Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 60

زوہان نے آنکھیں کھولتے ہی اپنی خواہش کے عین مطابق زنیشہ کے حسین ترین چہرے کو اپنے سب سے قریب پایا تھا۔۔۔۔ اُس کے سینے سے لگی وہ پوری طرح اُس کے وجود میں چھپی ہوئی تھی۔۔۔۔
اُس کے چہرے پر دبی دبی مسکراہٹ زوہان کو دنیا کا سب سے دلفریب اود اچھوتا منظر لگا تھا۔۔۔۔ وہ جھکا تھا اور اُس کے لبوں کی دلکش مسکان کو نہایت ہی نرمی سے چھو گیا تھا۔۔۔۔ زنیشہ ہولے سے کسمسائی تھی۔۔۔۔
مگر اُس کے سینے پر نازک بازو ٹکائے مزید اُسی کے اندر سمٹی تھی۔۔۔۔
زوہان اُس کی اِس ادا پر جیسے نہال ہوا تھا۔۔۔ نیند میں بھی وہ اُسے ہی ڈھونڈ رہی تھی۔۔۔۔
زوہان یہی تو چاہتا تھا وہ سوتے جاگتے۔۔۔۔ پورے ہوش و حواس میں یا حواس سے بیگانہ ہوکر۔۔۔۔ صرف اور صرف اُسے ہی ڈھونڈے۔۔۔۔۔
“تھینکیو سو مچ جانِ زوہان۔۔۔۔ میری بنجر اور ویران زندگی میں خوشیوں کے رنگ بھرنے کے لیے۔۔۔۔”
زوہان اُس کی پیشانی پر لب رکھتا اُس کے ساتھ گزرے اپنی زندگی کے حسین ترین لمحوں کا تصور زہن میں لاتا سرشار ہوا تھا۔۔۔۔۔
وہ نجانے کب تک ایسے ہی اُس کی حسین وجود کی نشیب فرازی میں کھویا رہتا۔۔۔ جب موبائل پر ہوئی ہلکی سی بپ پر اُس کی توجہ بٹی تھی۔۔۔۔
زنیشہ کو اُسی طرح اپنے ساتھ لگائے زوہان نے ہاتھ بڑھا کر موبائل اُٹھایا تھا۔۔۔۔ مگر موبائل کے اُوپر جگمگاتی تاریخ اُس کا سارا فسوں ختم کرتی۔۔۔۔ اُس کے چہرے پر ایک بار پھر سے اذیت رقم کرگئی تھی۔۔۔۔۔
زوہان کی آنکھیں لہو رنگ ہوئی تھیں۔۔۔۔
دس سال پہلے آج ہی کہ دن وہ بھیانک واقعہ پیش آیا تھا اُس کی زندگی میں۔۔۔۔ جب انتہائی بے دردی سے اُس سے اُس کی ماں کا چھین لیا گیا تھا۔۔۔۔ جس کے قصور وار تھے میران پیلس کے مکین ۔۔۔۔۔۔
زوہان کوشش کے باوجود وہ واقع آج تک اپنے زہن کے پردے سے نہیں ہٹا پایا تھا۔۔۔۔
ہمیشہ سے سال کا یہ دن اُس کی زندگی کا سب سے تاریک دن رہا تھا۔۔۔۔۔ لیکن وہ اپنے ساتھ ساتھ زنیشہ کو اِس تاریکی کا حصہ نہیں بنانا چاہتا تھا۔۔۔۔
وہ بہت خوش تھی۔۔۔۔ زوہان اُس کی خوشی خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔
وہ فیصلہ کر چکا تھا اب اُسے کیا کرنا ہے۔۔۔۔۔ بہت بھاری دل کے ساتھ زنیشہ کو خود سے دور کرتا۔۔۔۔
اُس کا سر نہایت احتیاط سے تکیے پر رکھتا، اُس کے دلنشین چہرے کے ایک ایک نقش کو ہونٹوں سے چھوتا وہ اُس کے پاس سے اُٹھ گیا تھا۔۔۔۔۔
@@@@@@@@@@
حاعفہ نے کسمساتے آنکھیں کھولی تھیں۔۔۔۔ اُسے ہمیشہ تہجد کے ٹائم اُٹھنے کی عادت تھی۔۔۔ اِس وقت بھی روم میں پھیلی نیم تاریکی پر وہ یہی ٹائم سمجھی تھی۔۔۔۔
پوری طرح نیند سے بیدار ہوتے گردن پر دہکتے کوئلوں سی تپیش محسوس ہوئی تھی اُسے۔۔۔۔۔
جب خود کو آژمیر میران کی مضبوط پناہوں میں محسوس کرتی رات کا ایک ایک لمحہ زہن میں تازہ ہوتا اُس کو شرم سے لال کر گیا تھا۔۔۔۔ آژمیر نے اُس پر اپنی والہانہ چاہت۔۔۔۔ اور محبت بھری شدتیں دل کھول کر نچھاور کرتے اُسے اپنے ہونے پر نازاں کردیا تھا۔۔۔۔
آژمیر نے جس احتیاط اور نرمی سے اُسے چھوا تھا حاعفہ کو یوں محسوس ہوا تھا کہ جیسے وہ کوئی موم کی گڑیا ہو۔۔۔۔ اور زرا سی سختی پر پگھل جانے کا ڈر ہو۔۔۔۔
اِس وقت بھی اُسے اپنے مضبوط حصار میں قید کیے۔۔۔۔ چہرا اُس سیاہ زلفوں میں چھپائے گہری نیند میں ہونے کے باوجود خود سے جدا نہیں کیا تھا۔۔۔۔
حاعفہ کو اپنی گردن اُس کی گرم سانسوں سے جھلستی محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔
اُس نے ہولے سے سر موڑتے آژمیر کے مغرور نقوش کو محبت بھری نظروں سے دیکھتے اُس کی کھڑی ناک پر لب رکھ دیئے۔۔۔۔ جو ہر وقت غصے کا شکار ہی رہتی تھی۔۔۔۔
گھنیری مونچوں تلے سختی سے پیوست عنابی سیاہی مائل لبوں پر اُنگلی پھیرتے وہ رات کو کی گئی اِن لبوں کی گستاخیاں یاد کرتے شرم سے دوہری ہوئی تھی۔۔۔۔
جس خیال کے ساتھ ہی فوراً سے اُس نے اُٹھنے کا ارادہ باندھ لیا تھا۔۔۔۔ وہ جانتی تھی ایک بار یہ شخص اُٹھ گیا تو اُس کی خیر نہیں ہونی تھی۔۔۔۔
وہ ابھی رات کی ہی اُس کی شدتوں پر سنبھل نہیں پائی تھی۔۔۔۔
آژمیر کا ایک بازو حاعفہ کے سر کے نیچے سے گزر کر اُس کی کمر کے گرد لپٹا ہوا تھا۔۔۔ جبکہ دوسرا حاعفہ کے گرد حصار باندھے اُس کی گردن سے گزرتا کندھے کے اُوپر تھا۔۔۔۔۔
حاعفہ پوری طرح اُس کے نیچے دبی ہوئی تھی۔۔۔۔ آژمیر کا ایک بازو بھی ہلا پانا اُس کے لیے بہت مشکل تھا۔۔۔ اپنی ساری ہمتیں مجتمع کرتے اُس نے آژمیر کا بازو اپنے اُوپر سے ہٹانا چاہا تھا۔۔۔ وہ پوری احتیاط برت رہی تھی کہ کہیں آژمیر جاگ نہ جائے۔۔۔۔۔
اُس نے آژمیر کا بازو کندھے سے ہٹا کر پیچھے کیا ہی تھا۔۔۔ جب آدھے میں اُس کی ہمت جواب دے گئی تھی۔۔۔ اور بازو چھوٹ کر اُس کے سینے پر گرتا حاعفہ کی سانسیں روک گیا تھا۔۔۔۔
حاعفہ نے چہرا موڑ کر آژمیر کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ جو ابھی تک ویسے ہی سویا ہوا تھا۔۔۔۔
حاعفہ نے اُس کے بازو کو دوبارہ تھامنا چاہا تھا۔۔۔۔ جب آژمیر اُس کے ہاتھ کی اُنگلیوں میں اپنی اُنگلیاں پھنساتے اُسے بھی قید کر گیا تھا۔۔۔۔
آژمیر جاگ رہا تھا۔۔۔ اِس سوچ کے ساتھ ہی حاعفہ شرم سے پانی پانی ہوئی تھی۔۔۔۔
“میری جان کیا میں جان سکتا ہوں یہ صبح صبح میرے ساتھ کشتی کس خوشی میں کھیلی جارہی تھی۔۔۔۔”
آژمیر اُس کی گردن میں چہرا چھپائے بولتا حاعفہ کی سانسیں اتھل پتھل کرگیا تھا۔۔۔۔
“نہیں وہ۔۔۔۔۔”
حاعفہ نے کچھ بولنا چاہا تھا جب آژمیر کے ہونٹوں کا شدت بھرا لمس اُسے بات بھلا گیا تھا۔۔۔۔
“یار کیا جادو کردیا ہے مجھ پر۔۔۔۔ میری پیاس ختم ہی نہیں ہو رہی۔۔۔۔ دل کی تشنگی مزید بڑھتی جارہی ہے۔۔۔۔۔”
آژمیر کی اِس بے باکی پر حاعفہ کو اپنے کانوں کی لوح تپتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔
“آژمیر مجھے تجہد پڑھنے کے لیے جانا ہے۔۔۔۔”
حاعفہ اُسے ایک بار پھر بہکتا دیکھ ملتجی آواز میں بولی تھی۔۔۔
“اچھا دن کے گیارہ بجے کونسے تجہد پڑھے جاتے ہیں مجھے بھی بتاؤ زرا۔۔۔۔۔”
آژمیر نے آنکھیں کھولتے اُس کے کھلے کھلے سہانے رُوپ کو دیکھا تھا۔۔۔۔ اُس کی قربت نے حاعفہ کے حُسن کو مزید نکھار بخش دیا تھا۔۔۔۔
“واٹ۔۔۔۔ دن کے گیارہ بجے۔۔۔۔ اور ہم ابھی تک سو رہے ہیں۔۔۔۔۔”
حاعفہ نے حیرت زدہ سا مُڑ کر گھڑی کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔۔
“ہاں۔۔۔۔ اور مجھے ابھی بہت نیند آرہی ہے۔۔۔ ابھی میرا اُٹھنے کا کوئی موڈ نہیں ہے۔۔۔۔۔”
آژمیر اُسے تکیے کی طرح اپنے حصار میں لیتا اُس کی سانسوں کی مہک اپنے اندر اُتارتا اُس کے ہوش اُڑا گیا تھا۔۔۔۔۔
“میں نے کب کہا آپ اُٹھیں۔۔۔؟؟ مجھے تو جانے دیں نا۔۔۔”
حاعفہ کو اتنی دیر ہوجانے پر اب باہر والوں سے سامنے کرنے کا سوچ کر ہی شدید شرم نے آن گھیرا تھا۔۔۔۔
“اور تو تمہارے بغیر میں یہاں کیا کروں گا۔۔۔۔۔”
آژمیر نے آنکھیں کھول کر اُسے گھورا تھا۔۔۔
جو اُس کی نیند کی دشمن بن چکی تھی۔۔۔۔۔
اُس نے نوٹ کیا تھا کہ حاعفہ صاف اُس کی جانب دیکھنے سے گریزاں تھی۔۔۔۔ اُس کی شرم سے جھکی پلیکیں اور فرار کی یہ معصوم کوششیں آژمیر کو مزید اُس کا اسیر کررہی تھیں۔۔۔۔
“باہر سب ٹھیک تو ہے نا۔۔۔۔ ابھی تک کوئی ہمیں بلانے بھی نہیں آیا۔۔۔۔”
حاعفہ اُس کی توجہ اپنی جانب سے ہٹانے کے لیے کچھ بھی بول رہی تھی۔۔۔۔
“کوئی آئے گا بھی نہیں۔۔۔۔ “
آژمیر گھر میں اپنی دہشت سے واقف تھا۔۔۔ وہ جانتا تھا اُسے ڈسٹرب کرنے کی جرأت کوئی نہیں کرے گا۔۔۔۔
اُس کی بات کا مطلب سمجھتے حاعفہ نے اُسے پلٹ کر گھورا تھا۔۔۔۔
“آپ نے ہر ایک کو اپنے غصے سے ڈرا کر رکھا ہوا ہے۔۔۔۔”
حاعفہ فرار کی تمام راہیں بند ہوتی دیکھ اُس خفگی سے بولتے اُس کے قریب سے اُٹھی تھی۔۔۔۔
“لیکن تمہیں تو میں غصے میں کیوٹ لگتا ہوں نا۔۔۔۔”
آژمیر نے اُس کی بات دوہراتے اُسے واپس اپنی جانب کھینچ چکا تھا۔۔۔۔
حاعفہ سیدھی اُس کے سینے پر جاگری تھی۔۔۔۔
“آژمیر۔۔۔۔ “
حاعفہ نے اُسے پھر سے گستاخی پر امادہ ہوتا دیکھ گھورا تھا۔۔۔۔ جب آژمیر نے اُسے ایسے ہی سینے سے لگائے سائیڈ دراز سے ایک مخملی ڈبیا نکالی تھی۔۔۔۔ حاعفہ نے سوالیہ نظروں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
“رات کو تم نے میرے حواسوں پر پوری طرح سوار ہوتے یہ اہم رسم تو بھلا ہی دی مجھے۔۔۔۔۔”
آژمیر ڈبیا سے ایک انتہائی نفیس سا ڈائمنڈ نیکلس نکلتے اپنے بھول جانے کا الزام اُسی پر ڈالا تھا۔۔۔۔ حاعفہ نے جواباً اُسے گھورا تھا۔۔۔ اُس سے بہتر رات کی اِس شخص کی مدہوشیاں بھلا کون جان سکتا تھا۔۔۔۔
ہوش تو آژمیر نے اُس کے ٹھکانے لگائے تھے۔۔۔
آژمیر نے جھک کر اُس کی شفاف گردن پر نیکلس پہناتے اُس پر لب رکھ دیئے تھے۔۔۔۔
اُس کا خمار کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔۔۔۔
“تھینکس۔۔۔۔”
حاعفہ کے لیے آژمیر میران کی جانب سے ملنے والی چھوٹی سے چھوٹی شے انتہائی قیمتی تھی۔۔۔ اُسے یہ نیکلس بہت پسند آیا تھا۔۔۔ وہ اب ایسے ہی اِسے ہمیشہ اپنی گردن میں سجا کر رکھنے والی تھی۔۔۔۔
“آئی لو یو۔۔۔۔۔”
آژمیر اُس کے چہرے کی شرمگی مسکان کو والہانہ نظروں سے دیکھتے بے ساختہ اپنی محبت کا اظہار کر گیا تھا۔۔۔۔
“جانتی ہوں۔۔۔”
حاعفہ نے مغروریت سے جواب دیا تھا۔۔۔۔ آژمیر کو اُس کے انداز پر بہت پیار آیا تھا۔۔۔
“یہ جواب نہیں ہوتا اِس کا۔۔۔۔”
آژمیر نے اُسے یہ الفاظ دوہرانے پر اُکسایا تھا۔۔۔۔
“جواب دیا تو آپ جانے دیں گے۔۔۔۔”
حاعفہ نے شرط رکھی تھی۔۔۔۔
“ہاں۔۔۔۔”
آژمیر نے آنکھوں میں شرارت بھرے جواب دیا تھا۔۔۔۔
“میں بھی بہت محبت کرتی ہوں آپ سے۔۔۔۔ اور اب ساری زندگی اِن پناہوِں میں گزارنا چاہتی ہوں۔۔۔۔”
حاعفہ صدقے دل سے بولتی آژمیر کا قرار لوٹ گئی تھی۔۔۔
“تو پھر ابھی جانے کی ضد کیوں کررہی ہو سویٹ ہارٹ۔۔۔۔۔۔ “
آژمیر اُس کے وجود کی رعنائیوں میں گم ہوتا اُسے واپس کمبل کے اندر کھینچ گیا تھا۔۔۔
“آژمیر یہ چیٹنگ ہے۔۔۔۔”
حاعفہ نے احتجاج کیا تھا۔۔۔۔
“جانِ آژمیر میں ہر روز ایسی ہی چیٹنگ کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔۔۔۔۔ “
آژمیر حاعفہ کے سارے احتجاج خود میں سمیٹتا اُس کی سانسوں کو اپنے اندر مقید کرگیا تھا۔۔۔۔۔
@@@@@@@@@@

ماورا نے نیند میں بند آنکھوں سے ہاتھ بڑھا کر اپنے پہلو میں کچھ ٹٹولا تھا۔۔۔۔ مگر خالی بیڈ محسوس کرتے وہ جھٹ سے اُٹھ بیٹھی تھی۔۔۔۔۔
“منہاج۔۔۔۔۔”
اُس نے بے چینی سے چاروں جانب نگاہیں دوڑائی تھیں۔۔۔ مگر منہاج اُسے کہیں نہیں ملا تھا۔۔۔۔
“رات کو جو ہوا وہ سب۔۔۔۔؟؟؟؟”
ماورا سلوٹوں سے پاک بیڈ کی چادر دیکھ ٹھٹھکی تھی۔۔۔۔
“کیا وہ سب میرا کوئی خواب تھا۔۔۔۔؟؟؟”
ماورا نے بالوں میں اُنگلیاں پھنساتے خود سے سوال کیا تھا۔۔۔۔۔
“نہیں وہ سب خواب نہیں ہوسکتا۔۔۔۔ منہاج رات کو میرے بے حد قریب تھے۔۔۔۔۔ “
ماورا رات کو گزرے حسین لمحات یاد کرتی پوری طرح لال ہوئی تھی۔۔۔۔ منہاج کی سرگوشیاں ابھی تک اُس کی سماعتوں میں گونجتی۔۔۔ کانوں کی لوح سرخ کر گئی تھیں۔۔۔۔
وہ بے قرار سی شش و پنج میں مبتلا چینج کرنے کی غرض سے واش روم کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔ جب ڈریسنگ ٹیبل پر نظر پڑتے اُس کے قدم تھم سے گئے تھے۔۔۔
سونے سے پہلے اُس نے پنک کلر کی ٹی شرٹ نہیں پہنی ہوئی تھی۔۔۔۔
اُس نے آنکھوں میں اُبھرتی چمک کے ساتھ اردگرد نگاہیں گھمائی تھیں۔۔۔۔ کمرے میں ہوئی تبدیلیاں اُس کے ہونٹوں کی مسکان گہری کر گئی تھیں۔۔۔
ونڈو بند تھی، ہیٹر آن تھا۔۔۔۔۔
ماورا یہ سوچ کر شرم سے دوہری ہوئی تھی کہ یہ شرٹ اُسے منہاج نے پہنائی تھی۔۔۔۔
وہ جلدی سے واش روم کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔ چینج کرکے نکلتے اُس کا رُخ باہر کی جانب تھا۔۔۔۔ وہ منہاج کو ڈھونڈ لینا چاہتی تھی۔۔۔۔ جو اُس کے ساتھ یہ آنکھ مچولی کا کھیل کھیل رہا تھا۔۔۔۔۔
صبح صبح اُس نے ایک بار پھر پورے میران پیلس جو چھان مارا تھا۔۔۔۔ مگر منہاج کا کہیں بھی نام و نشان تک نہیں تھا۔۔۔۔
ماورا مزید اُلجھتی مایوس سی اپنے روم کی جانب پلٹی تھی۔۔۔۔ صبح صبح ہر طرف خاموشی ہی چھائی ہوئی تھی۔۔۔۔۔
جب قاسم صاحب کی پکار پر اُس نے اپنی آنکھوں کی نمی دوپٹے میں جذب کرتے پلٹ کر اُن کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
“بیٹا اگر آپ مصروف نہیں ہیں تو کیا ہم کچھ دیر بیٹھ کر بات کرسکتے ہیں۔۔۔۔”
قاسم صاحب کے محبت بھرے انداز پر ماورا اِس پل چاہنے کے باوجود اُنہیں انکار نہیں کر پائی تھی۔۔۔۔۔
“جی بابا شیور۔۔۔۔ آپ پلیز آئیں نا۔۔۔۔۔”
سامنے اپنے روم کی جانب اشارہ کرتے وہ قاسم صاحب کے ساتھ اندر بڑھی تھی۔۔۔۔
“بیٹا میں آپ سے ایک بہت اہم بات کرنے والا ہوں۔۔۔۔ اور مجھے پورا یقین ہے کہ آپ میرا مان ضرور رکھیں گیں۔۔۔۔ “
قاسم صاحب نے بات کرنے سے پہلے تمہید باندھی تھی۔۔۔
“جی بابا کیوں نہیں۔۔۔۔ بیٹیاں باپ کا مان ہی ہوتی ہیں۔۔۔۔ آپ مجھے کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔۔۔ آپ کو پورا حق ہے۔۔۔۔ “
ماورا اصل بات جانے بغیر حامی بھرتے بولی۔۔۔۔
“مجھے تم سے یہی اُمید تھی بیٹا۔۔۔۔ میرے دوست شہاب سے تو ملی ہو نا تم۔۔۔۔ وہ میرا بہت اچھا دوست ہے۔۔۔ کل تم سے ملنے کے بعد اُس نے مجھ سے کچھ ایسا مانگا کے میں انکار نہیں کرپایا۔۔۔۔۔ “
قاسم صاحب پل بھر کے لیے رکے تھے۔۔۔۔
“شہاب نے اپنے بیٹے کے لیے تمہارا رشتہ مانگا ہے۔۔۔۔ اور میں نے اُسے رضامندی دے دی ہے۔۔۔۔ کیونکہ مجھے یقین تھا تم میرا مان ضرور رکھو گی۔۔۔۔ باقی سب بھی کل اُس سے مل چکے ہیں۔۔۔۔ سب کو وہ بہت پسند آیا ہے۔۔۔۔ بہت اچھا لڑکا ہے۔۔۔۔ حاعفہ کی زندگی میں بہت اُتار چڑھاؤ آئے ہیں۔۔۔۔ جس کا میرے دل پر بہت بوجھ ہے۔۔۔ مگر میں چاہتا ہوں تمہیں اپنے ہاتھوں سے اچھی جگہ سونپ کر اپنے باپ ہونے کا فرض ادا کروں۔۔۔۔”
قاسم صاحب کا لہجہ آخر میں نم ہوا تھا۔۔۔۔ جبکہ ماورا سانس روکے یک ٹک اُنہیں سن رہی تھی۔۔۔۔ اُسے لگا تھا پورا میران پیلس اُس کے سر پر آن گرا ہو۔۔۔۔ وہ انکار کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔ اُنہیں اپنی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت سے آگاہ کرنا چاہتی تھی۔۔۔ مگر ایسا کچھ نہیں کر پائی تھی۔۔۔۔
اُس کی آواز اُس کا ساتھ چھوڑ گئی تھی۔۔۔۔
“بابا۔۔۔۔۔۔”
اُس کے لفظ پھڑپھڑا کر رہ گئے تھے۔۔۔۔
“کیا تمہیں میرے فیصلے سے اعتراض ہے۔۔۔۔۔؟؟؟”
قاسم صاحب نے اُس کی خاموشی پر سوالیہ نظروں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ ماورا کو سمجھ نہیں آئی تھی وہ اُنہیں اپنے ماضی کے حوالے سے کیسے اگاہ کرتی تھی۔۔۔۔ کیسے یقین دلاتی۔۔۔۔؟؟؟ اُس کے پاس تو نکاح نامہ بھی نہیں تھا۔۔۔۔
“نہیں بابا۔۔۔۔۔۔۔”
اِس وقت خاموشی کے سوا اُس کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔۔۔ وہ نفی میں سر ہلاتی بے بسی سے بولی تھی۔۔۔
قاسم صاحب کو دل چاہا تھا ابھی ماورا کو سب کچھ بتا دیں۔۔۔ مگر منہاج کے بہت زیادہ مجبور کردینے کی وجہ سے اُنہیں فلوقت خاموشی ہی رہنا پڑا تھا۔۔۔
اُس کی رضامندی پر وہ اُس کا ماتھا چومتے وہاں سے نکل گئے تھے۔۔۔
جبکہ اُن کے جاتے ہی ماورا پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔۔۔۔ اُس نے منہاج کے ساتھ غلط کیا تھا۔۔۔ اور اب اُس کے ساتھ اُس سے بھی زیادہ غلط ہورہا تھا۔۔۔۔
@@@@@@@@@
بھینی بھینی دلفریب خوشبو بیدار ہوتے ہی زنیشہ کی نتھنوں سے ٹکرائی تھی۔۔۔ ایک بھر پور انگڑائی لیتے اُس نے سب سے پہلے زوہان کو اپنے آس پاس ڈھونڈا تھا۔۔۔۔ زوہان تو اُسے کہیں نہیں تھا مگر اُس کی نظر تکیے پر خود سے کچھ فاصلے پر رکھے سرخ گلابوں کے بکے پر پڑی تھی۔۔۔۔
زنیشہ نے مسکراتے چہرے کے ساتھ ہاتھ بڑھا کر اُن کی دلفریب مہک کو اپنی سانسوں میں اُتارا تھا۔۔۔
اُسے پھول بہت پسند تھے۔۔۔۔ زوہان کا یہ دوسرا تحفہ اُسے بہت پسند آیا تھا۔۔۔۔
لیکن زوہان صبح صبح کہاں گیا تھا۔۔۔۔
زنیشہ نے اُس کی تلاش میں اُٹھنا چاہا تھا۔۔۔ جب بکے سے ایک چھوٹا سا کارڈ نکل کر اُس کی گود میں آن گرا تھا۔۔۔
“میری زندگی کو خوشیوں سے بھری یہ حسین صبح مبارک ہو۔۔۔۔ تم میرے لیے کی ہو۔۔۔ اِس بات کا اندازہ تو تمہیں کل رات ہوگیا ہوگا۔۔۔۔ اِس لیے اب کبھی یہ خیال دل میں مت لانا کہ میری زندگی میں تم سے اُوپر کوئی آسکتا ہے۔۔۔۔
میں آج کی صبح تمہارے ساتھ گزارنا چاہتا تھا۔۔۔ مگر ایک بہت اہم ریزن کی وجہ سے مجھے جانا پڑ رہا ہے۔۔ لیکن میں وعدہ کرتا ہوں۔۔۔ یہ دوری ایک دن سے زیادہ کی نہیں ہوگی۔۔۔۔۔۔ آئی لو یو اینڈ مس یو سو مچ۔۔۔۔۔ “
زنیشہ جیسے جیسے زوہان کے لکھے الفاظ پڑھ رہی تھی۔۔۔ اُس کے چہرے کا رنگ متغیر ہورہا تھا۔۔۔۔
زوہان اُسے آج کے دن چھوڑ کر کہاں گیا تھا۔۔۔۔
وہ اتنا لاپرواہ بالکل بھی نہیں تھا کہ جان بوجھ کر ایسا کچھ کرتا۔۔۔۔ اور نہ یہ کام بزنس سے ریلیٹڈ کچھ ہوسکتا تھا۔۔۔۔۔
زنیشہ کا دل پریشان ہو اُٹھا تھا۔۔۔۔ آژمیر کا آج کے دن ریپشن نہ رکھنا۔۔۔۔ اور زوہان کا صبح صبح اِس طرح غائب ہونا۔۔۔۔ زنیشہ کا دماغ تیزی سے چلنے لگا تھا۔۔۔۔
وہ جلدی سے بیڈ سے اُٹھتی واش روم کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔
نفیسہ بیگم سے ہی اب اُسے کچھ پتا چل سکتا تھا۔۔۔۔
ڈارک پنک کلر کے شیفون کے ڈریس میں جس کے کناروں پر گولڈ کا نفیس کام کیا گیا تھا۔۔۔ زیب تن کیے لائٹ سے میک اپ کے ساتھ وہ نئی نویلی دلہن کے رُوپ میں بے پناہ حسین لگ رہی تھی۔۔۔۔
کمرے سے نکل کر سیڑھیاں اُترتے اُس کا رُخ ڈرائنگ روم کی جانب تھا۔۔۔ پاس سے گزرتی ملازمین جیسے اُسے محبت بھرے انداز میں سلام کررہی تھیں۔۔۔ زنیشہ کو واضح طور پر اِس بات کا احساس دلا رہی تھیں کہ وہ اب اِس گھر کی مالکن ہے۔۔۔۔
ڈرائنگ روم میں قدم رکھتے اُس کی نظر سامنے صوفے پر بیٹھی نفیسہ بیگم پر پڑی تھی۔۔۔۔ وہ بھی اُسے دیکھ چکی تھیِں۔۔۔۔
“اُٹھ گئی میری بیٹی۔۔۔۔”
محبت بھرے انداز میں اُس کی جانب بڑھتیں وہ اُس کی پیشانی چوم گئی تھیں۔۔۔۔ زنیشہ کے سجے سنورے رُوپ کو دیکھتے اُنہوں نے دل ہی دل میں اُس کی نظر اُتاری تھی۔۔۔۔
“جی آنی جان۔۔۔۔ “
زنیشہ ہولے سے مسکراتی اُن کے ساتھ صوفے پر جا بیٹھی تھی۔۔۔۔
“ناشتہ منگواؤں تمہارے لیے۔۔۔۔۔؟”
نفیسہ بیگم زنیشہ کی اردگرد اُٹھتی متلاشی نگاہیں نوٹ کرچکی تھیں۔۔۔۔
“ثمن تو رات کو ہی شہر واپس چلی گئی تھی۔۔۔۔”
نفیسہ بیگم کی وضاحت پر زنیشہ چونک کر اُن کی جانب متوجہ ہوتی شرمندہ سی ہوئی تھی۔۔۔۔
“زوہان کہاں ہیں۔۔۔۔؟؟؟”
زنیشہ نے آکر کار وہ سوال پوچھ ہی لیا تھا جس کے لیے وہ اتنی بے قراری سے نیچے آئی تھی۔۔۔۔
“تم پہلے اپنی ساس کے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کرلو۔۔۔ پھر مل لینا شوہر سے بھی۔۔۔ “
نفیسہ بیگم اُس کی بات مذاق میں ٹالتے ملازمہ کو ناشتہ لگوانے کا کہہ گئی تھیں۔۔۔
“آنی پلیز۔۔۔۔ میں جانتی ہوں آپ کو معلوم ہے زوہان کیوں اور کہاں گئے ہیں۔۔۔؟؟؟ پلیز آنی آپ مجھے سب سچ بتا دیں۔۔۔ ورنہ میں آپ سے بات نہیں کروں گی۔۔۔۔”
زنیشہ روہانسی آواز میں بولتی اِس سمے نفیسہ بیگم کو بہت پیاری لگی تھی۔۔۔۔
“اِس قدر محبت کرتی ہو میرے بیٹے سے۔۔۔۔”
نفیسہ بیگم نے اُس کی ٹھوڑی محبت سے چھوتے پوچھا تھا۔۔۔
“زوہان نے مجھے سختی سے منع کیا ہے کہ تمہیں یا کسی کو بھی کچھ نہیں بتانا۔۔۔۔ مگر میں زوہان کی وہ بات اب بالکل بھی نہیں مانوں گی جس میں اُس کے لیے اذیت چھپی ہو۔۔۔۔ کیونکہ اب اُسے سنبھالنے والی یہ پیاری سی لڑکی آچکی ہے۔۔۔۔ اور میرا ضدی اور اکڑو زوہان اِس خوشمنا حقیقت کو پوری طرح سمجھنے سے قاصر ہے۔۔۔۔”
نفیسہ بیگم نے اُس کا ہاتھ تھامتے اُسے سچ بتانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔۔۔۔
“زوہان کی ماں کی برسی ہے آج۔۔۔۔ آٹھ سال پہلے آج ہی کہ دن اُس نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی ماں کو زندہ جلتے دیکھا تھا۔۔۔ اتنا لمبا عرصہ گزر جانے کے باوجود وہ اب تک اُس بھیانک حادثے کو نہیں بھول پایا۔۔۔۔ پچھلے آٹھ سال اُس نے کس قدر اذیت میں گزاریں ہیں شاید کوئی اُس کا اندازہ نہیں لگا سکتا۔۔۔۔
اُس نے صرف اپنی ماں کو نہیں کھویا تھا۔۔۔ بلکہ اپنے دوسرے عزیز ترین رشتے اپنے بھائی آژمیر کو بھی کھو دیا۔۔۔۔ اُس واقع میں جو کچھ ہوا وہ اُس کا گناہ گار اپنی ماں کے اصل مجرم ملک فیآض میران کے ساتھ ساتھ آژمیر اور پورے میران پیلس کو سمجھتا ہے۔۔۔۔ کیونکہ آژمیر نے اُس کے سب سے بڑے مجرم ملک فیاض کو پناہ دے رکھی ہے۔۔۔۔ زوہان بہت کوشش کے باوجود ابھی تک اپنے باپ تک نہیں پہنچ پایا۔۔۔ جس کی سزا وہ خود کو اتنی اذیت میں مبتلا کرکے دے رہا ہے۔۔۔۔ “
نفیسہ بیگم کی بات پر زنیشہ کی آنکھیں بھیگ چکی تھیں۔۔۔
اُسے زوہان اِس بارے میں بتا چکا تھا۔۔۔ مگر اُسے اِس بارے میں علم نہیں تھا کہ آج زوہان کی ماں کی برسی ہے۔۔۔۔
“زوہان اِس وقت کہاں ہیں۔۔۔؟؟؟ مجھے اُن کے پاس جانا ہے۔۔۔ “
زنیشہ کا دل زوہان کے لیے بے چین ہوا تھا۔۔۔۔ وہ ہر بار اُس کی چھوٹی سے چھوٹی تکلیف پر اُس کے ساتھ آن کھڑا ہوتا تھا۔۔۔۔ آژمیر سے اتنی نفرت کے باوجود اُسے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔۔ مگر خود اپنی تکلیف اور اذیت میں کسی کو شریک نہیں کرتا تھا۔۔۔
زوہان کی اذیت پر وہ تڑپ ہی تو گئی تھی۔۔۔
“تم ناشتہ کرلو پھر ڈرائیور تمہیں۔۔۔ تمہارے زوہان کے پاس چھوڑ آئے گا۔۔۔۔”
نفیسہ بیگم اُس کی بے صبری دیکھ مسکرا کر رہ گئی تھیں۔۔۔۔
“نہیں آنی پلیز۔۔۔۔ مجھے بھوک نہیں ہے۔۔۔۔ “
زنیشہ اُن کے بار بار کیے جانے والے اصرار پر بےچارگی سے بولی تھی۔۔۔۔
“ضد میں زوہان سے کم نہیں ہو۔۔۔۔ اچھی ٹکر دے سکتی ہو۔۔۔۔”
نفیسہ بیگم محبت بھری خفگی کا اظہار کرتیں اُسے لیے باہر کی جانب بڑھی تھیں۔۔۔ جہاں ڈرائیور پہلے ہی اُن کے کہنے پر گاڑی لیے تیار کھڑا تھا۔۔۔۔
زنیشہ دھڑکتے دل کے ساتھ گاڑی میں آن بیٹھی تھی۔۔۔ وہ زوہان کے غصے سے اچھی طرح واقف تھی۔۔۔۔ اُس کے وہاں پہنچ جانے پر وہ اچھا خاصہ بھڑک سکتا تھا۔۔۔
مگر زنیشہ نے بھی دل میں ٹھان لی تھی کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے۔۔۔۔ وہ اُس کا غصہ تو برداشت کرلے گی مگر اُسے تنہا کسی صورت نہیں چھوڑیں گی۔۔۔۔
@@@@@@@@@

آژمیر حاعفہ کا ہاتھ تھامے ڈائننگ ہال میں داخل ہوا تھا۔۔۔۔ جہاں اُن کے آنے کی اطلاع ملتے ہی ناشتہ لگوا دیا گیا تھا۔۔۔۔۔ جب آژمیر میران پیلس میں ہوتا تھا تو وہ سب گھر والوں کے ساتھ ناشتہ اور ڈنر کرنا پسند کرتا تھا۔۔۔۔
اُس کی اِسی روٹین کو دیکھتے سب نے آج بھی ناشتہ نہیں کیا تھا۔۔۔ حاشر تو صبح سے دہائیاں دے رہا تھا کہ آژمیر لالہ آج کسی صورت اُن سب کو یہ شرف نہیں بخشیں گے۔۔۔۔ اور اپنی نئی نویلی دلہن کے ساتھ روم میں ہی ناشتہ کرنا پسند کریں گے۔۔۔۔
لیکن آژمیر نے شمسہ بیگم کو سب کے ساتھ ناشتہ کرنے کا پیغام بھجواتے سب کو ہی ایکسائیٹڈ کردیا تھا۔۔۔۔
آژمیر جو زیادہ تر غصے میں اور لیے دیے انداز میں ہی پایا جاتا تھا۔۔۔۔ کچھ ٹائم پہلے سب کے لیے اُس کی شادی ہونا ایک خواب کا سا ہی تھا۔۔۔۔
آژمیر میران جیسا خشک مزاج بندہ کسی لڑکی سے محبت کرتا تھا پہلے تو اُن سب کو یہی بات سن کر ہی گہرا جھٹکا لگا تھا۔۔۔۔ اب سب یہی دیکھنا چاہتے تھے کہ کیا شادی کے بعد اُس میں کوئی چینج آیا تھا۔۔۔ یا ابھی بھی وہ ویسا ہی تھا۔۔۔۔
لیکن آژمیر کو حاعفہ کا ہاتھ پکڑ کر اندر آتا دیکھ سب کے چہروں پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔۔۔۔
ڈارک براؤن شلوار سوٹ اور بلیک کوٹ میں ہمیشہ کی طرح سنجیدہ تاثرات مگر آنکھوں میں اپنے پہلو میں چلتی نازک دوشیزہ کے لیے ڈھیروں محبت اور نرمی بھرے وہ سب کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔
حاعفہ اِس وقت اورینج شیفون کے گھٹنوں تک آتے ہلکے سے کام والے فراک میں دوپٹہ سر پر اوڑھے آژمیر کے ساتھ چلتی بے پناہ حُسین لگی تھی۔۔۔۔ بار بار جوڑے سے پھسل کر چہرے پر آتی لٹوں کو کانوں کے پیچھے اڑستی نروس سی وہ سب کو اِس پل بہت پیاری لگی تھی۔۔۔۔
حاعفہ کے چہرے پر چھلکتی حیا کا ریزن سامنے شوخ نگاہوں سے گھورتے کزنز سے بھی زیادہ آژمیر کی مضبوط گرفت میں قید اپنی نازک ہتھیلی تھی۔۔۔
جسے چھوڑنے کے موڈ میں وہ بالکل بھی نہیں تھا۔۔۔۔ حاعفہ روم میں تو اُس کی ساری بے باکیاں برداشت کرچکی تھی۔۔۔ مگر اب یہاں سب کے سامنے اُسے لگ رہا تھا۔۔۔ آژمیر کی جانب سے کی جانے والی معمولی سی گستاخی پر اُس کا بے ہوش ہونا کنفرم تھا۔۔۔۔
ماورا حاعفہ کے چہرے پر سچی خوشی کے رنگ دیکھ دل سے خوش تھی۔۔۔۔ یہ الگ بات تھی کہ اُس کا دل اپنی لائف میں آنے والے طوفان کے خوف سے سوکھے پتے کی طرح لرز رہا تھا۔۔۔۔۔
اُن دونوں کا کپل ایک دم پرفیکٹ تھا۔۔۔۔ آژمیر جیسے سحر انگیز شخصیت کے مالک شخص کے ساتھ نازک اندام اور پرکشش حُسن کی مالک حاعفہ کے سوا کوئی لڑکی اتنی نہیں جچ سکتی تھی۔۔۔۔
حاعفہ دھڑکتے دل کے ساتھ سب کو سلام کرتی آژمیر کے ساتھ اُس کے پہلو میں آن بیٹھی تھی۔۔۔۔۔
“آج لگتا ہے کسی کا ناشتہ کرنے کا کوئی موڈ نہیں ہے۔۔۔۔”
آژمیر کی کھنکھار پر سب جلدی سے اُن کی جانب سے نظریں ہٹاتے ناشتے کی جانب متوجہ ہوئے تھے۔۔۔۔
“لالہ تو ویسے کے ویسے ہی کھڑوس ہیں۔۔۔ بچاری حاعفہ بھابھی۔۔۔۔ وہ تو اُن سے ڈر ڈر کر ہی آدھی ہوجائیں گے۔۔۔۔ کتنے اَن رومینٹک ہونگے نا لالہ۔۔۔۔”
فجر جو صبح سے آژمیر کا نیا انداز دیکھنے کو ایکسائٹڈ تھی۔۔۔ اُس کی وہی پہلے جیسی رعب دار شخصیت دیکھ دل مسوس کر رہ گئی تھی۔۔۔۔
“بیٹا آژمیر لالہ کتنے رومینٹک ہیں یہ زرا غور سے دیکھو۔۔۔ حاعفہ بھابھی کے لبوں کی مسکراہٹ صاف بتا رہی ہیں۔۔۔ اور جس طرح لالہ سب گھروالوں کے سامنے اُن کا ہاتھ پکڑ کر لائے ہیں۔۔۔۔ تمہیں کیا لگتا ایسی جرأت اِن سارے خاندان کے شوخے لڑکوں میں سے کوئی کرسکتا ہے۔۔۔۔ “
فریحہ نے گلاس منہ سے لگاتے فجر کی سرگوشی کا جواب دیا تھا۔۔۔۔۔
“آژمیر ہم سوچ رہے زرا ایک چکر میں اور حمیرا زنیشہ کی طرف لگا آتے۔۔۔۔ کل سے ابھی تک اُس سے کوئی بات نہیں ہوئی۔۔۔۔ نفیسہ بہن نے ناشتہ لے کر جانے سے تو منہ کردیا تھا۔۔۔۔ “
شمسہ بیگم کی بات پر آژمیر کا ہاتھ ساکت ہوا تھا۔۔۔۔
“نہیں۔۔۔۔ آج نہیں۔۔۔ میرے خیال میں کل جانا مناسب رہے گا۔۔۔۔”
کچھ لمحوں کے توقف کے بعد آژمیر نے جواب دیا تھا۔۔۔۔
بظاہر وہ سب کے سامنے زوہان کے حوالے سے صاف لاپرواہی جتاتا تھا۔۔۔ لیکن اِس حقیقت سے کوئی واقف نہیں تھا کہ آژمیر کو زوہان کے بارے میں ایک ایک خبر رہتی تھی۔۔۔۔
“تم کچھ کھا کیوں نہیں رہی..؟؟؟؟ تمہیں تو صبح بہت بھوک لگی تھی نا۔۔۔۔”
آژمیر اُسے پلیٹ میں تھوڑے سے چاول ڈال کر اُن سے کھیلتے دیکھ اُس کا صبح فرار اختیار کرنے کے لیے بنایا بہانہ یاد دلا گیا تھا۔۔۔۔
آژمیر کی سرگوشی پر اُس کے سامنے بیٹھی آمنہ اور کشمالہ بیگم نے پوری توجہ دی تھی۔۔۔۔ مگر کچھ بھی کانوں تک نہیں پہنچ پایا تھا۔۔۔۔
جس پر اُن کے ساتھ بیٹھے شاکر صاحب شرمندہ ہوکر رہ گئے تھے۔۔۔۔
“آپ دونوں تو یہ بچکانہ حرکتیں مت کرو۔۔۔۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ بہت خوش لگ رہے ہیں۔۔۔۔”
شاکر صاحب نے بیوی اور بہن کی حرکت پر اُنہیں ٹوکا تھا۔۔۔۔۔ اُن کا پورا گھرانہ آژمیر کو ایک شوہر کے رُوپ میں دیکھ پاگل ہوچکا تھا۔۔۔۔
“آپ کو تو کوئی فرق نہیں پڑ رہا۔۔۔۔ مگر جس طرح یہ سب مجھے گھور رہیں ہیں۔۔۔ میں کیسے کچھ کھا سکتی ہوں۔۔۔۔ آپ کی بیوی بننا اتنا مشکل ہوگا۔۔۔ مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا۔۔۔۔۔”
حاعفہ کے معصومیت بھرے غصے پر اُسے ٹوٹ کر پیار آیا تھا۔۔۔۔ اُس کے ہونٹوں پر دلکش مسکان کھیل گئی تھی۔۔
آژمیر نے ایک نظر سب پر ڈالی تھی۔۔۔ جو اُس کے دیکھنے پر اپنی پلیٹوں پر جھک گئے تھے۔۔
“آپ سب لوگ میری بیوی کو کس خوشی میں گھور رہے ہیں۔۔۔۔ کیا نئی نویلی دلہن پہلی بار دیکھی آپ لوگوں نے۔۔۔۔۔”
آژمیر نے مصنوعی خفگی کا اظہار کرتے حاعفہ کو مزید حیا سے لال کردیا تھا۔۔۔۔ وہ اِس لمحے اُسے گھور بھی نہیں پائی تھی۔۔۔۔
آژمیر کی بات پر سب کے ہونٹوں پر مسکان بکھری تھی۔۔۔۔ آژمیر کا یہ پُر مزاح انداز اُن کو بہت اچھا لگا تھا۔۔۔۔
“نہیں لالہ۔۔۔۔ آپ کے پہلو میں بیٹھی نئی نویلی دلہن پہلی بار دیکھی ہے۔۔۔۔”
حاشر کی زبان پھسلی تھی۔۔۔۔۔
لیکن آژمیر کی گھوری پر اگلے ہی لمحے سر جھکا گیا تھا۔۔۔۔
“آئی نو میری والی سب سے حسین ہے۔۔۔۔ مگر یہ حق میرا ہے۔۔۔۔ اِس لیے آپ لوگ خاموشی سے ناشتا کریں۔۔۔ اور چلتے پھرتے نظر آئیں۔۔۔۔ “
آژمیر لبوں پر مسکراہٹ سجائے بولتا اُن سب کو صدمے سے دوچار کرگیا تھا۔۔۔۔ جبکہ اب کی بار حاعفہ اُن سب کے ری ایکشن دیکھ اپنی بے ساختہ اُمڈ آنے والی مسکراہٹ چھپانے کے لیے گلاس ہونٹوں سے لگا گئی تھی۔۔۔۔
“ابھی جو میں نے دیکھا۔۔۔۔ کیا تم نے بھی وہی دیکھا؟؟؟ یہ آژمیر لالہ ہی تھے نا۔۔۔۔؟؟؟”
فجر کے بے یقینی بھرے انداز پر فریحہ نے بھی اُس کا ساتھ دیا تھا۔۔۔۔
“کمال کردیا حاعفہ بھابھی نے تو۔۔۔۔۔ “
فریحہ کو ابھی تک یقین نہیں آرہا تھا کہ آژمیر نے اتنے مسکرا کر ایسی بات کہی ہے۔۔۔۔
“میں کھانا کھا رہی ہوں۔۔۔ آژمیر پلیز۔۔۔۔ “
حاعفہ اچھے سے جانتی تھی آژمیر کے سامنے وہ سب شریف بنے بیٹھے تھے۔۔۔ بعد میں انہوں نے اُسے نہیں چھوڑنا تھا۔۔۔۔
اِس سے پہلے کے آژمیر کوئی جواب دیتا۔۔۔۔ کوئی بہت امپورٹنٹ کال آجانے پر وہ وہاں سے اُٹھ گیا تھا۔۔۔۔۔
قاسم اور شاکر صاحب بھی اُس کے پیچھے اُٹھ گئے تھے۔۔۔۔
“بھابھی جان یہ سب کیا ہے۔۔۔۔۔؟؟؟ ایک ہی رات میں آپ نے ہمارے اُکھڑ مزاج اور سخت گیر لالہ کو اتنا خوش مزاج کیسے بنا دیا۔۔۔۔ “
اُن کے جاتے ہی وہی ہوا تھا جس کا حاعفہ کو ڈر تھا۔۔۔ سب نے ایک ساتھ اُس پر دھاوا بول دیا تھا۔۔۔۔۔
شمسہ بیگم نے بھی محبت بھری نظروں سے حاعفہ کو دیکھا تھا۔۔۔۔ جو اُن کے بیٹے کی زندگی خوشیوں سے بھر گئی تھی۔۔۔۔
وہ آژمیر کو ایسے ہی تو خوش اور ہنستا مسکراتا دیکھنا چاہتی تھیں۔۔۔ جس نے وقت سے پہلے پورے خاندان کی زمہ داریاں اُٹھاتے اپنی زندگی کی خوشیاں فراموش کردی تھیں۔۔۔۔
“وہ ابھی بھی ویسے ہی ہیں۔۔۔ آپ لوگوں کو غلط فہمی ہوئی ہے۔۔۔۔”
آژمیر کے جانے کے بعد حاعفہ بھی کچھ نارمل ہوئی تھی۔۔۔ ورنہ اُس کی شوخ نگاہیں تو اُسے ہر ہوش بھلا دیتی تھیں۔۔۔۔۔
حاعفہ کے جواب پر سب مایوس ہوئے تھے۔۔۔
“یہ اب آژمیر میران کی بیوی ہیں۔۔۔۔ اُن کا رنگ چڑھ چکا ہے اِن پر۔۔۔ یہ کچھ نہیں بتائیں گی اب۔۔۔۔”
حاشر اُسے چڑھانے کے لیے مصنوعی افسوس کا اظہار کرتا اُٹھ گیا تھا۔۔۔۔
مردوں کے اُٹھتے ہی سب لیڈیز نے حاعفہ کو اپنے شکنجے میں لیا تھا۔۔۔۔
“منہ دیکھائی میں کیا ملا؟؟؟”
پہلا سوال فجر کی جانب سے تھا۔۔۔۔
جس کے جواب میں حاعفہ نے گلے میں پہنا بیش قیمت نیکلیس دیکھایا تھا۔۔۔ سب نے ستائش اور رشک بھری نظروں سے حاعفہ کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
جبکہ اُسی لمحے وہاں داخل ہوتی سویرا جل بھن کر رہ گئی تھی۔۔۔ اُسے کسی طور ہضم نہیں ہورہا تھا کہ اُس کی جگہ اِس لڑکی نے لے لی تھی۔۔۔۔ جس کے اتنے بڑے دھوکے کے بعد بھی آژمیر نے اُسے معاف کردیا تھا۔۔۔
بلکہ اُلٹا پلکوں پر بیٹھا رکھا تھا۔۔۔۔ لیکن وہ اتنی آسانی سے یہ سب ہوتا نہیں دیکھ سکتی تھی۔۔۔۔
ْآژمیر کی آنکھوں میں اُس نے حاعفہ کے لیے دیوانگی بھری محبت دیکھی تھی۔۔۔ وہ جانتی تھی آژمیر حاعفہ کے خلاف اُس کی کوئی بات نہیں سنے گا۔۔۔۔ مگر وہ حاعفہ کو آژمیر کے خلاف ضرور کرسکتی تھی۔۔۔
جس کے لیے پہلے اُسے حاعفہ سے اچھے تعلقات قائم کرنے تھے۔۔۔
“بہت مبارک ہو حاعفہ تمہیں۔۔۔۔ اور آئم سوری میں نے تمہارے ساتھ اب تک بہت غلط رویہ اختیار کیے رکھا۔۔۔ جس کے لیے میں بہت شرمندہ ہوں۔۔۔ اگر ہوسکے تو مجھے معاف کردینا۔۔۔ تم آژمیر کی بیوی ہونے کے ناطے مجھے بہت عزیز ہو اب۔۔۔”
سویرا اپنے پلان کا آغاز کرچکی تھی۔۔۔۔
جس سے نابلد۔۔۔۔ حاعفہ نے اُسے مزید شرمندہ ہونے کا موقع دیئے بغیر گلے سے لگا لیا تھا۔۔۔
آژمیر سے منسلک ہر رشتہ اُس کے لیے اہم تھا۔۔۔
حاعفہ نے اردگرد نظریں گھمائی تھیں۔۔۔ اُسے ماورا کب سے کہیں نظر نہیں آرہی تھی۔۔۔۔ ناشتے کے ٹیبل پر بھی حاعفہ کو وہ بجھی بجھی سی لگی تھی۔۔۔۔
وہ سب کو اُن کے اُلٹے سیدھے سوالوں کے جواب دیتی ماورا کی تلاش میں چل دی تھی۔۔۔۔
@@@@@@@@@@

جاری ہے۔۔۔۔