Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 32

“ٹیرس پر آؤ۔۔۔۔ مجھے دیکھنا ہے تمہیں۔۔۔۔”
وہ جھٹکے سے اپنے بیڈ سے اُٹھی تھی۔۔۔ تو مطلب وہ میران پیلس کے باہر کھڑے ہوکر اُسے کال کررہا تھا۔۔۔۔ اِس سوچ کے ساتھ ہی زنیشہ کے ہاتھ پیر پھول چکے تھے۔۔۔
زوہان ہاسپٹل میں آژمیر کے ساتھ پھر کوئی بدمزگی نہیں چاہتا تھا۔۔۔ اِس لیے زنیشہ کی خیریت جان کر وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔ مگر گھر جاکر بھی کسی صورت چین نہیں ملا تھا اُسے۔۔۔۔ زنیشہ کو جس حالت کیں ہوش و حواس دے بیگانہ آژمیر کی بانہوں میں دیکھ چکا تھا، وہ اُسے سکون نہیں لینے دے رہی تھی۔۔۔
اِسی لیے وہ اب اُسے ایک بار اپنی آنکھوں سے سہی سلامت دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔۔
زنیشہ مہرون شال اپنے گرد لپیٹتی بیڈ سے اُٹھی تھی۔۔۔
اگر زوہان گھر کے باہر کھڑا تھا تو وہ اندر بھی آسکتا تھا۔۔۔ زنیشہ اِس مقام پر اُس کی بات سے انکار کرکے مزید اپنی شامت نہیں بلوانا چاہتی تھی۔۔۔ کیونکہ عنقریب موصوف اُس کے شوہر کے عہدے پر فائزہ ہونے والے تھے۔۔۔
شوہر نہ ہوتے ہوئے وہ اُس پر اتنا رعب جماتا تھا۔۔۔ اُس کے سارے جملہ حقوق اپنے نام لکھوانے کے بعد نجانے زنیشہ کا کیا بننا تھا۔۔۔ یہ سوچ ہی زنیشہ کی دھڑکنوں میں اشتعال برپا کر جاتی تھی۔۔۔
ٹیرس پر آتے ہی زنیشہ کو ٹھنڈی ہوا کے تھپیڑوں نے اپنی گرفت میں لیا تھا۔۔۔۔
سردیوں کی گہری رات میں چاروں اور تاریکی پھیلی ہوئی تھی۔۔۔۔ میران پیلس کی بھی تقریباً زیادہ تر لائٹس آف ہوچکی تھیں۔۔۔ باہر مین گیٹ اور بیرونی دیواروں پر لگی لائٹس ہی روشن تھیں۔۔۔
زنیشہ نے آنکھیں پھاڑ کر گیٹ کے پرے دیکھنا چاہا تھا۔۔۔۔ مگر سامنے پڑے وسیع و عریض لان سے پرے دیکھنا مشکل امر ثابت ہورہا تھا۔۔۔۔
زوہان کو بھلا وہ اتنے دور سے کیسے نظر آتی۔۔۔
“کیا وہ واقعی آئیں ہونگے، صرف مجھے دیکھنے؟ مگر وہ ایسا کیوں کریں گے؟ اُنہیں بھلا کب میری اتنی فکر رہی ہے؟.. کہیں اُنہوں نے مجھے کال نہ پک کرنے کی سزا تو نہیں دی اِس صورت میں۔۔۔۔۔”
زنیشہ زوہان کو جتنا جانتی تھی۔۔ اُسی لحاظ سے اندازے لگاتی وہ ملک زوہان کی ایک بار پھر ویسی ہی سنگدلی مرجھائی صورت لیے واپس پلٹی تھی۔۔۔۔
لیکن جیسے ہی مڑی اپنے عین پیچھے کھڑے شخص سے ٹکراتے ٹکراتے بچی تھی۔۔۔ اُس کا دل دھک سے رہ گیا تھا۔۔۔۔ خوف سے اُس کے منہ سے چیخ برآمد ہوتے اُس سے پہلے ہی مقابل اُس کے ٹھنڈ اور خوف سے لرزتے سرد ملائم ہونٹوں پر اپنی مضبوط ہتھیلی جما گیا تھا۔۔۔۔
@@@@@@@@
“یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ اتنی جلدی بھلا کیسے ہوسکتا ہے؟ میں یہ کام ایک دن کے اندر کیسے کرسکتی ہوں۔۔۔۔؟؟؟ کم از کم اِس کے لیے ایک ہفتہ تو ملنا چاہیئے۔۔۔۔”
حاعفہ تو اُن بلیک میلر کی بات سن کر ہی ششدر رہ گئی تھی۔۔۔
“تاکہ تمہیں کوئی ہوشیاری کرنے کا موقع مل جائے۔۔۔۔ مت بھولنا تمہاری بہن ابھی بھی ہمارے نشانے پر ہے۔۔۔۔ تمہارا زرا سا انکار اُس کا کام ہمیشہ کے لیے تمام کردے گا۔۔۔۔۔”
مقابل شخص ہمیشہ کی طرح انتہائی بدلحاظی سے بولا تھا۔۔۔ وہ بہت اچھی طرح سے حاعفہ کی کمزوری جان چکے تھے۔۔۔
“دیکھو میں انکار نہیں کررہی اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی ہوشیاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہوں۔۔۔۔ لیکن اگر یوں اچانک میں نے کل ہی آژمیر میران سے نکاح کی ڈیمانڈ کی تو اُنہیں شک ہوسکتا ہے۔۔۔۔”
حاعفہ نے اپنی طرف سے اُنہیں ہینڈل کرنا چاہا تھا۔۔۔ ابھی وہ پوری طرح خود کو اِس سب کے لیے تیار نہیں کرپائی تھی۔۔۔۔
کہیں نہ کہیں وہ ابھی بھی آژمیر کو سب سچ بتانے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔۔ مگر یہ لوگ اب جو اُسے کرنے کا کہہ رہے تھے۔۔۔ اُس کے بعد تو حاعفہ کے پاس کوئی موقع نہیں بچنے والا تھا۔۔۔۔
اُسے ہر حال میں اپنی زندگی کے محبوب ترین شخص کو اُس کی زندگی کا سب سے بڑا دھوکا دینا پڑتا۔۔۔۔۔
جس کے بعد شاید وہ خود بھی جینے کے قابل نہ رہتی۔۔۔۔۔
“تم واقعی اتنی بے وقوف ہو یا ہمارے سامنے بننے کا ناٹک کررہی ہو۔۔۔ آژمیر میران کو تم پر پہلے دن سے چک ہے۔۔۔ جب تمہارا اُس کی گاڑی کے ساتھ ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔۔۔ مگر ابھی تک ہمارے باس کی مضبوط پلاننگ کی وجہ سے وہ پکڑ نہیں پایا تمہیں۔۔۔۔ لیکن عنقریب اُسے تمہارے خلاف ثبوت ملنے والے ہیں، اُس کے آدمی ہمارے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔۔۔ اور اگر ایسا نکاح سے پہلے ہوگیا تو ہماری ساری محنت رائیگاں جائے گی۔۔۔۔ اِس لیے تمہیں یہ سب ایک دن کے اندر اندر کرنا ہوگا۔۔۔۔ “
آج پہلی بار اُس بلیک میلر نے حاعفہ سے اتنی تفصیل سے بات کی تھی۔۔۔
مگر اُس کی بات حاعفہ کے پیروں تلے سے زمین کھسکا گئی تھی۔۔۔
“تو اگر آژمیر سر کو مجھ پر شک ہے تو وہ میری بات مان کر مجھ سے نکاح کیوں کریں گے۔۔۔”
حاعفہ کے اندر ایک اُمید پیدا ہوئی تھی۔۔۔
اُس کے دل نے بے اختیار دعا کی تھی کہ کاش آژمیر کو کل ہی اُس کے بارے میں پتا چل جائے۔۔۔ پھر چاہے آژمیر اُس سے نفرت کرے مگر اُس کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔۔۔۔
“کیونکہ آژمیر میران محبت کرتا ہے تم سے۔۔۔۔ تم پر شک ہونے کے باوجود تمہارے حُسن کے وار سے نہیں بچ پایا۔۔۔۔ تمہارے کہنے پر وہ تم سے نکاح ضرور کرے گا۔۔۔ اور نکاح کے بعد تم وہی کرو گی جو میں نے تمہیں بتایا ہے۔۔۔
آخری بار بول رہا ہوں کوئی ہوشیاری مت کرنا۔۔ تمہاری بہن زندہ نہیں بچے گی۔۔۔۔”
وہ آدمی اُسے موت کی نوید سناتا فون بند کرگیا تھا۔۔
حاعفہ کی آنکھوں سے آنسو موتیوں کی طرح ٹوٹ کر گرنے لگے تھے۔۔۔
اُسے کہا گیا تھا آژمیر سے نکاح کے بعد وہ اُسے ایسی دوا دے گی جس سے آژمیر کے جسمانی اعضاء ہمیشہ کے لیے مفلوج ہوجاتے۔۔۔ اور وہ بامشکل ایک دن زندہ رہ پاتا۔۔۔۔
حاعفہ کا دل اِس خیال سے ہی پھٹ رہا تھا۔۔۔
اُس نے آخری کوشش کرتے ماورا کو کال ملانے کی کوشش کی تھی۔۔۔ مگر دو دن سے مسلسل ٹرائے کرنے کے باوجود ماورا کا فون ناٹ ریچیبل آرہا تھا۔۔۔ اُس کی یونیورسٹی کال کرکے بھی بات کرنے کی کوشش کی تھی۔۔۔ مگر اُن کے مطابق وہ سوات گئی ہوئی تھی کسی یونیورسٹی ٹور پر۔۔۔
حاعفہ ہر طرح سے پھنس گئی تھی۔۔۔ اب اُس کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔۔۔
@@@@@@@@
زنیشہ کی آنکھوں کی پتلیاں نا قابلے یقین حد تک پھیل چکی تھیں۔۔۔۔ ملک زوہان میران اُس کے کمرے کے ٹیرس پر اُس کے مقابل کھڑا تھا۔۔۔۔ وہ ایک بار پہلے بھی آیا تھا۔۔۔ مگر فرق اتنا تھا کہ اِس بار وہ گن لے کر اُسے دھمکانے نہیں بلکہ اُس کی خیریت دریافت کرنے آیا تھا۔۔۔۔
جو زنیشہ کے لیے بے انتہا غیر یقینی بات تھی۔۔۔۔
وہ ابھی بھی اِس بات پر یقین نہیں کرتی تھی کہ زوہان اُس سے محبت کرتا ہے۔۔۔ کیونکہ زوہان نے کبھی اُس سے اتنی نرمی سے بات کی ہی نہیں تھی۔۔۔ ہمیشہ دھمکیاں ہی دی تھیں۔۔۔۔
“کیا ہوا؟؟ تم تو ایسے ری ایکٹ کررہی ہو۔۔۔ جیسے میرا بھوت دیکھ لیا ہو۔۔۔۔۔”
زوہان اُس کے ہونٹوں سے ہاتھ ہٹاتا اُس کی بالکل لال ہوئی چھوٹی سی ناک کو دباتا اُس کی آنکھوں میں جھانکتے بولا تھا۔۔۔۔
“آپ۔۔۔پپ۔۔۔۔۔ یہاں کیوں۔۔۔۔ ؟؟”
زنیشہ سے بولنا محال ہوا تھا۔۔۔ پہلے جو وہ ٹھنڈ سے کانپ رہی تھی۔۔۔ اب اُس میں بے حد قریب کھڑے شخص کا خوف بھی شامل ہوچکا تھا۔۔۔۔
اُس کے کمرے کی لائٹس آن تھیں۔۔۔ جس کی وجہ سے وہ پوری تاریکی میں نہیں تھے۔۔۔ کوئی بھی نیچے سے کھڑا ہو کر اُنہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔۔
اوپر سے آج آژمیر بھی گھر پر ہی موجود تھا۔۔۔۔ زنیشہ کی خوف سے جان نکلنے لگی تھی۔۔۔
“شاید تم بھول رہی ہو۔۔۔ یہ گھر جتنا تمہارے بھائی کا ہے اُتنا میرا بھی ہے۔۔۔۔ یہ تو یہ لوگ میرا احسان سمجھیں کہ یہیں اِن سب کے بیچ رہ کر اِن کی زندگیاں اجیرن نہیں کررہا میں۔۔۔۔ “
آژمیر کے خیال کے ساتھ ہی زوہان کا موڈ خراب ہوچکا تھا۔۔۔۔
اُس کی بات پر زنیشہ اُسے گھور کر رہ گئی تھی۔۔۔ اب وہ منہ سے کچھ بھی نکالنے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی۔۔۔ نہ اتنی ٹھنڈ میں اُس سے کچھ بولا جارہا تھا۔۔۔۔
“کیسی طبیعت ہے تمہاری اب؟؟؟”
زوہان اُس کا لال پڑتا چہرا دیکھ قدرے نرمی سے بولا تھا۔۔۔ حیرت انگیز طور پر زنیشہ کا گھورنا کام آیا تھا۔۔۔۔
زوہان اِس وقت سیاہ لباس میں ملبوس، سیاہ گرم شال اپنے شانوں پر ڈالے رات کے اِس پہر بھی بالکل فریش لگ رہا تھا۔۔۔۔ پتا نہیں یہ شخص ہر وقت اتنا پرفیکٹ کیسے بنا رہتا تھا۔۔۔۔ زنیشہ سوچ کر رہ گئی تھی۔۔۔
“مجھے ٹھنڈ لگ جانے کی وجہ سے بخار ہو تھا۔۔۔۔ اُسی وجہ سے بے ہوش بھی ہوگئی تھی۔۔۔ اور میں ابھی بھی بیمار ہوں۔۔۔ “
زنیشہ نے دبے لفظوں میں اُسے جتایا تھا۔۔۔ کہ وہ ابھی اُسے اتنی ٹھنڈ میں کھڑا ہونے پر مجبور کیے ہوئے ہے۔۔۔۔
اُس کے اِس نروٹھے انداز پر زوہان کے ہونٹوں سے گوشے میں مسکراہٹ نمایاں ہوکر فوراً معدوم ہوئی تھی۔۔۔
“تو چلو اندر۔۔۔۔ اندر چل کر باقی باتیں کرتے ہیں۔۔ عنقریب ہماری شادی ہے مجھے بیمار دلہن کسی صورت نہیں چاہیئے۔۔۔۔ “
زوہان نے اُس کی فکر کی بھی تھی تو کس انداز میں زنیشہ جل کر رہ گئی تھی۔۔۔۔۔
یہ شخص نہ اُس سے محبت کرتا تھا نہ اُس کی فکر۔۔۔۔۔
غصے سے سوچتے زنیشہ نے اِس بات پر سو فیصد اتفاق کیا تھا۔۔۔۔۔
وہ زوہان کے ساتھ تنہا کمرے میں جانے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی۔۔۔۔ مگر یہاں اگر مزید کچھ دیر کھڑی رہتی تو اُس کی کلفی جم جانی تھی۔۔۔۔
زوہان کو پیچھے ہٹتے دیکھ وہ روم کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔۔
زوہان بھی اُس کے پیچھے اُس کے روم میں داخل ہوا تھا۔۔۔۔ جہاں ہیٹر آن ہونے کی وجہ سے کافی پر حرارت ماحول تھا۔۔۔۔
“کیا میں اب وجہ جان سکتا ہوں اُس کی گستاخی کی جو تم نے میری کال پک نہ کرکے کی ہے۔۔۔۔۔”
زوہان مہرون شال میں اپنا نازک وجود چھپائے اُس کی موجودگی کی وجہ سے ایک ہی جگہ پر ڈری سہمی کھڑی اُس کی ساری توجہ اپنی جانب کھینچتی زنیشہ سے مخاطب ہوا تھا۔۔۔۔
“میں آپ کی پابند نہیں ہوں۔۔۔۔۔”
زنیشہ نے نظریں زمین میں گاڑھے اپنے آپ سے بھی کافی بھاری جملہ بولا تھا۔۔۔۔
“یہ اچانک اتنا کانفیڈنس مسز زوہان بننے کے خیال سے آگیا ہے کیا۔۔۔۔؟؟؟”
زوہان نے اُس کے ایٹی ٹیوڈ پر چوٹ کرتے کہا تھا۔۔۔ کہ یہ آگے اُسے کتنا بھاری پڑ سکتا ہے۔۔۔۔
“مجھے آپ سے شادی نہیں کرنی۔۔۔۔۔”
زنیشہ نے پلکیں اُٹھاتے زوہان کی جانب دیکھ کر یہ جملہ ادا کیا تھا۔۔۔ لیکن اگلے ہی لمحے زوہان کی لال آنکھیں دیکھ اُس کی پلکیں لرزتی واپس جھک گئی تھیں۔۔۔۔
“تم چاہتی کیا ہو۔۔۔۔ میں ابھی تمہیں اپنے ساتھ لے جاؤں۔۔۔۔؟؟؟”
زوہان سینے پر بازو باندھتے کمال ضبط کا مظاہرہ کرتے اُس کے مقابل آن کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔
کہنے کو وہ یہاں زنیشہ کی خیریت دریافت کرنے آیا تھا۔۔۔۔ مگر اب سب اُلٹا ہی ہورہا تھا۔۔۔۔
“آپ بہت زیادہ بُرے ہیں۔۔۔۔”
زنیشہ آج الگ ہی موڈ میں تھی۔۔۔۔
“تمہاری سوچ سے بھی کہیں زیادہ بُرا ہوں۔۔۔ یہ بات تم میری دسترس میں آنے کے بعد ہی جان سکو گی۔۔۔”
زوہان بھی اپنے نام کا ایک ہی تھا۔۔۔۔
اُس کے خدشات دور کرنے کے بجائے مزید بڑھا رہا تھا۔۔۔
زنیشہ اُس کی اِس دبی دھمکی پر اندر تک کانپ گئی تھی۔۔۔ زوہان کی گہری نگاہیں اُس کی من موہنی صورت پر جم سی گئی تھیں۔۔۔۔
“آپ کو جس سے محبت ہے پلیز اُسی سے شادی کریں نا۔۔۔۔ میرے پیچھے کیوں پڑے ہیں۔۔۔۔”
زنیشہ خفگی بھرے لہجے میں گویا ہوئی تھی۔۔۔ مگر درحقیقت یہ بات کہتے اُس کے دل کو کچھ ہوا تھا۔۔۔
“اُس سے بھی کروں گا۔۔۔ بتایا تھا تمہیں۔۔۔۔”
زوہان کا جواب زنیشہ کو اندر باہر سے جھلسا گیا تھا۔۔۔
“یہ تمہارے تکیے کے نیچے کس کی تصویر پڑی ہے۔۔۔۔”
زنیشہ اُسے کوئی جواب دینے ہی والی تھی۔۔۔ جب زوہان کے سوال اور اُس کی نگاہوں کا تعاقب نوٹ کرتے زنیشہ بوکھلا گئی تھی۔۔۔
“کسی کی بھی ہو۔۔۔ آپ کو اِس سے کوئی مطلب نہیں ہونا چاہئیے۔۔۔۔”
زنیشہ پہلے ہی اُس کی باتوں پر تپی ہوئی تھی۔۔۔ اُوپر سے اپنے پکڑے جانے کے خوف سے اُسے سمجھ نہیں آیا تھا کہ کیا بولے۔۔۔۔۔ اس نے پھرتی کا مظاہرہ کرتے جلدی سے تصویر اُٹھا کر اپنی پیٹھ پیچھے کر لی تھی۔۔۔۔
“ایسا کیا ہے اِس پکچر ميں۔۔۔۔”
زوہان اُس کی جانب پیش قدمی کرتا مصنوعی متجسس لہجے میں بولا تھا۔۔۔۔
“کچھ نہیں ہے۔۔۔ میں کبھی نہیں دیکھاؤں گی آپ کو۔۔۔۔۔”
زنیشہ نے تصویر مضبوطی سے تھام رکھی تھی۔۔۔ وہ جانتی تھی کہ زوہان کو اِسے چھیننے میں ایک سیکنڈ نہیں لگے گا۔۔۔۔
“میری یہ تصویر کافی پرانی ہوچکی ہے اب۔۔۔ میں اپنی کچھ نئی تصویریں بھیج دوں گا۔۔۔ اُن میں سے سلیکٹ کرلینا کہ کونسی تصویر کو رات کو سینے سے لگا کر سونا ہے۔۔۔۔ گڈ نائٹ۔۔۔۔ اور اپنا خیال رکھنا۔۔۔ مجھے میری دلہن بالکل فٹ فاٹ چاہئے۔۔۔۔”
زوہان معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ زنیشہ کے چودہ طبق روشن کرتا اُس کے گال کو دو انگلیوں سے ٹچ کرتا وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔۔
جبکہ زنیشہ اپنی جگہ بت بنی کھڑی رہی تھی۔۔۔
اُسے کتنے لمحے لگے تھے۔۔۔ واپس ہوش کی دنیا میں لوٹنے میں۔۔۔۔
زوہان کو اِس بارے میں علم تھا۔۔۔۔ مگر کیسے۔۔۔
زنیشہ کا چہرہ شرمندگی اور خفت سے لال ہوچکا تھا۔۔۔۔
اِس مشکل ترین انسان کو سمجھ پانا اُس کے لیے ہمیشہ ناممکن رہا تھا۔۔۔ اور وہ اُس کے بارے میں ایک ایک خبر رکھتا تھا۔۔۔۔
زنیشہ کے لیے اِس شرمندگی سے نکل پانا مشکل ہورہا تھا۔۔۔۔
اب دوبارہ وہ کیسے زوہان کا سامنا کرے گی۔۔۔۔ زنیشہ اپنا لال چہرا ہتھیلیوں میں چھپائے وہیں بیٹھ گئی تھی۔۔۔
@@@@@@@@@
آژمیر فجر کے وقت میران پیلس سے نکل آیا تھا۔۔۔ اور اب تقریباً بارہ بجے کے قریب وہ اپنے شہر والے بنگلے پر پہنچا تھا۔۔۔ اُس کا ارادہ فریش ہوکر آفس کے لیے نکلنے کا تھا۔۔۔
اِسی غرض سے وہ اپنے روم میں گیا تھا، جب کچھ دیر بعد اُس کا ملازم دروازے پر ناک کرتا اُس کی اجازت ملنے پر اندر داخل ہوا تھا۔۔۔
“سائیں نیچے گیٹ پر کوئی لڑکی آئی ہے۔۔۔ وہ آپ سے ارجنٹ ملنا چاہتی ہے۔۔۔ میں نے بتایا بھی کہ آپ ابھی ریسٹ کر رہے نہیں مل سکتے۔۔۔ مگر وہ میری بات نہیں سن رہی۔۔۔۔ “
طاہر جو اُس کے بنگلے کی دیکھ بھال کے لیے معمور ملازمین کا ہیڈ تھا۔۔۔۔ آژمیر سے کسی لڑکی کا ملنے آنا اُس نے اتنے سالوں میں پہلی بار دیکھا تھا۔۔۔ اِس لیے اُسے یہی لگا تھا کہ کوئی ویسے ہی ہوگی۔۔۔
“نام بتایا اُس نے اپنا۔۔۔”
اپنی ٹائی کی ناٹ لگاتے آژمیر نے پلٹ کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
” جی سر۔۔۔ کوئی حاعفہ نامی لڑکی ہے۔۔۔۔”
طاہر کے نام لینے کی دیر تھی۔۔۔ آژمیر جھٹکے سے پلٹتا طاہر کو سرد نگاہوں سے گھور گیا تھا۔۔۔
“تم جانتے بھی ہو کس کے ساتھ اتنا روڈ بی ہیو کرکے آرہے ہو تم؟؟؟”
آژمیر کا بس نہیں چل رہا تھا کہ حاعفہ کو ابھی تک گیٹ پر کھڑا رکھنے کے جرم میں ایک پنچ تو رسید کرہی دے۔۔۔
“سوری سر۔۔۔۔۔”
طاہر اُس کے برہم تاثرات دیکھ ہولے سے منمنایا تھا۔۔۔ مگر تب تک آژمیر کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔۔۔ حاعفہ کی اُس کی لائف میں اہمیت کا اندازہ اِسی بات سے لگایا جاسکتا تھا کہ وہ اُسے لینے خود گیٹ تک جارہا تھا۔۔۔۔
آژمیر میران اپنی فیملی کے کچھ خاص ممبرز کے علاوہ کسی کو اتنی ویلیو نہیں دیتا تھا۔۔۔۔
@@@@@@@@@
حاعفہ لرزتے قدموں سے آژمیر کے سفید کلر کے بے حد خوبصورت بنگلے کے اندر داخل ہوئی تھی۔۔۔ دو بار اُس کے قدم لڑکھڑائے تھے۔۔ مگر اُس نے بہت مشکل سے خود کو کمپوز کر رکھا تھا۔۔۔۔۔۔
باہر لگی تختی پر لکھا اُس کا نام دیکھ حاعفہ کی آنکھوں میں ایک بار پھر آنسوؤں کا سیلاب اُمڈ آیا تھا۔۔۔
مگر اپنے آنسوؤں کو دل میں اُتارتی وہ آگے بڑھ گئی تھی۔۔۔۔ اُسے یہ سب کرنا تھا۔۔۔ اُسے اپنی اکلوتی بہن کی حفاظت مرتے دم تک کرنی تھی۔۔۔ اپنی ماں سے کیا آخری وعدہ نبھانا تھا۔۔۔۔۔ پھر چاہے اس کے لیے اپنا دل کاٹ کر پھینکنا پڑتا۔۔۔
اُس کی زندگی کے سب سے مشکل ترین لمحے تھے یہ۔۔۔ جن میں وہ اپنی زندگی اپنے ہاتھوں سے ہارنے والی تھی۔۔۔۔
حاعفہ وہاں کھڑی ملازم کے واپس آنے کا ویٹ کررہی تھی۔۔۔ جب اُسے اندر سے ملازم کی جگہ آژمیر آتا دیکھائی دیا تھا۔۔۔ اُسے دیکھ کر آژمیر کے چہرے پر ایک نرم سی مسکراہٹ چھائی ہوئی تھی۔۔۔
حاعفہ نے صاف نوٹ کیا تھا کہ اُس پر نظر پڑتے ہی آژمیر کی آنکھوں کی چمک میں مزید اضافہ ہوا تھا۔۔۔
“حاعفہ یہاں کیوں کھڑی ہو تم۔۔۔ کم اِن پلیز۔۔۔”
آژمیر اُس کے قریب آتے بولا تھا۔۔۔۔
جب حاعفہ کی لال سوجی آنکھوں کو دیکھ وہ لمحہ بھر کو ٹھٹھکا تھا۔۔۔ مگر اپنی بات کے جواب میں حاعفہ کے مسکرا کر دیکھنے پر اپنی سوچ جھٹکتا اُسے لیے اندر بڑھا تھا۔۔۔۔
“سر مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے۔۔۔”
حاعفہ اُس کے ساتھ ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے ہی فوراً اپنے مقصد کی جانب آئی تھی۔۔۔
وہ بہت مشکل سے یہاں تک آئی تھی۔۔۔ جتنا زیادہ وقت لگتا اُتنا وہ کمزور پڑتی اِس لیے اُس نے فوراً وہ کام کرنا چاہا تھا جس کے لیے وہ یہاں آئی تھی۔۔۔
“جی بولیں۔۔۔”
آژمیر کی گہری نگاہیں حاعفہ کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھیں۔۔۔۔
“کیا آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں؟؟”
حاعفہ اپنے آپ کو حتی الامکان نارمل رکھنے کی کوشش کیے ہوئے تھی۔۔۔ اور کافی حد تک اِس میں کامیاب بھی تھی۔۔۔ مگر وہ اور اُسے بھیجنے والے شاید یہ بھول چکے تھے کہ سامنے بھی زیرک نگاہ رکھنے والا کوئی عام کھلاڑی نہیں کھڑا تھا۔۔۔
“تو کیا تمہیں میرے الفاظ پر یقین نہیں۔۔۔ تمہیں پروف چاہیئے۔۔۔۔؟؟؟”
آژمیر کی نظریں حاعفہ کی انگلیوں پر ٹکی ہوئی تھیں۔۔۔ جنہیں وہ مروڑ مروڑ کر بالکل لال کرچکی تھی۔۔۔۔
“جی۔۔۔۔”
آژمیر کی بات پر حاعفہ نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔۔۔۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے مدِ مقابل کھڑے تھے۔۔۔ آژمیر نے آج پہلی بار حاعفہ کو اپنے سامنے اِس طرح بات کرتے دیکھا تھا۔۔۔۔
“کیا پروف چاہیئے؟؟؟…”
آژمیر کی نظروں میں ایک عزم نظر آیا تھا۔۔۔۔
“اگر آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں اور مجھ پر ٹرسٹ کرتے ہیں تو آپ کو ابھی اور اِسی وقت مجھ سے نکاح کرنا ہوگا۔۔۔۔ “
یہ الفاظ ادا کرتے حاعفہ کے دل کے کئی ٹکڑے ہوئے تھے۔۔۔۔
آژمیر اُس کی بات پر بنا کوئی جواب دیئے کچھ پل اُسے دیکھتا رہا تھا۔۔۔ اُسی لمحے اُسے کوئی میسیج ریسیو ہوا تھا جسے پڑھتے آژمیر کے چہرے کا رنگ لمحہ بھر کو متغیر ہوا تھا۔۔۔۔۔۔ مگر اگلے ہی لمحے اُس نے موبائل پر کوئی نمبر ڈائل کرتے کان سے لگایا تھا۔۔۔
“اگلے تیس منٹ کے اندر نکاح خواں اور گواہان کا انتظام کرکے آژمیر مینثن پہنچو۔۔۔۔ فوراً۔۔۔۔۔”
آژمیر کے فون پر ادا کیے جانے والے الفاظ سن کر حاعفہ نے بے یقینی سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ اُسے آژمیر کے اتنی جلدی مان جانے کی بالکل اُمید نہیں تھی۔۔۔۔
جس بات کا یہی مطلب تھا کہ آژمیر ابھی تک اُس کے بارے میں کچھ بھی نہیں جان پایا تھا۔۔۔۔
حاعفہ نے مٹھیاں سختی سے بھینچتے اپنے اندر اُٹھتے اضطراب پر قابو پایا تھا۔۔۔۔
اُسے کچھ لمحوں بعد ہونے والے نکاح پر خوش ہونا چاہئے تھا۔۔۔ مگر اُس کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔