50.9K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 44 Part 2

نومی ہمیں نہی لگتا تمہارے بس کا کام ہے اب ان دونوں لڑکیوں کو ہم تک پہنچانا ۔
شیخ کی غصیلی آواز اسپیکر سےابھری۔پچھلے چند مہینوں سے نومی مسلسل شیخ کو ٹرخا رہا تھا مگر اب شیخ بہلنے والا نہی تھا۔
نومی نے شیخ کی بات پہ اپنے ماتھے پہ آیا پسینہ صاف کیا اور کہا۔
شیخ اب مجھے ایک مہینے کا ٹائم دو دونوں لڑکیاں اپکو دبئ میں ملے گی۔۔
یاد رکھنا نومی اگر اس بار تم نے کوئ بہانہ کیا تو اگلا بہانہ کرنے کیلیے تم زندہ نہی رہوگے کیونکہ جو آدمی ہمارے کام کا نہی اسے جینے کا کوئ حق نہی ۔۔شیخ نے یہ کہہ کے کال کٹ کی تو سامنے بیٹا لالہ جسکو شیخ کی باتوں سے خوف آنے لگا جب اسںنے ڈرتے ڈرتے نومی سے کہا۔
نومی کچھ نہ کچھ تو جلدی کرنا پڑے گا ۔تو فلحال ہما کو ہی بھیج دے شیخ کے پاس ویسےبھی اپنا نقلی گھر دیکھا کراپنے نقلی ماں باپ سے تو اسے ملوا ہی چکا ہے ۔۔
نہی لالہ لیے کےجاونگا تو دونوں کو ایک ساتھ ہی لےکے جاونگا۔یہ بول کےنومی نے کسی کو کال کی ۔
کال پک ہوتے ہی نومی نے صرف اتنا کہا۔۔
تمہارے پاس صرف 20 دن جتنی جلدی ہو پاکستان پہنچو۔۔۔
.###################
ثنا نہا کے نکلی جب سامنے صوفے پہ ہی اسے بابر ہاتھ میں ریڈ گلاب کا بکے لے کے بیٹھا دیکھا۔۔
ثنا نے نفی میں سر ہلایا اور کہا۔
بابر مجھے لگتا ادھےسے زیادہ لندن کے ریڈ گلاب تم مجھے دے چکے ہو اور کتنا پٹاو گے مجھے میں الریڈی تم سے پٹ چکی ہو۔۔
ثنا کے بات پہ بابر کا قہقہ کمرے میں گونجا اور اس نے کہا۔۔
کیا کرو ثنا تم سے اس حد تک محبت کرنے لگا ہو دل چاہتا ہے بس کسی طرح تمہارے لبوں پہ۔مسکراہٹ لے آؤ ۔میں توبچپن سے ایدھی ہوم میں رہا زرا سےبڑا ہوا توقبلیت کے دم پہ لندن میں جاب مل گئ مگر اس دن لندن برج پہ میں نے تمہیں دیکھا گم سم سا تو بس پتہ نہی دل نے کہا کے تم سے بات کرو تمہارے ساتھ وقت گزارو۔۔
اچھا اچھا میرے مجنوں صاحب پھر شروع مت ہو جانا ایک ہفتہ بعد ہماری پاکستان کی فلائٹ ہے یاد ہے نہ بھول نہی جانا جو بھی کام ہے اپنا جلد از جلد پورا کرلو۔۔
بابر اٹھ کےثنا کے پاس آیا اسکے جسم سے اٹھنے والی دلفریب خوشبو بابر کے ہوش اڑانے کیلیے کافی تھی ۔گر پھر بھی اس نے اپنے جذبات کو کنٹرول کیا اور ثنا کو کمر سے تھام کے خود سے قریب کیا اور کہا۔
تم ایک بار پاکستان چلو تو میرے ساتھ جانمن زندگی بھر میرے ساتھ کو نہی بھولوگی۔۔

#

لندن میں رکے ہوئے ثنا کو ایک مہینہ ہوگیا تھا ہمایوں کے ساتھ کرے سلوک کو ثنا چاہ کر بھی بھول نہی پارہی تھی گھر سے دفتر دفتر سے گھر یہی ثنا کی روٹین ہوگئ تھی ۔
پھر ثنا کی زندگی میں بابر آیا جس نے ثنا کی زندگی میں ایک بار پھر پیار کا احساس جگایا۔۔
شروع شروع میں ثنا نے اسے کافی اگنور کیا ۔مگر جب گھنٹوں گھنٹوں وہ ثنا کی ایک جھلک دیکھنے کےیہ کھڑا رہتا کئئ بار ثنا کے غصہ کرنے باوجود وہ ثنا کو گلاب بھیجنا نہہی بھولا پھر ایک دن آخر کارثنا کا دل پگھل ہی گیا اور وہ بنا خالد کو بتائے اسے سرپرائز دینے کے لیہ بابر کیساتھ پاکستان جانے والی تھی۔۔

#

ہما ایک مہینہ سے اپنے گھر گئ ہوئ تھی ۔اسکی اماں کی طبیعت زیادہ خراب تھی مگر آج وہ واپس آرہی تھی کیونکہ لالہ نے اسے کال کرکے جھوٹ کہا کےنومی کا ایکسیڈنٹ ہوگیا۔۔
کچھ ایسا ہی جھوٹ نومی نے ثنا کو کہا جب ثنا نے پاکستان کی سر زمین پہ قدم رکھا۔ثنا نے سےسب پہلےخالد کو کال کرکے اپنے آنے کا بتایا ابھی وہ لوگ گھر کو نکل ہی رہے تھے جب نعمان نے اسے کال کرکے اپنے فلیٹ پہ بلایا یہ بول کے کے ہما کا ایکسیڈینٹ ہوگیا۔۔
ثنا بابر کیساتھ جیسے تیسے کرکے پہلے نعمان کے فلیٹ پہ پہنچی مگر وہاں پہنچ کے ثنا کو جہاں حیرت ہوئ وہاں غصہ بھی جب اس نے صحیح سلامت ہما کو نومی سے باتیں کرتے دیکھا۔۔
اس سے پہلے ثنا نعمان کی طرف لپکتی اس نے اپنے کان پکڑے اور کہا۔۔
سوسوری یار ناراض نہی ہو یار تم تو لندن جاکے بیٹھ گئ اور یہ میڈم اپنی ماما کے پاس میں معصوم تو تم بن اداس ہوگیا بس اس لیہ آج چھوٹا سا سرپرائز ہے تم دونوں کیلیے ۔۔
یہ بول کے نومی بابر کی طرف بڑھا اور خوش اسلوبی سے ملا اس بھی اپنے ساتھ شامل کرلیا
نومی نےثنا اور ہما کے ایک کمرے میں بیٹھایا اور دونوں کو جوس وغیرہ دیا اور خود دونوں کہی گئے چلے گئے ۔
ثنا اور ہما بیٹھے باتیں کررہے تھے جب ثنا نے جوس کا گلاس اٹھانا چاہا جو اسکے ہاتھ سےبیڈ پہ سلپ ہوگیا۔۔
ہما نے ثنا سے کہا ۔
ثنا تم یہی بیٹھو میں کچن سے صاف کپڑے لاتی۔
ہو۔۔

#

بابر اور نومی فلیٹ سے جانے کے بجائے دونوں پہ ٹیرس پہ آگئے جب نعمان نے بابر سے کہا۔۔
شاباش گڈ جاب تم نے بہت اچھا کام کیا اب تم میری بات غور سے سنو ۔ابھی تم لالہ کے پاس جاؤ اسنے نا دونوں کا جعلی پاسپورٹ تیار کیا ہوا ہے کل صبح ہی ان دونوں کو دبئ لے کر پہنچنا ہے ۔۔
مگر نعمان اتنی دیر تک ان دونوں کو یہاں کیسے روکے گے ۔؟؟؟
ڈونٹ وری بابر نومی کو کام کچا نہی کرتا میں نے ان دونوں کے جوس میں نشہ آوار چیزیں ملا دی ہےصبح تک دونوں کو ہوش نہی آنے والا۔۔
ابھی وہ لوگ اپنی اپنی باتوں میں مگن تھے اس خوش فہمی میں کے وہ دونوں اندر بیہوش پڑی ہے مگر ہما جو دیوار سےلگ کے انکی ساری باتیں سن رہی گرتے پڑتے ثنا کے پاس پہنچی ہما کی حالت دیکھ کے ثنا کافی ڈر گئ
ڈور کے ہما کے پاس آئ اور کہا۔۔
کیا ہوا ہما ایسے کیوں رو رہی ہو ؟؟.
ثنا کے تیز آواز سےبولنے پہ ہما نے فورا ثنا کے منہ پہ ہاتھ رکھا اور پھر نومی اور بابر کی تمام باتیں اس کو بتا دی دونوں کافی جہاں ڈری تھی وہاں انکے دل بھی توٹے تھے ۔۔۔۔
ثنا ہمیں یہاں سے نکلنا ہوگا ۔۔یہ بول کے ہما نے ثنا کا ہاتھ پکڑا اور جیسی ہی خاموشی سے وہ۔لوگ نکلنے لگی بابر جو ٹیرس سے باہر ان دونوں کو دیکھنے آرہا تھا اس کی نظر ان دونوں پہ پڑی اس سے پہلے وہ نعمان کو بلاتا وہ دونوں تیزی سے وہاں سے نکلی نعمان اور بابر بھی ن دونوں کے پیچھے بھاگے نعمان کا فلیٹ جہاں تھا وہاں اس پاس بہت دور دور مکاں تھے ثنا اور ہما حواس باختہ بھاگ رہے بار بار پیچھے مڑ کے دیکھ رہے تھے جب سامنے سے تیزی سے اتے ٹرک سے ہما اور ثنا کی ٹکر ہوئ ۔۔
اس سے پہلے نعمان اور بابر ان دونوں تک پہنچے ٹرک ڈرائیور اور اس پاس کے راہگیر ان دونوں کے پاس جمع ہوئے ۔۔
جاری ہے۔۔