No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
“ملک زوہان میری سوچ سے زیادہ مغرور ہو تم۔۔۔۔۔ میرے حلقے کے تمام مرد میرے حُسن کے دیوانے ہیں۔۔۔۔ اور میں صرف اور صرف تمہارے پیچھے پاگل ہوں، مگر تم ہو کہ مجھے گھاس بھی نہیں ڈالتے۔۔۔۔ یہ بہت غلط بات ہے۔۔۔۔۔”
ثمن ایک ادا سے اپنی شولڈر کٹ زلفوں کو ہاتھ سے جھٹکتی اُس کے بے انتہا قریب صوفے پر آن بیٹھی تھی۔۔۔۔
سیگریٹ کا دھواں فضا کے سپرد کرتے ملک زوہان نے نظریں گھما کر اپنے کندھے سے سر ٹکائے بیٹھی ثمن کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔۔ وہ کسی کو اجازت نہیں دیتا تھا اپنے قریب آنے کی۔۔۔۔ مگر ثمن خان سے اُس کی کافی دوستی تھی۔۔۔۔۔ اسی ریزن سے وہ اُسے اتنا حق تو دیتا تھا۔۔۔۔ ثمن نے اُس کی خاطر اپنا نام اپنی ریپوٹیشن داؤ پر لگا رکھی تھی۔۔۔۔ زوہان اُس کی بے تکلفی برداشت کرتا تھا مگر ایک حد تک۔۔۔۔ اُس حد سے آگے اُس نے ثمن کو کبھی بڑھنے نہیں دیا تھا۔۔۔۔ اُس کا یہ گریز ثمن کو مزید اُس کا دیوانہ بنا دیتا تھا۔۔۔۔ وہ جی جان سے ملک زوہان کو حاصل کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔ جس کے لیے وہ آخری دم تک اُس کا دل جیتنے کی کوشش کرسکتی تھی۔۔۔۔
ابھی بھی وہ بے خود سی اُس کے خوبرو چہرے کو دیکھے گئی تھی۔۔۔
“تو عقل مندی کا ثبوت دیتے ہوئے۔۔۔۔ اُن مردوں میں سے کسی ایک کا ہاتھ تھام لو۔۔۔۔ کیونکہ یہاں سے تمہیں تمہاری خواہش کے مطابق کچھ نہیں ملنے والا۔۔۔۔”
زوہان نے دوسرا سیگریٹ سلگھاتے اُسے ہمیشہ کی طرح ٹکا سا جواب دیا تھا۔۔۔۔ ثمن اُس کے جواب پر جی بھر کر بد مزا ہوئی تھی۔۔۔۔ مگر اپنا سر ابھی بھی اُس کے کندھے سے نہیں ہٹایا تھا۔۔۔۔
“تم بہت سنگدل اور ظالم بھی ہو۔۔۔۔ تمہاری زندگی میں آنے والی لڑکی خوش قسمت ہونے کے ساتھ ساتھ بچاری بھی ہوگی۔۔۔۔ کیونکہ تمہارا ستم برداشت کرنا آسان کام بالکل بھی نہیں ہے۔۔۔۔ “
ثمن نے خفگی بھرے انداز میں کہا تھا۔۔۔۔ کیونکہ جتنی انا اور اکڑ اِس شخص میں تھی،اُس نے آج تک کسی میں بھی نہیں دیکھی تھی۔۔۔۔۔
ثمن کی بات پر زوہان کی آنکھوں کے پردے پر کسی کا دلکشی بھرا، ڈرا سہما نازک سراپا آن ٹھہرا تھا۔۔۔۔ مگر اگلے ہی لمحے زوہان سر جھٹکتے اُس کے تصور سے باہر آیا تھا۔۔۔۔ جسے وہ اپنے دل میں کوئی بھی جگہ دینے کی غلطی نہیں کرسکتا تھا۔۔۔۔
اُسی لمحہ سامنے ٹیبل پر پڑا اُس کا موبائل بج اُٹھا تھا۔۔۔۔ حاکم کا نمبر دیکھ زوہان نے فوراً کال ریسیو کی تھی۔۔۔۔ مگر دوسری جانب سے جو خبر اُسے سنائی گئی تھی۔۔۔۔ اُس کا چہرا غصے کی شدت سے لال ہوگیا تھا۔۔۔۔ سامنے پڑا ٹیبل اُس کے پیر کی ماری جانے والی ٹھوکر سے دور جاگرا تھا۔۔۔ ثمن دہل کر اُس کی جانب متوجہ ہوئی تھی۔۔۔ اُس کا یہ جنونی رُوپ ہمیشہ خطرناک ثابت ہوتا تھا۔۔۔اُس کے اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی۔۔۔۔
@@@@@@@
منہاج درانی سے ٹکراؤ کے بعد ماورا کا دماغ ڈسٹرب ہوچکا تھا۔۔۔ بنا کوئی کلاس اٹینڈ کیے وہ ہاسٹل واپس آگئی تھی۔۔۔۔ منہاج اُس کی سچائی جانتا تھا۔۔ اگر وہ یہ بات یونی میں سب کے سامنے مشہور کر دیتا تو اُسے کوئی بھی یونی میں ٹکنے نہ دیتا۔۔۔۔ ماورا کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ منہاج درانی جیسے ناسور سے بچنے کے لیے وہ کیا کرے۔۔۔۔
وہ بستر میں گھسی تکیے میں سر دیئے لیٹی روتی رہی تھی۔۔۔ اُن دونوں بہنوں کے لیے لائف کبھی آسان نہیں رہی تھی۔ اگر ماورا اُس کوٹھے سے دور اِس جگہ پر عزت سے رہ رہی تھی تو اُس کی بھاری قیمت وہاں حاعفہ ادا کررہی تھی۔ اگر حاعفہ کے سر پر ماورا کی زمہ داری نہ ہوتی تو وہ کب کی وہاں سے نکل گئی ہوتی۔۔۔۔۔ یہی بات ماورا کو رُلاتی تھی۔۔۔ کہ حاعفہ اُس کی وجہ سے مشکل میں تھی۔۔ حاعفہ کی صرف ایک ہی خواہش تھی۔۔۔ وہ ماورا کو ڈاکٹر بنے دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔۔
ماورا کو یہی ڈر تھا کہ اگر منہاج درانی کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہوپاتا تو حاعفہ کا دل دکھتا۔۔۔ جو کہ اب ماورا کبھی نہیں ہونے دینا چاہتی تھی۔۔۔۔ ماورا خود کو نارمل کرتی منہاج درانی کو اُس کی جگہ پر ہی رکھنے کا سوچنے لگی تھی۔
وہ شخص اُس کا گنہگار تھا پھر وہ بھلا ہی کیوں ڈرتی اور دبتی اُس سے۔۔۔۔۔
ماورا تکیے پر سر رکھے آنکھیں موندے ماضی کی بھول بھلیوں میں گم ہوئی تھی۔۔۔۔
وہ دونوں بہنیں دنیا کی اُن بدنصیب لڑکیوں میں سے تھیں۔۔۔ جنہوں نے آنکھ ہی کوٹھے پر کھولی تھی۔ پیدا ہوتے ہی اُن کے کانوں میں گھنگھروں کی تھاپ سنائی دی تھی۔۔۔۔ اُن کی ماں سلمہ ایک طوائف زادی تھی۔۔۔ مگر شاید اُن کی قسمت اچھی تھی کہ اُن کے پہلے رقص میں ہی کسی امیر زادے کا دل آگیا تھا اُن پر۔۔۔۔
جو اپنی فیملی کی وجہ سے اُنہیں گھر تو ساتھ نہیں لے جاسکتا تھا مگر اُس نے سلمہ پر ایک طرح سے احسان کرتے اُس پر اپنے نکاح کا ٹھپہ لگا کر اُسے ہمیشہ کے لیے اپنے نام لکھوا لیا تھا۔۔۔۔ اُس کا کہنا تھا وہ سلمہ سے بہت محبت کرتا ہے، ایک دن اُسے اِس جگہ سے نکال کر لے جائے گا۔۔۔۔سلمہ اُس کی باتوں پر دل سے ایمان لاتی تھی۔۔۔ نکاح کی وجہ سے اُس نے سلمہ کی ماں کو بھاری قیمت ادا کی تھی۔۔۔۔ وہ بے پناہ خوش تھیں۔۔۔ اِس بات کا اُنہیں اندازہ تھا کہ اُن کی بیٹی کا بے پناہ حُسن ایسی بجلیاں تو ضرور گرائے گا۔۔۔۔ سلمہ کی بڑی بہن نگینہ ہمیشہ اپنی چھوٹی بہن کے حُسن سے خار کھاتی تھی۔ بڑی وہ تھی مگر اُن کی ماں ہمیشہ سلمہ کو ہی اہمیت دیتی تھی۔۔۔ اُوپر سے اتنے ہینڈسم اور امیر کبیر بندے سے اُس کا نکاح نگینہ کی جیلسی مزید بڑھا گیا تھا۔۔۔ مگر وہ جلنے، کڑھنے اور ٹھنڈی آہیں بھرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ کیونکہ چاہے جو بھی ہو آخر سلمہ اُس کی بہن تھی، وہ اُس کے خلاف کچھ نہیں کر سکتی تھی۔
دوسری جانب سلمہ یہی چاہتی تھی کہ وہ جب تک یہاں ہے، وہ اولاد پیدا نہیں کرے گی۔۔۔ وہ نہیں چاہتی مزید کوئی ننھی جانیں ویسی ہی اذیت اور تکلیف برداشت کریں جو وہ اب تک کرتی آئی تھیں۔۔ مگر اُس کے شوہر نے اُسے ہر طرح سے اعتبار دلاتے، اُس کی یہ ضد ختم کردی تھی۔۔۔۔ سلمہ نے اُس کی محبت کے آگے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔۔۔
کافی عرصے تک یہ معاملہ ایسے ہی چلتا رہا۔۔۔۔ سلمہ اُس شخص کی بیوی بن کر کوٹھے پر رہتی۔۔۔ جب بھی کسی گاہک وغیرہ کے آنے کس ٹائم ہوتا وہ کمرے میں قید ہوجاتی۔۔۔۔۔۔ اُسے اپنے شوہر کی جانب سے کسی کے سامنے آنے کی اجازت نہیں تھی۔
جب اُنہیں دنوں اُس کی گود میں ایک چاند سی بیٹی نے جنم لیا تھا۔۔۔ سلمہ اپنی بیٹی کی چاند سی روشن من موہنی صورت دیکھ کر اُسے چومتی اُس کے اچھے نصیب کی دعا کرنے لگی تھی۔۔۔ مگر بیٹی کو جنم دیتے ہی اُس کے دل میں ایک عجیب سا خوف پیدا ہوگیا تھا۔۔۔
سلمہ نے اپنی بیٹی کا نام حاعفہ رکھا ہے۔ وہ اپنی بیٹی کو اِس کوڑے کے ڈھیر میں نہیں پالنا چاہتی تھی. اُس نے پھر اپنے شوہر سے یہاں سے جانے کی خواہش ظاہر کی تھی، جسے اُس نے ہمیشہ کی طرح بہلا پھسلا کر ٹال دیا تھا۔۔۔
جب ٹھیک تین سال بعد سلمہ نے ایک اور بیٹی کو جنم دیا تھا۔۔۔ وہ بھی حاعفہ کی طرح نازک گڑیا سی تھی۔۔۔۔ اپنی بیٹیوں کی بے پناہ خوبصورتی سلمہ کو خوفزدہ کر گئی تھی۔۔۔ اُس نے اپنے شوہر سے ایک بار پھر وہی مطالبہ کیا تھا۔ مگر اِس بار اُسے اپنے شوہر کی جانب سے جو جواب ملا تھا اُس نے سلمہ کا نازک دل توڑ کر رکھ دیا تھا۔۔۔۔
اُس کے شوہر کا کہنا تھا کہ وہ ایک بہت بڑے شریف گھرانے سے تعلق رکھتا ہے۔۔۔ وہ بھلا ایک طوائف زادی اور اُس کی بیٹیوں کو اپنے گھر کیسے لے جاسکتا ہے۔۔۔ اور اُسے خفیہ طور پر کسی اور ٹھکانے پر رکھ کے بھی وہ اپنا کردار مشکوک نہیں بنا سکتا تھا۔ اِس لیے سلمہ کو اپنی بیٹیوں سمیت ساری زندگی یہیں رہنا تھا۔۔۔ سلمہ جو ایک عزت کی زندگی جینے کی خواہش مند تھی، اپنی قسمت کی ستم ظریفی پر پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔۔۔ کیونکہ اب اُس پر صرف اپنی عزت کی نہیں بلکہ دو بیٹیوں کی زمہ داری بھی تھی۔۔۔۔
جن کا باپ خود کو ایک شریف النفس انسان اور عزت دار شہری مانتا تھا۔۔۔۔ مگر اُس کی غیرت اِس کوٹھے کے دروازے کے آگے آکر مر جاتی تھی۔۔۔ جہاں اُس کی بیوی، اُس کی سگی بیٹیاں پڑی تھیں۔۔۔
اُس دن کے اپنے شوہر سے ہونے والے جھگڑوں کے بعد سے سلمہ اُس سے سیدھے منہ بات نہیں کر رہی تھی. کیونکہ اُس کی شوہر نے اُس سے دھوکا دیا تھا۔۔۔۔ وہ آتا سلمہ اُس کی احسان مند ہونے کی وجہ سے اُس کے حکم پر سر تسلیم خم کردیتی۔۔۔۔ اُس کی ہر بات خاموشی سے مان جاتی۔۔۔۔
جب اچانک نجانے کیا ہوا کہ اُس کے شوہر نے کوٹھے پر آنا ہی بند کردیا۔۔۔۔ اُس نے سلمہ کو کبھی اپنے خاندان اور اپنی پہچان کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا۔ جس کی وجہ سے سلمہ اُسے ڈھونڈنے سے قاصر تھی۔۔۔۔
سلمہ کی بیٹیاں بڑی ہورہی تھیں۔۔۔ جس کے ساتھ ہی اُن کے معصوم حُسن میں مزید نکھار آرہا تھا۔۔۔ اِس سب کے ساتھ ہی سلمہ کا اُن کو لیے کر خوف بھی بڑھتا جارہا تھا۔۔۔۔
اُس نے بہت کوشش کی تھی مگر اپنے شوہر سے رابطہ کرنے کا کوئی سراغ نہیں مل پارہا تھا اُسے۔۔۔ جب اُنہی دنوں سلمہ پر ایک اور ستم آن پڑا تھا۔۔۔ سلمہ کی ماں جو ہمیشہ اُس کے لیے ڈھال بن کر رہی تھیں، اُسے ہمیشہ ہمیشہ سے لیے چھوڑ کر جہانِ فانی سے کوچ کر گئی تھیں۔۔۔ سلمہ بُری طرح ٹوٹ کررہ گئی تھی۔۔۔ کوٹھے کا سارا اختیار نگنیہ بائی اور اُس کے خالہ زاد کرامت خان کے پاس آگیا تھا، کرامت بھی اِسی کوٹھے کی پیداوار تھا۔۔۔۔۔ اور اب اپنے اِس بزنس کو بڑے پیمانے پر لے جانے کے لیے وہ بہت سارے غیر قانونی کاموں میں بھی انوالو ہونے لگا تھا۔۔۔
نگینہ کا شروع سے ہی رویہ ٹھیک نہیں تھا سلمہ کے ساتھ۔۔۔ کہنے کو تو وہ بہنیں تھیں۔۔۔ مگر نگینہ سلمہ سے خار کھاتی، دل میں اُسکے خلاف بہت بغض رکھے ہوئے تھی۔ سلمہ اندر سے بالکل ٹوٹ چکی تھی۔۔۔ اُسے اپنی بیٹیوں کا مستقبل روشن نہیں لگ رہا تھا۔۔۔۔ اُس نے جیسے بھی لڑ جھگڑ کر، نگینہ سے مخالفت مول لے کر اپنی بیٹیوں کی پڑھائی جاری رکھی تھی۔۔۔
پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ کوٹھے میں رہ کر کوئی بچیاں تعلیم حاصل کررہی تھیں۔۔۔۔ حاعفہ نے ابھی یونیورسٹی میں قدم رکھا ہی تھا جب اُس کی ماں جو اُن کے سر کا سائبان تھی۔۔۔۔ اُنہیں اپنی ٹھنڈی چھاؤں سے محروم کرتی، ایک رات خاموشی سے آنکھیں موند گئی تھی۔۔۔۔ اُن دونوں بہنوں کے سر پر قیامت آن ٹوٹی تھی۔۔۔۔ نگینہ بائی نے اُن دونوں کی پڑھائی چھڑوا دی تھی۔۔۔
حاعفہ نگینہ بائی کے سامنے اپنی قربانی تو دے گئی تھی، مگر ماورا کے لیے وہ کسی طور راضی نہیں تھی۔۔۔۔ حاعفہ کا پہلا رقص ہی اتنا شاندار گیا تھا کہ نگینہ بائی اور کرامت خان کو اُس کی ضد مانتے ہی بنی تھی۔۔۔ اور ماورا کی تعلیم دوبارہ شروع کروا دی گئی تھی۔۔۔۔ وہ دونوں بہنیں اپنے ماں باپ کے ریلیشن کے بارے میں ہر بات سے آگاہ تھیں۔۔۔۔
کہ اُن کا باپ اتنا بزدل انسان تھا۔ کہ اُنہیں ساتھ کے جانا تو دور کی بات، اُن کے برتھ سرٹیفکیٹ پر اپنا نام بھی لکھوانے سے انکاری تھا۔۔۔۔
وہ دونوں بہنیں نہ تو اپنے باپ کا نام جانتی تھیں۔۔۔ اور نہ اِس بات اے واقف تھیں، کہ وہ شخص اب زندہ بھی تھا یا نہیں۔۔۔۔۔
حاعفہ نے مردوں کے دو طرح کے رُوپ ہی دیکھے اور سنے تھے۔۔۔ ایک اپنے باپ جیسا دھوکے باز، بے وفا اور نفس کا مارا بزدل شخص اور دوسرا کرامت خان جیسا جو پیسوں کی خاطر اپنی عورتوں کی سودا بازی کرتا تھا۔۔۔۔ حاعفہ کو مرد ذات سے شدید نفرت تھی۔۔۔۔ وہ کبھی اِس صنف پر بھروسہ نہ کرنے کی قسم کھا چکی تھی۔۔۔ جبکہ دوسری جانب ماورا صدا کی نرم دل کچھ مردوں کی وجہ سے دنیا کے سارے مردوں کو قصور وار ٹھہرانے کو تیار نہیں تھی۔۔۔۔ مگر وہ بھی اپنی ماں کی طرح اِس معاملے میں بدنصیب ہی نکلی تھی۔۔۔۔ منہاج درانی نے اُس کی ذات پر جو داغ لگایا تھا وہ تو شاید مٹ جاتا۔۔۔ مگر اُس کا دیا دل کا درد کبھی نہیں بھرنے والا تھا۔۔۔۔
@@@@@@@@@
“بہت غلط کیا ہے آژمیر میران تم نے۔۔ بہت غلط۔۔۔ اِس کا بہت بڑا حساب چکانا ہوگا تم نے۔۔۔۔۔۔۔ “
زوہان کال کاٹتا مُٹھیاں بھینچ گیا تھا۔۔۔ اُس سے اپنا غصہ کنٹرول کرنا مشکل ہورہا تھا۔۔۔ اُس کی دو انتہائی قیمتی فیکڑیز میں آگ لگا دی گئی تھی۔۔۔ جس کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ کوئی بچاؤ کرنے سے پہلے ہی سب کچھ جل کر راکھ ہوگیا تھا۔۔۔ زوہان کو کروڑوں کا نقصان ہوا تھا۔۔۔۔ وہ اچھے سے جانتا تھا۔۔۔ آژمیر کے علاوہ کوئی انسان اتنی جرأت نہیں کرسکتا تھا یہ کارنامہ اُسی کا تھا۔۔۔۔ زوہان اگر اُس کے خاندان والوں کو نقصان پہنچاتا تھا تو آژمیر اُس کا بدلہ ایسے ہی لیتا تھا۔۔۔۔۔
“کیا ہوا زوہان؟؟؟؟ “
ثمن بھی پریشان ہوتی زوہان کے قریب آئی تھی۔۔۔
اِس سے پہلے کے کہ ثمن کی اِس بات کا وہ کوئی جواب دیتا۔۔۔
جب دروازہ ناک کرتے اُس کی اجازت سے ملازم گھبرایا بوکھلایا اندر داخل ہوا تھا۔۔۔
“سائیں وہ باہر۔۔۔۔ آژمیر میران۔۔۔ زبردستی اندر آگئے ہیں۔۔۔ ہماری کوئی بات سننے کو تیار ہی نہیں….”
ملازم کی باقی بات منہ میں ہی رہ گئی تھی۔۔۔۔جب پیچھے سے آژمیر نے آکر اُسے ایک طرف دھکیل دیا تھا۔۔۔
زوہان کے اندر پہلے ہی آژمیر میران کے لیے نفرت کی آگ بھڑک رہی تھی۔۔۔ اتنے بڑے کارنامے کے بعد اُس کا یہاں آنا، اُس آگ میں چنگاری بھڑکا گیا تھا۔۔۔۔
اندر داخل ہوتے آژمیر نے انتہائی نخوت اور ناگواری بھری نظروں سے زوہان کے انتہائی قریب بیٹھی ثمن کو دیکھا تھا۔۔۔۔ جنہیں محسوس کرتی ثمن زوہان کا بازو تھامتی اُس کے مزید قریب ہوئی تھی۔۔۔۔
“کیسا لگا میرا رٹرن گفٹ میرے پیارے بھائی۔۔۔۔؟”
آژمیر فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ اُس کے غصے سے لال پڑتے چہرے پر نظریں ٹکائے بولا تھا۔۔۔
زوہان کا یہ غصے سے بھڑکتا انداز آژمیر میران کے جلتے سینے پر ٹھنڈی پھوار کی طرح ثابت ہوا تھا۔۔۔۔ یہی دیکھنے تو وہ اتنی دور سے آیا تھا۔۔۔ تاکہ اپنی آنکھوں سے اِس شخص کی مات دیکھ سکے۔۔۔۔
زوہان آنکھوں میں شعلوں کی سی لپک لیے آژمیر کے مقابل آن کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔
“میرا یہ نقصان تمہیں بہت مہنگا پڑے گا۔۔۔۔ یہ سب کرکے تم نے اپنی بربادی کو آواز دی ہے ملک آژمیر میران۔۔۔۔ “
زوہان کا دل چاہا تھا۔۔۔ ابھی اِسی وقت اپنی بندوق اِس شخص کے سینے پر خالی کردے۔۔۔۔ مگر نہیں وہ میران پیلس کے کسی بھی شخص کو اتنی آسان موت نہیں مار سکتا تھا۔۔۔ وہ اُن سب کو تڑپانا چاہتا تھا۔۔۔۔۔
“برباد کس نے ہونا ہے یہ تو وقت کی بتائے گا۔۔۔ لیکن اگر خود کو میرے ہاتھوں بچانا چاہتے ہو تو میرے گھر والوں سے۔۔۔۔ میری بہن سے دور رہو۔۔۔۔ اِسی میں تمہاری بھلائی ہے۔۔۔۔ ورنہ تمہیں برباد کرنے سے مجھے کوئی روک نہیں پائے گا۔۔۔۔۔”
آژمیر بھی چہرے پر سرد و سپاٹ تاثرات لیے اُسے وارن کرتے بولا۔۔۔۔
جبکہ اُس کی بات پر زوہان قہقہ لگاتے ہنس دیا تھا۔۔۔
“تمہاری بہن میری ہونے والی بیوی ہے۔۔۔ اُس سے بھلا کیسے دور رہوں میں سالے صاحب۔۔۔۔۔”
زوہان بھی اُس کے اندر ویسی ہی آگ بھڑکانہ چاہتا تھا۔۔۔ جیسی اِس وقت اُس کے اپنے اندر لگی تھی۔۔۔۔ اور ہوا بھی ایسے ہی تھا۔۔۔ آژمیر میران بھڑکا ضرور تھا۔۔۔ مگر پھر جلد ہی خود پر قابو پاگیا تھا۔۔۔۔
“بزدلوں کی طرح عورتوں کو مہرا بنا کر وار کرنا چھوڑ دو۔۔۔۔ جس خاندان سے تعلق رکھتے ہو۔۔۔ کم از کم اُس کے نام کا کی خیال کرلو۔۔۔ “
آژمیر نے ایک جتاتی نظر زوہان کے پیچھے کھڑی ثمن پر ڈالی تھی۔۔۔ زوہان اچھے سے سمجھ گیا تھا کہ آژمیر اُن دونوں کے درمیان کس ٹائپ کا ریلیشن سمجھ رہا ہے۔۔۔۔۔۔
“میری بہن انتہائی معصوم اور ایک باکردار لڑکی ہے۔۔۔ جسے تم جیسا شخص تو بالکل بھی ڈیزرو نہیں کرتا۔۔۔۔ اُسے اِسے اِس دشمنی میں استعمال کرنے کا سوچنا بھی مت۔۔۔۔ کیونکہ اُس کے بعد میں جو تمہارا حال کروں گا۔۔۔۔ وہ ابھی سوچ بھی نہیں سکتے تم۔۔۔۔۔”
آژمیر اُسے سخت لہجے میں وارن کرتا وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔۔ جبکہ اُس کے جاتے ہی زوہان نے کمرے کی کوئی شے سلامت نہیں چھوڑی تھی۔۔۔۔ ثمن اُس کے اتنے شدید غصے پر ایک کونے میں کھڑی خاموشی سے اُسے دیکھے گئی تھی۔۔۔۔۔ وہ سمجھ نہیں پائی تھی کہ زوہان کو اتنا جنونی غصہ آژمیر کی آخری بات پر آیا تھا۔۔۔۔ یا پھر اُس کے کیے جانے والے نقصان پر۔۔۔۔
‘آژمیر اب تم دیکھو گے۔۔۔ تمہاری اِس دھمکی کو میں تم پر کیسے لوٹاتا ہوں۔۔۔۔”
پورے کمرے کی ہر شے زمین بوس کرنے کے بعد زوہان دوبارہ سیگریٹ سلگھاتا زہر خند لہجے میں بولا تھا۔۔۔۔
@@@@@@@@@
میران پیلس کی سیکیورٹی مزید بڑھا دی گئی تھی۔۔۔ آژمیر اپنے خاندان والوں کی سیفٹی پر کسی قسم کا رسک نہیں لے سکتا تھا۔۔۔۔۔
“زنیشہ بیٹا آپ یونیورسٹی کیوں نہیں جارہی ہیں؟؟؟ شادی تو فلحال پوسٹ پونڈ ہوگئی ہے نا۔۔۔۔ تو اِس طرح آپ کو چھٹیاں کرکے اپنی پڑھائی کا مزید خرج نہیں کرنا چاہیئے۔۔۔۔”
شمسہ بیگم زنیشہ کے گھنے لمبے بالوں کی چٹیا بناتے نرمی سے گویا ہوئی تھیں۔۔۔۔ اُن کی بات پر زنیشہ پہلو بدل کر رہ گئی تھی۔۔۔۔ وہ اُنہیں کی بتاتی وہ ملک زوہان سے کس قدر خوفزدہ تھی۔۔۔۔ جو شخص میران پیلس میں اُس کے کمرے کے اندر تک رسائی حاصل کر سکتا تھا۔۔۔ وہ باہر پتا نہیں اُس کے ساتھ کیا کرتا۔۔۔
یہی سوچ کر اُس نے خود کو گھر میں ہی قید کررکھا تھا۔۔۔۔
مگر گھر میں سب کے بڑھتے اسرار پر اُس کی مانتی ہی بنی تھی۔۔۔۔
“میں کس کے ساتھ جاؤں کالج۔۔۔۔ میرے ڈرائیور جمشید کو تو آژمیر لالہ۔۔۔۔۔”
زنیشہ نے بات ادھوری چھوڑ دی تھی۔۔۔۔
“اچھا میں بات کرتی ہوں آژمیر سے۔۔۔۔۔ اُس دن آژمیر تمہارے لیے کسی خاص سیکیورٹی کی بات بھی کررہا تھا۔۔۔۔ زوہان سے کسی بھی بات کی اُمید کی جاسکتی ہے اب۔۔۔۔ اِس لیے آژمیر کہہ رہا تھا۔۔۔۔ کہ کسی ٹرینڈ باڈی گارڈ کا انتظام کرتا ہے تمہارے لیے۔۔۔۔ جو یونیورسٹی میں بھی فل ٹائم تمہارے ساتھ ہو۔۔۔۔۔”
شمسہ بیگم نے اُس کا خوف سمجھتے اُسے تفصیل سے بتایا تھا۔۔۔۔
زنیشہ کے لیے یہ چیز کافی آکورڈ تھی۔ مگر وہ پھر بھی اِس کے لیے راضی تھی۔۔۔۔ ملک زوہان کی پہنچ سے دور رہنے کے لیے اُسے جو بھی برداشت کرنا پڑتا وہ کرنے کو تیار تھی۔۔۔۔
@@@@@@@@@
حاعفہ اپنے سامنے لیپ ٹاپ کھولے بیٹھی تھی۔۔۔۔ جس پر اُسے آژمیر میران کے حوالے سے سارا بائیو ڈیٹا سینڈ کیا گیا تھا۔۔۔ وہ کس مزاج کا شخص تھا، اُس کا رہن سہن کیسا تھا۔۔۔۔ غصے کس قدر شدید آتا تھا۔۔۔۔ اُس کی سخت مزاجی۔۔۔۔ اور دھوکے باز اور جھوٹے لوگوں کو کڑی سے کڑی سزا دینے کی عادت۔۔۔۔
اُس حُسن و وجاہت کے شاہکار کو دیکھ حاعفہ کتنے ہی لمحے پلکیں جھپکنا بھول گئی تھی۔۔۔ اُس کی ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت تصویر اُسے سینڈ کی گئی تھی۔۔۔۔۔ اُسے اُس کا کام پوری طرح سمجھا دیا گیا تھا۔۔۔۔ جسے کرنے کے لیے حاعفہ بالکل بھی تیار نہیں تھی۔۔۔۔ اُس کا دل آژمیر میران کی ایک جھلک سے ہی خوفزدہ ہو گیا تھا۔۔۔۔
اُس نے مردوں کے جو رُوپ دیکھے تھے۔۔۔ یہ اُن سب سے بالکل الگ رُوپ تھا۔۔۔۔
وہ یک ٹک کتنے ہی لمحے سامنے لیپ ٹاپ پر جگمگاتی اُس کی تصویر دیکھے گئی تھی۔۔۔۔ وہ ساحر تھا جو ایک نظر میں ہی اُسے اپنے سحر میں جکڑ گیا تھا۔۔۔۔۔
اچانک خیال آتے حاعفہ اپنا سر جھٹکتی لیپ ٹاپ بند کرتی پیچھے ہوئی تھی۔۔۔۔
“نہیں مرد ذات دھوکے کے سوا کچھ نہیں ہے۔۔۔ پہلی ملاقات میں کوئی اپنی اصلیت نہیں دیکھاتا۔۔۔۔ یہ شخص بھی باقی مردوں کی طرح جھوٹ اور فریب سے زیادہ کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔۔ مجھے یہاں جس کام کے لیے بھیجا گیا ہے میں اُسی کام پر توجہ دوں تو زیادہ بہتر ہے۔۔۔۔۔”
حاعفہ اپنے دل کی نادانیوں پر اُسے ڈپٹتے بولی تھی۔۔۔ اُسے خود بھی سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔۔ کہ آخر اُسے ہوکیا رہا تھا۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
