No Download Link
Rate this Novel
Episode 27
حاعفہ چہرا ہاتھوں میں چھپائے پوری طرح رونے میں مگن تھی۔۔۔۔ جب اپنے قریب رکتے قدموں کی آواز پر حاعفہ نے سر اُوپر اُٹھایا تھا۔۔۔
اُس کی رونے کی وجہ سے لال ہوئی آنکھیں دیکھ آژمیر نے مٹھیاں بھینچتے بہت مشکل سے اپنے غصے پر قابو پایا تھا۔۔۔
اِس سے پہلے کے آژمیر اُسے کوئی بات کہتا۔۔۔۔ حاعفہ اپنے آپ پر کنڑول نہ رکھ پائی تھی۔۔۔۔۔ وہ اُٹھ کر آژمیر کے مقابل آتی۔۔۔ اُس کے سینے پر سر رکھے زور و شور سے رو دی تھی۔۔۔
اُس کے نرم گرم لمس پر آژمیر کو لگا تھا جیسے کسی نے اُس کے جلتے دل پر ٹھنڈی پھوار رکھ دی ہو۔۔۔۔
مگر وہیں اُسے حاعفہ سے اِس جذباتی عمل کی اُمید بالکل بھی نہیں تھا۔۔۔ وہ بنا اُسے اپنے حصار میں لیے اُسی طرح بازو گرائے کھڑا رہا تھا۔۔۔ اُس کے پاس ایسا کوئی حق نہیں تھا کہ ہاتھ بڑھا کر اِس روتی بلکتی لڑکی کو اپنے سینے میں چھپا لے۔۔۔۔
اُسے حاعفہ کا یوں شدت سے رونا تکلیف دینے لگا تھا۔۔۔ جو اُس کی شرٹ کو دونوں مٹھیوں میں دبوچے سینے سے بالکل گیلا کر چکی تھی۔۔۔
“حاعفہ۔۔۔۔”
کافی دیر کی خاموشی کے بعد آژمیر نے اُسے پکارا تھا۔۔۔ حاعفہ کے رونے میں کمی آچکی تھی۔۔۔ مگر وہ ابھی بھی ویسے ہی ساکت سی اُس کے سینے سے لگی کھڑی تھی۔۔ آژمیر کو تشویش ہونے لگی تھی۔۔۔ اُس نے حاعفہ کا ہاتھ تھام کر اُسے پکارا تھا۔۔۔ جب اُس کے سینے پر بے ہوش ہوئی حاعفہ کا سر ایک جانب لڑھک گیا تھا۔۔۔ آژمیر نے فوراً اُس کے گرد اپنے بازو پھیلاتے اُسے اپنی مضبوط گرفت میں لیا تھا۔۔۔
وہ روتے روتے بے ہوش ہوگئی تھی۔۔۔
“حاعفہ آنکھیں کھولو۔۔۔ کیا ہوا ہے تمہیں۔۔۔۔؟؟”
آژمیر اُس کا سر اپنے کندھے پر ٹکاتا اُس کا آنسوؤں سے بھیگا گلابی گال سہلاتے ہوئے پریشانی سے بولا۔۔۔۔
حاعفہ اتنی دیر کی ذہنی اذیت کے بعد اِس مضبوط اور محفوظ حصار میں آتے ہی اپنا آپ اُس انسان کو سونپ گئی تھی۔۔۔ جو اُس کی سانسوں میں خوشبو بن کر بسنے لگا تھا۔۔۔ جس کے بغیر جینے کا تصور کرنا ہی حاعفہ کو عذاب لگنے لگا تھا۔۔۔۔
آژمیر حاعفہ کو بانہوں میں اُٹھاتے بیڈ کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔ اور نہایت احتیاط سے اُسے بیڈ پر لیٹا کر اُس کے اُوپر کمبل اوڑھا دیا تھا۔۔۔
“حاعفہ آنکھیں کھولو پلیز۔۔۔۔ “
آژمیر کا بس نہیں چل رہا تھا کچھ بھی کرکے حاعفہ کو ہوش میں لے آئے۔۔۔۔
جبکہ آژمیر کو ابھی اندازہ ہی نہیں تھا کہ وہ نازک جان ذہنی طور پر کس عذاب سے گزر رہی تھی۔۔
“ابھی اِسی وقت ڈاکٹر کو میرے روم میں بھیجو۔۔۔۔”
آژمیر نے فیصل کو کال کرتے ہوٹل کے ڈاکٹر کو لانے کو کہا تھا۔۔۔۔
جب کچھ ہی منٹ بعد ڈاکٹر وہاں پہنچ گیا تھا۔۔۔
“سر پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔ یہ کافی زیادہ زہنی دباؤ اور ٹینشن لینے کی وجہ سے بے ہوش ہوگئی ہیں اور بہت ویک بھی ہیں یہ تو اِن کی ڈائٹ کے حوالے سے بھی بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ تھوڑی دیر میں ہوش آجائے گا اِنہیں آپ یہ میڈیسن کھلا دیجئے گا۔۔۔۔ “
ڈاکٹر آژمیر کو ہدایت دیتا اپنا سامان لیے وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔
آژمیر بیڈ کے قریب کھڑا خاموش نگاہوں سے حاعفہ کا زرد پڑتا چہرا دیکھے گیا تھا۔۔۔
اِس لڑکی کے حوالے سے اب تک اُسے جتنی معلومات بھی ملی تھی، وہ سب بہت ہی مشکوک تھی۔۔۔ حاعفہ کی حقیقت کافی پر اسرار طریقے سے اُس کے سامنے آرہی تھی۔۔۔ مگر آژمیر چاہنے کے باوجود اُس سب پر یقین نہیں کر پارہا تھا۔۔۔ یہ معصوم چہرا کہیں سے بھی دھوکے باز نہیں لگتا تھا اُسے۔۔۔
ہمیشہ حاعفہ کو اگنور کرنے کی کوشش کی تھی اُس نے۔۔۔۔ مگر کب اُس کا دل اِس پیاری لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوگیا تھا وہ سمجھ ہی نہیں پایا تھا۔۔۔۔
جس محبت کا ادراک آج حاعفہ کے آنکھوں سے اوجھل ہوتے ہوا تھا۔۔۔۔
آژمیر اُس سے چند قدموں کے فاصلے پر کھڑا اُس کے حسین چہرے کو اپنی آنکھوں کے راستے دل میں اُتارنے لگا تھا۔۔۔ آج وہ چاہ کر بھی اُس کی جانب سے رُخ نہیں موڑ پارہا تھا۔۔۔ اُس کا دل اِس لڑکی کو مکمل اپنا سمجھ بیٹھا تھا اور بہت جلدی حلال طریقے سے اپنے نام لگوانا چاہتا تھا۔۔۔۔
گھنی مڑی پلیکیں اُس کے آرزوں پر سایہ فگن ہولے سے کپکپائی تھیں۔۔ مسلسل آژمیر کی گہری نگاہوں کی تپیش سے اُس کے گال لال ہوئے تھے۔۔۔ شاید وہ نیند میں بھی آژمیر میران کی موجودگی اپنے آس پاس محسوس کر پارہی تھی۔۔۔
“حاعفہ۔۔۔ آنکھیں کھولیں۔۔۔۔”
آژمیر نے اُس کے قریب ہلکا سا جھکتے گھمبیر بھاری لہجے میں ہولے سے پکارا تھا۔۔۔
اُس کی پکار میں چھپی شدت ایسی تھی کہ حاعفہ کو اپنے دل میں اُترتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔ اُس نے کسمساتے ہولے سے آنکھیں کھول دی تھیں۔۔۔
آژمیر کو اپنے قریب دیکھ اُس کی آنکھوں کے کنارے پھر سے بھیگ گئے تھے۔۔۔
“حاعفہ ڈونٹ کرائے۔۔۔۔ مجھے بتائیں کیا پرابلم ہے؟؟…. میں سب ہینڈل کر لوں گا۔۔۔۔ کیا بات آپ کو پریشان کررہی ہے۔۔۔۔ کیا اُس گھٹیا انسان نے آپ کو کوئی دھمکی دی ہے۔۔۔۔ “
آژمیر کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آخر حاعفہ کو اچانک ہوا کیا ہے۔۔۔۔ وہ میٹنگ کے لیے جانے سے پہلے تو اُسے بالکل ٹھیک چھوڑ کر گیا تھا۔۔۔
“نہیں۔۔۔ میں بالکل ٹھیک ہوّ۔۔۔۔”
حاعفہ نے چہرا جھکا کر آنسو پیتے بمشکل ہوا دیا تھا۔۔۔۔ اُس کے دل نے چیخ چیخ کر اُسے آژمیر کو سب سچ بتانے کو کہا تھا۔۔۔۔ مگر حاعفہ اپنا دل کا خون کرنے کو تیار تھی۔۔۔ وہ اپنی بہن کی زندگی پر اتنا بڑا رسک نہیں لے سکتی تھی۔۔۔۔
وہ زندگی میں ہمیشہ ہر مقام پر مجبور ہی رہی تھی۔۔۔ اور اِس بار تو وہ دوہری اذیت کا شکار تھی۔۔۔ اُس کی زندگی کی سب سے بھیانک حقیقت، اُس کے طوائف ہونے کا پتا جب آژمیر کو چلنا تھا۔۔۔ تو آژمیر جیسا شریف انسان اُس پر تھوکنا بھی پسند نہیں کرتا۔۔۔۔
جو اپنی عورت کے سر سے زرا سی چادر ڈھلکی ہوئی برداشت نہیں کرسکتا تھا۔۔۔ وہ یہ کیسے برداشت کرتا کہ جس سے وہ محبت کرنے لگا ہے۔۔۔ وہ ایک بازاری عورت ہے۔۔۔
“اگر آپ بالکل ٹھیک ہیں تو یہ آنسو دوبارہ میں نہ دیکھوں آپ کی آنکھوں میں۔۔۔”
آژمیر اُس کی جانب میڈیسن بڑھاتے نرمی سے بولا تھا۔۔۔۔
حاعفہ نے اُس کے ہاتھ سے میڈیسن لیتے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔۔۔
@@@@@@@@
ماورا کو منہاج سے ایسی کسی حرکت کی اُمید نہیں تھی۔۔۔ اُس کا پورا وجود ہولے ہولے لرزنے لگا تھا۔۔۔ اُسے اپنی سانسیں رکتی محسوس ہوئی تھیں۔۔۔ منہاج کا شدت بھرا لمس ماورا سے برداشت کرنا مشکل ہوا تھا۔۔۔
وہ اُس کے کالر کو دونوں مٹھیوں میں سختی سے دبوچے ہوئے تھی۔۔۔ وہ پوری طرح سے منہاج کے سہارے کھڑی تھی ورنہ اب تک زمین بوس ہوچکی ہوتی۔۔۔ خود کو سیراب کرتے، اُس کی حالت پر رحم کھاتے آخر کار منہاج نے اُسے آزادی بخش دی تھی۔۔۔
ماورا گہرے گہرے سانس لیتی اُس کے سینے پر سر ٹکاتی آنکھیں موند گئی تھی۔۔۔
“کیا ہوا مائی لو۔۔۔۔۔ میرے زرا سے لمس پر یہ حال ہے۔۔ ابھی تو میری محبت کی شدتیں باقی ہیں۔۔۔ “
منہاج اُس کی گردن پر ہونٹ ٹکاتے بولتا ماورا کو شرم سے لال کرگیا تھا۔۔۔
یہ شخص اُس کی سوچ سے زیادہ بے باک تھا۔۔۔ جسے نہ جگہ کا خیال تھا اور نہ ہی لوگوں کا۔۔۔۔
“آئی ہیٹ یو منہاج درانی۔۔۔ تم یوں زبردستی مجھ سے اپنی ہوس پوری نہیں کرسکتے۔۔۔۔ میں اب مزید تمہارے ہاتھوں کھلونا نہیں بنوں گی۔۔۔”
ماورا بھیگی آنکھوں کے ساتھ اُس پر چلائی تھی۔۔۔
اُس کے آنسو دیکھ منہاج بھی سیریس ہوا تھا۔۔۔
“میں مانتا ہوں بہت غلط کیا میں نے تمہارے ساتھ۔۔۔ جو کہ اتنی آسانی سے معاف کیے جانے کے قابل بالکل بھی نہیں ہے۔۔۔۔ تم سے محبت کے باوجود اعتبار نہیں کرپایا۔۔۔۔ یہ بات اب احساس ہونے کے بعد میرے لیے کتنی تکلیف دہ ہے میں بتا نہیں سکتا ۔۔۔ میں نہیں چاہتا تم مجھے معاف کرو۔۔۔۔ میں چاہتا ہوں تم سزا دو مجھے۔۔۔۔ جب تک تمہارے دل میں میرے لیے جمع غصہ ختم نہ ہوجائے۔۔۔
میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں۔۔۔ نہیں رہ سکتا تمہارے بغیر۔۔۔۔ تم پر اعتبار نہ کرکے جو میں نے کیا ہے۔۔۔۔ اُس کے لیے میں کبھی خود کو معاف نہیں کر پاؤں گا۔۔۔۔”
منہاج بول رہا تھا جبکہ ماورا خاموش نگاہوں سے اُسے تکے جارہی تھی۔۔۔۔
@@@@@@@@
اُسے برائیڈل روم میں لاکر زوہان زنیشہ کی کلائی آزاد کرتا دورازے کو لاک لگا گیا تھا۔۔۔ جو دیکھ زنیشہ کا دل اُچھل کر باہر آیا تھا۔۔۔
“آپ یہ کیا کررہے ہیں؟؟؟ مجھے یہاں کیوں لائے ہیں۔۔؟”
زنیشہ نے اُس کے غصے بھرے تاثرات دیکھ ہلکی سی آواز میں پوچھا تھا۔۔ اتنا تو وہ جانتی تھی کہ جب زوہان شدید غصے میں ہوتا تھا تو کسی کی نہیں سنتا تھا۔۔۔۔
زوہان اُس کے دلنیشن سجے سنورے حلیے کو سر سے پیر تک تیز نظروں سے گھورتا سامنے پڑے ڈریسنگ ٹیبل کی جانب بڑھا تھا۔۔
زوہان کی اپنے سراپے پر گڑھی گہری نگاہوں پر زنیشہ گھبراہٹ اور خوف سے اندر تک کانپ اُٹھی تھی۔۔۔ زوہان کو مسلسل اپنی جانب گھورتا دیکھ زنیشہ کے گال تپ اُٹھے تھے۔۔۔ زوہان کی تپیش زدہ نگاہوں کے ارتکاز میں کچھ ایسا تھا جو اُس کی جان نکال رہا تھا۔۔۔۔
“صاف کرو یہ سب۔۔۔۔۔”
زوہان ٹیبل سے ٹشو کا باکس اُٹھاتا اُس کے مقابل آن کھڑے ہوتے بولا۔۔۔۔
سیاہ لباس میں زوہان خود بھی اپنی سحر انگیز پرسنیلٹی کے ساتھ پوری محفل پر چھایا ہوا تھا۔۔۔ زنیشہ نے اپنی کزنز اور خاندان کی باقی لڑکیوں کو زوہان کو گھورتے اور اُس کے بارے میں باتیں کرتے بھی سنا تھا۔۔۔ زنیشہ جو یک ٹک اُسے دیکھے گئی تھی۔۔۔ اُس کی پکار پر شرمندہ سی ہوتی نظریں پھیر گئی تھی۔۔۔
“جلدی سے اپنا چہرا صاف کرو۔۔۔۔”
زوہان ٹشو پیپر اُس کے ہاتھ میں تھماتا کچھ فاصلے پر رکھے صوفے پر جا بیٹھا تھا۔۔۔ اُس کا دھیان ابھی بھی پوری طرح زنیشہ پر تھا۔۔۔
“کیوں میں آپ کے کہنے پر کیوں صاف کروں میک اپ۔۔۔ میں اتنی محنت سے تیار ہوئی ہوں میں بالکل صاف نہیں کروں گی۔۔۔۔ “
زنیشہ کو بھی اُس کے دھونس بھرے انداز پر ضد سی ہوئی تھی۔۔۔ خود تو اُس کی کوئی بات مانتا نہیں تھا۔۔۔ اور اُس پر ایسے حکم صادر کرتا تھا۔۔۔
ابھی تھوڑی دیر پہلے تک زنیشہ خود بھی اِسی موقع کی تلاش میں تھی۔۔۔ کہ کسی طرح اپنا میک اپ صاف کرلے۔۔۔۔
“کیونکہ میں یہ کسی قیمت پر برداشت نہیں کر سکتا کہ میری ہونے والی بیوی کا یہ حسین روپ کوئی اور دیکھے۔۔۔۔ یہ صرف میرے لیے ہونا چاہیئے۔۔۔ کسی غیر مرد کی نگاہ پڑتی نہیں دیکھ سکتا میں۔۔۔۔ میرے گھر میں آکر تم چاہے ہر وقت تیار ہوکر پھرتی رہنا، میں تمہارے لیے فل ٹائم بیوٹیشن کا انتظام کر دوں گا وہاں کوئی پابندی نہیں ہوگی۔۔۔ مگر اِس وقت نہیں۔۔۔۔۔”
زوہان نے تفصیل سے جواب دیتے زنیشہ کے چودہ طبق روشن کردیئے تھے۔۔۔
زنیشہ اُس کی اتنی لمبی پلینگ پر ہونق سی کھڑی اُسے گھور رہی تھی۔۔۔
جو اب سیگریٹ سلگھاتا اُس کی حالت سے حظ اُٹھا رہا تھا۔۔۔۔
“آپ ہر بار مجھ پر یوں حکم صادر نہیں کرسکتے۔۔۔۔”
زنیشہ ٹشو پیپر باکس سامنے پڑے ٹیبل پر پٹختی خود بھی صوفے پر ٹک گئی تھی۔۔۔
“کوئی پرابلم نہیں ہے۔۔۔ میں آج ویسے بھی کافی فرصت سے آیا ہوں۔۔۔ میرے پاس بہت ٹائم ہے۔۔۔ جب تک تم میک اپ صاف نہیں کرتی دونوں یہیں بیٹھتے ہیں پھر۔۔۔۔”
زوہان سیگریٹ کا دھواں فضا میں چھوڑتا اطمینان سے بولتا صوفے پر ہی نیم دراز ہوا تھا۔۔۔ مگر اُس کی گہری بولتی نگاہیں زنیشہ کے حسین و دلکش سراپے پر ہی ٹکی ہوئی تھیں۔۔۔ جو زنیشہ کو کافی پزل کررہی تھیں۔۔۔
اُس کا چہرا بالکل لال ہوچکا تھا۔۔۔
ملک زوہان کو ضد میں ہرانا آسان کام نہیں تھا۔۔۔
زوہان دوسرا سیگریٹ سلگھاتا گہری نگاہوں سے اُسے گھورتا بہت مزے میں لگا رہا تھا۔۔۔ جیسے اُس کی زندگی کا سب سے پسندیدہ منظر اُس کی آنکھوں کے سامنے ہو۔۔۔۔
“آپ کی پرابلم کیا ہے آخر۔۔۔۔”
زوہان کی مسلسل گھورتی نگاہوں سے گھبرا کر زنیشہ تپ کر بولی تھی۔۔۔۔
“تم اور تمہارا یہ حسین روپ۔۔۔۔۔”
زوہان کی اِس صاف گوئی پر زنیشہ کے گال مزید لال ہوئے تھے۔۔۔
“آپ کے پاس کوئی حق نہیں مجھ پر یوں کمنٹس پاس کرنے کا۔۔۔۔”
زنیشہ اُس سے کافی فاصلے پر ہونے کی وجہ سے کافی بہادری کا مظاہرہ کررہی تھی۔۔۔
“ابھی نہیں تو کیا ہوا بہت جلد تمہاری ذات کے حوالے سے سارے حق میرے پاس ہی آنے والے ہیں۔۔۔۔”
زوہان اپنی جگہ سے اُٹھتا اُس کے قریب آن بیٹھا تھا۔۔۔۔ اُسے اپنے ساتھ صوفے پر بیٹھتے دیکھ زنیشہ دور کھسک گئی تھی۔۔۔۔ اُس کا یہ گریز زوہان کو کافی پسند آیا تھا۔۔۔۔
“ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔۔۔۔ میرے لالہ ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے۔۔۔۔۔”
زنیشہ صوفے کے کنارے پر پہنچی پورے یقین سے بولی تھی۔۔۔۔
“اور میں کہوں اگر یہ کام تمہارا وہ جان سے پیارا بھائی خود کرے گا۔۔۔ تو پھر۔۔۔۔ میری اِس جیت پر کیا انعام ملے گا مجھے۔۔۔۔”
زوہان نے زرا سا آگے جھکتے دھواں زنیشہ کی جانب چھوڑتے اپنی پلاننگ بتائی تھی۔۔۔
جسے سنتے زنیشہ کا رنگ اُڑا تھا۔۔۔۔ اگر زوہان ایسا کہہ رہا تھا تو ضرور اُس نے کچھ بڑا سوچ رکھا تھا۔۔۔
“جب آپ مجھ سے محبت ہی نہیں کرتے تو یہ سب کیوں کررہے ہیں۔۔۔۔۔”
زنیشہ کے منہ سے بے ساختہ نکلا تھا۔۔۔۔ اُس نے جلدی سے زبان دانتوں تلے دبائی تھی۔۔۔ مگر تب تک تیر کمان سے نکل گیا تھا۔۔۔
“تو تم چاہتی ہو میں بھی تم سے محبت کروں۔۔۔۔۔”
زوہان کو تو جیسے اُسے چھیرنے کے لیے کوئی بات مل گئی تھی۔۔۔
“میں نے ایسا کچھ نہیں کہا۔۔۔۔۔”
زنیشہ نظریں جھکائے منمنائی تھی۔۔۔۔ زوہان اُس کے قریب صوفے پر تھوڑے سے فاصلے پر بیٹھا تھا۔۔۔ جس کی وجہ سے زنیشہ کی دھڑکنیں ناقابلے یقین حد تک تیز اور ہاتھوں میں لرزا طاری تھا۔۔۔۔
زوہان اُس کی گھبراہٹ پر گہری نظر رکھے ہوئے تھا۔۔۔ کچھ دیر پہلے کا اُس کا غصہ اب کافی حد تک ٹھنڈا ہوچکا تھا۔۔۔ یا شاید پھر وہ زنیشہ کے سامنے اپنا غصہ باہر لانا نہیں چاہتا تھا۔۔۔
باقی بہت سارے ریزنز کے ساتھ زنیشہ کا میک اپ صاف کروانے کا ایک ریزن یہ بھی تھا کہ اُس سے اپنی خود کی نظریں ہٹانا مشکل ہورہا تھا۔۔۔ اُس کی بے خودی بڑھ رہی تھی۔۔۔۔
زنیشہ میران عام سے حلیے میں بھی اُس پر بجلیاں گرانے کی صلاحیت رکھتی تھی۔۔۔ اور آج تو پھر وہ پوری طرح ہتھیاروں سے لیس تھی۔۔۔۔
اِس ستمگر کی اِس زرا سی قربت پر زنیشہ کی اِس وقت جو حالت ہورہی تھی یہ وہی جانتی تھی۔۔۔۔
وہ خاموشی سے کانپتے ہاتھوں سے ٹشو پیپر لیتے اپنا میک اپ صاف کرنے لگی تھی۔۔۔۔
اُسے نظروں کے حصار میں رکھے زوہان نے پرسنل نمبر پر بار بار آتی کال اٹینڈ کی تھی۔۔۔
“ثمن آر یو اوکے۔۔۔۔۔”
لپسٹک صاف کرتے زنیشہ کے ہاتھ اِس پکار پر تھم سے گئے تھے۔۔۔
جب اگلے ہی لمحے زوہان کی فکرمند آواز قہقے میں تبدیل ہوئی تھی۔۔۔۔
زنیشہ کا دل چاہا تھا زوہان سے موبائل چھین کر کھڑکی سے باہر پھینک دے۔۔۔۔۔
آخر کیوں زوہان اِس لڑکی کو اتنی اہمیت دیتا تھا۔۔۔
زنیشہ میک اپ صاف کرتی صوفے سے اُٹھنے لگی تھی۔۔۔ جب زوہان نے اُس کی کلائی تھام کر روکا تھا۔۔۔
وہ زنیشہ کا غصے اور جیلسی سے لال پڑتا چہرا دیکھ چکا تھا۔۔۔
“چھوڑیں میرا ہاتھ۔۔۔۔۔۔”
زنیشہ اِس وقت اچھی خاصی تپ چکی تھی۔۔۔۔ اُسے اِس وقت آژمیر کی کہی بات ٹھیک لگنے لگی تھی۔۔۔۔ زوہان آژمیر کو نیچا دیکھانے کے لیے اُس کا استعمال ہی کررہا تھا۔۔۔۔
زنیشہ اُس کے ہاتھ پر ناخن مارتی اپنی کلائی آزاد کروانے کی کوشش کررہی تھی۔۔۔۔
“اوکے کچھ دیر میں ملتا ہوں میں تم سے۔۔۔۔۔”
زوہان ثمن کا خداحافظ کرتا اپنے سامنے بیٹھی جنگلی بلی کی جانب متوجہ ہوا تھا۔۔۔ جو غصے میں اُس کا ہاتھ پوری طرح نوچ چکی تھی۔۔۔۔
اُسے یہ بات ہی آگ لگا گئی تھی کہ زوہان اب رات کے ٹائم ثمن سے ملنے جائے گا۔۔۔۔
“کیا ہوا ہے۔۔۔۔ زنیشہ میران کے اچانک اتنے غصے میں آنے کی وجہ۔۔۔۔۔”
زوہان اُس کا لال پڑتا چہرا دیکھ قدرے نرمی سے بولا۔۔۔۔ کیونکہ وجہ وہ جانتا تھا۔۔۔
زنیشہ اُس سے اپنی کلائی آزاد کرواتی دور جاکھڑی ہوئی تھی۔۔۔ زوہان اُس کی آنکھوں میں آنسو دیکھتا اُس کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ اُسے زنیشہ کے اتنے شدید ردعمل پر حیرانی ہورہی تھی۔۔۔۔
“میں اچھے سے آپ کا مقصد سمجھ گئی ہوں۔۔۔ آپ مجھ سے شادی صرف آژمیر لالہ کو نیچا دکھانے کے لیے کرنا چاہتے ہیں۔۔۔۔ آپ کا دل و دماغ اُس ثمن خان کے پاس ہے۔۔۔۔ آپ اُسی سے شادی کیوں نہیں کرلیتے۔۔۔۔ چھوڑ دیں میری جان۔۔۔۔۔ “
زنیشہ زوہان کے قریب آنے پر اُلٹے قدموں پیچھے ہٹی تھی۔۔۔ جب اُس کا پیر کندھے سے ڈھلکی اپنی ہی شال میں اُلجھتا اُسے لڑکھڑانے پر مجبور کر گیا تھا۔۔۔
زوہان نے جلدی سے آگے آکر اُسے تھامتے گرنے سے بچایا تھا۔۔۔ زوہان کا بازو اُس کی کمر میں حمائل تھا۔۔۔ اور وہ اُس کے اُوپر زرا سا جھکا ہوا تھا۔۔۔۔
“اُس سے تو میں نے دوسری شادی کرنی ہی ہے۔۔۔ مگر پہلی تم سے کروں گا۔۔۔۔۔”
زوہان زنیشہ کو تھام کر سیدھا کھڑا کرتے بولا تھا۔۔۔
جبکہ اُس کی دوسری شادی والی بات پر زنیشہ کے آنسو چھلک پڑے تھے۔۔۔۔
“اِس میں رونے والی کیا بات ہے۔۔۔۔ تم تو شکر کرو۔۔۔ تمہاری جان چھوٹے گی مجھ سے۔۔۔۔”
زوہان اُس کی شال کندھوں سے اُٹھا کر سر پر سیٹ کرتا معنی خیزی سے بولتا اُسے چھیرنے سے باز نہیں آیا تھا۔۔۔۔
زنیشہ کے اِس حسین رُوپ نے اُس کا غصہ کیسے چٹکیوں میں ختم کیا تھا۔۔۔ یہ خود حیران تھا۔۔۔ یہ لڑکی واقعی اُس کے کر مرض کی دوا تھی۔۔۔۔ اِسے ہر حال میں اُس کی دسترس میں ہی آنا تھا۔۔۔
“آپ سے زیادہ سنگدل انسان اِس پوری دنیا میں کوئی نہیں ہے۔۔۔۔ میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی۔۔۔۔ اور نہ ہی کبھی آپ سے شادی کروں گی۔۔۔۔”
زنیشہ اُسے غصیلی نم آلود نگاہوں سے دیکھتی وہاں سے پلٹی ہی تھی۔۔۔ جب زوہان نے واپس اُس کی کلائی دبوچ کر اُسے اپنی جانب کھینچا تھا۔۔۔۔
“میری زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہو تم۔۔۔۔۔ جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے۔۔۔۔ صرف اُسی لمحے کا انتظار کیا ہے جب تم میرے نام لگائی جاؤ گی۔۔۔۔ زنیشہ میران صرف اور صرف زوہان کی ہے۔۔۔۔ تم خود بھی اپنے آپ کو مجھ سے دور رکھنے کا حق نہیں رکھتی۔۔۔۔ اگر ایسا ہوا تو میں پوری دنیا کو آگ لگا کر رکھ دوں گا۔۔۔۔”
زوہان شدت پسندی سے بولتا زنیشہ کی دھڑکنیں منتشر کرگیا تھا۔۔۔ وہ ساکت سی اُسے دیکھے گئی تھی۔۔۔ ایک طرف وہ اُس کی محبت سے انکاری تھا تو دوسری طرف اُس کی یہ شدت پسندی۔۔۔۔۔
زنیشہ کے دل و دماغ میں الگ جنگ چھڑ چکی تھی۔۔۔۔۔
زوہان اُس پر ایک بھرپور نگاہ ڈالتا واپس پلٹ گیا تھا۔۔۔ جبکہ زنیشہ اپنا دل تھامتی وہیں بیٹھتی چلی گئی تھی۔۔۔۔
@@@@@@@@
“پلیز آپ مت جائیں مجھے یہاں اکیلے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔۔”
آژمیر اُس کو میڈیسن کھلا کر سونے کا کہتا جانے کے لیے پلٹا تھا۔۔۔ جب حاعفہ نے نجانے کس خیال کے زیرِ ااثر اُسے پکار لیا تھا۔۔۔۔
“آر یو شیور۔۔۔۔ میں مت جاؤں؟؟؟”
آژمیر پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالے کھڑا سوالیہ انداز میں بھنویں اُچکاتا اُس سے بولا تھا۔۔۔
“جی۔۔۔۔”
حاعفہ نے سر اثبات میں ہلاتے ایسے مجرموں کی طرح نیچے جھکا دیا تھا جیسے یہ بات بول کر کوئی جرم کرلیا ہو۔۔۔۔
“اوکے۔۔۔۔۔ آپ ریسٹ کریں میں یہیں ہوں۔۔۔۔”
آژمیر ایک طرف رکھے صوفوں پر بیٹھتا فون کان سے لگاتا فیصل سے میٹنگ کی اپڈیٹس لینے لگا تھا۔۔۔۔
حاعفہ آژمیر کی جانب ہی کروٹ لے کر لیٹی ہوئی تھی۔۔۔ تاکہ وہ دیوانی اپنے محبوب کا اچھے سے دیدار کرسکے جس سے بہت جلد وہ جدا ہونے والی تھی۔۔۔
آژمیر فون پر بات کرتے مسکرایا تھا۔۔۔ میٹنگ میں سب سے بڑا پراجیکٹ اُسی کی کمپنی کو ملا تھا۔۔۔
حاعفہ تو جیسے اِس دلکش مسکراہٹ پر مرمٹی تھی۔۔ اُس کے دل نے بے اختیار اِس شخص کو ہمیشہ کے لیے اپنے رب سے مانگ لیا تھا۔۔۔۔
آج تک حاعفہ نے اتنی شدت سے اپنے لیے کچھ نہیں مانگا تھا جتنا وہ اب تک آژمیر میران کو اپنے لیے مانگ چکی تھی۔۔۔ اُس کا دل کسی ضدی بچے کی طرح آژمیر کو پانے کی چاہ میں اُس کی جانب ہمک رہا تھا۔۔۔۔
آژمیر نے فون بند کرتے حاعفہ کی جانب دیکھا تھا۔۔ حاعفہ نے لمحے کے ہزارویں حصے میں آنکھیں جھپکتے خود کو سوتا ظاہر کیا تھا۔۔۔ مگر اُس کی یہ چلاکی آژمیر میران کی نظروں سے نہیں بچ پائی تھی۔۔
آژمیر بنا کچھ بولے مسکراتا آنکھیں موندتے صوفے کی بیک سے سر ٹکا گیا تھا۔۔۔ جب کچھ دیر بعد اُسے پھر سے حاعفہ کی نگاہوں کی تپیش اپنے چہرے پر محسوس ہوئی تھی۔۔۔
اُسے اِس لڑکی کی معصومیت پر ہنسی آئی تھی۔۔۔ جو ابھی بھی شاید یہی سمجھ رہی تھی کہ آژمیر اُس کے جذبوں سے انجان ہے۔۔۔ مگر آژمیر تو کب سے اُس کی آنکھوں میں اپنا عکس دیکھ چکا تھا۔۔۔
بلکہ کہیں نہ کہیں اِسی لڑکی کی اسیری اُسے آہستہ آہستہ اپنا اسیر بنا رہی تھی۔۔۔
حاعفہ کچھ دیر لیٹے لیٹے اُسے گھورتی رہی تھی۔۔ جب کافی دیر تک آژمیر اُسی پوزیشن میں لیٹا رہا تو حاعفہ اُس کے سوئے ہونے کا یقین کرتی اپنی جگہ سے اُٹھ بیٹھی تھی۔۔۔۔
چوڑا سینہ، روشن پیشانی، مضبوط کسرتی بازو، کھڑی مغرور ناک اور سختی سے ایک دوسرے میں پیوست عنابی ہونٹ۔۔۔۔ حاعفہ بنا پلیکیں جھپکے اُسے دیکھے گئی تھی۔۔۔
آژمیر کو اتنی دیر ایک ہی پوزیشن میں بنا زرا سا بھی ہلے نیم دراز دیکھ حاعفہ یہی سمجھی تھی کہ وہ سو چکا ہے۔۔۔
حاعفہ بنا سلیپرز پہنے دبے پاؤں اُس کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔ اور اُس سے چند قدموں کے فاصلے پر زمین پر ٹک گئی تھی۔۔۔ وہ اپنی جگہ فلحال آژمیر کے قدموں میں ہی سمجھتی تھی۔۔۔
آنکھیں موندے حاعفہ کی ایک ایک حرکت محسوس کرتے آژمیر کو حاعفہ کی یہ بات بہت بُری لگی تھی۔۔۔ اُس کا اپنے قدموں میں بیٹھنا آژمیر کو غصہ دلا گیا تھا۔۔۔ وہ آنکھیں کھولے اپنی جگہ سے اُٹھنے ہی والا تھا جب حاعفہ کے منہ سے نکلنے والے الفاظ نے اُسے ساکت کیا تھا۔۔۔۔
“آپ کی یہ دیوانی بہت محبت کرتی ہے آپ سے۔۔۔۔ کاش کہ میرا پروردگار آپ کو میری قسمت میں لکھ دے۔۔۔”
آژمیر کی ہاتھ کی پشت کو ہلکا سا ٹچ کرتے حاعفہ نے بہت ہی آہستہ آواز میں سرگوشی کی تھی۔۔۔ جو بہت غور کرنے کے بعد بامشکل آژمیر کی سماعتوں سے ٹکرائی تھی۔۔۔
آژمیر پچھلے چند واقعات سے اتنا تو سمجھ گیا تھا کہ حاعفہ اُس سے محبت کرتی ہے۔۔۔ مگر اُس کی محبت کی شدت اتنی زیادہ ہے اِس بات کا ادراک ابھی کچھ لمحے پہلے ہوا تھا اُسے۔۔۔۔
حاعفہ اپنے دل کو تسکین پہنچاتی خاموشی سے وہاں سے اُٹھ گئی تھی۔۔۔ جب اچانک اپنی کلائی پر محسوس ہوتی آژمیر کی گرفت حاعفہ کا خون خشک کر گئی تھی۔۔ اُس کا دل بُری طرح سے دھڑکنے لگا تھا۔۔
“مس حاعفہ ابھی آپ نے کیا کہا؟؟؟ میں نے ٹھیک سے سنا نہیں۔۔۔۔”
آژمیر کے متبسم لہجے اور کلائی پر بنتی مضبوط گرفت نے حاعفہ کی جان نکال دی تھی۔۔۔۔
اُسے بے جان گڑیا کی طرح ساکت کھڑا دیکھ اگلے ہی لمحے آژمیر اُسے اپنی اوور کھینچ چکا تھا۔۔۔۔۔
@@@@@@@@
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
