Gunah Se Wapsi By Mariyam Imran Readelle50215 Episode 33 Part 2
Rate this Novel
Episode 33 Part 2
حمنہ کمرے میں آئ تو شاہ زین کمرے میں نہی تھا..حمنہ کو واش روم سے پانی گرنے کی آواز آئ تو وہ سمجھ گئ کہ وہ واش روم میں ہے…
حمنہ نے ہمایوں کو اٹھا کے جھولے میں لیٹایا اور خود بیڈ پہ بیٹھ کے اسکا ویٹ کرنے.لگی…
تھوڑی دیر بعد ہمایوں واش روم سے باہر آیا تو حمنہ کو شاہ زین کی آنکھیں دیکھ کے اندازہ ہوا جیسے وہ بہت رویا ہو.
حمنہ پہ نظر پڑتے ہی شاہ زین نے مسکرا کے حمنہ کو دیکھا اور جھولے کے پاس جاکے جھک کے ہمایوں کو پیار کیا اور بیڈ پہ بیٹھ کے حمنہ سے پوچھا
کیسی.ہو؟؟؟
حمنہ شاہ زین کے سامنے جاکے بیٹھی اور غور غور سے شاہ زین کو چہرہ دیکھنے لگی. شاہ زین بہتی آنکھوں اور مسکراتے لبوں کے ساتھ اسے دیکھنے لگا..
اچانک حمنہ کسی احساس کے تحت شاہ زین کے گلے لگ گئ اور اسکی گردن میں اپنے دونوں ہاتھ ڈال دیے. شاہ.زین کو بھی شاید کسی اپنے کی ضرورت تھی اس لیہ حمنہ کا سہارا پاتے ہی وہ حمنہ کے سینے میں منہ چھپائے رونے لگا. شاہ زین کو یو روتا دیکھ حمنہ سمجھ چکی تھی کے کہی کچھ گڑبڑ ہے.
وہ دھیرے سے شاہ زین سے الگ ہوئ اور ہاتھوں سے شاہ زین کا چہرہ صاف کیا اور کہا..
کیا ہوا شاہ زین نمرہ ملی کیسی ہے وہ؟؟؟
نمرہ کا زکر ہوتےنہی شاہ زین کی آنکھیں ایک بار پھر بھیگنے لگی اور اس نے کہا..
حمنہ میری گڑیا مٹی کی آغوش میں سو گئ..تمہارا صبر جیڈی پہ نمرہ کی موت کی صورت میں پڑا..تم.نے کہا تھا نہ جیڈی سے کہ انسان کے گناہوں کی.سزا اسکا کوئ اپنا ہی بھگتا ہے.تو وہ سزا نمرہ نے بھگتی ہے…
شاہ زین کی بات سن کے دو پل.کی لیہ حمنہ کا دل.لرزا اس نے شاہ زین کو آنکھوں میں خوف لیہ ڈھرکتے دل کیساتھ دیکھ کے پوچھا..
کیا مطلب شاہ زین نمرہ کو کیا ہوا..؟؟
شاہ زین نے حمنہ کو نمرہ.کے ساتھ ہوا سارا واقعہ سنا دیا..
نمرہ کے ساتھ ہوئے حادثہ کو سننا تھا کہ.حمنہ بلک بلک.کر رونے لگی..اور روتے روتے کہا..
شاہ زین الللہ.جانتا ہے قسم.سے م….ی..نے ن..م.. رہ کے بدعا نہی دی میں تو جیڈی کا ہر ظلم برداشت کیا.تو یہ سب.مطلب ..
حمنہ زاروقطار رورہی تھی رو ادھر شاہ زین کی آنکھوں سے بھی آنسو جاری تھے…
.نہی حمنہ جب انسان خاموش ہوتا ہے تو قدرت بدلہ لیتی ہے..الللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے..
نمرہ کیلیے اب مغفرت کی.دعا کرو حمنہ.. یہ بول.کے شاہ زین اپنی آنکھیں صاف کرکے اٹھنے لگا کہ حمنہ نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا اور اور واپس اس کو اپنے.پاس بیٹھایا ..شاہ زین نے سوالیاں نظروں سے اسے دیکھا..تو حمنہ نے اسے دیکھ کے کہا…
شاہ زین قسم سے میں نے.کبھی نہی سوچا کبھی میرے دل.میں یہ خیال نہی آیا کہ.جیڈی کے گناہوں کی سزا اسکی بہن بھگتے..ایسا بول کے حمنہ.ایک بار پھر رونے لگی تو شاہ زین نے اگے بڑھ کے اسے گلے سے لگالیا..تو وہ شاہ زین کی.شرٹ پکڑ کے رونے لگی..شاہ زین کیلیے حمنہ کا یہ رویہ حیران کن تھا..اس نے دھیرے سے حمنہ کو خود سے الگ کیا اسکا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھاما اور کہا..
تم سے زیادہ تمہیں جانتا ہو تمہیں شرمندہ ہونے کی ضرورت نہی..
شاہ زین بول کے چپ.ہوا تو حمنہ نے ہاں میں گردن ہلائ شاہ زین نے دومنٹ کیلیے حمنہ کے چہرے کا ایک ایک نقوش دیکھا..
شاہ زین کی آنکھوں میں ایسا کچھ تھا جسے پڑھ کے حمنہ کی.ہارٹ بیٹ کافی تیز ہوئ.
شاہ زین نے دو منٹ کیلیے حمنہ کے ہونٹوں کو دیکھا اور پھر پورے استحاق سے اپنی سانسیں حمنہ کی سانسوں میں منتقل کرنے لگا. شاہ زین کی اس حرکت پہ حمنہ آنکھیں پٹ کرکے پوری کھل گئ..حمنہ نے شاہ زین کے سسینے پہ.ہاتھ رکھ کے اسے خود سے دور کرنے کی.کوشش کی.تو اس نے حمنہ کے دونوں.ہاتھ قابو کرکے اسے بیڈ پہ.لیٹا کے اس پہ.جھکا اور اسکے ڈوپٹہ اتار کے سائیڈ پہ رکھ کے اس کے گردن پہ.اپنے لب رکھے..حمنہ نے آہستہ سے شاہ زین سے کہا..
وہ شاہ…ابھی حمنہ کہ بات اس کے منہ میں ہی تھی کے شاہ زین نے ایک بار پھر اس کے لبوں کو قید کیہ اور کہا
آج نہی حمنہ اج مجھے میری دوست کیساتھ ساتھ میری بیوی.کی بھی ضرورت ہے..یہ بول.کے شاہ زین نے اسکی کانوں کو اپنے لبوں سے چوما اور ایک بار پھر اس پہ جھک گیا..
حمنہ نے.بھی پھر اسے نہی روکا .جب حرام رشتہ میں بندھ کے جب وہ اپنا سب کچھ اپنے پیار کو ثابت کرنے کیلیے لٹا سکتی تھی. تو شاہ زین تو پھر اسکا مجازی خدا ہے. اسے اس کے حق سے کیوں محروم رکھو..اج شاہ زین نے اپنی اور حمنہ کے درمیان یہ معمولی سی دیوار بھی گرادی تھی…
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
وقت کا کام ہے گزرنا اور وہ گزر ہی جاتا ہے..اج ہمایوں 9 سال.کا ہوگیا.تھا..الللہ نے شاہ زین اور حمنہ کو ایک بیٹی سے نوازا تھا جو ہمایوں سے 5 سال چھوٹی تھی…شاہ زین اور حمنہ کی محبت میں وقت کیساتھ ساتھ اور شدت آئ تھی..
ظفر اور رابعہ کو الللہ نے ایک بیٹی اور بیٹے سے نوازا تھا..مبشرہ کو الللہ نے شروع سال میں تین بیٹے دیے جو زیادہ عرصہ نہ جی سکے..پھر الللہ.نے اسے دو بیٹیوں اور ایک بیٹے سے نوازا تھا.
مبشرہ.کی چھوٹی بیٹی ہوبہو نمرہ کی شکل کی تھی اس لیہ سب کی.لاڈلی تھی..نوین بیگم کیساتھ کیساتھ شیر خان کی بھی اس میں جان تھی…
¤¤¤¤¤¤
شاہ زین میٹنگ سے فارغ ہوکے نکلا. تو اسکے نمبر پہ ظفر کی.کال.آنے لگی..
شاہ زین نے.مسکراہٹ کساتھ کال اٹینڈ کی اور کہا..
ہیلو ظفر کیسے ہو بچے کیسے ہیں اور رابعہ کیسی ہے…؟؟؟
ارے ارے سانس تو لے لو. فون پہ.ہی پچھلے نو سالوں سے سب کی خیریت پوچھتے ہو. کبھی اکے تو ملے نہی اپنے بھتیجی بھتیجوں سے…
ظفر کی بات پہ.شاہ زین ایک دم چپ ہوگیا..اور ظفر اسکی حویلی نہ.آنے.کی.وجہ جانتا تھا..
دیکھو شاہ زین میں جانتا ہو تمہہں جب سے خالو کی.کرتوتوں کا پتہ چلا ہے تم.نے وہاں آنا چھوڑ دیا.ہے مگر یقین جانو. شاہ زین خالو اب کافی بدل چکے ہیں نمرہ.کی.موت نے انکو بہت بڑا سبق دیا.ہے..میں نے تمہیں اج یہ بتانے کیلیے کال کی ہے کے نوین خالہ کی طبیعت کافی خراب ہے. اور کسی.کیلیے نہ سہی انکی خاطر ہی حویلی آجاو.. سوچنا ضرور اس بارے میں یہ بول کے ظفر نے کال.کٹ کردی..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
رات میں شاہ زین گھر پہنچا تو اسے بچے ہال میں ہی مل گئے جبکہ شاہ زین جانتا تھا کہ حمنہ کہاں ہوگی…
شاہ زین کچن میں گیا تو وہی اسے وہ کھانا بناتے ہوئے ہی ملی.بوا کے انتقال کے بعد حمنہ نے بھلے ماسی رکھ لی تھی.مگر کھانا وہ اپنے ہاتھوں سے ہی بناتی تھی.شاہ زین نے اسے اچانک اسے پیٹ سے تھاما اور اسکے کندھے پہ ٹھوڑی رکھ کے کہا..
کیا کیا بنا رہی ہے اج میری جان…
شاہ زین کے ایسے اچانک تھامنے پہ حمنہ ڈری نہی اسے پتہ تھا کے ایسا صرف اسکا شوہر ہی کر سکتا تھا..
حمنہ نے دھیرے سے مڑ کے اسکے گلے میں اپنے ہاتھ ڈالے اور کہا.
وہی جو میری جان کو پسند ہے..
ہائےےےے ..
میری جان..
حمنہ کی بات سن کے شاہ زین نے فورا اسکے لبوں کو چوما تو حمنہ ایک جھٹکے سے اس سے الگ ہوئ اور کہا…شاہ بچے آجائینگے..
شاہ زین نے دھیرے سے پاس آکے حمنہ کے کان مین سرگوشی کی..
ویسے حمنہ.تمہیں نہی.لگتا اب ہمایوں اور ہانیہ کا ایک اور بھائ آجانا چاہیے..
شاہ زین کی بات پہ حمنہ نے فورا شرم.سے اپنی آنکھی جھکائ اور کہا
شاہ فورا باہر جائے فریش ہوکے آئے میں کھانا لگاتی ہو…
حمنہ نے شاہ زین کو کچن سے دھکا دیا..تو باہر ہمایوں اور ہانیہ زور زور سے ہنس رہے تھے..
شاہ زین نے آگے بڑھ کے اپنے دونوں بچوں کو پیار کیا اور فریش ہونے چلا گیا…
¤¤¤¤¤¤
رات کے کھانے سے فارغ ہوکے جب حمنہ بچوں کو سلا کے کمرے میں آئ تو شاہ زین کو گّم سم سا پایا..
کیا بات ہے شاہ کیا سوچ رہے ہیں..؟؟
شاہ زین نے حمنہ کے پو چھنے پہ ظفر سے کال.پہ.ہوئ ساری بات اسے بتا دی..
شاہ زین کی بات سن کے حمنہ بھی اداس ہوئ اور کہا.
شاہ اپ جاکے مل آؤ آنٹی سے پھر دو دن بعد تو ہمایوں کی دسویں سالگرہ ہے..
نہی حمنہ جائینگے تو ہم.سب ساتھ جائینگے ورنہ رہنے دو.
شاہ زین اپ.جانتے ہو میں نہی چاہتی اس..ابھی حمنہ.کی بات منہ میں ہی تھی کہ شاہ زین نے فورا ااے ٹوکا اور کہا.
تمہیں مجھ پہ بھروسہ نہی حمنہ… ؟؟؟
ایسی بات نہہی شاہ زین. اچھا چلے ٹھیک ہے کل چلتے ہیں مگر دو دن بعد واپس آجایینگے..
حمنہ کی بات سن کے شاہ زین نے.مسکرا کے حمنہ کو گلے سے لگایا اور کہا..
یہ جو تم فورا میری بات مان جاتی ہونا مجھے تم سے اور زیادہ محبت ہونے.لگتی ہے.. یہ بول کے شاہ زین نے حمنہ کو اپنے سینے میں چھپالیا. جبکہ حمنہ کے دل حویلی جانے سے ہی ہولنے لگا تھا..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
شاہ زین کی فیملی حویلی پہنچے تو سب نے ہی پرتپاک استقبال کیا..شاہ زین کے بچے وہاں سارے بچوں سے مل کے کافی خوش ہوئے..
جبکہ امجد تو حمنہ کو دیکھ ایک بار پھر حیران رہ گیا.جو شاہ زین کے پیار میں پہلے سے زیادہ حسین ہوگئ تھی..اور ہانیہ کو دیکھ کے وہ سمجھ گیا.کے ان کے درمیان سب کچھ اچھا ہے..حمنہ کئ بار امجد کی میلی نظر اپنے اوپر برداشت کرچکی تھی مگر وہ یہ بات شاہ زین کو بتا کے اسے پریشان کرنا نہی چاہتی تھی..
نوین بیگم تو جیسے لگتا تھا کے شاہ زین کی ہی راہ تک رہی تھی.ا
جس دن شاہ زین لوگ واپس کراچی آرہے تھے. اسی دن نوین بیگم خالق حقیقی سے جلی.
اج نوین بیگم کو گئے پانچواں دن تھا.شاہ زین کسی کام سے وادی کے لوگوں کیساتھ گیا ہوا تھا..کل ان.لوگوں کی.کراچی واپسی تھی…
حمنہ نے دونوں بچوں کو سلایا اور کمرے کے اگے بنے ٹیرس پہ.آگئ..
تیڑس پہ.کھڑے ہوکے حمنہ نے تھوڑا پیچھے ہوکے نیچے دیکھا..کیونکہ تیڑس کی باونڈری کافی چھوٹی تھی..اس لیہ حمنہ نے احتیاط سے کھڑی ہوکے نیچے تو دیکھا تو دور تک پھیلا ہوا خان حویلی کا باغ تھا.
اتنی اونچائ سے نیچے دیکھنے پہ حمنہ کو ایک دم چکر آئے.جیسی وہ پیچھے ہوئ تو کسی سے ٹکرائ..
حمنہ نے پلٹ کے دیکھا تو جیڈی ہوس بھری نظروں سے اسکے بنا ڈوپٹہ کے سراپے کو دیکھ رہا تھا. حمنہ نے کرسی پہ پڑا اپنا ڈوپٹہ اٹھا کے اورھا اور گرجدار آواز میں کہا..
تیری حمت کیسے ہوئ میرے کمرے میں آنے.کی نکل فورا یہاں سے شاہ زین تیری جان نکال دے گا..
حمنہ کی بات سن.کے جیڈی دھیرے دھیرے اس تک آیا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنے طرف کھینچا..
¤¤¤¤¤¤¤¤
شاہ زین کو آنے میں کافی دیر ہوگئ تھی وہ خاموشی سے اپنے کمرے میں آیا وہ کمرے میں آتے ہی حمنہ کو آواز دیتا مگر بچوں کو سوتا دیکھ وہ ٹیرس کی طرف بڑھا مگر وہاں جیڈی اور حمنہ کو اتنا قریب دیکھ کے اسکے پیروں کے نیچے زمین نکل گئ. اس سے پہلے وہ.حمنہ کو غلط سمجھتا حمنہ کی آواز پہ وہ.فورا چونکا اور سمجھ گیا معملہ کچھ گڑ بڑ ہے اور وہ.وہی ان دونوں کی باتیں سننے لگا..
جیڈی کی اس حرکت پر حمنہ نے اسکو دھکا.دیا اور کہاں ہمت کیسے ہوئ تجھے مجھے ہاتھ لگانے کی.کمینے انسان..
حمنہ کی بات پہ جیڈی کھل.کے مسکرا کے اس کے پاس آیا اور کہاں..
ہاتھ تو تجھے بہت بار لگا چکا ہو جبھی وہ.ہمایوں میرا..ابھی جیڈی اگے کچھ اور بولتا حمنہ کا زناٹے دار ٹھپر اسکی بولتی بند کرگیا..حمنہ.نے ایک اور ٹھپڑ اسکے منہ.پہ مارا اور کہا..
اپنی گندی زبان سے میرے بچے کا نام مت لینا وہ.میرے شاہ زین کا بیٹا ہے آئ سمجھ تجھ سے تعلق جوڑنا میری زندگی.کی سب سے بڑی غلطی تھی..کچھ تو شرم.کر بے شرم بیٹیوں کا باپ ہے تو اب…
حمنہ کی باتوں نے جیڈی کا دماغ بھنوٹ کردیا. وہ تیزی سے حمنہ کے قریب آیا اور کہا..اج اس کمرے میں میں تیرا وہ حال کرونگا کہ تو موت مانگے گی اپنے.لیہ..
اتنا بول کے جیڈی نے جیسی ہی حمنہ کی چادر کی طرف ہاتھ بڑھایا..
شاہ.زین نے تیزی سے اسے پیچھے کھینچا اور ایک زور دار مکہ اسکے منہ مارا..
حمنہ شاہ زین کو دیکھ کے فورا اسکے سینے سے لگ کے رونے لگی..شاہ زین نے حمنہ کے آنسو صاف کیہ اور کہا.
ڈرو مت اج میں اسکا وہ حال.کرونگا کہ یہ.ساری زندگی یاد رکھے گا..
یہ بول کے شاہ زین نے ایک.اور مکا ااکے منہ پہ.مارا..
جیڈی اور شاہ زین میں گھتم گھتا ہونے لگی.بچے بھیی شور سے اٹھ کے ٹیرس کی طرف آیے اور ڈر کے پردے کے پیچھے چھپ کے دیکھنے لگے.اچانک شاہ زین نے ایک زور دار مکا جیڈی کو مارا تو وہ.نیچھے جھک گیا..
پردے کے پیچھے چھپی جب ہانیہ نے شاہ زین کے منہ سے نکلتا خون دیکھا تو وہ ڈور کے اپنے باپ سے لپٹ گئ اس سے پہلے شاہ زین اسے خود سے دور کرتا جیڈی نے بنا یہ دیکھے کے شاہ زین بلکل کنارے پہ.کھڑا ہے اور ساتھ میں ہانیہ بھی ہے. ایک زور سے لات شاہ زین کو ماری.. شاہ زین کا بیلنس آوٹ ہوا.. اور وہ ہانیہ کیساتھ ہی ٹیرس سے نیچے گرگیا…
جاری ہے….
