Gunah Se Wapsi By Mariyam Imran Readelle50215 Episode 37 Part 1
Rate this Novel
Episode 37 Part 1
آفرین کے ایسے جانے سے ڈارائینگ روم میں ایک دم خاموشی چاہ گئ.کمال صاحب نے آفرین کی اس حرکت پہ صبر کا گھونٹ پیا اور غصیلی نظر ناعیمہ پہ ڈالی تو وہ شرمندگی کے باعث اپنی گردن جھکا گئ.وہی المیر کی نظر جب مونا پہ گئ تو وہ آنکھوں میں افسوس لیہ اسے ہی دیکھ رہی تھی..
لگتا ہے بچی گھبراگئ؟؟؟
فاطمہ سارے واقعہ سے واقف تھی اس لیہ اس نے ماحول کی سنگینی کو سنبھالا..
ناعیمہ بیگم کو فاطمہ اس وقت کوئ امید کی.کرن دیکھائ دی انہوں نے فورا فاطمہ کی ہاں میں ہاں ملائ اور کہا..
جی فاطمہ بہن اپنے صحیح کہا اصل میں اچانک اسکی شادی کی بات چلی تو وہ گھبراگئ…
جی بہن میں سمجھ سکتی تو اگر اپ لوگوں کی اجازت ہو تو اس اگلے مہینے کی لاسٹ میں شادی رکھ لیں تو..
فاطمہ کی بات پہ ناعیمہ ایک بولی..
فاطمہ بہن اتنی جلدی کسی مطلب تیاری ہوگی. اپ سمجھ سکتی ہیں لڑکیوں کی شادی میں ہزاروں کام ہوتے ہیں..
جی جی بہن مگر آفرین میری اپنی بچی ہیں اور الللہ.کا دیا ہمارے پاس سب کچھ ہے ہمیں کچھ نہی چاہیے سوائے آفرین کے علاوہ..
فاطمہ کی بات پہ ناعیمہ کچھ بولتی اس سے پہلے آفتاب بول پڑا..
کمال صاحب اپ بلکل فکر نہی کرے بس اپ لوگ ہاں بولے دے سب کچھ ساتھ خیریت سے ہوجائے گا..
آفتاب کی بات پہ سب پی چپ ہوگئے اور کمال صاحب نے مسکراکے ناعیمہ بیگم کو کہا..
جاو ناعیمہ بیگم پہلے میٹھائ لاو سب کا منہ میٹھا کرواو ہمیں یہ رشتہ منظور ہے…
کمال صاحب کی بات پہ سب کے چہروں پہ ہی مسکراہٹ دور گئ.مگر مونا کے چہرے پہ کوئ خوشی نہی تھی..اسے لڑکی ہونے کے ناطے آفرین سے دلی افسوتھا. وہ اپنی سوچوں میں ہی گم تھی. جب فاطمہ نے اسے مخاطب کیا..
مونا جاو اپنی ہونے والی بھابھی کا بھی منہ میٹھا کرواکے آو..
فاطمہ کے بولنے پہ.ناعیمہ بیگم نے اسے آفرین کے کمرے ک بتایا تو وہ آفرین کے کمرے کی طرف چل پڑی ..تھوڑی دیر بعد المیر بھی واش روم کو بول کےمونا کے پیچھے چل پڑا..
مونا کے بہت ڈرتے ڈرتے آفرین کے کمرے میں پہنچی دستک دے کے کمرے کا دروازہ گھمایا تو دروازہ کھولتا چلا گیا..مگر کمر کے اندر قدم رکھ کے مونا کو آفرین کہی نہی دیکھی اس سے پہلے وہ مڑتی اسے کسی کی ہلکی ہلکی رونے کی آواز آنے لگی..
مونا نے جب آواز کا تعاقب کیا تو شاکڈ رہ گئ.آفرین بیڈ کونے میں بیٹھی روتی نظر آئ..مونا نے مٹھائ کی پلٹ سائیڈ میں رکھی تو آفرین کو پکارا..
آفری…ی.ن تم یہاں کیا ہوا.ایسے کیوں رورہی ہو..؟؟؟
مونا کی آواز پہ آفرین نے اسے دیکھا مگر مونا زیادہ دیر تک اس کی آنکھوں میں نہ دیکھ سکی جو زیادہ رونے کی وجہ سے ریڈ ہورہی تھی..
مونا کے پکارنے پہ آفرین نے ایک نظر اسے دیکھا تو اسکے اندر غصہ کی ایک.لہر ڈور گئ آفرین تیزی سے کھڑی اور دانت پیس کے مونا کو کہا..
کیا کرنے آئ ہو میری کمرے میں کیا تماشہ لگا ہے یہاں.اووہ میں تو بھول گئ تمہارے بھائ نے تمہیں بھیجا ہوگا کے جاو دیکھ کے آو کہ آفرین ہار کے کیسی لگتی ہے بولو یہی دیکھنے آئ تھی نہ ہیں نہ بولو….
مونا آفرین کے رویہ لہجے سے ایک دم ڈر گئ اس نے آفرین کو دھیرے سے کہا..
آف ری. ن تم.غلط سمجھ رہی ہو میں تو تمہیں مبارک بعد.
مونا کا اتنا بولنا تھا کے آفرین نے سائیڈ پہ رکھی مٹھائ کی پلیٹ اٹھائ اور زور سے سامنے دیوار پہ.کھینچ کے دے ماری اور مونا کے کندھے پکڑ کے اسے جھنجھوڑ کے کہا….
جاو کہہ دو اپنے بھائ کو آفرین کو نہی اس کی سانس چھین لی.اس نے یہ شادی آفرین سے نہی اسکی.لاش سے ہوگی..
اب جاو یہاں دفعہ ہوجاو میرے کمرے سے…..
یہ بول کے آفرین نے مونا کو کمرے سے باہر نکال کے دھکا دیا اور دروازہ زور سے بند کردیا..
اس سے پہلے مونا لڑکھڑاتی سامنے کھڑے المیر نے اسے تھام لیا جو مونا اور آفرین کی.ساری باتیں سن کے کافی.شوکڈ تھا..
مونا نے ایک نظر اسے بہتی آنکھوں سے دیکھا اور کہا..
ہوجاو خوش مگر اتنا زیادہ خوش مت ہونا اپنی جیت پہ المیر بھائ کیونکہ..
جس لڑکی کو اسکی محبت سے دور کردیا جائے..وہ صرف دوسرں کو نفرت دیتی ہے محبت نہی.یہ بات یاد رکھیے گا..
یہ بول کے مونا نے اپنی آنکھیں صاف کی اور تیزی سے نیچے چلی گئ..جبکہ المیر یہ سوچنے پہ مجبور ہوگیا.. کہ کیا ساری زندگی وہ آفرین کی.نفرت برداشت کرپائے گا…
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
اج وہ تینوں ہما کے گھر میں جمع تھے جہاں ثنا نے کافی ہنگامہ کیا تھا.نومی اور ہما کا اسکو..
سنبھالنا مشکل ہوگیا.
سمجھتا کیا ہے خود کو ہمایوں نظر نہی آتا اسے میں کتنا اسے چاہنے لگی.ہو اوپر اسکی بڑھیا ماں اسے بھی شیشہ میں اتار لیا ہے پتہ نہی.کب میرے بات کریگی.اپنے.بیٹے سے..
نومی جو کافی دیر سے ثنا کو برداشت کررہا تھا بول پڑا.
جب گھی سیدھی انگلی سے نہ.نکلے تو تیڑھی کرنے میں کوئ.مضاحکہ نہی..جس بات کا تم.کو ڈر ہے کے ہمایوں کسی.میں انٹرسٹڈ ہے تو بس پھر لندن جاکے کچھ ایسا کرو کے اسکے پاس تم سے شادی کرنے.کے علاوہ کوئ آپشن نہ بچے یہ بول کے نومی نے ریلکس انداز میں اپنے اگے رکھا جوس کا گلاس اپنے لبوں سے لگایا..تو ثنا بھی مسکراتے ہوئے اسکے سامنے بیٹھی اور کہا.
اچھا خاصی انٹیلیجنٹ ہو تم نومی یہ بول کے ثنا تو چپ ہوگئ.
مگر نومی.نے ایک شاطرانہ نظر اس پہ ڈالی اور دل میں کہا..
اور تم کتنی بیوقوف ہو یہ بہت جلد میں تمہیں بتانے والا ہو..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ہمایوں اج آفس سے گھر جلدی آگیا. فریش ہوکے نیچے آیا تو حمنہ چائے کیساتھ لان میں ہی بیٹھی تھی.حمنہ نے ادھر ادھر کی بات کے بعد جب ثنا کے متعلق بات کی .مگر ہمایوں نے کہہ کے حمنہ کی بات وہی روک دی کے اسکے دل میں ثنا کے کیلیے کوئ جزبات نہی.حمنہ نے جب ہمایوں کے دل.کا حال جانا تو اسے اگے بات کرنا مناسب نہی لگا. ابھی حمنہ ہمایوں سے کوئ اور بات کرتی اچانک ہمایوں کا رکھا موبائل بج پڑا .ہمایوں نے جب اپنا موبائل چیک کیا تو المیر کا نام دیکھ کے اسکا دل زور زور ڈھرکنے لگا.ڈھرکتے دل.کیساتھ اس نے المیر کی.کال یس کی..
ہیلو المیر کیسے ہو… ؟؟؟
میں ٹھیک ہو مگر تیرے لیہ ایک بری خبر ہے…
کیا ہوا جلدی بتا… دل بند ہوجائے گا .ہمایوں کے بولنے پہ حمنہ نے ایک آئبرو اچکا کے اسے دیکھا.. تو ہمایوں نے حمنہ کو دیکھ کے گردن جھکا لی اور دوبارہ بات کرنے لگا..
یار بری خبر یہ ہے کہ……
ہاں کیا بول بھی دے ہمایوں نے بے چینی کی.حالت میں بولا..بول نہ.یار ..
یہی کے میں مجبورا تیرا سالا بنوگا ..امی.نے اس جمعہ کو تجھے اور آنٹی.کو بلایا ہے…
المیر کا اتنا بولنا تھا پہلے تو ہمایوں شاکڈ ہوا مگر جیسی ہی اسکی بات سمجھ میں آئ اس نے زور سے کہا….
یاہووووووو جیو میرے یار تونے نہی جانتا تونے زندگی کی نوید سنائ ہے..
اچھا چل پھر ایک اور خوشخبری میں تجھے کراچی آنے پہ دونگا.. ..
یہ بول کے المیر نے کال رکھی تو ہمایوں نے خوشی میں اگے بڑھ کے حمنہ کو گودھ میں اٹھایا اور گول گول گھمانا شروع کردیا..
اور کہنے لگا ..
ماما میں بہت خوش بہت بہت…
ارے ہمایوں دیکھ رہا ہے مجھے نیچے تو اتارو. ..حمنہ کے بولنے پہ اس نے حمنہ کو نیچے اتارا.حمنہ کے پوچھنے پہ ہمایوں نے اسے سب بتا دیا.
اور اس بار وہ کراچی صرف اپنے بیٹے کی خوشی کیلیے جانے کیلے مان گئ..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ثنا نے جب حمنہ اور ہمایوں کو ایک ساتھ کراچی جاتے دیکھا تو ہریشان تو بہت ہوی مگر بولی.کچھ نہی..
ہمایوں نے کراچی آئیرپورٹ پہ المیر کو کال کی اور اپنے آنے کا بتایا..
تھوڑی دیر میں وہ.لوگ المیر کے گھر میں موجود تھے مگر جب حمنہ نے جب وہاں فاطمہ اور آفتاب کو دیکھا تو شاکڈ ہوگئ. کچھ ایسی ہی حالت فاطمہ اور آفتاب کی تھی..
دونوں سہلیاں ایک دوسرے کے گلے لگ کے خوب روئ. مگر جب فاطمہ اور آفتاب کو یہ پتہ چلا کے شاہ زین نہی رہا تو دونوں کی آنکھیں ایک بار پھر بھیگ گئ مگر حمنہ نے ابھی ان دونوں کو شاہ زین کی موت کی حقیقت نہی بتائ تھی..
ابھی وہ.لوگ باتوں میں مصروف تھے کے کسی کی چیخنے کی آواز پہ وہ سب ایک دم چونکے….
جاری.ہے ….
