No Download Link
Rate this Novel
Episode 46
“لالہ۔۔۔۔ آپ آگئے۔۔۔۔”
آژمیر کو اپنے سارے ضروری کام پسِ پشت ڈال کر صرف اپنی خاطر وہاں آتا دیکھ زنیشہ خوشی سے کھل اُٹھی تھی۔۔۔
اُس کے سینے سے لگتے زنیشہ کے چہرے پر سکون پھیل گیا تھا۔۔۔۔ یہ دو لوگ اُس کی زندگی کا حاصل تھے۔۔۔ وہ یہ جان کر بے پناہ خوش تھی کہ اِن دونوں کے دل میں بھی ایک دوسرے کے لیے نفرت نہیں تھی۔۔۔ وہ دونوں بھی ایک دوسرے سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔۔۔۔
بس اُس احساس کو خود ساختہ نفرت کے منہ کھوٹے کے نیچے چھپا رکھا تھا۔۔۔
“ماشاءاللہ میری گڑیا بہت پیاری لگ رہی ہے۔۔۔۔ “
آژمیر زنیشہ کو بازو کے حلقے میں لیے کھڑا تھا۔۔۔ اُس کی نظر ابھی تک ٹیبل پر جھکی حاعفہ پر نہیں پڑ سکی تھی۔۔۔۔
جو اپنے گرد پھیلی اُس کی خوشبو اپنی سانسوں میں اُترتی محسوس کررہی تھی۔۔۔۔
“آژمیر میری بیٹیوں سے نہیں ملو گے۔۔۔۔؟؟؟”
حمیرا بیگم کہ نظر ماورا پر پڑی تھی جو زنیشہ کے ساتھ کھڑی حسرت بھری نظروں سے بھائی بہن کے اِس پیارے رشتے کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
حمیرا بیگم کے دل کو کچھ ہوا تھا۔۔۔۔ وہ ماورا کو بازو کے حلقے میں لیے آژمیر کے مقابل آن کھڑی ہوئی تھیں۔۔۔۔
“یہ ماورا میری چھوٹی بیٹی۔۔۔۔”
حمیرا بیگم جس اپنائیت سے ماورا کا تعارف کروا رہی تھیں۔۔۔ آژمیر اُن کی اعلی ظرفی سے بہت متاثر ہوا تھا۔۔۔
“السلام و علیکم ۔۔۔۔”
آژمیر کو اُسی طرح خاموش کھڑا دیکھ ماورا نے پہل کی تھی۔۔۔ اُسے محسوس ہوا تھا شاید حاعفہ کی وجہ سے آژمیر اُس سے بھی بات کرنا پسند نہ کرے۔۔۔
“وعلیکم اسلام! آپ کو اپنی اصل جگہ پر دیکھ کر بہت اچھا لگا۔۔۔۔ “
آژمیر سنجیدگی سے بولا تھا۔۔۔۔
“شکریہ۔۔۔۔ “
آژمیر کے اتنے اچھے سے بات کرنے پر ماورا کھل اُٹھی تھی۔۔۔
کیا میں آپ کو لالہ کہہ سکتی ہوں؟؟؟”
آژمیر کے الفاظ پر اُس کی ہمت بندھی تھی۔۔۔ آژمیر کی رعب دار شخصیت دیکھ وہ اچھے سے حاعفہ کے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سمجھ گئی تھی۔۔۔۔
حاعفہ دوپٹہ کا پلو چہرے کے آگے ٹھیک کرتی خاموشی سے وہاں سے کھسکنے کا ارادہ کرتے مُڑی تھی۔۔۔
“جی کہہ سکتی ہیں۔۔۔۔ آپ بھی میرے لیے زنیشہ کی طرح ہیں۔۔۔ کبھی بھی کوئی بھی پرابلم ہو آپ مجھ سے شیئر کرسکتی ہیں۔۔۔۔ “
آژمیر کو یہ نروس سی معصوم لڑکی بہت اچھی لگی تھی۔۔۔ جو بالکل زنیشہ کی طرح اُس کے سامنے کچھ کہنے نہ کہنے کی کشمکش میں مبتلا کھڑی تھی۔۔۔
آژمیر اُس کی کیفیت سمجھتا اُس کی ہمت بڑھا گیا تھا۔۔۔۔
“تھینکیو سو مچ لالہ۔۔۔۔ آپ میری سوچ سے بھی زیادہ اچھے ہیں۔۔۔۔”
ماورا کو یہ سامنے کھڑا پرکشش پرسنیلٹی کا شخص اپنی پیاری بہن کے لیے بالکل پرفیکٹ لگا تھا۔۔۔۔
“ارے حاعفہ بیٹا کہاں جارہی ہو۔۔۔؟؟؟ آژمیر سے نہیں ملو گی؟؟؟ یہاں آؤ…..”
شمسہ بیگم وہاں سے رُخ موڑے جاتی حاعفہ کو دیکھ پکار بیٹھی تھیں۔۔۔
جہاں حاعفہ کے قدم زمین میں جکڑے گئے تھے۔۔۔ وہیں آژمیر کی نگاہیں بھی بے اختیار اُس کی جانب اُٹھی تھیں۔۔۔۔
رُخ موڑے کھڑی اُس سجی سنوری دوشیزہ کو دیکھ آژمیر یہاں سے بھی اُس کی کپکپاہٹ کا اندازہ لگا سکتا تھا۔۔۔
حاعفہ دوپٹہ مٹھیوں میں جکڑے دھک دھک کرتے دل کے ساتھ پلٹی تھی۔۔۔
“اماں سائیں مجھے ابھی آپ لوگ اپنا فنکشن انجوائے کریں۔۔۔۔ باقی باتیں بعد میں ہونگی۔۔۔۔”
آژمیر اپنی جانب پلٹتی حاعفہ پر ایک نگاہِ غلط بھی ڈالے بغیر وہاں سے ہٹ گیا تھا۔۔۔
زنیشہ نے خفگی بھری نظروں سے دور جاتے بھائی کو دیکھا تھا۔۔۔ جو کبھی کبھار یوں ہی روڈ ہوجاتا تھا۔۔۔
باقی سب بھی شرمندہ سی ہوگئی تھیں۔۔۔
“حاعفہ بیٹا وہ آژمیر۔۔۔۔۔”
شمسہ بیگم نے کچھ کہنا چاہا تھا۔۔۔۔
” تائی جان کوئی بات نہیں۔۔۔۔ “
حاعفہ بمشکل مسکرا کر اُنہیں جواب دیتی وہاں سے جلدی سے نکل آئی تھی۔۔ کیونکہ کچھ منہ زور آنسو اُس کی پلکوں کی باڑ توڑ کر باہر آگرے تھے۔۔۔
آژمیر کا اِس طرح صاف نظر انداز کرنا حاعفہ کی تکلیف میں مزید اضافہ کر گیا تھا۔۔۔ جس کے لیے اُس نے اپنا یہ رُوپ سجایا تھا۔۔۔ اُس کے لیے وہ کسی قابل ہی نہیں تھی۔۔۔۔۔۔
@@@@@@@@@
زوہان اپنے سامنے لیپ ٹاپ کھولے۔۔۔۔ اپنے لندن والے کلائنٹ سے ویڈیو ڈسکشن میں بہت امپورٹنٹ ٹاپک پر پورے انہماک سے میٹنگ کرنے میں مصروف تھا۔۔۔۔ جب سائیڈ ٹیبل پر رکھے اُس کے موبائل پر ایک خاص رنگ ٹون بجی تھی۔۔۔۔
جو اُس نے خاص طور پر زنیشہ کی کال اور میسیجز کے لیے مختص کر رکھی تھی۔۔۔۔
اِس وقت بھی میٹنگ میں ہونے کے باوجود وہ موبائل اُٹھاتا وہ میسج نوٹیفیکیشن اوپن کر گیا تھا۔۔۔۔ مگر سکرین پر اُبھرتی تصویر دیکھ وہ کتنے ہی لمحے نظریں پھیرنے کے قابل نہیں رہا تھا۔۔۔۔
ییلو رنگ کے لہنگے میں پھولوں کے زیور سے سجی وہ حسین پری کوئی اور نہیں بلکہ اُس کی زنیشہ میران تھی۔۔۔۔۔ اُس سے ناراضگی کے باوجود زوہان اُس کو کسی قیمت پر نظر انداز نہیں کر پایا تھا۔۔۔۔
جبکہ سامنے لیپ ٹاپ کی سکرین پر کچھ امپورٹنٹ پوائنٹ ڈسکس کرتا مسٹر ڈیویڈ اُسے بلا بلا کر تھک گیا تھا مگر زوہان کے لیے تو جیسے وہ تصویر اِس کڑوروں کی ڈیل سے کہیں زیادہ قیمتی تھی۔۔۔۔
اور اُوپر سے یہ تصویر اُسے زنیشہ نے خود اپنے موبائل سے سینڈ کی تھی۔۔۔۔
“مسٹر زوہان آر یو اوکے۔۔۔۔۔؟؟؟؟”
مسٹر ڈیویڈ بچارہ اُسے پکار پکار کر آخر میں مایوسی بھرے لہجے میں اُسے پکارتے ہوئے بولا تھا۔۔۔۔
“اوہ آئم سوری مسٹر ڈیویڈ۔۔۔۔۔ پلیز کانٹینیو۔۔۔۔۔”
زوہان کو اچانک ہوش آیا تھا۔۔۔
اُس کے اتنی دیر بعد جاکر رسپانس کرنے پر مسٹر ڈیویڈ نے بھی شکر ادا کیا تھا۔۔۔۔
لیکن اُس کے بعد زوہان کوشش کے باوجود پوری میٹنگ میں ایک بار بھی ٹھیک سے دھیان نہیں دے پایا تھا۔۔۔۔
اور میٹنگ انتہائی بُری رہی تھی۔۔۔
مگر زوہان کو اِس کی پرواہ نہیں تھی۔۔۔
لیپ ٹاپ بند کرتے اُس نے فلحال کے لیے ساری ناراضگی پس پشت ڈالتے زنیشہ کا نمبر ڈائل کیا تھا۔۔۔۔
یہ ایک چھوٹی سی بات ہی اُس کا دل نرم کرنے کی وجہ ثابت ہوئی تھی کہ زنیشہ نے خود اُسے اپنی تصویر سینڈ کی ہے۔۔۔۔
@@@@@@@@@
“آپی آپ یہاِں ہیں اور میں کب سے آپکو ہال میں ڈھونڈ رہی تھی۔۔۔۔”
ماورا حاعفہ کو سیڑھیوں کی جانب بڑھتا دیکھ اُس کے قریب آئی تھی۔۔۔۔
“ہاں میرے سر میں بہت درد ہورہا ہے۔۔۔ میں ریسٹ کرنے اپنے روم میں جارہی ہوں۔۔۔”
حاعفہ اُس سے اپنے آنسو چھپاتے رُخ موڑے بولی۔۔۔
“آپی آپ اتنی جلدی ہمت کیسے ہار سکتی ہیں۔۔۔؟؟؟ مجھے بابا نے بتایا ہے کہ آژمیر لالہ کی سپورٹ کی وجہ سے ہی ہمیں اِس گھر میں سب نے قبول کیا ہے۔۔۔۔ تو اِس کا مطلب یہی ہوا نا کہ آژمیر لالہ بھی آپ کو یہاں دیکھنا چاہتے ہیں۔۔۔”
ماورا اُس کی بھیگی آنکھیں دیکھ چکی تھی۔۔۔
“میں نے ہار نہیں مانی ماورا۔۔۔۔۔ اور نہ کبھی زندگی میں آژمیر کے حوالے سے ہار مانوں گی۔۔۔۔ مجھے لگتا ہے میں محبت کی دہلیز پار کرکے اُن سے عشق کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھ چکی ہوں۔۔۔ اُن کے لیے میری چاہت دیوانگی کی حدوں کو چھو چکی ہے۔۔۔۔ اور میں یہ بھی جانتی ہوں کہ جو کچھ میں اُن کے ساتھ کر چکی ہوں۔۔۔ اُس کے بعد میں اُن کے اِس سے بھی کہیں زیادہ بُرے رویہ کی مستحق ہوں۔۔۔۔۔ اُن کی عزت میری نگاہوں میں مزید بڑھ چکی ہے۔۔۔ آژمیر میران جیسا انسان قسمت والوں کو ملتا ہے۔۔۔۔ اور میں اپنے آپ کو دنیا کی سب سے خوش قسمت لڑکی تصور کر تی ہوں۔۔۔۔
مگر ماورا نجانے کیوں دل کو عجیب سا دھڑکا لگا ہوا ہے۔۔۔۔ میں آژمیر کو پانے سے پہلے ہی کھو دینے سے ڈرتی ہوں۔۔۔ مجھے لگتا ہے وہ مجھ سے دور ہوجائیں گے۔۔۔۔ اور اگر ایسا ہوا تو میں زندہ نہیں رہ پاؤں گی۔۔۔۔۔ مرجاؤں گی اُن کے بغیر میں۔۔۔۔۔”
حاعفہ آنسوؤں کے درمیان بولتی ماورا کا دل بھی دکھ سے بھر گئی تھی۔۔۔۔ نجانے وہ دن کب آنے والا تھا جب اُس کی بہن کی دکھوں بھری زندگی خوشیوں میں بدلے گی۔۔۔
“چچ چچ چچ۔۔۔۔ بچاری حاعفہ۔۔۔۔۔ میری دیکھا دیکھی آژمیر کے لیے تیار ہوئی تھی تم۔۔۔۔ اور اُنہوں نے تم پر ایک نگاہ ڈالنی بھی ضروری نہیں سمجھا۔۔۔۔۔ کہیں آژمیر میران کے اِس محل میں آکر اُن کے دل کی ملکہ بننے کے سپنے تو نہیں دیکھنے لگ گئی تم۔۔۔۔”
حاعفہ کی آخر میں بولی آدھی ادھوری بات سنتے اور سمجھنے کی کوشش کرتے سویرا اپنے اندر کی بھڑاس اُس پر نکال گئی تھی۔۔۔۔
“سویرا اپنی زبان سنبھال کر بات کرو۔۔۔۔”
ماورا نے پلٹ کر اُسے ٹوکا تھا۔۔۔۔۔ وہ اچھے سے جانتی تھی کہ سویرا حاعفہ کے غیر معمولی حُسن سے کس قدر خائف ہے۔۔۔۔
“کیا ہورہا ہے یہاں….؟؟؟؟”
اِس سے پہلے کہ سویرا مزید اپنی زبان کھولتی۔۔۔۔ حاعفہ کو اپنے عقب سے اُس دشمنِ جاں کی آواز سنائی دی تھی۔۔۔۔ اُس کی دھڑکنیں پھر سے بے قابو ہوئی تھیں۔۔۔۔
“کچھ نہیں وہ۔۔۔۔۔”
سویرا آژمیر کے سامنے اپنا یہ رُوپ نہیں لانا چاہتی تھی اِس لیے ایک دم گھبرا گئی تھی۔۔۔
“میں زنیشہ کی خوشی میں کوئی فضولیات نہیں چاہتا۔۔۔۔۔”
سویرا کو پر ایک سخت نظر ڈال کر اُسے وارن کرتے آژمیر نے وہاں سے جانے کا اشارہ کردیا تھا۔۔۔۔
جس پر سویرا کے ساتھ ساتھ ماورا بھی جلدی سے نکل آئی تھی۔۔۔۔
حاعفہ نے بھی اُن کے پیچھے جانے کے لیے قدم آگے بڑھائے ہی تھے۔۔۔۔ جب عین پیچھے کھڑے آژمیر نے اُس کی کلائی دبوچتے اپنی جانب کھینچ لیا تھا۔۔۔
حاعفہ اِس حملے کے لیے بالکل بھی تیار نہیں تھی۔۔۔۔ سیدھی اُس کے سینے سے جاٹکرائی تھی۔۔۔۔
حاعفہ کا پورا وجود آژمیر کے لمس پر لرزنے لگا تھا۔۔۔ جبکہ آژمیر تو حاعفہ کا یہ قاتلانہ حُسن دیکھ پہلی نگاہ میں ہی پوری طرح گھائل ہوگیا تھا۔۔۔۔
جس قدر غصے میں اُس نے حاعفہ کو اپنے قریب کیا تھا۔۔۔ حاعفہ کا یہ سہانہ رُوپ اُس کو ہپنوٹائز سا کر گیا تھا۔۔۔ اُس کا ہر ہر عمل بتاتا تھا اُسے اب بھی بے پناہ محبت تھی اِس بے وفا لڑکی سے۔۔۔۔
شفاف گالوں پر بلش آن سے بھی زیادہ اُس کی قربت کی سُرخی چھاگئی تھی۔۔۔۔ لال لپسٹک لگے اُس کے نازک پنکھڑیوں سے کپکپاتے لب اور اُن سے زرا اُوپر چمکتا سیاہ تل آژمیر کو مکمل طور پر اپنے سحر میں جکڑ گئے تھے۔۔۔ حاعفہ اُس کے چوڑے سینے پر دونوں ہتھیلیاں جمائے کھڑی پوری طرح سے اُس کے ساتھ لگی ہوئی تھی۔۔۔
وہ دونوں ہی اِس وقت بھول چکے تھے کہ وہ بیڈ روم میں نہیں بلکہ مہمانوں سے بھرے گھر کے ڈرائنگ روم میں کھڑے ہیں۔۔۔۔
ْمگر وہ آژمیر میران تھا اُسے اپنے آپ پر پورا اختیار تھا۔۔۔ اُس کے مضبوط اعصاب کا مالک ہونے کا ثبوت ہی یہی تھا کہ وہ کمزور لمحوں میں بھی حاعفہ جیسی بے حد حسین قیامت خیز حُسن کی مالک لڑکی کو اپنے قریب آنے سے دھتکار چکا تھا۔۔۔
“تمہیں کیا لگتا ہے یہ سب کرکے۔۔۔۔ میرا پیار حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاؤ گی۔۔۔۔؟”
حاعفہ کے بالوں میں ہاتھ پھنسائے وہ اُس کا چہرا اپنے بے حد قریب کرچکا تھا۔۔۔۔ اور اگلے ہی لمحے آژمیر کا شدت بھرا لمس اُسے اپنے تل پر محسوس ہوا تھا۔۔۔ حاعفہ اِس دھکتے لمس پر جی جان سے لرز اُٹھی تھی۔۔۔۔ آژمیر کی گرم سانسیں اُس کا چہرا جھلسا رہی تھیں۔۔۔
حاعفہ کی جان مشکل میں پڑ چکی تھی۔۔ اِس شخص کی اتنی قربت برداشت کرنا اُس کے بس کی بات نہیں تھی۔۔۔۔
اُس نے چند قدم پیچھے ہٹنا چاہا تھا جب آژمیر اُس کی نازک کمر میں ہاتھ ڈالتا اپنے مزید قریب کر گیا تھا۔۔۔ اتنا کہ دونوں ایک دوسرے کی سانسیں با آسانی محسوس کرسکتے تھے۔۔۔۔
“ایسی غلطی دوبارہ مت کرنا۔۔۔۔۔ ورنہ مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔۔”
حاعفہ کے کان پر جھک کر گھمبیر بھاری سرگوشیانہ لہجے میں بولتا وہ اُس کی دھڑکنوں کا نظام درہم برہم کرگیا تھا۔۔۔۔۔ حاعفہ کا یوں دور ہونا آژمیر کو شدید غصہ دلا گیا تھا۔۔۔ اِس لیے اُس نے فوراً وارن کیا تھا۔۔۔۔
حاعفہ اُس کے ہاتھ کا لمس اپنی کمر پر محسوس کرتی کانپ اُٹھی تھی۔۔۔۔ اُس نے آژمیر کی شرٹ دونوں مٹھیوں میں دبوچ لی تھی۔۔۔۔
“آژمیر۔۔۔۔ میں…..”
حاعفہ نے کچھ کہنا چاہا تھا۔۔۔۔
مگر اُس کے کچھ بولنے سے پہلے ہی آژمیر حاعفہ کو اپنی گرفت سے آزاد کر گیا تھا۔۔۔۔
حاعفہ نے اُس کے یوں اچانک دور ہوجانے پر خوفزدہ نظروں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
“میرے لیے چائے لے کر آؤ۔۔۔۔۔”
آژمیر اُس کی خطرناک حد تک لال پڑتی رنگت دیکھ کر بولتا ہال کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔۔
آژمیر کو خود پر اِس وقت شدید غصہ آرہا تھا۔۔۔۔ اُسے ہمیشہ اپنے آپ پر کنٹرول رہا تھا۔۔۔ مگر آج وہ خود پر قابو نہیں رکھ پارہا تھا۔۔۔ دل ہمک ہمک کر حاعفہ کی قربت کا خواہاں تھا۔۔۔۔ مگر دماغ اُس کی غلطی اتنی جلدی معاف کرنے پر رضامند نہیں تھا۔۔۔۔
آژمیر اِسی سب میں اُلجھتا مزید جھنجھلا ہٹ کا شکار ہورہا تھا۔۔۔۔ حاعفہ کے قریب آنے سے جو سکون اُسے ملتا تھا وہ اُسی کا متلاشی تھا۔۔۔۔
حاعفہ کو چائے لانے کا حکم دیتا وہ ہال میں قاسم صاحب اور باقی سب کزنز کے درمیان آن بیٹھا تھا۔۔۔ جہاں اب فیملی کی تمام خواتین موجود تھیں۔۔۔ اور سب کی آپس میں مستی سٹارٹ ہوچکی تھی۔۔۔۔
سویرا اور صدف سب کو ملازمین کے ساتھ مل کر چائے سرو کرنے میں مصروف تھیں۔۔۔۔
جب سویرا آژمیر کو وہاں آتا دیکھ نہایت خوشی سے اُسے چائے دینے کے لیے اُس کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔
“نو تھینکس۔۔۔۔۔”
چائے کی شدید طلب ہونے کے باوجود وہ سویرا سے چائے لینے سے انکار کر چکا تھا۔۔۔ کیونکہ اُس کی نگاہیں اپنا لہنگا سنبھالے ہال میں چائے لے کر انٹر ہوتی حاعفہ پر تھیں۔۔۔۔ جو وہاں اُس کے اردگرد بیٹھے سب کزنز کی وجہ سے آگے آنے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھی۔۔۔۔
آژمیر اتنے دور بیٹھے بھی اُس کی پرابلم سمجھ گیا تھا۔۔۔۔
“تھکاوٹ کی وجہ سح میرے سر میں درد ہے۔۔۔۔ میں اپنے روم میں جا رہا ہوں۔۔۔۔”
شمسہ بیگم کو انفارم کرتے آژمیر دروازے کے بیچوں بیچ حائل حاعفہ کے قریب آیا تھا۔۔۔۔
“چائے میرے روم میں لے کر آؤ۔۔۔۔”
آژمیر اُسے سر سے پیر تک گہری نگاہوں سے گھورتا نیا حکم صادر کر گیا تھا۔۔۔۔ جس کے جواب میں حاعفہ کے ہاتھ میں چائے کا مگ لرز کر رہ گیا تھا۔۔۔۔
وہ جو وہاں سب کے سامنے اُسے چائے دینے کی ہمت نہیں کرپارہی تھی۔۔۔۔۔
کمرے میں اکیلے ہونے کے احساس سے وہ کانپ اُٹھی تھی۔۔۔۔۔
اُس پر اِس وقت وہ محاورہ فٹ بیٹھتا تھا۔۔۔ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا۔۔۔۔
مگر اتھل پتھل ہوتی دھڑکنوں کو قابو کرتے وہ آژمیر کے کمرے کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔۔
@@@@@@@@@
“ماورا کی بچی آج تم میرے ہاتھوں نہیں بچ پاؤ گی۔۔۔۔ یہ کیا کیا تم نے۔۔۔۔؟؟؟ “
زنیشہ ہاتھ میں موبائل پکڑے زوہان کی آتی کال دیکھ گھبراہٹ کا شکار ہوئی تھی۔۔۔۔
ماورا نے اُسے بنا بتائے شرارتاً اُس کی تصویر زوہان کو سینڈ کر دی تھی۔۔۔ زنیشہ کو جیسے ہی ماورا کا یہ کارنامہ پتا چلا اُسی لمحے زوہان کی کال آنا بھی شروع ہوچکی تھی۔۔۔۔
“احسان فراموش لڑکی میں نے تو ہیلپ کی تمہاری۔۔۔۔۔ دیکھو میری ایک حرکت سے تمہارے رُوٹھے پیا کیسے مان گئے ہیں۔۔۔۔”
ماورا اُس کی رونی صورت دیکھ اپنی ہنسی کنٹرول نہیں کر پائی تھی۔۔۔
“تمہارے اِس احسان کا بدلہ تو میں بعد میں پورا کرتی ہوں۔۔۔ پہلے اِس ہٹلر سے نبٹ لوں۔۔۔۔”
زنیشہ اُسے زبردست گھوری سے نوازتی موبائل ہاتھ میں لیے سائیڈ پر ہوئی تھی۔۔۔
کال اٹینڈ کرتے ہی اُس کی سماعتوں سے زوہان کی آواز ٹکراتی اُس کی سانسیں منتشر کر گئی تھی۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔
