Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

“نہیں۔۔۔۔ وہ انسان میرے لیے زندگی میں سب سے زیادہ نفرت کا باعث ہے۔۔۔ میری ماں کا گنہگار۔۔۔ میں کبِھی معاف نہیں کروں گی اُسے۔۔۔ ایک بزدل شخص کو میں اپنے باپ کے رُوپ میں قبول نہیں کرسکتی۔۔۔”
حاعفہ نے بے دردی سے گالوں پر لڑھک آئے آنسو صاف کرتے جواب دیا تھا۔۔۔
“اور اگر ماورا نے کبھی اپنے باپ سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تو۔۔۔۔۔ کیا اُسے بھی روکو گی۔۔۔۔”
نگینہ بائی اپنی جانب سے پوری طرح سے تسلی کرنا چاہتی تھیں۔۔۔ کیونکہ آج حاعفہ کے باپ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اُس کی شان و شوکت کا اندازہ تو وہ لگا چکی تھیں۔۔۔ اگر اُس شخص کو پتا چل جاتا کہ اُس کی بیٹیاں کیسی زندگی گزار رہی ہیں تو اُس نے کوٹھے کو آگ لگانے میں ایک لمحہ نہیں لگانا تھا۔۔۔
اِس کوٹھے نے اُس کی بیٹیوں کو پناہ تو دی تھی۔۔۔۔ مگر اُن کا وجود ہر پل آگ اُگلتی بھٹی میں جلتا رہا تھا۔۔۔ جو اذیت انہوں نے کاٹی تھی، اُس کا مداوا کرنا اُن کے باپ کے بس میں نہیں تھا۔۔۔۔
“وہ ایسا کبھی نہیں کرے گی۔۔۔ اگر اُس نے ایسا کیا تو پہلے اُسے مجھ سے اپنا ناتا توڑنا ہوگا۔۔۔۔”
نرم مزاج سی حاعفہ اپنے باپ کے نام پر ایک دم پتھر ہوجاتی تھی۔۔۔ ماورا پر وہ جان چھڑکتی تھی، اُس کی ہر خواہش سر آنکھوں پر رکھتی تھی۔۔۔ مگر اِس معاملے میں وہ ماورا کو کسی قسم کی چھوٹ نہیں دینے والی تھی۔۔۔
نگینہ بائی اچھی طرح تسلی ہوجانے کے بعد فون رکھ گئی تھی۔۔۔ وہ ماورا کو بھی اچھے سے جانتی تھی کہ وہ مر سکتی تھی مگر حاعفہ کے خلاف کسی قیمت پر نہیں جاسکتی تھی۔۔۔
@@@@@@@@
چھوٹو اُن دونوں کی جانب ایک نظر دیکھ کر منہاح کے ٹیبل کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔ جہاں ابھی کچھ دیر پہلے انہوں نے کافی ہی آرڈر کی تھی۔۔۔
ایک مخصوص کپ منہاج کے آگے رکھتے وہ باقی سب کے آگے بھی کافی رکھنے لگا تھا۔۔۔
چھوٹو کام اتنی پھرتی سے کررہا تھا کہ اگر اُن دونوں کو پتا نہ ہوتا تو وہ لوگ بھی چھوٹو کی ایکٹنگ سے کچھ سمجھ نہ پاتیں۔۔۔
منہاج نے باتوں میں مصروف کپ اُٹھاتے ہونٹوں سے لگایا تھا۔۔ مگر اِس سے پہلے کہ وہ گھونٹ بھرتا کال آجانے کی وجہ سے وہ کافی واپس ٹیبل پر رکھتا کچھ فاصلے پر ہوتا کال سننے لگا تھا۔۔۔
“اُف یہ کال کیوں آگئی بیچ میں۔۔۔ اچھا بھلا وہ پینے لگا تھا۔۔۔ “
بیلا اور ماورا پوری توجہ سے منہاج کو گھورتیں اُس کے فارغ ہونے کا ویٹ کررہی تھیں۔۔ اور ساتھ ہی اُن کی ایک آنکھ کافی پر بھی تھی۔۔۔
فون پر بات کرتے منہاج کی نظر اُن دونوں پر پڑی تھی۔۔۔ اُس نے سن گلاسز لگائی ہوئی تھیں۔۔۔ جس کی وجہ سے وہ دونوں سمجھ نہیں پائی تھیں۔۔ کہ منہاج اُن کی جانب دیکھ رہا ہے یا پھر کہیں اور۔۔۔
“ہائے گائز۔۔۔ واٹس اپ۔۔۔۔”
وہ دونوں منہاج کے دیکھنے پر نظریں جھکا گئی تھیں۔۔۔ جب اپنے ٹیبل کے قریب اُنہیں جاسم کی آواز سنائی تھی۔۔۔ جو بڑے ہی خوشگوار انداز میں اُن دونوں سے ہی مخاطب تھا۔۔۔
جاسم یونی کے اندر منہاج کا سب سے بڑا دشمن تھا۔۔۔ دونوں کے گروپس کے درمیان اکثر جھگڑے ہوتے رہتے تھے۔۔۔
بیلا کا دماغ پھر سے اُلٹا چلنے لگا تھا۔۔۔ منہاج کو اِدھر ہی دیکھتا پاکر اُس نے انتہائی خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتے جاسم کو بیٹھنے کی آفر کی تھی۔۔۔۔۔۔ ماورا نے اُسے سختی سے گھورا تھا۔۔۔ کیونکہ یونیورسٹی میں جاسم کی رپوٹیشن کچھ زیادہ اچھی نہیں تھی۔۔۔ اور ماورا نے ہمیشہ اُسے اپنی جانب پسندیدگی بھری نگاہوں سے دیکھتے ہی پایا تھا۔۔۔ جو بات اُسے کوفت میں مبتلا کر دیتی تھی۔۔۔
جاسم کے لیے تو بیلا کی جانب سے کی جانے والی آفر کسی غنیمت سے کم نہیں تھی۔۔۔
وہ ہونٹوں پر جانداز مسکراہٹ سجاتا براجمان ہوا تھا۔۔۔
یہ منظر صاف صاف دیکھتا منہاج درانی آگ کی لپیٹ میں آتا جل بھن اُٹھا تھا۔۔۔ جس طرح جاسم ماورا کو گھور رہا تھا۔۔۔ منہاج کا دل چاہا تھا اُس کی یہ آنکھیں نوچ کر اُس کے گلے میں پہنا دے۔۔۔
منہاج ایک سخت ترین نگاہ ناپسندیدہ منظر پر ڈال کر فون بند کرتا واپس اپنی کرسی پر آن بیٹھا تھا۔۔۔
اُس کی کافی جوں کی توں پڑی تھی۔۔۔
کچھ دیر کافی کو گھورنے کے بعد۔۔۔ منہاج نے چھوٹو کو آواز لگائی تھی۔۔۔
“جی سر جی۔۔۔۔”
چھوٹو بھاگتا ہوا اُس کے قریب آیا تھا۔۔۔ اُسے ہمیشہ سب سے زیادہ ٹپ منہاج سے ہی ملی تھی۔۔۔ اِس لیے وہ اُس کا کام سب سے زیادہ دوڑ دوڑ کر کرتا تھا۔۔۔
“یہ کافی ٹھنڈی ہوگئی ہے۔۔۔ مجھے دوسری لاکر دو۔۔۔۔”
منہاج کی بات پر وہ جزبز ہوا تھا۔۔۔
“سر جی یہی دوبارہ گرم کرکے لا دوں۔۔۔۔”
چھوٹو کو سمجھ نہیں آرہا تھا کیا بولے۔۔۔
“کیوں چھوٹو ایسا کیا خاص ڈالا اِس میں میرے لیے۔۔۔۔ جو یہی پلانا چاہتے ہو مجھے۔۔۔”
منہاج پاکٹ سے سیگریٹ نکالتے چھوٹو کو گھورتے ہوئے بولا۔۔۔ جاسم کو ماورا کے بالکل سامنے بیٹھا دیکھ منہاج کے اندر جنگ چھڑ چکی تھی۔۔۔ اُسی کیفیت پر قابو پانے کے لیے اُس نے سیگریٹ کا سہارا لیا تھا۔۔۔
“چھوٹو مجھے دوبارہ ڈبل کراس کرنے کی کوشش مت کرنا۔۔۔ اب یہ کافی اُٹھاؤ اور گرم کرکے اُس ٹیبل پر بیٹھے اُس گھٹیا شخص کو دو آؤ۔۔۔”
منہاج سیگریٹ کا دھواں اُڑاتا چھوٹو کو تنبیہی بھری نگاہوں سے دیکھتے آئندہ ایسی کوئی بھی حرکت کرنے سے وارن کر گیا تھا۔۔۔
اُسے شک تو اُسی وقت ہوگیا تھا جب اُس نے ماورا اور بیلا کو ککنگ ایریا سے نکلتے دیکھا تھا، پھر چھوٹو کا سپیشل ایک کپ اُٹھا کر اُس کے سامنے رکھنا، اُن دونوں کو اپنی جانب پوری توجہ سے گھورتے دیکھنا۔۔۔ منہاج کو اچھی طرح اُن کی شرارت سمجھا گیا تھا۔۔ جس کی تصدیق بھی چھوٹو کرکے جاچکا تھا۔۔۔
وہی کافی اب جاسم کے آگے رکھ دی گئی تھی۔۔۔ جاسم کی وجہ سے اُن دونوں کا دھیان منہاج کی کافی سے ہٹ گیا تھا۔۔۔ وہ کافی کا یہ ردو بدل نہیں دیکھ پائی تھیں۔۔۔
جاسم اِس وقت ہواؤں میں اُڑ رہا تھا کیونکہ کبھی ایک نگاہ اُٹھا کر بھی نہ دیکھنے والی ماورا کے مقابل بیٹھنے کا موقع ملا تھا۔۔۔
اپنی اِسی خوشی کے زیرِ اثر وہ سامنے پڑی کافی اُٹھاتا ہونٹوں سے لگا گیا تھا۔۔۔ جب دو گھونٹ بھرنے پر ہی اُس کی حالت ایسی خراب ہوئی تھی۔۔۔ جیسے زہر پلا دی گئی ہو۔۔۔
ماورا اور بیلا اُسے بُری طرح کھانستے اور خطرناک حد تک لال پڑتا چہرا دیکھ پریشان ہوئی تھیں۔۔۔
جبکہ منہاج کے دل میں سکون اُتر گیا تھا۔ اُس نے آدھ جلے سیگریٹ کو زمین پر پھینک کر پیر کے نیچے مسل دیا تھا۔۔۔
ماورا کو جاسم کی حالت سے خوف آنے لگا تھا۔۔۔ اُسے شاید مرچوں سے الرجی تھی اور مرچوں سے بھری کافی اُس کی یہ حالت کر گئی تھی۔۔۔ ماورا نے اُٹھ کر اُس کے قریب جاتے پانی کا گلاس تھمایا تھا۔۔۔ باقی سٹوڈنٹس بھی اُن کی جانب متوجہ ہوچکے تھے۔۔۔
گلاس تھامتے جاسم کا ہاتھ ماورا کے ہاتھ سے ٹچ ہوا تھا۔۔۔ جو دیکھتے منہاج تو جیسے غصے سے پاگل ہو اُٹھا تھا۔۔۔ اُس کی بیوی کو بھلا کوئی اور شخص کیسے چھوسکتا تھا۔۔۔
وہ اپنی جگہ سے اُٹھتا طیش کے عالم میں ماورا کے سر پر پہنچا تھا۔۔۔ اور اُسے کچھ بھی سمجھنے کا موقع دیئے بغیر۔۔۔ کلائی سے پکڑ کر اپنے ساتھ کھینچتے وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔ ماورا ہکا بکا سی منہاج کا یہ جارحانہ عمل دیکھے گئی تھی۔۔۔
باقی سب نے بھی منہاج کی یہ حرکت کافی غور سے دیکھی تھی۔۔ بیلا سمجھ گئی تھی کہ منہاج اُن کے پلان سے واقف ہوچکا ہے۔۔۔ اور یہ شاید اُسی کا ردعمل تھا۔۔
وہ ماورا کو اُس سے بچانے جانا چاہتی تھی۔۔۔ مگر جاسم کی حالت دیکھ وہ ایسا نہیں کر پائی تھی۔۔۔
@@@@@@@@
منہاج ماورا کے مزاحمت کرنے، چیخنے چلانے کے باوجود اپنے ساتھ گھسیٹتا یونی کے قدرے سنسان حصے کی جانب لے آیا تھا۔۔ جہاں لائن میں موجود درختوں کی تعداد کافی زیادہ تھی۔۔۔ وہاں سیمنٹ کے سنگی بینچ بھی بنائے گئے تھے۔۔۔ مگر سٹوڈنٹس اِس ایریا میں کم ہی پائے جاتے تھے۔۔۔ یہاں زیادہ تر یونی کے کپلز کا ہی آنا جانا لگا رہتا تھا۔۔۔
کچھ سٹوڈنٹس نے تو اِسے “لو پلیس” کا نام دے دیا تھا۔۔۔
اِس وقت وہاں کوئی اکا دکا کپلز ہی نظر آرہے تھے۔۔ جو آپس میں مگن اُن کی جانب بالکل بھی متوجہ نہیں تھے۔۔۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے؟ تم اپنے آپ کو سمجھتے کیا ہو۔۔۔؟ جب دل چاہتا ہے سب کے بیچ سے ایسے گھسیٹ کر لے آتے ہو۔۔۔ “
منہاج نے اُسے درخت کے پاس لاپٹخا تھا۔۔ ماورا کی کمر بہت زور سے درخت کے موٹے تنے سے ٹکرائی تھی۔۔۔ جس کی تکلیف اور منہاج کی اِس دھونس بھری حرکت پر وہ آگ بھگولا ہوتی چلائی تھی۔۔۔
“بدتمیزی یہ نہیں وہ ہے جو تم کررہی تھی۔۔۔۔ اتنا شوق کیوں ہے تمہیں ہر وقت غیر مردوں کو اپنے اردگرد گھیرے رکھنے کا۔۔۔۔”
منہاج آگ اُگلتی سرخ نگاہوں سے اُسے گھورتا اُس سے چند قدموں کے فاصلے پر آن کھڑا ہوا تھا۔۔۔
“کیونکہ میں ایک طوائف ہوں۔۔۔۔ اور ایک طوائف یہی تو کرتی ہے۔۔۔۔ اُس کے دن اور راتیں نامحرم مردوں کے لیے ہی تو ہوتی ہیں۔۔۔”
ماورا زہر خند لہجے میں بولتی منہاج درانی کو اندر باہر سے جھلسا گئی تھی۔۔۔
“بکواس بند کرو اپنی۔۔۔۔ “
منہاج اُس کا جبڑا سختی سے دبوچتے اُسے خون آلود نظروں سے گھورا تھا۔۔۔
تکلیف کے احساس سے ماورا کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔۔۔
“تم میری بیوی ہو۔۔۔ منہاج درانی کی بیوی۔۔۔ اگر دوبارہ ایسی بکواس کی۔۔۔ یا کسی ایرے غیرے کے قریب نظر آئی تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔ میرے ردعمل کی زمہ دار تم خود ہوگی۔۔۔۔”
منہاج کی آنکھیں بے انتہا لال ہوچکی تھیں۔۔۔ ماورا کا پل بھر کے لیے اُس سے خوف محسوس ہوا تھا۔۔۔
“اچھا۔۔۔ تو کیا ثبوت ہے تمہارے پاس کے میں تمہاری بیوی ہوں۔۔۔وہ جلا ہوا نکاح نامہ۔۔۔۔ تم نے مجھے تکلیف دینے کے لیے اُس نکاح کا کھیل رچایا۔۔۔ مگر یہ بھول گئے کہ ایک طوائف کے نزدیک ایسی حد بندیوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔۔۔۔”
ماورا اُس کا ہاتھ اپنے منہ سے ہٹاتی جواباً اُسی کو ہی تلخ حقیقت سے آگاہ کر گئی تھی۔۔۔
منہاج نے سختی سے ہونٹ بھینچتے بہت مشکل سے خود کو کوئی انتہائی قدم اُٹھانے سے روکا تھا۔۔۔
وہ اِس زخمی شیرنی کو جتنی تکلیفوں سے دوچار کر چکا تھا۔۔۔ اُس کا ایسا ردعمل عام سی بات تھی۔۔۔
“کیوں کررہی ہو یہ سب؟”
منہاج نے خود کو حتی الامکان نارمل رکھتے انتہائی تحمل سے یہ سوال کیا تھا۔۔۔
“کیا کیا ہے میں نے؟؟..تم ہر بار تکلیف دیتے ہو مجھے۔۔۔”
ماورا بھی شاید چیخ چلا کر تھک گئی تھی۔۔ وہ بھی جواباً کمزور لہجے میں بولی تھی۔۔۔
“مجھ سے میرا سکون چھینا ہے تم نے۔۔۔ نہ تم سے محبت قائم رکھنا چاہتا ہوں۔۔۔ اور نہ ہی نفرت کر پارہا ہوں۔۔۔ “
منہاج نے بے تاثر انداز میں بولتے ماورا کے دل کے کئی ٹکڑے کیے تھے۔۔۔
“تو کیوں باندھ کر رکھا ہوا ہے مجھے اپنے ساتھ۔۔۔ چھوڑ دو مجھے۔۔۔۔ اور میری اذیت بھی کم کردو۔۔۔ “
ماورا نم آلود نگاہوں سے سامنے کھڑے بے حس، احساس سے عاری، سنگدل شخص کی جانب دیکھتے بولی۔۔ جس نے محبت تو کر لی تھی۔۔۔۔ مگر ظرف کے معاملے ميں بہت چھوٹا نکلا تھا۔۔۔
“ایسا تو میں کبھی نہیں کروں گا۔۔۔ تم ساری زندگی ایسے ہی میرے ساتھ جڑی رہو گی۔۔۔ اور اگر کسی غیر مرد کے قریب جانے کی کوشش کی تو میرے ہاتھوں بچ نہیں پاؤ گی۔۔۔۔”
منہاج واپس اپنی اُسی ضد پر اڑ چکا تھا۔۔۔ وہ اُسے وارن کرتا واپس پلٹا تھا۔۔۔
جب ماورا اُس کی بات کے جواب میں مزید غصے سے بھڑکتی اُس کے سامنے آتی اُس کا گریبان دونوں مٹھیوں میں دبوچ گئی تھی۔۔۔
“تم سمجھتے کیا ہو خود کو۔۔۔۔؟؟؟ تم چاہے جتنی۔۔۔۔۔”
وہ دونوں جس جگہ کھڑے تھے وہاں مٹی کا ڈھیر تھا۔۔ ماورا کی بات ابھی منہ میں ہی رہ گئی تھی۔۔۔ جب اُس کا پیر گیلی مٹی سے سلپ ہوا تھا۔۔۔ شاید اابھی کچھ دیر پہلے ہی یہاں پانی کا چھڑکاؤ کیا گیا تھا۔۔
اُس نے منہاج کا گریبان مزید مضبوطی سے تھاما تھا۔۔ منہاج نے اُسے سلپ ہوتے دیکھ سنبھالنا چاہا تھا۔۔۔ مگر زرا سا آگے قدم بڑھانے پر وہ خود کو بھی سلپ ہونے سے نہیں روک پایا تھا۔۔۔
اگلے ہی لمحے وہ دونوں ایک ساتھ زمین بوس ہوئے تھے۔۔۔ منہاج نے زمین ہر بازو ٹکاتے اپنا وزن ماورا پر پڑنے سے روکا تھا۔۔۔
ماورا تو اِس اچانک رونما ہونے والے واقع پر ہی بھونچکا گئی تھی۔۔۔۔ منہاج پوری طرح اُس پر چھایا ہوا تھا۔۔۔ اُس کی گرم سانسیں اپنی گردن پر محسوس کرتے ماورا کی حالت غیر ہوئی تھی۔۔۔
اُس نے دونوں ہاتھ منہاج کے سینے پر ٹکاتے اُسے پیچھے دھکیلا تھا۔۔۔
مگر اُسے ایک انچ بھی خود سے دور نہیں کر پائی تھی۔۔۔
“بہت شوق تھا نا میرے قریب آنے کا۔۔۔۔ اب بولو کیا کہہ رہی تھی؟”
منہاج اتنے ریلیکس موڈ میں اُس کے لال ہوتے چہرے کی جانب دیکھتے بولا۔۔۔۔ جیسے اِس وقت وہ یونی کے وسیع و عریض گراؤنڈ کی زمین پر نہیں بلکہ اپنے بیڈ پر لیٹا ہو۔
“منہاج دور ہٹو مجھ سے۔۔۔۔ یہ کیا بیہودگی ہے۔۔۔؟؟”
یہاں کسی کے آجانے کے خوف اور منہاج کی اِس قدر نزدیکی پر ماورا کی جان نکلنے کے در پر تھی۔۔۔
“یہ بیہودگی تم نے کری ایٹ کی ہے میں نے نہیں۔۔۔”
منہاج اُس کے خون چھلکاتے لال ٹماٹر رخساروں کو گہری نگاہوں سے دیکھتا مزید تپا گیا تھا۔۔۔
اُن دونوں کے کپڑے گیلی مٹی سے بھر چکے تھے۔۔۔
“پلیز ہٹو۔۔۔۔ اگر یہاں کسی نے ایسے دیکھ لیا تو۔۔۔ پلیز۔۔۔۔”
ماورا شرم اور خوف کے مارے لرز کر رہ گئی تھی۔۔۔
“تو کیا میاں بیوی ہیں۔۔۔ کہیں پر بھی۔۔۔ کیسے بھی رومانس کرنے کا حق رکھتے ہیں۔۔۔”
منہاج کو تو جیسے موقع مل گیا تھا اُسے زچ کرنے اور تپانے کا۔۔۔۔
اِس سے پہلے کے ماورا اُسے کوئی جواب دیتی۔۔۔ قریب آتے قدموں کی آواز پر ماورا کی جان حلق میں اٹکی تھی۔۔۔
“ماورا کہاں ہو تم۔۔؟؟”
ساتھ ہی بیلا کی آواز بھی سنائی دی تھی۔۔۔ ماورا کے زرد پڑتے چہرے پر رحم کھاتے اُس کے اوپر سے ہٹ گیا تھا۔۔۔ ماورا بھی جلدی سے اُٹھی تھی۔۔۔ تب تک بیلا بھی درختوں کے پیچھے سے اُنہیں ڈھونڈتی اُن تک پہنچ چکی تھی۔۔۔
مگر اُن دونوں کے مٹی سے بھرے کپڑے دیکھ بیلا کی آنکھوں کے ساتھ ساتھ غیرت کے مارے منہ بھی کھل گیا تھا۔۔۔
“ماورا یہ سب۔۔۔۔”
بیلا نے منہاج کی موجودگی کا خیال کرتے بات ادھوری چھوڑ دی تھی۔۔۔
“بتائیں اپنی بیسٹ فرینڈ کو ماورا۔۔۔۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے تنہائی میں ہم دونوں کیا کررہے تھے۔۔۔ ہمارے حلیے دیکھ کر کافی حد تک تو یہ سمجھ بھی گئی ہونگی۔۔۔ اِتنی عقل مند تو لگتی ہیں یہ مجھے۔۔۔”
منہاج ماورا کی جانب دیکھ کر ایک آنکھ دباتا وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔ ماورا نے بے یقینی سے منہاج کی جانب دیکھا تھا۔۔ جو بیلا کو اُس کے حوالے سے مشکوک کرکے مزے سے وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔
“ماورا یہ سب کیا ہے؟؟.. تم دونوں کیا کررہے تھے؟”
بیلا کا حیرت کی زیادتی سے کھلا منہ بند ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔۔۔
“کیا کررہے تھے مطلب؟؟… چلو یہاں سے۔۔۔۔”
ماورا نے اپنا غصہ بیلا پر نکالا تھا۔۔۔
“مگر منہاج کیا کہہ رہا تھا ابھی؟؟؟؟”
بیلا کا تجسس کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔۔۔۔
“میرا سر۔۔۔۔۔”
ماورا اُسے وہی چھوڑتی آگے بڑھ گئی تھی۔۔۔
@@@@@@@@
حاعفہ نے ایک ہفتے کے بعد آج آفس میں قدم رکھا تھا۔۔۔ آژمیر نے اُسے مکمل صحت یاب ہونے کے بعد آنے کا کہا تھا۔۔۔
حاعفہ کے پیر کا زخم اب کافی حد تک ٹھیک ہوچکا تھا۔۔۔ ماتھے کی بینڈیج بھی اُتر چکی تھی مگر اُس کی بے داغ پیشانی پر کٹ کا نشان باقی رہ گیا تھا۔۔۔
حاعفہ فیروزی سوٹ کے اُوپر سیاہ شال اوڑھے اپنے نازک وجود کو پوری طرح چھپائے ہوئے تھی۔۔۔ سیاہ شال میں اُس کی گلابیاں چھلکاتی سرخ و سفید رنگت مزید نکھر جاتی تھی۔۔۔ اِس وقت وہ اپنے کیبن میں بیٹھی پورے انہماک سے کام میں مصروف تھی۔۔۔ جب اُسے باہر سے آژمیر کے کسی پر چلانے کی آواز آئی تھی۔۔۔
حاعفہ کے کام کھڑے ہوئے تھے۔۔۔ شاید آژمیر ابھی ابھی آفس میں آیا تھا۔۔۔ اور آتے ہی شاید کسی کی کلاس لگا دی تھی۔۔۔
حاعفہ اپنی کرسی سے اُٹھ کر آہستہ روئی سے چلتی دروازے تک گئی تھی۔۔۔ جہاں سے سامنے منظر بالکل کلئیر تھا۔۔۔۔
“میرے آفس میں یہ سب نہیں چلے گا۔۔۔ یہ عشق و معشوقی آپ لوگ کہیں اور جاکر چلائیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔۔۔۔ میں آپ دونوں آفس سے نکال رہا ہوں۔۔۔ آپ لوگوں کو رکھ کر یہاں کا ماحول خراب نہیں کرسکتا۔۔۔۔”
آژمیر اپنے سٹاف کے دو ممبرز پر اِس وقت شدید غصہ ہورہا تھا۔۔۔ جو دونوں ہر وقت لو برڈز بنے پورے آفس میں گھومتے رہتے تھے۔۔۔ کبھی ہاتھ پکڑ رکھا ہے تو کبھی چپک کر بیٹھے ہیں۔۔۔۔ یہ سب تو پھر بھی کسی حد تک مقابلے قبول تھا۔۔۔ مگر آج تو پین نے اُنہیں کچھ زیادہ ہی نازیبا حالت میں پکڑا تھا۔۔۔ جس کے بعد آفس والوں سمیت آژمیر کا بھی ضبط ختم ہوگیا تھا۔۔۔
“کیا سر صرف اِسی بات پر اتنے غصے میں ہیں یا کوئی اور ریزن بھی ہے۔۔۔؟”
حاعفہ نے پاس کھڑی کولیگ سمیرا کو مخاطب کرتے پوچھا تھا۔۔۔ جس سے اُس کی تھوڑی بہت بات چیت ہوجاتی تھی۔۔۔
آژمیر کو وہ پہلی بار اِس قدر شدید غصے میں دیکھ رہی تھی۔۔۔ اُسے کے تنے ہوئے نقوش اور ماتھے کی اُبھری نسیں دیکھ حاعفہ سمیت سارا سٹاف ہی پریشان ہوچکا تھا۔۔۔
آژمیر میران نے اکثر بڑی بڑی غلطیوں پر بھی کسی کو اِس بُری طرح نہیں ڈانٹا تھا۔۔۔
“جہاں تک میں نے آبزرو کیا ہے۔۔ اُس سے میری یہی رائے ہے کہ آژمیر سر محبت کی توہین برداشت نہیں کرسکتے۔۔۔۔ “
سمیرا کی بات پر حاعفہ نے ساکت نگاہوں سے سامنے کا منظر دیکھا تھا۔۔۔
کیا واقعی ایسا تھا۔۔۔
تو جو وہ آژمیر کے ساتھ کرنے جارہی تھی۔۔۔ اُس کا آژمیر کے ہاتھوں نجانے کیا انجام ہونے والا تھا۔۔۔۔ یہ سوچ کر ہی حاعفہ نے خوف سے جھڑجھڑی لی تھی۔۔۔
وہ گم صم سی واپس اپنی کرسی پر آن بیٹھی تھی۔۔۔ اُس پر مسلسل پریشر تھا کہ وہ اپنے کام میں اتنی سلو کیوں جارہی ہے۔۔۔۔ مگر اُسے سمجھ نہیں آرہی تھی۔۔ کہ آخر وہ کرے تو کیا۔۔۔۔ آژمیر کے سامنے آتے ہی اُس کی بولتی بند ہوجاتی تھی۔۔۔ اُسے محبت کے جال میں اُلجھانا تو بہت بڑی بات تھی۔۔۔۔
حاعفہ ہاتھوں پر چہرا گرائے بیٹھی تھی، جب دروازے پر کھٹکا ہوا تھا۔۔۔۔
“مس حاعفہ آر یو اوکے۔۔۔۔۔”
آفس میں گونجتی آژمیر کی بھاری گھمبیر آواز پر حاعفہ ہڑبڑا کر اپنی جگہ سے اُٹھی تھی۔۔۔
سامنے ہی دروازے میں استہزادہ سینے پر بازو باندھے کھڑے اُسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
حاعفہ ابھی کچھ دیر پہلے آژمیر کو جتنے غصے میں دیکھ چکی تھی۔۔۔ اِس لمحے اُسے آژمیر سے خوف محسوس ہونے لگا تھا۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔