Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 42

“مجھے سب پتا چل چکا ہے۔۔۔ آپ نے لالہ کے پاس ایک پلان کے تحت اُس لڑکی کا بھیجا۔۔۔ جس نے آپ کے کہنے پر نہ صرف میرے لالہ کی فیلنگز کے ساتھ کھیلا ہے بلکہ اُنہیں مارنے کی کوشش بھی کی ہے۔۔۔۔۔ میں اب سب کے لیے آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی۔۔۔۔۔ آخر کیا بگاڑا ہے میرے لالہ نے آپ کا۔۔۔۔ کیوں اُن کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہوئے ہیں۔۔۔۔ جو انسان اپنے سگے بھائی کی زندگی برباد کرنے کے لیے اِس حد تک گر سکتا ہے مجھے بہت افسوس اور شرمندگی محسوس ہورہی ہے کہ میں اُس شخص کی بیوی ہوں۔۔۔۔ جسے اپنی بلاوجہ کی نفرت اور انتقام کے علاوہ کچھ نہیں آتا۔۔۔۔ جو انتہائی خودغرض اور مفاد پرست ہے۔۔۔۔۔
لالہ کا خیال بالکل ٹھیک تھا آپ کے بارے میں۔۔۔ آپ کو مجھ سے محبت نہیں ہے۔۔۔۔ آپ نے مجھ سے نکاح صرف اپنا انتقام پورا کرنے کے لیے کیا ہے۔۔۔۔ آپ جو یہ سب کررہے ہیں ایک دن اِس کے لیے بہت پچھتانا پڑے گا آپ کو۔۔۔۔”
زنیشہ زوہان کے مقابل کھڑی نان سٹاپ بولے جارہی تھی۔۔۔۔ جب اُس کی دل کو چیرتی باتیں سن کر زوہان کی ہمت ختم ہوئی تھی۔۔۔۔
“بس۔۔۔ “
زوہان کی دھاڑ پر زنیشہ کی زبان کو بریک لگی تھی۔۔۔۔۔
زوہان کی وحشت ناک آنکھیں اور ضبط سے لال پڑتا چہرا دیکھ زنیشہ لمحہ بھر کو خوفزدہ ہوئی تھی۔۔۔
“تو بس اتنی سی محبت تھی زنیشہ میران کو مجھ سے۔۔۔۔۔ کہ میرے خلاف ایک بات سن کر میری محبت کی دھجیاں اُڑا دیں۔۔۔۔۔ “
زوہان کی سرد نگاہیں زنیشہ کے چہرے پر ٹکی ہوئی تھیں۔۔۔۔ اُس کے قریب آکر کھڑے ہونے پر زنیشہ نے اُلٹے قدموں پیچھے ہٹنا چاہا تھا۔۔۔۔ جب اُس کا ارادہ بھانپتے زوہان اُس کی کمر میں بازو حمائل کرتا اپنے بے حد قریب کھینچ چکا تھا۔۔۔۔
“نفرت کرتا ہوں میں اپنے بھائی سے۔۔۔۔ اور میران پیلس کے ہر فرد سے۔۔۔ جانتی ہو کیوں؟؟ کیونکہ اُن سب نے مجھ سے میری ماں چھینی ہے۔۔۔۔ میری ماں کے قاتل کا محافظ بن کر بیٹھا ہے وہ آژمیر میران۔۔۔۔ زندہ جلایا گیا تھا میری ماں کو۔۔۔۔ اُن کی چیخوں کی آوازیں آج بھی میری سماعتوں سے ٹکراتی ہیں۔۔۔ آج تک سکون سے نہیں سوپایا میں۔۔۔۔ میرے دل میں سالوں سے آگ بھڑک رہی ہے۔۔۔ جس کو وہ آژمیر میران بجھنے نہیں دے رہا۔۔۔۔”
زوہان جب بولنے پر آیا تو نان سٹاپ بولتا اب تک کی زندگی میں پہلی بار اپنے دل کی بھڑاس نکال گیا تھا۔۔۔ وہ بھی صرف اُس لڑکی کے سامنے جو اُس کے دل کی ملکہ تھی۔۔۔ مگر ہر بار اُس کے دل کا خون کرنے میں سرِ فہرست رہتی تھی۔۔۔
زوہان خون رنگ آنکھوں سے بولتا زنیشہ کو ساکت کرگیا تھا۔۔۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے صدمے کی کیفیت میں زوہان کی جانب دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔
“میرا باپ ملک فیاض قاتل ہے میری ماں کا۔۔۔۔۔ بہت بے دردی سے قتل کیا ہے اُس نے میری ماں کا۔۔۔۔ اور میران خاندان کا ہر فرد اِس معاملے میں بے حس بن کر میری ماں کے مجرم ہیں۔۔۔۔ اور آژمیر میران تمہیں اپنا بھائی دنیا کا سب سے سچا اور کھڑا انسان لگتا ہے نا۔۔۔۔ جو کبھی کسی کے ساتھ غلط نہیں کرتا، نہ کسی کے ساتھ ناانصافی ہونے دیتا ہے؟؟؟؟ تمہارا وہی فرشتہ صفت بھائی ابھی تک اپنے باپ کو بچائے ہوئے ہے۔۔۔۔ اُس انسان کے اتنے ظلم کے باوجود آژمیر اُس انسان کا علاج کروا کر واپس اُسے میرے سامنے لاکر کھڑا کرنا چاہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ جانے کہاں چھپا کر رکھا ہے اُس نے اپنے باپ کو۔۔۔۔ لیکن میں بھی اُسے ایک دن ڈھونڈ کر اور ختم کرکے رہوں گا۔۔۔۔ پھر تمہارا وہ آژمیر میران کچھ نہیں کرپائے گا۔۔۔۔”
زوہان کی آنکھوں سے نفرت اور انتقام کے شرارے پھوٹ رہے تھے۔۔۔
زنیشہ ساکت و جامد کھڑی اُسے سن رہی تھی۔۔۔
“تم نہیں سمجھ پاؤ گئ۔۔۔۔ کوئی نہیں سمجھ پائے گا۔۔۔۔ تنہا زندگی گزارنا کتنا مشکل، کس قدر تکلیف دہ ہے۔۔۔۔ جب پوری دنیا آپ کے خلاف ہو۔۔۔۔
تم جانتی ہو ملک زوہان میران کو زندگی میں پہلی اور آخری بار ایک غلط فہمی ہوئی تھی۔۔۔ جو اب بہت واضح طور پر ختم کردی گئی ہے۔۔۔ جانتی ہو وہ غلط فہمی کیا ہے۔۔۔۔؟؟؟”
زنیشہ کی کمر میں بازو حمائل کرکے اُس کا چہرا اپنے بے حد قریب لاتے زوہان اپنا ہی مذاق اُڑاتے بولا تھا۔۔۔۔
“وہ غلط فہمی تھی کہ زنیشہ میران مجھ سے محبت کرتی ہے۔۔۔ اور کوئی سمجھے نہ سمجھے زنیشہ زوہان کو ضرور سمجھے گی۔۔۔۔ مگر تم نے تو اتنا گھٹیا الزام مجھ پر لگا۔۔۔۔ مجھ پر واضح کردیا ہے کہ تم مجھ سے محبت تو دور مجھے اچھے انسانوں کی کیٹیگری میں بھی شامل نہیں کرتی۔۔۔۔ بہت شکریہ مجھے یہ بتانے کے لیے کہ میں بالکل تنہا ہوں اِس دنیا میں۔۔۔۔ میں تمہیں کبھی اس موڑ پر لانا بھی نہیں چاہتا کہ تمہیں اپنے شوہر اور بھائی میں سے کسی ایک کو سلیکٹ کرنا پڑے۔۔۔۔ یہ میری تمہارے لیے محبت ہے۔۔۔۔ اور اِس بات کا بھی پورا یقین ہے کہ اگر خدانخواستہ کبھی ایسی سچویشن آئی تو تم مجھے سب سے پہلے چھوڑو گی۔۔۔۔
اِس لیے اب دل نے تمہارے حوالہ سے یہ آخری اُمید بھی چھوڑ دی ہے۔۔۔۔”
زنیشہ کا چہرا ہاتھوں کے پیالے میں بھرے وہ اُس کے بہتے آنسو صاف کرتے بولا تھا۔۔۔۔۔
“مگر ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا۔۔۔ زنیشہ میران زوہان میران کا قتل بھی کردے تب بھی زوہان کی محبت کی پہلی حقدار ہوگی۔۔۔۔۔ یہ دل تم سے محبت کرنا کبِھی بند نہیں کرسکتا۔۔۔۔ ہاں مگر تھوڑی دوری برقرار ضرور رکھ سکتا ہے۔۔۔۔۔”
زوہان زنیشہ کے چہرے کو ہولے سے چھوتا اُس کے ماتھے پر لب رکھ گیا تھا۔۔۔ کچھ لمحے اُس کا نرم گرم لمس محسوس کرنے کے بعد اُس نے زنیشہ کو اپنی گرفت سے آزاد کردیا تھا۔۔۔۔۔ اور اپنے اندر کے اُٹھتے درد اور اضطراب پر قابو پانے کی خاطر رُخ موڑ گیا تھا۔۔۔
زنیشہ پہلے اُس کے الفاظ اور اب اُس کے لمس کی وجہ سے جی جان سے لرز اُٹھی تھی۔۔۔۔ مگر زوہان کے یوں رُخ موڑنے پر تڑپ اُٹھی تھی۔۔۔ وہ اُسے ہمیشہ غلط گردانتی آئی تھی۔۔ اِس بات سے انجان کے وہ تن تنہا بنا کسی سہارے اور ایموشنل سپورٹ کے اپنی جنگ اکیلے لڑتا آیا تھا۔۔۔۔ جس سے ساتھ چاہا تھا اُسی نے دوہرے الزاموں کی برسات کردی تھی۔۔۔۔
“زوہان میری بات۔۔۔۔۔”
زنیشہ نے آگے بڑھتے زوہان کے کندھے ہر ہاتھ رکھتے بھیگی آواز میں کچھ بولنا چاہا تھا۔۔۔۔
“میں کچھ نہیں سننا چاہتا اب۔۔۔۔ تم جاسکتی ہو یہاں سے۔۔۔۔۔۔ اور اُس لڑکی کو آژمیر کے قریب میں نے نہیں بھیجا تھا اگر یہ کام میرا ہوتا تو اب تک آژمیر میران برباد ہوچکا ہوتا۔۔۔۔۔ کیونکہ صرف ہم دونوں ہی ایک دوسرے کو برباد کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔۔۔۔۔ “
زوہان اُس کا ہاتھ اپنے کندھے سے جھٹکتا اُس کے لگائے گئے الزام کی تردید کرگیا تھا۔۔۔
“زوہان۔۔۔۔”
زنیشہ کی آنکھوں سے آنسو برسات کی طرح ٹپک پڑے تھے۔۔۔۔۔
“زنیشہ میران چلی جاؤ یہاں سے۔۔۔۔ میں اِس سے زیادہ خود پر ضبط نہیں کرسکتا۔۔۔۔”
وہ مٹھیاں بھینچے کتنی مشکل سے اپنے غصے کو ضبط کیے ہوئے تھا یہ وہی جانتا تھا۔۔۔۔۔ پاس کھڑی لڑکی پر نہ وہ اپنا غصہ نکالنا چاہتا تھا اور نہ ہی اُس کے سامنے اپنے غصے کی شدت ظاہر کرنا چاہتا تھا۔۔۔ جانتا تھا اُس کی یہ نازک بیوی دیکھ بھی نہیں پائے گی۔۔۔۔
اُس کی ہلکی سی دھاڑ پر خوفزدہ ہوتی زنیشہ وہاں سے پلٹ گئی تھی۔۔۔۔
زنیشہ کے وہاں سے نکلتے ہی زوہان نے اپنا سارا غصہ کمرے میں پڑی بے چین چیزوں پر نکالتے سب کچھ توڑ پھوڑ کر رکھ دیا تھا۔۔۔۔۔
@@@@@@@@
“کیوں؟؟؟؟۔۔۔ کیوں ہر بار یہ دونوں بھائی میرا پلین چوپٹ کر دیتے ہیں۔۔۔۔ میرے اتنے ٹائم کی محنت پر پانی پھیر دیا اُس آژمیر میران نے۔۔۔۔۔ کتنی ہوشیاری سے دولت ہضم کرنے کی خاطر زنیشہ کا نکاح اپنے بھائی سے کروا دیا آژمیر میران نے۔۔۔۔۔ تاکہ ساری جائیداد گھر میں ہی رہے۔۔۔۔۔۔ اب تو میں نہیں چھوڑوں گا اِن دونوں کو۔۔۔۔۔ کیا سمجھتے ہیں یہ زوہان سے نکاح کروانے کے بعد یہ زنیشہ کو ہمیشہ کے لیے مجھ سے چھین لیں گے۔۔۔۔۔ کبھی نہیں۔۔۔۔
اب اِس دونوں بھائیوں کو پہلے تڑپنا اور پھر مرنا ہوگا۔۔۔۔ اِن دونوں کے سامنے میں اِن کی بیویوں کو چھین کر لاؤں گا۔۔۔۔۔
میری اتنی بڑی پلاننگ کے باوجود آژمیر میران کو وہ لڑکی برباد نہیں کر پائی۔۔۔۔ اب اُسی لڑکی کو آژمیر کی کمزوری بنا کر استعمال کروں گا میں۔۔۔۔۔ پھر تڑپے گے یہ دونوں مگر بچا نہیں پائیں گے اُنکو۔۔۔۔۔۔ اُس حاعفہ نور کو تو مرنا ہی ہوگا اب۔۔۔۔۔
اصل جھٹکا آژمیر میران کو تب لگے گا۔۔۔۔”
حنیف اکرام ایک بار پھر اپنا نیا پلان ترتیب دے چکا تھا۔۔۔۔۔
“مگر باس آژمیر میران تو اب نفرت کرتا ہے اُس لڑکی سے۔۔۔۔ اُسے بھلا کیا فرق پڑے گا اُس کے مرنے کا۔۔۔ بلکہ وہ تو خود اُسے مارنا چاہتا ہے۔۔۔۔”
حنیف اکرام کے آدمی نے اُسے سچائی بتانی چاہی تھی۔۔۔۔
جس کے جواب میں حنیف اکرام کا بے ساختہ قہقہ گونجا تھا۔۔۔۔۔
“آژمیر میران ہمارے ساتھ ساتھ اپنی آنکھوں میں بھی دھول جھونک رہا ہے۔۔۔۔ وہ اُس لڑکی کو دیوانوں کی طرح ڈھونڈ رہا ہے۔۔۔۔ اگر مارنا ہوتا تو اُسی رات مار دیتا جس رات سچائی پتا چلی تھی اُس کی۔۔۔۔ وہ اُس لڑکی کو مارنا تو دور ایک خراش تک نہیں پہنچنے دے گا۔۔۔۔ اور اُس کی یہی کمزوری ہم اپنے فائدے کے لیے اِستعمال کریں گے۔۔۔۔۔”
حنیف اکرام اپنی نئی سازش سے اُن سب کی زندگیوں میں نیا طوفان لانے کو تیار تھا۔۔۔۔ جس کے بعد کس کی زندگی بگڑنے اور کس کی سنورنے والی تھی کوئی نہیں جانتا تھا۔۔۔۔
@@@@@@@@@
میران پیلس میں آج گھر کے تمام افراد ڈرائنگ روم میں جمع شام کی چائے سے لطف اندوز ہورہے تھے۔۔۔ جب دروازے سے داخل ہوتی ہستی کو دیکھ سب کے چہروں کی مسکراہٹ سمٹ گئی تھی۔۔۔
سب نے ہی نخوت سے چہرا موڑ لیا تھا۔۔۔۔ سویرا نے جو کچھ آژمیر کے ساتھ کیا تھا اُس کے بعد کوئی اُس کی شکل دیکھنے کا بھی روادار نہیں تھا۔۔۔
“میں جانتی ہوں میں نے جو کیا وہ بہت غلط تھا۔۔۔ میں اُس سب کے لیے کبھی بھی خود کو معاف نہیں کر پاؤں گی۔۔۔ مگر ابھی میرے یہاں آنے کا مقصد بھی صرف آژمیر ہی ہے۔۔۔۔ آژمیر اِس وقت بہت تکلیف میں ہیں۔۔۔ انہیں ہم سب کے ساتھ کی ضرورت ہے۔۔۔۔ وہ اِس وقت جس مینٹلی سٹریس سے گزر رہے ہیں۔۔۔ وہ ڈپریشن میں بھی جاسکتے ہیں۔۔۔ میں جانتی ہوں آپ سب کے لیے آژمیر کی خوشی سے زیادہ کچھ بھی اہم نہیں ہے۔۔۔۔”
سویرا نے سب کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑے جو بات کہی تھی۔۔۔ اُس پر سب نے سوالیہ نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔۔۔
“بھابھی کیا کہہ رہی ہے یہ لڑکی؟؟؟ کیا ہوا ہے ہمارے آژمیر کو؟؟؟ مجھے سب جاننا ہے…”
سویرا کو صاف نظر انداز کرتے حمیرا بیگم نے شمسہ بیگم کو مخاطب کیا تھا۔۔۔
شمسہ بیگم کا سنجیدہ انداز دیکھ باقی سب نے بھی منتظر نگاہوں سے اُن کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
جس پر شمسہ بیگم نے بنا کچھ بھی چھپائے فیصل کی بتائی ہر بات اُن کے سامنے رکھ دی تھی۔۔
جسے جان کر سب کے چہرے پر واضح اذیت کے تاثرات پھیل گئے تھے۔۔۔
@@@@@@@@@
آژمیر نے حیران ہوتے وہ دوپٹہ اپنے چہرے سے اُٹھایا تھا۔۔۔۔ کسی لڑکی کا دوپٹہ اُس کے کمرے میں کیا کررہا تھا؟؟؟؟
کوئی بنا اجازت اُس کے روم میں کیسے آسکتا تھا۔۔۔۔ آژمیر کے چہرے کے نقوش تن گئے تھے۔۔۔ اِس سے پہلے کہ وہ غصے کی شدت سے چلاتے ملازمہ کو آواز دیتا۔۔۔۔ جب واش روم کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی تھی۔۔۔۔ آژمیر نے چونک کر اُس جانب دیکھا تھا۔۔۔۔۔ اُس کا پہلے واش روم کی جانب دھیان ہی نہیں گیا تھا۔۔۔۔
ایک ہاتھ میں دوپٹہ اور دوسرے کی اُنگلیوں میں سیگریٹ دبائے آژمیر کی غصیلی سرخ نگاہیں باہر آنے والے کی منتظر تھیں۔۔۔۔
جب اُسی لمحے سیاہ گھنے لمبے بالوں کو ٹاول میں لپیٹنے کی کوشش کرتی ایک نازک اندام سی دوشیزہ واش روم سے باہر آئی تھی۔۔۔ بالوں کی وجہ سے اُس کا چہرا ڈھکا ہوا تھا۔۔۔ مگر آژمیر میران بنا چہرا دیکھے ہی ساکت ہوچکا تھا۔۔۔
پہلے دوپٹے سے اُٹھتی خوشبو اور اب یہ نازک دلکش سراپا۔۔۔۔ بنا فیس دیکھے ہی آژمیر میران سامنے کھڑی لڑکی کو پہچان گیا تھا۔۔۔ اور یہی بات اُسے شاک میں مبتلا کر گئی تھی۔۔۔
وہ یقین نہیں کر پارہا تھا۔۔۔۔
ریڈ کلر کے سادہ سے شیفون کے ڈریس میں جس کے کناروں پر گولڈن لیس کا کام کیا گیا تھا۔۔۔ بنا دوپٹے کہ اُس کا نازک بھیگا سراپا اپنی بھرپور رعنائیاں اُجاگر کرتا ہوش اُڑانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔۔۔۔
حاعفہ نے جیسے ہی بال جھٹکے اُس کا بھیگا دودھیا چھلکاتا چہرا آژمیر کے سامنے تھا۔۔۔
لمحہ بھر کے لیے آژمیر کو اپنی سانسیں رکتی محسوس ہوئی تھیں۔۔۔
جس لڑکی کو اُس کے آدمی پاگلوں کی طرح ہر جگہ ڈھونڈتے پھر رہے تھے وہ یہاں اُسی کے گھر میں چھپی بیٹھی تھی۔۔۔۔
بالوں سے پانی خشک کرتے حاعفہ نے ٹاول کی مدد سے اُن کو پیچھے جھٹکا تھا۔۔۔ بالوں کا پردہ چہرے سے ہٹ جانے کی وجہ سے اب وہ پوری طرح آژمیر کے سامنے تھی۔۔۔۔
آژمیر کتنے ہی لمحے یک ٹک اُسے دیکھے گیا تھا۔۔۔۔
حاعفہ کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اُس کا ستمگر اُس کے کس قدر پاس موجود ہے۔۔۔۔ جس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے وہ دن رات تڑپ رہی تھی۔۔۔۔ اُس کے دیدار کے لیے مانگی اُس کی دعائیں قبول ہوچکی تھیں۔۔۔
حاعفہ کو اچانک خود پر کسی کی گہری تپیش زدہ نگاہوں کا احساس ہوا تھا۔۔۔ اُس نے بے ساختہ نگاہیں گھما کر اردگرد دیکھا تھا۔۔۔ جب بیڈ پر نظر پڑتے پورا کمرا اُس کی نگاہوں میں گھوم گیا تھا۔۔۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اُسے دیکھے گئی تھی۔۔۔۔ ٹاول اُس کے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے جاگرا تھا۔۔۔۔ اُسے روم میں آکسیجن کی کمی محسوس ہونے لگی تھی۔۔۔۔
آژمیر بھی اپنی جگہ کھڑا اُسے غضبناک نگاہوں سے گھور رہا تھا۔۔۔۔ اُس کے حسین قیامت خیز سراپے سے نظریں چراتے اُس کے اندر لگی آگ ہر شے پر حاوی ہونے لگی تھی۔۔۔۔
“آژمیر۔۔۔۔۔۔۔”
حاعفہ کے لب ہولے سے پھڑپھڑائے تھے۔۔۔
اُس کی آنکھوں کے کٹورے آنسوؤں سے بھر گئے تھے۔۔۔۔۔ وہ ٹرانس کی کیفیت میں چلتی آژمیر کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔۔
اُس اِس وقت آژمیر کا غصہ، اُس کی سرد نگاہیں، اُس کی بھینچی مُٹھیاں اور طیش کے عالم میں تنے نقوش کچھ بھی دیکھائی نہیں دیا تھا۔۔۔۔
اُسے صرف اتنا پتا تھا کہ اُس کی زندگی، اُس کی سانسوں کا امین اور دل کا قرار اُس کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔ اِس سب کو اپنا وہم ہی گردانتی مگر وہ اُس کی پرچھائی کو بھی چھونا چاہتی تھی۔۔۔۔
اپنے بنا دوپٹے کے بھیگے سراپے کی پرواہ کیے بنا اُس کے بے حد قریب آن کھڑی ہوئی تھی۔۔۔
“میں کیسے بتاؤں آپ کو۔۔۔۔ آپ دنیا ہو میری۔۔۔۔”
آژمیر کا چہرا اپنی نازک ملائم ہتھیلیوں میں بھرتی حاعفہ سرگوشی نما لہجے میں بولتی اُس کے دونوں پیروں پر اپنے پیر جماتی اُس کے بے حد قریب آن کھڑی ہوئی تھی۔۔۔
سامنے کھڑے آژمیر کو اپنا وہم سمجھتی وہ اپنے حواسوں میں بالکل بھی نہیں تھی۔۔۔۔
آژمیر کے سہارے ہی اُس کے مقابل آن کھڑے ہونے پر حاعفہ کے لبوں پر دلکش مسکراہٹ بکھری تھی۔۔۔ اُس کے ہونٹوں کا اُوپری تل اُداسی کے ساتھ مسکرا دیا تھا۔۔۔۔۔
ہولے سے اُوپر کو اُٹھتے اُس نے آژمیر کے دائیں گال پر بوسہ دیا تھا۔۔۔
اُس کی نرم گرم قربت اور اِس محبت بھری بے خودی نے آژمیر کو کچھ لمحوں کے لیے ہپنوٹائز سا کر دیا تھا۔۔۔ یہ لڑکی وہی تھی نا جو اُسے مارنا چاہتی تھی۔۔ اُس سے جھوٹی محبت کا ناٹک کرنے دھوکا دے کر بھاگ گئی تھی۔۔۔ وہ اب پھر اُس پر اپنی محبت کا جال پھینک رہی تھی۔۔۔۔
آژمیر ایک دم ہوش میں لوٹا تھا۔۔۔ اِس لڑکی کا دیا ایک ایک زخم پھر سے کھل گیا تھا۔۔۔۔
اُس نے ایک جھٹکے سے حاعفہ کو خود سے دور جھٹکا تھا۔۔۔ حاعفہ جو پوری طرح اُسی کے سہارے کھڑے تھی لڑکھڑا کر نیچے جاگری تھی۔۔۔۔
اُس نے بےیی یقینی سے آژمیر کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ اب گہرا دھچکا لگنے کی باری حاعفہ کی تھی۔۔۔ وہ اُس کا وہم نہیں حقیقت میں اُس کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔۔ وہ دونوں اس وقت ایک ہی چھت کے نیچے، ایک ہی کمرے میں، ایک دوسرے کے مقابل تھے۔۔۔
حاعفہ کی دھڑکنوں کا شور بڑھ گیا تھا۔۔۔
“تم یہاں میرے گھر میں کیا کررہی ہو؟؟؟… اب میرے گھر کے کس فرد کو پھنسایا ہے اپنی اداؤں میں….”
حاعفہ ابھی تک اُسی طرح بیٹھی تھی جب آژمیر آنکھوں میں نفرت سموئے اُس کے قریب آن کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔ اُس کے الفاظ حاعفہ کا دل چھلنی کرگئے تھے۔۔۔۔
وہ اپنے آنسو اندر اُتارتی اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔
“میں نہیں جانتی تھی یہ آپ کا گھر ہے۔۔۔۔”
حاعفہ نے سر جھکائے جواب دیا تھا۔۔۔
اُس کا اپنی جانب دیکھ کر بات نہ کرنا آژمیر کو غصہ دلا گیا تھا۔۔۔۔
حاعفہ وہاں سے پلٹنے لگی تھی جب آژمیر نے اُس کی کمر میں بازو حمائل کرتے اُسے اپنے کھینچ لیا تھا۔۔۔۔ گیلے بالوں کی وجہ سے حاعفہ کی شرٹ بھی پیچھے سے گیلی ہوچکی تھی۔۔۔ آژمیر کا وہاں شدت بھرا لمس محسوس کرتے اُس کا چہرا لال ہوا تھا۔۔۔۔
مگر اِس وقت وہ کوئی بھی مزاحمت کرکے اِس بپھرے زخمی شیر کو مزید غصہ نہیں دلانا چاہتی تھی۔۔۔۔ وہ آژمیر کے ساتھ لگی اپنا شرم اور حیا سے اناڑی پڑتا چہرا جھکائے ہوئے تھی۔۔۔
“میری طرف دیکھ کر میری بات کا جواب دو۔۔۔۔”
آژمیر اُس کے گیلے بالوں میں ہاتھ پھنسائے اُس کا چہرا اپنے بے حد قریب کرگیا تھا۔۔۔۔
حاعفہ کو اپنے حواس جاتے محسوس ہوئے تھے۔۔۔ آژمیر کی گرم سانسیں اُس کا چہرا جھلسا رہی تھیں۔۔۔
“مجھے یہاں محفوظ پناہ گاہ کہہ کر بھیجا گیا تھا۔۔۔ میں نہیں جانتی تھی یہ آپ کا علاقہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
حاعفہ نے آژمیر کی آنکھوں میں دیکھتے جواب دیا تھا۔۔۔ جس کے نتیجے میں کئی آنسو اُس کے چہرے پر بکھر گئے تھے۔۔۔ یہ سچ تھا آژمیر سے زیادہ محفوظ پناہ گاہ اُس کے لیے کوئی نہیں تھی۔۔۔۔
“تم کیا سمجھ رہی ہو۔۔۔ یہ سب ناٹک کرکے میرے قہر سے بچ جاؤ گی۔۔۔۔ تمہارا یہ رونا دھونا، میرے قریب آکر جھوٹی محبت کا اظہار کرکے ایک بار پھر مجھے بے وقوف بنا لو گی۔۔۔۔؟؟؟”
آژمیر نے اُس کا چہرا اپنے مزید قریب کر لیا تھا۔۔۔
“میری محبت جھوٹی نہیں تھی۔۔۔۔۔”
حاعفہ اُس کے سینے پر دونوں ہتھیلیاں جمائے اُسے یقین دلاتے بولی۔۔۔۔ اُس کا پورا وجود ہولے ہولے لرز رہا تھا۔۔۔ جو آژمیر میران با آسانی محسوس کر پارہا تھا۔۔۔ آژمیر کی قربت کے ساتھ ساتھ اِس کپکپکاہٹ کی وجہ ٹھنڈ بھی تھی۔۔۔۔ اُس کے نیلے پڑتے ہونٹ اِس بات کے گواہ تھے۔۔۔۔
آژمیر جو اُسے نجانے کیا کیا سزا دینے کا سوچے بیٹھا تھا اُس کے قریب آنے پر وہ کوئی سنگین قدم نہیں اُٹھا پارہا تھا۔۔۔
اِس لڑکی کے معاملے میں وہ اتنا الگ انسان کیوں بن جاتا تھا وہ سمجھ نہیں پارہا تھا۔۔۔ کیسی بےبسی تھی یہ۔۔۔۔ کیوں وہ چاہ کر بھی اُس کو کوئی سزا نہیں دے پارہا تھا۔۔۔۔
ورنہ جو یہ لڑکی اُس کے ساتھ کر چکی تھی۔۔۔ اگر کسی اور نے کیا ہوتا تو اِس وقت اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ہوتا۔۔۔۔
وہ اپنی زندگی میں کسی شے کو بھی اپنی کمزوری نہیں بنانے دینا چاہتا تھا۔۔۔۔ اِس لیے بہتر تھا اپنی زندگی کی اِس سب سے کمزور کڑی کو ہمیشہ کے لیے توڑ پھینکے۔۔۔۔
“تم جیسی لڑکی آژمیر میران کی بیوی بننے کے قابل بالکل بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔ اور ویسے بھی یہ رشتہ دھوکے کی بنیاد پر رکھا گیا تھا تو سب سے پہلے اِسی کا ختم ہوجانا چاہئے۔۔۔۔ “
آژمیر کے منہ سے نکلنے والے الفاظ حاعفہ کی سانسیں چھین گئے تھے۔۔۔۔ اُس نے نفی میں سر ہلاتے پھٹی پھٹی آنکھوں سے آژمیر کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
اِسی خوف سے تو وہ یہاں چھپ کر بیٹھی تھی۔۔۔۔
اُسے لگا تھا آژمیر نے اُسے چھوڑنے کی بات نہیں کی تھی بلکہ اُس سے سانسیں چھیننے کا فیصلہ کیا تھا۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔