Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 35

وہ اندھا دھند بھاگ رہی تھی خود سے دور جاتے شخص کے پیچھے۔۔۔ اُسے زور و شور سے پکار رہی تھی۔۔۔ مگر وہ اُس سے لمحہ با لمحہ دور جارہا تھا۔۔۔ وہ اُس کا ہاتھ تھامنا چاہتی تھی، اُسے روکنا چاہتی تھی۔۔۔ مگر وہ اُس کی جانب دیکھنے تک کو تیار نہیں تھا۔۔۔۔ وہ چلا چلا کر تھک چکی تھی۔۔۔ مگر ہاتھ سے نکلتی زندگی کو تھام نہیں پائی تھی۔۔۔
“پلیز رُک جائیں۔۔۔۔ مم میں مر جاؤں گی۔۔۔۔”
بند آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کے ساتھ اُس کے لب ہولے سے پھڑ پھڑائے تھے۔۔۔۔
جب آہستہ آہستہ اُس کی سرگوشی نما آواز چیخوں میں تبدیل ہونے لگی تھی۔۔۔
وہ اپنی زندگی کے سب سے قیمتی شخص کے دور جانے کے احساس سے ہذیانی کیفیت میں چلا رہی تھی۔۔۔ مگر وہ شخص نہیں رُک رہا تھا۔۔۔۔ وہ اُس سے منہ پھیر کر دور جارہا تھا۔۔۔
“حاعفہ کیا ہوا؟ اُٹھو آنکھیں کھولو۔۔۔۔”
نگینہ بائی اُس کی چیخوں کی آواز پر بوکھلائی سی اندر داخل ہوئی تھی۔۔ حاعفہ کی خراب حالت اُن کی آنکھوں میں بھی نمی بھر گئی تھی۔۔۔
وہ اُس کا گال تھپتھپاتے اُسے اُٹھانے کی کوشش کررہی تھیں۔۔۔ مگر حاعفہ آژمیر میران کے دور جانے کے خوف سے آنکھیں نہیں کھول پارہی تھی۔۔۔
اُس کا تکیہ بند آنکھوں سے بہتے آنسوؤں سے تر ہوچکا تھا۔۔۔ گلا مسلسل چلانے کی وجہ سے بیٹھ چکا تھا۔۔۔۔
اور گلابی ہونٹ ہولے ہولے لرز رہے تھے۔۔۔۔
نگینہ بائی کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔۔۔۔ اِس لڑکی نے اتنی کم عمری میں کیا کیا غم نہیں دیکھے تھے۔۔۔۔ اور آج رہی سہی کسر بھی پوری ہوچکی تھی۔۔۔۔ اُس سے اُس کی محبت بھی بہت بے دردی سے چھینی جاچکی تھی۔۔۔۔
“حاعفہ میری جان آنکھیں کھولو۔۔۔۔”
ہمیشہ حاعفہ کے ساتھ بُرا سلوک رواں رکھنے والی نگینہ بائی آج اپنا دل سخت نہیں رکھ پائی تھیں۔۔۔ چاہے جو بھی ہو مگر حاعفہ اُن کی سگی بھانجی تھی۔۔۔ وہ اُس کے آگے اتنی کھٹور نہیں بن سکتی تھیں۔۔۔
نگینہ بائی کے نرمی سے پچکارنے پر حاعفہ نے بمشکل اپنی دکھتی آنکھیں کھولی تھیں۔۔۔ اور خالی خالی نگاہوں سے سامنے بیٹھی نگینہ بائی کو دیکھنے لگی تھی۔۔۔۔
“یہ۔۔۔یہ۔۔۔۔ آژمیر کہاں ہے؟؟؟”
حاعفہ اجنبی نگاہوں سے اردگرد دیکھتے اُٹھ بیٹھی تھی۔۔۔ وہ تو آژمیر کے گھر پر تھی نا۔۔۔ پھر یہاں کیسے پہنچی تھی۔۔۔۔۔؟؟
“کرامت تمہیں کل رات ہی بے ہوشی کی حالت میں واپس لے آیا تھا۔۔۔۔ جب آژمیر باہر موجود لوگوں سے لڑنے میں مصروف تھا۔۔۔ اُسی دوران کرامت سب سے نظر بچا کر تمہیں لے کر فرار ہوگیا تھا۔۔۔۔ “
نگینہ بائی نے اُس کا بھیگا چہرا صاف کرتے اُس کے سوال کا جواب دیا تھا۔۔۔۔
اُن کی بات پر حاعفہ نے اپنے اُوپر سے کمبل ہٹاتے اُٹھنا چاہا تھا۔۔۔
“کہاں جارہی ہو حاعفہ؟؟؟”
نگینہ بائی کو حاعفہ اِس وقت اپنے حواسوں میں بالکل بھی نہیں لگی تھی۔۔۔۔ وہ اُسے کندھوں سے تھامتیں روک گئی تھیں۔۔۔
“آژمیر کے پاس جانا ہے مجھے۔۔۔ وہ اُن پر تب حملہ ہوا تھا نا۔۔۔۔ مجھے دیکھنا ہے اُنہیں۔۔۔۔ وہ ٹھیک۔۔۔ ٹھیک ہونگے نا۔۔۔”
حاعفہ بے ربط جملے بولتی نگینہ بائی کی گرفت ہٹانے لگی تھی۔۔۔
“تم پاگل ہوگئی ہو۔۔۔۔ تمہیں لگتا ہے کہ تم آژمیر میران کے پاس جاؤ گی۔۔۔ اور وہ تمہیں معاف کردے گا۔۔ بھول ہے تمہاری۔۔۔ جتنا بڑا دھوکا تم اُسے دے کر آرہی ہو جان سے مار دے گا تمہیں۔۔۔ اور ساتھ ہم سب کو بھی۔۔۔۔۔ اُس کے پاس جانے کی بے وقوفی مت کرنا۔۔۔۔ وہ کوئی چھوٹا آدمی نہیں ہے۔۔۔ ہم سب کو ختم کرنے میں اُسے لمحہ نہیں لگے گا۔۔۔۔”
نگینہ بائی نے اُس کا رخ اپنی جانب موڑتے حقیقت سے آگاہ کیا تھا۔۔۔۔
“نن نہیں وہ ایسا نہیں کریں گے۔ میں ایک بار اُنہیں اپنی آنکھوں سے صحیح سلامت دیکھنا چاہتی ہوں۔۔۔ پلیز ایک بار جانے دو مجھے۔۔۔ وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں۔۔۔۔ وہ میری بات سمجھیں گے۔۔۔۔”
حاعفہ نفی میں سر ہلاتے کچھ بھی سمجھنے کو تیار نہیں تھی۔۔۔
“آژمیر میران بالکل ٹھیک ہے۔۔۔۔ اُسے کچھ نہیں ہوا۔۔۔۔ کرامت نے آکر بتایا ہے مجھے۔۔۔۔ تم ابھی ہوش میں نہیں ہو حاعفہ۔۔۔۔ اِس لیے سمجھ نہیں پارہی تم نے اُس انسان کی جان لینے کی کوشش کی ہے۔۔۔ اُس کی اتنے سالوں سے بنائی ساکھ، اُس کا نام خراب کرنے کی کوشش کی ہے وہ بھی اُس کے دشمنوں کے ساتھ مل کر۔۔۔۔ تمہیں کیا لگتا ہے اِس سب کے بعد بھی وہ تم پر یقین کرے گا۔۔۔ جب تم اِن لوگوں کے کہنے پر اپنے منہ سے اُس کے سامنے اِن سب باتوں کا اقرار کرکے آئی ہو۔۔۔۔ وہ نہ صرف تمہیں طلاق دے دے گا۔۔۔ بلکہ تمہیں جان سے مار دے گا۔۔۔۔ کیا تم چاہتی ہو اُس شخص کا نام بھی تمہارے نام سے چھن جائے۔۔۔۔ “
نگینہ بائی اپنی تمام خود غرضی ایک طرف رکھتی حاعفہ کو سمجھاتے ہوئے بولی۔۔۔
حاعفہ بہتی آنکھوں سے اُن کی طرف دیکھنے لگی تھی۔۔۔ آہستہ آہستہ اُس کے دماغ میں گزرے تلخ لمحے پوری طرح سے واضح ہونے لگے تھے۔۔۔۔
آژمیر کے لہجے کی کرختگی، اُس کی آنکھوں میں پنپتی نفرت۔۔۔۔
اُس نرمی اور محبت کا تو نام ونشان مٹ چکا تھا جو ہمیشہ آژمیر کے لہجے اور رویے میں خاص طور پر حاعفہ کے لیے مختص ہوتی تھی۔۔۔۔
حاعفہ کو اپنے اتنے بڑے نقصان ہوجانے کا اندازہ اب ہوا تھا۔۔۔۔
“میں اُن سے سچی محبت کرتی ہوں نگینہ بائی۔۔۔ میں نے اُنہیں زہر بھی نہیں دیا تھا۔۔۔ اُن کے حصے کی ساری گولیاں اپنے حلق میں اُتاری تھیں۔۔۔ میں نہیں جانتی میں کیسے بچ گئی۔۔۔۔۔ میں بہت چاہتی ہوں اُنہیں۔۔۔۔ اُنہیں مارنے کا تصور بھی نہیں کرسکتی۔۔۔۔ میں جانتی ہوں وہ اب شدید نفرت کریں گے مجھے سے۔۔۔۔ کبھی معاف نہیں کریں گے مجھے۔۔۔ میرے طوائف ہونے کا جان کر تو اُنہیں مجھ سے مزید نفرت ہوگئی ہوگی۔۔۔۔ میں نے اپنے ہاتھوں سے اُن کا اعتبار توڑ دیا۔۔۔۔ میں محبت میں بے وفا نکلی نگینہ بائی۔۔۔۔ میں نے اُنہیں دھوکا دیا ہے۔۔۔ میں واقعی اُن کی محبت کی نہیں، نفرت کی ہی قابل ہوں۔۔۔۔ وہ مجھے اپنے ہاتھوں سے ختم کردیں یہ ٹھیک رہے گا میرے لیے۔۔۔۔۔۔ ہاں مجھے مر جانا چاہیے۔۔۔۔۔”
حاعفہ ٹوٹ کر بکھرتی بُری طرح ہچکیوں میں رو دی تھی۔۔۔۔ نگنیہ بائی کے لیے اُسے سنبھالنا مشکل ہوگیا تھا۔۔۔
اپنی سگی بہن کی بیٹیوں کو اِس حال تک پہنچانے والی وہ خود تھیں۔۔۔ مگر اِس وقت حاعفہ کو دیکھ اُن کا کلیجہ منہ کو آرہا تھا۔۔۔۔۔ اُنہیں آج شدت سے احساس ہوا تھا کہ وہ اِن معصوموں کے ساتھ کتنا ظلم کرچکی ہیں۔۔۔۔
@@@@@@@@
میران پیلس میں آج بہت وقت کے بعد دوبارہ ایسی رونقیں اُتری تھیں۔۔۔ ہر طرف خوشیوں اور قہقوں کا سماں بندھا ہوا تھا۔۔۔ سب کے کھلے کھلے چہرے دیکھ شمسہ بیگم بھی مطمئین لگ رہی تھیں۔۔۔
آج آژمیر میران کی لاڈلی بہن زنیشہ میران کا نکاح ہورہا تھا وہ بھی ملک زوہان سے۔۔۔۔ اُن کی پوری برادری کے لیے یہ بات حیران کن ہونے کے ساتھ ساتھ بہت دلچسپ بھی تھی۔۔۔ کیونکہ آج وہ اتنے عرصے بعد اُن دونوں بھائیوں کو ایک ساتھ کسی خوشی کے موقع پر دیکھنے والے تھے۔۔۔۔
جبکہ بہت سارے لوگ تو ابھی اِس بات پر یقین نہیں کر پائے تھے۔۔۔ کہ آژمیر زنیشہ کی شادی زوہان سے کرنے کے لیے مان کیسے گیا تھا۔۔۔۔
آج کا فنکشن سب کے لیے بہت اہم تھا۔۔۔۔
نکاح کے ایک ہفتے بعد رخصتی تھی۔۔۔
زنیشہ نے بہت ضد کی تھی شمسہ بیگم سے کے کم از کم نکاح کا فنکشن تو سادگی سے کروا دیں۔۔۔ مگر میران پیلس والوں سمیت اِس بات کے لیے تو نفیسہ بیگم بھی نہیں مانی تھیں۔۔۔ زوہان کی شادی کا ایک ایک فنکشن وہ پوری دھوم دھام سے کرنا چاہتی تھیں۔۔۔۔ زوہان کو بھی اِن سب فنکشنز میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔۔۔ مگر وہ صرف نفیسہ بیگم کی خوشی کی خاطر چپ ہوگیا تھا۔۔۔۔
نکاح کے فنکشن میں مظفر آباد کا کوئی بندہ نہیں چھوڑا تھا اُنہوں نے جسے انوائٹ نہ کیا ہو۔۔۔۔ اِدھر شمسہ بیگم کا بھی یہی حال تھا۔۔۔
زنیشہ نے آژمیر کی جانب سے بھیجا گیا وہ گرے لہنگا پہننے سے صاف امکات کر دیا تھا۔۔۔۔ مگر پہلے اُس کی کوئی سنی گئی تھی جو ابھی سنی جاتی۔۔۔۔۔۔
اُسے تیار کرنے کے لیے بیوٹیشنز کو گھر ہی بلوا لیا گیا تھا۔۔۔ میران پیلس کے وسیع و عریض لان میں بڑے پیمانے پر تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا۔۔۔۔
جسے دیکھنے میں کہیں سے بھی نہیں لگ رہا تھا کہ یہ گاؤں کی کسی حویلی میں ارینج کیا گیا ہے۔۔۔۔
شہر کی سب سے بڑی ویڈنگ پلانر کو بلایا گیا تھا۔۔۔۔
زنیشہ زوہان سے سخت ناراض تھی۔۔۔۔ جس نے ثمن کے حوالے سے اُسے کوئی وضاحت دینے کے بجائے اُلٹا ڈانٹ دیا تھا۔۔۔
وہ کئی بار شمسہ بیگم کے سامنے اِس نکاح سے انکار کر چکی تھی۔۔۔ مگر ہر بار ڈانٹ ہی پڑی تھی۔۔۔۔
ملک زوہان کے نام اپنا آپ لکھوانے کا خوف ہی اُس پر اتنا سوار تھا کہ اُس کا بخار کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔۔۔
“آپ کی چیکس تو پہلے سے ہی اتنی ریڈ ہورہی ہیں بلش آن لگانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہورہی۔۔۔۔”
بیوٹیشن اُس کی نیچرل بیوٹی سے کافی متاثر نظر آرہی تھی۔۔۔۔ جسے نہ ہی مصنوعی پلکیں لگانے کی ضرورت پیش آئی تھی نہ ہی کوئی اور چیز۔۔۔۔
وہ پہلے ہی بے پناہ حُسن سے مالا مال تھی کہ بیوٹیشن کے زرا سے میک اپ کے ٹچ سے اُس کی دلکشی مزید نکھر گئی تھی۔۔۔۔
گرے کلر کے بھاری فل کامدار لہنگے میں سر پر خوبصورتی سے دوپٹہ سیٹ کیا گیا تھا۔۔۔
ریڈ نیٹ کی چنری کو گھونگھٹ کی شکل میں پن اپ کیا گیا تھا۔۔۔ زنیشہ نے بیوٹیشن کے کہنے پر بھی ایک بار بھی خود کو مرر میں نہیں دیکھا تھا۔۔۔
اُس کا موڈ سخت آف تھا اور دھڑکنیں تو کسی صورت جگہ پر آنے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔۔۔۔
اُسے لگ رہا تھا وہ کسی بھی پل بے ہوش ہوجائے گی۔۔۔۔۔۔
@@@@@@@
آژمیر آج صبح ہی میران پیلس پہنچا تھا۔۔۔۔ اور بنا کسی سے ملے اپنے کمرے میں قید ہوچکا تھا۔۔۔ کل کا دن اُس نے کتنی اذیت میں گزارا تھا یہ وہی جانتا تھا۔۔۔۔
اُس کے آدمی پاگلوں کی طرح حاعفہ کو ڈھونڈ رہے تھے۔۔۔۔ مگر ابھی تک اُس کا کچھ پتا نہیں چل رہا تھا۔۔۔۔ آژمیر کے اندر بھڑکتے الاؤ کسی صورت کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔۔۔
اُس کا دل چاہ رہا تھا حاعفہ اُس کے سامنے آئے اور وہ اُسے شوٹ کردے۔۔۔۔ حاعفہ سے بھی زیادہ غصہ اُسے خود پر تھا۔۔۔ اُس نے کسی لڑکی کو اپنے اتنے قریب آنے ہی کیوں دیا تھا۔۔۔۔ کیوں اُس کا دل ایک ایسی لڑکی کے پیچھے دیوانہ ہوا تھا۔۔۔ جو صرف اُسے دھوکا دے رہی تھی۔۔۔ اُس کے جذبات بات سے کھیل رہی تھی۔۔۔۔ اور شاید پیٹھ پیچھے آژمیر میران جیسے بندے کو اپنی محبت کے جال میں پھنسانے پر مذاق بھی اُڑاتی ہو۔۔۔۔
یہ سب سوچ کر آژمیر کوئلہ پر لوٹ رہا تھا۔۔۔۔
بہت سی باتوں نے مل کر اُس پر غلبہ ڈال رکھا تھا۔۔۔ جن میں سب سے تکلیف دہ بات یہی تھی کہ حاعفہ کو اُس سے محبت نہیں تھی۔۔۔ وہ صرف اپنے مقصد کے تحت اُس کے قریب آئی تھی۔۔۔
اُس کی محبت اُسے اپنے ہاتھوں سے زہر دینا چاہتی تھی۔۔۔ آژمیر کو اپنی قسمت پر ہنسی آئی تھی۔۔۔ ایک طرف اُس کا بھائی اُسے مارنا چاہتا تھا تو دوسری طرف اُس کی محبت اُس کے سینے میں عین دل کے مقام پر چھڑا کھونپ کر جاچکی تھی۔۔۔
آژمیر سیاہ قمیض شلوار پر سیاہ کوٹ پہنے روم سے نکل آیا تھا۔۔۔۔ اُس کی اندرونی حالت جتنی بھی اذیت بھری کیوں نہ سہی مگر آج اُس کی لاڈلی بہن کا نکاح تھا۔۔۔۔ اُسے ہر حال میں اِس میں شمولیت اختیار کرنی تھی۔۔۔
“آژمیر بیٹا آپ کی طبیعت ٹھیک ہے؟ میں کتنی بار آچکی آپ نے دروازہ ہی نہیں کھولا؟؟”
شمسہ بیگم بھی نکاح کے لیے تیار ہوچکی تھیں۔۔۔ اور ایک بار دوبارہ فکرمند سی آژمیر کے کمرے کی طرف بڑھی تھیں۔۔۔ جب وہ اُنہیں باہر نکتا نظر آیا تھا۔۔۔۔
“میں بالکل ٹھیک ہوں اماں سائیں۔۔۔۔۔ مجھے بھلا کیا ہونا ہے؟؟؟”
آژمیر اُن کی دیکھتا مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ بولا تھا۔۔۔
جسے شمسہ بیگم ایک لمحے میں پکڑ گئی تھیں۔۔۔ وہ ماں تھیں۔۔۔ اپنے بیٹے کی آنکھوں میں ہلکورے لیتی اذیت اور تکلیف سے انجان نہیں رہ پائی تھیں۔۔۔
دو دن پہلے ہی وہ کتنا خوش تھا۔۔۔ اتنے عرصے بعد اُس کے چہرے پر پہلے جیسی خوشی اور مسکراہٹ دیکھی تھی۔۔۔۔ مگر وہ سب تو ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملا تھا۔۔۔ ایک الگ ہی وحشت ناک سی اُداسی آژمیر کے چہرے پر پھیلی ہوئی تھی۔۔۔۔
“میں کل سے کال کررہی تھی آپ کو، کہ اپنے ساتھ میری ہونے والی بہو کو بھی لیتے آتے۔۔۔۔ سب کتنے ایکسائیٹڈ ہیں اُس سے ملنے کے لیے۔۔۔۔ میں بتا نہیں سکتی آپ کو۔۔۔۔ لیکن آپ نے میری کال ہی پک نہیں کی۔۔۔۔۔”
شمسہ بیگم اُس کی تکلیف سے انجان اُس کا موڈ ٹھیک کرنے کے لیے اُسی لڑکی کا ذکر کر گئی تھیں۔۔۔ جس کی وجہ سے اُنہوں نے اپنے بیٹے کو اتنا خوش دیکھا تھا۔۔۔۔
اُن کے سوال پر آژمیر نے جھٹکے سے سر اُٹھایا تھا۔۔۔۔ اُس کے نقوش نفرت اور شدید غصے سے تن چکے تھے۔۔۔۔ مٹھیاں سختی سے بھینچتے اُس نے بہت مشکل سے خود پر قابو رکھا تھا۔۔۔۔
“مر چکی ہے وہ میرے لیے۔۔۔۔ میری زندگی سے اُس کا نام و نشان ہمیشہ کے لیے مٹ چکا ہے۔۔۔۔ میں دوبارہ اُس کا ذکر نہیں سننا چاہتا۔۔ پلیز بی کیئر فل۔۔۔۔۔”
آژمیر بہت مشکل سے اپنا لہجہ نرم رکھنے کی کوشش کرتا اُن کو سرد و سپاٹ لہجے میں بولتا وہاں سے ہٹ گیا تھا۔۔۔۔
جبکہ شمسہ بیگم کتنے ہی لمحے اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں پائی تھیں۔۔۔ آژمیر کا یہ انداز، اُس کی اذیت شمسہ بیگم کو بہت کچھ سمجھا گیا تھا۔۔۔ مگر پھر بھی اُنہوں نے دماغ میں آتی سوچوں کو جھٹکتے فیصل کو کال ملائی تھی۔۔۔
جس سے کچھ نہ کچھ تو پتا چل ہی سکتا تھا۔۔۔
فیصل آژمیر کا خاص ترین آدمی تھا۔۔۔ جس کے منہ سے آژمیر کے بارے میں اُگلوانا بہت مشکل تھا۔۔۔ مگر آج اُن کی بے چینی اور ممتا بھری تڑپ دیکھ فیصل چھپا نہیں پایا تھا۔۔۔ اور نکاح کے علاوہ حاعفہ کے دھوکا دینے اور اُس کے طوائف ہونے کی ساری سچائی اُنہیں بتا دی تھی۔۔۔۔ جسے سن کر شمسہ بیگم کا دل پھٹنے کے قریب پہنچ گیا تھا۔۔۔ آژمیر اتنی اذیت سے گزر رہا تھا۔۔۔ مگر پھر بھی وہ اپنی بہن کی خوشی میں شریک ہونے پہنچ گیا تھا۔۔۔
@@@@@@@
زوہان نے نفیسہ بیگم کے ہمراہ میران پیلس میں قدم رکھا تھا۔۔۔ بلیک جینز کے اُوپر وہ بلیک شرٹ اور ہم رنگ کوٹ پہنے دلہے والے گیٹ اپ میں بالکل بھی نہیں تھا۔۔۔ مگر اِس مے باوجود اپنی شاندار پرسنیلٹی کے ساتھ وہ اندر داخل ہوتا ہر ایک کو اپنی جانب متوجہ کر گیا تھا۔۔۔
کتنی رشک و حسد بھری نگاہیں زوہان پر جمی ہوئی تھیں۔۔۔ جو آج خاندان کی نجانے کتنی لڑکیوں کا دل توڑتا زنیشہ میران جیسی خوش قسمت لڑکی کے نصیب میں لکھا جانا تھا۔۔۔ زوہان کے چہرے پر ایک الگ ہی فاتحانہ مسکراہٹ چھائی ہوئی تھی۔۔۔ آژمیر میران کی بہن کو اُسی کی مرضی سے اپنے نام لگوانے کی جیت میں۔۔۔۔۔
وہ انٹرنس پر آ کر نفیسہ بیگم کے ساتھ رُک گیا تھا۔۔۔ میران پیلس کے سبھی چھوٹے بڑے وہاں پر اُس کے والہانہ استقبال کے لیے جمع تھے۔۔۔ مگر زوہان کی متلاشی نظریں تو آژمیر کی تلاش میں ادھر اُدھر بھٹک رہی تھیں۔۔۔
جس کے استقبال کے بغیر وہ اندر آنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔۔۔۔ اُس کی یہ اکڑ اور غرور دیکھ میران پیلس کے کچھ لوگ جو زوہان کو سخت ناپسند کرتے تھے اِس وقت جل کر رہ گئے تھے۔۔۔۔
“زوہان اندر چلیں۔۔۔۔۔”
نفیسہ بیگم نے زوہان کو تنبیہی نگاہوں سے گھورا تھا۔۔۔۔ اگر آژمیر کو زوہان کی یہ اکڑ معلوم ہوجاتی تو اُس نے لمحہ بھی نہیں لگانا تھا رشتہ توڑنے میں۔۔۔۔
“ایک منٹ خالہ جانی میرے سالہ صاحب کو تو آنے دیں۔۔۔ اُن کے کہے کے بغیر میں اُن کی جاگیر میں قدم کیسے رکھ سکتا ہوں۔۔۔۔”
زوہان بھی اپنے نام کا ایک تھا۔۔۔ سب پر جتاتی نظر ڈالتا دبے لفظوں میں اپنی بات نہایت ہی خوش اخلاقی سے بیان کر گیا تھا۔۔۔۔
وہاں آئے سب لوگ بڑے مزے سے یہ ڈرامہ دیکھ رہے تھے۔۔۔۔ جب اُسی لمحے آژمیر نے وہاں قدم رکھا تھا۔۔۔ اور اُن سب کو گیٹ پر کھڑا دیکھ چلتا ہوا اُسی جانب آیا تھا۔۔۔۔
“کیا ہوا ملک زوہان۔۔۔ آج بھی میرے ڈر سے میران پیلس میں قدم رکھنے کی ہمت نہیں ہورہی کیا۔۔۔؟؟؟”
آژمیر نے آتے ساتھ ہی اُس پر گہرا طنز کیا تھا۔۔۔۔
وہ زوہان کے مقابل آن کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔
سب کی ستائشی نظریں اُن دونوں پر ٹکی ہوئی تھیں۔۔۔۔ دونوں ایک دوسرے سے بڑھ کر وجیہہ، ذہین اور مغرور تھے۔۔۔۔ دونوں میں سے کسی نے ہارنا نہیں سیکھا تھا۔۔۔۔
آژمیر کے سرد لہجے میں کیے گئے طنز پر سب لوگوں نے زوہان کی جانب دیکھا تھا کہ ابھی وہ اِس جملے پر بھڑک اُٹھے گا۔۔۔۔
“ہمت کی بات تو مت کریں میران صاحب۔۔۔۔ ہاں آج آپ کے منہ سے کچھ اچھا سننے کو دل چاہ رہا تھا۔۔۔۔ آخر کو آپ کا ہونے والا بہنوئی ہوں۔۔۔۔ اتنا حق تو بنتا ہے میرا۔۔۔۔”
زوہان آج خوش تھا اِس لیے اُس کی بات کا بُرا منائے بغیر بولا تھا۔۔۔۔
باقی سب کی سانسیں بھی کچھ حد تک بحال ہوئی تھیں۔۔۔
“تمہیں اپنی سب سے قیمتی ہستی سونپ رہا ہوں، اِس سے زیادہ اچھا کچھ نہیں کرسکتا میں۔۔۔۔۔ “
آژمیر اُس کو دو ٹوک جواب دیتا نفیسہ بیگم کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ اور اُنہیں بازو کے حصار میں لیے اندر بڑھ گیا تھا۔۔۔
زوہان نے خاموش نظروں سے اُس کا یہ عمل دیکھا تھا۔۔۔ دونوں کی رگوں میں ایک ہی خون بہتا تھا۔۔۔ پھر بھلا آژمیر کیسے جھک جاتا اُس کے سامنے۔۔۔۔
@@@@@@@@@
“کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟؟”
زوہان کا نام لیتے مولوی صاحب نے تیسری بار یہ الفاظ دوہرائے تھے۔۔۔ زنیشہ نے خوفزدہ گھبرائی نظروں سے اپنے ساتھ بیٹھے آژمیر کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
جو اُسے اپنے مضبوط حصار میں لیے بیٹھا تھا۔۔۔ ہمیشہ کی طرح آج بھی وہ اُس کی ڈھال بن کر اُس کے ساتھ تھا۔۔۔ شاید اُس کا سگا بھائی بھی اُس کے معاملے میں اتنا پوزیسو نہ ہوتا جتنا آژمیر اُس کا خیال کرتا تھا۔۔۔۔
“اُس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ اگر اُس نے تمہیں زرا سی خراش بھی پہنچائی تو اُسے سانسیں لینے کے مقابل نہیں چھوڑوں گا میں۔۔۔۔”
آژمیر کی بات پر زنیشہ کے دل کو کچھ ہوا تھا۔۔۔ زوہان اُسے چاہے جتنا بھی ستاتا مگر زوہان کے بارے میں وہ ایسا کچھ نہیں سن سکتی تھی۔۔۔
اب تو وہ زوہان کے حوالے سے کوئی شکایت بھی آژمیر سے کرنے کا ارادہ ترک کر چکی تھی۔۔۔ وہ اُن دونوں کو قریب لانا چاہتی تھی مزید دور نہیں۔۔۔۔
“قبول ہے۔۔۔”
زنیشہ کے لب ہولے سے پھڑپھڑائے تھے۔۔۔
ہر طرف مبارک سلامت کا شور اُٹھا تھا۔۔۔ جبکہ زنیشہ اپنے جملے حقوق اُس ستمگر کے نام لگوانے کے بعد آژمیر کے مضبوط سینے سے لگتی آنسو نہیں روک پائی تھی۔۔۔۔
زنیشہ کو اپنے ساتھ لگاتے آژمیر نے اُس کی پیشانی پر بوسہ دیا تھا۔۔۔ جب اُسی لمحے آژمیر کے موبائل پر میسج کا نوٹیفیکیشن ریسیو ہوا تھا۔۔۔ وہ پچھلے پندرہ منٹس سے فیصل کی بار بار آتی کال کاٹ رہا تھا۔۔۔
مگر اب موبائل سکرین آنکھوں کے سامنے لاتے جو میسج اُسے دیکھنے کا ملا تھا وہ اُس کی آنکھیں مزید سرخ کر گیا تھا۔۔۔ اُس نے لب بھینچتے بہت مشکل سے خود پر ضبط کیا تھا۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔