Gunah Se Wapsi By Mariyam Imran Readelle50215 Last Episode Part 2 (1)
Rate this Novel
Last Episode Part 2 (1)
ولی نے اعیرہ کو الگ کیا اور کہا تم۔بے فکر رہو میں کچھ نہ کچھ سوچتا ہو ابھی ہم یہں نہی ملینگے اوکے بس تمہیں ہر حال ۔یں میرا ساتھ دینا ہے۔
ولی کی بات سن کے اعیرہ نے ہاں میں گردن ہلائی اور تو ولی کوبھی سکون ہوا اور اس نے اعیرہ کو جانےکوکہا۔۔
صبح سب ہی ناشتہ کی ٹیبل پہ موجود تھے جب اعیرہ اور ہمایوں نیچے آئے سب ہی ہمایوں کے آنے سے بہت خوش تھے امجد کے تو آج پاؤں ہی زمین پہ نہی ٹک رہے تھے۔۔
زوباریہ اور ضامن تو مانو ہمایوں کے فرینڈ ہوگئے تھے ۔۔
ولی تو ہمایوں کو دیکھ کے کافی ناخوش تھا ایک تو رتبہ اور حیثیت میں بہت زیادہ تھا دوسرا الللہ نے ہمایوں کو پور مرادنہ وجاہت کا شہکار بنایا تھا۔
ہمایوں اور اعیرہ ایک ساتھ کافی اچھے لگتے تھے یہ وہاں بیٹھا ہر نفوس کئ بار بول چکا تھا۔
ابھی وہ سب لوگ ناشتہ میں مصروف تھے جب ایک نسوانی آواز ابھری ۔
اسلام وعلیکم ۔۔
مشکبار کی آواز پہ سب نے ہی مشکبار کی طرف دیکھا اور سلام کا جواب دیا جبکہ اعیرہ اور ہمایوں سوالیاں نظروں سے مشکبار کو دیکھ رہے تھے ۔جب مبشرہ نے ہمایوں کا حیران کن چہرہ دیکھ کے کہا۔
ہمایوں بیٹا یہ میرے ولی کی بیوی ہے۔۔
مبشرہ کی کہی بات پہ وہاں بیٹھے کسی نفوس کو کچھ نہی ہو اور ہمایوں نے مسکرا کے اسے سلام کیا ۔مگر اعیرہ کی نظریں بلا جھجک ولی پہ اٹھی اور اسکی آنکھیں بھیگنے لگی اس نے کمال ضبط سے اپنے آنسو پیے۔
ہمایوں نے مشکبار سے کہا۔
آپ سے تو کل سے ملاقات ہی نہی ہوئ۔۔
ہاں تو آپ سے بھی 18 سال بعد ملاقات ہوئ۔
مشکبار کےروبروجواب پہ ہمایوں کے لب مسکرائے اور اس نے کہا۔یعنی آپ میرے شخصیت سے انجان نہی۔۔
مشکبار نے بھی مسکرا کے جواب دیا
بلکل نہہی امی تھکتی ہی نہی اور نہ مبشرہ ممانی ہمایوں ہمایوں کرتے کرتے ۔۔
مشکبار کے جواب پہ سب ہی مسکرا اٹھے ۔ناشتے کے دوران سب ہی باتوں میں مصروف تھے وقفے وقفے ہمایوں امجد سے بھی بات کررہا تھا اور امجد کیلیے یہی کافی تھا۔
مگر اعیرہ نے دوبارہ نگاہ اٹھا کے ولی کو نہی دیکھا۔
پورا دن ولی نے اعیرہ کو ہزاروں میسج کیہ جسمیں ایک ہی درخواست تھی کے ایک بر میری بات سن لو مگر اعیرہ نے ولی کی ایک بھی بات نہی سنی اور پھر ہمایوں اور اعیرہ دوبارہ آنے کا وعدہ کرکے لاہور آگئے اور اس کے ایک دن بعد ولی بھی جبکہ مشکبار کو مبشرہ نے روک لیا تھا کیونکہ اسکی طبیعت کچھ ٹھیک نہی لگ رہی تھی۔۔
#
ہمایوں اب پہلے کی طرح بزی نہی تھا اب وہ اعیرہ کا پھر سے دیہان رکھنے لگا تھا۔مگر اب اعیرہ کا دل وہ نہی رہا ۔اس نے ولی کے نہ تو کسی ٹیکس کا جواب دیا اور نہ ہی کوئ کال اٹینڈ کی۔۔
آج بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہمایوں ضروری کام سے صبح ہی نکل گیا اس کی بہت اہم میٹنگ تھی اس پروجیکٹ کے بارے میں جس پہ وہ دن رات کام کررہا تھا۔۔
ا
اعیرہ اپنی کلاس لے کرنکلی تو اسکے نمبر پہ ولی کی کال آئ ۔۔
اعیرہ جو بار بار کال کاٹ رہی تھی ولی کے بھیجے میسج پہ کال ریسیو کرنے پہ مجبور ہوگئے جس میں صاف صاف لکھا اگر میری کال اگلے ایک منٹ میں تم نے نہی اٹھائ تو اگے کی زمیدار تم خود ہونگی۔۔
ولی کا میسج پڑھتے ہی اعیرہ نے کال اٹھائ تو ولی نے کہا۔
میں اس وقت لاہور میں ہو اور تمہارے کالج کے باہرکھڑا ہو فورا او باہر۔۔
ولی کی بات سن کے اعیرہ کا موبائل اس کے ہاتھ سے چھوٹتے چھوٹتے بچا۔
اس نے کالج سے طبیعت خرابی کا بہانہ کیاکالج سے باہر نکلی تو ولی گاڑی کیساتھ کھڑا تھا ۔۔
ولی نے اعیرہ کیلیے دروازہ کھولا اور اعیرہ کے بیٹھتے ہی گاڑی زن سے اگے بڑھا دی ۔۔۔۔۔
پوری گاڑی میں نہ اعیرہ کچھ بولا نہ ولی نے ۔۔
گاڑی ایک خوبصورت ہوٹل میں جاکے رکی جہاں ولی نے ایک روم بک کروایا ہوا تھا۔۔۔
اعیرہ اور ولی ایک ساتھ ہوٹل میں داخل ہوئے دونوں ہی ریسپشن پہ کھڑے تھے جب ولی نے اپنے نام س بکس کیہ روم کی چابی مانگی تو کسی کی بلاجھجک نظر ولی پہ گئ مگر ولی کیساتھ کسی کو دیکھ کے کسی کی آنکھیں پھترا گئ ۔۔
#
ہمایوں اور اسکے ساتھ میٹنگ کرنے والے لوگ ابھی میٹنگ فائنل کی تھی ہمایوں کو پورا یقین تھا کے یہ پروجیکٹ اسے ہی ملے گا۔میٹنگ کے بعد سب ہی نکلنے لگے جب کسی کے نام کے پکارنے پہ ہمایوں جو ریسپشن کے پاس سے گزرا رہا تھا ایک دم رکا اور مسکرا کے ولی کو دیکھا مگر ولی کے پیچھے کسی کو دیکھ کے ہمایوں کی آنکھیں پھترا گئ۔۔
ولی اور اور اعیرہ اپنے کمرے کی طرف جانے لگے ۔ہمایوں بھی انکے پیچھے چل دیا ۔
وہ دونوں کمرے میں داخل ہوئے مگر کمرے کا دروازہ مکمل بند نہی کیا ہمایوں وہی دیوار سے لگ کے انکی باتیں سننے لگا۔
ولی نے اعیرہ کو بیٹھا کے خود اسکے پیروں میں بیٹھا اور کہا۔
اعیرہ میں جانتا ہو میں نے تم سے اپنی شادی کی بات چھپا کے مین نے بہت بڑی غلطی کی مگر اسکا مطلب ہر گز یہ نہی میں تم سے ٹائم پاس کرنا چاہتا ہو تم سے اب دوری مجھ سے برداشت نہی میں مشکبار کو بہت جلد طلاق دینے والا ہو تم بتاؤ تم کب ہمایوں سے طلاق لوگی۔۔
اعیرہ نے ایک ٹھنڈک آہ بھری اور کہا۔
میں کراچی جاونگی جبھی بھائ سے بات کرونگی ایک بار میں نے انکی مانی تھی اس بار وہ میری مانے گے میری اور ہمایوں کی عمر میں بہت فرق ہے میں ایڈجسٹ نہی ہو رہی اسکے ساتھ جب سب نے ہی اپنی مرضی سے اپنی محبت سے شادی کی تو میں کیوں نہی کرو مجھے نہی پسند ہمایوں زرا بھی میں نہی رہنا چاہتی اسکے ساتھ ۔۔
مجھے تمہارے ساتھ رہنا ہے ولی ۔۔
وہ دونوں اور نجانے کیا کیا باتیں کررہے تھے مگر ہمایوں ساکن حالت میں دیوار سے ٹیک لگاتا ہو نیچے بیٹھ گیا اسکی آنکھوں سے تیزی سے انسو جاری تھے ۔اتنا بڑا بزنس ٹائیکون آج بچوں کی طرح رو رہا تھا اور سست روی سے چلتا ہوا ہوٹل سے باہر نکل گیا ۔
ہمایوں گاڑی چلاتے ہوئے بار بار اپنے بہتے آنسو صاف کررہا تھا۔۔کئ بار اسکی گاڑی ایکسیڈنٹ ہوتے ہوتے بچی اعیرہ کی باتیں اسکی دل چیر رہی تھی۔۔۔
“پیار جو ملا مجھ کو جینے کا بہانہ تھا۔۔
کیا پتہ تھا جان لے لیگا دل میرا نشانہ تھا ۔۔
درد تھا نصیب میں درد کا نبھانہ تھا۔۔۔
آگ کے سمندر میں ڈوب کے ہی جانا تھا۔
اشک پلکوں تلے چھپا لیتے ۔۔
دل کی یہ آرزو رہی کاش تم۔۔۔
وفا بنھالیتے۔۔۔””
گاڑی چلاتے چلاتے ہمایوں نے زور سے پکارا ۔۔
اعیرہہہہہہہہہہہہہ۔کیوں کیا یار ۔۔۔
#
ولی اعیرہ کو چھوڑ کے کراچی کیلیے نکل پڑا تھا ۔اعیرہ گھر میں داخل ہوئے تو آج معمول سے زیادہ خاموشی تھی وہ یہ ہی سمجھ رہی تھی کے آج بھی ہمایوں دیر تک آئے گا مگر اس نے جب کمرے میں پہنچ کے لائٹ اون کی تو ہمایوں کو اپنا منتظر پایا۔
اعیرہ ہمایوں کو دیکھ کے چونکی مگر اس سے زیادہ ڈر اسے ہمایوں کی آنکھیں دیکھ کے لگا جو ضرورت سے زیادہ لال تھی ۔۔
اعیرہ نے ہچکچاتے ہوئے ہمایوں سے کہا۔
آپ جلدی ا گئے؟؟
ہمایوں نے غور سے اعیرہ کو دیکھا اور مسکرا کے کہا ۔۔
ہاں پرنسس سوچا آج تمہیں سرپرائز دے دو مگر تم تو اتنی بڑی ہوگئ کے مجھے ہی سرپرائز دینے لگی۔۔۔
مطلب اعیرہ نے نروس ہوکے کہا۔
ارے کچھ نہی میری پرنسس ادھر آؤ ۔یہ بول کے ہمایوں نے اعیرہ کی طرف ہاتھ بڑھایا جو اس نے جھجھکتے ہوئے تھام لیا ہمایوں نے ایک دم اسے لیکے بیڈ پہ بیٹھا اور غور غور سے اسے دیکھنے لگا اور پھر تیزی سے اسکے لبوں پہ اپنے لب رکھ دیے اعیرہ کا سانس لینا مشکل ہورہا تھا کیونکہ آج آج اعیرہ کو ہمایوں کے پیار میں نرمی نہی بلکے شدت اور جنون دیکھائی دیا
اعیرہ کے لبوں کو تھامے تھامے ہی ہمایوں نے اس کی شرٹ ایک دم اتار دی اعیرہ کی آنکھیں ایک دم کھل گئی ہمایوں نے اعیرہ کے لبوں کو آزاد کیا تو اسکے لبوں سے خون نکلنے لگا ۔اعیرہ ہمایوں کی اس حرکت سے کافی ڈر گئ
ہمایوں نے اس کے بعد اعیرہ کے جسم پہ کئی جگہ اپنے لب رکھے کہی اپنے دانت تکلیف کی وجہ سے اعیرہ کے آنسو نکل۔پڑے مگر کمرے میں اندھیرا ہونے کی وجہ سے اعیرہ یہ نہی دیکھ پائ کے ہمایوں کی آنکھ سے بھی آنسو جاری تھے کبھی گردن پہ کبھی لبوں پہ ہمایوں نے اپنے لبوں کی جگہ اپنے دانت رکھے کہہی بار اعیرہ نے اپنی چیخ کا گلا گھوٹا۔۔
اعیرہ کے موبائل پہ بار بار ولی کی کال آرہی جو سائئلنٹ تو تھا مگر بلینک ہورہا تھا ہمایوں کی نظریں جب ر موبائل پہ گئ تو ہمایوں کے پیار میں اور غصہ اور شدت آگئ آج اس پہ اعیرہ کی تکلیف کا بھی کوئ اثر نہی ہورہا تھا۔اس نے پورے استحقاق سے غصہ کیساتھ اعیرہ کی روح پہ اپنی آج سہی مانو پہ چاپ چھوڑی کئ بار تکلیف کے باعث اعیرہ نے اپنے اوپر سے ہمایوں کو ہٹانا چاہا مگر ناکام رہی آج ہمایوں نے اسے صحیح طرح سمجھا دیا تھا وہ اسکی ہے۔۔
ایک گھنٹے عزیت سمیت پیار دینے کے بعد ہمایوں اعیرہ سے لگ ہوا تو وہ بیہوش ہوچکی تھی۔۔
ہمایوں نے ایک نظر اعیرہ کے وجود کو دیکھا جہاں کہی جگہ ہمایوں کے پیار کے نشان تھے جہاں سے اب خون جمنا شروع ہوچکا تھا ۔ہمایوں نے اعیرہ کو کپڑے پہنائے ۔اورخود دوسرے کمرے میں آکے زور زور سے رونے لگا اس نے اج اعیرہ کو جو سبق سیکھایا تھا وہ جانتا تھا اسے بہت تکلیف ہوئ مگر آج جوہمایوں کی روح چھلنی ہوئ تھی وہ اس تکلیف سے کئ گناہ زیادہ تھی۔۔
ہمایوں نے کمرے کی ایک ایک چیز تیس نہس کردی جتنی تکلیف آج اس نے اعیرہ کو دی تھی اس سے کئ گناہ زیادہ اس نے خود کو دی تھی دیوار سے لگ کے وہ روتے روتے جب تھک گیا تو اٹھا اور فریش ہوکے اعیرہ کا سامان پیک کرنے لگا۔
اور دوبارہ کمرے میں گیا تو اعیرہ کوہوش آچکا تھا۔اور وہ اٹھ کے بیٹھی تھی ۔ہمایوں نے ایک نظر اسے دیکھا جہاں اعیرہ کے چہرے پہ ہزاروں شکوہ تھے اس نے اعیرہ کا چہرہ دونوں ہاتھوں سے تھاما اور کہا ۔۔
کیا ہوا برا لگا میرا ایسا کرنا مگر اب تو تم کافی بڑی ہوگئ ہو تو میں نے سوچا میں بھی تمہیں بتا دو میں کتنا بڑا ہو تم سےکافی دیر سے تمہارا موبائل بج رہا ہے اور لگتا کافی ضروری ہے اسکا تم سے بات کرنا اب ایسا کرو جلدی فریش ہوجاو ہم۔کراچی جا رہے یہ بول کے ہمایوں اس کے پاس سے اٹھا اور اعیرہ کو گودھ میں اٹھا کے فریش ہونے کیلیے واش روم میں اتارا اور کہا۔۔
جلدی فریش ہو ہمیں نکلنا ہے یہ کہہ کے ہمایوں گاڑی میں سامان رکھنے لگا ۔۔
اعیرہ فریش ہوکے باہر آئ تو اپنا موبائل چیک کیا جس میں لاتعداد ولی کی کال تھی اور ساتھ میں میسج بھی تھا ارجنٹ کام سے کاغان جانا پڑھ رہا ہے دو تین دن لگ جائے گے۔۔
اعیرہ نے مایوسی سے موبائل اپنے پرس میں ڈالا وہ خوش ہوگئ تھی کراچی جانے کا سن کے چلو وہاں ولی سے ملاقات ہوجائے گی۔ مگر اب افسوس ۔۔
اعیرہ اور ہمایوں کراچی پہنچے تو ہمایوں نے المیر کو کال کرکے ایئرپورٹ بلایا مگر المیر ہمایوں کا چہرہ دیکھ کے پریشان ہوا مگر بولا کچھ نہی۔۔
ہمایوں نے اعیرہ کا ہاتھ المیر کے ہاتھ میں دیا اور کہا۔
میری امانت رکھ اپنے پاس زرا ضروری کام سے جانا ہے آکے لیے جاونگا اسے یہ کہہ کے المیر کی بنا بات سنے ہمایوں وہی سے پلٹ گیا۔۔اب اسکا رخ خان حویلی کی طرف تھا۔۔۔
ولی کو امجد نے کسی زمینی کام سے بلایا تھا وہ رات میں پہنچا تھا صبح سب ہی ناشتہ کرنے میں مصروف تھے جب کسی آندھی کی طرح ہمایوں خان حویلی میں داخل ہوا اور ایک زور دار لات چائے پیتے ولی کو ماری ۔ہمایوں کو یو اچانک دیکھ کے سب ہی دنگ تھے۔اس نے ولی کو بے دردی سے مارنا شروع کردیا مگر امجد سمیت کسی میں اتنی ہمت نہی تھی کے وہ ولی کو بچاتے یہ پھر ہمایوں کو روکتے۔۔۔
بہت ڈرتے ڈرتے مبشرہ آگے بڑھی اور ہمایوں کو روکا تو مبشرہ دیکھ کے حیران رہ گئ کے ہمایوں رو رہا تھا ۔
مگر ولی جان چکا تھا کے ہمایوں کے ایسے سلوک کی وجہ۔
مبشرہ نے ہمایوں سے پوچھا۔
کیا ہوا ہے ہمایوں کچھ بتاؤ تو ایسے کیوں مار رہے ہو ولی کو کیا کیا ہے اس نے کچھ بتاؤ تو؟؟؟؟
وہی کیا جو آپکے شوہر نے کیا تھا آج سے 28 سال پہلے ہمایوں کی دھاڑ سے پوری خان حویلی لرز گئ تھی۔
امجد کا ہاتھ بے ڈھرک اپنے دل پہ گیا۔۔
مطلب ہمایوں کیا کہنا چارہے ہو
میری اعیرہ کو بہکانے کی۔کوشش کی اس نے اس سے شادی کرنا چاہتا ہے یہ بغیرت اور اسکو اس حد تک یہ ورغلا چکا ہے کے وہ مجھے چھوڑنے کیلیے بھی تیار ہے۔۔
یہ بول کے ہمایوں نے رونا شروع کردیا۔۔
ولی نے اٹھ کے اپنے ہونٹ سے خون صاف کیا اور کہا۔
اعیرہ میری ہے ہمایوں خان میں اس سے محبت کرتا ہو اور وہ بھی مجھ سے محبت کرتی ہے تم ہٹ جاؤ ہمارے راستے سے ویسے بھی اسکا تمہارا جوڑ نہی۔
ولی کی بات سن کے وہ سب کے ہاتھ بے ڈھرک اپنے۔منہ پہ گئے جبکہ مشکبار کسی ہارے ہوئے جوری کی طرح وہی زمین پہ بیٹھ گئ۔
ہمایوں ایک جست میں اٹھا اور تیزی سے ولی کے منہ پہ مکا مارا اور ولی کا گریبان پکڑ کر کہا۔
میں تجھے جان سے ماردونگا اگر اب اعیرہ کا نام تیرے منہ پہ۔ایا۔نہ میں شاہ زین خان ہو نہ حمنہ جو معاف کردو نہ ہی کسی ڈرامہ کی شوٹنگ چل رہی ہے نہ۔کوئ فلم جو کسی ہارے ہوئے شوہر کی طرح میں تھالی میں تجھے اعیرہ پیش کرو تجھے زندہ زمین میں گاڑ دونگا اعیرہ صرف ہمایوں خان کی ہے ۔۔وہ صرف میری ہے اگر وہ میری نہی تو اسے اس قابل بھی نہی۔چھوڑونگا کے وہ تیری ہوسکے بیغیرت اپنی بیوی کا بھی نہی سوچا تونے اوہ ہاں بھول گیا کیسے سوچتا خون کس کا ہے آخر یہ بول کے ہمایوں نے حقارت سے امجد کو دیکھا ۔
اور ایک بار پھر دھاڑ کے ولی سے کہا۔
تیرے اور میرے درمیان جو قدرت نے بدقسمتی جو رشتہ جوڑا ہے یاد رکھ ولی اس رشتہ کا نام ونشان بھی میں مٹادونگا وہ صرف میری ہے اس سے دور رہے ورنہ قسم ہے مجھے اپنے باپ کی سانسیں لینے کیلیے بھی تجھے وقت نہی دونگا۔۔
یہ بول کے ہمایوں امجد کی طرف بڑھا اور کہا۔
بھول گیا تھا میں جس کی فطرت دغا بازی کو اسکی نسل میں کیوں نہی ہوگی مگر یاد رکھیے گا آپ اس بار آپکا سامنا شاہ زین سے نہی ہمایوں سے ہے یہ بول کے ہمایوں جیسے آیا ویسے ہی چلا گیا۔۔
جاری ہے۔۔
