Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 41


منہاج درانی ماورا کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر پاگل ہوچکا تھا۔۔۔ مگر وہ اُسے کہیں نہیں ملی تھی۔۔۔
اُس رات کی ملاقات کے بعد وہ خوشی خوشی ماورا کو اپنے بابا سے ملوانے کے لیے لینے آیا تھا۔۔۔ مگر ماورا کو وہاں نہ پاکر اُس کے حواس گم ہوئے تھے۔۔۔ اُسے یہی لگا تھا کہ شاید کسی نے ماورا کو کڈنیپ کروایا ہے۔۔۔ ورنہ ماورا خود یوں بنا بتائے اُسےچھوڑ کر نہ جاتی۔۔۔۔
منہاج نے نجانے کتنی بار اُس کا نمبر ٹرائے کیا تھا۔۔۔۔۔ مگر ہر بار دوسری جانب سے ملنے والا ایک ہی جواب اُس کی پریشانی مزید بڑھا گیا تھا۔۔۔
وہ صبح تک کربا خوش تھا کہ اُس کی محبت، اُس کی بیوی اب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اُس کے گھر میں آجائے گی۔۔۔
مگر یہ اُس کی ادھوری خواہش ہی رہی تھی۔۔۔۔
منہاج ہاسٹل وارڈن پر اچھا خاصہ بھڑک کر اُس پر ایف آئی آر کٹوانے کی دھمکی دے کر نکل ہی رہا تھا۔۔۔ جب اُسی لمحے رات کی ڈیوٹی پر معمور سٹاف میں سے ایک خاتون اندر داخل ہوتی اُس کی جانب ایک چھوٹا سا ریکارڈر بڑھا گئی تھی۔۔۔
منہاج نے ناسمجھی سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ مگر اگلے ہی سیکنڈ اُس میں سے نکلتی آواز منہاج جو ساکت کر گئی تھی۔۔۔
“منہاج درانی تمہیں کیا لگتا ھے صرف تم ہی دھوکا دے سکتے ہو۔۔۔ تم ہی دلوں سے کھیل کر لطف اندوز ہونا جانتے ہو کوئی اور نہیں۔۔۔ تمہیں کیا لگا میں اب بھی محبت کرتی ہوں تم سے۔۔۔ تمہارے اتنے بےعزت کرنے کے بعد بھی۔۔۔۔ بھول تھی یہ تمہاری۔۔۔۔ میں نے معاف کردینے کا ناٹک کرکے یہ سب پیار محبت کا کھیل کھیلا تاکہ تمہیں بتا سکوں کہ جب دھوکا اور دھتکار ملتی ہے تو کتنی تکلیف ہوتی ہے۔۔۔۔
میں جارہی ہوں تمہاری زندگی سے دور۔۔۔ اپنی نئی دنیا بسانے۔۔۔ اگر تم میں تھوڑی سی بھی سیلف ریسپیٹ ہوئی تو مجھے ڈھونڈنے کی کوشش مت کرنا۔۔۔ میں نہ تمہیں دیکھنا چاہتی ہوں۔۔۔ اور نہ تمہارے ساتھ رہنا۔۔۔۔”
ریکارڈنگ ختم ہوچکی تھی۔۔۔ مگر منہاج درانی ابھی تک اپنی جگہ ویسے ہی ساکت کھڑا تھا۔۔
ماورا جانتی تھی کہ منہاج اُسے ڈھونڈنے کی بھرپور کوشش کرے گا۔۔۔ اِس لیے وہاں پہنچ کر اُس نے یہ ریکارڈنگ خاص طور پر منہاج کے لیے سینڈ کی تھی۔۔۔ تاکہ اِسے سن کر وہ ماورا سے نفرت کرنے لگے۔۔۔۔ اور اُسے ڈھونڈنے کے بجائے اپنے کام پر فوکس کرے۔۔۔۔
مگر ایسا نہیں ہوپایا تھا۔۔۔۔ منہاج ماورا کے بے وفا ہونے پر یقین کرنے کو تیار ہی نہیں تھا۔
“نہیں جھوٹ ہے یہ سب۔۔۔۔ بالکل جھوٹ۔۔۔۔ ماورا مجھ سے محبت کرتی ہے۔۔۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا یے۔۔۔۔ “
منہاج ماورا کی کہیں جانے والی باتوں پر بھی یقین نہیں کرپا رہا تھا۔۔۔ ماورا اُس سے بہت محبت کرتی تھی۔۔۔ اُس نے یہ سب کیوں بولا تھا اور وہ کہاں گئی تھی۔۔۔ منہاج کو جلد از جلد اِس بات کا پتا لگانا تھا۔۔۔۔
پچھلے کچھ دنوں سے اپنی فلائٹ کا ہوش بھلائے وہ مسلسل اِسی کام میں جٹا ہوا تھا۔۔۔ مگر کوئی سرا ہاتھ نہیں لگ پارہا تھا۔۔۔
جب آخر کار پوری ایک ہفتے کی بھاگ دور کے بعد ناچار اُسے بنا ماورا سے ملے پاکستان چھوڑ کر جانا پڑا تھا۔۔۔ مگر وہ یہاں اپنے آدمیوں کو چھوڑ گیا تھا جو ماورا کی تلاش کے ساتھ ساتھ اُس سے رابطے میں بھی تھے۔۔۔۔
وہاں جاکر بھی منہاج کا سارا دھیان ماورا کی طرف ہی تھا۔۔۔ مگر اندر ہی اندر وہ ماورا سے ناراض ہونے کے ساتھ ساتھ اُس پر غصہ بھی تھا۔۔۔ کہ اُس نے ایک بار پھر اُس پر اعتبار نہیں کیا تھا۔۔۔ اور بنا بتائے اتنی خاموشی سے اُس کی زندگی سے نکل گئی تھی۔۔۔
@@@@@@@@@

آژمیر نے آج تک ہر ایک کی خوشی کا خیال رکھا تھا۔۔ مگر اُسے اُتنے ہی دکھ ملتے تھے۔۔۔ کئی آنسو آنکھوں سے ٹوٹ کر اُس کی گالوں پر پھسل گئے تھے۔۔۔۔
اُسے اب ہر حال میں زوہان اور آژمیر کے بیچ نفرت کا ریزن جاننا تھا۔۔۔ آژمیر میران جس کے لیے اپنے رشتے ہر شے سے بڑھ کر تھے وہ بھلا اپنے سگے بھائی سے اتنا دور کیوں تھا۔۔ ایسا کیا ہوا تھا کہ وہ اُس سے اتنی نفرت کرتا تھا۔۔
گاڑی جھٹکے سے زوہان کے سفید کاٹیج کے سامنے آن رکی تھی۔۔ سرسبز پہاڑیوں میں گِھرا یہ کاٹیج زنیشہ کو بے حد پسند تھا۔۔ وہ کئی بار اِسے باہر سے دیکھ چکی تھی۔۔۔ اندر سے دیکھنے کا اتفاق آج ہونے والا تھا۔۔۔ مگر اِس وقت وہ الگ ہی موڈ میں تھی۔۔۔
زنیشہ کو وہاں دیکھ حاکم کے اشارے پر گارڈ نے اُس کے لیے دروازہ کھول دیا تھا۔۔۔
“بی بی جی آپ یہاں۔۔۔ سب ٹھیک؟؟؟؟”
حاکم کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے تھے۔۔۔ جب زنیشہ کے غصے بھری نظروں سے اُسے گھورنے پر وہ ہاتھ باندھے سر جھکا گیا تھا۔۔۔
ملک زوہان کی بیوی اُس کی ٹکر کی نہ ہو یہ کیسے ممکن ہوسکتا تھا۔۔۔
زنیشہ خاموشی سے کاٹیج کے اندر داخل ہوگئی تھی۔۔۔ جہاں اُسے ملازمہ ڈرائنگ روم کی ڈسٹنگ کرتی نظر آئی تھی۔۔۔
“تمہارے صاحب کہاں ہیں؟؟”
زنیشہ نے سوالیہ نظروں سے ملازمہ کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
“بی بی جی صاحب تو اُوپر اپنے کمرے میں سو رہے ہیں۔۔۔ اور کچھ گھنٹے پہلے ہی سوئے ہیں۔۔۔ اتنی جلدی تو نہیں اُٹھیں گے۔۔۔”
ملازمہ اپنے صاحب کی روٹین سے اچھی طرح واقف تھی۔۔۔ جس رات سے زیادہ صبح سونا ہوتا تھا۔۔۔۔
“روم کدھر ہے اُن کا؟؟؟”
زنیشہ شام تک یہاں بیٹھ کر اُس کے اُٹھنے کا انتظار نہیں کرسکتی تھی۔۔۔ ملازمہ کے اشارے پر وہ سیڑھیاں چڑھتی زوہان کے روم کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔
کمرے میں قدم رکھتے لمحہ بھر کو اُس کے قدم لڑکھڑائے تھے۔۔۔ پورا کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔۔ ایک طرف جلتے آتش دان کی مدھم روشنی پورے کمرے کو خواب ناک ماحول ميں تبدیل کررہی تھی۔۔۔ وہیں کھڑے اُس کی نظریں بیڈ کی جانب اُٹھی تھیں۔۔۔ جہاں وہ ستمگر پوری طرح کمبل تانے گہری نیند سویا ہوا تھا۔۔۔
اتنے اندھیرے میں اُس کے قریب جانے کی ہمت اور حوصلہ نہیں تھا اُس میں۔۔۔ اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہاں آکر اُس نے غلط کیا تھا یا ٹھیک۔۔۔
اُسے نے پوری جرأت کا مظاہرہ کرتے لائٹ آن کردی تھی۔۔۔ وہ ابھی تک دروازے کو پکڑ کر کھڑی تھی۔۔۔ دروازے کو کھلا رکھتے جیسے ہی چند قدم آگے بڑھی دروازہ آٹومیٹک ہونے کی وجہ سے فوراً بند ہوا تھا۔۔۔
زنیشہ کی سانسیں تیز ہوئی تھیں۔۔۔
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتی زوہان کی جانب بڑھی تھی۔۔۔ زوہان اوندھے میں لیٹا تکیے کا اپنے نیچے دبوچے ہوئے تھا۔۔۔ وہ اتنی ٹھنڈ میں بھی شرٹ لیس سویا ہوا تھا۔۔۔ کمبل سے جھانکتے اُس کے کسرتی بازو دیکھ زنیشہ نے فوراً نگاہیں پھیری تھیں۔۔۔۔
“مجھے آپ سے بات کرنی ہے…”
زنیشہ نے ایک طرف کھڑے ہوتے زوہان کو اُونچی آواز میں پکارا تھا۔۔۔ مگر وہ ایسے ہی آنکھیں موندے پڑا رہا تھا۔۔۔ زوہان کی بند آنکھوں پر سایہ فگن پلکیں بہت خوبصورت تھیں۔۔۔ زنیشہ اکثر دل میں اِس بات کا اقرار کرچکی تھی۔۔۔ اُسے زوہان کی پلکیں بہت پسند تھیں۔۔۔ مگر یہ باے زوہان کے سامنے تو کبھی نہیں کہنے والی تھی۔۔۔
زنیشہ دور سے کھڑے ہوکر اُسے کئی بار پکار چکی تھی۔۔۔ مگر زوہان ویسا ہی بے خبر سوتا رہا تھا۔۔۔
زنیشہ اب پہلے سے بھی کہیں زیادہ تپ چکی تھی۔۔۔ اُس کا دل چاہا تھا۔۔ بیڈ سائیڈ پر رکھا پانی کا جگ اِس بندے پر اُنڈیل دے۔۔۔۔
مگر ایسا وہ صرف سوچ سکتی تھی۔۔۔ کرنے کی ہمت نہیں تھی اُس میں۔۔۔
اُس نے کافی فاصلہ رکھتے زرا سا آگے کو جھکتے زوہان کا کندھا ہلانے کے ساتھ ساتھ اُسے آواز دی تھی۔۔۔۔
یہی وہ لمحہ تھا جب زوہان نے اُس کی کلائی دبوچتے اُسے ایک ہی جست میں پوری طرح اپنی جانب کھینچ لیا تھا۔۔۔
زنیشہ سیدھی زوہان کے سینے پر جاگری تھی۔۔۔ اُس کے منہ سے بے ساختہ چیخ برآمد ہوئی تھی۔۔۔ وہ زوہان کے اِس جارحانہ عمل کے لیے ایک پرسنٹ بھی تیار نہیں تھی۔۔۔
زوہان نے بنا کچھ بولے اُسے پوری طرح اپنے شکنجے میں دبوچتے اُسے کمبل کے اندر لیا تھا۔۔۔ زنیشہ کو بچوں کی طرح اپنی گود میں لے کر زوہان نے اپنے ساتھ لیٹاتے بنا کچھ بولے آنکھیں واپس موند لی تھیں۔۔۔
بیڈ کا منظر بدل چکا تھا جہاں کچھ دیر پہلے تکیہ تھا وہاں اب زنیشہ تھی۔۔۔ زوہان کے بے حد قریب۔۔۔
زنیشہ کا دل دھڑک دھڑک کر پاگل ہوا تھا۔۔۔
زوہان نے یہ سب اتنا اچانک کیا تھا کہ وہ کچھ سمجھ ہی نہیں پائی تھی۔۔۔ جب سنبھلی تب زوہان اُسے پوری طرح اپنی گرفت میں قید کرچکا تھا۔۔۔۔
“پلیز چھوڑیں مجھے۔۔۔ یہ کیا کررہے ہیں آپ؟”
زوہان کا ایک ہاتھ زنیشہ کی گردن اور کندھے کے گرد لپٹا ہوا تھا جبکہ دوسرا ہاتھ زنیشہ کی کمر کے گرد حمائل تھا۔۔۔ زنیشہ ایک انچ بھی ہل نہیں پارہی تھی۔۔۔
اُوپر سے چہرے پر پڑتیں زوہان کی تپیش زدہ گرم سانسیں رہی سہی کسر بھی پوری کر رہی تھیں۔۔۔ اُس کی شال ہلکا گرنے کی وجہ سے سر سے لڑھک کر شانوں پر گر چکی تھی۔۔۔
“میں کچھ نہیں کررہا۔۔۔ صرف سورہا تھا تم نے مجھے ڈسٹرب کیا۔۔۔۔ اب جب تک میں نیند پوری نہیں کرلیتا تم اِس طرح یہیں رہو گی…”
زوہان بات ختم کرتا چہرا اُس کی گردن میں چھپا گیا تھا۔۔۔۔
زنیشہ کو اپنی سانسیں رکتی محسوس ہوئی تھیں۔۔۔ زوہان کی گرم سانسیں اُسے جھلسا رہی تھیں۔۔ اُس کی دھڑکنیں بے قابو ہوئی تھیں۔۔۔
“زوہان پلیز۔۔۔۔”
زنیشہ نے کانپتی آواز میں اُسے پکارا تھا۔۔۔ اُس کا پورا چہرا شرم اود حیا سے لال ٹماٹر ہوچکا تھا۔۔۔
“میری بنا پرمیشن نہ کوئی میرے گھر میں گھس سکتا ہے، نہ میرے کمرے میں اور نہ ہی میرے دل میں۔۔۔ تم نے یہ ساری گستاخیاں کی ہیں جس کی اتنی سی سزا تو بنتی ہے۔۔۔ اور میری نیند خراب کرنے والے کے لیے تو کوئی معافی ہے ہی نہیں۔۔۔”
زوہان بند آنکھوں سے بولتا زنیشہ کے لال اناڑی گال پر اپنا گہرا شدت بھرا لمس چھوڑتا اُسے وارن کرگیا تھا۔۔۔۔
زنیشہ جو زوہان کی زرا سی قربت برداشت نہیں کرپاتی تھی۔۔۔ اِس وقت زوہان کی بولتی قربت پر اُس کی جان آدھی ہوئی تھی۔۔۔
زوہان کی گستاخیوں پر زنیشہ مزید کچھ بول ہی نہیں پائی تھی۔۔ اُس کا دل پسلیاں توڑ کر باہر آنے کو تیار تھا۔۔۔
کچھ لمحے بعد زنیشہ کو زوہان کی گہری ہوتی سانسیں محسوس ہوئی تھیں۔۔۔ اُس نے چہرا موڑ کر زوہان کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ جو بڑے سکون سے اُس کی گردن میں منہ چھپائے سورہا تھا۔۔۔
زنیشہ اُسے کتنے ہی لمحے تکے گئی تھی۔۔۔ اُس کی بانہوں میں آتے وہ یہ تو بھول ہی گئی تھی کہ وہ یہاں کس قدر غصے میں اُس سے لڑنے آئی ہے۔۔۔
اُس کا پورا وجود زوہان کی گرفت میں ہولے ہولے لرز رہا تھا۔۔۔
جسے محسوس کرتے زوہان کے ہونٹ مسکرائے تھے۔
اُسے مسکراتا دیکھ زنیشہ کو چالیس والٹ کا جھٹکا لگا تھا۔۔۔ وہ سو نہیں رہا تھا اور وہ کب سے اُسے گھوری جارہی تھی۔۔۔۔ اُس نے فوراً نظروں کا زاویہ بدلہ تھا۔۔۔
“دیکھ سکتی ہو۔۔۔ اتنا حق دیتا ہو تمہیں۔۔۔۔”
آنکھیں موندے جیسے اُس پر احسانِ عظیم کیا گیا تھا۔۔۔
“پلیز چھوڑیں مجھے۔۔۔۔ مجھے آپ کیوں اور کس مقصد کے لیے کھلونا بنا کر استعمال کررہے ہیں۔۔۔ میں آج اچھے سے سمجھ گئی ہوں۔۔۔”
زنیشہ اُس کی ڈھیلی پڑتی گرفت پر اُس کا بازو اپنی کمر کے گرد سے ہٹاتے بولی۔۔۔
جس پر جھٹکا لگنے کی باری اب زوہان کی تھی۔۔۔
“یہ کیا بکواس ہے؟؟؟”
زوہان نے نیند کے خمار سے سرخ پڑتی آنکھوں سے اُسے گھورا تھا۔۔۔
“بکواس نہیں سچ ہے۔۔۔۔ مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا آپ میرے لالہ کو اذیت دینے کے لیے اِس حد تک گر جائیں گے کہ عورتوں کو مہرے کی طرح استعمال کریں گے آپ۔۔۔۔”
زنیشہ اُس کی گرفت سے آزاد ہوتی بیڈ سے اُتر گئی تھی۔۔۔
“تم پاگل ہوگئی ہو۔۔۔۔ کیا بکواس کیے جارہی ہو؟؟ کس عورت کا استعمال کیا ہے میں نے۔۔۔”
ایک تو اِس لڑکی نے اُس کی نیند خراب کردی تھی۔۔۔اُوپر سے اِس کی اوٹ پٹانگ باتیں زوہان کا دماغ گھما گئی تھیں۔۔۔۔
@@@@@@@@@
“میں دنیا کا سب سے زیادہ بزدل اور ظالم باپ ہوں۔۔۔ جو اِس قابل ہی نہیں تھا کہ اُسے اولاد نصیب ہو۔۔۔۔ اللہ نے مجھے میرے اُسی گناہ کی سزا دی۔۔۔ اور دیکھو ایک بار اولاد جیسی نعمت کو ٹھکرانے کے بعد اُس نے مجھے دوبارہ اُس شرف سے نہیں نوازا۔۔۔ کیونکہ میں اِس قابل ہی نہیں ہوں۔۔۔۔ “
قاسم صاحب جھکے کندھے اور نم آنکھوں سے بولتے اپنے جگری دوست شہاب درانی کے سامنے اپنے اندر کا درد بیان کرتے ہوئے بولے۔۔۔۔
شہاب درانی آج بہت دنوں کے بعد میران پیلس آئے تھے۔۔۔ قاسم صاحب سے ملنے۔۔۔۔۔
“قاسم ایسا مت سوچو۔۔۔ غلطیاں زندگی میں ہر انسان سے ہوتی ہیں۔۔۔ تم نے بھی کی۔۔۔ مگر اتنے سالوں سے اُس کا ازالہ کرنے کی کوشش بھی تو کررہے ہو نا۔۔۔ مجھے یقین ہے ایک دن تم ضرور سرخرو ہوگے۔۔۔۔ بس حوصلہ رکھو اور ہمت مت ہارو….”
شہاب درانی اُن کا کندھا تھپتھاتے اُن کی ہمت بڑھاتے بولے۔۔۔
“مگر میری بیٹیاں مجھ سے بہت نفرت کرتی ہیں۔۔۔۔ حاعفہ تو میری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی۔۔۔ اگر اُسے پتا چل گیا کہ اِس وقت وہ اپنے باپ کے علاقے میں ہیں تو وہ کبھی وہاں لوٹ کر نہیں آئے گی۔۔۔ اتنی نفرت کرتی یے وہ مجھ سے۔۔۔”
قاسم صاحب یہ الفاظ ادا کرتے رو پڑے تھے۔۔۔۔
شہاب درانی اور قاسم میران کالج لائف سے بہت گہرے دوست تھے۔۔۔ دونوں ہی اچھی فیملیز سے بی لانگ کرتے تھے اور اچھی عادات کے مالک تھے۔۔۔
لیکن ایک دن باقی دوستوں کے ساتھ ہاری شرط نے قاسم میران کی زندگی میں ایک تاریک پہلو ہمیشہ کے لیے رقم کردیا تھا۔۔۔
اُن کے گروپ میں سب لڑکوں نے ایک دوسرے پر مختلف شرطیں رکھتے ایک دوسرے کو شطرنج کی گیم میں چیلنج کیا تھا۔۔۔ دو دو کی ٹیم میں جو جو بازی ہارتا اُسے شرط پوری کرنی پڑتی۔۔۔۔ قاسم میران کی شرافت اور اُس کا لڑکیوں سے لیے دیئے رہنے والا رویہ دیکھتے اُس پر قریبی ایک کوٹھے پر جاکر ایک بار طوائفوں کا رقص دیکھنے کی شرط رکھی گئی تھی۔۔۔
اُن کے اپنے چند دوستوں کے ساتھ ساتھ باقی بھی بہت سے امیر گھرانوں کے اوباش سٹوڈنٹس وہاں پائے جاتے تھے۔۔۔۔
شطرنج کی بازی کا پکا کھلاڑی قاسم میران شرط پر کافی ناپسندیدگی کا اظہار کرنے کے باوجود حامی بھر گئے تھے۔۔۔ کیونکہ وہ جانتے تھے اُنہیں شطرنج میں ہرانا آسان کام نہیں تھا۔۔۔
لیکن اُس ناجانے کیا ہوا کہ قاسم میران بدقسمتی سے نہ صرف گیم ہارے تھے بلکہ اُنہیں کوٹھے پر بھی جانا پڑا تھا۔۔۔ اُنہوں نے ساتھ میں زبردستی شہاب درانی کو بھی گھسیٹ لیا تھا۔۔۔۔
وہ بے دلی سے رقص کرتی طوائفوں کو دیکھ رہے تھے جب اُن کی نظر سلمہ بیگم پر پڑی تھی اور پھر جیسے پلٹنا بھول چکی تھی۔۔۔
ایسی نازک اندام حسینہ اُنہوں نے آج تک نہیں دیکھی تھی۔۔۔ اُنہیں محسوس ہوا ہے کہ وہ پہلی نظر کی محبت میں گرفتار ہوچکے ہیں۔۔۔
مگر پھر اِسے وقتی پسندیدگی سمجھ کر وہ ٹال گئے تھے۔۔۔ لیکن اُن کا دل روز سلمہ جو دیکھنے کو چاہتا اور کوٹھے ہر آکر اُسے باقی مردوں کے سامنے رقص کرتا دیکھ اُن کے سینے پر سانپ لُوٹ جاتے تھے۔۔۔۔
جب یہ سب نہ برداشت کرپاتے اُنہوں نے سلمہ کی ماں کو بھاری قیمت کے عوض سلمہ سے نکاح کرنے کی شرط رکھی تھی۔۔۔ اُن پیسوں کے بچاریوں کو اور کیا چاہیئے تھا وہ مان گئے تھے۔۔۔۔
شہاب درانی نے اُنہیں بہت سمجھانے کی کوشش کی تھی۔۔۔ مگر اس وقت محبت کے نشے میں مست وہ کچھ سمجھ ہی نہیں پائے تھے۔۔۔
آہستہ آہستہ وقت سرکنے لگا تھا۔۔۔ وہ دو بیٹیوں کے باپ بن چکے تھے۔۔۔ اُنہوں نے اپنے گھر میں اِس بارے میں بات کرنے کی کوشش کی تھی مگر اُن کے والد صاحب خاندان سے باہر شادی کرنے کے حق میں نہیں تھے۔۔۔ طوائف کا نام سن کر تو اُنہیں وہیں گاڑھ دیتے۔۔۔۔
اور یہیں پر قاسم میران نے بزدلی کا مظاہرہ کرتے اپنے ماں باپ کے کہنے پر خالہ زاد حمیرا بیگم سے شادی کرلی تھی۔۔۔ اور سلمہ بیگم اور اپنی دونوں بیٹیوں کو پوری طرح سے فراموش کر گئے تھے۔۔۔۔
سلمہ بیگم تو اپنی بیٹیوں کے آنے والے مستقبل کی فکر میں رونے کے سوا کچھ نہیں کر پائی تھیں۔۔۔
مگر اُن کے پروردگار نے قاسم میران کو اُن کا کیا اُن کے منہ کے سامنے ضرور لایا تھا۔۔۔
کئی سال گزر جانے کے بعد بھی وہ اور حمیرا بیگم اولاد کی نعمت سے محروم رہے تھے۔۔۔ اُنہوں نے کوئی ڈاکٹر، حکیم اور پیر فقیر نہیں چھوڑا تھا۔۔۔۔
مگر وہ اولاد جیسی نعمت سے محروم ہی رہے تھے۔۔۔۔۔۔
جب اُنہی دنوں اُنہیں اپنی غلطی کا ادراک ہوا تھا۔۔۔۔ ہر روز رات کو آتے بُرے خواب اُنہیں سونے نہیں دیتے تھے۔۔۔
حمیرا بیگم بھی اُنہیں لے کر بہت پریشان تھیں۔۔۔ جب قاسم میران نے اپنے دل پر پڑے بوجھ کو ہلکا کرنے کے لیے ساری سچائی اپنی شریک حیات کے آگے رکھ دی تھی۔۔۔ جسے سن کر حمیرا بیگم کو گہرا جھٹکا لگا تھا۔۔۔
اتنی بڑی سچائی ایک عورت ہونے کے ناطے برداشت کرنا بہت مشکل تھا مگر اپنے شوہر کی تکلیف کو دیکھتے اُنہوں نے اُنہیں اپنی بیٹیوں سے ملنے اور اُنہیں یہاں لانے کی اجازت دے دی تھی۔۔۔۔
مگر قاسم میران کا اصل امتحان تو تب شروع ہوا تھا۔۔۔
کوٹھے پر جاکر ملنے والے خبر اُن کے دل کا بوجھ مزید بڑھا گئی تھی۔۔۔ سلمہ اُن کا انتظار کرتے کرتے اِس دنیا سے رخصت ہوگئی تھی۔۔۔ اور اُن کی بیٹیوں کا کوئی اتا پتا نہیں تھا۔۔۔
قاسم میران کی تکلیف مزید بڑھ گئی تھی۔۔۔
لیکن ہمت نہ ہارتے وہ ہر مہینے وہاں کا چکر لگاتے تھے۔۔۔۔ مگر اتنے سالوں تک اُن کے بارے میں کچھ معلوم نہیں کر پائے تھے۔۔۔۔
جب ایک دن اُنہیں نگینہ بائی پر شک ہونے لگا تھا۔۔۔۔ بعد میں اُن کا شک ٹھیک بھی نکلا تھا۔۔۔
اُنہوں نے بھاری رقم کی آفر کرتے اپنی بیٹیوں کے بارے میں ساری معلومات نگینہ بائی سے نکلواتے اُن کی مدد لیتے ماورا اور حاعفہ کو ہمیشہ کے لیے اُس دلدل سے نکلوا دیا تھا۔۔۔۔
حاعفہ جو یہ سمجھی تھی کہ نگینہ بائی کو واقعی اُس پر رحم آگیا ہے اور اُسی ہمدردی میں وہ اُن کی مدد کررہی ہیں ایسا نہیں تھا۔۔۔
اُنہوں نے حاعفہ اور ماورا کو سیدھا حویلی لے جانے کے بجائے گاؤں میں ہی موجود آژمیر کے دوسرے گھر میں ٹھہرا دیا تھا۔۔۔ جو آژمیر نے اپنی پسندیدہ جگہ پر نہر کے قریب بنوایا تھا۔۔۔
حاعفہ کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ اپنے باپ کے علاقے اور شوہر کے گھر میں اُنہیں دونوں سے چھپ کر پناہ گزیں تھی۔۔۔۔
“تم نے حویلی میں کسی کو بتایا اِس بارے میں۔۔۔۔۔”
شہاب درانی کئی سالوں تک اُن کے واحد رازداد رہے تھے۔۔۔ اور آج تک کبھی کسی کے سامنے اُن ما راز نہیں کھولا تھا۔۔۔۔
“حمیرا کے علاوہ ابھی تک کسی کو نہیں بتایا ۔۔۔”
قاسم میران اپنی آنکھیِں پونچھتے بولے۔
“میرے خیال میں تمہیں آژمیر کو بھی اِس بارے میں بتا دینا چاہئے تھا۔۔۔ وہ تمہاری مدد ضرور کرے گا۔۔۔”
شہاب درانی فیملی فرینڈ ہونے کے ناطے اُن کے خاندان کے ہر بندے سے واقف تھے۔۔۔۔
“ہاں میں اب یہی سوچ رہا ہوں۔۔۔ ویسے بھی وہ دونوں آژمیر کے گھر میں ہی ٹھہری ہوئی ہیں۔۔۔ ابھی آژمیر سے بات نہیں کی میں نے۔۔۔ کرنی بہت ضروری ہے۔۔۔۔ وہیں ہے جو خاندان والوں کے سامنے میرے لیے کھڑا ہوسکتا ہے۔۔۔۔ میرا بیٹا۔۔۔ “
آژمیر کا ذکر کرتے وہ فخریہ لہجے میں بولے تھے۔۔۔ اِس حقیقت سے انجان کے وہ صرف اُن کا بیٹا نہیں داماد بھی تھا۔۔۔۔
@@@@@@@
آژمیر کا دماغی سکون تباہ ہوچکا تھا۔۔۔ وہ حاعفہ کو کسی صورت اپنے حواسوں سے نہیں اُتار پارہا تھا۔۔۔ ہر طرف، ہر جگہ اُسے وہی نظر آرہی تھی۔۔۔ اُس کے اتنے بھرے دھوکے کے بعد بھی دل اُس سے نفرت نہیں کر پارہا تھا۔۔۔
اِسی بات نے آژمیر کا مزید غصہ دلایا ہوا تھا۔۔۔ اُس کے آدمی مسلسل حاعفہ کو ڈھونڈنے میں لگے ہوئے تھے۔۔۔۔ مگر وہ نہیں مل پائی تھی۔۔۔ جس کے ساتھ ہی آژمیر کی فرسٹریشن مزید بڑھ رہی تھی۔۔۔
وہ جب بھی ایسے خود کو اکیلا محسوس کرتا تھا تو اُس کا ٹھکانہ اُس کا آژمیر آشیانہ ہوتا تھا۔۔۔ جہاں وہ تن تنہا ہر شے کو دماغ سے جھٹک کر سکون محسوس کرتا تھا۔۔۔۔
اِس لیے آج بھی اُس کا رُخ اُسی گھر کی طرف تھا۔۔۔ آژمیر کو وہاں آتا دیکھ کچھ ملازمین کی ہوائیں اُڑی تھیں۔۔۔ کیونکہ اندر موجود دو ہستیوں کا علم نہیں تھا آژمیر کو۔۔۔۔ وہ بنا اجازت کسی کو اِس گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتا تھا۔۔۔ اب آژمیر کے ہاتھوں کس کی شامت آنے والی تھی کوئی نہیں جانتا تھا۔۔۔۔
ڈرائنگ روم میں آکر بیٹھتے آژمیر نے موبائل نکال کر سوئچ آف کرنا چاہا تھا۔۔۔ جب غلطی سے گیلری والے آپشن پر ہاتھ لگنے سے حاعفہ کی تصویر سکرین پر جگمگا اُٹھی تھی۔۔۔۔
یہ اُس دن کی تصویر تھی جب آژمیر کو سیگریٹ پیتے دیکھ حاعفہ نے بُرے بُرے منہ بنائے تھے۔۔۔ اور اُس کے بعد کھانس کھانس کر اُس کی بُری حالت ہوئی تھی۔۔۔
اُس دن کے بعد سے آژمیر نے کبھی حاعفہ کے سامنے سیگریٹ نہیں پیا تھا۔۔۔ ہر شے سے بڑھ کر سیگریٹس کو امپورٹنس دینے والا اُس بے وفا لڑکی کی خاطر اِس معاملے میں بھی کمپرومائز کرگیا تھا۔۔۔۔
اُس دن کا واقعی یاد کرتے آژمیر کے ہونٹوں پر بے ساختہ ایک خوبصورت سی مسکان آن رکی تھی۔۔۔ مگر اگلے ہی لمحے اُس لڑکی کا دھوکا یاد کرتے آژمیر اُس کی تصویر ڈیلیٹ کرکے فون پاکٹ میں رکھتا اپنے بیڈ روم کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔
“یہ بہت غلط ہوگیا ہے… حاعفہ بی بی آژمیر سائیں کے کمرے میں ہی ہیں۔۔۔۔”
ڈرائنگ روم کے دروازے میں کھڑی دونوں ملازمہ آژمیر کو اندر جاتا دیکھ خوفزدہ ہوئی تھیں۔۔۔
آژمیر روم میں آتے بیڈ کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ سائیڈ دراز سے سیگریٹ کی ڈبی نکالتے اُس نے لائٹر سے اُسے جلا کر ہونٹوں میں دبایا تھا۔۔۔ اپنی دھن میں وہ واش روم کا اندد سے لاک دروازہ نہیں دیکھ پایا تھا۔۔۔
اپنے اندر کی اذیت کو کم کرنے کے لیے بنا بریک لگائے وہ ایک کے بعد دوسرا سیگریٹ پیئے جارہا تھا۔۔۔
سائیڈ پر پڑا تکیہ اُٹھانے کے لیے اُس نے ہاتھ بڑھایا تھا۔۔۔ جب تکیے کے اُوپر رکھا حاعفہ کا ریڈ شیفوِن کا خوشبوئیں اُڑاتا دوپٹہ تکیے کے ساتھ لڑھکتا اُس کے چہرے پر آن گرا تھا۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔