50.9K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 32

فاطمہ کے گھر میں ایک مہینے بعد کی رخصتی کی ڈیٹ فکس کی.جارہی تھی..
اور وہاں آفتاب سامنے کھڑی فاطمہ کو .ہوئ سزا جو رخصتی.کی صورت پہ تھی خوشی سے سرشار اسے دیکھنے میں مگن تھا. مگر فاطمہ تھی کہ.اس نے نگاہ.نہ.اٹھانے کی قسم.کھائ ہوئ تھی…..
سب کو چائے سرو کرنے کے بعد فاطمہ کچن میں گئ تو آفتاب سب سے آنکھ بجاتا کچن میں فاطمہ کے پیچھے پہنچا…اور کہا…
اب بچ کے دیکھاو میری چلاک بیوی ولیمہ میں بہت اترا رہی تھی..برات میں بھی بچ کے نکل گئ اب بچ کے دیکھاو مجھے سے ہمیشہ کیلیے تمہیں اپنی دستریس میں لے لیا..میں نے…
افتاب بول.کے چپ ہوا..تو فاطمہ کے پلٹنے کا انتظار کرنے لگا… مگر ایک وہ تھی جو آفتاب کی طرف سے پیٹھ گھمائ کام کرنے میں مصروف رہی جب کافی دیر تک فاطمہ نے نہ پلٹ کے آفتاب کو نہی دیکھا.. نہ.کچھ بولا…تو آفتاب نے آگے بڑھ کے اسکا رخ اپنی طرف موڑا…
تو یہ دیکھ کے شاکڈ ہو گیا..
کہ وہ رو رہی تھی…
فاطمہ تم رو کیوں رہی ہو؟؟؟
آفتاب کے بولنے پہ.فاطمہ نے آچانک اسے گردن اٹھا کے دیکھا تو شاکڈ رہ گیا..کیونکہ اسکی آنکھوں میں ہزراوں شکوے تھے..
اپ باہر جائے سب باہر بیٹھے ہیں ایسے اچھا نہی لگ رہا میں اور اپ اسیے کچن میں جائے…اپ…
پہلے تم بتاو کیوں رو رہی ہو..؟؟؟
اب میں کیا بولو اپکو نکاح اپکی مرضی سے ہوا. اچانک شادی کی ڈیٹ بھی اپنے رکھ لی تو پھر مجھ سے کسی بھی سوال پوچھ کے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں…
افتاب فاطمہ کے لہجہ میں ناراضگی صاف محسوس کرسکتا تھا…
اس سے پہلے آفتاب اس کی بات کا جواب دیتا..تابندہ.بیگم.نے آفتاب کو آواز لگا کے چلنے کو کہا…
تابندہ بیگم کے آواز لگاتے ہی فاطمہ پھر اپنے کاموں میں لگ گئ..آفتاب نے ایک.نظر اسکے سراپے پہ ڈالی اور باہر چلا گیا….
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
شاہ زین اور حمنہ کو جب پتہ چلا تو وہ.دونوں.بھی.بہت خوش ہوئے فاطمہ .کو جاکے مبارک بعد دئ..
ایک مہینہ شادی.کا پتہ ہی نہی چلا. اور فاطمہ.کی.برات کا دن آپہنچا..ایسا نہی.تھا وہ.اس اپنی.رخصتی سے.خوش نہی تھی..بس اتنی جلدی.وہ.یہ سب نہی.چاہتی تھی…
گولڈن اور ریڈ کلر کے شرارے کے ساتھ فاطمہ.پہ توٹھ کے روپ.آیا تھا..جبکہ آفتاب بھی.گولڈن.کلر کی.شیروانی.میں.بہت جچ رہا تھا..
فاطمہ حمنہ کیساتھ ہی.پالر گئ تھی..اور پھر وہاں سے ہال..
ڈریسنگ روم.میں فاطمہ بہت گم سم سی بیٹھی..جب حمنہ.نے.اپنے دل.میں کب سے مچلنے والا سوال فاطمہ سے پو چھا…
کیا بات ہے فاطمہ تو بہت چپ چپ.ہو …کوئ پریشانی ہے.آفتاب سے لڑائ.ہوئ.ہے کیا..؟؟؟
.نہی.یار کیا بات ہوگی بس اتنی.جلدی.ان سب کی.توقع نہی.کی تھی.. ریڈی نہی تھی میں ان سب کیلیے تو.بس..اس لیہ.پریشان ہو…
حمنہ نے فاطمہ کو تسلی دی اور کہا. پریشن نہ ہو سب ٹھیک ہوجائے گا فاطمہ تم.خاماخائ میں پریشان ہورہی.ہو…
ہمممم
برات کا شاندار استقبال کیا گیا…
نکاح تو ہوچکا تھا اس لیہ فاطمہ.کو ہمایوں کے برابر میں لا کے بیٹھایا گیا… آفتاب نے جی بھر کے فاطمہ.کو اپنی.نظروں کے حصار میں لیا تھا..مگر فاطمہ.نے نگاہ.اٹھا کے اسے نہی.دیکھا…
رخصتی.کا شور اٹھا تو فاطمہ.اپنی.ماں.کے گلے.لگ کے.خوب روئ اور پھر آفتاب کے ساتھ اس کے گھر رخصت ہوگئ..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ساری رسموں کے بعد فاطمہ.کو آفتاب کے کمرے میں بیٹھایا گیا.
سب کے جانے کے بعد فاطمہ نے . پورے کمرے.کا.جائزہ لیا تو سامنے.ہی اسے حمنہ کی.برات کی اپنی.اور آفتاب کی بڑی سے انلاج ہوئ پک دیکھی اسکے لبوں پہ ایک.حسین مسکراہٹ آگئ.
ابھی وہ دیکھ ہی رہی تھی پورا کمرہ کے دروازہ کا ہنڈل گھما تو فاطمہ سیدھی ہوکے…بیٹھ گئ
کمرے.کا لاک گھما کے آفتاب پورے شان سے اندر آیا.. اور فاطمہ.کو سلام کیا جسکا فاطمہ نے گرد ہلا کے جواب دیا.
آفتاب نے اپنی.شیروانی کے اوپر کے بٹن کھولے اور جاکے فاطمہ.کے سامنے بیٹھ گیا.
جب تھوڑی دیر تک آفتاب نے کچھ نہی بولا تو فاطمہ نے مجبورا اسے نگاہ اٹھے کے دیکھا.
تو آفتاب نے اسکے دونوں ہاتھ پکڑے اور کہا…
اب بولو کیوں خاموش ہو؟؟؟
ایک بار بھی میری طرف نہی دیکھا ایسا میں نے کیا کردیا. بتاو..؟؟؟
فاطمہ نے ایک پرشکوہ نظر آفتاب پہ.ڈالی.اور کہا..
اتنی جلدی رخصت کیوں کروای اپنے ؟؟؟
فاطمہ کے بولنے پہ.آفتاب نے حیران کن نظروں سے اسے دیکھا اور کہا..
تم اس بات پہ.ناراض تھی..؟؟
ہاں..فاطمہ نے روٹھی ہوئ آواز میں کہا..
افف میں سمجھا پتہ نہی.مجھ سے ایسا کونسا گناہ ہوگیا…
فاطمہ نے آفتاب کی بات سن کے سڑا ہوا منہ بنایا اور کہا..
ہاں میں ہو کون جو میری پرواہ ہوگی اپکو…
فاطمہ کے بولنے پہ آفتاب نے دھیرے سے اسکے لبوں کو چھوا اور کہا..
زندگی ہو میری فاطمہ دل میں ڈھرکن کی طرح ہو اور کوئ شخص اپنی ڈھرکن کے بنا کیسے رہ سکتا ہے بس تو پاس لے آیا اپنے..
اچھا اور میرے ایگزیم کا کیا ہوا.
ارے جانمن پہلے میری قربت کا ایگزیم تو پاس کرلو. پھر دونوں میان بیوی ایک ساتھ ہر امتحان پاس کرینگے…
اتنا بول کے آفتاب نے دھیرے اسے لیٹایا اور اس پہ جھک کے اپنا حق پورے استحاق سے وصول کیہ..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤
(کچھ عرصہ بعد)
حمنہ کو الللہ نے ایک پیارا سے بیٹے سے نوازا تھا..جسکا نام شاہ زین نے ہمایوں رکھا…ہمایوں کے پیدا ہونے پہ شاہ زین پورے ہسپتال میں مٹھایاں تقسیم کی. اسکی خوشی قابل دید تھی..ہمایوں پورا کا.پورا شاہ زین کی کاپی تھا.. کہی سے بھی اس میں جیڈی کی.جھلک نہی تھی..
ہمایوں کی پیدا ہونے تک شاہ زین نے حمنہ کو ہتھیلی کا چھالہ بنا کے رکھا..ان دونوں کے درمیان بھلے میاں بیوی ولا تعلق نہی تھا مگر دوستی کا رشتہ تھا..حمنہ نے بھی شاہ زین کو کبھی شکایت کا موقع نہی دیا…اسکا ہر کام اپنے ہاتھ سے کرتی.. کھانے سے لے.کر کپڑے تک سب کچھ حمنہ کرتی ..حمنہ کے دل میں شاہ زین کیلیے محبت پینپنے لگی مگر وہ اظہار محبت سے اب تک.محروم تھی…
اس دوران خالد اور مینا کی.بھی شادی ہو چکی تھی اور وہ لاہور شفٹ ہوگیا تھا..
شادی کے بعد شیخ صاحب کو ہارٹ اٹیک ہوا..انکے علاج کیلیے وہ سب امریکہ شفٹ ہوئے تو پھر وہی کے ہوکے رہ گئے…فاطمہ اور آفتاب کا شاہ زین اور حمنہ سے رابطہ امریکہ اکے منقطع ہوگیا تھا..
ہمایوں تین مہینے کا ہوگیا. .
اج شاہ زین کی سالگرہ تھی.آج حمنہ دل سے تیار ہوئ تھی.. اب وہ اپنے اور شاہ زین کے درمیان دوری ختم کرنا چاہتی تھی…وہ پوری ریڈی ہوکے بیٹھی تھی.کہ اس کے نمبر پہ شاہ زین کی.کال آئ…
ہیلو حمنہ…؟؟
ہاں شاہ زین بولو…
یار حویلی سے چاچی کا فون تھا.. تین دن سے نمبرہ غائب ہے.. میں ابھی حویلی کیلیے نکل رہا ہو تم اپنا اور ہمایوں کا خیال رکھنا میں تمہیں وہاں پہنچ کے فون کرتا ہو…
یہ بول کے شاہ زین نے بنا حمنہ کی.بات سنے کال کٹ کردی.
نمرہ کی گمشدگی کا سن کے حمنہ بھی کافی پریشان ہوگئ..کیونکہ.کئ بار وہ حمنہ سے ملنے آچکی تھی…ہمایوں کی پیدائش پہ بھی کافی ٹائم وہ حمنہ کے پاس رہی.. اسکی اور حمنہ کی.کافی اچھی بونڈنگ ہوگئ تھی…
¤¤¤¤¤¤¤
شاہ زین حویلی پہنچا.تو وہان کہرام.مچا ہوا تھا..رابعہ اور نوین کی حالت قابلے رحم.تھی..ظفر شیر خان امجد سب پاگلوں کی طرح اسے پوری وادی میں ڈھونڈ رہے تھے.
ان لوگوں نے نمرہ کیساتھ ہمیشہ رہنے والی نوکرانی سے اسکا پوچھا..مگر اس نے بھی یہ.کہاں کے جس دن وہ ٰغائب ہوئ اس دن وہ بیمار تھی..
ایک دن اور گزر گیا..مگر نمرہ کا کوئ پتہ نہی چلا..شاہ زین بھی پاگلوں کی طرح اسے ڈھونڈنے میں لگا تھا..
اور پھر پہاڑیوں کے پیچھے بنے جنگل میں نمرہ کی برہنہ لاش ملی. اور اسے دیکھنا والا کوئ اور نہی جیڈی اور شیر خان تھے..
جاری ہے.