No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
ماورا منہاج درانی کی شکل دیکھنے کی بھی روادار نہیں تھی۔۔۔ اُس کی بات کا جواب دینا تو دور کی بات۔۔۔۔۔۔ شاید منہاج درانی کو احساس ہی نہیں تھا کہ وہ اس کے جھوٹ کے بدلے، اُسے کہیں بڑی سزا دے کر اپنا بدلہ پورا کر چکا تھا۔۔۔۔
مگر اُس کا اب بھی بات بے بات ٹارچر کرنا ماورا کو مزید ہرٹ کررہا تھا۔۔۔ اُسے سمجھ نہیں آرہی تھی۔۔۔ یہ شخص اب بھی اُس کا پیچھا چھوڑنے کے لیے تیار کیوں نہیں تھا۔۔۔۔ جب وہ اُسے ایک حقیر نفرت آمیز لڑکی سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتا تھا۔۔۔
منہاج کے کھینچنے پر ماورا سیدھی اُس کے چوڑے سینے سے جا ٹکرائی تھی۔۔۔۔۔ مگر لمحے کے ہزارویں حصے میں وہ درمیان میں فاصلہ برقرار رکھتی پیچھے ہٹی تھی۔۔۔۔ مگر اُس کی کلائی ابھی بھی منہاج کی گرفت میں تھی۔۔۔۔
“تم پوری یونیورسٹی کے سامنے یہ پارسا ہونے کا ناٹک کر سکتی ہو۔۔۔۔ مگر میرے سامنے بالکل بھی نہیں۔۔۔۔ ویسے تم طوائفوں کی تو قیمت لگتی ہے نا۔۔۔۔ تمہاری کیا قیمت ہے ایک رات کی۔۔۔۔۔”
منہاج اُس کی کلائی کو سختی سے اپنی گرفت میں دبوچے اپنے الفاظ سے اُس کی روح چھلنی کر گیا تھا۔۔۔۔
ماورا نے تڑپ کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ مگر اُس کی سرد و سپاٹ نگاہوں میں کسی قسم کی کوئی رعایت موجود نہیں تھی۔۔۔ وہ سنگدل اُس کو لہولہان کرنے ہی آیا تھا۔۔۔
“میرا ہاتھ چھوڑو۔۔۔۔۔”
ماورا غصے بھری نظروں سے اُسے دیکھتی چلائی تھی۔۔۔ ساتھ ساتھ اُس سے اپنی کلائی بھی آزاد کروانے کی مزاحمت جاری رکھی ہوئی تھی۔۔۔
“میں نے جو پوچھا ہے پہلے اُس کا جواب دو۔۔۔۔ کتنی قیمت ہے تمہاری۔۔۔۔۔ اور آج تک کتنوں کا بستر آباد کر چکی ہو۔۔۔۔۔”
یہ الفاظ ادا کرتے منہاج کی آنکھوں میں شعلوں کی سی لپک تھی۔۔۔۔ جیسے اُس کے لیے بھی یہ الفاظ اذیت کا باعث ہوں۔۔
اُس کی بات پر ماورا کی نم آلود سرخی مائل آنکھیں اُس سنگدل اور بے حس شخص پر جم سی گئی تھیں۔۔۔۔ جو اُسے تکلیف اور اذیت سے دوچار کرنے کے لیے کسی بھی حد تک گر سکتا تھا۔۔۔۔۔
“بہت ساروں کے۔۔۔۔ ایک طوائف کے بارے میں اتنا جانتے ہو۔۔۔۔۔ تو یہ بھی جانتے ہوگے کہ وہ اپنے پاس آئے لاتعداد مردوں کا حساب نہیں رکھتی۔۔۔۔۔ لوگ آتے ہیں اپنا دل بہلاتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔۔۔۔ اور رہی بات قیمت کی۔۔۔۔ تو میری قیمت میرے کوٹھے پر لگتی ہے بولیوں کے حساب سے۔۔۔۔۔ جس کی بولی زیادہ بڑی ہوتی ہے۔۔۔۔ مجھے اُس کی جھولی میں ڈال دیا جاتا ہے۔۔۔۔۔ “
ماورا بنا کوئی لحاظ کیے۔۔۔۔ منہاج درانی کو اپنے بارے بارے میں وہ وہ باتیں بول گئی تھی۔۔۔ جو اُس کی اپنی ذات کے حوالے دے تھی ہی نہیں۔۔۔۔ نہ ہی آج تک کوٹھے پر آئے کسی مرد کی اُس پر نگاہ پڑی تھی۔۔۔۔ نہ ہی حاعفہ نے آج تک اُس کے قریب گھنگروں کو بھٹکنے دیا تھا۔۔۔۔ وہ صرف نام کی طوائف ذادی تھی۔۔۔۔ جبکہ حقیقت اِس کے بالکل برخلاف تھی۔۔۔۔ وہ جانتی تھی اُس کی حقیقت پر منہاج سمیت کبھی کوئی یقین نہیں کرے گا۔۔۔۔ تو پھر وہ کیوں صفائیاں دیتی پھرے۔۔۔۔ اپنی پاک بازی کی۔۔۔۔۔
“بکواس نہیں سننی مجھے۔۔۔۔۔ سچ سچ بتاؤ۔۔۔۔۔”
ماورا کے منہ سے نکلے الفاظ منہاج درانی کو جلتی بھٹی میں پھینک گئے تھے۔۔۔۔
“کیوں ایک طوائف کا سچ۔۔۔۔ اِس کے علاوہ اور کیا ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔ طوائف زادی ہوں۔۔۔۔ بستروں کی زینت نہیں بنوں گی تو اور کیا کروں گی۔۔۔۔۔۔ “
ماورا خود اذیتی سے بولتی اپنی کلائی اُس کی گرفت سے آزاد کرتی واپس جانے کے لیے مُڑی تھی۔۔۔۔
جب اُس کے وہاں سے پلٹنے سے پہلے ہی منہاج اُس کی کمر میں بازو حمائل کرتا اُسے اپنے بے حد قریب کرچکا تھا۔۔۔۔ اتنا کہ اُس کی بھسم کرتیں گرم سانسیں ماورا کا چہرا جھلسا گئی تھیں۔۔۔۔
ماورا نے شاک ہوتی نظروں سے منہاج کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ آج تک وہ ماورا کے قریب نہیں آیا تھا۔۔۔۔ مگر اب اُس کی یہ حرکت ماورا کچھ لمحے سمجھ ہی نہیں پائی تھی۔۔۔۔
کمر پر محسوس ہوتی منہاج کی مضبوط گرفت غصے، خفگی اور حجالت کے مارے اُس کا پورا چہرا لال کر گئی تھی۔۔۔۔ اُسے دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ جسم کا سارا خون چہرے پر سمٹ آیا ہو۔۔۔۔
“یہ۔۔۔۔۔یہ کک کیا بے ہودگی ہے؟… چھچھ چھوڑو مجھے۔۔۔۔۔ “
ماورا زندگی میں پہلی بار کسی مرد کے اتنے قریب ہوئی تھی۔۔۔۔ اُس کا پورا وجود خوف کے مارے ہولے ہولے لرز رہا تھا۔۔۔ یہ جگہ کافی سنسان تھی۔۔۔ اُوپر سے منہاج کے چہرے کے خطرناک تاثرات۔۔۔۔ وہ رو دینے کو تھی۔۔۔۔
“کیا ہوا؟؟؟؟ ۔۔۔۔ طوائف زادی ہوکر۔۔۔۔ ایک مرد کے قریب آنے سے اتنی بُری حالت کیوں ہورہی ہے تمہاری ؟؟؟ تم تو اِس سے بھی کہیں زیادہ کی عادی ہو نا۔۔۔۔”
منہاج ہاتھ بڑھاتے اُس کا چہرا ٹھوڑی سے تھام کر اپنے مزید نزدیک کر گیا تھا۔۔۔۔
اپنے چہرے پر محسوس ہوتے اُس کے لمس پر ماورا کو جیسے کرنٹ چھو کر گزر گیا تھا۔۔۔
“چھوڑو مجھے۔۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔ “
ماورا کا پورا وجود ہولے ہولے لرزنے لگا تھا۔۔۔۔ اُس نے منہاج درانی کا ایسا جارحانہ رُوپ آج تک نہیں دیکھا تھا۔۔۔ وہ اُس کے ساتھ ایسا کیوں کررہا تھا۔۔۔ ماورا سمجھ نہیں پارہی تھی۔۔۔۔
منہاج نے بہت گہری نظروں سے ماورا کی آنکھوں سے آنسوں ٹوٹ کر گرتے دیکھے تھے۔۔۔ اپنی گرفت میں موجود اُس کے وجود کی لرزش وہ با آسانی محسوس کرپارہا تھا۔۔۔۔
ماورا کی یہ کیفیت دیکھ اُسے عجیب سا سکون ملا تھا۔۔۔۔ اِس لڑکی کی حقیقت کچھ اور تھی۔۔۔۔ وہ نہیں جو وہ اُس کے سامنے ظاہر کر رہی تھی۔۔۔۔
“بہت جلد تمہاری قیمت لگانے تمہارے کوٹھے پر جاؤں گا۔۔۔۔ خود کو تیار رکھنا میرے لیے۔۔۔۔۔ جس بکاؤ مال کو حلال طریقے سے اپنے نام لگوانا چاہتا تھا۔۔۔۔ اب اُسے اُس کی اوقات کے مطابق حاصل کروں گا۔۔۔۔ کیونکہ تم جس رُوپ میں بھی سہی۔۔۔ چاہے ایک طوائف زادی ہو یا پاکیزہ۔۔۔۔ تمہیں آنا صرف منہاج درانی کی دسترس میں ہی ہوگا۔۔۔۔ یہ بات اپنے دماغ میں اچھی طرح سے بیٹھا لو۔۔۔۔ تمہیں چاہنا میری زندگی کا سب سے غلط فیصلہ تھا۔۔۔۔ مگر اپنے غلط فیصلوں کا درست سمت لے جانا مجھے بہت اچھے سے آتا ہے۔۔۔۔ “
منہاج نے ہاتھ بڑھا کر بے دردی سے اُس کی گال پر پھسلے آنسو صاف کیے تھے۔۔۔۔ اور اُسے اپنی گرفت سے آزاد کرتا وہاں سے پلٹ گیا تھا۔۔۔
اُس کے الفاظ کے ساتھ ساتھ اُس کا عمل بھی کافی سختی لیے جارحانہ تھا۔۔۔۔۔ ماورا تو سمجھ رہی تھی کہ منہاج درانی اُسے اُس کی غلطی کی سزا دے کر اب کبھی پلٹ کر اُس کی جانب نہیں دیکھے گا۔۔۔۔ مگر یہاں تو ایک نیا امتحان اُس کا منتظر تھا۔۔۔۔ ماورا سر پکڑتی وہیں پاس رکھے سنگی بینچ پر جا بیٹھی تھی۔۔۔۔۔
@@@@@@@@
حاعفہ اپنے گرد لپٹے اُس کے کوٹ کو مضبوطی سے تھامے آہستہ روئی سے چلتی اُس کے پیچھے ٹیرس پر آئی تھی۔۔۔
جو ریلنگ پر دونوں ہتھیلیاں جمائے کھڑا دور پہاڑوں سے اُڑتے سفید دھویں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ اِس ٹیرس سے اردگرد کو منظر بہت دلکش نظر آتا تھا۔۔۔ نیلا آسمان جو زیادہ تر بادلوں سے ڈھکا رہتا تھا۔۔۔ اور اُس کے نیچے ہریالی سے بھرے یہ بلند و بالا خوبصورت پہاڑ۔۔۔۔۔ جو اِس وادی کی دلفریبی میں مزید اضافہ کرتے تھے۔۔۔۔
ٹیرس پر کافی زیادہ ٹھنڈ تھی۔۔۔۔ حاعفہ اپنے یونیفارم کے ساتھ ساتھ آژمیر کا گرم کوٹ بھی اپنے گرد لپیٹے ٹھنڈ سے کانپ گئی تھی۔۔۔۔ جبکہ آژمیر بنا کسی گرم شے کے وہاں اتنے سکون سے کھڑا تھا۔۔۔ جیسے فولاد کا بنا ہو۔۔۔۔۔ اُس پر یہ موسم کی زیادتی اثر نہ کرتی ہو۔۔۔
حاعفہ اُس کی چوڑی پشت پر ایک نگاہ ڈال کر واپس جھکا گئی تھی۔۔۔۔
“یہ کام کرنے کے پیچھے کیا مجبوری ہے آپ کی۔۔۔۔ کوئی مجبور کررہا ہے ایسا کرنے پر یا پرسنل چوائس ہے۔۔۔۔ “
آژمیر بنا اُس کی جانب پلٹے گھمبیر لہجے میں بولتا حاعفہ کے چودہ طبق روشن کرگیا تھا۔۔۔۔ اُس نے کرنٹ کھا کر اُوپر دیکھا تھا۔۔۔۔ وہ کس کام کی بات کر رہا تھا۔۔۔ تو اِس کا مطلب وہ اُسے پکڑ چکا تھا۔۔۔۔ حاعفہ اندر تک کانپ گئی تھی۔۔۔
وہ ملک آژمیر میران کی پرسنیلٹی کے رعب میں آکر اپنی سوچنیں سمجھنے کی صلاحتیں کھو دیتی تھی۔۔۔۔ جیسا وہ اِس وقت کر رہی تھی۔۔۔۔
“کک۔۔ کون سا کام۔۔۔۔؟؟”
حاعفہ نے بمشکل ہکلاتے ہوئے پوچھا تھا۔۔۔۔ جس پر آژمیر نے پلٹ کر بے اختیار اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ جو خوفزدہ سی سر جھکائے ایسے کھڑی تھی۔۔۔۔ جیسے کوئی بہت بڑا گناہ سرزد ہوگیا ہو۔۔۔۔۔
“ویٹرس والا کام۔۔۔۔۔ کیوں آپ اِس کے علاوہ بھی کوئی کام کرتی ہیں۔۔۔۔۔ ؟؟”
آژمیر سینے پر بازو لپیٹے سامنے کھڑی ٹھنڈ اور شاید خوف سے کانپتی لڑکی کو دیکھنے لگا تھا۔۔۔۔ اُس کے نارمل انداز ميں بات کرنے پر اِس کی یہ حالت تھی۔۔۔۔ اگر جو وہ اپنے اصلی رُوپ میں ہوتا تو اِس لڑکی نے تو بے ہوش ہوکر یہیں گر جانا تھا۔۔۔۔
“نن۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ مم میرا۔۔۔ مطلب ہے۔۔۔۔ مم۔۔۔ میں۔۔۔ صرف۔۔۔ یی۔۔۔ یہی۔۔۔ کام کرتی ہوں۔۔۔۔ مم۔۔۔۔ میری۔۔۔ مجبوری ہے۔۔۔ میں اکیلی رہتی ہوں۔۔۔۔ میرے ماں باپ کی ڈیتھ ہوچکی ہے۔۔۔۔ اپنے لیے مجھے خود ہی سب کچھ کرنا پڑتا ہے۔۔۔۔ اِس لیے۔۔۔۔ مجبوری کے تحت ہی سہی۔۔۔۔ گھر سے نکلنا پڑتا ہے۔۔۔۔۔ “
حاعفہ نے ہلکلاتے بمشکل الفاظ ادا کیے تھے۔۔۔ کیونکہ آژمیر کی جانچتی نگاہیں اُس پر ٹکی ہوئی تھیں۔۔۔۔ اگر اِس وقت وہ ناٹک کررہی ہوتی تو ایک لمحہ بھی نہ لگتا آژمیر کو اُسے پکڑنے میں۔۔۔۔ مگر اُس کا یہ خوف، آژمیر سے بات کرتے لرزنا۔۔۔۔ لڑکھڑانا یہ سب نیچرل تھا۔۔۔۔۔ جس کی وجہ سے اُس کے منہ سے نکلنے والا جھوٹ بھی سچ ہی معلوم ہورہا تھا۔۔۔۔
وہ خود بھی حیران تھی کہ بھلا وہ ایک شخص سے اتنی خوفزدہ کیسے ہوسکتی تھی۔۔۔۔۔ اُس کا سارا کانفیڈنس، خود اعتمادی کہاں چلی جاتی تھی۔۔۔۔ جب وہ آژمیر میران کے سامنے آتی تھی۔۔۔۔ حالانکہ اُس نے ہمیشہ حاعفہ سے نرمی سے بات ہی کی تھی۔۔۔۔ مگر اُس کا نرمی لیے انداز بھی اتنا دہشت بھرا ہوتا تھا کہ حاعفہ کے ہاتھوں کے طوطے اُڑنا نارمل بات تھی۔۔۔۔۔
“تو اِس کے علاوہ آپ کو کوئی جاب نظر نہیں آئی۔۔۔۔ جس جاب میں ڈریسنگ ہی ایسی ہو۔۔۔۔ آپ کو کیا لگتا وہاں آپ کو عزت مل پائے گی۔۔۔۔ “
آژمیر اُس کا خوف کم کرنے کے لیے زرا نرمی بھرے لہجے میں بات کررہا تھا۔۔۔۔ مگر حاعفہ کا خوف ہنوز تھا۔۔۔۔
اُس کی بات کے جواب ميں حاعفہ نے صرف نفی میں سر ہلایا تھا۔۔۔۔
“کوالیفیکیشن کیا ہے آپ کی؟؟؟”
آژمیر کو نجانے کیوں اِس لڑکی سے ہمدردی محسوس ہونے لگی تھی۔۔۔۔ اِس بات سے انجان کہ آگے یہی ہمدردی اُس سے اُس کا سب کچھ لوٹنے والی تھی۔۔۔۔۔
“بی۔اے… “
اب کی بار بھی سر جھکائے مختصراً جواب ملا تھا۔۔۔ حاعفہ میں ہمت نہیں تھی۔۔۔ اُس ساحر کی مقناطیسی نگاہوں میں دیکھنے کی۔۔۔۔ جو مقابل کو خود میں جکڑنے کی پوری صلاحیت رکھتی تھیں۔۔۔۔
“میرے پاس جاب کریں گی۔۔۔۔ “
آژمیر نے اُس کی معصوم صورت دیکھ آفر کی تھی۔۔۔
کیونکہ اُس کی سوچ کے مطابق اِس لڑکی کا یہ غیر معمولی حُسن اِسے کسی بہت بڑی مشکل سے دوچار کر سکتا تھا۔ اور ایسی جاب جہاں اُسے روز نجانے کتنے نامحرم مردوں سے واسطہ پڑنا تھا۔ اُس کے لیے سیف بالکل بھی نہیں تھی۔۔۔۔
“کیسی جاب؟؟”
حاعفہ نے گھنیری پلکوں کی جھالر اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ جو اب پاکٹ میں دونوں ہاتھ ڈالے کھڑا اُسی کی جانب دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ حاعفہ نے جزبز ہوتے فوراً نگاہیں جھکا لی تھیں۔۔۔۔
آژمیر چند قدم اپنی جگہ سے آگے بڑھا تھا۔۔۔ حاعفہ کی نگاہیں اُس کے پیروں پر تھیں۔۔۔۔ اُس کی پیش قدمی پر حاعفہ کا دل لرز گیا تھا۔۔۔۔ دھڑکتے دل کے ساتھ وہ اپنی جگہ پر کھڑی رہی تھی۔۔۔
“یہ میرا کارڈ ہے۔۔۔۔ کل اِس پر لکھے ایڈریس پر پہنچ جائیے گا۔۔۔۔۔”
آژمیر کے قریب آنے کا مقصد صرف اُس کی جانب کارڈ بڑھانا تھا۔۔۔۔ حاعفہ نے ہاتھوں کی کپکپاہٹ پر قابو پانے کی ناکام کوشش کرتے اُس کے ہاتھ سے کارڈ پکڑ لیا تھا۔۔۔۔
اُس کے کارڈ لینے پر آژمیر واپس پلٹا تھا۔۔۔۔
“سر آپ کا کوٹ۔۔۔۔۔ “
حاعفہ کو ایک دم خیال آیا تھا کہ اتنی دیر سے وہ اتنی ٹھنڈ میں ایسے ہی کھڑا تھا۔۔۔۔ اور جس کوٹ کو اپنے گرد سختی سے وہ دبوچ کر لپیٹے ہوئے ہے وہ اِس شخص کو لوٹانا بھی ہے۔۔۔۔
اُس کی پکار پر آژمیر کے قدم تھمے تھے۔۔۔۔ اُس نے نگاہیں گھما کر حاعفہ کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
“مجھ سے زیادہ اِس کی ضرورت آپ کو ہے۔۔۔۔ “
سرد و سپاٹ لہجے میں اُس پر گہرا طنز کرتے وہ وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔۔
جبکہ حاعفہ نجانے کتنی دیر وہاں ساکت سی کھڑی اُس کی مسحور کن خوشبو کی مہک فضا میں محسوس کرتی رہی تھی۔۔۔۔۔
“کتنی خوش قسمت ہوگی نا وہ لڑکی۔۔۔۔ جس کی قسمت میں یہ شاندار مرد لکھا گیا ہوگا۔۔۔۔۔ “
حاعفہ حسرت بھری نظروں سے سیاہ بادلوں سے ڈھکے آسمان کی جانب دیکھتے بولتی تھکے تھکے قدموں سے چلتی وہاں سے ہٹ آئی تھی۔۔۔ کیونکہ اب ایک اُس شخص کے چلے جانے سے یہ حسین منظر بھی ادھورا لگنے لگا تھا۔۔۔۔۔۔۔
@@@@@@@@@
“زنیشہ تمہیں ایچ او ڈی سر اپنے آفس میں بلا رہے ہیں۔۔۔ “
وہ کلاس لے کر نکلی ہی تھی۔۔۔۔ جب یہ پیغام ملنے پر اُس نے اپنے قدموں کو آفس کی سمت بڑھا دیا تھا۔۔۔ اُس کا باڈی گارڈ بھی سائے کی طرح اُس کے ساتھ ساتھ ہی تھا۔۔۔۔ زنیشہ اب لوگوں کی عجیب و غریب نظروں کی عادی ہوتی جارہی تھی۔۔۔ اکثر لڑکیاں تو اُس سے اُس کے باڈی گارڈ کا نمبر بھی مانگ چکی تھیں۔۔۔۔ زنیشہ کا دل چاہتا تھا یا تو اپنے باڈی گارڈ کا یہ داڑھی اور مونچھوں سے سجا منہ توڑ دے یا پھر۔۔۔۔ اِن اندھی لڑکیوں کا، جنہیں وہ اُس کی باڈی بلڈر جسامت سے ہینڈسم لگتا تھا۔۔۔۔۔
زنیشہ آفس میں داخل ہونے سے پہلے واپس پلٹی تھی۔۔۔ جہاں اُس کا باڈی گارڈ بھی ہاتھ باندھے اُس کے ساتھ اندر آنے کو تیار تھا۔۔۔۔
“اب ایچ او ڈی کے آفس میں بھلا مجھے کیا خطرہ ہوسکتا ہے۔۔۔۔ خاموشی سے یہیں کھڑے رہو۔۔۔۔۔”
زنیشہ نے پلٹ کر مزمل کو سخت نگاہوں سے وارن کیا تھا۔۔۔ جس پر حیرت انگیز طور پر وہ اثبات میں سر ہلاتا پیچھے ہوتا دیوار کے ساتھ سر ٹکاتا خاموشی سے کھڑا ہوگیا تھا۔۔۔۔۔ زنیشہ اُس کی اتنی فرمانبرداری پر منہ کھولے اُسے دیکھے گئی تھی۔۔۔۔
“اِس کا مطلب یہ ڈانٹ کر کہی جانے والی بات سمجھتا ہے۔۔۔۔ اب اِس سے ایسے ہی پیش آنا پڑے گا۔۔۔۔”
زنیشہ اُسے گھورتی نگاہوں سے دیکھتی دل میں سوچ کر رہ گئی تھی۔۔۔۔ پہلی دفعہ اُس کی ڈانٹ کو کسی نے سیریس لیا تھا۔۔۔ وہ بھی ایک باڈی بلڈر نے اُس کے لیے حیران ہونا تو بنتا تھا۔۔۔۔
زنیشہ اُس کی جانب سے مطمئین ہوتی اجازت ملنے پر اندر داخل ہوئی تھی۔۔۔۔
“السلام و علیکم سر۔۔۔ آپ نے بلایا مجھے۔۔۔۔۔۔ “
زنیشہ بنا اردگرد دیکھے ایچ او ڈی کے ٹیبل سے فاصلے پر رکتی اُن سے مخاطب ہوئی تھی۔۔۔۔
” جی مس زنیشہ۔۔۔۔ مسٹر ملک زوہان آپ سے ملنا چاہتے تھے۔۔۔۔ اِسی لیے یہاں بلایا آپ کو۔۔۔۔۔ “
سر نے ہاتھ کے اشارے سے اُس کا دھیان دائیں جانب بڑے شاہانہ انداز میں صوفے پر براجمان ملک زوہان کی جانب کیا تھا۔۔۔۔
جبکہ اُن کی بات پر زنیشہ سے گردن موڑنا مشکل ہوگیا تھا۔۔۔۔ اُسے لگا جیسے وہ اپنی جگہ پر پتھر کی ہوچکی ہے۔۔۔۔ اب کبھی یہاں سے ہل نہیں پائے گی۔۔۔۔
“آپ بات کر لیں۔۔۔۔ میری ایک بہت امپورٹنٹ کلاس ہے میں زرا وہ اٹنیڈ کرلوں۔۔۔۔۔”
ایچ او ڈی زوہان سے ایسے مخاطب تھے جیسے اُن کی بہت اچھی جان پہچان ہو۔۔۔۔
زنیشہ نے سر کو بلانا چاہا تھا۔۔۔ مگر اُس کی زبان کوئی الفاظ ادا کرنے سے قاصر تھی۔۔۔۔
اُس نے پلٹ کر وہاں سے جانا چاہا تھا۔۔۔ جب زوہان کی کمرے میں گونجتی گھمبیر آواز اُس کے قدم وہیں جکڑ گئی تھی۔۔۔۔
“کیسی ہو؟… اپنی شادی ٹوٹنے کا سوگ ختم ہوا یا نہیں۔۔۔۔”
زوہان اپنی جگہ پر ہی براجمان اُس سے مخاطب تھا۔۔۔۔ زنیشہ نے نظریں اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ جو پہلے ہی دلچسپی بھری نگاہیں اُس کے سیاہ شال میں مقید دودھیا چہرے پر گاڑھے ہوئے تھا۔۔۔۔ زنیشہ اُس کے دیکھنے کے انداز پر جی جان سے لرز گئی تھی۔۔۔۔
اُس نے دل ہی دل میں اپنے باڈی گارڈ کو صلواتوں سے نوازا تھا۔۔۔ جس نے ابھی ہی اُس کی بات ماننی تھی۔۔۔۔ جب اندر یہ جلاد موجود تھا۔۔۔
“آپ کیوں آئے ہیں یہاں؟ مجھے کوئی بات نہیں کرنی آپ سے۔۔۔۔ نہ ہی میں آپ کو اِس قابل سمجھتی ہوں۔۔۔۔۔”
زنیشہ دیدہ دلیری کا مظاہر کرتی اپنے باڈی گارڈ کی شے پر اُسے ٹکا سا جواب دیتی وہاں سے نکلی تھی۔۔۔۔
“تمہارا باڈی گارڈ میرے آدمیوں کے نشانے پر ہے۔۔۔ اگر تم یہاں سے نکلی تو وہ اُسے شوٹ کردیں گے۔۔۔۔کیوں بچارے کسی مظلوم کی زندگی کی دشمن ہورہی ہو۔۔۔۔”
زوہان اُسی طرح ریلیکس انداز میں بیٹھا زنیشہ کے بڑھتے قدم وہیں روک گیا تھا۔۔۔۔ زنیشہ نے بے یقینی سے پلٹ کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ وہ بھلا اتنا بے رحم کیسے ہوسکتا تھا۔۔۔
“سب بالکل ٹھیک کہتے ہیں۔۔۔ آپ میں انسانیت بالکل ختم ہوچکی ہے۔۔۔ آپ کے غصے اور انتقام کی آگ نے آپ کو بالکل بے حس بنا دیا ہے۔۔۔ “
زنیشہ کو پہلے اُس پر ذیشان کے ساتھ کیے گئے ناروا سلوک کی وجہ سے غصہ تھا۔۔۔ اور اب اُس کا مزمل کے لیے ایسا بولنا اُسے مزید بھڑکا گیا تھا۔۔۔۔
زوہان بنا اُس کی کسی بات پر غصہ کیے۔۔۔۔ دلچسپی سے اُس کا یہ نیا رُوپ اپنے سامنے دیکھ رہا تھا۔۔۔ جیسے وہ بھول چکی ہو کہ اُس کے سامنے ملک زوہان تھا۔۔۔۔ جو خود سے ایسے بات کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دیتا تھا۔۔۔
“دوسروں کی رائے کی مجھے قطعاً پرواہ نہیں ہے۔۔۔ تم اہنا بتاؤ۔۔۔۔ تم کیا رائے رکھتی ہو میرے بارے میں۔۔۔ “
زوہان اپنی جگہ سے اُٹھتا اب کی بار زنیشہ کی جانب پیش قدمی کرچکا تھا۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
