Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 33

“کیا ہ وا حاعفہ آر یو اوکے؟؟”
آژمیر اُس کی زرد پڑتی رنگت دیکھ فکرمندی سے بولا تھا۔۔۔۔
“یس سر میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔”
حاعفہ بمشکل الفاظ ادا کر پائی تھی۔۔۔
“تم اپنی طرف سے اِس نکاح میں کسی کو بلانا چاہو گی۔۔۔۔”
آژمیر کی بات پر حاعفہ نے نظریں اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ لمحہ بھر کو وہ چونک گئی تھی۔۔۔ اُسے آژمیر کی نگاہوں میں ایک عجیب سا سرد پن دیکھائی دیا تھا۔۔۔۔ اُس کی آنکھوں کے گوشے لال تھے۔۔ جیسے شدید غصے کے عالم میں ہوتے تھے۔۔۔
مگر اُس کا لہجہ اُتنا ہی نرم تھا۔۔۔حاعفہ کچھ سمجھ نہیں پائی تھی۔۔۔
حاعفہ آج سے پہلے ہمیشہ آژمیر کے سامنے اپنے اصل کردار میں ہی رہی تھی شاید یہی وجہ تھی کہ آژمیر چاہ کر بھی اُس کے اُس معصومیت بھرے رُوپ پر شک نہیں کر پایا تھا۔۔۔۔ مگر آج پہلی بار وہ اُن بلیک میلرز کے کہے کے مطابق عمل کررہی تھی۔۔۔۔ اور وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ وہ کتنی خراب ایکٹر نکلی تھی۔۔۔۔۔
@@@@@@@
“بھابھی کیا یہ سچ ہے؟؟؟ آژمیر کی زندگی میں واقعی کوئی لڑکی ہے۔۔۔۔”
حمیرا بیگم حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ بولی تھیں۔۔۔ وہاں موجود میران پیلس کی باقی خواتین کی کنڈیشن بھی کچھ ایسی ہی تھی۔۔۔
آژمیر میران کا کسی لڑکی کے حوالے سے تصور ہی اُن کے لیے نہایت خوش کن تھا۔۔۔ ورنہ جب بھی اُس سے شادی کا پوچھا جاتا تو جواب میں اُس کا غصہ دیکھنے کو ہی ملتا تھا۔۔۔۔
“پتا نہیں وہ کون خوش نصیب لڑکی ہے۔۔۔ جسے آژمیر میران کی چاہت حاصل ہے۔۔۔ آپ کو آژمیر سے اُس کی ایک تصویر تو لے لینی تھی۔۔۔ اب ہم سب اتنا صبر کیسے کریں گے۔۔۔۔”
آمنہ بیگم سے بھی خاموش نہیں رہا گیا تھا۔۔۔۔ جیسے آژمیر گھر کے ہر فرد کا خود سے بڑھ کر خیال رکھتا تھا۔۔۔ ویسے ہی باقی سب کو بھی وہ بے پناہ عزیز تھا۔۔۔ اُس کی خوشی سب کے چہروں پر رونق بکھیر گئی تھی۔۔۔۔
“تھینک گاڈ لالہ کو بھی کوئی لڑکی پسند آئی۔۔۔۔”
سب لوگوں میں سے سب سے زیادہ ایکسائیٹڈ زنیشہ ہی تھی۔۔۔۔ جسے چند دنوں میں اپنے ہونے والے نکاح کے بجائے آژمیر کے لیے بہت خوشی محسوس ہورہی تھی۔۔۔
“اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ وہ مجھے میرے بچوں کی خوشیاں دیکھانے والا ہے۔۔۔۔ میرے آژمیر نے اب تک کی زندگی میں بہت مشکلات دیکھی ہیں۔۔۔ بہت جگہ اُسے تکلیفیں برداشت کرنی پڑی ہیں۔۔۔ اُس لڑکی کو میرے بیٹے کے حق میں بہتر ثابت کرنا میرے مولا۔۔۔ “
شمسہ بیگم نے ہاتھ اُٹھا کر سچے دل سے اپنے رب سے دعا مانگی تھی۔۔۔ جس میں باقی سب نے بھی اُن کا ساتھ دیا تھا۔۔۔
وہ سب خواتین ڈرائنگ روم میں ہی بیٹھیں دو دنوں بعد ہونے والے زوہان اور زنیشہ کے نکاح کی تیاریاں ڈسکس کررہی تھیں۔۔۔
شمسہ بیگم نے کل ہی کال کرکے شہر کے دو مشہور ڈیزائنرز کو بلوایا تھا۔۔۔ جنہوں نے ابھی کچھ دیر میں اپنے جدید ڈریسز کے ساتھ پہنچنا تھا۔۔۔
وہ سب ابھی اِسی انتظار میں بیٹھی تھیں۔۔۔ جب چار پانچ ملازم بامشکل ایک بھاری لہنگا لیے اندر داخل ہوئے تھے۔۔۔
جسے دیکھ سب خواتین کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے تھے۔۔۔ وہ سلور اور ریڈ امتزاج کا بے پناہ حسین لہنگا تھا۔۔۔ جس کے ساتھ میچنگ کی جیولری، سینڈل سب کچھ بھیجا گیا تھا۔۔۔۔
“یہ کہاں سے آیا ہے؟؟”
شمسہ بیگم نے سوالیہ نظروں سے ملازمین کو دیکھا تھا۔۔۔ باقی سب کا بھی یہی سوال تھا۔۔۔
“بی بی سائیں یہ زوہان سائیں نے بھیجا ہے۔۔۔ زنیشہ بی بی کے لیے۔۔۔۔۔”
وہ چاروں ملازمین زوہان کے ہی تھے۔۔۔ جن میں سے ایک سر جھکا کر جواب دیتا، وہ ساری چیزیں ایک طرف رکھے بڑے سے ڈائیننگ ٹیبل پر سجاتے وہاں سے نکل گئے تھے۔۔۔۔
اُس کی بات سن کر سب نے رشک بھری ستائشی نظروں سے زنیشہ کو دیکھا تھا۔۔۔۔ سب کو یقین کو چکا تھا کہ زوہان واقعی زنیشہ سے بہت محبت کرتا تھا۔۔۔ ورنہ زوہان جیسے بندے سے ایسے کسی عمل کی توقع رکھنا مشکل تھا۔۔۔
زنیشہ سب کی شوخ نظریں خود پر محسوس کرتی بُری طرح شرمندہ ہوئی تھی۔۔۔ ملک زوہان کو کبھی کسی کی پرواہ نہیں رہی تھی۔۔۔ مگر اُسے محسوس ہورہا تھا کہ وہ ایسی حرکتیں کرکے اُس کی حالت خراب کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔۔
@@@@@@@@
آژمیر کے کہے کے مطابق اُس کا خاص آدمی فیصل اگلے آدھے گھنٹے میں نکاح خواں کے ساتھ آژمیر کے کچھ معزز دوستوں کو لیے حاضر ہوچکا تھا۔۔۔ آژمیر کا بہترین دوست نصیر اپنی بیوی کو بھی ساتھ لایا تھا تاکہ وہ نکاح کے ٹائم پر حاعفہ کے ساتھ ہو۔۔۔۔
حاعفہ اپنی مخصوص سیاہ شال میں چہرا چھپائے بیٹھی تھی۔۔۔ اُس نے نصیر کی بیوی صائمہ کو بھی اپنا چہرا نہیں دیکھایا تھا۔۔۔
وہ اِس وقت جس تکلیف سے گزر رہی تھی۔۔۔ یہ اُس کا رب جانتا تھا۔۔۔۔
کچھ لمحوں بعد مولوی صاحب رجسٹر لیے اندر داخل ہوئے تھے۔۔۔ نکاح کے بولوں پر رضامندی میں جواب دیتی حاعفہ نکاح نامہ پر سائن کرگئی تھی۔۔۔۔
اپنا آپ آژمیر میران کے نام لکھوانے پر اُس کا دل ایک بار زور سے دھڑکا تھا لیکن اگلے ہی لمحے وہ بالکل ساکت ہوچکی تھی۔۔۔
وہ جانتی تھی کہ یہ نکاح اُس کی زندگی میں خوشیوں کی نوید بن کر نہیں آنے والا تھا۔۔۔ بلکہ یہ اُس کے لیے ایک بھیانک حقیقت ثابت ہونے والا تھا۔۔۔۔۔ جس کا احساس ابھی سے ہی اُس کی سانسیں جکڑنے لگا تھا۔۔۔۔
مولوی صاحب کے جانے کے بعد بھی وہ بت بنی اُسی جگہ بیٹھی رہی تھی۔۔۔ صائمہ نے اُسے ایک دوبار مخاطب کیا تھا۔۔۔ مگر اُسکی جانب سے جواب نہ پاکر وہ خاموشی سے روم سے نکل گئی تھی۔۔۔۔
حاعفہ اپنا ایک کام کر چکی تھی۔۔۔ اب اُسے اپنا اگلا کام سر انجام دینا تھا۔۔۔۔ اُس نے اِردگرد دیکھتے اپنے ہینڈ بیگ کو تلاش کرنا چاہا تھا۔۔
جب اچانک اِس خیال کے آتے کہ وہ اپنا ہینڈ بیگ باہر آژمیر کے ڈرائینگ میں چھوڑ آئی ہے۔۔۔ وہ فوراً اپنی جگہ سے اُٹھتی باہر کی طرف بھاگی تھی۔۔۔
ڈرائینگ روم میں قدم رکھنے سے پہلے اُس نے اندر جھانکا تھا۔۔۔
وہاں اِس وقت کوئی بھی نہیں تھا۔۔۔۔ شاید سب لوگ نکاح کے بعد جا چکے تھے۔۔۔
حاعفہ نے اندر جاتے سائیڈ ٹیبل پر رکھے اپنے پرس کو اُٹھاتے اُس میں موجود اپنی مطلوبہ شے کے ہونے کی تصدیق کی تھی۔۔۔
حاعفہ کو آژمیر کہیں نظر نہیں آرہا تھا۔۔۔جب کچھ دیر بعد اُسے ملازمہ چائے کی ٹرے سجائے اندر آتے دیکھائی دی تھی۔۔۔۔
حاعفہ خاموش نظروں سے چائے کے مگ کو دیکھنے لگی تھی۔۔۔ جو ملازمہ ایک اُس کے لیے اور ایک آژمیر کے لیے بنا کر گئی تھی۔۔۔
حاعفہ نے اردگرد سے نظریں بچاتے اپنے بیگ سے مطلوبہ گولیاں نکالتے سامنے رکھے آژمیر کے کپ میں ایک آدھی گولی ملا دی تھی۔۔۔۔
یہ وہ زہر کی گولیاں تھیں جو اُن بلیک میلرز کی جانب سے بھیجی گئی تھیں۔۔۔ اُن کے مطابق حاعفہ کا آژمیر کی چائے میں 7 سے 8 کی تعداد میں گولیاں ملانی تھیں۔۔۔ تب ہی وہ اثر کرتیں۔۔۔ مگر حاعفہ یہ مر کر بھی نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ اُس نے آژمیر کے کپ میں صرف گولی کا اتنا حصہ ملایا تھا جس سے وہ صرف بمشکل بے ہوش ہوپاتا۔۔۔۔
جبکہ باقی کی دس گولیاں اُس نے بڑے ہی پرسکون انداز میں اپنی چائے میں مکس کردی تھیں۔۔۔
اپنی زندگی کے دو قیمتی ترین لوگوں کو بچانے کے لیے وہ اپنا آپ قربان کرنے والی تھی۔۔۔۔
آژمیر کے آخری بار دیدار کی خواہش لیے وہ چائے کا گھونٹ گھونٹ اپنے حلق میں اُنڈیلنے لگی تھی۔۔۔۔
وہ آدھی چائے پی چکی تھی جب آژمیر اُسے اندر آتا دیکھائی دیا تھا۔۔۔۔
“نکاح کی بہت بہت مبارک ہو مسز آژمیر میران۔۔۔۔۔”
آژمیر چہرے پر پتھریلے سرد تاثرات سجائے حاعفہ سے مخاطب ہوتا اُس کے سامنے صوفے پر براجمان ہوا تھا۔۔۔۔
حاعفہ کے ہاتھ میں موجود کپ پر اُس نے ایک سرد نگاہ ڈالی تھی۔۔۔ اور ساتھ ہی اپنے سامنے بڑا مگ اُٹھا لیا تھا۔۔۔۔
“اب یقین آگیا میری محبت کا۔۔۔ یا ابھی بھی دلانا باقی ہے۔۔۔۔”
آژمیر کی وحشت ناک نگاہوں پر حاعفہ کے ہاتھ میں پکڑا مگ لرز گیا تھا۔۔۔
وہ آدھے سے بھی زیادہ چائے پی چکی تھی۔۔۔۔ اُس نے اپنے کپکپاتے ہاتھوں سے کپ چھوٹ جانے کے خوف سے سامنے ٹیبل پر رکھ دیا تھا۔۔۔۔
آژمیر اپنے اندر اُٹھتے اُبال پر قابو پانے کے چکر میں ایک ہی سانس کے اندر مگ خالی کر گیا تھا۔۔۔۔
حاعفہ نے درزیدہ نگاہوں سے اُس کا یہ رُوپ دیکھا تھا۔۔۔۔
“سر وہ۔۔۔۔۔”
حاعفہ کچھ بولنے ہی والی تھی جب آژمیر اپنی جگہ سے اُٹھ کر اُس کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔
“مجھ سے نکاح کرنے کا تمہارا پلان کامیاب ہوچکا ہے۔۔۔۔ اب بولو کون ہوتم۔۔۔۔۔؟؟”
آژمیر اُس کی کلائی دبوچ کر اپنے مقابل کھڑا کرتا اونچی آواز میں دھاڑا تھا۔۔۔ اُس کے چہرے پر نرمی کی زرا سی رمک تک نہ تھی۔۔۔ اُسے دیکھ کر صاف لگ رہا تھا کہ وہ ابھی حاعفہ کو اپنے ہاتھوں سے ختم کردے گا۔۔۔۔
آژمیر کی اُنگلیاں اُسے اپنے بازو میں پیوست ہوتی محسوس ہوئی تھیں۔۔۔ تکلیف کے احساس سے اُس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔۔۔۔
مگر اُس کے پاس آژمیر کے سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔۔۔ وہ بس یک ٹک ڈبڈبائی آنکھوں سے اپنے محبوب کا خوبرو چہرا تکے جارہی تھی۔۔۔
اُس کے پاس وقت کم تھا۔۔۔۔ مگر جتنا تھا وہ آژمیر میران کے قریب ہی رہ کر گزارنا چاہتی تھی۔۔۔
“کیا ہوا حیرت ہورہی ہے کہ میری چائے میں شامل کی جانے والی تمہاری زہر سے میں اب تک مرا کیوں نہیں؟؟؟”
آژمیر ٹھوڑی سے دبوچ کر اُس کا چہرا اپنی جانب اُٹھاتا حاعفہ کو اب گہرا جھٹکا دے گیا تھا۔۔۔
تو وہ یہ بھی جانتا تھا کہ حاعفہ اُسے زہر دینے والی ہے۔۔۔ پھر بھی اُس نے نکاح کیا تھا۔۔۔
کیا وہ اُس کے ایک طوائف ہونے کے بارے میں جان چکا تھا؟؟
حاعفہ کتنے ہی لمحے بے یقینی سے اُسے تکے گئی تھی۔۔۔۔ وہ کچھ سمجھ ہی نہیں پارہی تھی کہ اگر آژمیر سب جان چکا تھا تو اب تک اُسے اپنے ہاتھوں سے ختم کیوں نہیں کررہا تھا۔۔۔۔
کئی سوال تھے جو اُس کے اندر سر اُٹھا رہے تھے۔۔۔ مگر وہ چاہ کر بھی یہ سب آژمیر سے پوچھنے کی ہمت نہیں کر پارہی تھی۔۔۔
اِس وقت اُسے صرف آژمیر کو خود سے نفرت کا احساس دلوانا تھا۔۔۔۔
“ہاں مجھے حیرت ہورہی ہے۔۔۔ کیونکہ آپ کا مرنا میری زندگی کے لیے بہت اہم ہے۔۔۔۔ میرے پچھلے اتنے دنوں کی محنت کے بعد ہی تو میں اِس مقام تک پہنچ پائی ہوں۔۔۔ آژمیر میران کو اپنی محبت کے فریب میں پھنسانا آسان کام تھوڑی تھا۔۔۔۔”
حاعفہ اُس سے اپنا چہرا آزاد کرتی زہر خند لہجے میں بولتی آژمیر کو مزید آگ لگا گئی تھی۔۔۔ وہ جو کافی حد تک اِسے حاعفہ کی مجبوری سمجھ رہا تھا اُس کے لہجے میں اپنے لیے اتنی نفرت دیکھ اُس کا اپنی محبت سے رہا سہا بھرم بھی ٹوٹ گیا تھا۔۔۔
“کس کے کہنے پر یہ ناٹک کیا ہے تم نے۔۔۔۔”
آژمیر اُسے بالوں کی گدی سے پکڑ کر اُس کا چہرا اپنے قریب کرتے اپنی گرم سانسوں سے اُس کا چہرا جھلساتے دھاڑا تھا۔۔۔۔
یہ لڑکی اُس کے ساتھ یہ کھیل کھیل کر کتنا بڑا جرم کر چکی تھی۔۔ آژمیر اب اُس کی زندگی اجیرن کرکے اُسے اچھے سے سمجھانے والا تھا۔۔۔
حاعفہ سے اُس کی اِس جان لیوا قربت کے آگے بولنا محال ہوا تھا۔۔۔ اُس کے ہونٹ کپکپا کر رہ گئے تھے۔۔۔
اُسے حیرت ہورہی تھی کہ ابھی تک اُس پر زہر کی لی جانے والی دس گولیوں کا اثر کیوں نہیں ہورہا تھا۔۔۔۔
اِس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتی باہر سے ایک دم زور دار فائرنگ کی آوازیں سنائی دینے لگی تھیں۔۔۔
حاعفہ نے دہل کر آژمیر کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ اُسے بلیک میلرز کے اِس پلان کا علم بالکل بھی نہیں تھا۔۔۔۔
“پہلے تمہارے اُن ساتھیوں سے نبٹ لوں پھر تمہیں تمہارے انجام تک پہنچاؤں گا۔۔۔۔ “
آژمیر کے نفرت آمیز الفاظ کے ساتھ حاعفہ کو اُس کی آنکھوں میں ایک عجیب سا درد نظر آیا تھا۔۔۔ محبت میں ملنے والی بے وفائی کا درد۔۔۔۔
حاعفہ کا دل جیسے کسی نے چیر کر رکھ دیا تھا۔۔۔
وہ یہ سب دیکھنے سے پہلے مر جانا چاہتی تھی۔۔۔ مگر اُس پر تو موت کو بھی ترس نہیں آرہا تھا۔۔۔
آژمیر اُسے ایک ہی جھٹکے میں اپنی گرفت سے آزاد کرتا دور دھتکار چکا تھا۔۔۔
باہر دل کو لرزا دینے والی فائرنگ لمحہ با لمحہ بڑھتی جارہی تھی۔۔۔۔
حاعفہ نے زبان سے بنا کچھ بولے ہاتھ بڑھا کر آژمیر کا بازو تھامتے اُسے باہر جانے سے روکنا چاہا تھا۔۔۔۔
آژمیر نے پلٹ کر لہو ٹپکاتی نظروں سے اُسے دیکھتے دور جھٹکا تھا۔۔۔ جس کے جواب میں حاعفہ پیچھے رکھے صوفے پر جاگری تھی۔۔۔ اُس نے خود کو سنبھالنے کی کوشش بالکل بھی نہیں کی تھی۔۔۔ اور اُس کا سر سیدھا ساتھ پڑی کرسی کے ہینڈل سے لگتا اُسے لہولہان کر گیا تھا۔۔۔۔
آژمیر بنا پلٹ کر اُس کی جانب دیکھے باہر کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔
@@@@@@@@@
زنیشہ زوہان کی جانب سے بھیجی جانے والی چیزوں کو بنا دیکھے گھر کی سب خواتین کی نظروں سے گھبراتی اپنے روم میں واپس آگئی تھی۔۔۔
گھر میں سب بہت خوش تھے۔۔۔ کیونکہ دو بہت ہی انہونی باتیں ہوئی تھیں۔۔۔۔۔ نہ صرف زوہان اور زنیشہ کا نکاح ہونے والا تھا بلکہ آژمیر بھی اپنی شادی کے لیے حامی بھر چکا تھا۔۔۔۔
شمسہ بیگم بے حد خوش تھیں۔۔۔ لیکن زنیشہ کے رگ و پے میں ایک عجیب سی بے چینی پھیلی ہوئی تھی۔۔۔ اُسے محسوس ہورہا تھا کہ جیسے کچھ غلط ہونے والا ہے۔۔۔۔
اپنے اندر کی گھٹن سے گھبراتے اُس نے ریموٹ اُٹھاتے ٹی وی آن کرلیا تھا۔۔۔ مختلف چینل سرچنگ کرتے اُس کا انگوٹھا ایک چینل پر آکر ساکت ہوا تھا۔۔۔ کیونکہ سامنے چلتے نیوز چینل پر ایک بار پھر ثمن خان اور ملک زوہان کو ایک ساتھ ایک کپل کے طور پر دیکھایا جارہا تھا۔۔۔۔
وہ دونوں شاید کسی بزنس میٹنگ کے لیے دبئی جارہے تھے۔۔۔۔ زنیشہ اندر تک جل کر خاک ہوئی تھی۔۔۔ جب اِس شخص کو کلیئر تھا کہ اُسے کس کے ساتھ رہنا ہے تو پھر وہ اُس کے جذبات کے ساتھ کیوں کھیل رہا تھا۔۔۔
زنیشہ کا پارہ بُری طرح چڑھ چکا تھا۔۔۔ سکرین پر بار بار ثمن کا زوہان کے بے حد قریب کھڑا ہونا دیکھایا جا رہا تھا۔۔۔۔
زنیشہ نے شدید غصے میں آتے ریموٹ اُٹھا کر دیوار پر دے مارا تھا۔۔۔۔
اور بیڈ سائیڈ رکھے موبائل کو اُٹھاتے اُس نے زوہان کو کال ملائی تھی۔۔۔۔
وہ ہمیشہ سے اپنی چیزوں کے معاملے میں بہت پوزیسو رہی تھی۔۔۔۔ زوہان یہ بات اچھے سے جانتا تھا پھر بھی وہ ہمیشہ اُس کی فیلنگز ہرٹ کرتا رہتا تھا۔۔۔۔
دو تین بار ٹرائے کرنے کے بعد جاکر زوہان نے کال پک کی تھی۔۔۔۔
“میں ابھی بزی ہوں بعد میں کال کرتا ہوں۔۔۔”
زوہان اُس کی جانب سے کچھ سنے بغیر مصروف سے انداز میں گویا ہوا تھا۔ ۔۔
“اچھے سے جانتی ہوں کس کے ساتھ بزی ہیں۔۔۔۔۔۔ اُس ثمن خان کے ساتھ ہیں نا آپ۔۔۔ “
زنیشہ ترشی بھرے لہجے میں بولتی یہ بھول چکی تھی کہ مقابل کون ہے۔۔۔۔
“ایکسکیوزمی مس زنیشہ میران یہ کس انداز میں بات کررہی ہیں آپ مجھ سے۔۔۔ اور کس حیثیت سے یہ سوال پوچھا ہے آپ نے مجھ سے۔۔۔ ابھی میں نے آپ کو ایسا کوئی اختیار نہیں دیا ہے۔۔۔۔”
زوہان اپنے اُوپر کسی کا بھی چلانا بھلا کہاں برداشت کرسکتا تھا۔۔۔
جبکہ اُس کے یہ اجنبی الفاظ زنیشہ کی آنکھیں نم کر گئے تھے۔۔۔۔
“مجھے ایسا کوئی اختیار چاہیئے بھی نہیں۔۔۔۔ اور آپ کس حیثیت سے مجھے حسیب سے بات کرنے سے ٹوکتے ہیں۔۔۔ اب میں اُس سے بات بھی کروں گی اور اُس کے قریب بھی جاؤں گی۔۔۔ دیکھتی ہوں کس حیثیت سے روکتے ہیں آپ مجھے۔۔۔۔”
زنیشہ بچوں جیسے ضدی لہجے میں بولتی کیا کچھ غلط بول گئی تھی اِس وقت اُسے اندازہ بھی نہیں ہوا تھا۔۔۔۔
“جسٹ شٹ یور ماؤتھ زنیشہ۔۔۔۔۔ تم جانتی بھی ہو تم کیا بکواس کر رہی ہو۔۔۔۔ “
زوہان اتنی شدت سے دھاڑا تھا کہ زنیشہ کا دل زور سے لرز اُٹھا تھا۔۔۔ مگر اِس وقت وہ اپنے حواسوں میں نہیں تھی۔۔۔۔ جس شخص کو آپ اتنی شدت سے چاہتے ہو۔۔۔ اُسے کسی اور کی بانہوں میں دیکھنا کتنا تکلیف دہ تھا زنیشہ زوہان کو اِس بات کا احساس دلانا چاہتی تھی۔۔۔۔
“میں اچھے سے جانتی ہوں میں کیا کہہ رہی ہوں۔۔۔ آپ بھی ایک بات سن لیں۔۔۔ مجھے آپ سے شادی نہیں کرنی ہے۔۔۔۔ آپ لالہ کو خود ہی انکار کردیں۔۔۔ ورنہ جو میں کروں گی اُس پر آپ سب لوگوں کو پچھتانا پڑے گا۔۔۔۔”
زنیشہ کے اندر تو جیسے شعلے بھڑک رہے تھے۔۔۔ کیونکہ زوہان کے پیچھے سے آتی ثمن کی آواز یہی ثابت کررہی تھی کہ وہ لڑکی ابھی بھی زوہان کے ساتھ ہے۔۔۔۔
زنیشہ کو یہی بات غصہ دلاتی تھی کہ اگر وہ ثمن کو ہی اتنا چاہتا تھا تو اُسے کھلونے کی طرح استعمال کیوں کررہا تھا۔۔۔۔
“تمہارا دماغ خراب ہوچکا ہے۔۔۔۔ جسے میں دو دن بعد اپنے طریقے سے ٹھکانے لگاؤں گا۔۔۔ اور مجھے یہ فضول دھمکیاں دینے کی دوبارہ کوشش مت کرنا۔۔۔۔ تمہاری اِن دھمکیوں کا اثر صرف اُن لوگوں پر ہی ہوگا جن کے لیے تم امپورٹنٹ ہو۔۔۔ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔”
زوہان زنیشہ کا دل ایک بار پھر چھلنی کرتا کال کاٹ گیا تھا۔۔۔
وہ اپنے عزیز ترین لوگوں کو بھی اپنے ساتھ مس بی ہیو کرنے کی اجازت نہیں دیتا تھا۔۔۔ اور زنیشہ نے آج جو الفاظ ادا کیے تھے اُن کے جواب میں زوہان کو یہی بولنا بالکل ٹھیک لگا تھا۔۔۔۔
زوہان نے دوبارہ کوئی اور نمبر ڈائل کیا تھا۔۔۔
“اُس بے وقوف لڑکی کے ساتھ ساتھ رہو۔۔۔ وہ کوئی اُلٹی سیدھی حرکت کرکے خود کو نقصان نہ پہنچا دے۔۔۔”
زنیشہ پر شدید غصہ ہونے کے باوجود زوہان کے لہجے میں اُس کے لیے واضح فکر محسوس کی جاسکتی تھی۔۔۔۔
اُس کے سامنے بیٹھی ثمن اُسے دیکھ کر رہ گئی تھی۔۔۔
“میرا دل چاہتا ہے میں خود ہی زنیشہ کے پاس جاکر تمہاری زندگی میں اُس کی اور اپنی حیثیت واضح کردوں۔۔۔۔ “
ثمن نے ناراض نظروں سے زوہان کی جانب دیکھتے کہا۔۔۔
“اور اگر تم نے ایسا کیا تو میں اپنے ہاتھوں سے تمہارا گلا دباؤں گا۔۔۔۔”
زوہان نے سیگریٹ سلگھاتا اُسے سرد نگاہوں سے گھور کر دیکھا تھا۔۔۔
“مجھے کیوں لگ رہا ہے۔۔۔ یہ جنگلی بلی مستقبل میں ملک زوہان میران کے کس بل نکال کر رکھ دے گی۔۔۔۔”
ثمن جانتی تھی کہ زوہان کا موڈ اِس حد تک خراب کرنے والی کے ذکر سے ہی اب اُس کا موڈ بحال ہونا تھا۔۔۔۔
“تم کچھ دیر کے لیے خاموش بیٹھو تو تمہارے لیے زیادہ بہتر ہوگا۔۔۔۔ “
زوہان اُس کا مقصد سمجھتا اُسے وارن کرگیا تھا۔۔۔ جس کے بعد ثمن نے دوبارہ کچھ بولنے کی ہمت نہیں کی تھی۔۔۔
@@@@@@@@@
ماورا کی رات کے دوسرے پہر پیاس کے احساس سے آنکھ کھلی تھی۔۔۔ اُس نے ہاتھ بڑھا کر پانی کی بوتل اُٹھائی، جو کہ بالکل خالی ہوچکی تھی۔۔۔
اُس کی دائیں جانب بیلا کمبل میں دبکی سو رہی تھی۔۔۔ اُسے اب اکیلے ہی باہر جاکر پانی لانا تھا۔۔۔۔
ماورا اپنی گرم شال اوڑھتی کیمپ سے نکل آئی تھی۔۔۔
کچھ فاصلے پر موجود کیمپ جہاں پر پانی کے کولر رکھے گئے تھے وہاں سے بوتل بھرتے وہ جیسے ہی اپنے کیمپ کی جانب بڑھی اُس کی نظریں سامنے بنے بوائز کے کیمپس پر پڑی تھی۔۔۔
جن میں سے دوسرے نمبر والے کیمپ سے ایک لڑکی کو باہر نکلتا دیکھ ماورا کی آنکھیں باہر کو اُبل پڑی تھیں۔۔۔ اُسے آج شام کو ہی بیلا نے بتایا تھا کہ یہ کیمپ منہاج کا ہے اور وہ اِس میں اکیلا رہ رہا ہے۔۔۔
اِس خیال کے آتے ہی زنیشہ کے تن بدن میں آگ لگ گئی تھی۔۔۔
وہ شدید غصے کے عالم میں منہاج کے کیمپ کی طرف بڑھی تھی۔۔۔ وہ لڑکی تو کب کی اپنے کسی کیمپ میں غائب ہوچکی تھی۔۔۔۔
ماورا شدید غم و غصے کے عالم میں اندر داخل ہوئی تھی۔۔۔۔۔ مگر اندر کا منظر دیکھ وہ پل بھر کو حیران ہوئی تھی۔۔۔۔
اندر صرف منہاج ہی سویا ہوا تھا، مگر بلینکٹ گردن تک اوڑھے وہ گہری نیند میں سویا ہوا لگ رہا تھا۔۔۔
“منہاج درانی بہت بڑے ایکٹر ہو تم مگر آج میں چھوڑوں گی نہیں تمہیں۔۔۔۔رنگے ہاتھوں پکڑا ہے تمہیں آج۔۔۔۔”
ماورا کو یہی لگا تھا کہ منہاج سونے کی صرف ایکٹنگ کررہا ہے۔۔۔ بھلا اُس کے سوتے میں کوئی لڑکی یہاں آکر کیا کرے گی۔۔۔۔
بات کی تحقیق کیے بنا، اِسی سوچ کے ساتھ ماورا دانت پیستی اُس کی جانب بڑھی تھی۔۔۔ اور اُس کے اُوپر سے کمبل کھینچتے اُسے جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔