No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
ماورا اپنی سسکیوں کا گلا گھونٹتی جھکے ہوئے چہرے کے ساتھ بیٹھی سامنے پڑے نکاح نامے کو گھور رہی تھی۔۔۔۔ منہاج کی شاید کوئی ملازمہ تھی جو روم میں اُس کے ساتھ موجود تھی۔۔۔۔ ابھی کچھ دیر مولوی صاحب اُس کے پاس نکاح نامہ لے کر آئے تھے۔۔۔۔
ماورا اِس وقت ایسا نہیں چاہتی تھی۔۔۔ مگر اور کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔۔۔۔ اُس نے لرزتے کانپتے ہاتھوں سے پین اُٹھاتے نکاح نامے پر سائن کر دیئے تھے۔۔۔ اُس نے اپنا آپ اُس شخص کے نام کردیا تھا۔۔۔ جسے اُس نے دل و جان سے چاہا تھا۔۔۔۔ سچی محبت کی تھی اُس سے۔۔۔۔ مگر منہاج درانی نے اُس پر اعتبار نہیں کیا تھا۔۔۔ اور اُس کے دل کو مزید تکلیف سے دوچار کردیا تھا۔۔۔ اب نجانے وہ اُسے آگے کیا سزا دینے والا تھا۔۔۔ آنے والے لمحوں کا سوچتے ماورا کا خوف کے مارے بُرا حال تھا۔۔۔
نکاح ہوئے آدھا گھنٹا گزر چکا تھا۔۔۔ ابھی کچھ دیر پہلے ملازمہ بھی جاچکی تھی۔۔۔ مسلسل رونے اور زہنی ٹنشن کی وجہ سے ماورا کے سر میں بہت درد ہورہا تھا۔۔۔۔ اِس لیے وہ صوفے کے ہینڈ پر سر ٹکاتی آنکھیں موندے زرا سا ریلیکس انداز میں بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔
رات کو بھی امپورٹنٹ اسائنمنٹ تیار کرتے وہ بہت دیر سے سوئی تھی۔۔۔ زرا سا کمفرٹیبل ہونے کی وجہ سے وہ کب غنودگی میں چلی گئی اُسے پتا بھی نہیں چلا تھا۔۔۔۔
سب لوگوں کو رخصت کرتے منہاج روم میں داخل ہوا تھا۔۔۔۔ جہاں وہ اُسے صوفے پر سکڑی سمٹی بیٹھی نظر آئی تھی۔۔۔
وہ دبے قدموں سے چلتا اُس کے قریب صوفے پر آن بیٹھا تھا۔۔ ماورا کا آدھا چہرا اُس کے سامنے تھا۔۔۔ جہاں سے وہ اتنا تو اندازہ لگا چکا تھا کہ اُس کی نئی نویلی زوجہ محترمہ گہری نیند میں جاچکی ہیں اِس وقت۔۔۔۔۔۔
منہاج کو سمجھ نہیں آیا تھا کہ ماورا کو اُس کی یہ بات سزا لگی بھی تھی یا کہیں یہ اُس کے لیے سکون کا باعث تھی۔۔۔ جس بے فکری سے وہ سو رہی تھی۔۔۔ لگ تو یہی رہا تھا۔۔۔۔
یہ خیال آتے ہی منہاج نے بنا ایک سیکنڈ کی دیر کیے اُسے کلائی سے تھام کر اپنی جانب کھینچ کر اُسے پوری طرح اپنے حصار میں لیا تھا۔۔۔۔
ماورا جو کہ گہری نیند میں جاچکی تھی۔۔۔۔ اِس شدید جھٹکے پر چہرے پر خوفزدہ تاثرات سجائے آنکھوں میں ناسمجھی بھرے اُس کی جانب دیکھتی وہ لمحہ بھر کو منہاج درانی کو مسمرائز سا کرگئی تھی۔۔پوری طرح سے واں ہرنی جیسی آنکھیں اُسے اپنا آپ بھولنے پر مجبور کر گئی تھیں۔ وہ بالکل منہاج کے سینے سے چپکی ہوئی تھی۔۔۔اپنی ٹھوڑی اُس کے سینے پر ٹکائے وہ آنکھوں میں نیند کے خمار سے سُرخ ڈورے لیے اُسے یک ٹک دیکھے گئی تھی۔۔۔ اُس کا زہن پوری طرح سے بیدار ہوچکا تھا۔۔۔ مگر وہ بنا مزاحمت کیے ایسے ہی بیٹھی رہی تھی۔۔۔
منہاج جو اُس پر اپنا غصہ اپنی نفرت ظاہر کرنا چاہتا تھا اچانک اُس کو نجانے کیا ہوا تھا کہ وہ جھک کر اُس کی رونے کی وجہ سے سُرخ ہوئی دونوں آنکھوں پر باری باری نرمی سے لب رکھ گیا تھا۔۔۔۔ اُسے ایک دم سے محسوس ہوا تھا جیسے اُس کے تڑپتے، بھڑکتے دل کو لمحہ بھر کے لیے سکون مل گیا ہو۔۔۔
جبکہ اُس کی اِس استحقاق بھری جسارت پر ماورا کی دھڑکنیں ساکت ہوئی تھیں۔۔۔ جسم کا سارا خون چہرے پر سمٹ آیا تھا۔۔۔ وہ لرزتی گرتی پلکوں کی باڑ سنبھالتی اُس سے دور ہوئی تھی۔۔۔
اُسے ابھی تھوڑی دیر پہلے کی اِس شخص کی بے رحمی یاد آئی تھی۔۔۔۔ اگر منہاج درانی کو اُس سے محبت ہوتی تو وہ ایسا بالکل بھی نہ کرتا۔۔۔۔ اُسے یوں بلیک میل کرکے نکاح کبھی نہ کرتا۔۔۔۔ مگر وہ اپنی انا کی تسکین کے لیے اُس کی عزتِ نفس کو ٹھیس پہنچا چکا تھا۔۔۔۔ اب وہ حاعفہ کے سامنے کس منہ سے جاتی۔۔۔۔ جس نے اُس کی خوشی اور حفاظت کی خاطر خود کو ذلت کی دلدل میں جھونک رکھا تھا۔۔۔۔ اِس بات کی خبر اگر کرامت کو ہوگئی تو وہ اب کی بار اُسے حاعفہ کے کہنے پر بھی نہیں چھوڑے گا۔۔۔۔۔ یہ سب کچھ سوچتے ماورا جھڑجھڑی لے کر رہ گئی تھی۔۔۔
“تمہاری ضد اور انتقام اگر پورا ہو چکے ہو تو مجھے واپس میرے ہاسٹل چھوڑ آؤ۔۔۔ “
وہ اپنی وحشت ناک سوچوں سے نکلتی اُس کے قریب سے اُٹھتی سرد و سپاٹ تاثرات کے ساتھ بولی تھی۔۔۔ جبکہ اُس کی زرا سی قربت پر دل اِس بُری طرح سے دھڑک رہا تھا جیسے ابھی پسلیاں توڑ کر باہر آجائے گا۔۔۔۔
“ابھی صرف ضد پوری ہوئی ہے۔۔۔ انتقام پورا کرنا تو رہتا ہے ابھی۔۔۔۔ اتنی جلدی بھی کیا ہے مجھ سے دور جانے کی۔۔۔۔ اب تو پوری زندگی اِن بانہوں کا حصار ہی تمہارا ٹھکانا ہے۔۔۔۔ اگر اِن کے علاوہ کہیں بھی جانے کی کوشش کی تو تمہاری جان اپنے اِن ہاتھوں سے لوں گا۔۔۔۔اچھے سے یاد رکھنا میری یہ بات۔۔۔۔”
منہاج اُس کے دور جانے سے پہلے ہی اُس کی کلائی دبوچ کر واپس اپنی جانب کھینچ چکا تھا۔۔۔۔ ماورا اِس جارحانہ عمل کے لیے بالکل بھی تیار نہیں تھی۔۔۔ وہ کسی بے جان گڑیا کی طرح منہاج کی گود میں آن سمائی تھی۔۔۔ اُس کا دوپٹہ اُس کے کندھوں سے نیچے پھسل گیا تھا۔۔۔۔
“منہاج درانی تم مجھ سے مزید زبردستی نہیں کرسکتے۔۔۔ میں تمہیں اِس بات کی اجازت بالکل بھی نہیں دوں گی۔۔۔۔۔”
ماورا اُس کے تیور دیکھ اُس کے سینے پر دونوں ہتھیلیاں ٹکائے اُس سے فاصلہ رکھنے کی کوشش کرنے لگی تھی۔۔۔
“ہاہاہاہاہا مزید کا کیا مطلب ہے۔۔۔۔ ابھی میں نے کچھ کیا ہی کہاں ہے۔۔۔۔ اور تمہیں کیا لگتا ہے منہاج درانی کو تمہاری کسی قسم کی اجازت کی ضرورت پیش آئے گی۔۔۔۔”
منہاج اُس کے لال سرخیاں چھلکاتا چہرا دیکھ ہنستے ہوئے بولا۔۔۔۔ جب کے اُس کی گہری تپیش زدہ نگاہیں ماورا کے ایک ایک نقش سے ٹکراتیں اُسے بہکنے پر مجبور کررہی تھیں۔۔۔
ماورا کے سُرخ حیا اور غصے سے تمتماتے گال، اُس کی لرزتی پلکوں کا رقص، گداز گلابی رس بھرے لبوں کی کپکپاہٹ اور اُس کی گردن کی دائیں جانب چمکتا وہ سیاہ قاتل تل۔۔۔ جو آج پہلی بار منہاج کی نگاہوں کے سامنے آیا تھا۔۔۔
بنا دوپٹے کے ماورا کا یہ قیامت خیز حُسن منہاج درانی پر کافی بھاری ثابت ہورہا تھا۔۔۔ وہ ماورا سے نکاح کرکے اُسے صرف سزا دینا چاہتا تھا۔۔۔۔ مگر اُس کی یہ حواس سلب کرتی دلفریب مہکتی قربت اُسے کسی اور جانب ہی لے کر جارہی تھی۔۔۔
منہاج چاہے جتنا بھی انکاری ہوتا۔۔۔۔ مگر یہ بھی سچ تھا کہ یہ لڑکی اُس کے دل کی اولین ترجیح تھی۔۔۔۔ اُس نے سچے دل سے ٹوٹ کر چاہا تھا اِسے۔۔۔۔ اب جب وہ اپنے ہوش ربا حُسن کے ساتھ اپنے تمام حقوق اُس کے نام لکھوائے صرف اُس کی تھی تو پھر وہ بھلا کیسے اپنے دل کو سنبھال پاتا۔۔۔۔۔
منہاج درانی اپنے جذبات پر قابو پانے میں بے بس سا ہوا تھا۔۔۔۔ اُس نے جھک کر ماورا کی نازک گردن پر جگمگاتے اُس سیاہ تل پر اپنی لب رکھ دیئے تھے۔۔۔
ماورا کو لگا تھا جیسے کس نے دھکتے کوئلے اُس کی گردن ہر رکھ دیئے ہوں۔۔۔ اُس کے اِس شدت بھرے لمس پر ماورا کا پورا وجود لرز اُٹھا تھا۔۔۔۔
اُسے یہ بات رلا رہی تھی۔۔۔ کہ منہاج درانی اُس کے قریب محبت کے احساس سے نہیں بلکہ ایک انتقامی کارروائی کے تحت آرہا ہے۔۔۔ جو بات اُسے مزید انگاروں کے لپیٹ میں لے رہی تھی۔۔۔۔
“منہاج درانی تمہیں تو نفرت ہے نا مجھ سے۔۔۔۔ شاید تم بھول رہے ہو۔۔۔۔ میں ایک طوائف ہوں۔۔۔۔ جس کے ناپاک وجود سے گھن محسوس کی تھی تم نے۔۔۔۔۔”
ماورا اُسے خود سے دور کرنے کی غرض سے اپنی ذات کے حوالے سے سخت ترین الفاظ بول گئی تھی۔۔۔
اُس کی قربت کے خمار میں ڈوبے منہاج درانی پر یہ بات بہت گہری چوٹ کی طرح ثابت ہوئی تھی۔۔۔ اُس کی گرفت ماورا پر ڈھیلی ہوئی تھی۔۔۔ جس کا فائدہ اُٹھاتے وہ جلدی سے اُٹھ گئی تھی۔۔۔
منہاج کو اُس کی بات کافی گراں گزری تھی وہ خون آشام نگاہوں سے اُس کی جانب دیکھتا اپنی جگہ سے اُٹھا تھا۔۔۔
“تم میرے نکاح میں ہو اب۔۔ جب چاہے تمہیں اپنے قریب کرسکتا ہوں۔۔۔۔ تم پر ہر طرح کا حق استعمال کر سکتا ہوں۔۔۔۔ تم سمیت کسی کے پاس بھی مجھے روکنے کا حق نہیں ہے۔۔۔۔ اِس لیے آئندہ اپنی یہ فضول گوئی اپنے پاس رکھنا۔۔۔۔۔”
منہاج کا موڈ سخت خراب ہوچکا تھا۔۔۔
ماورا کو اپنے نام لگا کر کچھ دیر پہلے جو سکون اُس کے دل و دماغ میں اُترا تھا۔۔۔ ماورا کے یہ سخت الفاظ اُس میں انتشار برپا کرگئے تھے۔۔۔۔
“میں اِس نکاح کو نہیں مانتی جو میری عزت کے بدلے مجھے بلیک میل کرکے کیا گیا ہے۔۔۔۔۔”
ماورا بھی منہاج کے مقابل آتی دو بدو بولی تھی۔۔۔ وہ اِس وقت دوہری زہنی ٹنشن کا شکار تھی۔۔۔۔
“تو تم نہیں مانتی اِس نکاح ہو۔۔۔۔۔ “
منہاج نے کوٹ کی پاکٹ سے نکاح نامہ نکالتے اُس کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا۔۔۔۔
جس کے جواب میں ماورا ویسے ہی برہمی بھرے تاثرات کے ساتھ چہرا نفی میں ہلا گئی تھی۔۔۔۔
“تو پھر اِس کو ہی ضائع کردینا چاہیئے جب اِسے تم مانتی ہی نہیں ہو۔۔۔ کیا فائدہ اِس کا سنبھال کر رکھنے کا۔۔۔ تم میری بیوی ہو۔۔۔۔ یہ بات صرف اِس کمرے تک محدود ہوکر رہ جائے تو کتنی کی اچھی بات ہے۔۔۔۔ ایک طوائف سے نکاح کرنے پر نہ مجھے دنیا والوں کے سامنے شرمندہ ہونا پڑے گا نہ تمہیں جواب دہ۔۔۔۔۔”
منہاج پراسرار لہجے میں بولتا پاکٹ سے لائٹر نکالتے نکاح نامے کو آگ لگا چکا تھا۔۔۔۔
اُس کی حرکت پر ماورا پھٹی پھٹی نگاہوں سے اپنی جگہ ساکت کھڑی اُسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ آگ کے شعلے ٹیبل پر پھینکے نکاح نامے کو پوری طرح جلا کر راکھ کر گئے تھے۔۔۔
“یہ۔۔۔”
ماورا نے بے یقنی سے راکھ بنے نکاح نامے کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ وہ غصے میں نکاح ماننے سے انکار کررہی تھی۔۔۔۔۔ مگر حقیقت یہی تھی کہ وہ منہاج درانی کے نکاح میں آچکی تھی۔۔۔ وہ بیوی تھی اُس کی مگر منہاج کے یہ سب کرنے کے بعد بھلا کون یقین کرنے والا تھا اُس کا۔۔۔۔۔
“تمہاری سزا یہی ہے کہ تم اب ساری زندگی شرعی طور پر میری بیوی رہو گی۔۔۔ مگر ساری زندگی کسی کو اِس بات پر یقین نہیں دلوا پاؤ گی۔۔۔۔۔ اور نہ میری امانت میں خیانت کرنے کا گناہ کبیرہ کرو گی۔۔۔۔ تم میری بیوی ہو یہ بات ہم دونوں اچھے سے جانتے ہیں مگر دنیا والے نہیں اور نہ ہی ہمارے نکاح کے گواہان اور مولوی صاحب میں سے کوئی منہ کھولے گا۔۔۔۔ تو سوچ لو پھر اب کیا کرو گی تم آگے۔۔۔۔۔”
منہاج زہر خند لہجے میں بولتا اُس کی ٹھوڑی چھو کر اُس کا چہرا اپنی جانب موڑ گیا تھا۔۔۔۔ ماورا کی آنکھوں سے آنسو قطار در قطار ٹوٹ کر گر رہے تھے۔۔۔ منہاج نے بہت کاری وار کیا تھا اُس پر۔۔۔۔۔ جس سے سنبھلنا آسان بالکل بھی نہیں تھا اُس کے لیے۔۔۔۔۔
“منہاج درانی کبھی معاف نہیں کروں گی میں تمہیں۔۔۔۔۔۔ بہت غلط کررہے ہو تم میرے ساتھ۔۔۔۔۔”
ماورا اُس کو نفرت آمیز نگاہوں سے دیکھتی وہاں سے نکل گئی تھی۔۔۔۔ جبکہ منہاج اپنے اندر لگی آگ کافی حد تک کم ہوجانے پر پرسکون سا ہوتا۔۔۔۔ ہونٹوں پر سیٹی پر اپنے پسندیدہ گانے کی دھن بجاتا اُس کے پیچھے نکل گیا تھا۔۔۔۔۔
وہ خود بھی سمجھنے سے قاصر تھا کہ جو وہ کررہا ہے وہ ٹھیک ہے یا غلط۔۔۔۔ ماورا کے آنسو دیکھ دل نے اُسے ملامت بھی کیا تھا۔۔۔۔ مگر وہیں اُسے اپنا بنا لینے کا سکون اِن سب باتوں پر حاوی آکر اُسے صحیح ہونے کی شے دے رہا تھا۔۔۔
@@@@@@@@@@
زوہان میٹنگ میں بزی تھا۔۔۔ اُس کا موبائل اُسکے پرسنل اسسٹنٹ کامران کے پاس تھا۔۔۔ جس پر زنیشہ کی پانچ مس بیلز آچکی تھیں۔۔۔ مگر کامران زوہان کو کال کے بارے میں آگاہ کرکے اُس کی میٹنگ خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔
کیونکہ زوہان کی جانب سے کی جانے والی ڈانٹ برداشت کرنا آسان نہیں تھا۔۔۔۔
“سر آپ کے موبائل پر کالز آرہی تھیں۔۔۔ مگر میں نے آپ کو ڈسٹرب کرنے کے خیال سے بتایا نہیں۔۔۔۔”
کامران ہولی آواز میں منمناتا فون زوہان کی جانب بڑھا گیا تھا۔۔۔ جو ابھی ابھی میٹنگ سے فارغ ہوکر بیٹھا تھا۔۔۔
“کس کی کالز آرہیں۔۔۔۔؟؟”
زوہان اپنے سامنے کھلی فائلز بند کرتا لاپرواہ سے انداز میں بولا تھا۔۔۔ کیونکہ نفیسہ بیگم اُسے اُس کے پرائیویٹ نمبر سے ہی کال کرتی تھیں۔۔۔ جو ہر وقت اُس کے پاس رہتا تھا۔۔۔
“سر زنیشہ میران کے نام سے۔۔۔۔۔۔”
کامران کی بات ابھی مکمل بھی نہیں ہوئی تھی جب زوہان نے اُسے خونخوار نظروں سے دیکھتے موبائل فون اُس کے ہاتھ سے جھپٹ لیا تھا۔۔۔
“واٹ۔۔۔۔۔ پہلے کیوں نہیں بتایا مجھے۔۔۔۔ اتنی دیر سے ٹائم ویسٹ کررہے ہو۔۔۔۔۔”
زوہان کو آج زندگی میں پہلی بار زنیشہ نے خود کال کی تھی۔۔۔۔ اُس کے لیے بے پناہ حیرت کی بات تو تھی ہی۔۔۔۔
زوہان نےکامران کو باہر جانے کا اشارہ کرتے فوراً کال ملائی تھی۔۔۔ جسے پہلی کال پر ہی اٹینڈ کرلیا گیا تھا۔۔۔ جیسے دوسری جانے وہ بھی اِسی کی منتظر ہو۔۔۔
“زنیشہ تم ٹھیک ہو۔۔۔۔۔ کہاں ہو اِس وقت؟ مجھے کال کیوں کی؟؟؟ خیریت ہے نا سب۔۔۔”
زوہان نے بنا سلام دعا کے چھوٹتے ہی سوالوں کی برسات کردی تھی۔۔۔
“میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔۔ اور اگر کسی مشکل میں ہونگی بھی سہی تو اپنے لالہ کو کال کروں گی آپ کو نہیں۔۔۔ میرے لالہ موجود ہیں میرے پاس میری حفاظت کے لیے۔۔۔ سو آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔”
زنیشہ کافی بدلحاظی سے بولی تھی۔۔۔ جس کے مدمقابل آنے پر اُس کی زبان تالو سے چپک جاتی تھی۔۔۔ آواز نکلنا بند ہوجاتی تھی۔۔۔ وہ فون پر ہی اُس سے ایسی دیدہ دلیری سے کا مظاہرہ کرسکتی تھی۔۔۔
“زنیشہ بی ہیو یور سیلف یہ کیا طریقہ ہے بات کرنے کا۔۔۔۔ میں ایسے لہجوں کا عادی نہیں ہوں۔۔۔۔ اپنا لہجہ درست کرو پہلے۔۔۔۔ “
اُس کے خیریت میں ہونے کا سن کر زوہان واپس اپنے ازلی اکڑو انداز میں واپس لوٹا تھا۔۔۔۔ اُس کے ٹھنڈے ٹھار لہجے اور سختی بھرے الفاظ پر زنیشہ کے ہاتھ پل بھر کو لرز گئے تھے۔۔۔
مگر وہ سامنے نہیں تھا۔۔۔ زنیشہ کو اِس بات کی تسلی تھی۔۔۔ اور نہ ہی وہ اب اُسے کوئی موقع دینا چاہتی تھی اپنے سامنے آنے کا۔۔۔۔
“اچھا میں تمیز سیکھو۔۔۔ اور آپ جو کرتے پھر رہے ہیں اُس کا کیا۔۔۔۔ آپ کی وجہ سے میران خاندان کی عزت اُچھالی جارہی ہے۔۔۔۔ آپ کو اِس کا زرا سا احساس بھی ہے۔۔۔ آپ ایک بہت ہی معزز گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔۔۔ آپ کو یہ حرکتیں زیب نہیں دیتیں جو آپ کرتے پھر رہے ہیں۔۔۔”
زنیشہ کی نگاہوں میں ٹی وی پر چلتا وہ منظر پھر سے لہرایا تھا۔۔۔ جس کے ساتھ اُس کا غصہ مزید دگنا ہوا تھا۔۔۔۔ اُس کی جلن کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔۔۔۔۔ تن بدن میں جیسے آگ کے شعلے بھڑک رہے تھے۔ ملک کے نامور بزنس مین ملک زوہان کے ثمن خان کے ساتھ کئی سالوں سے چلتے تعلقات منظر عام پر آگئے تھے۔۔۔
جبکہ دوسری جانب اُس کے الفاظ اور انداز پر زوہان ہونٹ بھینچ کر رہ گیا تھا۔۔
مگر وہیں ایک بات نے اُسے چونکایا بھی تھا۔۔۔ زنیشہ کا یوں کھل کر اِس بات پر ناراضگی کا اظہار کرنا کافی اچھنبے کی بات تھی اُس کے لیے۔۔۔۔ آج تک وہ آژمیر کے ساتھ لڑ کر نجانے کیا کیا حرکتیں کرتا آیا تھا۔۔۔ مگر کبھی زنیشہ نے ایسا کچھ نہیں کیا تھا۔۔۔۔ لیکن آج ثمن خان کے ساتھ اُس کی کلوزنیس پر زنیشہ کا یوں بھڑک اُٹھنا زوہان کے لیے عام بات نہیں تھی۔۔۔
“تم کافی غصے میں لگ رہی ہو۔۔۔۔ میرے خیال میں آمنے سامنے بات کرنی چاہیئے۔۔۔۔ میں کچھ دیر میں پہنچتا ہوں تمہارے پاس۔۔۔۔۔”
زوہان کی اِس غیر متوقع بات پر زنیشہ کے چودہ طبق روشن ہوئے تھے۔۔۔۔۔
“کک کیا مطلب۔۔۔۔۔”
زنیشہ کی زبان لڑکھڑائی تھی۔۔۔۔ اُسے احساس ہوا تھا۔ اِس شخص کو کال کر کے اور یہ سب بول کر وہ غلط کر چکی ہے۔۔۔
“میری جان جس طرح تم میری بیوی بن کر پوچھ گچھ کررہی ہو۔۔۔ اِس کا یہی مطلب ہے تم میرا بھیحا گیا رشتہ قبول کر چکی ہو۔۔۔۔ اور اُسی حق سے مجھ سے ثمن خان کا جواب مانگ رہی ہو۔۔۔۔”
زوہان نے بات کو اُسی پر گھما دیا تھا۔۔۔
“ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔”
زنیشہ ہولے سے منمنائی تھی۔۔۔ اُس کے یہاں آنے کا سن کر ہی اُس کی ساری دیدا دلیری اُڑن چھو ہوگئی تھی۔۔۔
“تو پھر کیسا ہے۔۔۔۔”
زوہان اپنی کرسی پر بیٹھتا سیگریٹ سلگھا چکا تھا۔۔۔۔ دوسری جانب جواباً خاموشی ہی رہی تھی۔
“میں ثمن ملک سے میرے کوئی غلط تعلقات نہیں ہیں۔۔۔ وہ میری بہت اچھی دوست ہے۔۔۔۔ مجھ سے محبت کرتی اور شادی بھی کرنا چاہتی ہے۔۔۔۔ میں ہمیشہ اُسے انکار کرتا آیا ہوں۔۔۔ مگر اب اِس بارے میں سوچنے کا دل چاہ رہا ہے۔۔۔۔ بہت اچھی لڑکی ہے۔۔۔۔ میری خاطر اپنی جان بھی دینے کو تیار رہتی ہے۔۔۔ آئی تھنک ایسی محبت کرنے والی لڑکی مجھے کہیں نہیں ملے گی۔۔۔۔ مگر ڈونٹ وری تم سے میں شادی کروں گا ضرور چایے دوسری ہی کیوں نہ ہو۔۔۔۔”
زوہان سیگریٹ کا گہرا کش لیتا نپے تلے الفاظ میں بولتا زنیشہ کی آنکھیں نم کر گیا تھا۔۔۔ زوہان کے منہ سے کسی لڑکی کا ذکر اِس طرح سننا اُس کے دل پر تیر بن کر پیوست ہوا تھا۔۔۔۔ وہ بے آواز رو رہی تھی۔۔۔ مگر پھر بھی چھوٹی سی سسکی نکل کر زوہان کی سماعتوں سے ٹکراتی اُسے دوسری جانب کے حالات سے آگاہ کر گئی تھی۔۔۔
“آئی ہیٹ یو۔۔۔۔ شدید نفرت کرتی ہوں آپ سے۔۔۔۔ جس میں دن بدن اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔۔۔۔”
زنیشہ آنسوؤں کے درمیان بولتی زوہان کے ہونٹوں پر لمحے بھر کے لیے مسکراہٹ بکھیر گئی تھی۔۔۔
“میں جانتا ہوں۔۔۔”
اُس کا جواب مختصر تھا۔۔۔
“آپ سے زیادہ بُرا انسان اِس دنیا میں کوئی نہیں ہے۔۔۔”
زنیشہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا اپنے دل کی بھڑاس کیسے نکالے۔۔۔
“میں یہ بات بھی بہت اچھے سے جانتا ہوں۔۔۔۔”
اب کی بار زوہان کی آواز مسکراتی ہوئی تھی۔۔۔ جو اُسے پتنگے لگا گئی تھی۔۔۔۔
“آئی تھنک میں آپ کا آپ کی ثمن خان کو دیا جانے والا ٹائم ضائع کررہی ہوں۔۔۔۔ آپ اُس کے ساتھ کیری آن کریں۔۔۔ کہیں آپ کی چہیتی گرل فرینڈ ناراض نہ ہوجائے۔۔۔۔”
زنیشہ دانت چبھا چبھا کر بولتی کال کاٹ گئی تھی۔۔۔ اُس کا غصے سے بُرا حال تھا۔۔۔ اندر عجیب سی جنگ چھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔
اُسے کہیں نہ کہیں محسوس ہوا تھا کہ زوہان اُس کے یوں کال کاٹنے پر اُسے کال بیک ضرور کرے گا۔۔۔
مگر ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔۔۔ جو بات زنیشہ کے لیے مزید تکلیف کا باعث تھی۔۔۔۔۔
@@@@@@@@@
حاعفہ نے ترچھی نگاہوں سے فرنٹ سیٹ پر براجمان آژمیر کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ جس کے اعصاب ابھی تک سختی سے تنے ہوئے تھے۔۔۔ اُس کے مغرور تیکھے نقوش غصے کی آمیزش لیے مزید دلکش لگنے لگے تھے۔۔۔۔ حاعفہ مبہوت سی اُسے دیکھے گئی تھی۔۔۔
“اِس بندے پر تو غصہ بھی بہت سوٹ کرتا ہے۔۔۔۔” حاعفہ زیرِ لب مسکرائی تھی۔۔۔
آژمیر فرنٹ سیٹ پر ڈرائیور کے برابر میں براجمان تھا۔۔۔ وہ بیک سیٹ پر بیٹھی کن اکھیوں سے مسلسل اُسے تکے جارہی تھی۔۔۔
اُس کی نظروں سے انجان آژمیر نے اپنے اضطراب پر قابو نہ رکھ پاتے سیگریٹ سلگھایا تھا۔۔۔ حاعفہ اُس کی جانب دیکھتی اُس کی ایک حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھی۔۔۔
مگر اُسے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ آژمیر کا سگریٹ پینا اُس پر کس قدر بھاری پڑے گا۔۔۔ اُسے دھویں سے بہت سخت الرجی تھی۔۔۔ آژمیر نے جیسے ہی سیگریٹ کا گہرا کش لیتے دھواں گاڑی کی فضا میں چھوڑا۔۔۔۔ حاعفہ نے ناک اور منہ پر ہاتھ رکھتے دھویں کا اثر خود تک پہنچنے سے روکا تھا۔۔۔ مگر ایسا وہ زیادہ دیر نہیں کر پائی تھی۔۔۔
اُس کے ہاتھ ہٹاتے ہی گاڑی میں بھرتے دھویں نے اُسے پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔۔۔ اُس کے سائیڈ کا شیشہ کھلا ہونے کے باوجود کسی قسم کی بچت نہیں ہوپائی تھی۔۔۔ اور حاعفہ کو بُری طرح کھانسی کا دورہ پڑا تھا۔۔۔۔
آژمیر نے پیچھے مُڑتے اُسے تشویش بھری نظروں سے کھانستے ہوئے دیکھا تھا۔۔۔۔ وہ منہ پر دونوں ہاتھ رکھے کھانس کھانس کر دوہری ہورہی تھی۔۔۔
“کیا ہوا۔۔۔۔”
آژمیر اُس کا لال چہرا اور آنسو چھلکاتی آنکھیں دیکھ فکرمند ہوا تھا۔۔۔۔ اُسے سمجھ نہیں آرہی تھی۔۔۔ اچانک بیٹھے بیٹھائے اِس لڑکی کو ہوا کیا ہے۔۔۔
حاعفہ اُس کی بات کا کوئی جواب نہیں دے پائی تھی۔۔ بولنے تو دور کی بات اُس سے اِس وقت سانس لینا محال ہورہا تھا۔۔۔۔
“گاڑی سائیڈ پر روکو۔۔۔۔۔”
ڈرائیور کو گاڑی روکنے کا کہتے۔۔۔۔ آژمیر نیچے اُترتا اُس کی سائیڈ پر آیا تھا۔۔۔۔ سیگریٹ وہ حیرت انگیز طور پر بے دھیانی میں باہر اُچھال چکا تھا۔۔۔ سیگریٹ آژمیر میران کی زندگی کی سب سے عزیز شے تھی۔۔۔۔ نجانے وہ کیسے لاپرواہی برت گیا تھا سیگریٹ کے ساتھ۔۔۔۔
“یہ پانی پیئیں۔۔۔۔”
آژمیر نے اُس کی جانب پانی کی بوتل بڑھائی تھی۔۔۔ مگر حاعفہ بنا اُسے تھامے ابھی تک اُسی کیفیت میں مبتلا تھی۔۔۔۔
اُس کی خطرناک حد تک خراب ہوتی حالت دیکھ آژمیر خود کو مزید نہیں روک پایا تھا۔۔۔ اُس نے حاعفہ کی دونوں کلائیاں تھامتے اُسے پکڑ کر گاڑی سے باہر نکالا تھا۔۔۔۔ حاعفہ نے بے حال ہوتے نم آنکھوں سے اُس کی جانب ایک نظر ڈالی تھی۔۔۔۔
جو اب اُس کا چہرا تھامے بوتل اُس کے ہونٹوں سے لگاتے اُسے پانی پلا رہا تھا۔۔۔ حاعفہ کے منہ میں چند گھونٹ جاتے ہی اُس کی کھانسی کو کافی حد تک افاقہ ہوا تھا۔۔۔۔
کچھ دیر بعد ہوش سنبھالتے آژمیر کی مضبوط گرفت پر وہ سرخ پڑتی چند قدم پیچھے ہٹتی گاڑی سی جا لگی تھی۔۔۔۔
“یہ سب کیا تھا؟… اچانک کیا ہوا آپ کو۔۔۔۔۔”
آژمیر اُس کی جانب پانی کی بوتل بڑھاتے گہری نظروں سے اُس کے لال گلابی ہوتے چہرے کی جانب دیکھتے بولا۔۔۔۔ حاعفہ کا چہرا نیچے جھک گیا تھا۔۔۔
“وہ۔۔۔۔ آپ سیگریٹ پی رہے تھے۔۔۔۔ اور مجھے دھویں سے الرجی ہے تو اِس لیے۔۔۔۔۔”
حاعفہ شرمندہ سی ہولے سے منمنائی تھی۔۔۔۔ جیسے سارا قصور اُسی کا ہو۔۔۔۔
“لیکن میں تو سیگریٹ کے بغیر نہیں رہ سکتا۔۔۔۔ پھر آپ ایسے ہی کھانستی رہیں گی کیا؟؟…”
سیگریٹ تو آژمیر میران کسی کی خاطر بھی چھوڑنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔۔۔۔
“اٹس اوکے سر میں مینج کر لوں گی۔۔۔۔”
آژمیر کی نگاہیں مسلسل خود پر ٹکی دیکھ حاعفہ کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ میں اضافہ ہوا تھا۔۔۔
“جیسے ابھی کیا۔۔۔۔۔”
آژمیر اُس کے ابھی تک لال ہوئے چہرے پر چوٹ کرتے بولا۔۔۔۔ اُس کے چہرے کی سُرخی اور آنکھوں کی نمی ابھی بھی برقرار تھی۔۔۔
حاعفہ سے کوئی جواب نہیں بن پایا تھا اُس نے خاموش نگاہیں اُٹھا کر آژمیر کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ جو پہلے ہی کافی گہری دلچسپی بھری نظروں سے اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ حاعفہ گھبرا کر ایک دم سر زمین میں گاڑھ گئی تھی۔۔۔۔
اُس کا دل زور سے دھڑک اُٹھا تھا۔۔۔۔ اُسے آژمیر کی نگاہوں میں کچھ مختلف نظر آیا تھا۔۔۔۔ جو اُس کی سانسیں بڑھا گیا تھا۔۔۔۔
آژمیر کچھ دیر اُس کی پلکوں کا رقص دیکھنے کے بعد اُسے گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کرتا خود بھی فرنٹ سیٹ کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔
کچھ فاصلے پر اُن کے تعاقب میں چلتی گاڑی بھی اُن کے ساتھ آگے بڑھ گئی تھی۔۔۔۔۔
@@@@@@@@@
“یہ باڈی کو بھی ہر وقت میرے سر پر سوار کر رکھا ہے۔۔۔ ابھی وہاں لیڈیز واش روم کے باہر کھڑا میرا انتظار کرتا رہے گا۔۔۔۔ اور میں آرام سکون سے کچھ ٹائم گزار پاؤں گی۔۔۔۔۔”
زنیشہ مزمل کو لیڈیز واش کے باہر کھڑا کرکے اندر داخل ہوئی تھی۔۔۔ اور پھر کسی کلاس فیلو کے ساتھ شال چینج کرکے اپنا حلیہ کافی حد تک بدلتی اُسے چکما دیتی چہرا چھپائے وہاں سے نکل آئی تھی۔۔۔
شاید اُس کے باڈی گارڈ کو زنیشہ سے اِس بات کی قطعاً توقع نہیں تھی۔۔۔ اِس لیے وہ باقی لڑکیوں کے خیال سے دروازے سے زرا ہٹ کر کھڑا ہوا تھا۔۔۔
“اب اکیلے گھر جاکر میں اِس باڈی گارڈ کا خود ہی جاب سے نکلواؤں گی۔۔۔۔”
زنیشہ دل ہی دل میں پلینز بناتی گیٹ کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔ ابھی گیٹ سے نکلتے اپنی گاڑی کی تلاش میں نظریں دوڑاتی وہ چند قدم آگے بڑھی ہی تھی۔۔۔۔
جب اچانک اُس کے قدموں کے قریب کسی گاڑی کے ٹائرز زور سے چڑچڑائے تھے۔۔۔ زنیشہ سنبھل کر دور ہٹنے ہی والی تھی۔۔۔ جب گاڑی سے نکلنے والے شخص نے اُس کے ناک پر کلوروفارم بھرا رومال رکھتے اُس کے پھڑپھڑاتے وجود کو گاڑی میں گھسیٹ لیا تھا۔۔۔ زنیشہ نے مزاحمت کرنی چاہی تھی۔۔۔ مگر چند لمحوں میں ہی ہوش و حواس سے بیگانا ہوتے اُس کی آنکھیں بند ہوئی تھیں۔۔۔۔
@@@@@@@@@
جاری ہے۔۔۔۔۔
