Ragey Jaan Se Qareeb Tar By Farwa Khalid Readelle50122

Ragey Jaan Se Qareeb Tar By Farwa Khalid Readelle50122 Last updated: 26 July 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

 Ragey Jaan Se Qareeb Tar

By Farwa Khalid

اُس کے بچپن کے دوست تھے۔۔۔۔ ہمیشہ ہر جگہ اکٹھے رہے تھے۔۔۔ میڈیکل کی فیلڈ بھی تینوں نے ایک ساتاھ جوائن کی تھی۔۔۔۔ وہ سب منہاج کی ماورا کے لیے پسندیدگی سے واقف تھے۔۔۔۔ مگر منہاج کے اچانک اُس سے دور ہوجانا۔۔۔ پھر ماورا کا یونی سے غائب رہنا اور اُس کے واپس آنے پر منہاج کا اُس کی جانب نگاہ اُٹھا کر دیکھنا بھی نہیں یونی کے باقی سٹوڈنٹس سمیت اُن سب کے لیے بھی حیران کن تھا۔۔۔ مگر منہاج کا اِن دنوں موڈ اتنا خراب رہتا تھا کہ اُن میں سے کوئی کچھ پوچھ ہی نہیں پایا تھا۔۔۔ "منہاج تم جانتے ہو یونی میں آج کل کیا چل رہا ہے؟" اب کی بار ثنا کی زبان میں کھجلی ہوئی تھی۔۔۔۔ "کیا چل رہا ہے ؟…." منہاج لاپرواہ انداز میں ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بولا۔ "سر وقاص اور آصف ہاتھ دھو کر ماورا نور کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔ اور آئی تھنک وہ اُن کا شکار بن بھی رہی ہے۔۔۔۔ اگر اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہو تو دیکھ لو۔۔۔۔ سامنے کھڑے ہیں۔۔۔۔" ثنا کے بجائے طلحہ نے تفصیل سے جواب دیتے اُس کی توجہ ماورا کی جانب دلوائی تھی۔۔۔۔ منہاج نے فوراً گھوم کر اُس جانب دیکھا تھا۔۔۔ جہاں واقعی ماورا سر وقاص اور آصف کے ساتھ ہی کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔ اُن دونوں کی رپوٹیش پوری یونی میں بہت خراب تھی۔۔۔۔ جو لڑکیاں اِن کے قریب نظر آتی تھیں۔۔۔۔ اگلے چند ہفتوں میں وہ لڑکیاں یونی سے لاپتہ ہوجاتی تھیں۔۔۔۔ اُن دونوں کے خلاف بہت سے کیسز چلے تھے۔۔۔ اِنہیں یونی سے نکالا بھی گیا تھا۔۔۔ مگر ہر طرح کی انویسٹی گیشن کے بعد بھی اِن کے خلاف ہوئی ٹھوس ثبوت نہیں مل پایا تھا۔۔۔۔ کچھ وقت کیس چلنے کے بعد اُنہیں باعزت طریقے سے اِس معاملے سے بری کردیا گیا تھا۔۔۔ لیکن لڑکیاں غائب ہونے کا سلسلہ وقفے وقفے سے ابھی بھی جاری تھا۔۔۔۔ اُن کی نظر کافی ٹائم سے ماورا پر تھی۔۔۔ مگر اُس کے منہاج کے ساتھ ہونے کی وجہ سے وہ ایسا کچھ نہیں کر پائے تھے۔۔۔ ماورا جیسی حسین چڑیا کو قابو کرنا اُن کی پہلی ترجیح تھی۔۔ یہ سنہری موقع وہ جانے دینا نہیں چاہتے تھے۔۔۔۔ ماورا کو اُن کے ساتھ کھڑا دیکھ منہاج اندر تک جل اُٹھا تھا۔۔ چاہے وہ ماورا سے جتنی بھی نفرت کا اظہار کرتا مگر اُسے یوں کسی اور کا شکار بنتا نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔ بنا کسی کا لحاظ کیے وہ اپنی جگہ سے اُٹھ کر اُن کی سمت بڑھ گیا تھا۔۔ طلحہ وغیرہ نے روکنے کی پوری کوشش کی تھی مگر وہ اَن سنی کرتا آگے بڑھ گیا تھا۔۔۔ "جی سر میں یہ ورک شاپس ضرور اٹینڈ کروں گی۔۔۔ " ماورا اُن کے ہاتھوں سے کوئی لیٹر تھامتی خوشدلی سے بولی تھی۔۔۔ جب منہاج نے اُن کے سر پر پہنچتے ماورا سے وہ لیٹر چھین کر کئی ٹکڑوں میں بانٹ کر واپس اُس کی جانب اُچھال دیا تھا۔۔۔۔ اُس کا یہ عمل اتنا غیر متوقع اور پھرتی لیے ہوئے تھا کہ ماورا سمیت وہ دونوں بھی اُسے ایسا کرنے سے روک نہیں پائے تھے۔۔۔۔ "یہ کیا بدتمیزی ہے منہاج؟؟ " سر وقاص اُسے وہاں دیکھ آگ بھگولا ہوئے تھے۔۔۔ اُنہیں اپنی دو دن کی محنت رائیگاں ہونے کے ساتھ ساتھ یہ سونے کی چڑیا اپنے ہاتھوں سے نکلتی معلوم ہورہی تھی۔۔۔۔ ماورا بھی منہاج کی آنکھوں سے نکلتے غصے کے شعلے دیکھ اپنی جگہ سہم سی گئی تھی۔۔۔۔ "ابھی تو بہت تمیز سے پیش آیا ہوں۔۔۔ اِس لڑکی سے دور رہو تم دونوں۔۔۔۔ ورنہ تمیز اور لحاظ تو بھولوں گا ہی سہی۔۔۔ بلکہ تم دونوں کبھی اِس جگہ بھٹک بھی نہیں پاؤ گے۔۔۔۔۔ اپنی سلامتی چاہتے ہو تو اِس سے دور رہو۔۔۔۔۔" منہاج اُنہیں برفیلے لہجے میں اچھے سے وارن کرتا ماورا کا ہاتھ تھامے وہاں سے نکل آیا تھا۔۔۔۔ ماورا اُس سے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کرتی ساتھ کھنچی چلی جارہی تھی۔۔۔۔ "منہاج درانی چھوڑو میرا ہاتھ۔۔۔ سب لوگ دیکھ رہے ہیں۔۔۔۔ میں تمہاری کوئی زرخرید غلام نہیں ہوں جو تم میرے ساتھ یہ سب کررہے ہو۔۔۔۔۔" ماورا کا صبر جواب دے گیا تھا۔۔۔۔ وہ اُس کے ہاتھ پر اپنے ناخن گاڑھتی غصے سے چلائی تھی۔۔۔ مگر منہاج کے سر پر جوں تک نہ رینگی تھی۔۔۔ وہ اُسی طرح اُسے اپنے ساتھ لیے پارکنگ تک آیا تھا۔۔۔ "گاڑی میں بیٹھو۔۔۔۔" منہاج نے گاڑی کا دروازہ اَن لاک کرتے اُسے اندر بیٹھنے کا کہا تھا۔۔۔۔ اُس کا یہ دھونس بھرا انداز ماورا کو مزید پتنگے لگا گیا تھا۔۔۔۔ "کیوں میں کیوں بیٹھوں تمہاری گاڑی میں؟" ماورا اُس کا ہاتھ اپنے ناخنوں سے اچھی طرح زخمی کر چکی تھی۔۔۔ اور اب اُس کے مقابل کھڑی اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی تھی۔۔۔۔ "کیونکہ میں تمہیں تمہاری اوقات سے بڑھ کر قیمت ادا کرنے کو تیار ہوں۔۔۔۔ بہت شوق ہے نا تمہیں مردوں کے بیچ رہنے کا تو وہ مرد میں ہی کیوں نہ سہی۔۔۔۔۔ میں تمہارے اُس کرامت خان کو تمہاری منہ مانگی قیمت ادا کرچکا ہوں۔۔۔۔ اب تمہیں میرے ساتھ چلنا ہی ہوگا۔۔۔۔ تم انکار نہیں کرسکتی۔۔۔" منہاج کو ماورا پر بہت غصہ آرہا تھا کہ وہ اُن کے بارے میں سب جانتے ہوئے بھی، اُن گھٹیا لوگوں کے پاس کھڑی ہی کیوں تھی۔۔۔ وہ جانتے بوجھتے خود کو خطرے میں جھونک رہی تھی۔۔۔جس کی سزا تو بنتی ہی تھی۔۔۔۔ منہاج چہرا اُس کے قریب کرتا اُس کی بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں میں جھانکتا اُسے لمحہ بھر کو لڑکھڑانے پر مجبور کرگیا تھا۔۔۔ اُس نے نفی میں سر ہلاتے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ "تم جھوٹ بول رہے ہو۔۔۔۔ کرامت ایسا کچھ نہیں کرسکتا۔۔۔۔" کرامت پیسوں کی خاطر کچھ بھی کرسکتا تھا۔۔۔مگر ماورا یہ جانتی تھی کہ حاعفہ نے اُس کے ہاتھ باندھ رکھے تھے اِس معاملے میں۔۔۔۔ وہ چاہ کر بھی اُس کی قیمت نہیں لگا سکتا تھا۔۔۔۔ "اِس میں اتنی حیرانی کی کیا بات ہے۔۔۔۔ تم نے خود ہی تو کہا تھا۔۔۔۔ کہ جو تمہاری سب سے زیادہ قیمت لگاتا ہے تم اُس کی ہوجاتی ہو۔۔۔۔ تو پھر آج پیسوں نے تمہیں میری جھولی میں پھینکا ہے۔۔۔۔" منہاج نے اُسے دوبارہ گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا۔۔۔ مگر ماورا وہاں سے ہٹنے کی کوشش کرتی صاف انکاری تھی۔۔۔۔ "تم آرام سے نہیں مانو گی۔۔۔۔" منہاج ہونٹ بھینچے کچھ پل اُس کے بیٹھنے کا ویٹ کرتا رہا تھا۔۔۔ مگر اُسے ٹس سے مس نہ ہوتا دیکھ آگے بڑھ کر اُسے بانہوں میں اُٹھا کر گاڑی کے اندر بیٹھا گیا تھا۔۔۔۔ ماورا سکتے کی کیفیت میں اُس کی یہ حرکت دیکھے گئی تھی۔۔۔۔ جو اب خود فرنٹ سیٹ پر آن بیٹھا تھا۔۔۔۔ ماورا نے دروازہ کھولنا چاہا تھا مگر وہ پہلے ہی لاک کرچکا تھا۔۔۔ ماورا کو ایکدم منہاج سے خوف محسوس ہونے لگا تھا۔۔۔۔ جو ہونٹوں پر سیٹی کی کوئی شوخ سی دھن بجاتا نگاہیں سامنے روڈ پر مرکوز کیے ڈرائیونگ میں مصروف تھا۔۔۔۔ ماورا تو اِسی چیز میں اُلجھی ہوئی تھی کہ آخر کرامت اُس کا سودا کیسے کرسکتا تھا۔۔۔۔ لیکن وہیں اُس لالچی شخص سے کسی بھی بات کی اُمید کی جاسکتی تھی۔۔۔۔ یہ خیال آتے ہی ماورا کا پورا وجود لرز اُٹھا تھا۔۔۔۔ اُس کا نازک وجود منہاج درانی کا مقابلہ کرپانے سے قاصر تھا۔۔۔۔