Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 47

حاعفہ لرزیدہ ہاتھوں سے آدھ کھلا دروازہ دھکیلتی اندر داخل ہوئی تھی۔۔۔ اُس نے ایک متلاشی نگاہ پورے کمرے پر دوڑائی تھی۔۔۔ مگر آژمیر کہیں نہیں تھا۔۔۔۔
حاعفہ کہ ہمت بندھی تھی۔۔۔ وہ جلدی سے چائے وہاں رکھ کر آژمیر کے آنے سے پہلے کے ارادے سے آگے بڑھی تھی۔۔۔
اتنے دنوں سے یہاں ہونے کے باوجود آج پہلی بار حاعفہ آژمیر کے کمرے میں آئی تھی۔۔۔ اُسے باقی سب سے ہی پتا چلا تھا کہ آژمیر کو بالکل بھی پسند نہیں تھا کہ کوئی بلاوجہ اُس کے کمرے میں داخل ہو۔۔۔۔
اُس کے جہازی سائز بیڈ کی جانب بڑھتی حاعفہ اُس کے کمرے عالی شان کمرے سے بہت متاثر ہوئی تھی۔۔۔ یہ شاید اِس محل نما گھر کا ماسٹر بیڈ روم تھا۔۔۔ جو میران پیلس کے سب سے لاڈلے سپوت اور کافی حد تک خاندان کے مانے جانے والے سربراہ کے پاس ہونا ہی ڈیزرو کرتا تھا۔۔۔۔۔۔
حاعفہ بیڈ سائیڈ پر ٹرے رکھتی پلٹی ہی تھی جب دائیں جانب کھلتے واش روم کی دروازے کی آواز پر حاعفہ کی سانسیں تھم سی گئی تھیں۔۔۔
اُس نے ہاتھوں کی اُنگلیوں کو آپس میں مڑورتے لرزتی گھنیری پلکیں اُٹھا کر آژمیر کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
مگر اگلے ہی لمحے وہ حیا اور خفت سے چہرا جھکا گئی تھی۔۔۔۔ کیونکہ آژمیر بلیک ٹراؤزر میں ملبوس شرٹ لیس کھڑا تھا۔۔۔۔
اُس کا کسرتی سینہ اور کندھے اُس کی مضبوط باڈی میں نمایاں تھے۔۔۔۔ حاعفہ کے پسینے چھوٹ چکے تھے۔۔۔ وہ واقعی اِس شخص کے سامنے چیونٹی کی حیثیت رکھتی تھی۔۔۔۔
“وہ چائے۔۔۔۔”
حاعفہ چائے کی جانب اشارہ کرتی جھکے چہرے پر گر آئی بالوں کی لٹوں کو کان کے پیچھے اڑستے بولتی جانے کے لیے پرتولنے لگی تھی۔۔۔۔
آژمیر کی طرف سے اُس کی بات کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا تھا مگر حاعفہ بنا دیکھے ہی اُس کی اپنی جانب ہوتی پیشِ قدمی محسوس کرسکتی تھی۔۔۔
حاعفہ پر ایک بار پھر لرزا طاری ہوچکا تھا۔۔۔ اُسے کمرے سے آکسیجن ختم ہوتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔ اُس نے اپنے لہنگے کو دونوں ہاتھوں کی مُٹھیوں میں جکڑ لیا تھا۔۔۔
اُس کی یہ ساری گھبراہٹ اور ہڑبڑاہٹ آژمیر سے بالکل بھی پوشیدہ نہیں رہ سکی تھی۔۔۔
وہ حاعفہ کے بے حد قریب آن کھڑا ہوا تھا۔۔۔ مگر حاعفہ چہرا موڑ کر اُس کی جانب دیکھنے کی بھی جرأت نہیں رکھتی تھی۔۔۔۔
آژمیر نے زرا سا آگے کو جھکتے پھونک مار کر اُس کے چہرے اور ہونٹوں کو بار بار چھوتی لٹوں کو باہر کا راستہ دیکھایا تھا۔۔۔ نجانے کیوں اُسے بار بار حاعفہ کے بالوں کا ہونٹوں سے آکر ٹچ ہونا ناگوار گزر رہا تھا۔۔۔
جس کا بنا اظہار کیے وہ اپنا جتاتے حاعفہ کے چہرے سے ہٹاتے کانوں کے پیچھے کر گیا تھا۔۔۔۔ اُوپر سے حاعفہ کے لال ہونٹ آژمیر کے خوف سے لرزتے کانپتے اُسی کے لیے اِس وقت ایک بہت بڑا امتحان بن گئے تھے۔۔۔۔
“سر میں جاؤں۔۔۔۔۔”
حاعفہ نے بامشکل یہ الفاظ ادا کر ہی لیے تھے۔۔۔
“ڈور کلوز کرکے آؤ۔۔۔۔”
آژمیر اُس کی خود سے فرار ہونے کی کوشش نوٹ کرتا اپنا نیا حکم صادر کر گیا تھا۔۔۔۔ جس پر حاعفہ نے خوفزدہ نظروں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
مگر وہ اُس کے بے انتہا قریب کھڑی تھی۔۔۔ اِس لیے فوراً نظریں جھکا گئی تھی۔۔۔۔ اُس کا دل دھڑک دھڑک کر آپے سے باہر ہورہا تھا۔۔۔ مگر آژمیر کی حکم عدولی وہ کسی قیمت پر نہیں کرسکتی تھی۔۔۔۔
آنے والے وقت کا سوچ کر غیر ہوتی حالت کے باوجود حاعفہ مرے مرے قدم اُٹھاتی دروازے کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔۔۔
@@@@@@@@@
آژمیر کے کہے کے مطابق دروازے کو کانپتے ہاتھوں سے لاک کرتی وہ پسلیاں توڑ کر باہر آنے کو تیار دل کو سنبھالنے کی کوشش کرتی واپس آژمیر کی جانب پلٹی تھی۔۔۔
اور سر جھکائے اُس سے کافی فاصلے پر آن کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔
آژمیر سینے پر بازو باندھے اُس کے سہانے رُوپ کو گہری نظروں سے گھورتا اُس کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ حاعفہ نے خوفزدہ ہونے کے باوجود زرا سا بھی اپنی جگہ سے پیچھے ہٹنے کی کوشش نہیں کی تھی کیونکہ وہ اب سمجھ چکی تھی کہ آژمیر کو اِس بات سے کتنی چڑ تھی۔۔۔
“آج بھی کوئی نشہ آور دوا لے کر آئی ہو۔۔۔۔۔ یا پھر پہلے ہی میری چائے میں ملا چکی ہو۔۔۔ تاکہ میرے بے ہوش ہوتے ہی تم پھر یہاں سے بھاگ نکلو۔۔۔ “
آژمیر نے اُس کے بے حد قریب آکر کھڑے ہوتے گہرا طنز کیا تھا۔۔۔۔ جس پر حاعفہ نے تڑپ کر سر اُٹھاتے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ جو وحشت ناک نگاہوں سے اپنے گزرے اذیت بھرے لمحے یاد کرتا حاعفہ کو تڑپا گیا تھا۔۔۔
“آژمیر۔۔۔۔۔”
حاعفہ نے بھیگتی آنکھوں سے اُسے دیکھتے نفی میں سر ہلایا تھا۔۔۔
آژمیر اب سیاہ سلیو لیس بنیان پہن چکا تھا۔۔۔ اِس لیے حاعفہ بھی اب کمفرٹیبل تھی۔۔۔
“اب مرجاؤں گی۔۔۔۔ مگر ایسا کبھی نہیں کروں گی۔۔۔۔”
حاعفہ آژمیر کا بھروسہ واپس جیتنے کے لیے خود کو پوری طرح تیار کرکے آئی تھی۔۔۔۔
اُس کے باقی الفاظ منہ میں ہی رہ گئے تھے۔۔۔ جب آژمیر نے اُس کی نازک کمر کو اپنی سخت گرفت میں دبوچتے اپنے بے پناہ نزدیک کرلیا تھا۔۔۔۔
“مسز حاعفہ آژمیر۔۔۔۔ میری ایک بات غور سے سن لو اور اپنے دل و دماغ میں اچھی طرح بیٹھا بھی لو۔۔۔ مجھے بات دوہرانے کی عادت نہیں ہے۔۔۔۔ کیونکہ پھر میں بات دوہراتا نہیں سزا دیتا ہوں۔۔۔۔”
اتنی ٹھںڈ میں بھی حاعفہ کے ماتھے پر گھبراہٹ کے مارے پسینے کی ننھی بوندیں نمودار ہوئی تھیں۔۔ جنہیں اپنی مضبوط ہتھیلی میں جذب کرتے وہ حاعفہ کو سانس روکنے پر مجبور کر گیا تھا۔۔
حاعفہ دل و جان سے اُس کی اگلی بولی جانے والی بات کی جانب متوجہ ہوئی تھی۔۔۔۔
“تم صرف اور صرف میری ہو۔۔۔۔۔”
آژمیر یہ الفاظ ادا کرنے کے ساتھ حاعفہ کو مزید اپنے قریب کر گیا تھا۔۔۔۔ حاعفہ بالکل اُس کے سینے سے لگی آنکھیں پھاڑے بے یقینی اور خوشی کے ملے جلے تاثرات لیے کھڑی تھی۔۔۔۔
“تم پر تم سے بھی پہلے میرا حق ہے۔۔۔۔ اور میرے علاوہ کسی کا بھی نہیں۔۔۔۔”
آژمیر بول رہا تھا جبکہ حاعفہ اپنے آپ کو آسمانوں میں اُڑتا محسوس کررہی تھی۔۔۔۔ وہ اُس کے کندھے پر دونوں ہتھیلیاں جمائے اُسے بے خود سی سنے جارہی تھی۔۔۔
“اور نہ اِن آنکھوں میں میرے علاوہ کسی کے لیے آنسو بہیں گے۔۔۔۔ اِن ہونٹوں کی مسکان کی وجہ صرف میں ہونا چاہئے ہوں۔۔۔۔ اور اِن کے خوف سے لرزنے اور کانپنے کا ریزن میری قربت کے علاوہ اور کچھ نہیں ہونا چاہئے۔۔۔۔۔ “
آژمیر کا ہاتھ اُس کی آنکھوں سے ہوتا ہونٹوں پر آن رُکا تھا۔۔۔۔ جن پر سجی ریڈ لپسٹک پہلی نظر سے ہی اُس کی نگاہوں کے حصار میں تھی۔۔۔۔ اور اُس کے ضبط کو آزماتی اُسے کب سے بےقرار کیے دے رہی تھی۔۔۔۔
آژمیر کتنی مشکل سے خود پر کنٹرول کیے ہوئے تھا یہ صرف وہی جانتا تھا۔۔۔۔
حاعفہ بے قابو ہوتی سانسوں کے ساتھ کھڑی صرف اُسے تکے جارہی تھی۔۔۔۔
“آژمیر آپ۔۔۔۔۔”
حاعفہ نے اُسے کچھ کہنا چاہا تھا۔۔۔ مگر آژمیر کو اپنی بات کے دوران اُس کا یوں ٹوکنا بالکل بھی پسند نہیں آیا تھا۔۔۔۔
جس کی سزا کے طور پر آژمیر حاعفہ پر جھکتا اُس کی سانسوں کو اپنی سانسوں میں اُلجھا گیا تھا۔۔۔۔ وہ اِن لال رس بھرے ہونٹوں کا وار مزید نہیں سہہ پایا تھا۔۔۔
حاعفہ اِس حملے کے لیے بالکل بھی تیار نہیں تھی وہ لڑکھڑائی تھی۔۔۔ مگر آژمیر اُس کی نازک کمر میں دونوں بازو حمائل کرتا اُسے اپنی بانہوں میں پوری طرح بھر گیا تھا۔۔۔
اُس کے لمس میں چھپی ناراضگی ، غصہ، جھنجھلاہٹ ، اضطراب، بے چینی اور بے قراری کے ساتھ ساتھ کتنی کیئر اور والہانہ چاہت چھپی تھی حاعفہ باآسانی محسوس کر پائی تھی۔۔۔۔ اُس کے لمس میں کبھی نفرت کا احساس نمایاں نہیں ہوتا تھا۔۔۔۔ وہ شدید غصے اور طیش کے عالم میں بھی اُسے انتہائی نرمی سے چھوتا تھا کہ حاعفہ کو اپنے ہونے پر ناز ہو اُٹھتا۔۔۔۔
مگر وہیں آژمیر کے لمس کی شدت برداشت کرنا بھی اس کے لیے آسان نہیں تھا۔۔۔
اِس وقت بھی لمحہ با لمحہ مدھم ہوتی سانسوں کے ساتھ اُس کی شدتیں برداشت کرتے حاعفہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلا تھا۔۔۔۔ جس کے بعد ہی آژمیر کو بھی اُس پر رحم آگیا تھا۔۔۔۔
آژمیر حاعفہ کو آزاد کرتا پیچھے ہٹا تھا۔۔۔ جبکہ حاعفہ گہرے گہرے سانس لے کر خود کو نارمل کرنے کی کوشش کرتی آژمیر کے سینے میں چہرا گئی تھی۔۔۔۔۔
نجانے کتنے ہی لمحے گزر گئے تھے مگر حاعفہ اُس کے سینے سے لگی کھڑی ساری دنیا کا سکون اپنی اِس مضبوط پناہ گاہ میں محسوس کررہی تھی۔۔۔ جس کے علاوہ اُسے زندگی میں کسی شے کی طلب نہیں تھی۔۔۔
آژمیر میران اُس کی پوری دنیا تھا۔۔۔۔
نجانے کس احساس کے زیرِ اثر آژمیر چاہ کر بھی اُسے خود سے دور نہیں کر پایا تھا۔۔۔۔
اُس کا دل ابھی کچھ دیر پہلے اُس پر پوری طرح واضح کر گیا تھا کہ وہ نہ اِس لڑکی کو اپنے دل سے نکال پایا تھا اور نہ اُس کی محبت کو۔۔۔۔
مگر جو غلطی حاعفہ نے کی تھی۔۔۔۔ اُس کے بعد دوبارہ حاعفہ پر اعتبار کرنا اور اتنی جلدی اُسے معاف کرنے کو آژمیر کسی صورت تیار نہیں تھا۔۔۔۔
اچانک دروازے پر دستک ہوئی تھی۔۔۔ جس پر حاعفہ ہوش کی دنیا میں لوٹتی آژمیر سے دور ہوئی تھی۔۔۔ اپنی بے خودی پر حاعفہ کا چہرا شرم و حیا سے لال ہوا تھا۔۔۔
اور ساتھ ہی دروازے پر کسی کے ہونے کا خیال اُسے الگ گھبراہٹ میں مبتلا کر گیا تھا۔۔۔ کیونکہ ماورا کے علاوہ اِس گھر میں کوئی بھی اُن کے رشتے کی حقیقت سے آگاہ نہیں تھا۔۔۔۔
مگر وہیں آژمیر کے تاثرات ہنوز تھے۔۔۔ جیسے حاعفہ کا اُس کے کمرے میں پایا جانا کوئی بڑی بات نہ ہو۔۔۔
آژمیر کو دروازے کی جانب بڑھتا دیکھ حاعفہ چاہنے کے باوجود اُسے روک نہیں پائی تھی۔۔۔
آژمیر کے دروازہ کھولتے ہی دوسری جانب سے سویرا کی چہکتی آواز اندر کھڑی حاعفہ کو شدید جلن میں مبتلا کر گئی تھی۔۔۔ سویرا اِس وقت اُس کے شوہر کے کمرے میں کیا کرنے آئی تھی۔۔۔
سویرا جو ہر طرف حاعفہ کی غیر موجودگی نوٹ کرتی یہاں تک آئی تھی۔۔۔ آژمیر کو دروازے میں استہزادہ دیکھ وہ اُس کے چوڑے وجود سے پیچھے کچھ دیکھ ہی نہیں پائی تھی۔۔۔۔
“وہ خالہ جانی نے بتایا ہے کہ آپ کے سر میں درد ہورہا تھا تو میں آپ کے لیے چائے اور پین کلر لائی تھی۔۔۔ یہ سٹرانگ سی چائے پینے سے آپ کی ساری تھکاوٹ اُتر جائے گی۔۔۔۔ “
سویرا کی بات پر حاعفہ نے خفگی سے آژمیر کی پشت کو گھورا تھا۔۔۔۔ کیونکہ سویرا کا انداز بتا رہا تھا کہ وہ اُس سے کافی بے تکلف تھی۔۔۔
اتنی بے تکلفی دیکھانے کی ہمت تو حاعفہ اُس کی بیوی ہونے کے بعد بھی نہیں کر پائی تھی۔۔۔۔
“میرے پاس چائے بھی ہے۔۔۔ سر درد اور تھکاوٹ ختم کرنے کی دوا بھی موجود ہے۔۔۔۔ تمہیں فکرمند ہونے کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔”
آژمیر کا اشارہ حاعفہ کی جانب تھا جسے سمجھتے حاعفہ کے ہونٹوں پر شرمگیں مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔۔۔ یہ شخص شدید ناراضگی کے باوجود بھی کسی دوسری عورت کی جانب متوجہ نہیں ہوا تھا۔۔۔ اور حاعفہ کے اتنے بڑے دھوکے کے باوجود اُس کے ساتھ زرا سا بھی سخت رویہ اختیار نہیں کیا تھا۔۔ وہ اِس شخص کے ساتھ پر نازاں نہ ہوتی تو کیا کرتی۔۔۔۔۔
@@@@@@@@
آژمیر سویرا کی مزید کوئی بات سنے بغیر دروازہ بند کرتا واپس پلٹ آیا تھا۔۔۔ جبکہ اُسے اپنی جانب بڑھتا دیکھ حاعفہ کی جان پھر سے آدھی ہوئی تھی۔۔۔۔
ایک طرف وہ آژمیر کی نگاہوں سے اوجھل بھی نہیں رہنا چاہتی تھی۔۔۔۔ وہیں دوسری جانب آژمیر کی سلگتی قربت برداشت کرنا بھی اُس کے بس سے باہر تھا۔۔۔۔
“میں جاؤں۔۔۔۔”
حاعفہ آژمیر کی تپیش زدہ نگاہوں سے گھبرا کر کچھ کی جگہ کچھ بول گئی تھی۔۔۔۔ وہ کہنا کچھ اور چاہتی تھی اور اُس کی زبان سے گھبراہٹ میں کچھ اور ہی نکل گیا تھا۔۔۔
اُسے زرا بھی اندازہ نہیں تھا کہ اُس کے منہ سے نکلنے والے یہ چند الفاظ آژمیر کا اچھا خاصہ بدلتا موڈ خراب کردیں گے۔۔۔۔
“تم ہر وقت مجھ سے فرار کے ہی موقع کیوں ڈھونڈتی رہتی ہو۔۔۔۔ کیا میرا ساتھ اِس قدر ناگوار ہے تمہارے لیے۔۔۔۔۔.”
آژمیر کا موڈ ایکدم بدل گیا تھا۔۔۔ حاعفہ کا اِس وقت خود کو ڈھیروں گالیاں دینے کا دل چاہا تھا۔۔۔ وہ آژمیر کے سائے سے ہٹنا بھی نہیں چاہتی تھی۔۔۔ لیکن آژمیر کے تاثرات دیکھ اُسے لگا تھا وہ ابھی اُسے پکڑ کر کمرے سے نکال باہر کرے گا۔۔۔۔
لیکن اگلے ہی لمحے آژمیر کی کی جانے والی حرکت اُسے حیران کر دی تھی۔۔۔ آژمیر نے ہاتھ بڑھا کر بیڈ پر ترتیب سجی چادر کھینچ لی تھی۔۔۔ جس کے نتیجے میں بیڈ پر رکھا کمبل اور تکیوں کا ڈھیر کارپٹ پر بکھر گئے تھے۔۔۔۔
حاعفہ حیرت زدہ سی منہ کھولے کھڑی تھی۔۔۔ اُسے اِس لمحے آژمیر سے خوف محسوس ہوا تھا۔۔۔۔
اُسی پل آژمیر نے بھی حاعفہ کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
وہ اُسے آنکھیں پھاڑے خوفزدہ نگاہوں سے اپنی جانب دیکھتی بہت کیوٹ لگی تھی۔۔۔۔
آژمیر نے ہاتھ بڑھا کر اُس کا نیٹ کا دوپٹہ گرفت میں لیتے اپنی جانب کھینچ لیا تھا۔۔۔۔
“میں نے کہا تھا نا مجھ سے دور جانے کی بات غلطی سے بھی اپنی زبان پر مت لانا۔۔۔۔ “
حاعفہ کے کانوں میں پہنی پھولوں کی بالیوں کی خوشبو اپنی سانسوں میں جذب کرتا وہ اُس پر جھکا ہوا تھا۔۔۔
حاعفہ نے ناسمجھی سے چہرا موڑتے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ جس پر بے دھیانی میں حاعفہ کے گداذ ہونٹ آژمیر کے گال سے ٹکرا گئے تھے۔۔۔
حاعفہ کے پورے وجود میں سنسنی سی دوڑ گئی تھی۔۔۔۔
“یہ بیڈ شیٹ اور اِس پر موجود باقی تمام چیزیں مجھے پہلے والی ترتیب میں چاہیئے۔۔۔۔ جلدی سے لگ جاؤ اپنے کام پر۔۔۔۔”
آژمیر اُسے سزا سناتا مزے سے صوفے پر جا بیٹھا تھا۔۔۔ جبکہ حاعفہ اُس کی اِس انوکھی سزا پر منہ کھولے حیرت ک مجسمہ بنی کھڑی تھی۔۔۔
آژمیر صوفے پر نیم دراز ٹانگیں سامنے پڑے ٹیبل پر رکھے اُسے کام کرتے دیکھ رہا تھا۔۔۔ جس کی چوڑیوں کی چھن چھن پورے کمرے میں پھیلی آژمیر کے دل کے تار چھیڑ بُری طرح چھیڑنے کی گستاخی کرگئی تھی۔۔۔
حاعفہ اپنے بھاری لہنگے، نازک کمر پر آبشار کی طرح بکھرے لمبے بالوں اور بار بار پھسلتے دوپٹے سے اُلجھتی آژمیر کی نگاہیں خود سے ہٹنے نہیں دے رہی تھی۔۔۔
آژمیر نے اپنے بے قابو ہوتے جذبات پر بندھ باندھنے کے لیے سائیڈ ٹیبل سے سیگریٹ اُٹھا کر سلگھا لیا تھا۔۔۔
اِس چلتی پھرتی قیامت کی تباہ کاریاں برداشت کرنا آسان کام بالکل بھی نہیں تھا۔۔۔۔
اُس نے جو الفاظ سویرا کے سامنے ادا کیے تھے۔۔۔ وہ بالکل سچ ثابت ہی ہورہے تھے۔۔۔ تھکاوٹ تو کیا سر کا درد بھی بھاگ گیا تھا۔۔۔ اب بس رگوں پے میں اِس لڑکی کا احساس نشہ بن کر دوڑنے لگا تھا۔۔۔۔
حاعفہ اُس کی گہری سلگتی نگاہوں کی تاب نہ لاتی لرزتے ہاتھوں سے تکیہ بیڈ پر پر رکھتی آخر کار اپنا کام پورا کرنے میں کامیاب ہوچکی تھی۔۔۔۔
مگر آژمیر کا ابھی کوئی موڈ نہیں تھا اُسے اپنی آنکھوں کے سامنے سے اوجھل کرنے کا۔۔۔۔ وہ اپنی جگہ سے اُٹھتا حاعفہ کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔
“ویلڈن۔۔۔۔ مگر ابھی تمہاری سزا پوری نہیں ہوئی۔۔۔۔”
حاعفہ کی نازک ہتھیلی میں اپنی اُنگلیاں پھنساتے وہ اُسے کھینچ کر اپنے قریب کرگیا تھا۔۔۔۔۔
یہ لڑکی اُس کے حواسوں پر پوری طرح حاوی ہوچکی تھی۔۔۔۔ اُس کے وجود سے اُٹھتی پھولوں اور مہندی کی ملی جلی خوشبو اپنی سانسوں میں اُتارتے آژمیر اُس کی نازک گردن پر اپنا گہرا لمس چھوڑ گیا تھا۔۔۔۔
حاعفہ آژمیر کا بازو جکڑتے اُس کے شدت بھرے لمس پر لرز اُٹھی تھی۔۔۔۔
“آپ کی دی جانے والی ہر سزا میرے لیے سر آنکھوں پر رہے گی۔۔۔۔ “
حاعفہ نے نم آلود آنکھوں سے آژمیر کی جانب دیکھتے جواب دیا تھا۔۔۔۔ وہ اپنی محبت کے ہر قدم پر کھڑی اُترنا چاہتی تھی۔۔۔۔ آژمیر کو جتنی تکلیف اُس نے پہنچائی تھی اُس کے آگے یہ سزا تو کوئی معنی نہیں رکھتی تھی۔۔۔۔
آژمیر اُس کے لفظوں پر ایک دم ہوش میں آتا اُسے اپنی گرفت سے آزاد کرتا الماری کی جانب بڑھا تھا اور سامنے کے ریک میں تہہ شدہ تمام کپڑے ہاتھ مار کر سامنے پڑے ٹیبل پر اُچھال دیئے تھے۔۔۔۔
“سمیٹو اِنہیں۔۔۔۔”
حاعفہ کے منہ سے نکلا ہر لفظ اُس پر بھاری پڑ رہا تھا مگر وہ پھر بھی دل و جان سے اِس شخص کو منا لینے کا جذبہ لیے اُس کے اِس عمل پر بھی دل ہی دل میں مسکرا دی تھی۔۔۔۔
اُسے آژمیر میران پر اِس وقت ٹوٹ کر پیار آیا تھا۔۔۔
اگر وہ اُسے اپنے کمرے میں اپنے پاس دیکھنا چاہتا تھا تو سیدھی طرح کہہ دیتا یہ سب کروانے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔ مگر نہیں انا اور اکڑ تو اِس مغرور انسان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔۔۔۔
وہ اُسے روم سے نہ جانے دینے کی خاطر یہ عجیب و غریب سزائیں دے رہا تھا۔۔۔
حاعفہ محبت اور عقیدت بھرے انداز میں آژمیر کا ایک ایک سوٹ تہہ کرکے رکھ رہی تھی۔۔۔۔ بنا دیکھے بھی وہ خود پر آژمیر کی نگاہوں کو تسلسل محسوس کرپارہی تھی۔۔۔
جس کے بعد اتنے دنوں سے اُس کے دل پر چھائی پژمردگی اور بوجھل پن کہیں دور جا سوئے تھے۔۔۔ آژمیر میران نہ ہی اُس سے نفرت کرتا تھا اور نہ کبھی اُسے خود سے دور کرنے والا تھا۔۔۔۔ اس بات کا اُس کے دل کو پوری طرح یقین ہوچکا تھا۔۔۔
حاعفہ کا دل اِس وقت خوشی سے جھوم رہا تھا۔۔۔
جب آگے کو جھک کر کپڑے رکھتے اچانک اُس کا سر چکرایا تھا۔۔۔ کوشش کے باوجود وہ خود کو سنبھال نہیں پائی تھی۔۔۔ اِس سے پہلے کہ وہ زمین بوس ہوتی آژمیر نے ایک سیکنڈ کی بھی دیر کیے بنا اُس کے قریب آتے اُسے اپنی بانہوں کے مضبوط حصار میں قید کرلیا تھا۔۔۔۔
“حاعفہ کیا ہوا تم ٹھیک ہو؟؟؟”
کچھ دیر پہلے کا غصہ بھی اِس وقت اُس کے لہجے سے مفقود تھا۔۔۔۔ وہ بے جد پریشانی کے عالم میں حاعفہ کے گال تھپتھپاتے بولا تھا۔۔۔۔
“میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔”
حاعفہ نے اُس کے سینے پر سر رکھے نیم واں آنکھوں سے مسکراتے جواب دیا تھا۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔