Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

“ماشاء اللہ تم کتنی پیاری لگ رہی ہو۔۔۔ اللہ نظر بد سے بچائے۔۔۔۔”
فریحہ زنیشہ کے کمرے میں داخل ہوتیں اُس کا سہانا رُوپ دیکھ بلائیں لیتے بولی۔۔۔
“آپ سے کم۔۔۔۔”
زنیشہ ہولے سے مسکرا دی تھی۔۔۔۔ کیونکہ فریحہ فل میک اور ییلو کلر کے لہنگے میں ماتھے پر بندیا لگائے بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔۔۔ اُن کے بہت قریبی رشتہ داروں میں شادی کی تقریب تھی۔۔ جس میں گھر کے تقریباً سبھی لوگ ہی جارہے تھے۔ فائزہ زنیشہ کی سیکنڈ کزن ہونے کے ساتھ ساتھ فرینڈ بھی تھی۔۔۔ اُسی کے بار بار فورس کرنے پر زنیشہ جانے کے لیے تیار ہوئی تھی۔۔۔
وہ ہمیشہ سادہ سے حلیے میں ہی رہی تھی۔۔۔۔ اِس لیے جب زرا سا بھی تیار ہوتی تو اُس کا حسین سراپا مزید نکھر جاتا تھا۔۔۔۔ اِس وقت بھی وہ پنک اور اورنج فل ایمبرائیڈڈ پیروں تک آتے فراک میں بے پناہ حسین لگ رہی تھی۔۔۔ گرین کلر کا بھاری کامدار نیٹ کا دوپٹہ ایک سائیڈ پر کندھے پر پھیلا رکھا تھا۔۔۔
سیاہ زلفیں اُس کی نازک کمر کو ڈھانپے ہوئے تھیں۔۔۔ جنہیں سلجھا کر اب وہ باندھنے لگی تھی۔۔۔۔ میک کے نام فیس کریم اور ہلکا سا لپ گلاز لگایا تھا۔۔۔ اُس کے مطابق جتنا فینسی ڈریس اُس نے پہنا تھا، مزید اُس کا کچھ نہ لگانا ہی بہتر تھا۔۔۔ اُسے اپنا آپ دلہن جیسا فیل ہورہا تھا۔۔۔۔
“چلیں میں تیار ہوں۔۔۔”
زنیشہ بالوں کو کس کر بل دے کر جوڑے کی شکل میں لپیٹتی فریحہ سے مخاطب ہوئی تھی۔
“یہ تم تیار ہو؟”
فریحہ نے خفگی سے اُسے گھورا تھا۔۔۔
“کیوں کیا ہوا؟؟”
زنیشہ اُس کے گھورنے پر حیرت سے بولی۔۔۔
“تمہاری بیسٹ فرینڈ کی شادی ہے۔۔۔۔ ایسے جاؤ گی بھلا۔۔۔”
“آپ جانتی ہیں نا کہ وہ شہر میں رہنے والے لوگ کتنے ماڈرن ہیں۔۔۔ اُن کا اگر مردوں اور عورتوں کا انتظام اکٹھا ہوا تو۔۔۔۔ آج تو لالہ بھی نہیں ہیں۔۔۔۔ کہ کہ ہمارے لیے میلز کو ہٹوا دیں۔۔۔ اِس لیے سمپل جانا زیادہ بہتر ہے۔۔۔۔”
زنیشہ کو پہلے گزرا ایک شادی کا فنکشن بہت اچھے سے یاد تھا۔۔۔ جس میں میلز اور فی میلز کا ایک ساتھ انتظام کیا گیا تھا۔۔۔ آژمیر اپنی فیملی کی خواتین کا ان کمفرٹیبل فیل ہونا محسوس کرگیا تھا۔۔۔ اور اُسے خود بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔۔ اپنے گھر کی عورتوں کو یوں غیر مردوں کے درمیان دیکھنا۔۔۔۔
اُس نے اُن لوگوں سے بات کرکے۔۔۔ دس منٹ کے اندر اندر وہاں کا نقشہ ہی بدلوا دیا تھا۔۔۔ ہال کے اندر ہی پارٹیشن کرکے اُسے دو پارٹس میں ڈیوائڈ کردیا گیا تھا۔۔۔ آژمیر ہمیشہ اُن کے سر پر مہربان سایہ بن کر رہا تھا۔۔۔ اِس لیے اُس کی زرا سی بھی کم بہت محسوس ہوتی تھی۔۔۔۔
“ڈونٹ وری باقی سب تو ساتھ ہی ہے نا۔۔۔ سب ٹھیک کردیں گے۔۔۔۔ مگر تمہارا یہ بنا میک اپ کے پھیکا چہرا سب کو ضرور کھٹکے گا۔۔۔۔ زوہان کا تمہارے لیے رشتہ آنے کی وجہ سے آج کل ویسے بھی تم چرچا م ہو۔۔۔۔ سب کی نظریں تم پر ہی ہونگی تو اِس لیے مخالفین کو جلانے کے لیے تھوڑی سے محنت تو تم کرہی سکتی ہو۔۔۔۔”
فریحہ اُس کی ایک نہ سنتی، نجانے کیسے کیسے لاجکس دیتی۔۔۔ ہلکا ہلکا ہی سہی مگر میک کے تمام لوازمات اُس کے چہرے پر استعمال کرتی اُسے مزید نکھار گئی تھی۔۔۔۔ مرر پر نظر پڑتے پل بھر کے لیے زنیشہ کی مسکارے سے سجیں گھنیری پلکیں بھی ساکت ہوئی تھیں۔۔ وہ زرا سے نقش نکھارنے کی وجہ سے بے پناہ حسین لگ رہی تھی۔۔۔۔
“آپی لپسٹک تو زرا لائٹ کردیں۔۔۔۔”
زنیشہ کے ترشیدہ لبوں پر سجی مہرون لپسٹک پر سے نگاہیں ہٹانا مشکل ہورہا تھا۔۔۔
“تھوڑی دیر میں خود ہی لائٹ ہوجائے گی۔۔۔۔ ابھی کچھ مت کرنا اِس کے ساتھ۔۔”
فریحہ یہ کہتی زنیشہ کے بالوں کی جانب مڑی تھی۔۔۔ اور یہاں ہر بھی اُس کی ایک نہ سنتے، لمبے بالوں کو ہلکا ہلکا کرل دیتے ماتھے سے اُس خوبصورت سا ڈیزائن بناتی وہ زنیشہ کے چہرے کا نقشہ ہی بدل گئی تھی۔۔۔
“ماشاء اللہ اب لگ رہی ہو۔۔۔ وہ زنیشہ میران جس ک ملک زوہان جیسا اکڑو بندہ دیوانہ ہے۔۔۔۔”
فریحہ مسکراتی نظروں سے اُسے دیکھتے شوخی سے بولی۔۔۔۔
“آپی۔۔۔۔ ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔”
زنیشہ اُسے گھورتی چلائی تھی۔۔۔ اُس کا چہرا زوہان کی کچھ حرکتیں اور باتیں یاد کرتا شرم سے لال ہوا تھا۔۔۔۔
“اوکے۔۔۔ اوکے مان لیتی ہوں۔۔۔۔ مگر یہ بات میں نہیں کہتی فیملی گوسپس میں یہی کہا جاتا ہے۔۔۔ کہ ملک زوہان اگر صرف آژمیر کو نیچا دکھانے کے لیے زنیشہ سے شادی کرنا چاہتا ہوتا تو اب تک کرچکا ہوتا۔۔۔ مگر وہ آژمیر لالہ سے پوری رضامندی لے کر تمہیں اپنانا چاہتا ہے۔۔۔ یہ بات اُسی جانب اشارہ کرتی ہے۔۔۔۔”
فریحہ کی بات پر زنیشہ کے ہاتھ لمحہ بھر کو ساکت ہوئے تھے۔۔۔۔ مگر پھر وہ سر جھٹک گئی تھی۔۔۔
“آپی آپ نہیں جانتیں۔۔۔۔۔ ملک زوہان کی سوچ کہاں تک جاتی ہے۔۔۔۔ چھوڑیں اُس شخص کو میں اُس کی بات کرکے اپنا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتی۔۔۔۔”
زنیشہ کا غصہ ابھی زوہان پر سے ختم نہیں ہوا تھا۔۔۔۔ فریحہ اُس کے دوٹوک انداز پر خاموش ہوتی اُسے ساتھ لیے وہاں سے نکل گئی تھی۔۔۔۔۔
@@@@@@@@
آژمیر، حاعفہ اپنے منیجر اور باقی ٹیم کے ساتھ سیدھا اُسی ہوٹل میں آیا تھا جہاں اُن کی میٹنگ ارینج کی گئی تھی۔۔۔ روم وہ پہلے ہی بک کروا چکا تھا اِس لیے انہیں زیادہ دشواری پیش نہیں آئی تھی۔۔۔
حاعفہ کا کمرہ آژمیر کے کمرے کے ساتھ والا ہی تھا۔۔۔۔ جس کی وجہ سے وہ تھوڑی ریلیکس بھی تھی۔۔۔ ورنہ ہوٹل کا ماحول دیکھ کر تو اُس کی کیفیت عجیب سی ہوئی تھی۔۔۔ وہاں فی میلز مردوں کی نسبت کم ہی تھیں۔۔۔ اور جو تھیں اُن کے لباس دیکھ کر حاعفہ نے اپنی سیاہ شال کو اپنے گرد مزید لپیٹ لیا تھا۔۔۔
مردوں جیسے لباس پہنے عورتیں بلا وجہ اُن کے ساتھ چپکتیں، حاعفہ کا دل خراب کر گئی تھیں۔۔۔ اُسے اُن عورتوں پر افسوس ہوا تھا۔۔۔ جو اُس کے جیسی مجبور نہیں تھیں۔۔۔ اُن کی زندگی کی چوائس اُن کے پاس تھی۔۔۔ پھر بھی وہ اپنے ہاتھوں اپنی نسوانیت ضائع کررہی تھیں۔۔۔ کاش وہ اِس کی قیمت سمجھ پاتیں۔۔۔۔ کہ کیسے حاعفہ جیسی لڑکیاں اِسی عزت کے لیے تڑپتی تھیں۔۔۔ جسےماڈرنزم کے نام پر لڑکیاں اپنے ہاتھوں سے پامال کر دیتی تھیں۔۔۔۔
حاعفہ جیسی لڑکی وہاں کوئی نہیں تھی۔۔۔ اول تو دوپٹہ کسی کے پاس نام کو بھی نہیں تھا۔۔۔۔ جن کے پاس اگر غلطی سے تھا بھی تو اُس کو گلے میں یا بازو پر فیشن کی طرح لٹکایا گیا تھا۔۔۔۔
کچھ لوگ حاعفہ کے حلیے کی وجہ سے اُس کو عجیب عجیب نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔۔۔ حاعفہ کو حیرت ہوئی تھی آژمیر پر۔۔۔۔ اُسے حاعفہ کے اِس حلیے پر غصہ کیوں نہیں آرہا تھا۔۔۔۔ کیا وہ نہیں چاہتا تھا کہ اُس کی سیکرٹری بھی ماڈرن بن کر اُس کے ساتھ چلے؟
حاعفہ یہی سوچتی۔۔۔ آژمیر کا باقی لوگوں سے موازنہ کرتی اپنے دھیان میں ہی آژمیر کے پیچھے چل رہی تھی۔۔۔ اچانک آژمیر رک کر پیچھے پلٹ تھا۔۔۔ جب اُس کے عین پیچھے چلتی حاعفہ اپنے ہی خیالوں میں الجھی سیدھی آژمیر کے چوڑے سینے سے جاٹکرائی تھی۔۔۔
اِس اچانک رونما ہوئی افتاد پر حاعفہ بوکھلا کر فوراً پیچھے ہٹی تھی۔۔۔ اُس کی پیشانی آژمیر کے کندھے سے بہت زور سے ٹکرائی تھی۔۔۔ اور اُس جگہ سے لال ہوتی درد کرنے لگی تھی۔۔۔۔
“آریو اوکے۔۔۔۔”
آژمیر نے سنجیدگی سے پوچھا تھا۔۔۔ اُس کی لال گلابی ہوتی پیشانی ایک نظر دیکھ وہ نگاہیں پھیر گیا تھا۔۔۔
“یس سر۔۔۔۔”
حاعفہ اپنی لاپرواہی پر خود کو کوستی ہولے سے جواب دے گئی تھی۔۔۔
جہاز میں بیٹھے جو حرکتیں وہ کرچکی تھی۔۔۔ ابھی اُنہیں کی شرمندگی ختم نہیں ہوئی تھی کہ اب یہ نئے بلنڈر سرزد ہونے لگے تھے اُس سے۔۔۔۔
وہ نوٹ کررہی تھی۔۔۔ کہ جہاز والے مومنٹ کے بعد سے آژمیر کافی سنجیدہ سا تھا۔۔۔ اور اُسے مسلسل اگنور کر رہا تھا۔۔۔۔ جو حاعفہ کے لیے شرمندگی کے ساتھ ساتھ خوف کا بھی باعث تھا۔۔۔۔
“آئم سوری سر۔۔۔۔”
حاعفہ نجانے کس احساس کے زیرِ اثر آژمیر کے مقابل آن کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔
“سوری فار واٹ۔۔۔۔”
آژمیر نے بھنویں اُٹھاتے سوالیہ نظروں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
“میں جانتی ہوں۔۔۔ میری وجہ سے آپ کو یہاں شرمندگی محسوس ہورہی ہوگی۔۔۔ سر آپ اگر کہیں تو میں اپنا حلیہ چینج۔۔۔۔۔”
حاعفہ کی بات ابھی منہ میں ہی رہ گئی تھی۔۔۔۔ جب آژمیر اُسے لال آنکھوں سے گھورتا قریب ہوا تھا۔۔۔
“واٹ ربش۔۔۔۔۔ مس حاعفہ آپ کا دماغ خراب ہوگیا ہے۔۔۔۔ آپ کا یہ شال اوڑھنا، خود کو ڈھانپ کر رکھنا میرے لیے شرمندگی کا باعث ہوگا۔۔۔۔ کیا آپ ہیں ہی اتنی بے وقوف یا میرے سامنے بن جاتی ہیں۔۔۔”
آژمیر اُس پر سہی کرکے تپا تھا۔۔۔۔ ابھی وہ مزید بھی کچھ کہتا جب منیجر اُسے میٹنگ شروع ہونے کا انفارم کرنے لگا تھا۔۔۔
آژمیر خوف سے زرد پڑتی حاعفہ پر سخت نظر ڈالتا وہاں سے پلٹ گیا ہے۔۔۔۔
“سرد مہری کی بھی حد ہوتی ہے۔۔۔۔ انسان اِس بات کا جواب نارمل انداز میں بھی دے سکتا ہے۔۔۔ مگر نہیں سنائے بغیر گزارا کیسے ہوسکتا اِس مغرور اور اکڑو باس کا۔۔۔۔ مجھے تو لگتا یہ اپنی فیملی کے ساتھ بھی ایسے ہی ہوتے ہونگے۔۔۔ ہر وقت آرڈر دینے کے موڈ میں۔۔۔ اور زرا سی غلطی پر حھڑکنے کے موڈ میں۔۔۔۔۔ بچاری اِن کی بیوی کیا۔۔۔۔۔”
حاعفہ کی زبان کو اچانک بریک لگی تھی۔۔۔ آخری جملہ ادا کرتے اُس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے۔۔۔۔
آژمیر کے جانے کے بعد وہ وہیں سائیڈ پر پڑی کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔ وہ بھول چکی تھی کہ اُسے بھی اندر میٹنگ میں جانا ہے۔۔۔۔
“آژمیر میران کی وائف۔۔۔۔ خوش نصیب ترین لڑکی ہوگی۔۔۔۔۔”
آنکھوں میں نمکین پانی بھرے وہ ہونٹوں پر مبہم مسکراہٹ لیے گویا ہوئی تھی۔۔۔۔ اِس بات سے انجان کہ وہ کسی کی نگاہوں کی حصار میں ہے۔۔۔۔
“اوہ شٹ مجھے بھی تو میٹنگ میں جانا تھا۔۔۔۔۔”
حاعفہ کو اچانک خیال آیا تھا۔۔۔ پہلے وہ اپنی روئی صورت درست کرنے واش روم کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔
اِس بات سے انجان کے اُس پر نظر رکھا شخص بھی لیڈیز واش روم میں اُس کے پیچھے داخل ہوچکا تھا۔۔۔
حاعفہ اپنا چہرا صاف کرتے جیسے ہی پلٹی دروازے کے قریب کھڑے شخص کو دیکھ اُس کے ہاتھ سے موبائل چھوٹ کر زمین بوس ہوا تھا۔۔۔۔
@@@@@@@@
ماورا بیلا اور باقی سٹوڈنٹس کے ساتھ کیمپنگ کے لیے نکل چکی تھی۔۔۔ اُن کے ساتھ دو پروفیسرز بھی تھے۔۔۔ وہ سب ایک ہی بس میں جارہے تھے۔۔۔۔
سب گروپ لیڈرز اپنے اپنے گروپ کے ساتھ تھے۔۔۔ جبکہ اُن کا لیڈر ہی سرے سے غائب تھا۔۔۔
سر نے اور اُس کے اپنے دوستوں نے اُس کو بہت کالز کی تھیں مگر اُس کا فون مسلسل آف جارہا تھا۔۔۔ کافی دیر انتظار کے بعد وہ لوگ نکل آئے تھے۔۔۔ لیکن پورا راستہ منہاج کو ہی ڈسکس کیا گیا تھا۔۔۔
ماورا اُس انسان کا اب نام بھی نہیں سننا چاہتی تھی۔۔۔ بیلا کے ایک دو بار کہنے پر اُس نے بیلا کو بُری طرح جھڑک دیا تھا۔۔۔۔
جس کے بعد اب بیلا بھی خاموش ہی تھی۔۔۔۔
سوات میں داخل ہوتے وہاں کی خوبصورتی نے ماورا کی بوجھل طبیعت کو تازگی سی بخش دی تھی۔۔۔۔
وہ لوگ سوات کے ایک بہت ہی خوبصورت مگر پسماندہ گاؤں میں داخل ہوئے تھے۔۔۔ جہاں ہوٹل کا کسی قسم کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے اُنہیں اپنے ساتھ لائے گئے کیمپس میں ہی رہنا تھا۔۔۔۔
وہاں بہت زیادہ ٹھنڈ تھی۔۔۔۔ہر طرف دھند ہی دھند چھائی محسوس ہورہی تھی۔۔۔
کیمپس لگانے کے لیے انہوں نے جو جگہ سلیکٹ کی تھی وہ خوبصورت بلند و بالا پہاڑوں کے درمیان سرسبزے سے گھری ہموار سطح تھی۔۔ جس کے ایک طرف نیلے پانی کی جھیل واقع تھی۔۔۔۔ ماورا یہاں آکر بہت زیادہ خوش تھی۔۔۔ وہ پہلی دفعہ یوں باہر نکلی تھی۔۔۔ اِس لیے اُس کی ایکسائٹمنٹ سب سے زیادہ تھی۔۔۔۔
“بیلا مجھے وہ جھیل دیکھنی ہے۔۔۔۔ آؤ اُس طرف چلتے ہیں۔۔۔۔”
ماورا نے بیلا کا ہاتھ پکڑے اپنے ساتھ کھینچا تھا۔۔۔۔ جو سگنل کی تلاش میں موبائل ہاتھ میں پکڑے اِدھر اُدھر پھر رہی تھی۔۔۔۔
“ماورا پاگل ہوگئی ہو۔۔۔ اُس سائیڈ پر نہیں جانا۔۔۔ سر نے سختی سے منع کیا ہے۔۔۔۔ اگر زرا سا بھی پیر سلپ ہوا تو یہ نیلا خوبصورت پانی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تمہیں اپنے ساتھ بہا کر لے جائے گا۔۔۔۔ یہیں پر کھڑی ہوکر انجوائے کرو۔۔۔”
بیلا اُسے منع کرتی کسی کی پکار پر دوسری جانب بھاگ گئی تھی۔۔۔
“یہ تو ہے ہی ڈرپوک۔۔۔۔ کچھ نہیں ہوتا۔۔۔ میں سنبھل کر جاؤں گی نہیں ہوتی سلپ۔۔۔۔۔”
ماورا دور جاتی بیلا کو گھور کر دیکھتی جھیل کے اونچے نیچے راستے کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔ ڈھلوانی سطح پر پتھر رکھ کر چلنے کے لیے تھوڑی سی روکاوٹیں بنائی گئی تھیں۔۔۔۔
ماورا کی نظریں جھیل کے پانی سے ہوتیں۔۔۔ کناروں پر پڑے رنگ برنگے پتھروں پر ٹک گئی تھیں۔۔۔ اُس کے لیے یہ سب بہت نیا اور انتہائی دلفریب تھا۔۔۔۔ دور سے چمکتے پتھروں کو جگمگاتی آنکھوں سے دیکھتے اُس کی نظر راستے سے ہٹی تھی۔۔۔ جس کے نتیجے میں وہ سامنے پڑے پتھر کی ٹھوکر کی وجہ سے اپنا توازن برقرار نہیں رکھ پائی تھی۔۔۔۔
ماورا کے منہ سے خوف اور حواس باختگی کے عالم میں چیخ برآمد ہوئی تھی۔۔۔
وہ اُس اونچائی سے سیدھی جھیل میں جاگرتی جب کسی مہربان گرفت نے اُس کی یخ بستہ کلائی اپنی گرفت میں لیتے اُسے اپنی جانب کھینچ لیا تھا۔۔۔ ماورا کسی ٹوٹی شاخ کی طرح اپنے اُس مسیحا کے سینے سے جالگی تھی۔۔۔۔ ماورا کا پورا وجود ہولے ہولے لرز رہا تھا۔۔۔ موت کو اتنے قریب سے دیکھنے کے خوف سے اُس کا پورا چہرا آنسوؤں سے بھیگ چکا تھا۔۔۔
جب منہاج درانی نے اپنی مضبوط بانہیں پھیلاتے اُس کے کپکپاتے نازک سراپے کو پوری طرح اپنی آغوش میں سمیٹ لیا تھا۔۔۔
@@@@@@@@
میران پیلس کے تمام لوگ مہندی کے بڑے سے پنڈال میں داخل ہوئے تھے۔۔۔ زنیشہ کی توقع کے عین مطابق میل اور فی میلز کا کمبائن فنکشن رکھا گیا تھا۔۔۔ جو دیکھ کر ہی زنیشہ کو کوفت محسوس ہوئی تھی۔۔۔ گاڑی میں آنے کے باوجود وہ گھر سے شال کرکے آئی تھی۔۔۔۔ اور اب یہاں اُس کے شال کو خود سے جدا کرنے کا کوئی موڈ نہیں تھا۔۔۔۔
باقی سب اپنے دوپٹوں کو ہی ہلکا سا سر پر لیتی کمفرٹیبل ہوچکی تھیں۔۔۔
“زنیشہ میلز ایک طرف ہی ہیں تم اُتار دو شال۔۔۔۔”
فجر نے زنیشہ کو اُسی طرح شال لپیٹے دیکھ ٹوکا تھا۔۔۔
“مگر ہیں تو سامنے نا۔۔ میں نہیں اُتاروں گی۔۔۔۔”
زنیشہ سب کزنز کی گھوریوں کے باوجود ضدی لہجے میں بولی تھی۔۔۔
شمسہ بیگم اپنی کی احتیاط پر دھیمے سے مسکرا دی تھیں۔۔۔ زنیشہ خود بھی اپنے پردے کا بہت خیال رکھتی تھی۔۔۔۔ مگر اِس وقت یہاں اُس کی متلاشی نظریں کسی اور کو ڈھونڈ رہی تھیں۔۔۔۔ فائزہ کی جس سے شادی ہورہی تھی وہ زوہان کا بہت اچھا دوست تھا۔۔۔ یہاں زوہان کا پایا جانا سو فیصد متوقع تھا۔۔۔ اور اگر وہ زنیشہ کو اتنے مردوں کے بیچ بنا دوپٹے کے دیکھ لیتا تو زنیشہ کی خیر نہیں تھی۔۔۔ آژمیر اور زوہان میں سب سے بڑی بات جو کامن تھی وہ تھی زنیشہ کے حوالے سے پوزیسونیس۔۔۔۔
“آپی آپ کو فائزہ آپی اُدھر برائیڈل روم میں بلا رہی ہیں۔۔۔۔”
فائزہ کی چھوٹی بہن اُسے بلانے آئی تھی۔۔۔۔
جس پر ناچاہتے ہوئے بھی زنیشہ اُس کے ساتھ چل پڑی تھی۔۔۔ وہ آج کے دن فائزہ کی کسی بات کا انکار نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔
“ایک منٹ آپی۔۔۔۔ زوہان بھائی آگئے میں زرا اُن سے مل لوں۔۔۔۔”
کرن زنیشہ کو آدھے راستے میں ہی چھوڑتی زوہان کو ہال میں دلہا بنے کاشف کے ساتھ انٹر ہوتا دیکھ اُس جانب بھاگ گئی تھی۔۔۔۔۔
زنیشہ نے بھی دل کے ہاتھوں مجبور ہوتے پلٹ کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ جہاں وہ سیاہ قمیض شلوار پر سیاہ کوٹ پہنے، بالوں کو اپنے مخصوص سٹائل میں جیل لگا کر سیٹ کیے، ہونٹوں پر دل پر قابض ہونے والی دلفریب مسکراہٹ سجائے وہ دور کھڑا زنیشہ کا دل بُری طرح دھڑکا گیا تھا۔۔۔۔
وہ کرن کے ساتھ اُس کی جانب ہی بڑھ رہا تھا۔۔۔۔
زنیشہ اتنی تیاری کے ساتھ زوہان کے سامنے جانے کا سوچ کر پزل ہوئی تھی۔۔۔ اُس نے اُس لمحے کو کوسا تھا جب اُس نے فریحہ کو اپنے فیس پر یہ سب تھوپنے دیا تھا۔۔۔ زوہان کی نظر ابھی تک اُس پر نہیں پڑی تھی۔۔۔زنیشہ نے جلدی سے اپنے ماتھے پر لٹکتی بندیاں کو شال کے نیچے چھپایا تھا۔۔۔۔ اُس کا دل کررہا تھا اپنے فیس پر نقاب چڑھا لے یا یہاں سے غائب ہوجائے۔۔۔
“زنیشہ آپی آئم سوری۔۔۔۔”
کرن کو اچانک زنیشہ کا خیال آیا تو وہ شرمندہ ہوئی تھی۔۔۔
اِس نام کی پکار پر کاشف سے بات کرتے زوہان نے پلٹ کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ جب زنیشہ پر نظر پڑتے ہی اُس کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے تھے۔۔۔ وہ یک ٹک اُس کا حسین رُوپ دیکھے گیا تھا۔۔۔
زوہان کا یہ ردعمل زنیشہ نے خواب میں بھی تصور نہیں کیا تھا۔۔۔ اُس کی گہری نظروں کی تپیش پر زنیشہ کے پسینے چھوٹ چکے تھے۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔