No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
صرف ثمن ہی زوہان کے قریب نہیں جاتی تھی۔۔۔ بلکہ زوہان خود بھی اُسے بہت اہمیت دیتا تھا۔۔ اکثر اُس کی بزنس میٹنگز میں ثمن اُس کے ساتھ پائی جاتی تھی۔۔۔ اُس کے سرکل کے لوگ تو یہی سمجھنے لگے تھے کہ عنقریب وہ دونوں شادی بھی کرلیں گے۔۔۔
ملک زوہان تو ویسے بھی سوسائٹی کا ہر دلعزیز تھا۔۔ خاص طور پر لڑکیوں کا مگر ثمن خان بھی کسی سے کم نہیں تھی۔۔ اتنی اہم پوسٹ پر ہونے کی وجہ سے ہر بندہ اُس کے ساتھ راہ و رسم بڑھانے اور اچھے تعلقات قائم کرنے کا خواہش مند تھا۔۔۔ لیکن ثمن خان تو صرف ملک زوہان کی دیوانی تھی۔۔۔۔ اُس کے سوا وہ کسی کی جانب ایک نگاہِ غلط بھی ڈالنا پسند نہیں کرتی تھی۔۔۔۔
“میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔ یہ چھوٹی موٹی تکلیف میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔۔۔۔۔”
زوہان کی آواز زنیشہ کے کانوں سے ٹکرائی تھی۔۔۔ آنکھوں میں پانی بھرے وہ ایسے ہی فون کان سے لگائے ہوئے تھی۔۔۔۔ اُس کی مدھم مدھم سانسیں زوہان کی سماعتوں سے ٹکراتیں اُسے ایک سرور سا بخش رہی تھیں۔۔۔۔
وہ زنیشہ کے بنا بولے ہی اُس کی خفگی اچھے سے سمجھ رہا تھا۔۔۔ جو نہ تو فون بند کررہی تھی نہ ہی اُس سے کوئی بات کررہی تھی۔۔۔
“ملنا چاہو گی مجھ سے۔۔۔۔۔؟؟”
زوہان گھمبیر لہجے میں بولتا زنیشہ کا کچھ دیر پہلے کا کہا سوال واپس اُسی سے کر گیا تھا۔۔۔ کیونکہ وہ اب اِس سوال کا جواب اچھے سے جانتا تھا۔۔۔
جبکہ اُس کے بولنے پر پاس کھڑی ثمن کا دھیان اُس کے کان سے لگے موبائل کی جانب گیا تھا۔۔ ملک زوہان کسی لڑکی سے بات کررہا تھا اور وہ لڑکی زنیشہ میران کے سوا کوئی نہیں ہوسکتی تھی۔۔۔ ثمن کو چند سیکنڈز لگے تھے سمجھنے میں۔۔۔ اُس نے حسرت بھری نگاہوں سے زوہان کی جانب دیکھا تھا۔۔ وہ ہر پل اپنے رب سے اِس شخص کو مانگتی تھی۔۔۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ کبھی اُس کا نہیں ہوسکتا تھا۔۔۔
مگر پھر بھی وہ ابھی تک ہمت نہیں ہاری تھی۔۔۔
“نہیں۔۔۔۔”
زنیشہ نے اپنی ناراضگی اور غصے پر قابو پاتے یک لفظی جواب دیا۔۔۔
زوہان زیرِ لب مسکرایا۔۔۔ جواب اُس کی سوچ کے عین مطابق تھا۔۔۔
دروازے پر دستک ہوئی تو زنیشہ نے پلٹ کر اُس جانب دیکھا تھا۔۔۔
جہاں سے ملازمہ اندر داخل ہورہی تھی۔۔۔
“زنیشہ بی بی آپ کو حسیب سائیں بلا رہے نیچے۔۔۔ مزمل دو دن کی چھٹی پر گیا ہے تو آژمیر سائیں نے کہا ہے تب تک حسیب سائیں کے ساتھ ہی آپ کو یونیورسٹی جانا آنا ہوگا۔۔۔۔”
ملازمہ اُس کے اشارے پر اپنا پیغام سناتی روم سے نکل گئی تھی۔۔۔
جبکہ دوسری جانب آگ بھگولا ہونے کی باری اب زوہان کی تھی۔۔ وہ ملازمہ کی بات سن چکا تھا۔۔۔ اور زنیشہ کا ہامی بھرنا بھی۔۔۔۔
” اُس کے ساتھ نہیں جاؤ گی۔۔۔۔ تمہارا بھائی باتیں تو بڑی بڑی کرتا ہے۔۔۔ دو دن کے لیے اپنے ضروری کام چھوڑ کر تمہاری حفاظت نہیں کر سکتا۔۔۔۔ خبردار جو تم اُس حسیب کے ساتھ گئی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔۔”
زوہان کا غصے بپھرا سرد لہجہ زنیشہ کو سہما گیا تھا۔۔۔
ثمن نے بھی بغور زوہان کی شدت پسندی دیکھی تھی۔۔۔ اِس وقت اُسے زنیشہ دنیا کی سب سے خوش قسمت لڑکی لگی تھی۔۔۔
“آپ ہوتے کون ہیں مجھے کسی بھی کام سے روکنے والے۔۔۔ میرے لیے میرے لالہ کا کہا ہے سب کچھ ہے۔۔۔ اگر اُنہوں نے مجھے کوئی حکم دیا ہے تو ہر صورت وہ مانوں گی میں۔۔۔۔”
زنیشہ کچھ دیر پہلے کا ثمن والا غصہ زوہان کو اِس طرح لوٹاتی کال کاٹ گئی تھی۔۔۔ وہ جانتی تھی زوہان شدید غصے میں آگیا ہوگا۔۔۔ اگر وہ مزید اُس کی غصیلی آواز سن لیتی تو اُس کے رعب میں آکر حسیب کے ساتھ جانے سے انکار کردیتی۔۔۔۔
اِس لیے مزید اُس کی بات نہ سننا ہی زنیشہ کو مناسب لگا تھا۔۔۔۔
اُسے آج یونیورسٹی نہیں جانا تھا۔۔۔ مگر موجودہ سچویشن کو دیکھتے زوہان کو مزید تپانے کے لیے اُسے یونی جانا تھا اور وہ بھی حسیب کے ساتھ۔۔۔۔
@@@@@@@
زوہان کو زنیشہ سے اتنی جرأت کی اُمید بالکل بھی نہیں تھی کہ وہ یوں کال کاٹ دے گی۔۔۔ اُس نے دوبارہ کال ملائی تھی۔۔۔ مگر زنیشہ اپنا فون سوئچ آف کرچکی تھی۔۔۔ زوہان کا طیش کے مارے بُرا حال تھا۔۔۔ اُس نے ہاتھ میں پکڑا موبائل پوری شدت سے موبائل پر دے مارا تھا۔۔۔۔
ثمن جو اُس کے قریب ہی کرسی پر بیٹھی باآسانی اُن دونوں کی گفتگو سن رہی تھی۔۔۔۔ زوہان کے اِس جارحانہ عمل پر کچھ لمحے خاموش نگاہوں سے اُسے دیکھے گئی تھی۔۔۔
“تو آخر کار ملک زوہان بھی اِس جان لیوا مرض میں مبتلا ہونے سے خود کو نہیں روک پایا ہے۔۔۔۔ “
ثمن بیڈ پر کہنی رکھ کر اُس پر چہرے ٹکاتی ہلکا سا زوہان کے قریب جھکی تھی۔۔۔۔
جس کا چہرا اور آنکھیں غصے کی شدت سے لال ہوچکی تھیں۔۔۔۔
“تمہیں معلوم ہے یہ محبت نہیں میری ضد اور جنون ہے۔۔۔ اُس کے بغیر میں رہ سکتا ہوں۔۔۔ مگر اُسے کسی اور کا ہوتا نہیں دیکھ سکتا۔۔۔ وہ مجھ سے ضد باندھ کر میرے انتقام کو مزید ہوا دے رہی ہے۔۔۔۔ جس میں نقصان صرف اُسی کو اُٹھانا پڑے گا۔۔۔۔”
زوہان کو ثمن کی بات مزید غصہ دلا گئی تھی۔۔۔
ثمن نے جانچتی نگاہوں سے زوہان کو دیکھا تھا۔۔ اُسے زوہان کے اِس بے انتہا جنون سے خوف محسوس ہوا تھا۔۔۔۔
وہ جانتی تھی یہ جنون جلد یا بدیر شدید عشق میں بدلنے والا تھا۔۔۔ جسے جھٹلانا ملک زوہان کے بس میں نہیں ہونا تھا۔۔۔
“وہ تم سے محبت کرتی ہے۔۔ شاید تم سے بھی جواباً یہی چاہتی ہے۔۔۔ کہ تم اُس کی خاطر میران خاندان سے دشمنی ختم کردو۔۔۔۔۔”
ثمن نے مخلصانہ انداز کے ساتھ زوہان کے آگے زنیشہ کی سوچ واضح کی تھی۔۔۔۔
“وہ صرف اپنے بھائی آژمیر میران سے محبت کرتی ہے۔۔۔ میں اُس کی محبت کی نہیں بلکہ نفرت کی فہرست میں آتا ہوں۔۔۔۔ اگر مجھ سے محبت کرتی ہوتی تو اب تک میرے پاس ہوتی۔۔۔۔۔”
زوہان زخمی مسکراہٹ کے ساتھ گویا ہوا تھا۔۔۔ جبکہ اُس کا دل زور و شور سے اُس کی بات کی نفی کررہا تھا۔۔۔ مگر زوہان بہت آرام سے اُس آواز کو دل کے ہی کسی کونے میں دبا گیا تھا۔۔۔
ثمن نے جواب میں خاموش رہنا ہی مناسب سمجھا تھا۔۔۔ زوہان پہلے ہی غصے سے بپھرا ہوا تھا۔۔ وہ اِس حوالے سے اُسے چھیڑ کر خود سے بھی ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔
@@@@@@@@
آژمیر سیدھا حاعفہ کے فلیٹ میں پہنچا تھا۔۔۔ دروازہ کھلا ہونے کے باوجود اُس نے بیل بجانا مناسب سمجھا تھا۔۔۔ مگر مسلسل دو تین بیلز کے بعد بھی اندر سے کسی قسم کی کوئی ہلچل سنائی نہیں دی تھی۔۔۔ اور نہ ہی کوئی دروازے پر آیا تھا۔۔۔
آژمیر کو حیرت کے ساتھ ساتھ تشویش بھی ہوئی تھی۔۔۔ حاعفہ اُسے اتنی لاپرواہ تو بالکل بھی نہیں لگتی تھی کہ اکیلے رہتے یوں گیٹ اَن لاک رکھے گی۔۔۔۔
جب حالات بھی اتنے خراب تھے۔۔۔۔
آژمیر نے اندر قدم بڑھانے سے پہلے آفس کال کرکے حاعفہ کا ایڈریس کنفرم کیا تھا۔۔۔ جہاں سے اُسے
اِسی بلنڈنگ کا یہی فلیٹ نمبر بتایا گیا تھا۔۔۔۔
آژمیر کو چند سیکنڈز لگے تھے فیصلہ کرنے میں۔۔۔ وہ دروازہ ہلکے سے دھکیلتا اندر داخل ہوا تھا۔۔۔
چھوٹا سا کوریڈور کراس کرتا وہ ٹی وی لاؤنج میں داخل ہوا تھا۔۔۔ جو بالکل ویران پڑا تھا۔۔۔
سامنے کی دو رومز بنے تھے جن کے دروازے بند تھے۔۔۔ آژمیر تیزی سے ایک میں داخل ہوا تھا۔۔ نجانے کیوں اُس کا دل بوجھل سا ہوا تھا۔۔ حاعفہ کے کسی مصیبت میں ہونے کا خیال ہی اُس کے اعصاب پر بہت بھاری پڑ رہا تھا۔۔۔
یہ کمرہ بھی خالی دیکھ عجیب سی بے چینی اُس کے رگ و پے میں سرایت کر گئی تھی۔۔۔ دائیں ہاتھ سے پیشانی کو مسلتے وہ پہلے سے بھی زیادہ تیزی سے دوسرے کمرے کی جانب بڑھا تھا۔۔۔
جب روم کا دروازہ کھولتے ہی سامنے کا منظر دیکھ اُس کے پیروں تلے سے زمین کھسک گئی تھی۔۔۔۔ دروازے پر ساکت کھڑا وہ ہینڈل کو اپنی مُٹھی میں سختی سے دبوچ گیا تھا۔۔۔۔
@@@@@@@@@
ماورا نے اپنے آپ کو بہت مشکل سے نارمل کرتے یونی میں قدم رکھا تھا۔۔۔ وہ منہاج درانی کی وجہ سے اپنا مستقبل داؤ پر نہیں لگا سکتی تھی۔۔۔۔ اور نہ حاعفہ کو مزید ناراض کر سکتی تھی۔۔ وہ فیصلہ کرچکی تھی کہ اِس نکاح والی حقیقت کو ہمیشہ کے لیے اپنے دل کے تہہ خانے میں چھپا کر رکھ دے گی۔۔۔ مگر کبھی منہاج درانی سے بھیک نہیں مانگے گی۔۔۔۔
ماورا اِن جان لیوا سوچوں کو جھٹکتی اپنے ساتھ چلتی بیلا کی جانب متوجہ ہوئی تھی۔۔۔۔
“ماورا وہ دیکھو۔۔۔۔”
بیلا نے دائیں جانب اشارہ کیا تھا۔۔۔ جہاں منہاج درانی اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑا کسی بات پر مسکراتا اُن کی جانب متوجہ نہیں تھا۔۔۔۔
بیلا کی نگاہوں کے تعاقب میں دیکھتے ماورا کی نظر جیسے ہی منہاج درانی کے دلکش مسکراہٹ سے سجے خوبرو چہرے پر پڑی، تو اُسکی آنکھوں میں مرچیں سی بھر گئی تھیں۔۔۔
اُس نے لمحے کے ہزارویں حصے میں نگاہیں پھیر لی تھیں۔۔۔
“ہر ایک کے سامنے دنیا کا سب سے مہذب اور ایماندار انسان بنا پھرتا ہے۔۔۔ منافق اور دوغلا انسان۔۔۔۔ “
ماورا کی آنکھیں ضبط کے چکر میں سرخ ہوئی تھیں۔۔
“تو تم بےنقاب کردو اِسے۔۔۔۔ ایچ او ڈی بہت اچھے ہیں وہ تمہاری بات پر تحقیق ضرور کروائیں گے۔۔۔ اور اگر ایک بار مولوی اور گواہان سامنے آگئے تو منہاح درانی نہیں مکر پائے گا۔۔۔۔”
بیلا سے اُس کی تکلیف دیکھنا بہت مشکل تھا۔۔۔
“بے نقاب کرنے سے کیا ہوگا۔۔۔؟؟؟ میں مزید بدنام ہوجاؤں گی۔۔۔۔ میرے کوٹھے والے آکر مجھے لے جائیں گے۔۔۔ اور منہاج درانی کو زرا برابر بھی فرق نہیں پڑے گا۔۔۔۔ زندگی برباد ہوگی تو میری۔۔۔۔”
ماورا تلخی سے بولتی بیلا کے ساتھ کیفے ٹیریا کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔
اِس وقت اُس کی کنڈیشن کلاس اٹینڈ کرنے والی بالکل بھی نہیں تھی۔۔۔
“ماورا تم نے مجھ سے پرامس کیا تھا۔۔۔ منہاج درانی کی وجہ سے اپنے آپ کو ہرٹ نہیں ہونے دو گی۔۔۔ اُس کے ہونے نہ ہونے سے تمہیں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔۔۔ فوراً صاف کرو یہ آنسو۔۔۔ تم ایک بریو لڑکی ہو۔۔۔۔”
بیلا اُس کے سامنے رکھی چیئر پر بیٹھ کر اُس کا ہاتھ نرمی سے تھامتی مصنوعی خفگی سے بولی۔۔۔ اُس کے انداز پر ماورا کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری تھی۔۔۔۔ بھیگی آنکھوں اور مسکراتے چہرے کے ساتھ وہ اِس لمحے بے پناہ حسین لگی تھی۔۔۔ جب عین اُسی وقت کیفے ٹیریا میں داخل ہوتے منہاج کی نظر اُس کی جانب اُٹھی تھی۔۔۔۔ اور پھر پلٹنا بھول گئی تھی۔۔۔ اُس کے بھیگے گلابی گال اور نم آلود ہیزل گرین آنکھیں۔۔۔ سادگی میں بھی وہ قیامت کا حُسن رکھتی تھی۔۔۔
گہری نگاہوں کی تپیش پر ماورا نے اردگرد نظریں گھمائی تھیں۔۔۔۔ جب اُس کی نظریں منہاج کی لال آنکھوں سے ٹکرائی تھیں۔۔۔۔
چہرے پر نفرت بھرے تاثرات سجائے وہ فوراً سے بیشتر نگاہیں پھیر گئی تھی۔۔۔۔ منہاج نے بہت غور سے اُس کا یہ عمل دیکھا تھا۔۔۔ وہ گہری سانس بھرتا سر جھٹکتا دوسرے ٹیبل کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔
ماورا بھی بیلا کی جانب متوجہ ہوئی تھی۔۔۔
“ماورا میں تو کہتی ہوں۔۔۔ مل کر منہاج درانی کو مزا چکھاتے ہیں۔۔۔۔ جو اُس نے کیا اُتنی بڑی تکلیف تو نہیں پہنچا سکتے اُسے۔۔۔ مگر اپنی چھوٹی موٹی حرکتوں سے اُس کا جینا اجیرن تو بنا سکتے ہیں نا۔۔۔۔”
بیلا آنکھوں میں شرارت بھرے اُس کی جانب دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔
“کیا مطلب میں سمجھی نہیں؟”
ماورا نے ناسمجھی سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
“آگے ہو۔۔۔”
بیلا اردگرد بیٹھے سٹوڈنٹس کا خیال کرتی اُس کے کان میں سرگوشی بھرے انداز میں اپنا ابھی تازہ تازہ بنایا پلان بنانے لگی تھی۔۔۔
جسے سن کر ماورا کی ہنسی چھوٹ گئی تھی۔۔۔
“نہیں۔۔۔۔”
اُس نے نفی میں سر ہلاتے منہاج کے ساتھ ایسا کوئی بھی مذاق کرنے سے صاف انکار کیا تھا۔۔۔ اگر وہ پکڑی جاتیں تو۔۔۔۔
“ماورا یقین کرو۔۔۔ بہت مزا آئے گا۔۔۔ دیکھنا تمہیں وہ منظر دیکھ کر کتنا سکون ملے گا۔۔۔۔”
ماورا کے انکار کے باوجود بیلا اُسے اِس بات پر رضامند کرنے پر بضد تھی۔۔۔۔
@@@@@@@@
زنیشہ زوہان کے منع کرنے کے باوجود جان بوجھ کر یونی آگئی تھی۔۔۔ مگر زوہان سے بغاوت کرنے کے بعد اُس کا دل اندر سے خوفزدہ بھی بہت تھا۔۔۔ ملک زوہان سے کوئی بعید نہیں تھی کہ وہ اپنی بات نہ مانے جانے پر زخمی ہونے کے باوجود یونیورسٹی آن دھمکتا۔۔
ایک ہی کلاس لے کر اُس کا واپس جانے کا ارادہ تھا ۔۔ وہ سے کلاس لے کر نکلی ہی تھی جب اُس کے موبائل پر مزمل کی کال آنے لگی تھی۔۔۔
کال اٹینڈ کرتے اُس نے فون کان سے لگایا تھا۔۔۔ جب دوسری جانب سے اُسے مزمل کی پریشان سی آواز سنائی دی تھی۔۔۔۔
“کیا ہوا مزمل سب ٹھیک ہے؟؟؟؟”
زنیشہ بھی فوراً پریشان ہو اُٹھی تھی۔۔۔
“بی بی جی وہ آژمیر سائیں کا بہت بُرا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے۔۔۔ اُن کی کنڈیشن بہت سیریس ہے۔۔۔ آپ کی یونی کے باہر ڈرائیور بھیج دیا ہے۔۔۔ آپ فوراً ہاسپٹل پہنچیں۔۔۔۔ زیادہ وقت نہیں ہے ہمارے پاس۔۔۔۔”
مزمل کے الفاظ زنیشہ کا سینہ چھلنی کر گئے تھے۔۔۔ پاس موجود پلڑ کو تھامتے اُس نے پانے لڑکھڑاتے وجود کو سہارا دیا تھا۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
