Rate this Novel
Episode 25
حمنہ کا امجد کو بار بار جیڈی کہنا. سب کو پریشان کرگیا..جبکہ.آفتاب اور فاطمہ جیڈی کو امجد کے روپ میں دیکھ کے شاکڈ تھے…
جیڈی کو بلکل اندازہ نہی تھا کہ.حمنہ کی.ملاقات اس سے یو ہوگی…
حمنہ نے روتے روتے امجد عرف جیڈی سے کہا..
جیڈی تمہیں پتہ ہے ماما پاپا نہی رہے…میں اکیلی ہوگئ.
میں اکیلی ہوگئ..
سب سے پہلے شاہ زین کو ہوش آیا وہ تیزی سے حمنہ کی.طرف بڑھا اور اسے امجد سے الگ کرتے ہوئے کہا…
حمنہ یہ تم کیا بول رہی.ہو جیڈی.
یہ.امجد ہے میرا چچا زاد بھائ یہ جیڈی نہی ہے تمہیں کوئ غلط فہمی ہوئ.ہے تمہیں..شاہ زین گھبرائ حالت میں حمنہ سے زیادہ خود کے دل.کو تسلی دے رہا تھا…
نہی.نہی شاہ زین یہ.جیڈی ہے میرا جیڈی ہے ہم.دونوں ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے ہیں..اور اور…
اور کیا لڑکی.کیا.تماشہ لگا کے رکھا ہے تم نے. ایک.دم نوین کی غصیلی بھری آواز گونجی…
اور یہ.کے یہ اسی جیڈی عرف امجد کے بچے کی مان بننے والی ہے…
فاطمہ کی آواز پہ سب نے اسے سکتے کی.حالت مین دیکھا وہی.شاہ زین فاطمہ کی بات سن.کے لڑکھڑایا اگر بروقت اسکے پیچھے کھڑا خالد اسے نہ تھامتا تویقینن وہ زمین بوس ہوجاتا..شاہ زین نے فاطمہ کے.جملے پہ.پہلے سکتے.کی.حالت میں حمنہ کو دیکھا اور پھر اس نے اپنے پیچھے کھڑے خالد کو دیکھا. جسکی آنکھوں میں کچھ دن پہلے کہے اپنے الفاظ کی سچائ دیکھی..
کیا تماشہ لگا رکھا ہے تم نے کون ہو تم.اور یہ.جیڈی کون ہے..؟؟؟؟
امجد کی اواز پہ حمنہ نے سکتے کی.حالت میں اسے دیکھا اور آہستہ آہستہ اسکے پاس اکے اسکا چہرہ تھام کے کہا…
جی. ڈی. ت. م. م مزاق کررہے ہو نہ… تو تم. جیڈی..ہمارے بچے کے ہونے والے باپ…
کیا نشہ وشہ کرکے آئ.ہو لڑکی کب سے بکواس سن رہا ہو تمہاری…کون ہے یہ شاہ زین کونسا نمونہ.لائے ہو تم کراچی سے اماں جان نکالے اسے یہاں سے فورا…
نہی جیڈی میں کہی نہی.جاونگی اس پیار کی بہت بھاری قیمت چکائ ہے میں نے نہی تم میرے ساتھ ایسا نہی.کرسکتے ..حمنہ نے جیڈی کا گریبان پکڑ کر چیخ کے کہا.
سب ہی یہ تماشہ دیکھ رپے تھے جبکہ ان.تماش بین میں ایک ایسا شخص بھی تھا امجد کے گھر میں سے جو یہ بات جانتا تھا کہ شہر میں امجد کو سب جیڈی کہتے ہیں..
آفتاب نے جیسے کچھ بولنے کیلیے لب کھولے. فاطمہ نے فورا اسکا ہاتھ پکڑا اور اسے کچھ بھی کہنے سے روکا…
جیڈی نے حمنہ کا ہاتھ اپنے کالر سے ہٹایا اور اتنی.ہلکی آواز میں کہا. جو صرف حمنہ ہی.سن پائ..
پانی پھیکا تھا نہ میرے منہ پہ.تم نے حمنہ مشتاق.. میں تمہارے کردار پہ تیزاب پھینکا ہے.جسکی چھیینٹے تو دنیا کو. نہی.دیکھا سکتی مگر اس کے زخم ساری زندگی اپنی روح پہ سہوگی…
یہ بول کے جیڈی نے جھٹکے سے اپنے کالر پہ سے حمنہ کے ہاتھ ہتائے اور گرج کر نورین بیگم سے کہا…
نکالے امی.اس گندگی کو باہر پتہ نہہی.کس کا ساتھ کی.گئ عیاشی کا ٹوکڑا میرے سر پہ.لاڈ رہی.. تم.جیسے لڑکیوں کو خودکشی کرنی چاہیے..مرجاو کہی جاکے….
یہ بول کے امجد تیزے سے اپنے کمرے کی.طرف بڑھا اور جاتے جاتے مبشرہ.کو بھی آنے کا اشارہ کیا…
خالد نے بہت مشکل سے شاہ زین کو سنبھالا ہوا..
حمنہ سکتے کی.حالت میں نیچے زمین پر بیٹھ گئ.. فاطمہ.آہستہ سے اسکے پاس آی اور اسے کہا…
چلو حمنہ اس سے بہترین تحفہ خود کے ملنے پہ.جیڈی تمہیں نہی.دے سکتا..چلو.. فاطمہ کے کہنے پہ.حمنہ نے روتی آنکھوں سے اسے دیکھا..اور کہا…
تم ٹھیک تھی فاطمہ تم ٹھیک تھی میں جان لے لی اپنے ماما بابا کی..
فاطمہ ششششش آہستہ آہستہ. پتہ ہے میں عیاش عورت ہو ہاہا ہا ہا ہا عیاش عورت. ہاہاہاہاہا.
حمنہ کی حالت دیکھ کے فاطمہ اور آفتاب کافی ڈر گئے..اس سے پہلے فاطمہ حمنہ کو سنبھالتی وہ بیہوش ہوگئ..
حمنہ کے بیہوش ہوتے.ہی سب وہاں سے چلے گئے جبکہ شاہ زین کی حالت دیکھ کے وہاں کھڑی رابعہ سمجھ چکی تھی کہ حمنہ شاہ زین کیلیے کیا. ہے..
ظفر اچھی طریقے سے امجد کی فطرت جانتا تھا.اس نے رابعہ کا ہاتھ پکڑا اور حویلی سے چلا گیا..
آفتاب نے اگے بڑھ کے حمنہ کے بیہوش وجود کو باہنوں میں اٹھایا اور گاڑی لیٹایا…
خالد بھی سمجھ چکا تھا شاہ زین کی.حالت اس نے بھی سہارا لے کے شاہ زین کو گاڑی میں بیٹھایا
.
دونوں گاڑیاں اگے پیچھے حویلی سے نکلی…جبکی حویلی کی کھڑکی پہ کھڑا امجد طنزیہ مسکراہٹ لیہ وہاں سے ہٹ گیا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤
آفتاب اور فاطمہ کا بھوک سے برا حال تھا..صبح سے وہ پانچوں ہی بھوکے تھے.. ڈرائیو کرتے کرتے آفتاب نے فاطمہ سے کہا.
تم نے مجھے روکا کیوں جیڈی کی.اصلیت بتانے سے…؟؟
فاطمہ جو باہر کے نظاروں میں گم.تھی ..آفتاب کے سوال پہ.ایک دم سیٹ کی پشت سے ٹیک لگاکے آنکھیں بند کی.اور کہا..
کیونکہ فائدہ کچھ بھی نہی تھا..ہماری گواہی سے شاید جیڈی حمنہ کو اپنا لیتا. مگر اسکی زندگی اس حویلی میں ایک بیکار شہ سے زیادہ نہی ہوتی.. اور دو دو زندگیاں شروع ہونے پہلے ہی ختم ہوجاتی..جب حمنہ کی کوئ عزت کوئ مقام نہی ہوتا.تو اسکے بچے کی.بھی کوئ حیثیت نہی ہوتی..
اور اب فاطمہ.اب حمنہ کی زندگی کا کیا. اب اسکے بچے کا تمہیں نہی لگتا اس زلت بھری زندگی جو اب اسکی شروع ہوگی..وہ زلت کی زندگی زیادہ آسان ہوتی جو جیڈی اسے دیتا. ؟؟؟
آفتاب وقت آنے پہ اپکو خودی پتہ چل.جائے گا کہ.مین نے ایسا کیوں کیا. .فلحال تو بہت بھوک لگ رہی ہے مجھے کہی گاڑی روکے…
آفتاب نے ایک گہری سانس لی اور پیچھے بیہوش پڑی حمنہ کو دیکھ کے فاطمہ سے کہا..
فاطمہ کھایا تو حمنہ بھی کچھ نہی ہے؟؟
ہاں تو اپ اسکے لیہ.پیک کروالیے گا.
اچھا روکو میں خالد کو کال کرکے بولتا ہو..
آفتاب نے خالد کو کال کرکے کھانے کا بولا تو اس نے بھی حامی بھرلی.. دونوں گاڑیاں ایک ہوٹل پہ.روکی وہ چارو گاڑی سے اتر کے سامنے بنے ہوٹل میں.گئے..فاطمہ نے ایسی ٹیبل بک کی جس سے انکی گاڑی صاف دیکھائ دے..
.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤
نکالے اس گندگی کے ٹوکڑے کو باہر پتہ نہی کس سے عیاشی کرکے الزام مجھ پہ تھوپ رہی ہے..جیڈی کے الفاظ جیسے ہی حمنہ کے.کانوں مین گونجے..ایک دم وہ ہوش میں آئ..اور ادھر ادھر دیکھنے لگی. روڈ کے اس پار اسکی نظر ایک پہاڑی ٹیلے پہ.پڑی جسکی اونچائ تو زیادہ نہی.تھی مگر وہاں سے گر کے موت یقینی تھی.
مشتاق صاحب اور جیڈی کے پیار.. فاطمہ.کی.باتوں سے لے کے جیڈی کی.بیوفائ تک..اس کا ہاتھ بے ڈھرک اسکے پیٹ پہ گیا. .اور فورا اسکے دل نے ایک فیصلہ کیا.
موت ہی ان سب بدنامی.کا حل ہے نہ یہ دنیا تجھے جینے دے گی نہ اس بچے کو…
اپنے دل کی بات سن کے حمنہ کے گاڑی کا گیٹ کھولا
اور آہستہ آہستہ سکتے کی حالت میں روڈ کراس کرنے لگی کتنی گاڑیوں نے خود حمنہ کو دیکھ کے اپنی.گاڑی سنبھالی
ایک دم کسی گاڑی نے بر وقت بریک مار کے حمنہ کو ہٹ ہونے سے بچایا..گاڑی کی چڑ چڑاہٹ سے کافی.لوگ حمنہ کی.طرف متوجہ ہوئے…کچھ ایسا ہی حال ہوٹل میں بیٹھے ان تینوں کا بھی تھا کیونکہ شاہ زین اپنی.ہی سوچوں میں گم.تھا..ان تینوں نے جب حمنہ کو اس طرح روڈ کراس کرکے پہاڑی کی طرف جاتا دیکھا تو فورا وہ تینوں حمنہ کی طرف لپکے حمنہ انکی.پہنچ سے کافی دور جاچکی تھی
شاہ زین ان تینوں کی.ساری.باتین سن رہا تھا مگر کوئ رسپانس نہی دے رہا تھا..
فاطمہ نے ایک نظر شاہ زین کو دیکھا. اور پھر خالد اور آفتاب جو کے حمنہ کو روکنے کے غرض سے پیچھے جارہے تھے روکا اور شاہ زین کی.طرف دیکھتے ہوئے کہا..
جانے دو اسے اچھا ہے مرجائے اب کون ہے جس کے لیہ وہ.جیے جانے دو اسے مرنے دو اچھا ہے اسکی ساری.تکلیفوں کا مادوا ہوجائے گا یہ بول کے اس نے شاہ زین کو دیکھا تو باقی سب بھی فاطمہ کی.باتوں کا مفہوم سمجھ کے شاہ زین کو دیکھنے لگے…
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
حمنہ نے تھوڑی دیر تک پہاڑ کے نیچے دیکھا. ایک بار پھر اسکی اب تک.زندگی کسی.فلم کی طرح اسکے سامنے چلنے لگے.. ایک بار پھر اس نے اپنے پیٹ پہ.ہاتھ رکھا..آنکھیں بند کرکے جیسے ہی پہاڑی سے کودنے لگی..کسی نے اسکا ہاتھ پکڑ کے نیچے اتارا اور ایک زناِ دار ٹھپڑ حمنہ کے منہ مارا….
جاری ہے…
