No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
زنیشہ سے خوف کے مارے بولنا محال ہوا تھا۔۔۔ ملک زوہان کا نارمل مزاج بھی برداشت کرنا اُس کے لیے مشکل تھا۔۔۔ اور اِس وقت تو وہ شدید غصے میں بھی تھا۔۔۔ زنیشہ کو اگر دیوار کا سہارا نہ ہوتا تو وہ اب تک زمین بوس ہوچکی ہوتی۔۔۔
ملک زوہان کے وجود سے اُٹھتی مسحور کن خوشبو زنیشہ کے حواس جکڑ رہی تھی۔۔۔ وہ اِس شخص کی نگاہوں سے دور بھاگ جانا چاہتی تھی۔۔۔ لیکن ملک زوہان کے سامنے اُس کے علاوہ کسی اور کی خواہش پوری یہ ناممکنات میں سے ہی تھا۔۔۔۔
مگر زوہان کا اب بھی اُسے منگ کہنا اُس کی آنکھوں میں مرچیں سی بھر گیا تھا۔۔۔
“آآاپ۔۔۔۔ آپ نے۔۔۔۔۔ خود۔۔۔ٹھک ٹھکرایا تھا مجھے۔۔۔۔ وہ بھی۔۔۔۔ وہ۔۔۔ بھی پورے ۔۔۔۔ خاندان۔۔ کے سامنے۔۔۔۔”
زنیشہ کے سُرخ شیریں لبوں سے شکوہ ٹوٹ کر زوہان کے کانوں سے ٹکرایا تھا۔۔۔۔
“میں تمہیں تمہارے خاندان والوں کے سامنے ٹھکراؤں یا پوری دنیا کے۔۔۔۔ مگر میری ایک بات ہمیشہ کے لیے زہن نشین کرلو۔۔۔۔ تم پر پہلا اور آخری حق میرا ہے۔۔۔۔ صرف میرا۔۔۔ ملک زوہان کا۔۔۔۔ اگر خود کو کسی اور کے ساتھ منسوب کرنے کی کوشش بھی کی تو اُس کا وہی حشر ہوگا۔۔۔ جو ابھی تھوڑی دیر پہلے اُس ذیشان کا کرچکا ہوں۔۔۔۔”
ملک زوہان کے زہر میں ڈوبے الفاظ پر زنیشہ کی آنکھوں کی پتلیاں خوف اور بے یقینی کے عالم میں پھیل کر مزید دلکش لگی تھیں۔۔۔ اُس کے خوشبوؤں میں مہکتے وجود کی دلفریبی کسی کو بھی اپنے سامنے چاروں شانے چت کرسکتی تھیں۔۔۔ لیکن اِس وقت اُس کے سامنے ملک زوہان کھڑا تھا۔۔۔ جو دوسروں کے سامنے جھکنا نہیں بلکہ لوگوں کو اپنے آگے جھکانے پر ایمان رکھتا تھا۔۔۔۔زنیشہ کے مطابق اِس شخص کو نہ اُس کی ظاہری دلفریبی میں کوئی دلچسپی تھی اور نہ ہی اُس کی ذات میں۔۔۔۔
صرف اپنی ضد اور انا عزیز تھی۔۔۔۔ صرف اپنی جیت سے غرض تھی۔۔۔ چاہے اُس کا راستہ کسی کا دل چیڑ کر نکلتا ہو۔۔۔۔
“کک۔۔۔ کیا۔۔۔ کیا کیا آپ نے اُس کے ساتھ۔۔۔۔۔”
زنیشہ اُس سفاک شخص کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھتے بولی۔۔۔ وہ اُس کے بے انتہا قریب کھڑا تھا۔۔۔ اُس کی گرم سانسوں سے زنیشہ کو اپنا چہرا بالکل آگ کی مانند جلتا محسوس ہوا تھا۔۔۔ مگر وہ اُسے دور ہٹانے یا یہاں سے جانے کا کہنے کی غلطی نہیں کرسکتی تھی۔۔۔ کیونکہ اِس شخص سے کوئی بعید نہیں تھی۔۔۔ یہاں سے جانے سے ہی انکار کر دیتا۔۔۔۔
“بہت جلد پتا چل جائے گا تمہیں۔۔۔۔ مگر ابھی فوراً سے پہلے اپنا حلیہ درست کرو۔۔۔۔۔”
ملک زوہان نے اپنی پاکٹ سے سفید کلر کا رومال نکال کر اُس کی جانب بڑھا دیا تھا۔۔۔
“میں۔۔۔ ایسا کچھ نہیں کروں گی۔۔۔۔”
انکار کرتے زنیشہ کا دل خوف سے پھڑپھڑایا تھا۔۔۔
“میری نرمی کا ناجائز فائدہ مت اُٹھاؤ زنیشہ میران۔۔۔۔ تم جانتی ہو مجھے اپنا کہا دوہرانے کی عادت نہیں ہے۔۔۔۔ صاف کرو اِس سب کو اپنے چہرے سے۔۔۔۔ سب سے پہلے اپنے ہونٹ صاف کرو۔۔۔۔۔”
ملک زوہان کی گہری نگاہیں اپنے چہرے کے نقوش پر پڑتیں اُس کی جان نکال رہی تھیں۔۔۔ آخری بات کہتے اُس نے جس طرح زنیشہ کے ہونٹوں کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ زنیشہ اندر تک کانپ کر رہ گئی تھی۔۔۔
لیکن پھر بھی وہ بنا کوئی حرکت کیے ایسے ہی بت بنی کھڑی رہی تھی۔۔۔
لیکن اُس کی آنکھیں حیرت کی زیادتی سے اُس وقت پھٹی تھیں۔۔۔۔ جب زوہان نے گن نکالتے اُس کی کنپٹی پر رکھی تھی۔۔۔۔
“یہ نیک کام میں اپنے ہاتھوں سے بھی کرسکتا ہوں۔۔۔ مجھے میری بنائی گئی حدود سے تجاوز کرنے پر مجبور مت کرو۔۔۔۔۔”
زوہان نے اپنی شعلے برساتی نگاہیں اُس کی نگاہوں میں گاڑھتے ایک ایک لفظ چبا چبا کر ادا کیا تھا۔۔۔ زنیشہ میران اُس کی حکم عدولی کررہی تھی۔۔۔ یہ بات وہ بھلا کیسے برداشت کرسکتا تھا۔۔۔۔۔
زنیشہ نے بے یقینی سے اپنے سر پر رکھی اُس کی گن کو دیکھا تھا۔۔۔۔ اور رہی سہی کسر اُس کے الفاظ نے پوری کردی تھی۔۔۔۔ اُس کی آنکھوں سے آنسو لڑیوں کی صورت اُس کے گالوں پر لڑھک آئے تھے۔۔۔۔
اُس نے زوہان کے ہاتھ سے رومال تھامتے اپنے ہونٹوں پر رکھتے لپسٹک کو بے دردی سے رگڑ دیا تھا۔۔۔ زوہان ابھی بھی اُس پر کنپٹی پر پسٹل رکھے ہوئے اُسے یک ٹک دیکھے جارہا تھا۔۔۔۔
زنیشہ نے لرزتے ہاتھوں سے اپنا سارا میک اپ صاف کردیا تھا۔۔۔۔ اُس نے رومال ہاتھ میں کی دبوچ رکھا تھا۔۔۔۔ جب زوہان نے ہاتھ بڑھاتے بنا اُسے چھوئے اُس کی مٹھی سے اپنا رومال نکال کر واپس پاکٹ میں رکھ لیا تھا۔۔۔۔
زنیشہ نے عجیب نظروں سے اُس کی یہ حرکت دیکھی تھی۔۔۔۔ اُسے بھلا اِن عام سے رومالوں کی کیا کمی تھی جو وہ اُس کا میک اپ سے بھرا رومال اپنی پاکٹ میں اتنا سنبھال کر رکھ رہا تھا۔۔۔۔
“یہ جیولری بھی اُتاروں جلدی۔۔۔۔۔”
زوہان نے نیا حکم صادر کرتے زنیشہ کو جلا کر راکھ کیا تھا۔۔۔
زنیشہ کی ملک زوہان کے حوالے سے تھوڑی بہت خوش فہمی۔۔۔۔ غلط فہمی میں تبدیل ہوکر ختم ہوچکی تھی۔۔۔۔ یہ شخص اُس کے سر پر اگر بندوق تان سکتا تھا تو کچھ بھی کر سکتا تھا۔۔۔۔
زنیشہ کپکپاتے ہاتھوں سے اپنی جیولری اُتارنے لگی تھی۔۔۔ جب جھمکے اُتارتے اُس کے بال جھمکے میں اُلجھ گئے تھے۔۔۔۔ کھنچنے کی وجہ سے اُس کے منہ سے ہلکی سی کراہ برآمد ہوئی تھی۔۔۔۔
اُس کی جانب ساکت نظروں سے دیکھتا ملک زوہان کچھ لمحے اُسے ایسے ہی زور آزمائی کرتے دیکھے گیا تھا۔۔۔
زنیشہ کی نازک جان پر یہ تکلیف بھی شاید کافی زیادہ تھی۔۔۔ اُس کا چہرا بالکل سرخ پڑ چکا تھا۔ زوہان نے اُس کی حالت دیکھتے نا چاہتے ہوئے بھی بے اختیار ہاتھ اُس کی جانب بڑھا دیا تھا۔۔۔۔
لیکن جیسے ہی زوہان کی اُنگلیاں زنیشہ کی اُنگلیوں سے مس ہوئیں۔۔۔ اُسے ایسے جھٹکا لگا تھا جیسے بجلی کی ننگی تاروں کو چھو لیا ہو۔۔۔۔
زنیشہ نے اُس کا لمس محسوس کرتے فوراً اُس کا ہاتھ دور جھٹک دیا تھا۔۔۔ جو کہ ملک زوہان کی انا پر کافی کاری ثابت ہوا تھا۔۔۔۔۔
اُس نے ہونٹ بھینچتے غصے بھری نظروں سے زنیشہ کو دیکھتے اُس کی دونوں کلائیاں اپنی گرفت میں جکڑتے دیوار کے ساتھ لگا دی تھیں۔۔۔۔ اور دوسرے ہاتھ سے اُس کے جھمکے سے بالوں کی پھنسی لٹیں آزاد کرتے لال سرخی مائل آنکھیں اُس پر گاڑھ رکھی تھیں۔۔۔۔ زنیشہ کا دل زور زور سے دھک دھک کرنے لگا تھا۔۔۔۔
خود کو اِس باڈی بلڈر سے آزاد کروانا اِس دھان پان سی لڑکی کے لیے ناممکن تھا۔۔۔
زوہان اُس کا جھمکا اُتار کر دور اُچھال گیا تھا۔
“آئندہ مجھے انکار کرنے کا سوچنا بھی مت۔۔۔ بہت بُرے سے پیش آؤں گا۔۔۔۔”
بنا اُس کی کلائیاں آزاد کیے زوہان اپنا چہرا اُس کے مزید قریب لاتا اُس آنکھوں میں جھانک کر اُسے وارن کرتا وہاں سے پلٹتا، جس راستے سے آیا تھا۔۔۔ وہیں سے واپس نکل گیا تھا۔۔۔
جبکہ زنیشہ اپنے بے قابو ہوتے دل کو تھامتی زمین پر بیٹھتی چلی گئی تھی۔۔۔۔ اُس کا کچھ دیر پہلے کا سجا سجایا حسین رُوپ یہ بے رحم شخص پل بھر میں اُجاڑ کر رکھ گیا تھا۔۔۔۔
پتا نہیں اُس نے زیشان کے ساتھ کیا کیا تھا۔۔۔ زنیشہ کا دل آنے والے وقت کی فکر میں بیٹھا جارہا تھا۔۔۔ جب آژمیر کو ملک زوہان کے اِس کارنامے کا پتا چلے گا تو اُس کا جوابی وار بھی کچھ کم نہیں ہونے والا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
@@@@@@@@@
“ماورا میں نے جو کہا ہے اُس پر عمل کرنا۔۔۔۔ میری اور اپنی زندگی کو مزید مشکل میں مت ڈالنا۔۔۔۔ ہم دونوں کی زندگی کی ایک کی خواہش ہے۔۔ اِس نمائش گاہ پر بکاؤ مال بننے سے بچ کر ایک عزت والی زندگی گزارنی ہے۔۔۔ جس میں ہمیں کوئی ہمیں ایک طوائف کی ناجائز اولاد کرکے نہ پکارے بلکہ ایک نیک عورت کی جائز اولاد کی حیثیت سے ہی جانا جائے۔۔۔ جو کہ ہماری حقیقت ہے۔۔۔ “
حاعفہ ماورا کو وہاں سے رخصت کرتے وقت اُسے اپنے مقابل کھڑا کیے بھاری دل کے ساتھ بولی تھی۔ ہر بار اُسے خود سے جدا کرکے دوسروں کے رحم و کرم پر بھیجنا اُس کے لیے ایسے ہی مشکل ہوجاتا تھا۔ ماورا کے معاملے میں وہ کسی پر ٹرسٹ نہیں کرتی تھی۔
“مجھے معاف کر دیں آپی۔۔۔۔ میری ایک سنگین غلطی کی وجہ سے آپ کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔۔۔ میں اب آگے کچھ غلط نہیں کروں گی۔۔۔۔ مگر میرا دل آپ کے حوالے سے بہت افسردہ ہے۔۔۔ مجھے ملازمہ سے پتا چلا ہے۔۔۔ جہاں آپ جارہی ہیں وہ لوگ بہت خطرناک ہیں۔۔۔۔ آپ کے لیے اپنی جان و عزت کی حفاظت کرنا بہت مشکل ہوجائے گا۔۔۔۔ پلیز آپی مان لیں نا میری بات۔۔۔۔ ہم چھپ کر بھاگ جاتی۔۔۔۔۔۔ “
ماورا کے باقی الفاظ منہ میں ہی تھے۔ جب حاعفہ نے ہتھیلی اُس کے ہونٹوں پر رکھتے اُسے وہیں خاموش کروا دیا تھا۔
“ہمیشہ فضول مت بولا کرو۔۔۔۔ آگر کسی نے سن لیا تو ایک نئی مصیبت کھڑی ہوجائے گی۔۔۔۔ اِن لوگوں سے بچ کر نکلنا اتنا آسان ہوتا تو میں کب کی اپنی جان اِس غلاظت بھری زندگی سے چھڑوا چکی ہوتی۔۔۔۔ “
یہ جملہ ادا کرتے آخر میں حاعفہ کی آنکھوں میں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔۔۔۔ یہاں رہنا اُس کے لیے کتنا اذیت ناک تھا، کوئی سمجھ نہیں پاتا۔۔۔۔
“آپی ایک دن ایسا ضرور ہوگا۔۔۔۔ آئی لو یو سو مچ۔۔۔۔ آپ جیسی صاف نیت پیاری لڑکی کو میرے رب نے جب اِس گندگی اور غلاظت کے ڈھیر میں اب تک محفوظ رکھا ہوا ہے تو مجھے یقین ہے آگے بھی ایسا ضرور ہوگا۔۔۔۔۔ جیسا ہم چاہتی ہیں۔۔۔۔”
ماورا حاعفہ سے گلے مل کر اُس کے گال پر بوسہ دیتی محبت اور عقیدت بھرے لہجے میں بولی تھی۔۔۔
“لو یو ٹو میری جان۔۔۔۔ اپنا بہت سارا خیال رکھنا۔۔۔”
حاعفہ بھی اُسے ملتی وہاں سے رخصت کر گئی تھی۔ کرامت خان کا ڈرائیور اور ایک ملازمہ اُسے ہاسٹل تک چھوڑ آئے تھے۔ جہاں اب اُس پر نگرانی مزید بڑھ گئی تھی۔ وہ ہاسٹل یا یونیورسٹی کچھ بھی کرتی پھرتی اُس سے نہیں پوچھا جاتا تھا۔ لیکن یہاں سے کرامت کا خاص آدمی جو کہ یہاں اُس کی نگرانی ہر معمور تھا، اُسے بنا بتائے جانے کی پرمیشن نہیں تھی۔
لیکن اب تو وہ مر کر بھی کوئی ایسی ویسی حرکت کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔۔۔۔ جس کا دوہرا بھگتان اُس کی بہن کو بھگتنا پڑتا۔۔۔۔۔
ہمیشہ وہ یہاں خوشی خوشی آتی تھی۔ مگر اِس بار اُس کا یہاں آنے کو دل نہیں چاہ رہا تھا۔ جو کچھ اُس کے ساتھ یہاں ہوا تھا۔۔۔ اُسے کوشش کے باوجود دماغ سے نہیں کھرچ پارہی تھی۔
مگر جس نے اُس کے ساتھ یہ سب کیا تھا وہ اُسے کسی بھی قیمت پر بخشنے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی۔
@@@@@@@@@
حاعفہ اپنی پیکنگ مکمل کر چکی تھی۔ اُسے کچھ ہی دیر میں یہاں سے نکنا تھا۔ اِس غلاظت کے ڈھیر سے نکلنا اُس کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش تھی۔۔۔ مگر آج جب وہ جارہی تھی یہاں سے تو اُس کے دل پر ایک بھاری بوجھ آن ٹھہرا تھا۔
کیونکہ جس مقصد کے لیے وہ جارہی تھی، وہ کرنے سے بہتر وہ یہاں رہنا ہی سمجھتی تھی۔ یہاں کم از کم اُس نے اپنی عزت تو محفوظ رکھی ہوئی تھی۔
حاعفہ کو نگینہ بائی اور کرامت نے جانے سے پہلے کچھ ہدایات دینے کے لیے اپنے کمرے میں بلایا تھا۔ وہ اُس طرف ہی جارہی تھی جب اُسے وہاں سے گزرتے ساتھ والے ایک روم سے کسی لڑکی کے چیخنے کی آوازیں تھیں۔۔۔۔ یہ دل دہلا دینے والی بے بسی بھری چیخیں یہاں اُسے اکثر سننے کو ملتی تھیں۔۔ مگر جو لڑکی خود اپنے حالت سے بے بس تھی۔ وہ بھلا کسی اور کے لیے کیا کرسکتی تھی۔۔۔۔
پھر بھی دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر اُس نے اندر جھانکا تھا. جہاں نئی لائی گئی لڑکی کو سج سنور کر کسی کا بستر آباد کرنے کا کہا جارہا تھا۔
اور اُس لڑکی کے مسلسل انکاری ہونے پر نگینہ بائی کی خاص ملازمائیں اُسے بُری طرح پیٹ رہی تھیں۔۔
وہ لڑکی دیکھنے میں ہی کسی مڈل کلاس گھرانے کی شریف سی لڑکی لگ رہی تھی۔۔۔ مگر اُس کا بے پناہ حسین شاید یہاں موجود باقی لڑکیوں کی طرح اُس کا دشمن نکلا تھا۔ اب تو حاعفہ کے منہ سے اکثر یہی دعا نکلتی تھی کہ اُس کا رب اُسے دیا یہ حسن چھین لے، وہ بدصورت ہوکر عزت کی زندگی تو گزار سکے۔۔۔۔
حاعفہ اکثر یہاں آئی لڑکیوں کی اپنے اختیار کے مطابق خفیہ طریقے سے کچھ نہ کچھ مدد کرہی دیتی تھی۔ لیکن نگنیہ بائی کو اِس بارے میں کچھ حد تک خبر ہوچکی تھی۔ وہ حاعفہ پر نظر رکھوانے لگی تھی۔ جس کی وجہ سے حاعفہ کافی سنبھل گئی تھی۔۔۔ وہ جانتی تھی نگینہ بائی اُسے تو کچھ نہیں کہے گی۔۔۔ مگر ماورا کے حوالے سے ضرور کوئی اُلٹا قدم اُٹھائے گی۔۔۔۔ وہ لوگ پہلے ہی ماورا کے ڈاکٹر بننے کے کافی خلاف تھے۔۔۔
مگر حاعفہ نے اُن کو کچھ اِس طرح بلیک میل کیا تھا کہ اُنہیں حامی بھرنی ہی پڑی تھی۔
حاعفہ اُس لڑکی کی حالت دیکھ ابھی بھی بے حس بن کر گزر جانا چاہتی تھی۔۔۔ مگر نجانے کیا کشش تھی کہ وہ اپنے قدم کمرے کے اندر بڑھنے سے روک نہیں پائی تھی۔
“کیا ہوا ہے۔۔۔؟ کیوں مار رہی ہو اِسے تم لوگ۔۔؟”
حاعفہ نے قریب آتے سرسری سا پوچھا تھا۔ اُس کی آواز پر دونوں ملازمہ پیچھے ہوتی اُس کی جانب پلٹی تھیں۔۔۔
“رانی صاحبہ دو دن ہوگئے ہیں اِسے یہاں آئے۔۔۔۔۔ مگر یہ مہارانی نہ رقص کے لیے راضی ہورہی ہے۔۔۔ نہ کسی گاہک کے سامنے پیش ہونے کے لیے۔۔۔۔ “
ملازمہ اپنے ماتھے سے پسینہ صاف کرتی اُس ڈری سہمی زخموں سے نڈھال بیٹھی لڑکی کی جانب حقارت بھری نظروں سے دیکھتے بولی۔۔۔۔
اُس کی بات پر حاعفہ نے مٹھیاں بھینچے بہت مشکل سے خود پر قابو پایا تھا۔۔۔۔
اُس کے لیے یہ نئی بات نہیں تھی۔۔۔ یہاں لڑکیوں کو ایسے ہی جانور سمجھا جاتا تھا۔۔۔ حیوان
“ٹھیک ہے تم لوگ جاؤ۔۔۔ میں اپنے طریقے سے سمجھاتی ہوں اِسے۔۔۔۔۔”
حاعفہ اُس ڈری سہمی معصوم سی لڑکی پر ترس کھاتی اُن دونوں سے مخاطب ہوئی تھی۔۔۔۔ جس پر وہ دونوں اثبات میں سر ہلاتی باہر نکل گئی تھیں۔۔۔۔
اُس لڑکی نے اُمید بھری نظروں سے حاعفہ کی جانب دیکھا تھا۔ جو اُن خرانٹ ہٹی کٹی ظالم عورتوں کی طرح نہیں لگ رہی تھی۔
رائل بلو سٹائلش سے گرم سوٹ پر شانوں کے گرد شال لپیٹے، سیاہ سلکی بالوں کا ڈھیلا سا جوڑا بنائے سامنے کھڑی اِس حسن و نزاکت کی مورتی کو اُس لڑکی نے اُمید بھری نظروں سے دیکھا تھا۔۔۔ اُسے یہ گھنیری خمدار پلکوں تلے ڈھکی شہد آگہی نگاہیں اپنائیت لیے اپنی جانب اُٹھتی محسوس ہوئی تھیں۔۔۔
“کیوں اِن کی بات سے انکار کرکے خود پر مزید ظلم کررہی ہو؟… یہاں سے چھٹکارا پانا آسان کام نہیں ہے۔۔۔۔ اِس سے پہلے کے یہ تمہاری چمڑی اُدھیر کر رکھ دیں۔۔۔ اِن کی بات مان لو۔۔۔۔۔”
وہ لڑکی زمین پر اپنے گھٹنوں کے گرد بازو باندھے سکڑی سمٹی بیٹھی تھی۔۔۔ حاعفہ اُس کے قریب رکھی چیئر پر بیٹھتی اُسے مفید مشورے سے نواز گئی تھی۔۔۔۔
“آپ چاہتی ہیں۔۔۔۔ میں اپنی عزت پامال کردوں۔۔۔۔”
اُس لڑکی نے سرد تاثرات سے حاعفہ کی جانب دیکھا تھا۔ اُسے تو لگا تھا شاید یہ پری پیکر اُس کی مدد کرے گی۔۔۔ مگر یہ تو اُلٹا اُسے اندھیری کھائی میں کودنے کو بول رہی تھی۔۔۔۔
“یہاں کیسے پہنچی تم؟؟….”
اُس کے سوال کے جواب میں حاعفہ نے دوہرا سوال کیا تھا۔ حاعفہ کی بات پر وہ لڑکی گڑبڑاتی نظریں چرا گئی تھی۔۔۔ حاعفہ اپنی سوچ کی درستگی پر تلخی سے مسکرا دی تھی۔۔۔
“عزت تو تم اپنی پہلے ہی پامال کرچکی ہو۔۔۔ اپنے ماں باپ کو دھوکا دے کر۔۔۔۔ گھر سے بھاگ کر۔۔۔۔”
حاعفہ کرسی کے ہینڈ پر پڑی دھول کو انگلی سے صاف کرتی چاہنے کے باوجود اپنے لہجے کو طنزیا ہونے سے روک نہیں پائی تھی۔
“آپ کو کیسے پتا؟…”
اُس لڑکی نے حیرت سے حاعفہ کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
“یہاں آئی اکثر لڑکیوں کی یہی کہانی ہوتی۔۔۔ کسی نامحرم کے پیار میں پڑ کر۔۔۔ اُس پر اپنے بوڑھے ماں باپ کی عزت داغدار کرنے میں لمحہ نہیں لگاتیں۔۔۔ اور اُن کا وہی عاشق۔۔۔ جو اُن کے لیے جان دینے کی قسمیں کھا چکا ہوتا ہے۔۔۔ چند پیسوں کے عوض اپنی محبوباؤں کو یہاں بیچ جاتے۔۔۔۔ آج کل تو محبت جیسے پاکیزہ رشتے کو دلوں کے ملن سے زیادہ جسموں کا ملن بنا کر رکھ دیا ہے۔۔۔ تم لوگوں نے۔۔۔۔ محبت جیسا خالص جذبہ اب دھوکے اور فریب کے علاوہ کچھ نہیں رہا۔۔۔۔ کتنی ناشکری ہیں نا تم جیسی لڑکیاں۔۔۔ اپنے ماں باپ کی عزت و محبت بھری چارداری کی چھاؤں چھوڑ کر۔۔۔ خود کو ایسی پُرفریب دنیا میں پٹخ دیتی ہو۔۔۔ ہم جیسیوں سے پوچھو۔۔۔ جن کی ساری عمر اُس عزت بھری چاردیواری کی خواہش کرتے نکل جاتی۔۔۔ اور آخر میں عزت بھرا کفن بھی نصیب نہیں ہوتا۔۔۔۔۔”
حاعفہ آنکھوں میں اُتر آئی نمی اندر دھکیلتی یاسیت بھرے لہجے میں بولی تھی۔۔۔۔ اُس کے لہجے میں پنپتا دکھ اور محرومی وہ اجنبی لڑکی محسوس کرتی مزید شرمندہ ہوئی تھی۔۔۔۔ پچھتاوں نے پہلے ہی اُسے اندر سے ختم کر چھوڑا تھا۔۔۔ اُوپر سے حاعفہ کی باتوں نے اُسے مزید پستی میں دھیکل دیا تھا۔۔
“آپ یہاں۔۔۔۔۔”
اُس لڑکی نے سوالیہ انداز میں حاعفہ کی جانب دیکھتے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی تھی۔۔۔
“میں ایک طوائف زادی ہوں۔۔۔۔ میرا تو جنم ہی اِسی کوٹھے پر ہوا۔۔۔ دنیا کی بدقسمت ترین لڑکیوں میں سے ایک۔۔۔۔۔ “
حاعفہ نے اپنا ہی تمسخر اُڑایا تھا۔۔۔۔ جیسے اِس جگہ پیدا ہونا اُس کا قصور تھا۔۔۔۔
“کیا نام ہے تمہارا۔۔۔۔؟”
حاعفہ نے سرسری سا پوچھ لیا تھا۔۔۔
“بینش۔۔۔۔”
وہ لڑکی اب حاعفہ کے سامنے ندامت کے مارے چہرا نہیں اُٹھا پارہی تھی۔۔۔
“کیا آپ میری مدد کرسکتی ہیں۔۔۔۔؟؟؟ میں مانتی ہوں میری غلطی معاف کیے جانے کے قابل نہیں ہے۔۔۔ مگر میں یہ سب برداشت نہیں کر پاؤں گی۔۔۔ مرجاؤں گی میں۔۔۔۔ “
وہ لڑکی حاعفہ کے پیر پکڑتی اُس کے قدموں میں آن گرتی آنے والے وقت کے خوف سے بلک بلک کر رو دی تھی۔۔۔۔
“یہ کیا کررہی ہو تم؟؟؟ اُٹھو یہاں سے۔۔۔۔”
حاعفہ اُس کی حرکت پر ایک دم بوکھلاتی پیر پیچھے ہٹا گئی تھی۔۔۔
حاعفہ کا ایک لمحے کو دل چاہا تھا اِس لڑکی کو اپنے ساتھ ملازمہ بنا کر ہی لے جائے۔۔۔ مگر پھر نگنیہ بائی کا خیال آتے وہ سوچ بدل گئی تھی۔۔۔ نگینہ بائی اُس کے ساتھ اپنی کسی خاص ملازمہ کو ہی بھیجنے والی تھی۔۔۔ جو پوری طرح سے اُس کی جاسوسی کر سکے۔۔۔۔
“پلیز۔۔۔۔ خدا کے لیے میری مدد کردیں۔۔۔ اللہ آپ کی مدد کرے گا۔۔۔۔”
حاعفہ کچھ دیر خاموش نظروں سے اُسے دیکھے گئی تھی۔۔۔ پھر ایک بوجھل سانس ہوا میں خارج کرتے اُسے کندھوں سے تھام کر اپنے مقابل کھڑا کیا تھا۔۔۔۔
“جو میں کہوں گی وہ مانو گی۔۔۔”
حاعفہ خود کو اِس لڑکی کی مدد کرنے سے روک نہیں پارہی تھی۔۔۔۔ حاعفہ کے نرم لہجے پر بینش نے فوراً زور و شور سے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
“یہ لوگ تمہیں جیسا کہہ رہی ہیں ویسے تیار ہوجاؤ۔۔۔ اور جس کے پاس بھی بھیجنا چاہیں خاموشی سے وہاں چلی جاؤ۔۔۔۔”
حاعفہ کی بات پر اُس لڑکی کی آنکھوں میں جلتے اُمید کے دیئے بج گئے تھے۔۔۔۔
“تمہیں وہاں جاکر صرف ایک کام کرنا ہوگا پوری ہوشیاری اور کانفیڈنس کے ساتھ۔۔۔۔ اگر زرا سی بھی چوکی تم اپنے کام سے تو بہت بُری پھنسو گی۔۔۔۔”
حاعفہ کی اب کی کہی بات پر بینش سانس روکے ہمہ تن گوشہ ہوئی تھی۔۔۔۔
جب حاعفہ نے اپنی ٹراؤزر میں بنی خفیہ پاکٹ سے ایک چھوٹی سی تھیلی نکالی تھی۔ جو سوتے میں بھی وہ اپنے پاس رکھتی تھی۔۔۔۔
اُس تھیلی میں سے چند گولیاں نکال کر اُس نے بینش کے ہاتھ پر رکھی تھیں۔۔۔۔ یہ وہی گولیاں تھیں۔۔۔ جو آج تک اُس کی نجات کا باعث بنی ہوئی تھیں۔۔۔۔ بینش شاید وہ واحد لڑکی تھی جس کے سامنے حاعفہ اپنا راز کھول رہی تھی۔
بینش نے اپنی ہتھیلی پر رکھی گولیوں کو دیکھتے سوالیہ نگاہیں حاعفہ کی جانب اُٹھائی تھیں۔۔۔
“ڈرگز کی ہیوی ڈوز ہیں۔۔۔۔ اگر یہ تم اُس شخص کو ڈرنک میں ملا کر دو گی تو وہ اگلے بارہ گھنٹوں کے لیے خود سے بھی غافل رہے گا۔۔۔۔ اُس کے اُٹھنے سے پہلے تمہیں وہاں سے واپس لے آیا جائے گا۔۔۔۔ اِس کی اتنی پاور ہے کہ اُس شخص کو ہوش میں آنے کے بعد بھی یاد نہیں رہے گا کہ اُس کے ساتھ پچھلے چند گھنٹوں میں کیا ہوا۔۔۔”
حاعفہ کی زہین آنکھوں کی چمک اِس لمحے بڑھ گئی تھی۔۔۔۔
آج تک وہ یہی عمل کرکے خود کو بچاتی آئی تھی۔۔۔۔ بینش نے اپنی لرزتی مٹھی بند تو کر دی تھی۔۔۔ مگر اُس کا خوف ابھی بھی ہنوز تھا۔۔۔
حاعفہ اُسے تسلی دیتی وہاں سے نکل آئی تھی۔۔۔ اُس نے اپنی طرف سے بینش کی بہت بڑی مدد کردی تھی۔ اب اپنے لیے باقی کی جنگ بینش نے خود ہی لڑنی تھی۔۔۔۔
@@@@@@@@@
جاری ہے۔۔۔۔۔
