Rate this Novel
Episode 7
(ماضی)
یار یار یہ جیڈی کہاں رہ گیا…یونی میں ایڈمیشن لے کے تو بلکل غائب ہوگیا ہے…
اج یونی کا دوسرا دن ہے انٹرو والے دن بھی یہ غیر حاضر تھا….
صابر نے انتہائ غصہ کے عالم میں اپنے برابر میں بیٹھے ..شہزاد سے کہا…
شہزاد نے ریکلس انداز میں کافی سے انصاف کرتے ہوئے کہا..
یار کل اچکا ہے جیڈی..مگر یونی کل آئے گا…
صابر نے حیران ہوکے شہزاد کو دیکھا اور کہا…
سالے تو یہ بات مجھے اب بتا رہا ہے..
تیری کب. بات ہوئ اس سے.؟؟؟؟
یار کل ہی ہوئ تھی. بات اس سے اپنے فلیِٹ پہ تو پہنچ چکا.. ہے…
تو ابھی کہاں ہے ہم سے ملا بھی نہی.. اور یونی کل سے کیوں ائے گا.؟؟؟…
وہ.کہاں ہے یہ تو تو اچھی طرح جانتا ہے.. کراچی اکے اور جیڈی اپنی تھکن نہ اتارے…ایسا تو ہو نہی سکتا…
یہ بول کے شہزاد نے صابر کو ْآنکھ ماری….
صابر نے اسکی بات کا مفہوم سمجھا تو ہنس کے کہاں…
یار یہ جیڈی بھی کیا چیز ہے… شہر آکے اس کے بھی پر پرزے نکل آتے ہیں..
چل شام میں چلتے ہیں اسکے فلیٹ پہ….
ہمممم.. شہزاد نے بھی اسکی ہاں میں ہاں ملائ…
¤¤¤¤¤¤¤
جیڈی جیڈی…..
جیڈی جو فروا پہ جھک کے اپنے تھکن اتار رہا تھا. فروا کی قمیض کا اسٹیپ نیچے کرتے ہو کہا…
ہممممم…
جیڈی میں بہت محبت کرنے لگی ہو تم سے بس میں اب اپنے شوہر کے ساتھ رہنا نہی چاہتی….تم.کروگے نہ مجھ سے شادی…
جیڈی نے پلے اسکی گردن پہ.اپنے کب رکھے پھر اسکے لبوں کو چومتے ہوئے کہا…
ہان میری جان کیوں نہی کرونگا..مگر ابھی تو انجوائے کرنے دوو..کافی دنوں بعد اپنی جان سے مل رہا. ..
یہ بول کے جیڈی اس پہ دوبارہ جھک گیا…
اس سے پہلے وہ اپنی تھکن اتارتا…فروا کے فلیٹ کا گیٹ بجا….
فروا تو فورا گھبرا گئ …اور جیسی ہے جیڈی کو اپنے اوپر سے ہٹانے لگی…جیڈی نے اپنے گرفت فروا پہ اور مظبوط کردی.. …
جیڈی ہٹو.. مجھے دیکھنے دو کوئ گیٹ پہ آیا ہے…
اوہ اوہ کیا ہے..
جاو دیکھو کون آیا ہے…
یہ بول کے جیڈی نے فروا کو آزاد کیا.فروا نے فورا اپنی شرٹ پہنی اور جاکے گیٹ کھولا…
مگر گیٹ کھولتے ہی سامنے اپنے شوہر کو دیکھ کے فروا کے چہرے کا رنگ اڑ گیا جو اسکے شوہر سے چھپ نہ سکا…
اسکے شوہر نے فلیٹ کا گیٹ بند کیا..اور اندر اکے کہا…
اتنے دیر سے دروازہ بجا رہا ہو کہاں تھی..؟؟؟.
وہ…میں…اپ تو کل آنے والے تھے…
ہان مگر کام کل رات ختم ہوگیا.. تو صبح ہی آگیا…
اس سے پہلے فروا کچھ اور بولتی…کہ جیڈی نے کمرے میں لیٹے لیٹے آواز لگائ….
کون ہے فروا ڈارلنگ.. ا بھی جاو…. میں انتظار کر رہا ہو…
اپنے فلیٹ میں اپنے بیڈروم سے ایک غیر مرد کی آواز سن کے و
فروا کے شوہر کو تو مانو سکتہ ہوگیا اس نے بے یقینی سی حالت میں اپنی بیوی کو دیکھا.. تو فروا نے شدت سے دعا کی کے کاش وقت یہ تھم جائے…مگر
(لوگ گناہ کرتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ گناہ چاہے جتنا بھی چپ کے کرلو ایک نہ ایک دن الللہ اسکا راض کھول ہی دیتا ہے.. مریم#)
جب جیڈی کے آواز لگانے پہ بھی فروا کی کوئ آواز نہی آئ..
تو جیڈی بنا شرٹ کے ہی باہر ہال میں آیا..فروا کے شوہر کو دیکھ وہ تھوڑا گھبرایا مگر پھر اپنی گھبراہٹ پہ قابو پاتے ہوئے اندر گیا…
اور شرٹ پہن کر جیسی فلیٹ سے جانے لگا.. فروا کے شوہر نے اگے بڑھ کے اسکا کالر پکڑا اور زور کا مکا اسکے منہ مارا اور. کہا…
بیغیرت کمینے…کیا کررہا ہے تو میرے گھر میں…؟؟؟
فروا کے شوہر سے اپنا کالر چھڑوایا
اور کہا…
مجھ سے کیا پوچھ رہے ہو اپنی بیوی سے پوچھو. جس کے بلانے میں پتہ نہی کتنی بار یہاں آیا ہو..
شاید تم اسکی ضرورت پوری نہی کرتے جبھی اسکو باہر کے مرد سے اپنی ضرورت پوری کرنی پڑی…
جیڈی کے بولنے پہ فروا اگر صوفہ کا سہارا نہ لیتی تویقین زمین بوس ہوجاتی اس نے بے یقینی کی حالت میں جیڈی کو دیکھا..مگر وہاں پرواہ کسے تھی…
جیڈی تم تم مزاق کررہے ہونا. تم تم تو مجھ سے ہیار کرتے ہونا…فروا نے دیوانہ وار اس سے پوچھا…
فروا کی بات پہ جیڈی کا قہقہ پورے فلیٹ پہ.گونجا…اور اسنے ہنستے ہنستے کہا…
کیا کہا تم نے فروا محبت اور وہ بھی تم سے…شکل دیکھی ہے اپنی ارے جو اپنے شوہر کی نہ ہوئ وہ میری کیا.ہوگی…جو میرے ساتھ سو سکتی ہے وہ اور نجانے کتنوں کا دل بہلا چکی ہوگی..مجھے معاف کرو میڈم یہ بول کے جیڈی..فلیٹ سے نکلا…تو فروا کے شوہر نے اسکے کھڑے کھڑے طلاق دی اور اسے گھر سے نکال دیا…اگلے دن اطلاع ملی.. کے فروا نے ٹرین کے نیچے اکے اپنی جان دے دی…
…¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤.
یہ تینوں کالج کے دوست تھے صابر اور شہزاد تو کراچی کے تھے مگر جیڈی گاؤں کا تھا…. جیڈی کے والد اپنے گاوں کے کافی امیر آدمی تھی جیڈی کا اصل نام شہر میں کسی کو بھی نہی پتہ تھا سوائے ان دونوں کے…
صابر اور شہزاد. اگر غریب نہی تھے تو زیادہ امیر بھی نہی تھے ..بار بار گاؤں نہ آنا پڑے اس لیہ جیڈی کے والد نے اسے کراچی کے ہی روپوش علاقے میں فلیٹ لے دیا…فروا اور جیڈی کی ملاقات اسی بلڈنگ میں ہوئ جہاں جیڈی کا فلیٹ تھا… فروا کا ہسبیڈ اکثر کام کے سلسلے میں شہر سے باہر رہتے تھے شادی کے دوسال ہونے کے باوجود فروا اولاد جیسی نعمت سے محروم تھی….جیڈی اپنی رنگین طبیعت کے باعث فروا پہ فدا ہوا.. شروع شروع میں فروا نے کوئ نوٹس نہی لیا.. مگر پھر فروا کب تک نظر انداز کرتی اتنا خوبصورت مرد یہ جاننے کے باوجود کے فروا میریڈ ہے. اسکے پیچھے پڑا تھا.. اور بس پھر جب گناہ راستے میں انسان ایک بار پاوں رکھ دے.. تو بہت کم لوگ
ہوتے ہیں جو گناہ سے واپسی کا سفر شروع کرتے ہیں مگر بدقسمتی سے فروا ان خوش قسمت میں شامل نہی..تھی..
فروا اور جیڈی گناہ کے راستے پہ اتنا اگے نکل.چکے تھے کہ فروا کا تو واپس آنا ناممکن تھا.. مگر شاید الللہ نے بنا فروا کا موقع دیے اج اسکی رسی کھینچ لی. تھی…اور جب اپکا ایسا گناہ جو اپکے ضمیر کو مردہ کردے.. تو پھر جب انسان کو اس گناہ کا احساس ہوتا ہے یہ تو وقت نکل چکا ہوتا یہ پھر زندگی….
¤¤¤¤¤¤¤¤¤
فروا کے گھر سے نکلنے کے بعد جیڈی پوری رات گھر نہی آیا اور صبح جب وہ اپنے فلیٹ پہ پہنچا تو اسے خبر ملی.کے فروا کے شوہر نے کسی وجہ سے اسے طلاق دے دی اور فروا نے خودکشی کرلی…
مگر جیڈی کو اس خبر سے کچھ خاص فرق نہی پڑا اور اپنے فلیٹ پہ.جاکے سو گیا. .
دوپہر کے ایک بجے کے قریب دروازہ بجنے کی آواز پہ جیڈی کی آنکھ کھلی اس نے نیند میں جھولتے ہوئے گیت کھولا تو سامنے صابر اور شہزاد کھڑے تھے…
جیڈی نے چہرے پہ بیزاریت لائے ان دونوں کو دیکھا اور اندر انے کا راستہ دیا…
وہ دونون ہال میں بیٹھے تو جیڈی فریش ہونے چلا گیا…
جیڈی فریش ہوکے آیاتو وہ دونوں منہ لٹکائے بیٹھے تھے……
جیڈی نے باری باری ان دونوں کو دیکھا اور کہا.
کیا بات ہے اج تم دونوں کا منہ کیوں لٹکا ہوا ہے..ہوا ہے؟؟؟
صابر نے ایک.لمبی سانس لی اور کہا..یار ابھی ہم جب فروا کے فلیٹ کے اگے سے گزر رہے تھے. تو زور زور سے عورتوں کی رونے کی آوازیں ارہی تھی معلوم کیا تو پتہ چلا فروا نے کل رات خودکشی کرلی..
افففف یہ بات ہے میں سمجھا پتہ نہی کی ہوگیا……
جیڈی کی.اس بات پہ صابر اور شہزاد نے حیران کن نظروں سے جیڈی کو دیکھا اور کہا…
اتنے بڑی بات پہ اتن ٹھنڈا ریکشن….؟؟؟
تو تم لوگ کیا چاہتے ہو سوگ میں چلے جاو.. ؟؟؟
جیڈی بقول تیری تو محبت کرتا تھا اس سے..؟؟؟
صابر نے افسوس سے گردن ہلا کے جیڈی کو کہا…
صابر کی بات پہ.تو مانو جیڈی کو اگ ہی لگ گئ…
پیار وہ بھی اس سے جو اپنے شوہر کی نہی تھی….
شہزاد اور صابر نے ایک ساتھ کہا…
کیا مطلب ہے..
تیری اس بات کا ؟؟
ان دونوں کے سوال پہ جیڈی نے ایک لمبی سانس لی.اور کل فروا کے فلیٹ میں ہوا سارا واقعہ ان دونوں کو سنا دیا…
اور ریلکس ہوکے بیٹھ گیا…
صابر نے اپنے سامنے بیٹھے اپنے بے حس دوست کو دیکھا اور غصہ میں کہا…
تجھے شرم نہی آتی جیڈی تیری وجہ سے ایک لڑکی کو طلاق ہوگئ وہ لڑکی جان سے چلی گئ تیری وجہ سے ..
اور تو شرمندہ ہونے کے بجائے ہمارے سامنے چوڑا ہوکے گھوم.رہا ہے…
جیڈی نے اونچی آواز میں صابر کو کہا….
ہاں مان لیا سب میری وجہ سے ہوا..اگر وہ خود اتنی ہی پارسا تھی تو کیوں آئ میری باتوں میں کیوں..
جب میں نے اسے دیکھ کے پہلی بار آنکھ ماری تھی پہلی پار اسکو دیکھ کے اسمائل دی تھی…کیوں میری اسمائل یہ ْآنکھ مارنے کے بدلہ میرے منہ پہ ٹھپڑ نہی مارا…کیوں.
جب میں اسکے راستہ روکتا تھا کیوں اپنے شوہر سے میری شکایت نہی کی کیوں.؟؟؟
..
میں نے زبردستی نہی کی اسکے ساتھ… خود اپنی مرضی سے میرے ساتھ ریلیشن میں آئ ہے…لاکھ آدمی بہکانے والا ہو.. عورت کا ایمان مظبوط ہو. تو کوئ مرد اسکو بہکا نہی سکتا…
باقول ان عورتوں کے ہم تو کمینی چیز ہیں تو کیوں ہمارے ساتھ فونوں پہ.باتیں کرتی ہیں..کیوں غیر محرم کیساتھ گھومتی پھرتی ہیں.؟؟کیوں اپنے مان باپ کی عزت ہمارے ہاتھوں میں دیتی ہیں…..اور ویسے بھی الللہ نے عورتوں کو حسس دی ہیں کے وہ اپنی طرف اٹھنے والی اچھی اور بری نظر پہچان جاتی ہیں.. تو پھر کیوں ہم جیسے مردوں کے معملے میں آندھی ہوجاتی ہیں..پیار روح سے ہوتا ہے جسم سے نہی کیوں یہ بات سمجھ میں نہی آتی…لاکھ مرد کمینا صحیح ہاتھ اسی عورت پہ ڈالتا ہے.. جہان اسے یقین ہوتا ہے کہ اسکا وار خالی نہی جائے گا….
جاری ہے.. .
