Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 49

“مجھے آپ سے کچھ پوچھنا ہے۔۔۔۔”
ایک آخری اُلجھن جو مزمل کو لے کر ابھی بھی اُس کے دماغ میں ٹکی ہوئی تھی۔۔۔۔
“بولو۔۔۔۔”
زوہان اچھے سے سمجھ رہا تھا کہ وہ کیا پوچھنا چاہتی ہے۔۔۔۔۔
“لالہ تو مزمل سے ملے تھے نا پھر وہ کیسے آپ کو پہچان نہیں پائے۔۔۔۔۔ اور اُس دن آفس کے باہر مزمل پر آپ کے آدمی گن تانے کھڑے تھے۔۔۔۔ جبکہ آپ تو اندر تھے۔۔۔۔”
زنیشہ کا دماغ بالکل اُلجھ چکا تھا۔۔۔۔ یہ انسان ہمیشہ سے اُسے گھما کر رکھ دیتا تھا۔۔۔ اِس بار تو اُس کا دماغ کچھ زیادہ ہی اُلٹ گیا تھا۔۔۔
زوہان اچھے سے جانتا تھا کہ کوئی اُسے پہچانے نہ پہچانے مگر آژمیر میران اُسے پہچاننے میں دھوکا بالکل بھی نہیں کھائے گا۔۔۔۔۔ اِس لیے اُس نے اپنے گارڈز میں سے اپنے اُس آدمی کو چنا تھا، جو اکثر سیکورٹی ریزنز کی وجہ سے بھی اُس کے باڈی ڈبل کا فریضہ سر انجام دیتا تھا۔۔۔
اور دونوں کے داڑھی مونچھیں لگانے سے بالکل مماثلت ہورہی تھی۔۔۔
آژمیر کے سامنے بھی وہی گیا تھا۔۔۔ اور اُس دن زنیشہ کو آفس تک لے کر بھی وہی آیا تھا۔۔۔۔ اور زنیشہ کو خوفزدہ کرنے کے لیے زوہان نے دھمکی کے طور پر اُسی شخص کے ساتھ اپنے آدمیوں کو وہ سب کرنے کو کہا تھا۔۔۔ جو صرف ایک دکھاوا ہی تھا۔۔۔
زوہان کی بات پر زنیشہ اُسے گھور کر رہ گئی تھی۔۔۔ اِس انسان کا دماغ کہاں کہاں اور کیسے کیسے چلتا تھا کوئی جان نہیں سکتا تھا۔۔۔
وہ اتنا ٹائم بے وقوف بنی تھی اِس بندے کے ہاتھوں۔۔۔ اِسی خفگی کے اظہار کے طور پر زنیشہ وہاں سے پلٹی تھی۔۔۔ مگر دور جانے سے پہلے ہی زوہان اُس کی کلائی دبوچ کر اپنے قریب کھینچ چکا تھا۔۔۔۔۔
زنیشہ نے بمشکل اُس کے سینے پر دونوں ہتھیلیاں ٹکاتے درمیانی فاصلہ برقرار رکھا تھا۔۔۔ جس چکر میں اُس کے ہاتھوں پر لگی ہلدی زوہان کے کریم کلر کے سوٹ پر نشان چھوڑ گئی تھی۔۔۔
اپنی ڈریسنگ کو لے کر حد درجہ کانشیس زوہان میران کو غیرت انگیز طور پر اِس بات سے کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔۔۔۔۔۔۔
“تم مجھے اگلے دونوں فنکشنز میں گھونگھٹ کے اندر چاہیئے ہو۔۔۔۔ مجھ سے پہلے تمہارا سجا سنورا رُوپ کوئی اور نہیں دیکھ سکتا۔۔۔۔ کسی نے اگر ایسا کرنے کی گستاخی کی تو اُس کا انجام بہت بُرا ہوگا۔۔۔۔۔”
زوہان اُس کے کان کی لوح کو ہونٹوں سے چھوتا، اُس کے بالوں کو ہر قید سے آزاد کر گیا تھا۔۔۔ زنیشہ کی دلفریب خوشبو سے اپنی سانسوں کو معطر کرتا زوہان آہستہ آہستہ اپنا اختیار کھو رہا تھا۔۔۔۔
“دھمکیاں دینے کے علاوہ آپ کو کچھ نہیں آتا نا۔۔۔۔ ؟؟؟ اِس کے علاوہ بھی کچھ طریقے ہوتے ہیں بات منوانے کے۔۔۔۔؟؟؟؟؟”
زنیشہ اُس کی دی جانے والی خطرناک دھمکیوں کے بدلے بے قابو ہوتی اپنی دھڑکنوں کو سنبھالنے میں ناکام ہورہی تھی۔۔۔ اُوپر سے اُس کی بڑھتی گستاخیاں الگ زنیشہ کے ہوش اُڑا رہی تھیں۔۔۔
“طریقے بہت ہیں۔۔۔ بشرطِ یہ کہ تم برداشت کر پاؤ۔۔۔۔”
زوہان اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بولتا اُسے اپنے سہارے کھڑا کر گیا تھا۔۔۔۔
جبکہ اُس کی معنی خیز بات زنیشہ کا چہرا بالکل لال کر گئی تھی۔۔۔۔
“یہ۔۔۔ یہ کس کا کمرہ ہے…؟؟؟ میں اِس سے پہلے اِس کمرے میں کبھی نہیں آئی۔۔۔۔”
زنیشہ نے اُس کے خطرناک تیوروں سے گھبرا کر بات ہی بدل دی تھی۔۔۔۔
وہ فل بلیک کلر میں ڈیزائن کیا یہ انتہائی منفرد روم دیکھ کافی حیران تھی۔۔۔ جہاں کی ہر شے میں بلیک کلر ہی نمایاں تھا۔۔۔ اُس نے اِس گھر میں رہنے کے باوجود آج تک یہ نہیں دیکھا تھا۔۔۔
“یہ میرا روم ہے۔۔۔ بچپن کی ساری باتوں کے ساتھ یہ بھی بھول چکی ہو تم۔۔۔ یہاں میران پیلس میں تمہارے علاوہ ایک یہی شے تو ہے میری۔۔۔۔۔۔”
زوہان نے کمرے پر ایک نگاہ ڈالتے زخمی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا تھا۔۔۔
جس پر زنیشہ کتنے ہی لمحے اُس کے خوبرو چہرے سے نظریں نہیں ہٹا پائی تھی۔۔۔ زوہان کی اذیت زنیشہ کا دل بے چین کر گئی تھی۔۔۔ یہ شخص زندگی میں صرف زنیشہ میران کو چاہتا تھا۔۔۔ کہ وہ اُس کی ہوکر رہے۔۔۔ اُس کی فکر کرے۔۔۔ اُس کو سنبھالے۔۔۔۔ اتنے سالوں سے بھٹکتی اُس کی بے چین روح کو قرار بخش دے۔۔۔ مگر وہ کیا کررہی تھی۔۔۔۔ اِس پیارے لیکن ہر ایک سے خفا شخص کی اذیت کا باعث بن رہی تھی۔۔۔۔
یہ شخص اُس کی خاطر اپنی انا، انتقام،غصہ، ضد اور نفرت بھلا کر میران پیلس آیا تھا۔۔۔ یہاں کے لوگوں سے بات کررہا تھا۔۔۔۔ مگر وہ ابھی بھی ملک زوہان پر اپنی زندگی میں اُس کی اہمیت واضح نہیں کر پائی تھی۔۔۔۔
زوہان اُس کی سانسوں میں بستا تھا شاید اِس بات کا اقرار وہ زبان سے نہ کر پاتی۔۔۔۔ لیکن اب اُسے اپنے ہر عمل سے ظاہر کرنا تھا اِس روٹھے ہوئے شخص کو کہ وہ صرف اُسی کی تھی۔۔ اور ہمیشہ اُسی سے جڑ کر رہنا چاہتی تھی۔۔۔۔
اُس کی زندگی کی ساری بہاریں اُس کی زندگی کے محبوب ترین انسان ملک زوہان میران کے دم سے ہی تھیں۔۔۔ جنہیں وہ اب اتنے عرصے بعد ہر گز بھی خود سے دور نہیں جانے دینا چاہتی تھی۔۔۔
“میں آپ کے حوالے سے کچھ نہیں بھولی ہوں۔۔۔ یہ روم چینج ہوچکا ہے۔۔۔۔ اِس لیے میں اِسے پہچان نہیں پائی۔۔۔۔”
زنیشہ نے اُس کے شکوے پر اُسے سرد گھوری سے نوازا تھا۔۔۔۔
“اچھا تو کیا کیا یاد ہے میرے بارے میں تمہیں۔۔۔۔ کیا یہ بات یاد نہیں کہ میں بچپن سے ہی کتنا پوزیسیو ہوں تمہیں لے کر۔۔۔۔ نجانے کتنوں کی تو ہڈیاں بچپن میں ہی توڑ ڈالی تھیں۔۔۔۔ تم پر کسی کی اُٹھتی غلط نگاہ برداشت نہیں ہے مجھے۔۔۔۔ اگر میں نے کسی کو ایسا کرتے دیکھ لیا تو اُس کو ملنے والی سزا زندگی بھر یاد رہے گی اُسے۔۔۔۔”
زوہان کی آنکھوں میں شرارے پھوٹ پڑے تھے۔۔۔۔
“اُف یہ شخص اور اِس کی پوزیسیونیس۔۔۔” زنیشہ یہ سوچتے لال ہوئی تھی۔۔۔ اور ساتھ ہی اُسے زوہان سے مزید محبت محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔
“اور اگر میں نے کسی لڑکی کو آپ کے قریب دیکھ لیا تو۔۔۔۔ اُس کی سزا کیا ہوگی۔۔۔؟؟؟”
زنیشہ زوہان کا کالر مٹھیوں میں جکڑ کر اُسی کے سہارے اُوپر کو اُٹھتی اُسے لمحے کے لیے حیران کر گئی تھی۔۔۔کیونکہ یہ پہلی بار تھا کہ زنیشہ تھوڑا ہی سہی مگر اُس کے قریب آئی تھی۔۔۔۔
“یہ تو تمہیں ڈیسائیڈ کرنا ہے مجھے نہیں۔۔۔۔ میں بھلا کیوں اُن پیاری لڑکیوں کو سزا دوں۔۔۔”
زوہان کو پہلی بار تو آنکھوں کے سامنے زنیشہ کا یہ جیلسی بھرا روپ دیکھنے کو ملا تھا۔۔۔ جسے انجوائے کرتے اُس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نے چھپ دکھلائی تھی۔۔۔
جبکہ اُس کی بات زنیشہ کو اندر تک جلا کر راکھ کر گئی تھی۔۔۔
“تو پھر ابھی بھی اُنہیں کے پاس جائیں۔۔۔۔۔۔ یہاں آپ کر کیا رہیں ہیں؟؟؟”
زنیشہ کا پارہ چڑھ چکا تھا۔۔۔۔۔
@@@@@@@@@
آژمیر حاعفہ کو بانہوں میں اُٹھائے بیڈ کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ اور نہایت ہی احتیاط سے اُسے بیڈ پر لٹاتے اپنا کمبل اوڑھا دیا تھا۔۔۔۔۔ آژمیر میران کو اپنی کوئی شے بھی شیئر کرنے کی عادت نہیں تھی۔۔۔۔۔۔
جس طرح ابھی اُس نے حاعفہ کو یہ جگہ دی تھی۔۔۔ یہ عام بات نہیں تھی۔۔۔۔ آژمیر کے بارے میں سب جاننے والے حاعفہ کی اُس کی زندگی میں اہمیت کا اندازہ لگا سکتے تھے۔۔۔
“پلیز میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔”
آژمیر کو ڈاکٹر کو کال ملاتے دیکھ حاعفہ نے اُس کی مضبوط ہتھیلی کو اپنی نازک سی ہتھیلی سے تھامتے روکا تھا۔۔۔۔
“اگر تم ٹھیک ہو تو تمہارا سر کیوں چکرایا۔۔۔۔؟؟؟؟”
آژمیر نے اُسے سخت تیوروں سے گھورا تھا۔۔۔ وہ شدید پریشانی میں اِس وقت یہ نہیں دیکھ پایا تھا کہ وہ کیسے کھلے عام اُس کی فکر میں پاگل ہورہا تھا۔۔۔ حاعفہ کے سامنے جو چیز وہ نہیں لانا چاہتا تھا وہ نادانستگی میں آچکی تھی۔۔۔۔
“وہ میں نے صبح سے کچھ نہیں کھایا۔۔۔۔ شاید اِس۔۔۔”
حاعفہ کے منہ سے بے اختیار نکلا تھا۔۔۔ آدھی بات کرکے اُس نے زبان دانتوں تلے دبا دی تھی۔۔۔ مگر تب تک تیر کمان سے نکل چکا تھا۔۔۔۔
“واٹ۔۔۔۔ تم نے صبح سے کچھ نہیں کھایا۔۔۔۔اپنی حالت دیکھی ہے۔۔ پہلے ہی اتنی دھان پان سی ہو۔۔۔ مجھے تو سمجھ نہیں آتی تم چلتی پھرتی کیسے ہو۔۔۔۔”
آژمیر اُس کے کمبل میں چھپے نازک سراپے پر ایک بھرپور نگاہ ڈالتا۔۔۔۔ اُسے جی جان سے لرزا گیا تھا۔۔۔۔
اُس نے پیچھے کو کھسکتے کمبل پر گرفت مزید مضبوط کی تھی۔۔۔ اُس کی یہ حرکت آژمیر سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھی۔۔۔
انٹر کام پر ملازمہ کو کھانے کا کہتا وہ حاعفہ کی جانب جھکا تھا۔۔۔۔
“جس دن میں نے قریب آنے کا ڈیسائیڈ کر لیا۔۔۔۔ تو تمہاری یہ کمزور حد بندیاں میرا کچھ بگاڑ نہیں پائیں گی۔۔۔۔ سو ابھی یہ سب کرکے اپنے لیے مشکلات کھڑی کرنے کی کوشش مت کرو۔۔۔۔”
آژمیر اُس کی آنکھوں میں جھانک کر بولتا۔۔۔۔ اُس کے سُرخ پڑتے ناک پر مہرِ محبت ثبت کرگیا تھا۔۔۔
جب اُس کی نظر حاعفہ کے لال ہوتے کانوں پر پڑی تھی۔۔۔ جو جیولری کے وزن برداشت کرتے ہلکان ہورہے تھے۔۔۔۔
آژمیر اُس کے قریب جھکا تھا۔۔۔ حاعفہ کی سانسیں پل بھر کے لیے تھم سی گئی تھیں۔۔۔۔ آژمیر میران کی یہ جان لیوا قربت سہنا آسان نہیں تھا۔۔۔
مگر اُس نرمی بھری گرفت اپنے کانوں پر محسوس کرتے حاعفہ کا چہرا لال ہوا تھا۔۔۔۔
ایک ایک کرتے اُس نے حاعفہ کے سارے زیورات اُتار دیئے تھے۔۔۔۔ حاعفہ تو اِس سارے عمل کے دوران دیوانہ وار نگاہوں سے اِس مغرور شخص کے وجیہہ چہرے کو گھورتی رہی تھی۔۔۔۔ جس چہرے پر وہ مر مٹی تھی۔۔۔۔
دروازہ ناک ہونے پر آژمیر اُٹھ کر ملازمہ سے ٹرے پکڑ کر دروازہ لاک کرتا واپس اُس کی جانب بڑھا تھا۔۔۔
حاعفہ تو یک ٹک اپنی زندگی کا یہ خوبصورت ترین منظر دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ جو ہمیشہ سے اُس کا خواب رہا تھا۔۔۔۔
“اُٹھو۔۔۔۔”
آژمیر نے اُسے پکڑ کر تکیے کے سہارے بیٹھایا تھا۔۔۔۔ وہ اُسے بتانا چاہتی تھی کہ وہ بالکل ٹھیک ہے۔۔۔ مگر آژمیر کے تاثرات کچھ سننے کے نہیں لگ رہے تھے۔۔۔۔
“تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔۔۔ تو تم بتا نہیں سکتی تھی مجھے۔۔۔۔”
آژمیر اپنے ہاتھوں سے اُسے کھانا کھلاتے کڑے تیوروں سے استفسار کرتے بولا۔۔۔
“مگر میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔۔۔۔”
حاعفہ ہولے سے منمنائی تھی۔۔۔۔ اور یہ سچ بھی تھا۔۔۔ یہ زرا سا سر چکرانا تو کچھ بھی نہیں تھا۔۔۔
اُس نے تو شدید بخار میں رقص تک کیا تھا لیکن آج تک کسی نے اُس کی اتنی کیئر کبھی نہیں کی تھی۔۔۔۔۔
اُسے آژمیر میران اپنی ماں کی دی گئی دعاؤں کا ثمر اور اب تک کی ساری اذیتوں کا مداوا معلوم ہورہا تھا۔۔۔۔
اِس انسان کو اُس نے کس قدر ہرٹ کیا تھا مگر یہ اُس کی پوری اصلیت جانے بغیر بھی اُس کے ساتھ اتنی محبت سے پیش آرہا تھا۔۔۔
“میں اچھے سے جانتا ہوں کہ تم ٹھیک ہو۔۔۔۔۔ اور تمہیں میری اس کیئر کی کوئی ضرورت ہے بھی نہیں۔۔۔ مگر میں کسی کو بھی اپنے سامنے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا۔۔۔ چاہے وہ تم ہو یا کوئی اور۔۔۔”
آژمیر سخت الفاظ ادا کرتا اُسے کھانا کھلا کر اُس کے پاس سے اُٹھا تھا۔۔۔۔
جبکہ اُس کی بات پر دکھی ہونے کے بجائے حاعفہ مسکرا دی تھی۔۔۔ اُس نے آژمیر کی آنکھوں میں اپنے لیے جو فکر دیکھی تھی وہ کبھی کسی اور کے لیے نہیں ہوسکتی تھی۔۔۔۔
بس اُس کا یہ کھڑوس دشمنِ جاں اُس کے سامنے اتنی جلدی ہار ماننے کو تیار نہیں ہورہا تھا۔۔۔ اِس لیے یہ سب کررہا تھا۔۔۔
حاعفہ بھی اُس کے پیچھے بیڈ سے اُٹھی تھی۔۔۔
“مجھے اپنے روم میں جانا ہے۔۔۔۔”
آژمیر کو موبائل پر مصروف ہوتا دیکھ وہ اندر ہی اندر ناراضگی کا اظہار سا کرتی دروازے کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔۔۔
جب دروازے تک پہنچنے سے پہلے ہی آژمیر آگے بڑھ کر اُسے بانہوں میں اُٹھا چکا تھا۔۔۔۔ اور بنا ایک لفظ ادا کیے باہر نکل آیا تھا۔۔۔
حاعفہ تو آژمیر کی اتنی قربت کے ساتھ ساتھ باہر کسی کے دیکھ لینے کے خوف سے بھی آدھی ہوئی تھی مگر وہاں باہر گیلری میں کوئی نہیں تھا۔۔۔۔
حاعفہ کے روم میں داخل ہوتے آژمیر نے آگے بڑھ کر اُسے بیڈ پر لٹا دیا تھا۔۔۔۔
“اب صبح تک یہاں سے اُٹھنا مت۔۔۔۔ ورنہ تمہیں یہاں سے اُٹھا کر واپس اپنے روم تک لے جانے میں مجھے زیادہ ٹائم نہیں لگے گا۔۔۔۔”
آژمیر اُس کی پیشانی پر بوسہ دے کر وارن کرتا واپس پلٹا تھا۔۔۔
حاعفہ نے محبت وارفتگی بھری نگاہوں سے اُس کی چوڑی پیشانی کو نہارا تھا۔۔۔۔ اور پھر آسودگی سے پلکیں موند لی تھیں۔۔۔ وہ اچھے سے جانتی تھی کہ آج اُسے نیند نہیں آنے والی تھی۔۔۔۔۔ وہ سونا چاہتی بھی نہیں تھی۔۔۔۔
اِس گزرے اپنی زندگی کے حسین لمحوں کو وہ آج کی پوری رات آنکھوں میں بسا کر گزارنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔
@@@@@@@@@
زنیشہ زوہان سے ناراضگی کا اظہار کرتی اپنا بازو چھڑانے کی کوشش کرتی وہاں سے جانے کو تیار تھی۔۔۔
وہ مایوں کے لہنگے میں اب کھلے بالوں کے ساتھ مزید حسین لگ رہی تھی۔۔۔
“وہ میری مایوں کی دلہنیں نہیں ہیں۔۔۔۔۔ تم ہو۔۔۔ اِس لیے تمہارے پاس ہی آؤں گا نا۔۔۔۔”
زوہان اگلے ہی لمحے اُسے بانہوں میں اُٹھاتا صوفے کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔ جبکہ زنیشہ اپنی فرار کی ساری راہیں مسدود ہوتی دیکھ مزید گھبرا گئی تھی۔۔۔
“یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔۔۔۔؟؟؟ پلیز مجھے نیچے اُتاریں۔۔۔۔”
زوہان کے بہت زیادہ قریب آجانے پر اُس کا دل بے ہنگم انداز میں دھڑک اُٹھا تھا۔۔۔۔
“جو مایوں کی دلہن کے ساتھ کیا جاتا ہے۔۔۔۔”
زوہان اُسے کی غیر ہوتی حالت پر محظوظ ہوتا اُسے صوفے پر بیٹھا گیا تھا۔۔۔۔
زنیشہ کی شرم سے سُرخ پڑتی رنگت اور اُٹھتی گرتی گھنیری پلکوں کا رقص اُسے پاگل کررہا تھا۔۔۔۔ مگر اپنی ناراضگی برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ وہ پوری احتیاط برتے ہوئے تھا۔۔۔۔
زوہان اُسے صوفے پر بیٹھا کر اُس کے سامنے ٹیبل پر بیٹھتا زنیشہ کی سانسیں منتشر کر گیا تھا۔۔۔۔
زوہان اِس وقت کریم کلر کے سوٹ میں ملبوس، اپنے سیاہ بالوں جیل کی مدد سے سیٹ کیے، اپنی مغرور نقوش اور چوڑی پیشانی کے ساتھ زنیشہ کو اپنا مزید دیوانہ بنا رہا تھا۔۔۔۔
“کک کیا؟؟؟؟”
زنیشہ پوری زرد ہوچکی تھی۔۔۔ کیونکہ زوہان سے وہ کبھی بھی کچھ بھی اُمید کرسکتی تھی۔۔۔۔
جب اُس کی نظر سائیڈ ٹیبل پر رکھے باول پر پڑی تھی۔۔۔ جسے میں گھلی ہلدی دیکھ زنیشہ نے حیرانگی سے زوہان کو دیکھا تھا۔۔۔۔
“آپ مجھے ہلدی لگائیں گے۔۔۔۔؟؟”
زنیشہ کو بالکل بھی یقین نہیں آیا تھا۔۔۔۔ کیونکہ وہ جانتی تھی کہ زوہان کو یہ ساری رسمیں فضول ہی لگتی تھیں۔۔۔ اور وہ اِن کے حق میں تھا بھی نہیں۔۔۔۔
“میں نے سنا ہے کسی سے کہ اگر دلہا دلہن کو ہلدی لگاتا ہے تو دلہن پر رُوپ زیادہ آتا ہے۔۔۔ تو سوچا کیوں نہ میں بھی یہ کرکے دیکھ لوں۔۔۔”
زوہان کی معنی خیزی سے کہیں بات پر زنیشہ کے گال تپ اُٹھے تھے۔۔۔ اُس کا دل چاہا تھا۔۔۔ ماورا کا ابھی جاکر اپنے ہاتھوں قتل کردے۔۔۔ اُسی نے یہ بات مذاق میں ماورا کے سامنے کہی تھی کیونکہ اُس کی شروع سے ایسی اُلٹی سیدھی خواہشیں رہی تھیں۔۔۔ مگر اُسے زرا بھی اندازہ نہیں تھا کہ باقی سب باتوں کے ساتھ زوہان اُس کی یہ بات بھی پوری کرنے پہنچ جائے گا۔۔۔۔
زنیشہ اب کچھ بولنے کے قابل ہی نہیں رہی تھی۔۔۔۔۔ اُس کی لرزتی پلکیں اور کپکپاتے ہونٹ زوہان کو پاگل کررہے تھے۔۔۔۔
اُس نے ہاتھ بڑھا کر زنیشہ کے دائیں گال پر ہلدی لگا دی تھی۔۔۔ زنیشہ کی رنگت اُس کے دھکتے لمس پر تپ اُٹھی تھی۔۔۔۔
“زنیشہ میران پر صرف ملک زوہان کا حق ہے۔۔۔۔۔ “
یہ الفاظ ادا کرتے زوہان کی آنکھیں مسکرائی تھیں۔۔۔ اُس نے جھک کر زنیشہ کی ٹھوڑی پر لب رکھ دیئے تھے۔۔۔۔
اُس کی گھمبیر سرگوشی اور شدت بھرے لمس پر زنیشہ کی جان نکل گئی تھی۔۔۔
جب اگلے ہی لمحے زوہان اُس کے سامنے سے اُٹھتا رُخ پھیر گیا تھا۔۔۔۔
زنیشہ جانتی تھی وہ بہت سی باتیں دل میں جمع کیے ابھی بھی اُس سے ناراض تھا۔۔۔۔۔ جن کو ختم کرکے اُسے منانا بہت مشکل ہونے والا تھا۔۔۔۔ مگر زنیشہ زوہان میران کے اندر پنپتے ہر دکھ اور درد کو سمیٹ لینا چاہتی تھی۔۔۔۔
وہ ہاتھ میں ٹشو پکڑے اپنی جگہ سے اُٹھی تھی۔۔۔۔۔ اور بے قابو ہوتی دھڑکنوں کے ساتھ زوہان کے مقابل آن کھڑی ہوئی تھی۔۔۔
بنا کچھ بولے زوہان کے مزید قریب ہوتے وہ اُس کی شرٹ پر لگے ہلدی کے داغ ٹشو کی مدد سے صاف کرنے لگی تھی۔۔۔۔
زوہان بنا کوئی موومنٹ کیے یک ٹک اُسے دیکھے گیا تھا۔۔۔۔
“میں اپنے شوہر سے اپنی ہر نادانی کی معافی مانگ کر اُسے منا لینا چاہتی ہوں۔۔۔ “
زنیشہ اُس کے پیروں پر پیر رکھ کر اُس کے قریب ہوتی اُس کی ٹھوڑی پر لب رکھے واپس پلٹی ہی تھی۔۔۔ جب زوہان اُس کے اتنے خوبصورت انداز پر پوری طرح گھائل ہوا تھا۔۔۔
زنیشہ کا اُسے والہانہ نظروں سے دیکھنے کا انداز ، اُس کے گالوں کی سُرخی اور اظہار کرنے کی خاطر کھلتے بند ہوتے یہ نازک لب اُس پر واضح کرجاتے تھے کہ یہ لڑکی واقعی اُس کی دیوانی تھی۔۔۔
اور اب تو زنیشہ کا یہ جان لیوا عمل زوہان کا ضبط ختم کرگیا تھا۔۔۔
زنیشہ کی نازک سی کمر میں بازو حمائل کرکے اُسے اُوپر اُٹھاتے زوہان اُس کے بالوں میں چہرا چھپاتے اُس کی گردن پر جھک گیا تھا۔۔۔ زنیشہ اُس سے ایسی کسی شدت پسندی کی اُمید نہیں رکھ رہی تھی۔۔۔
اُس کا شدت بھرا لمس محسوس کرتے زنیشہ کی جان نکل گئی تھی۔۔۔۔
“میں اپنی بیوی کے منانے کا منتظر رہوں گا۔۔۔ “
زوہان اُس کی گردن پر اپنی محبت کا گہرا نشان چھوڑتا اُس کے کانپتے لرزتے وجود پر ایک شوخ نگاہ ڈالتا وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔
زنیشہ جو کچھ دیر پہلے بہادر بنی زوہان کے سامنے جا کھڑی ہوئی تھی۔۔۔ اُس کی جوابی کارروائی زنیشہ کے ہوش اُڑا گئی تھی۔۔۔ یہ شخص اُس کی سوچ سے بھی زیادہ مشکل تھا۔۔۔ کب، کہاں، کیسے اُس کا موڈ بدل جاتا تھا یہ کبھی کوئی سمجھ ہی نہیں پایا تھا۔۔۔
زنیشہ نے ہاتھ بڑھا کر اپنی گردن کو چھوا تھا۔۔۔ جہاں ابھی بھی اُسے کوئلے دھکتے محسوس ہورہے تھے۔۔۔۔ جب کافی دیر بعد سانسیں بحال ہوتے ایک شرمگی سی مسکراہٹ اُس کے ہونٹوں پر پھیل گئی تھی۔۔۔۔
@@@@@@@@@
“میران پیلس میں بجتی شہنائیاں جلد ہی ماتم میں بدلنی ہونگیں۔۔۔ اور کسی بھی قیمت پر اُن دونوں بھائیوں کو ایک نہیں ہونے دینا۔۔۔۔ اگر وہ ایک ہوگئے تو اُنہیں برباد کرنا ناممکن ہوجائے گا۔۔۔۔”
اکرام حنیف اپنے سارے پلانز فیل ہوجانے کے بعد اب ہاتھ ہر ہاتھ دہرے نہیں بیٹھنا چاہتا تھا۔۔۔۔ میران پیلس میں لگی رونقیں اُس کے اندر آگ لگا رہی تھیں۔۔۔۔ اُس کی سگی اولاد کی شادی تھی اور وہی وہاں داخل بھی نہیں ہوسکتا تھا۔۔۔۔
“تو کیا کریں اب ہم۔۔۔۔ اُن دونوں کو ہر طرح سے کمزور کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔۔۔۔ مگر وہ کوئی سرا ہاتھ ہی نہیں دے رہے۔۔۔ “
اکرام حنیف کا بھتیجا بھی زنیشہ کو ہاتھ سے نکلتا دیکھ اب پوری طرح ایکٹیو ہوچکا تھا۔۔۔
“اب ہے ایک آژمیر میران کی کمزوری۔۔۔۔۔ جو ہماری ہی بنائی گئی ہے۔۔۔۔ اُس کے ذریعے آژمیر میران کو آسانی سے توڑا جاسکتا ہے۔۔۔۔ اور ویسے بھی اُس لڑکی نے ہمیں دھوکا دیا تھا۔۔۔ اُس سے بھی بہت سارے حساب نکلتے ہیں ہمارے۔۔۔۔ ایک تیر سے دو شکار ہوجائیں گے۔۔۔ اور یہ نشانہ چلایا جائے گا زوہان کے کندھے پر رکھ کے۔۔۔۔ جس سے نہ صرف اپنی محبت کھو دینے پر آژمیر میران پاگل ہوجائے گا۔۔۔ بلکہ ایک بار پھر زوہان کو اپنا دشمن مانتے نفرت سے دھتکار دے گا۔۔۔ اور اُن کی اِس بربادی کے ساتھ ہی ہماری کامیابی ہوگی۔۔۔۔۔”
اکرام حنیف سارا پلان ترتیب دیتا آخر میں کمینگی سے مسکرا دیا تھا۔۔۔۔۔
@@@@@@@@@
“حاعفہ بیٹا آج بہت عرصے بعد میران پیلس کے تمام افراد ایک ساتھ ناشتہ کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔۔۔۔ میں چاہتی ہوں آپ بھی ہمارے ساتھ شامل ہوں۔۔۔۔”
حاعفہ شاور لے کر بال ڈرائیر سے خشک کرنے میں مصروف تھی۔۔۔ جب حمیرا بیگم دروازہ ناک کرتے اندر داخل ہوئی تھیں۔۔۔
ماورا تو کب کی نیچے جاچکی تھی۔۔۔ مگر حاعفہ آژمیر سے سامنا کرنے کے خیال سے جھجھک رہی تھی۔۔۔ اُس کے سامنے آنے کا سوچ کر ہی اُس کا دل زوروں سے دھڑک اُٹھتا تھا۔۔۔
“جی ماما میں بس آہی رہی تھی۔۔۔”
حاعفہ اُن کی اتنی محبت پر چاہ کر بھی اُنہیں انکار نہیں کر پائی تھی۔۔۔۔
وہ اِس وقت مہرون گرم سوٹ میں ملبوس دھلی دھلائی سفید رنگت کے ساتھ بہت دلکش لگ رہی تھی۔۔۔ اُس نے اپنے نیم گیلے لمبے گھنے باولوں کو کمر پر ہی کھلا چھوڑ کر دوپٹہ اپنے گرد اچھے سے پھیلا لیا تھا۔۔۔۔
ہونٹوں پر پنک کلر کا لائٹ سا لپ گلاز لگا رکھا تھا۔۔۔ جو اُس کی گلابیاں چھلکاتی شفاف رنگت پر مزید چار چاند لگا رہا تھا۔۔۔۔
حمیرا بیگم کی معیت میں دھڑکتے دل کے ساتھ اُس نے ڈائننگ ہال میں قدم رکھا تھا۔۔۔۔ جہاں سامنے ہی اُس ستمگر کو اپنی سحر انگیز شخصیت کے ساتھ بیٹھا دیکھ اُس کی سانسیں اتھل پتھل ہوئی تھیں۔۔۔۔
وہاں تقریباً خاندان کے سبھی لوگ موجود تھے۔۔۔
آژمیر کے ساتھ والی سیٹ پر سویرا کو بیٹھا دیکھ حاعفہ کا موڈ آف ہوا تھا۔۔۔۔
کل رات کے بعد آژمیر کو لے کر اُس کی سوچ بدل چکی تھی۔۔۔ اب وہ اُس سے دور نہیں جانا چاہتی تھی۔۔۔ بلکہ اُس کے قریب سے قریب تر ہونا چاہتی تھی۔۔۔ وہ اُس کا شوہر تھا۔۔۔ اور اُس پر وہ اپنے علاوہ کسی لڑکی کو حق جتاتا نہیں دیکھ سکتی تھی اب۔۔۔۔۔
وہ آنکھوں میں اُداسی بھرے آژمیر کے سامنے والی کرسی پر آن بیٹھی تھی۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔