ کر قریب آئی تھی۔۔۔۔ کندھے ہلانے کی وجہ سے زخم پر لگی بینڈیج پر خون کے نشانات واضح ہوئے تھے۔۔۔
“آپ ٹھیک ہیں؟ آپ کو درد ہورہا ہے میں ڈاکٹر کو بلاؤں؟ آپ کو گولی لگی ہے تھوڑی دیر کے لیے تو سکون سے بیٹھ جائیں۔۔۔”
زنیشہ اُسے ڈپٹتے ہوئے خفگی سے بولی تھی۔۔۔ وہ اچھے سے جانتی تھی کہ خود کو تکلیف پہنچانا زوہان کا سب سے پسندیدہ عمل تھا۔۔۔۔
زنیشہ ابھی چند سیکنڈز پہلے بولے جانے والے اپنے الفاظ بھلائے فکرمند سی اُس کے قریب آئی تھی۔۔۔
اتنی دیر میں اُسے اب خیال آیا تھا کہ زوہان کو گولی لگی تھی۔۔۔ جو اُس نے کل آژمیر کو بچاتے ہوئے ہی کھائی تھی۔۔۔
پھر بھلا وہ اُس شخص کو کیسے نقصان پہنچا سکتا تھا جس کے لیے اُس نے اپنا خون بہایا تھا۔۔۔۔
“آپ پلیز اِس کندھے پر زور مت دیں۔۔۔۔ آپ کا خون نکل رہا ہے۔۔۔۔ اِس طرح زخم مزید خراب ہوجائے گا۔۔۔”
زنیشہ بے دھیانی میں اُس کے قریب آن کھڑی ہوتی اُس کے بازو پر ہاتھ رکھتے پریشانی زدہ لہجے میں اُس سے مخاطب ہوئی تھی۔۔۔
مگر سامنے بیٹھا دنیا کا ضدی ترین شخص ملک زوہان تھا۔۔۔ زنیشہ کی التجا کو کسی کھاتے میں ڈالا ہی نہیں تھا۔۔۔ کیونکہ اُس کے کانوں میں ابھی تک زنیشہ کی کچھ دیر پہلے کی کہی باتیں ہی گھوم رہی تھیں۔۔۔
نیوی بلو شیفون کے ہم رنگ دھاگوں کی کڑھائی سے مزین ڈریس پہنے وہ ہمیشہ کی طرح پاکیزگی کی مورت اپنے معصوم حُسن سے ملک زوہان کو گھائل کرنے کے لیے تیار تھی۔۔۔
زوہان اُسے خود سے دور جھٹکنا چاہتا تھا مگر کوشش کے باوجود ایسا نہیں کر پایا تھا۔۔۔
زنیشہ کی کسی بھی بات کا جواب دیئے بنا وہ غصے اور خفگی سے لال ہوئی اپنی آنکھیں اُس پر گاڑھے ہوئے تھا۔۔۔۔
زنیشہ نے اُس کی آگ اُگلتی نگاہوں کی تپیش پر گھبرا کر دور رہنا چاہا تھا۔۔۔ مگر اُس سے پہلے ہی اُس کا ارادہ بھانپتے زوہان اُس کی کلائی گرفت میں لیتا اُسے اپنی جانب کھینچ چکا تھا۔۔۔۔
زنیشہ اِس حملے کے لیے قطعاً تیار نہیں تھی۔۔۔ سیدھی اُس کے چوڑے سینے سے ٹکرآئی تھی۔۔
“کیا کہا تم نے؟… انسانیت نہیں ہے مجھ میں؟؟۔۔۔۔ آژمیر میران کا زندہ ہونا اور میران پیلس کے باسیوں کا سکون سے زندگی گزارنا میرے اندر ابھی بھی باقی انسانیت کا ثبوت ہی ہے۔۔۔ اگر انسانیت ختم ہوجاتی تو تمہارا خاندان اور تمہارے لوگ نجانے کب کے ختم ہوچکے ہوتے۔۔۔۔
اور رہی بات آگے جاکر پچھتانے کی تو میرے پاس، میری زندگی میں کچھ ایسا ہے ہی نہیں جسے کھو کر مجھے پچھتانا پڑے۔۔۔”
زوہان بڑے ہی سفاکانہ انداز میں اُس کے اندر پنپتی معمولی سی خوش فہمی بھی مٹی میں ملا گیا تھا۔۔۔
زوہان کی گرفت اُس کی کلائی پر اتنی مضبوط تھی کہ زنیشہ کو اُس کی اُنگلیاں اپنی جلد میں پیوست ہوتی محسوس ہوئی تھیں۔۔۔
“آپ کا زخم مزید خراب ہوجائے گا پلیز ایسے مت کریں۔۔۔۔”
زنیشہ کی آنکھوں میں نمی اُتر آئی تھی۔۔۔ وہ اُس کی گرفت سے کلائی آزاد کروانے کی ناکام کوشش کرتی زوہان کی جانب دیکھنے دے گریز برتتی منمنائی تھی۔۔ اُسے اِس وقت اپنی تکلیف سے زیادہ زوہان کی فکر ہورہی تھی۔۔۔۔ اوپر سے زوہان کی نزدیکی الگ اُس کے حواس باختہ کیے دے رہی تھی۔۔۔
زوہان کا چہرا اُس کے چہرے سے زیادہ دور نہیں تھا۔۔۔ اُس کی گرم سانسیں زنیشہ کا چہرا جھلسا رہی تھیں۔۔۔
مگر زوہان کا اِس وقت نہ خود پر نہ ہی اُس پر رحم کرنے کا کوئی موڈ تھا۔۔۔۔
“زنیشہ میران بند کرو یہ فضول کا دکھاوا۔۔۔ میں اچھے سے سمجھتا ہوں میری تکلیف سے تم لوگوں کو کتنا فرق پڑتا۔۔۔ تم لوگوں کے بس میں ہو تو ایک لمحے کی دیر کیے بنا میری سانسیں روک دو۔۔۔ “
زوہان کو زنیشہ کا یوں اپنی تکلیف پر آنسو بہانا مزید طیش دلا گیا تھا۔۔۔ اِس لیے وہ مزید برہمی سے بولتا زنیشہ کو مزید سہما گیا تھا۔۔
زنیشہ اُس کے قریب تقریباً جھکی ہوئی تھی۔۔۔ اُس کا آدھا وزن زوہان کے زخمی کندھے پر تھا۔۔۔ جہاں سے نکلتا خون تکیے پر پھیل رہا تھا۔۔
زوہان کی آنکھیں تکلیف کے احساس سے لال ہوچکی تھیں۔۔۔ مگر اِس درد میں بھی ایک عجیب سا سرور مل رہا تھا اُسے۔۔۔۔
“وہ سب آپ کے بھی کچھ لگتے ہیں۔۔۔ اُن میں سے کوئی آپ کا دشمن نہیں ہے۔۔۔۔ آپ خود برباد کرنا چاہتے ہیں اپنے ہی خاندان کو۔۔۔۔ کیا بگاڑا ہے لالہ نے آپ کا۔۔۔۔ کیوں کرتے ہیں اُن سے اتنی نفرت۔۔۔ اور باقی سب کے ساتھ بھی۔۔۔ کیوں ہر ایک کو خود سے دور کرکے اپنا دشمن بنا رہے ہیں۔۔۔۔
اور میرے یہ آنسو آپ کو دکھاوا لگتے ہیں۔۔۔ کیا واقعی آپ جو بول رہے ہیں۔۔۔ آپ ایسا ہی سمجھتے ہیں۔۔۔ آپ کو میرے چہرے کی یہ تکلیف صرف ایک ڈرامہ لگتی ہے؟… آپ تو میری سوچ سے بھی زیادہ کھٹور اور بے حس نکلے ہیں۔۔۔ آپ جو یہ سب میرے ساتھ کررہے ہیں۔۔۔یاد رکھیئے گا زندگی میں کبھی معاف نہیں کروں گی۔۔۔۔ “
زنیشہ بھی مزاحمت ترک کرتی اُس کی جانب دیکھتی خفگی بھرے لہجے میں بولتی آخر میں روہانسی ہوئی تھی۔۔۔ اُس کی نرم گرم سانسیں زوہان کے چہرے سے ٹکراتیں اُس کے ہمیشہ کے لیے دل میں دفن کیے جذبات کو جگانے لگی تھیں۔۔۔
“میری زندگی کی سب سے قیمتی ہستی چھینی ہے اُنہوں نے مجھ سے۔۔۔۔ کیسے چھوڑ دوں اُنہیں میں۔۔۔۔ اُنہیں بھی وہ تکلیف برداشت کرنی ہوگی جو اُنہوں نے مجھے دی ہے۔۔۔۔
اگر میرے لیے تمہاری یہ فکر دیکھاوا نہیں ہے تو پھر مانو گی میری بات۔۔۔ وعدہ کرتا ہوں۔۔۔ کبھی خود کو تکلیف نہیں پہنچاؤ گا۔۔۔ “
ہمیشہ زنیشہ کے وجود کو جھٹلانے والا اِس وقت اُس کی زرا سی قربت اور توجہ پر موم کی طرح پگھلتا اپنے اُوپر چڑھایا گیا بے حسی کا خول اُتارتے انتہائی نرمی سے بولا تھا۔۔۔
زنیشہ اُس کی نگاہوں میں بدلتے جذبات کا رنگ دیکھ ٹرانس کی کیفیت میں سر اثبات میں ہلا گئی تھی۔۔۔۔
“میری بیوی بن کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے میری دسترس میں آجاؤ۔۔۔۔”
زوہان نے ایک بار پھر زنیشہ کے سامنے زندگی کا سب سے مشکل فیصلہ رکھ دیا تھا۔۔۔۔
زوہان کی بات پر زنیشہ کا طلسم ٹوٹ گیا تھا۔۔۔ زوہان کے قریب جانے کا مطلب تھا اپنے پورے خاندان اور خاص کر آژمیر کو ہمیشہ ہمشہ کے لیے کھو دینا۔۔۔۔ جو کہ وہ مر کر بھی نہیں کرسکتی تھی۔۔۔
زنیشہ بنا کچھ بولے زوہان کی ڈھیلی پڑتی گرفت سے نکل گئی تھی۔۔۔۔ زوہان کی اِس بات نے اُس کے زخمی دل کو مزید لہولہان کردیا تھا۔۔۔۔ بہت مشکل سے سنبھالا دل ایک بار پھر ٹکڑوں میں بکھر گیا تھا۔۔۔۔
“میران حویلی کا ہر شخص منافقت کرکے اُس کا الزام میرے سر ڈال دیتا ہے۔۔۔ میں کم از کم اپنے جذبات میں کلیئر تو ہوں نا۔۔۔۔ نفرت بھی سرِ عام کرتا ہوں اور محبت بھی۔۔۔۔ دوغلا پن نہ میں نے سیکھا ہے اور نہ ایسے لوگ مجھے پسند ہیں۔۔۔۔”
زوہان ہونٹوں پر تلخ مسکراہٹ سجائے زنیشہ کو مزید شرمندہ کر گیا تھا۔۔۔
“آپ کے کندھے سے بہت زیادہ خون بہہ رہا ہے۔۔۔۔”
زنیشہ اُس کی تلخ ترین باتوں کو خاموشی سے پیتی۔۔۔ بے حد پریشانی سے اُس کی خون آلود بینڈیج کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
“تم جاسکتی ہو یہاں سے۔۔۔۔ باہر ڈرائیور موجود ہے تمہیں تمہاری یونی ڈراپ کردے گا۔۔۔۔”
زوہان نے ہونٹ بھینچتے اُسے کی جانب سے رُخ موڑا لیا تھا۔۔۔۔
زنیشہ نے دکھ بھری نظروں سے اُس دنیا جہان کے سنگدل شخص کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ جو اُسے اپنے قریب لاتا بھی خود تھا اور پھر اُتنی ہی بے دردی سے خود سے دور بھی کر دیتا تھا۔۔۔۔
زنیشہ آنکھوں میں نمی بھری وہاں سے نکل گئی تھی۔۔۔ کیونکہ وہ جتنی دیر وہاں رکتی، جانتی تھی زوہان اُتنی دیر ہی خود کو اِس تکلیف میں رکھتا۔۔۔۔۔
اُن دونوں کا قریب رہنا ہی ایک دوسرے کے لیے ہی تکلیف کا باعث تھا۔۔۔۔
@@@@@@@@
“بیلا انسان بنو۔۔۔ اگر پکڑے گئے تو اُس فضول انسان نے چھوڑنا نہیں ہے ہمیں۔۔۔۔”
ماورا اُسے مسلسل باز رکھنے کی کوشش کررہی تھی۔۔۔ بیلا اور ماورا دونوں ہمیشہ سے کرائم پارٹنر رہی تھیں۔۔۔۔ اکثر ہاسٹل میں بھی لڑکیوں کو لڑکا بن کر ڈرانے اور اِسی طرح کی اُلٹی سیدھی حرکتوں میں ملوث رہتی تھیں۔۔۔
ماورا نے کبھی اُسے نہیں روکا تھا۔۔۔ بلکہ ہمیشہ دونوں برابر کی شریک رہی تھیں۔۔۔۔۔ مگر اِس بار معاملہ منہاج درانی کا تھا۔۔۔ اِسی لیے ماورا اُس سے مزید کوئی بھی پنگا لینے سے گھبرا رہی تھی۔۔۔
“ماورا کچھ نہیں ہوگا۔۔۔ تم آؤ تو سہی۔۔۔ ابھی اِس منہاج درانی کے دانت اندر اور زبان باہر کرواتے ہیں۔۔۔۔”
بیلا کی بات پر ماورا کی نظر اپنے دوستوں کے ساتھ کسی بات پر قہقہ لگاتے منہاج پر پڑی تھی۔۔۔ جس کی بانچھیں آج پہلے سے بھی زیادہ کھلی ہوئی تھیں۔۔۔
اُس کو مصیبت اور اذیت میں مبتلا کرکے وہ خود بھلا اتنے سکون میں کیسے رہ سکتا تھا۔۔۔
ماورا اس خیال کے آتے ہی بیلا کو روکنے کے بجائے اُس کے ساتھ ہولی تھی۔۔۔
“اے چھوٹو اِدھر آؤ۔۔۔۔”
بیلا نے کیفے ٹیریا کے اندرونی حصے میں آکر پلڑ کے پیچھے کھڑے ہوتے کیفے کے ہر دل عزیز ویٹر کو آواز لگائی تھی۔۔۔ وہ عمر اور قد دونوں میں بہت چھوٹا تھا اِس لیے سب اُسے اِسی نام سے پکارتے تھے۔۔۔ وہ بنا ٹپ لیے کیسی کا کوئی کام نہیں کرتا تھا۔۔۔ مگر اُس کا کام اتنا پرفیکٹ ہوتا تھا کہ پر کوئی اُسے ہی کام کہتا تھا۔۔۔
وہ کسی کی بھی خاطر کوئی بھی کام کرنے کو تیار ہوتا تھا۔۔۔ بس ٹپ زرا بھاری ہونی چاہئے تھی۔۔۔
“جی بی بی جی کیسے یاد کیا اِس باکمال چھوٹو کو۔۔۔ کیا چاہئیے چاکلیٹ کافی، سٹارنگ سی چائے یا پھر۔۔۔۔”
چھوٹو عادت کے مطابق اپنی خدمات کے بارے میں آگاہ کرتا نان سٹاپ بولنا شروع ہوچکا تھا۔۔۔
“جمال گھوٹا۔۔۔ اور کڑک سی لال مرچوں کا پیکٹ۔۔۔”
ماورا نے اُس کی بات وہی کاٹتے اپنی ڈیمانڈز بتائی تھیں۔۔۔ جس پر جہاں بیلا شرارتاً مسکرائی تھی۔۔۔ وہی چھوٹو نے بھی مشکوک انداز میں اپنی آنکھیں گھمائی تھیں۔۔۔
“یہ تمہاری ٹپ۔۔۔۔ اگلے دس منٹ کے اندر یہ دونوں چیزیں کافی میں مکس کرکے یہ سپیشل کافی اُس ٹیبل پر بیٹھے منہاج درانی کو پلا دو۔۔۔۔”
ماورا کی خونخوار نگاہیں منہاج کے مسکراتے وجیہہ چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔۔۔۔
چھوٹو کی تو ماورا کی جانب سے بڑھائی گئی نوٹوں کی گڈی دیکھ کر ہی نیت بدل گئی تھی۔۔۔۔
“بی بی جی آپ فکر ہی مت کریں۔۔۔۔ اور آرام سے اپنی سیٹ پر بیٹھ کر میرے کمالات دیکھیں۔۔۔”
چھوٹو اُن دونوں کو تسلی دلاتا اپنی جیب بھاری کرتا اندر کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔
@@@@@@@
حاعفہ بیڈ پر ہی آنکھیں موندے لیٹی تھی۔۔ جب موبائل کی بیل کی آواز نے اُس کی توجہ اپنی جانب کھینچی تھی۔۔۔
آژمیر میران کے خیالوں میں ڈوبی حاعفہ کا طلسم ٹوٹا تھا۔۔۔۔ وہ چونک کر موبائل کی جانب متوجہ ہوتی کال اٹینڈ کر گئی تھی۔۔۔ کیونکہ دوسری جانب نگینہ بائی تھی۔۔۔ جس کا فون وہ اگنور نہیں کر سکتی تھی۔۔۔
“حاعفہ آج پھر تمہارا باپ آیا تھا تمہاری ماں اور تم دونوں کا پوچھنے۔۔۔ میں نے ہمیشہ کی طرح تمہارا کہا جواب دوہرا دیا۔۔۔ کہ تم لوگ کوٹھے سے فرار ہوچکی ہو۔۔۔ اور اب تک کوئی پتا نہیں چل پارہا۔۔۔۔”
حال احوال کے بعد نگینہ بائی نے اُسے اپنے فون کرنے کا ریزن بتایا تھا۔۔۔
جبکہ اُس کی بات سنتے ایک آنسو بے مول ہوکر اُس گال پر پھسل گیا تھا۔۔۔
“بہت اچھا کیا آپ نے۔۔۔ شکریہ۔۔۔۔”
حاعفہ کو اپنے حلق میں کانٹتے سے چبھتے محسوس ہوئے تھے۔۔۔
“آج بھی اپنے باپ کے بارے میں نہیں پوچھو گی۔۔۔۔ کون ہے؟ کیا نام ہے اُس کا؟؟”
نگینہ بائی کو ہمیشہ سے حاعفہ کی اپنے باپ کے متعلق برتے جانے والی یہ لاپرواہی کھٹکتی آئی تھی۔۔۔ ہر سال وہ درمیانی عمر کا بارعب شخصیت کا مالک شخص آنکھوں میں اُمید جگائے آتا تھا۔۔۔ اور ہر بار حاعفہ اُسے خالی ہاتھ لُوٹا دیتی تھی۔۔۔ بنا اُس کی ایک جھلک دیکھے۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔
