50.9K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 43 Part 1

بھائ بھائ ؟؟
ہاں زوباریہ بولو میں یہاں ہو جم میں۔۔
زوباریہ ہاتھ میں موبائل لیہ جم میں داخل ہوئ جہاں ولی پش اپ کررہا تھا۔۔
زوباریہ کےہاتھ میں موبائل دیکھ کے ولی نے سوالیاں نظروں سے زوباریہ کو دیکھا اور پوچھا۔۔
کس کی کال ہے؟؟؟
وہ بھائ بھابھی کی کال ہے۔۔
زوباریہ کی بات سن کے ولی پش اپ کرتے ایک دم رکا اور کھڑا ہوکے کہا۔۔
لاو دو موبائل اور جاتے ہوئے کمرہ بند کرتی ہوئ جانا۔۔
ولی کی بات سن کے زوباریہ کمرے سے باہر تونکلی مگر کمرے سے نکلتے ہی دیوار سے لگ کے کھڑی ہوگئ ولی کی باتیں سننے کیلیے ۔۔
زوباریہ کے نکلتے ہی ولی نے موبائل کان سےلگایا۔تو مشکبار کی اواز اسپیکر سے ابھری۔۔
اسلام وعلیکم۔۔
وعلیکم اسلام۔
۔۔
وہ کیسے ہیں اپ۔۔ولی مشکبار کی اواز سے اندازہ لگا سکتا تھا کے وہ کتنی گھبرائ ہوئ ہے۔۔
میں ٹھیک الللہ کا شکر۔۔
تھوڑی دیر تک خاموشی رہی کے پھر مشکبار بولی۔۔
اپ سے ایک بات پوچھنی تھی۔۔
ہاں پوچھو۔۔
ولی نے بہت ارام سے کہا۔۔
وہ وہ اپنے شادی کیلیے ہاں کردی اتنی ۔میرا مطلب ہے کے اپ خوش ہیں۔؟؟؟۔
ولی نے ایک دم اپنی انکھیں بند کرکے کھولی اور کہا۔۔
خوشی تو میری اسی دن غرق ہوگئ جس دن تم سے نکاح کیا اور رہا سوال رخصتی کیلیے ہاں کرنے کا تو اسکی وجہ میری بہن اور اسکی خوشیاں ہے جو میں تمہاری جیسی خود غرض لڑکی کیلیے داو پہ نہی لگاسکتا ۔۔
یہ کہہ کے ولی نے کال رکھی
تو ادھر مشکبار نے کرب سے اپنی۔انکھیں بند کی تو چند انسو اسکی انکھوں سے جاری ہوگئے۔۔
ولی نے کال رکھ کے زوباریہ کو اواز دی ۔۔
زوباریہ جو دیوار کےساتھ ہی لگ کے کھڑی تھی اور شدید پشتا رہی تھی اس وقت پہ جب اس نے مشکبار سے کہا تھا کے ولی کو کال کرکے اپنی اور بھائ۔کے درمیان غلط فہمی اور ناراضگی دور کرے مگر یہاں تو سب الٹا ہوگیا۔
زوباریہ ولی کی اواز پہ کمرے میں ائ تو وہ کرسی پہ بیٹھ کر اپنا موبائل چیک کررہا تھا جب زوباریہ نے کہا۔۔
جی بھائ ؟؟
ولی نے ایک نظر زوباریہ کو دیکھا اور کہا۔۔
مشکبارکو میرا نمبر تم نے دیا؟؟؟
زوباریہ نے اپنا حلق تر کیا جو ولی کے بولنے پہ۔خشک ہوگیا تھا ۔لاکھ ولی کی جان تھی زوباریہ میں مگر زوباریہ ولی کے غصہ سے بہت اچھی طرح واقف تھی۔۔
جی بھائ و۔۔ہ ۔میں۔۔۔ن۔۔ے ۔س۔و۔چا۔۔
وق
ولی ایک دم کھڑا ہوکے زوباریہ کی طرف بڑھا اور کہا۔
زوباریہ جتنی ہو وتنی رہو میں رخصتی کے لیہ ہاں کردی یہی بہت ہے ۔اب میرے اور مشکبار کے درمیان رشتہ کیسا ہے کیسا نہی یہ تمہارا میٹر نہی اج کے بعد میرے پرسنل میٹر سے دور رہنا جب میں کسی کی پرسنل لائف میں نہی گھستا تو اور کسی کو بھی اتنی اجازت نہی دیتا کے وہ میرے معملہ میں اپنی ٹانگ اڑائے اب جا سکتی ہو۔۔
ولی کے بولنے پہ زوباریہ مردار قدموں سے باہر نکلی تو ولی بھی فریش ہونے چلا گیا۔۔
زوباریہ اپنے کمرے میں ائ تو اسکے موبائل پہ ضامن کی کال ارہی تھی۔
زوباریہ نے بے دلی کال ریسیو کی تو اگے سے ضامن کی شوخ بھری اواز ابھری۔۔
کہاں ہو میری شرمیلی ڈائن اتنی دیر سے کال کررہا ہو۔۔
ضامن جو یہ سمجھ رہا تھا کے ابھی زوباریہ اسکو ڈائن بولنے پہ ضامن سے لڑے گی مگر زوباریہ کی طرف سے خاموشی کو دیکھ کے ضامن سیریس ہوا اور کہا۔۔
کیا بات ہے زوباریہ کوئ بات ہوئ ہے کیا؟؟
ولی بھائ سےلڑائ ہوئ کیا ؟؟؟
چپ چاپ ہو کیا بتاو مجھے۔۔
ضامن کے پوچھنے پہ زوباریہ نے مشکبار کی کال سے لے کر اپنی کی ہوئ حرکت اور ولی کا ریکشن سب بتا دیا۔۔
ضامن نے ایک۔لمبی سانس لی اور زوباریہ سے کہا۔
یار تمہیں میں نے ہزار بار کہا ہے کے یار تم مت بولو کرو ان دونوں کے درمیان ۔ویسے جب انسان محبت میں مطلبی ہوجائے اپنے بارے میں سوچے تو تھوڑی سی تو سزا کا حقدار ہوتا ہے اگر اپی نکاح سے پہلے ولی بھائ کی بات مان لیتی تو اج شاید ن دونوں کا ریلیشن کچھ اور ہوتا
ضامن کی بات جہاں زوباریہ حیران تھی وہاں شوکڈ بھی اور اس نے اسی حالت میں ضامن سے پوچھا۔۔
ضامن کیا تم جانتے ہو سب ؟؟؟
ہاں زوباریہ میں نے ولی بھائ اور اپی کی باتیں سنی تھی ولی نے اگر تھوڑا ٹائم مانگا تھا دے دیتی اپی کرلیتی انتظار میں اگر تم سے بولتا تو کیا تم نہی کرتی میرا انتظار ۔
کرتی زوباریہ کی بہت ہلکی سی اواز نکلی ۔۔
زوباریہ محبت میں خور غرضی نہی چلتی ۔تم چھوڑ دو ان دونوں کو ان کے حال پہ بس تم میرے بارے میں سوچو نئے نئے ائڈیا سوچو مجھے کسس کرنے کے ۔اخر میں ضامن نے شوخ لہجہ میں کہا۔۔
جہاں زوباریہ کے لبوں پہ ضامن کی بات سن مسکراہٹ ائ وہی اس نے یہ کہہ کے لائن ڈسکنٹ کی۔۔
ابھی زوباریہ کے اتنے برے دن نہی ائے کے وہ ضامن کو کسس کرے کٹوو شہہبا جنگل کی طرف۔۔

#

مونا اور افرین نے یونی جانا شروع کردیا تھا مگر المیر اور افرین میں اس دن کے بعد سے بات نہہی ہوئ۔۔
اج افرین کو یونی ائے تیسرا دن تھا ۔جہاں مونا اور افرین کی یونی بھلے ایک تھی۔مگر انکے ڈیپارٹمنٹ الگ الگ تھے دونوں ملتے خالی یونی کے اوفف ہونے پہ ہی۔۔
افرین کو جب اپنی دوستوں سے یہ پتہ چلا خاص کر ان دوستوں سے جو کاشف اور افرین کے ریلشن سے واقف تھے ۔
کے کاشف نے اسی دن یونی چھوڑ دی تھی جںب سے تمہاری شادی ہوئ ۔۔افرین کو اج کاشف کی شدت سے یاد ارہی تھی۔۔
کچھ انسو چپکے اسکی انکھوں سےبہہ نکلے
۔
افرین ابھی انہی سوچوں میں گم تھی جب اپنے برابر میں کسی کے ہونے کا احساس ہوا ۔۔
افرین نے ایک دم گردن گھمائ تو کاشف کا اپنے اپ کو تکتا پایا۔۔
دومنٹ کیلیے تو افرین شاکڈ ہوئ۔مگر پھر جیسی ہی خوش ہوکے کاشف کے گلے لگنے لگی۔۔
کاشف نےدنیا بھر کی۔معصومیت اپنے چہرے پہ سموئے افرین کو گلے لگنے سے روکا اور کہا۔
اب تمہارے میرے درمیان ایسا رشتہ قائم نہہی افرین کے میں تمہیں اپنے سینے سےلگا سکو۔۔
یہ کہہ کے کاشف نے گردن جھکائ اور پھر کہا۔تمہاری شادی کے بعد ہردن میں انگارے پہ لوٹا ہو یونی کے ہر حصہ سے تمہاری یاد اتی تھی جبھی میں نے یونی چھوڑ دی ۔۔مگر جیسی میرے دوست نےبتایا کے تم نے یونی دوبارہ جوائن کرلی تو بس مجھ سے رہا نہی گیا اور میں تمہارا دیدار کرنے اگیا تاکے میں اپنی روح کو سکون دے سکو تمہیں دیکھ کے۔۔
یہ بول کے کاشف نے افرین کو دیکھا تو وہ رو رہی تھی کاشف نے اگے بڑھ کے اسکے انسو صاف کیہ۔
افرین نے کاشف کے ہاتھ پکڑے اور کہا۔
میری بھلے شادی المیر سےہوگئ۔مگر میں اج بھی تم سے محبت کرتی ہو اج بھی مجھ پہ صرف تمہارا حق ہے میری روح پہ میرے دل پہ اج بھی المیر کو نہ تو اسکا حق دیا نہ ہی اسے اپنا شوہر مانا یہ بول کے افرین کاشف کے گلے لگ گئ توکاشف نے بھی اسے اپنے سینے میں بھینچا ۔جہاں افرین کاشف کے گلے لگ کے رورہی تھی وہی کاشف کے انکھوں میں شیطانیت چمکی اور اسکے لبوں پہ ایک شیطانی مسکراہٹ ائ کیونکہ اب اسکا کام اور بھی اسان ہوگیا تھا۔۔
(ہمارا رب ہمیں ستر ماوں سےبھی زیادہ پیار کرتا ہے تو پھر وہ کیوں ہمارے لیہ غلط فیصلہ لے گا مگر ہم انسان ہمیشہ اپنی محبت کے نہ ملنے پہ الللہ سے شکوہ کر بیٹھتے ہیں یہ سوچے بنا کے اگر وہ ہمارے لیہ اچھا ہوتا تو ہمارے نصیب میں ہوتا).مریم عمران#
ﺟﺐ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺴﯽ ﻧﺎﻣﺤﺮﻡ ﮐﯽ
ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﺠﮫ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ
اپنا مقام کھو دیتی ﮨﮯ
ﺟﻮ ﻣﺤﺒﺘﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺣﺪﻭﺩ ﺗﻮﮌ ﮐﺮ
ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﻣﺤﺒﺘﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ
ﻧﻔﺴﺎﻧﯽ ﺧﻮﺍﮨﺸﺎﺕ ﮐﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺍﻭﺭ
ﮨﻮﺱ ﮨﮯ ۔
ﻋﻮﺭﺕ ﺑﮍﯼ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﺷﮯ ﮨﮯ ﯾﮧ
ﮐﻮﺋﯽ وقت ﮔﺰﺍﺭﯼ ﮐﺎ ﮐﮭﻠﻮﻧﺎ
ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺑﮩﻼﺗﯽ
ﺭﮨﮯ۔
ﺟﺐ ﻋﻮﺭﺕ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺧﻮﺩ ﭘﯿﺶ
ﮐﺮﺩﮮ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﯽ
ﮨﮯ۔
ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮨﯽ ﺣﯿﺎء ﮨﮯ ﺟﺐ
ﺣﯿﺎء ﮨﯽ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﮟ ﺗﻮ ﺑﺎﻗﯽ ﺑﭽﺎ
ﮐﯿﺎ۔؟
ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺗﻮ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﺍﻭﻧﭽﺎ
ﮐﯿﺎ ﻣﮕﺮ ﺁﺝ ﮐﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ
ﺧﻮﺩ ﻧﯿﭽﺎ ﮐﺮﺩﯾا
حدیں جو تم کو قید لگتی ہیں
اے بنت حوا یہ تمہاری محافظ ہیں.❣️🍁

#

عالم عثمان جس سےہمایوں کی ملاقات انگلینڈ میں ہوئ معمولی سی ملاقات جو ایک اسٹریٹ میں ہوئ ہمایوں جو بزنس کےسلسلےمیں انگلینڈ گیا وہاں کچھ غنڈوں نے ہمایوں سےچھینا جھپٹی کی مگر عالم نےنہ صرف ان غنڈوں کو مار کےبھگایا وہی ہمایوں کو اپنے سےپانچ سال چھوٹا عالم بہت الگ لگا۔جس نے زبردستی نہ صرف ہمایوں سے دوستی کی بلکےاپنی الٹی سیدھی حرکتوں سے اسکی بے رنگ زندگی میں رنگ بھی بھرے ۔عالم کے والد صاحب ایک پاکستانی ارمی افیسر تھے جو شہادت کے عہدے پہ جب فائض ہوئے تو مسسز عالم نے ہمیشہ کے لیہ پاکستان کو خیر اباد کہہ کے ہمیشہ کیلیے اپنے والدین کے پاس اگئ چھوٹی عمر ہونے کی وجہ اورمغربی ملک میں رہنے کی باوجود انہوں نےعالم کی تربیت مثالی کی تھی۔۔
.#############
دو مہینے بہت ارام سےگزرے ایسا المیر کو لگتا تھا ۔اسے یہ بات معلوم ہوچکی تھی کے کاشف یونی چھوڑ چکا ہے۔۔المیر نے اسی لیہ نہ صرف افرین کو موبائل دلایا بلکہ خود لینے اور چھوڑنے کےبجائے اسے ایک کار لے کے دی۔۔
مگرافرین جس نے المیر کی۔محبت اسکی ازادی کا ایسا ناجائز فائدہ اٹھایا۔۔گھر سے وہ یونی بنا ابائےکے اتی تھی مگر ایک دولیکچر کے بعد مونا سے بچتی بچاتی وہ عبایا پہن کے کاشف کیساتھ نکل جاتی ۔۔
(کہتے ہیں گناہ ہم کتنا بھی چھپ چھپا کےکرلے مگر الللہ اسے ایک نہ ایک دن سامنے لے اتا ہے۔)
اور اج کا دن افرین کے گناہ کے کفارے کا دن تھا۔۔
المیر افسںں میں بیٹھا اپنے سارے کام جلد از جلد نبٹا رہا تھا اسکا ارداہ اج افرین کو یونی سےجلدی پک کرکے گھرپہنچنے کا تھا۔۔
ہمایوں نے جب المیر سے مونا کیلیے عالم کی بات کی جو المیرنے اپنے پرینٹس تک پہنچادی تھی ۔اور افتاب اورفاطمہ نے ہاں کردی تھی مگر لڑکے کو مونا کو دیکھانے کےبعد وہ فیصلہ مونا پہ۔چھوڑنے والےتھے۔ ۔اور کل وہ لوگ ہمایوں کی فیملی کیساتھ رشتہ لانے والے تھے۔۔۔۔
المیر افس سےباہر نکلا توظہر کی ازان ہونے لگی ۔المیر اس سےپہلے اپنی۔نماز ادا کرنے کا سوچتا۔اس کے نمبر پہ ایک کال ائ۔۔
المیر نےکالپک کی۔
اسلام وعلیکم۔۔
اگے سے سلام کا جواب دینے بجائے ایک قہقہ لگایا گیا۔
المیر نے پھر سے کہا کون ۔۔
کاشف نےکہا۔
ارےپہچانا نہی تیری بیوی کا یار ۔سنا ہے ابھی تک تونے اپنی بیوی سے اپنا حق نہی۔لیا تو سوچا میں ہی یہ حق وصول کرلو اور ساتھ تیری بیوی کیساتھ ساتھ ان پیار بھری لمحوں کی ایک وڈیو بھی بنالو۔۔
کاشف کی بات سن کےالمیر کا ہاتھ بے ڈھرک اپنے دل پہ گیا اور اس نے چیخ کے کہا۔
کاشف اگر تونے میری افرین کو ہاتھ بھی لگایا تو اپنی اخری سانس بھی گن نہی پائے گا
المیرکی بات سن کےکاشف نے ایک قہقہ لگایا اور کہا۔۔
ارے تونے اسے میری زندگی سے تو نکال لیا مگر اس کے دل سےنہی نکال پایا جس دن سےوہ یونی ائ ہے روز مجھ سے ملتی ہے اور اج میری فرمائش پہ میرےفلیٹ پہ ائ ہے اور یہ مت سوچنا کے میں اپنے پرانے فلیٹ میں ہی رہتا ہو۔۔۔۔20 منٹ ہےتیری پاس کیونکہ ابھی تیری بیوی بیہوش ہے مگر 20منٹ بعد میں اسے چھوڑنے والا نہی ڈھونڈ سکتا ہے توڈھونڈلے
۔یہ بول کےکاشف نےکال کٹ کردی المیر اسے اوازیں دیتا رہ گیا المیر نے دوبارہ کال کی تو اسکا نمبر بند جارہا تھا۔۔
جاری ہے۔۔
See translation