50.9K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

ہما جو اسٹڈی کیلیے کراچی آئ تھی ایک مڈل فیملی سے بیلونگ رکھتی تھی. مونا اور اسکی ملاقات ایک ریسٹورینٹ میں ہوئ تھی.. جہاں بھر پور ڈنر کے بعد جب بل کی باری آئ تو بدقسمتی سے ثنا اپنا اے ٹی ایم کارڈ گھر ہی بھول آئ تھی…
ہما کافی دیر سے اسے دیکھ رہی تھی.اس کی ہر ادا سے امیری جھلک رہی. ثنا کی مدد کہ تو اس نے ہمدردی کے طور پہ تھی مگر بعد میں یہ ہمدردی اسکی لالچ میں بدل گئ.
اس چھوٹی سی ہمدردی کرنے پہ ثنا اسکی بہت مشکور ہوئ ..وہی اسکی کافی مالی امداد کی….
¤¤¤¤
ہما کے فلیٹ کے قریب گاڑی روک کے ہما نے اتر کے ادھر ادھر دیکھا اور پھر نومی کو اشارہ کرکے اپنے پیچھے آنے کو کہا…
نومی نے ثنا کے مومی وجود کو اپنی باہنوں میں اٹھایا..
..گہرے گلے ہونے کی وجہ سے کئ بار نومی کی.نیت پھسلی… مگر ہما کی وجہ سے وہ.کنٹرول کر گیا…
ہما کے کہنے پہ.نومی نے اسے آرام سے اسے ہما کے بیڈروم میں لیٹایا اور.کمرہ بند کرکے باہر نکلا تو ہما کسی سے فون پہ بزی تھی..
پانچ منٹ بعد ہما فری ہوئ… تو نومی نے کہا…
کس سے بات کرہی تھی.؟؟؟؟
ہما پہلے تو نومی کو گھور کے دیکھا اور پھر کہا…
ثنا کے فادر کو کال کر کےانفارم کر رہی تھی……
ویسے ہما تمہاری یہ دوست ہے کافی امیر….؟؟؟
ہاں امیر ہونے کے ساتھ ساتھ اکلوتی بھی…
ہم نومی نے ہما کی ہاں ہاں ملائ…
تھوڑی دیر چپ رہنے کے بعد نومی نے کہا…
میرے لیہ کیا حکم ہے جانمن؟؟
نومی نے ہما کے اپنے قریب کرتے ہوئے کہا…
ابھی تو تم یہاں سے جاو.. کل بات ہوگی…
ہما نے غصہ میں اپنے اپ کو نومی سے چھڑوایا اور کہا…
ارے میری بے بی ناراض ہے کیا؟؟؟
نومی نے کمال کی ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا..
جس طرح تم بھوکے جانور کی طرح ثنا کے جسم کو گھور گھور کے دیکھ رہے تھے… مسٹر نومی….
..
نہ تو میں آندھی ہو اور نہ تو بچی.. اس لیہ فضول کے بہانوں سے مجھے بہلانے کی کوشش نہی کرنا…
نومی نے اپنی ٹھوری کھجائ اور کہا…
ارے جانمن اتنی حسین چیز باہنوں میں ہو تو آندھے کا بھی ایمان ڈگمگا جائے میں تو پھر ادنا سا انسان ہو..
…یہ بول کے نومی نے کھینچ کے ہما کو اپنے قریب کیا اور اسکے لبوں پہ اپنے لب رکھ دیے..
نومی نے ایک ادا سے اسکے لب اذاد کیہ اور کہا…
جان تو تم ہو تمہاری جگہ تو کوئ بھی نہی لے سکتا.. نومی کی ڈائیلاگ پہ جہاں ہما شرمائ وہی…وہی نومی کے چہرے پہ شاطرانہ مسکراہٹ آی..
مگر میں ابھی بہت تھک گیا ہو.. اور تم جانتی ہو میری تھکن کیسے اتریگی.
یہ بول کے نومی چپ ہوا تو ہما اسکی بات کا مفہوم سمجھ کے گھبرائ اور کہا…
نومی تمہں میں نے ہزار بار کہا ہے یہ سب شادی کے بعد…
ہما کی بات سن کے نومی نے کمال کی ایکٹنگ کرتے ہوئے ہما کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کے کہا..
ہما کیا تمہیں مجھ پہ میرے پیار پہ بھروسہ نہی..؟؟؟
ہما نے نومی کیا بات سن کے فورا کہا…
نہی نہی نومی ایسی بات نہی بس میں چاہتی ہو یہ سب شادی کے بعد ہو.. میں تم پہ خود سے زیادہ بھروسہ کرتی ہو مگر…فلحال جب تک تم.اپنی مما سے ہماری بات نہی کرتے ہماری شادی نہ ہوجاتی تب تک یہ سب نہی.
نومی نے جب دیکھا کہ حالات سنگین ہورہے ہیں.. تو نومی نے کہا..
ٹھیک ہے بے بی جیسا تم کہو چلو اب میں نکلتا ہو بہت دیر ہورہی ہے ماما گھر میں ویٹ کر رہی ہونگی…..
یہ بول کے نومی ہما کے گھر سے نکلا تو ہما بھی ارام جرنے کیٹ گئ….
¤¤¤¤¤
ہما کے فلیٹ سے نکلتے ہی.نومی کے نمبر پہ کال آنے لگی.. نمبر دیکھ کے نومی کے لبوں پہ ایک حسین مسکراہٹ آئ.. اور اس نے مسکراتے مسکراتے کال ریسو کی…
ہیلو نومی کیا ہوا کام بنا؟؟؟؟
ارے کہا گل خان. وہ لڑکی اتنی سیدھی بھی نہی جتنا میں اسے سمجھ رہا تھا.. ..
کچھ ٹائم اور لگے گا ابھی اسکو شیشے میں اتارنے میں ایک بار وہ نومی.کے بستر کی زینت بن جائے.. پھر تو وہ ہر وہ کام کریگی ..جو نومی کہیے گا…
ارے نومی لالہ جلدی کرو ہم بھی اسکا مزہ چکھنے کیلیے بیتاب ہے…
یہ بول کے جہاں جہاں..نومی ہنسا وہی موبائل پہ گل خان کا بھی قہقہ گونجا….
کہ جبھی ہنستے ہنستے نومی کی آنکھوں کے سامنے ثنا کا سراپا لہرایا..تو اس نے گل.خان سے کہا…
گل خان تیار ہوجاو.. اس بار ایک نہی دو دو بلبل کا شکار کرینگے… اگر ایک پری ہے تو دوسری اپسرا…
ٹھیک ہے لالہ جو کرنا ہے جلدی کرو شیخ کا فون کبھی بھی اجائے گا دبئ سے…
ہاں ہاں گل خان اب تم فون رکھو…
اوکے نومی لالہ پھر بات ہوگی..الللہ حافظ…
¤¤¤¤¤¤
نومی کا تعلق ایسے گروہو سے تھا..جو مڈل کلاس لڑکیعں کو اپنے امیری کا ناٹک کر کے لڑکیوں کو پہلے تو اپنے پیار کے جال میں پھنسا کے انکی عزت خراب کرتے.. پھر بعد میں انکو اگے بیچ دیتے…
ہما کی ملاقات نومی سے ایک ایزی لوڈ کی شاپ پہ ہوئ.. نومی نے جب ہما کو دیکھا تو اسکی رال وہی ٹپکنے.لگی کیونکہ ہما کافی خوبصورت تھی..مگر نومی کی مشکل اس وقت آسان ہوئ..جب ہما نے ایزی لوڈ والے کو اپنا نمبر.لوڈ کرنے کیلیے بتایا.. جو نومی نے باآسانی یاد کرکے بعد میں رانگ کال کے زریعہ پہلے تو اسے اپنی امیری کا ڈرامہ دیکھایا پھر اسے اپنے جال میں پھنسایا..
¤¤¤¤¤¤
اگلے دن المیر نے ناشتے کی ٹیبل پہ اپنے ماما سے کہا….
ماما وہ کل میرے دوست کی بہن کی ایگیجمنٹ ہیں..اس کی بہن کیلیے گفٹ لینا ہے… تو کیا اپ چلینگی. شام میں میری ساتھ….؟؟؟
فاطمہ بیگم جو ناشتہ کرنے میں مصروف تھی.. المیر کی بات پہ کہا..
نہی بیٹا اج شام میں تو مجھے اپکے پاپا کے ساتھ ایک ضروری کام سے جانا ہے.
اوہ…
المیر نے معصومہ انداز میں کہا..
المیر کی کمال کی.معصومیت دیکھ کے اعیرہ اور مونا نے بہت مشکل سے اپنا قہقہ ضبط کیا…
مگر بیٹا اپ مونا کو لے جاو شام میں تو یہ فری ہوتی ہے کیوں مونا….؟؟
ہاں ماما ..المیر بھائ میں بھی چلو مارکیٹ مجھے بھی اپنے اسکول کی کچھ چیزیں لینی ہے اعیرہ نے بھی اپنا حصہ ڈالنا ضروری سمجھا…
ہان پری تم بھی چلنا واپسی پہ ماما ہم لوگ باہر ڈنر کرتے ہوئے آئنگے..اپ کو کوئ اعتراض تو نہی؟؟
ارے نہی بیٹا اچھا ہے اپ لوگ بھی انجوآئے کرلوگے ویسے بھی اپکے پاپا اور میں گھر پہ نہی ہونگے مگر دیھان رکھنا اعیرہ کا اسکی طبیعت ویسے بھی ٹھیک نہی..
جی جی ماما اپ بے فکر رہے…
¤¤¤¤¤
شام میں وہ تینوں پتہ ڈھونتے ہوِئے عابد کے گھر پہنچ ہی گئے..
واچ مین نے المیر کی.کرولا کار کیلیے گیٹ کھولا.. اندر اکے المیر نے اسے اعیرہ کی طرف اشارہ کرکے بتایا کہ میری بہن عابد کی کلاس فیلو ہے اسکا حال چال پوچھنے آی ہے…
االمیر کے بتانے پہ واچ مین نے انٹرکام پہ انے والوں کی تفصیل دی تو اندر سے اجازت ملتے ہی مونا اور اعیرہ اندر بڑھ گئے جبکہ المیر وہی گاڑدن میں واک کرنے لگا..کہ تھوڑی دیر بعد ہی ایک بلیک پیجارو اندر آئ..
¤¤¤¤
اعیرہ نے ڈر کے مارے مونا کا ہاتھ پکڑ لیا.. مونا نے اسے تسلی دی اور اندر چلی گئ…عابد کی ماما ہال میں ان سے ملی..اعیرہ کو دیکھ کے انہیں غصہ تو بہت آیا مگر جب انہیں یہ پتہ چلا.. کہ اعیرہ عابد کو سوری کرنے آئ ہیں اور واقعی بہت شرمندہ ہیں تو ان کو اعیرہ کی.معصوم صورت دیکھ کہ اس پہ بہت پیار آیا انہوں نے اسے عابد سے ملوایا.. جہاں اعیرہ نے عابد سے سوری کہا…وہی عابد نے بھی اسے سوری کہا.. ہنسی خوشی وہاں سارے معملات نمٹ گئے.. مونا نے عابد کی ماما سے ریکوسٹ کی وہ پرنسپل سے ریکوسٹ کرے کہ معملہ انکی.ماما تک نہ پہنچے.. عابد کی ماما نے ہنستے ہنستے مونا کی ریکوسٹ ایکسپٹ کی..جہان گھر کے اندر والا معملہ ٹھنڈا ہوا… وہی گاڑدن میں ورلڈ وار شروع ہونے والی تھی…
¤¤¤¤¤
المیر نے جب گاڑی کو اندر آتا دیکھا تو فورا سیدھا ہوا.. اسکا اندازہ تھا کہ عابد کے فادر ہونگے مگر جب. اس میں کسی لڑکی.کو اترتے دیکھا تو حیران. .ہوا…
گاڑی سے اترتے ہی آفرین کی نظر گارڈن میں موجود اجنبی چہرے پہ پڑی تو اسکے قدم اندر جانے کے بجائے گارڈن کی طرف اٹھے…
پنک شلوار قمیز کے برینڈد سوٹ پہ سفید اسکارف اور سفید ہی ڈوپٹہ پہنے پاوں میں کھسے… کالی آنکھوں میں گہرا کاجل لگائے وہ ایک ہی نظر میں المیر شاہ کی دل ڈھرکا گئ…
آفرین نے المیر کے پاس اکے کہا…
exuzmi who are you????
آفرین کی آواز پہ المیر خیالی دنیا سے باہر آیا اور کہا…
میں المیر شاہ. اعیرہ کا بھائ…
آفرین کا المیر کا تعارف سننا تھا کہ فورا اسکے چہرے.پہ غصہ کے آثار نمودار ہوئے. اور اس نے کہا..
اوہ تو اپ ہیں اعیرہ کے بھائ.. بات سنے زرا.. اپنے اپنی بہن کو تمیز نہی سیکھائ. کسطرح اس نے میرے بھائ کی آنکھ پہ مارا…شکل سے اپ لوفر لگتے ہیں مگر انتا تو سسنس اپ میں ہوگا نہ کہ اپنے چھوٹے کو کیا بات سمجھانی ہے.. مجھے تو 100 پرسنٹ یقین ہے…کہ اپکو دیکھ کے ہی اپکی بہن کی ایسی حرکتیں ہیں…گاڑی سے اترتے ہی.. میں اپکو دیکھ لیا تھا.. کیسے ندیدو کی طرح اپ مجھے گھور رہے تھے…اور ساتھ میں میری گاڑی کو بھی.. افف .
..
المیر کا تو آفرین کی باتیں سن کے صدمہ سے ہی منہ.کھل گیا..اسکی شکل لوفروں والی.ہے یہ.لقب اج اسے اس لڑکی سے ہی ملا.. کیونکہ جہاں تک اسے یاد تھا اپنی یونی میں وہ چاکلیتی بوائے کے نام سے مشہور تھا اور سونے پہ سہاگہ ندیدو کا لقب سے بھی نوازا گیا…
اس سے پہلے آفرین اپنے لب بولنے کیلے وا کیہ المیر نے اسکے لبوں پہ انگلی رکھی اور کہا.
افف کتنا بولتی ہو…
پہلی بات میری بہن سے غلطی ہوئ..ہے میں مانتا ہو.. اس لیہ اج اسے میں عابد سے معافی منگوانے آیا ہو..
دوسری بات میرے بارے جو ابھی اپنے رائے قائم کی ہے کہ مجھے دیکھ کہ میری بہن نے لڑنا سیکھا.. تو اپنے بھائ کو لڑنے کی کلاسس اپنے ہی دی ہوگی…اور جہاں تک میرے چہرے کو جو لقب اپنے دیا بہت جلد اسکا جواب مل جایے.گا تمہں.اور ہاں رہی تمہاری گاڑی کو ندیدو کی طرح گھورنے کی بات.. تو آفتاب شاہ بزنس ٹائیکون کا نام تو سنا ہوگا…
he is my father..miss
یہ بول کے المیر نے آفرین کے لبوں پہ سے اپنی انگلی ہٹائ ..
المیر کی اس حرکت پہ آفرین اس سے پہلے اپنا ہاتھ اٹھاتی..
پیچھے سے اپنی ماما کی آواز پہ. جو اسکا نام پکار رہی تھی..فورا سیدھی ہوئ.
اسکی ماما اعیرہ اور مونا اس تک پہنچے تو آفرین غصہ میں کہا..
ماما کتنی بار کہا ہے ہر ایک کے سامنے میرا نام نہی.لیا کرے…
جبکہ مونا کو آفرین کو دیکھ کے جہاں حیرت ہوئ وہی آفرین کا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا.. جبکہ المیر کا تو افرین کا نام سن کے ہی دل اور تیزی سے ڈھرکا…
مونا اور آفرین کلاس میٹ تھی اور ابھی چند دن پہلے نیو یونی میں انکی ملاقات ہوئ جو دوستی میں بدل گئ…
اعیرہ نے آفرین سے بھی ایکسکیوز کیا.. تو اس نے بھی مسکر کے ااسکی معزرت قبول کی.اسکی امی ان لوگوں کو گیٹ تک چھوڑنے گئ تو المیر. نے آفرین کے پاس سے گزرتے ہوئے ہلکی سی سرگوشی میں کہا…
“سرمی سرمی مخملی مخملی..
آفرین آفرین..”
یہ کہہ کے المیر نے آفرین کو آنکھ ماری اور گاڑی میں جاکے بیٹھ گیا…جبکہ المیر کی اس حرکت پہ آفرین سوائے اپنی مٹھیاں بھیچنے کے علاوہ کچھ نہ کرسکی..
جاری ہے…….