Rate this Novel
Episode 9
امجد نے دو کے بجائے ایک دن کے اندر اندر شاہ زین کیلیے فلیٹ کا انتظام کردیا…
کیونکہ وہ کسی صورت اسے اپنے ساتھ رکھنا نہی چاہتا تھا.شیر خان کا سکہ وادی پہ اور زوروشور سے چلنے لگاا..ناجانے کتنے.لوگ اس کے بے حسی کی بھینٹ چڑھ گئے…
دوپہر کے کھانے پہ آیا شیر خان جب اپنے ارام کے غرض کمرے میں گیا…تو تھوڑی دیر بعد نورین کمرے میں آئ.اور کہا…
تم.نے جھوٹ کیوں بولا شاہ زین کو کے اسکے باپ کی کوئ کیش جائیداد نہی….جبکہ میں نے تو سنا ہے کہ بختاور لالہ کی کافی جائیداد تھی جو انہوں نے اپنے بل بوتے پہ بنائ تھی..
نورین نے اسکے سامنے بیٹھتے ہوئے عام سے انداز میں کہا…
شیر خان جو کمرے میں نورین کی آمد پہ بھی آنکھیں بند کرکے لیٹا تھا.. نورین کے سوال پہ ایک دم آنکھیں کھول.کے اسے دیکھا اور کہا….
یہ جو بھی تمارے عیش وعشرت ہیں نہ یہ شاہ زین کے باپ کے پیسوں کی وجہ سے ہے…کیونکہ بابا جان نے یہ خان حویلی.اس کے باپ کے ہی نام کی تھی..اور بہت کچھ چھوڑ کے مرا تھا..
نورین کچھ دیر گم سم بیٹھی رہی پھر کہا……وہی تو میں کہی رہی.. کہ یہ جھوٹ کیوں بولا اسے اور ہمیں کیا طعنہ مارتا ہے خان تمہارے ٹھاٹ باٹ بھی لالہ کی اس جائداد کی وجہ سے ہے. اور اگر کبھی اس کو یہ بات پتہ چلی کہ جو ایک کروڑ کیلیے اپنے اس چاچا سے بھیگ مانگ رہا ہے.. وہی چاچا خود اسی کے ٹکڑوں پہ پل رہا ہے…
نورین بیگم طنز کے تیر چلا کے چپ ہوئ تو شیرخان نے غصہ میں نورین بیگم.سے کہا…
تم کہنا کیا چاہتا ہے نورین؟؟
شیر خان کی بات پہ نورین طنزیہ مسکرائ اور کہا…
خان تم اپنے حصہ کی ساری جائیداد جوائے میں عیاشی میں اڑا چکے ہو..
یہ سارا پیسہ یہ ساری جائیداد بختاور لالہ کی ہے…
اور..
اور کیا نورین بیگم.. ؟؟
اور یہ کے خان اسی جایداد کو حاصل کرنے کیلیے تم نے اپنے ہی بھائ اور بھاوج جا قتل کروایا…
نورین کے الفاظ تھے یہ کوئ زلزلہ کے جھٹکے…شیر خان کو اپنے اس پاس کی زمین ہلتی ہوئ محسوس ہوئ…
نورین نے کب شیر خان کی بدلی ہوئ رنگت دیکھی تو کہا..
بے فکر رہو خان یہ راز میرے سینہ میں دفن رہے گا…مگر اگر شاہ زین کو کچھ ہوا تو یاد رکھنا خان میں بھول جاونگی.. تم امارا شوہر ہے…
یہ بول کے نورین تو کمرے سے باہر چلی گئ..مگر جاتے جاتے. شیر خان کی کمزوری ساتھ لے گئ…
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
حمنہ اور فاطمہ کی.دوستی کو ایک مہینہ ہوچکا تھا دونوں ایک دوسرے کے کافی کلوز آچکی تھی…
حمنہ کی ڈریسنگ دیکھ کے اکثر فاطمہ اسے ٹوکتی… جسکا حمنہ پہ کوئ خاص اثر نہی
ہوا…اور وہ.یہ بول کے فاطمہ کو چپ.کروا دیتی. ..کہ سب کو اپنی اپنی قبر میں جانا ہے کوئ کسسے بچانے اسکی قبر میں نہی آئے گا.
جیڈی اپنے دوستوں کے ساتھ کینٹین میں افسردہ بیٹھا تھا. صابر اور شہزاد کافی دیر سے اسکی خاموشی محسوس کر رہے تھے کہ جبھی شہزاد نے جیڈی سے کہا..
کیا بات ہی جیڈی کیا فروا کو مس کررہا ہے..؟؟؟؟؟ جو دیوداس بنا بیٹھا ہے…
اپنی بات پہ بول کے شہزاد خودی ہنسنے لگا.. اور اسکا ساتھ صابر نے بھی دیا…
جیڈی نے ان دونوں کو گھور کے دیکھا اور کہا..
اگر تم نے دونوں میں سے کسی کو فروا کے پاس جانا ہے؟؟؟؟ تو یقین جانو دو منٹ میں پہنچا سکتا ہو اس کے پاسس..
جیڈی کی بات سن کے دونوں کی ہنسی کو فورا بریک لگا..
تھوڑی خاموشی کے بعد صابر نے کہا..
جیڈی کیا بات ہے تو اس طرح اچھا نہی.لگ رہا…چپ چپ…
جیڈی نے ایک لمبی سانس لی اور کہا….
یار کوئ.ہنگامہ ہی نہی.لائف میں ..کافی دن ہوگئے میں نے تھکن ہی نہی اتاری…
جیڈی نے یہ بول.کے آنکھ ماری..تو وہ دونوں اس کا بات کا مفہوم سمجھ کے ہنسے اور نفی مییں گردن ہلاتے ہوئے..شہزاد نے جیڈی سے کہا…
کمینے تو نہی سدھرے گا….!؟؟
کبھی نہہی یہ بول کے جیڈی نے اپنے سامنے رکھا کافی.کا کپ.جیسی ہی منہ سے لگایا کہ اچانک پیچھے اسے دھکا لگا اور ساری کافی جیڈی کے کپڑوں پہ.گر گئی…
جیڈی نے جب اپنی وائٹ شرٹ کا حال دیکھا تو فور کھڑا ہوا جیسی ہی پلٹ کے دھکا دینے والے کو دیکھا تو پلک جھپکانا بھول گیا…..
¤¤¤¤¤¤
حمنہ اور فاطمہ لیکچر لے کے نکلی…کہ حمنہ نے کہا…
یار فاطمہ میرے سر میں بہت درد ہورہا ہے چل.کافی پیتے ہیں کینٹین سے..
فاطمہ.نے اسکی ہاں ہاں میں ملائ اور حمنہ کیساتھ کینٹین کی طرف چل پڑی..
ایک ٹیبل کے پاس سے گزراتے ہوئے اچانک حمنہ کا موبائل بجا.. جسے بیگ سے نکالنے کے چکر میں وہ کرسی پہ بیٹھے جیڈی سے تکرائ اور جیڈی کی ساری کافی اسکے کپڑوں پہ.گر گئ. مگر جب جیڈی کافی.گرانے والے کے روپ میں حمنہ کو دیکھا.. تو اس کا سارا غصہ جھاگ کیطرح بیٹھ گیا…
حمنہ جو مصروف انداز میں اپنے بیگ سے موبائل نکال رہی تھی. دھکا لگنے پہ اس نے دیکھا کہ اسکے مگن انداز کی وجہ سے جیڈی پہ.کافی گر گئ.. تو فورا جیڈی کے پاس آئ اور کہا…
اوہ.ائ ایم سو سوری.. وہ انجانے.میں دھکا.لگ گیا. . حمنہ معزرت کرنے میں.لگی تھی جبکہ جیڈی تو اسکی خوبصورت میں گم گیا..کہ جبھی حمنہ نے اسکے اگے چٹکی بجائ تو وہ ہوش کی دنیا میں آیا اور کہا..
وہ کوئ بات نہی بیٹوفل لیڈی…ویسے اپ اگر چائے تو روز میں اپ کیلیے اپنے اوپر کافی گراسکتا ہو مگر شرط ہے کے اپ ایسے قریب اکے میری کافی صاف کرے یہ بول کے جیڈی نے حمنہ کو آنکھ ماری.. تو حمنہ کا غصہ تو آسمان پہ.پہنچ گیا..جیڈی کی اس کھلم کھلا فلرٹنگ پہ حمنہ نے پاس پڑا پانی کا جگ اٹھایا اور پورا جیڈی پہ الٹ دیا اور کہا..
لگتا ہے مسٹر اپ نیند میں تھے تو سوچا اپ کو جگا دو.. اپنے یہ ادکاری کہی اور جاکے دیکھانا حمنہ مشتاق کو نہی.اوکے ..یہ بول کے حمنہ جیڈی کے سائیڈ میں گزر گئ.. صابر اور شہزاد کو تو سمجھ ہی نہی آیا کہ یہ ہو کیا..
جبکہ کینٹین میں موجود لوگوں کی دبی دبی ہنسی جو جیڈی کا حال دیکھ کے بار بار نکل رہی تھی جیڈی اب ان لوگوں کو گھور کے دیکھا اور ایک نظر حمنہ پہ ڈالی اور باہر نکل گیا…
فاطمہ ٹیبل پہ بیٹھ کے سارا ڈرامہ بڑا انجوائے کرکے دیکھ
رہی تھی اور بہت مشکل سے اپنا ابھرتا ہوا قہقہ روک رہی تھی مگر حمنہ کے اتی وہ اپنا قہقہ نہ روک سکی اور زور زور سے ہنسنے لگی…فاطمہ کو ہنستا دیکھ کے پہلے تو حمنہ اسے گھورنے.لگی پھر تھوڑی دیر بعد اسکا بھی قہقہ نکل گیا..ابھی وہ دونوں ہنسنے میں ہی مصروف تھے کہ.مشتاق صاحب کی کال اگئ…
ہیلو حمنہ بیٹا..؟؟
جی پاپا…..
بیٹا میں کال کر رہا تھا اپنے ریسو نہی کی..؟؟؟
وہ پاپا میں کینٹین میں تھی فاطمہ.کے ساتھ جب تک میں اٹینڈ کرتی.اپکی.کال تب کال.کٹ گئ..
اوہ…اچھا حمنہ بیٹا اپکی ماما اور میں ابھی ایک ضروری.کام سے جا رہے ہیں ہمیں انے میں تھوڑا ٹائم.لگ جائے گا.. میں نے بوا کو بول دیا ہے ہمارے انے تک.وہ.اپکے پاس ہی رکینگی اپ پریشان نہی ہونا…
مشتاق صاحب کی بات سن کے حمنہ نے کہا..
پاپا مجھے بھی تھوڑی شاپنگ کرنی تھی میں یونی سے واپسی میں فاطمہ کے ساتھ مارکیٹ جاونگی.. میں بھی تھوڑا لیٹ ہوجاونگی… اپ بوا کو بتا دیے گا…
حمنہ کی بات سن کے مشتاق سے صاحب نے ہان میں ہاں ملائ اور کال کٹ کردی..
کال رکھتے ہی حمنہ نے فاطمہ کو اپنے اپکو گھورتے ہوِئے پایا…
حمنہ نے ایک آئیبرو اچکا کے ایسے دیکھا..
تو فاطمہ نے کہا…
یہ پلان کب بنا ہمارا کہ.میں اپکے ساتھ یونی.سے واپسی پہ شاپنگ جاونگی…؟؟
ارے اابھی پانچ منٹ پہلے تو بنا….
حمنہ نے آنکھوں میں شرارت سموئے کہا..
حمنہ کی معصومہ انداز دیکھ کے فاطمہ.مسکرائ تو حمنہ نے کہا…
یار فاطمہ.اس بار کوئ بہانہ نہی بنانا…
یار حمنہ بہانے کی بات نہی تجھے پتہ ہے اماں اکیلی ہوتی ہیں پاپا رات میں اتے ہیں..
فاطمہ کی بات سن حمنہ نے کہا..ٹھیک ہے میں اج تمہارے گھر چلتی ہو.. چلو مین خود اجازت لے لونگی آنٹی سے…
..
¤¤¤
فاطمہ ک گھر ایک متواسط علاقے میں تھا…فاطمہ کے پاپا ایک معمولی کلرک تھے.. فاطمہ انکی اکلوتی.اولاد تھی..
حمنہ کی فاطمہ کی.امی نے کافی آو بھگت کی.مگر اسکا پہناوا انہیں پسند نہی آیا…اور یہ بات فاطمہ سمجھ چکی تھی..
بہرحال حمنہ نے فاطمہ کی.امی سے اجازت لے لی اور وہ شاپنگ سینٹر پہنچ گئے…
حمنہ اپنے لیہ شاپنگ کررہی تھی کہ جب اس نے فاطمہ کو ایک برقعے کو تکتا پایا. ..فاطمہ کے لاکھ منع کرنے.پہ حمنک نے اسکے لیہ وہ برقعہ لیا. اور اسکو ٹرائ کرنے کو کہا…
فاطمہ برقعہ ٹرائ کرنے لگی تو حمنہ اس پاس دیکھنے لگی…کہ جبھی اس کی نظر ایک لڑکے پہ پڑی جو مگن انداز میں باتیں کرنے میں مصروف تھا اور باتیں کرتے کرتے.. بلکل الیٹرک سیڑھیوں کی پہلی سییڑھی کے پاس پہنچ گیا…
حمنہ نے جب یہ دیکھا تو فورا دکان سے نکلی اور اسکو آواز دینے لگی… مگر وہ باتوں میں اتنا مگن تھا آور کچھ شاپنگ سینٹر میں شور اتنا تھا کہ وہ اسکی آواز نہی سن سکا.. اس سے پہلے وہ لڑکھڑا کے..سیڑھیوں پہ گرتا حمنہ نے فورا اس تک پہنچ کے اسکی شرٹ اگے سے پکڑ کر اپنے طرف کھینچا..لڑکا اس اچانک آفت پہ.ایک دم بوکھلا اور حمنہ کو کمر سے تھام کے اسکے ساتھ زمین پہ گر پڑا…مگر جب اس نے گرنے پہ بلی.کی.طرح آنکھیں میچی. نیچے لیتی حمنہ کو دیکھا جو اسکی شرِٹ کو مظبوطی سے تھامے ہوئے اسکے سینے سے لگی تھی…تو شاہ زین کی ایک.ہارِٹ بیٹ مس ہوئ…اور وہ ارد گرد سے بیگانہ ہوکے حمنہ کے.معصوم چہرے کو دیکھنے لگا…
جاری ہے.
