Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 36

آژمیر پچھلے اتنے گھنٹوں سے جس اذیت کا شکار تھا۔۔۔ اب اُسے کا حساب لینے کی باری آچکی تھی۔۔۔ مگر یہ وقت اُس کی بہن کا تھا جو وہ کسی کو نہیں دے سکتا تھا۔۔۔
نجانے کون کون سے خدشات اور ڈر و خوف کے زیرِ اثر روتی زنیشہ کو اُس نے اپنے سینے سے جدا کرتے اُس نے اُس کا بھیگا چہرا صاف کیا تھا۔۔۔
“میں ہمیشہ اپنی گڑیا کے ساتھ ہوں۔۔۔ کبھی کچھ غلط نہیں ہونے دوں گا۔۔۔۔۔”
زنیشہ کے آنسو صاف کرتے آژمیر نے اُس کا خوف کم کرنا چاہا تھا۔۔۔ جس پر زنیشہ ہولے سے سر اثبات میں ہلا گئی تھی۔۔۔
“اللہ تمہارا نصیب اچھا کرے۔۔۔ ہمیشہ خوش رہو۔۔۔۔”
شمسہ بیگم آگے بڑھتے زنیشہ کو گلے لگا گئی تھیں۔۔۔ آژمیر زنیشہ کو چپ ہوتا دیکھ مولوی صاحب کے ساتھ باہر نکل گیا تھا۔۔۔۔
گھر کی تمام خواتین اِس وقت زنیشہ کے پاس روم میں ہی موجود تھیں۔۔۔ جو زوہان کا سامنا کرنے کے خوف سے بُری طرح گھبرائی ہوئی تھی۔۔۔۔
جبکہ وہ سب اُسے تسلی دے رہی تھیں۔۔ اور زوہان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کی تلقین کررہی تھیں۔۔۔۔ مگر زنیشہ جانتی تھی یہ سب لوگ زوہان کے فریب میں آکر اُس کے زرا سے اچھے برتاؤ پر اُس کی پچھلی باتیں بھول چکے تھے۔۔۔ مگر زوہان نے اب تک ایسا نہیں کیا تھا۔۔۔ میران پیلس والوں کے لیے اُس کی نفرت آج بھی ویسی ہی تھی۔۔۔
وہ اُن کی بیٹی کو اپنے نام تو لگوا چکا تھا مگر یہ بات آژمیر اور زنیشہ دونوں اچھے سے جاتے تھے کہ اُس کی نفرت آج بھی ہنوز تھی۔۔۔۔ ہاں مگر ایک بات جو آژمیر جانتا تھا مگر زنیشہ ابھی تک سمجھ نہیں پارہی تھی کہ زوہان میران پیلس کے تمام افراد سے نفرت کرتا تھا سوائے زنیشہ کے۔۔۔۔
وہ زنیشہ سے محبت کرتا تھا یا نہیں مگر اُسے تکلیف میں کسی قیمت پر نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔۔
@@@@@@@@@
“آج فائنل ائیر والوں کا اینوئل ڈنر ہے۔۔۔۔۔ “
بیلا نے ماورا کی معلومات میں اضافہ کیا تھا۔۔۔
وہ لوگ کل شام کو ہی واپس لوٹے تھے۔۔۔۔ اُس رات کے بعد سے ماورا کا منہاج سے سامنا نہیں ہوا تھا۔۔۔۔ وہ اُس کے سامنے آنے سے جان بوجھ کر کترا رہی تھی۔۔۔۔ اُس رات دونوں کے بعد جو اقرار ہوئے تھے اُس کے بعد ماورا میں ہمت نہیں تھی منہاج کے سامنے جانے کی۔۔۔۔
“تو میں کیا کروں۔۔۔۔؟؟؟”
ٹیبل پر پڑی کتابیں سمیٹتے بیلا کی بات پر ماورا لاپرواہی سے کندھے اُچکا کر رہ گئی تھی۔۔۔
وہ دونوں اِس وقت لائبریری میں بیٹھی تھیں۔۔۔ جس کے بند ہونے کو وقت ہورہا تھا۔۔۔ اِسی خیال سے ماورا بکس سمیٹ کر واپس اُن کے ریکس میں رکھنے کے خیال سے اُٹھی تھی۔۔۔۔ لائبریری میں اکا دکا سٹوڈنٹس ہی رہ گئے تھے۔۔۔۔
“منہاج درانی بھی فائنل ائیر کا سٹوڈنٹ ہے۔۔۔۔ آج اُن کا یہ لاسٹ ڈے ہوگا کالج میں۔۔۔۔۔”
بیلا نے اُس کی توجہ اصل بات کی جانب دلوائی تھی۔۔۔۔
کرسی سے اُٹھتی ماورا اُس کی بات پر واپس ٹک گئی تھی۔۔۔۔۔
“اوہ۔۔۔۔”
اُس کے چہرے پر ملال و اداسی سی چھا گئی تھی۔۔۔۔ منہاج نے آج اُس سے ملنے کی کتنی کوشش کی تھی اور وہ یہاں لائبریری میں چھپی بیٹھی رہی تھی۔۔۔۔
وہ یونیورسٹی سے جانے والا تھا۔۔۔۔ یہ سوچ ہی ماورا کو بے چین کر گئی تھی۔۔۔۔
“کیا ہوا۔۔۔ تم اتنی سیڈ کیوں ہوگئی ہو۔۔۔؟؟ ہزبینڈ ہے تمہارا اور بے پناہ محبت بھی کرتا ہے۔۔۔ یونیورسٹی چھوڑ کر جارہا ہے تمہیں چھوڑ کر نہیں جائے گا۔۔۔۔”
بیلا اُس کی اُداس صورت دیکھ تسلی بھرے لہجے میں گویا ہوئی تھی۔۔۔۔
جس پر ماورا ہولے سے مسکرا دی تھی۔۔۔
“میں باہر جارہی ہوں فزا سے نوٹس لینے ہیں۔۔ تم یہ بکس رکھ کر آجاؤ۔۔۔۔۔”
بیلا اُس کا گال تھپتھپاتے باہر نکل گئی تھی۔۔۔۔
ماورا بھی لائبریری خالی ہوجانے کے خیال سے اُٹھی تھی۔۔۔
ریک میں بکس رکھتے وہ جیسے ہی پلٹی ہر طرف اندھیرا چھا گیا تھا۔۔۔۔
ماورا خوفزدہ سی کھڑی رہ گئی تھی۔۔۔ اُسے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔۔۔ اتنی بڑی لائبریری میں اکیلے رہ جانے کے خوف سے اُس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔۔۔۔ وہ اندھیرے میں سمت کا تعین کرتی آگے بڑھنے لگی تھی۔۔۔۔
اِس سے پہلے کہ وہ سامنے کھڑی الماری سے اپنا سر پھوڑ لیتی کسی نے اُس کی کمر میں بازو حمائل کرتے اُسے اپنی جانب کھینچ لیا تھا۔۔۔۔
ماورا کہ لیے یہ حملہ اتنا غیر متوقع تھا کہ وہ اُس طرف کھینچتی چلی گئی تھی۔۔۔ اُس کا سر مقابل کے چٹانی وجود سے ٹکرائی تھی۔۔۔ جس نے اُسے اپنے کشادہ سینے میں بھینچتے اُس کے منہ سے نکلی چیخ کا گلا گھونٹ دیا تھا۔۔۔۔
@@@@@@@@@
نگینہ بائی کی بہت کوششوں کے بعد جاکر حاعفہ کی حالت کچھ نارمل ہوئی تھی۔۔۔۔ اُس کا رو رو کر بُرا حال تھا۔۔۔۔ وہ صرف اور صرف آژمیر میران کے پاس جانا چاہتی تھی۔۔۔۔
مگر نگنیہ بائی کے مطابق وہ اُن سب کو نہیں چھوڑے گا۔۔۔ اِس خیال سے وہ ایک بار پھر بے بسی سے اپنا دل مسل کر رہ گئی تھی۔۔۔۔
اُسے کسی مرد سے کبھی اتنی محبت ہوسکتی ہے اُس نے کبھی یہ تصور میں بھی نہیں سوچا تھا۔۔۔۔
“حاعفہ کچھ کھا لو بیٹا۔۔۔ ایسے تو تمہاری طبیعت مزید خراب ہوجائے گی۔۔۔۔ کیوں خود پر اتنا ظلم کررہی ہو؟؟؟؟…. اُس سب کو حسین خواب سمجھ کر بھول جاؤ۔۔۔۔ وہ چاہے کتنا بھی اعلٰی ظرف ہو۔۔۔۔۔۔ مگر کسی طوائف زادی کو اپنی بیوی کے رُوپ میں قبول نہیں کرے گا۔۔۔۔”
نگینہ بائی نے اُسے بہلاتے حقیقت کا رُخ دیکھانا چاہا تھا۔۔۔ کہ وہ جس کی خواہش کررہی تھی وہ اُسے کبھی نہیں مل سکتا تھا۔۔۔۔
حاعفہ کی تڑپ لمحہ با لمحہ بڑھتی جارہی تھی۔۔۔ آژمیر میران اُس کی سانسوں میں بستا تھا۔۔۔۔ جیسے زندہ رہنے کے لیے سانس لینا ضروری ہوتا ہے ویسے ہی اُس کے لیے آژمیر میران ضروری تھا۔۔۔۔
“آپ کیا چاہتی ہیں۔۔۔۔ میں آژمیر کی امانت میں خیانت کروں۔۔۔۔ کسی اور کی بیوی ہوتے ہوئے یہاں غیر مردوں کے سامنے رقص کروں۔۔۔۔”
حاعفہ اُن کے ہاتھ جھٹکتی نخوت سے دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔
“نہیں میں ایسا نہیں چاہتی۔۔۔۔ اگر آژمیر میران کی طرف سے تمہیں خطرہ نہ ہوتا تو میں تمہیں اُس کے پاس جانے سے کبھی نہ روکتی۔۔۔۔ مگر میں جانتی ہوں وہ تمہیں مروا دے گا۔۔۔۔ میں نے اب تک تم دونوں کے ساتھ بہت بُرا کیا ہے۔۔۔۔ میں اُس کا ازالہ کرنا چاہتی ہوں۔۔۔۔ تمہیں اب مزید اِس زندان میں نہیں رہنا پڑے گا۔۔۔۔ میں نے تمہیں یہاں سے نکالنے کے سارے بندوبست کرلیے ہیں۔۔۔۔۔۔ مگر۔۔۔”
نگینہ بائی نے بات کرتے رک کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
“مگر کیا۔۔۔۔؟؟؟؟؟”
اُمید بھری نظروں سے نگینہ بائی کی جانب دیکھتے اُس کے رکنے کے ساتھ حاعفہ کو اپنا دل رُکتا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔
“حاعفہ مجھے میری مری ماں اور بہن کی قسم میں سچ میں تمہاری مدد کرنا چاہتی ہوں۔۔۔۔ مگر اُس کے لیے تمہیں مجھ پر ٹرسٹ کرنا ہوگا۔۔۔۔ میں وعدہ کرتی ہوں تمہارے ساتھ کچھ غلط نہیں ہونے دوں گی۔۔۔۔۔ “
نگینہ بائی کی باتوں پر حاعفہ نے اُلجھن بھری نظروں سے اُن کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
“کرامت کے پاس تمہاری ڈیمانڈ لے کر آج شام کو ایک گاہک آیا ہے۔۔۔۔ اُس نے ایک رات کے لیے تمہاری اب تک کی سب سے بھاری بولی لگائی ہے۔۔۔۔ اور کرامت کی لالچ دیکھ میرا خون اُس وقت کھول اُٹھا جب اُس نے تمہیں اُس شخص کے پاس بھیجنے کی حامی بھری۔۔۔۔۔”
نگینہ بائی کے منہ سے نکلنے والے الفاظ حاعفہ کے چہرے سے سارا خون نچوڑ گئے تھے۔۔۔
“کک کیا۔۔۔۔ مگر میں اپنے شوہر سے دھوکا نہیں کرسکتی۔۔۔۔ میں اب خود پر کسی غیر مرد کی نظر پڑنے نہیں دوں گی۔۔۔ میرا تن من میرے پاس میرے آژمیر کی امانت ہے۔۔۔ جس میں میں مر کر بھی خیانت نہیں کروں گی۔۔۔۔۔ چاہے کرامت اُس کے لیے مجھے جان سے کیوں نہ مار دے۔۔۔۔۔”
حاعفہ نگینہ بائی کی پوری بات سننے بغیر ہتھے سے اُکھڑ گئی تھی۔۔۔۔
“حاعفہ میری بات سنو۔۔۔۔ اگر تم یہاں سے فرار ہونا چاہتی ہو تو تمہیں کرامت کی یہ بات ماننی پڑے گی۔۔۔ آگے کے سارے انتظامات میں نے کر رکھے ہیں۔۔۔۔ اور ایک اور بات تم نے اب تک مجھ سے جو چیز چھپائی رکھی ہے۔۔۔ وہ میں اچھے سے جانتی ہوں۔۔۔ تم نے آج تک کسی مرد کو اپنے قریب نہیں آنے دیا۔۔۔۔ جن گولیوں سے پہلے تمام مردوں کو بے ہوش کیا ہے۔۔۔ آج بھی اُنہیں کا سہارا لیتے یہ پلِ صراط کراس کر جاؤ۔۔۔۔ آگے پھر جیسی زندگی تم گزارنا چاہتی ہوں ویسی ہی ملے گی تمہیں۔۔۔۔ نہ کوئی قید نہ ہی کوئی اذیت ملے گی۔۔۔۔”
نگینہ بائی اُسے پوری خلوص نیت سے سمجھاتے ہوئے بولی تھیں۔۔۔
حاعفہ بے یقینی سے منہ کھولے اُنہیں سن رہی تھی۔۔۔ وہ اُس کے معاملے میں اتنی نادان نہیں تھی جتنا وہ سمجھ رہی تھی۔۔۔
نگینہ بائی نے اُسے اپنا سارا پلین سمجھا دیا تھا، جس پر عمل کرنے کے سوا اُس کے پاس کوئی دوسرا چارہ نہیں تھا۔۔۔۔
@@@@@@@@@
نکاح کے بعد سے زوہان کی آنکھوں میں ایک الوہی سی چمک نمایاں تھی۔۔۔ نفیسہ بیگم نجانے کتنی بار اُس کی نظر اُتار چکی تھیں۔۔۔ مگر وہ آج اتنا وجیہہ لگ رہا تھا کہ اُسے نظر نہ لگ جائے اِس خیال سے نفیسہ بیگم یہاں آنے سے پہلے اُس کا صدقہ بھی دے چکی تھیں۔۔۔۔
زوہان کوئی امپورٹنٹ کال کرتا واپس پلٹا تھا جب سٹیج کے قریب نفیسہ بیگم کے ساتھ کھڑی ثمن کو دیکھ وہ اُن کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔
“تو فائنلی ٹائم مل گیا تمہیں۔۔۔۔”
زوہان اُس کے لیٹ آنے پر طنز کرتے بولا تھا۔۔۔ نفیسہ بیگم اُس کی روڈنیس پر افسوس سے سر ہلاتیں دوسرے مہمانوں کی جانب بڑھ گئی تھیں۔۔۔
“تم جانتے ہو ملک زوہان۔۔۔۔ ثمن خان کا سارا وقت ہی تمہارے لیے ہے۔۔۔۔ مگر میں اپنی زندگی کے اِس سب سے تکلیف دہ لمحے میں شامل نہیں ہونا چاہتی تھی۔۔۔۔ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی محبت کو کسی اور کا ہوتے دیکھنا کتنا اذیت ناک ہوتا ہے تم جیسے محبت کو اپنے نام لگوانے والے نہیں سمجھ پائیں گے۔۔۔۔”
ثمن کی نگاہیں وارفتگی سے زوہان کے مغرور نقوش کا طواف کررہی تھیں۔۔۔۔
“یہ سب پہلے سے کلئیر تھا ہمارے درمیان۔۔۔۔”
زوہان نے اُس پر واضح کیا تھا۔۔۔ اُسے ہمیشہ ثمن کے منہ سے یہ اظہار ناگوار گزرتا تھا۔۔۔۔
جس سے وہ یہ اظہار سننے کا خواہش مند تھا وہ اُسے گھاس ہی نہیں ڈالتی تھی۔۔۔۔
“میں تم سے کوئی شکوہ نہیں کررہی۔۔۔۔ مجھے اپنی حد پتا ہے۔۔۔ بس تم سے یہ کہہ کر دل کا بوجھ ہلکا ہوگیا تھوڑا۔۔۔۔۔ میں ہمیشہ تم سے محبت کروں گی اور ہمیشہ اِسی طرح تمہارے آس پاس رہنا چاہوں گی۔۔۔۔ بنا تم سے کسی بات کی توقع کیے۔۔۔۔ پلیز مجھ سے یہ مت چھیننا۔۔۔۔۔”
ثمن زوہان کا ہاتھ تھامتے ملتحی لہجے میں بولی تھی۔۔۔۔
اِس سے پہلے کے زوہان اُس کی گرفت سے ہاتھ نکالتا یا اُسے کوئی جواب دیتا اُس کی بے ساختہ نظر انٹرنس سے اندر داخل ہوتی زنیشہ پر پڑی تھی۔۔۔۔
آژمیر کا ہاتھ تھامے اُس کے ساتھ چل کر اندر آتی زنیشہ کو دیکھ زوہان کتنے ہی لمحے اپنی نظروں کا زاویہ نہیں بدل پایا تھا۔۔۔۔ اُس کے بھیجے گئے لہنگے میں وہ اپنے بے پناہ حُسن کے ساتھ کوئی اپسرا معلوم ہورہی تھی۔۔۔۔
ایسی نزاکت اور دلکشی زوہان سمیت وہاں موجود تمام افراد کو مبہوت سا کر گئی تھی۔۔۔۔ سرخ باریک دوپٹے سے اوڑھا گیا گھونگھٹ زوہان کا دل لوٹ لے گیا تھا۔۔۔۔ جس میں سے جھانکتا زنیشہ کا سندر چہرا نظر لگ جانے کی حد تک پیارا لگ رہا تھا۔۔۔
زوہان ثمن کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکالنا بھول چکا تھا۔۔۔ لیکن زنیشہ کی نظر ثمن کی گرفت میں موجود زوہان کے ہاتھ پر پڑتی اُسے اندر تک جلا کر راکھ کر گئی تھی۔۔۔۔ اُس کا دل چاہا تھا ابھی بھاگ کر جائے اور اِس لڑکی کو زوہان سے دور پھینک دے۔۔۔۔۔
سب کی رشک بھری نظریں آژمیر میران کے سائے میں چلتی زنیشہ پر ٹکی ہوئی تھیں۔۔۔ جو آج کی تاریخ میں دنیا کی خوش نصیب ترین لڑکی قرار دی جاسکتی تھی۔۔۔۔ جس کو پہلے آژمیر میران جیسا بھائی اور اب ملک زوہان جیسا شوہر نصیب ہوا تھا۔۔۔۔
زوہان ہوش میں آتے ثمن کا ہوتے چھوڑتا زنیشہ کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ جو آژمیر کے ساتھ سٹیج کے قریب آچکی تھی۔۔۔۔
وہ پہلے ہی اتنی پیاری لگ رہی تھی۔۔۔ اب اُس کے غصے سے لال پڑتے گال اُسے مزید کیوٹ بنا رہے تھے۔۔۔۔
یہ لڑکی اُس کے معاملے میں کتنی پوزیسو تھی۔۔۔ زنیشہ کی خفگی کی وجہ جان کر زوہان کے لب دلکشی سے مسکرائے تھے۔۔۔۔
آژمیر اور زوہان ایک بار پھر مقابل آن کھڑے ہوئے تھے۔۔۔۔ سب لوگوں کی نگاہیں اِس دنیا کے سب سے ناقابلے یقین منظر پر ٹکی ہوئی تھیں۔۔۔۔
زوہان نے زنیشہ کا ہاتھ تھامنے کے لیے آژمیر کی جانب ہاتھ بڑھایا تھا۔۔۔۔ جیسے اُس سے اجازت چاہتا ہو۔۔۔۔
یہ لمحہ انتہائی خوبصورت تھا۔۔۔۔ شمسہ بیگم کے لب ہولے سے مسکرائے تھے جبکہ آنکھوں میں نمکین پانی سا بھر گیا تھا۔۔۔۔ کیونکہ یہ منظر کچھ پل کے لیے ہی تھا۔۔۔ اُن دونوں بھائیوں نے پھر سے جدا ہوجانا تھا۔۔۔۔۔
آژمیر آنکھوں ہی آنکھوں میں زوہان کو زنیشہ کے حوالے سے بہت کچھ وارن کرتا اُس کے ہاتھ میں زنیشہ کا کپکپاتا ہاتھ تھما گیا تھا۔۔۔ جسے اپنی گرفت میں لیتے زوہان اُس کی ساری کپکپاہٹیں اپنی مضبوط ہتھیلی میں قید کرگیا تھا۔۔۔۔
زوہان کے ساتھ سٹیج کی جانب قدم بڑھاتے زنیشہ نے پلٹ کر درزیدہ نگاہوں سے آژمیر کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ جو وہیں کھڑا اُسے شفقت بھری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
زوہان کے ساتھ سٹیج پر چڑھتے زنیشہ کی دھڑکنیں اتھل پتھل ہورہی تھیں۔۔۔ اُس کے وجود سے اُٹھتی خوشبو زنیشہ کے حواسوں پر چھارہی تھی۔۔۔۔
اُس کے ساتھ صوفے پر براجمان ہوتے زنیشہ نے اپنا ہاتھ اُس کی گرفت سے نکالنا چاہا تھا مگر زوہان ایسا بالکل نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔
زوہان بنا کسی کا لحاظ کیے بڑی فرصت سے اُسے دیکھ رہا تھا مگر زبان سے اُس کی تعریف میں ایک لفظ بھی ادا نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔ زنیشہ اُس کی اِس بےباکی پر حیا اور شرم سے خود میں سمٹنے کے سوا کچھ نہیں کرپارہی تھی۔۔۔
اگر وہ اِس ضدی شخص کو منع کرتی تو اِس نے مزید اُسے تنگ کرنا تھا۔۔۔۔
“آپ کی گرل فرینڈ کو اچھا نہیں لگے گا۔۔۔ “
زنیشہ نے اُس کی گرفت سے ہاتھ آزاد کروانے کی کوشش کرتے اُس کی توجہ سامنے کھڑی ثمن کی جانب کروائی تھی۔۔۔
“ڈونٹ وری میں اُسے منا لوں گا۔۔۔۔”
زوہان آج بہت اچھے موڈ میں تھا۔۔۔ اِس لیے اُس کی کسی بات کا بُرا منائے بغیر اُسے مزید تپا گیا تھا۔۔۔۔
زنیشہ نے پلٹ کر زوہان کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ زوہان پہلے سے ہی اُس کیطرف دیکھ رہا تھا۔۔۔ نظروں کا گہرا تصادم ہوا تھا۔۔۔۔ سامنے کھڑے کیمرہ مین نے جھٹ سے یہ دلفریب منظر اپنے کیمرے میں قید کرلیا تھا۔۔۔۔
زوہان کی آنکھوں میں کچھ ایسا تھا کہ زنیشہ نے گھبرا کر چہرا واپس جھکا لیا تھا۔۔۔ اُس کا دل زور سے دھڑک اُٹھا تھا۔۔۔۔ زوہان کی گرفت اُس کے ہاتھ پر مزید مضبوط ہوئی تھی۔۔۔۔
زوہان دوسرا بازو صوفے کی بیک پر پھیلاتے زنیشہ کے ساتھ مزید جڑ کر بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔ زنیشہ کو اپنا پہلو جلتا ہوا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔ سب کے سامنے اِس شخص نے اپنی ڈھکی چھپی بے باک حرکتوں سے اُس کی جان آدھی کردی تھی۔۔۔ نجانے تنہائی میں اُس کا کیا بننے والا تھا۔۔۔۔
نفیسہ بیگم کو سٹیج پر آتا دیکھ زنیشہ کی جان میں کچھ جان آئی تھی۔۔۔
“ماشاءاللہ میری بیٹی کتنی پیاری لگ رہی ہے۔۔۔۔ اللہ نظرِ بد سے بچائے۔۔۔۔۔”
زنیشہ کے قریب آتے نفیسہ بیگم محبت پاش لہجے میں اُس سے مخاطب ہوئی تھیں۔۔۔
“میرے بیٹے سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ بہت محبت کرتا ہے تم سے۔۔۔۔ ہمیشہ تمہارا خیال رکھے گا۔۔۔۔ مجھے پورا یقین ہے اِس بات کا۔۔۔۔”
زنیشہ کا ماتھا چومتے نفیسہ بیگم اُسے زوہان سے ڈرا سہما دیکھ تسلی دیتے بولی تھیں۔۔۔
“خالہ جانی میرے کرنے والے کام آپ کررہی ہیں۔۔۔ دیٹس ناٹ فیئر۔۔۔۔”
زوہان کی شکل سے دیکھ کر لگ رہا تھا اُسے نفیسہ بیگم کا زنیشہ کو یہ سب کہنا پسند نہیں آیا تھا۔۔۔۔ جبکہ زنیشہ تو اِس شخص کی بے شرمی دیکھ شرم سے پانی پانی ہو کر رہ گئی تھی۔۔۔۔
“زوہان۔۔۔۔۔”
نفیسہ بیگم نے اُسے مصنوعی گھوری سے نوازتے تنبیہہ کی تھی۔۔۔۔ آج بہت دنوں بعد زوہان اُنہیں اتنا خوش اتنے اچھے موڈ میں نظر آرہا تھا۔۔۔
زنیشہ کی پہلے سے طبیعت بہت خراب تھی۔۔۔ اب اُس کا بخار مزید بڑھ گیا تھا۔۔۔۔ بہت مشکل سے وہ اِس وقت سٹیج پر بیٹھی تھی۔۔۔۔
“تم ٹھیک ہو۔۔۔۔۔”
زوہان اپنے ہاتھ میں موجود اُس کے ہاتھ کی بڑھتی تپیش محسوس کرتے فکرمندی سے بولا تھا۔۔۔
“جی۔۔۔۔”
زنیشہ نے مختصراً جواب دیا تھا۔۔۔۔ وہ اُس سے شدید ناراض تھی۔۔۔ اور اُس سے کوئی فیور نہیں چاہتی تھی۔۔۔۔
“تم ٹھیک نہیں ہو۔۔۔۔ تمہیں روم میں ریسٹ کرنا چاہیئے۔۔۔۔ باقی کی ملاقات میں تم سے وہیں کرتا ہوں۔۔۔۔”
زوہان کی بات پر زنیشہ جی جان سے لرز اُٹھی تھی۔۔۔
“میں ٹھیک ہوں۔۔۔ آپ کو جو بات کرنی ہے۔۔۔ آپ یہاں پر کرسکتے ہیں۔۔۔۔۔”
زنیشہ لرزتے دل سے گویا ہوئی تھی۔۔۔۔ زوہان کے ساتھ اکیلے ملنے کے خیال سے اُس کہ جان حلق میں اٹک چکی تھی۔۔۔۔
@@@@@@@@@
آژمیر زنیشہ سے مل کر شہر کے لیے نکل گیا تھا۔۔۔ اُسے کوئی امپورٹنٹ کا تھا۔۔۔ اُس نے گھر میں یہی بتایا تھا سب کو۔
مگر شمسہ بیگم اُس کے یوں ہر طرف سے فرار ہوجانے کی وجہ سمجھ رہی تھیں۔۔۔ آژمیر کس قدر مشکل سے اپنے چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ لائے ہوئے تھا یہ اذیت اُس سے بہتر کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا۔۔۔۔
@@@@@@@@@
اُس کے ہر اُٹھتے قدم کے ساتھ پائل کی چھن چھن کی آواز سنسان پڑے کوریڈور میں ایک ارتعاش سا پیدا کررہی تھی۔ اُسے آج پھر پور پور سجایا گیا تھا کسی نامحرم کے لیے۔ کرامت کے مطابق اِسی شخص نے اُس کی سب سے بڑی بولی لگائی تھی۔ اتنی بڑی قیمت شاید ہی آج تک کبھی کسی طوائف کی لگائی گئی ہو۔ پورے کوٹھے پر اُس کی واہ واہ کی جارہی تھی۔
وہ تو پہلے ہی اُسے اپنے کوٹھے کی ملکہ بلاتی تھیں۔ اُس کا دوآتشہ حُسن تھا ہی ایسا، مومی مجسمے پر ایک نظر ڈالنے کے بعد اگلا شخص اُس کے قدموں میں ڈھیر ہوئے بنا نہیں رہ پاتا تھا۔
آج تو اُس کا قیامت خیز رُوپ مزید اپنے حُسن کا قہر ڈھانے کو تیار تھا۔ وہ سادگی میں رہنا پسند کرتی تھی۔۔۔ لیکن جب تیار ہوتی تھی تو ایسے ہی بجلیاں گراتی تھی۔۔۔
مگر اِس وقت اُس نے اپنے حُسن کی تباہ کاریوں کو ایک سیاہ چادر میں چھپا رکھا تھا۔ جسے اُس نے اپنے آج رات کے خریدار کے آگے ہی آشکار کرنا تھا۔ اُس کے دماغ میں یہاں سے فرار کی پلاننگ بہت تیزی سے چل رہی تھی۔۔۔ مگر بظاہر اُس نے خود کو کمپوز کر رکھا تھا۔۔۔۔
اُس نے سرد و سپاٹ تاثرات کے ساتھ نیم تاریک خواب گاہ میں قدم رکھا تھا۔ یہ اِس محل نما گھر کے مالک کا کمرہ تھا شاید، وہ تاریکی میں بھی اِس بات کا اندازہ لگا سکتی تھی۔ پورے بیڈ روم میں جگہ جگہ رنگ برنگے دیے روشن تھے۔ جو اُس کمرے کی خوابناکی اور رومانوی ماحول میں مزید اضافہ کررہے تھے۔
اُس نے کمرے کے چاروں اطراف نظریں گھمائی تھیں۔ جب اُس کی نظر سامنے کرسی پر بیٹھے شخص پر پڑی تھی۔ اُس کے ہاتھ میں شراب کا گلاس تھا، مگر رُخ مخالف سمت ہونے کی وجہ سے وہ اُس کا چہرا نہیں دیکھ پائی تھی۔ نہ ہی اُس کے اندر ایسی کوئی خواہش تھی۔
“خوش آمدید حاعفہ، آخر تم میری دسترس میں آہی گئی۔ پہلے بتاتی تمہاری یہ اوقات ہے،تو بہت پہلے تمہیں پیسوں سے خرید لیتا، یہ کام تو کبھی میرے لیے مشکل نہیں تھا۔”
وہ شخص بنا رُخ اُس کی جانب موڑے بولی جارہا تھا۔ جبکہ حاعفہ اِس جانے پہچانے لب و لہجے پر اپنی جگہ گنگ کھڑی تھی۔ جس شخص کے لیے وہ اتنا تڑپ رہی تھی۔۔۔ مگر اُس کے سامنے جانے کی ہمت بھی نہیں کر پارہی تھی۔۔۔۔ اُس کے یہاں ہونے کا تصور حاعفہ کے وجود سے جان نکال گیا تھا۔ اُس کے دل نے شدت سے خواہش کی تھی۔ کاش یہ اُس کا وہم ہو، نہیں وہ شخص بھلا یہاں کیسے ہوسکتا تھا۔
”کک۔۔۔۔کون۔۔۔“
یہ لفظ ادا کرتے اُس کی زبان ہکلا گئی تھی۔
مگر جیسے ہی اُس شخص نے اپنی جگہ سے اُٹھ کر رُخ اُس کی جانب موڑا، حاعفہ کی نگاہوں میں پورا کمرا گھوم گیا تھا۔ اُس کے لیے اپنے قدموں پر کھڑا ہونا مشکل ہوگیا تھا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔