Rate this Novel
Episode 14
اعیرہ جب المیر کے بلانے پہ.اس تک پہنچی تو وہاں ہمایوں کو دیکھ کے اسکو اچھی خاصی گھبراہٹ ہوئ جو ہمایوں کی نظروں سے نہ چھپ سکی..
اعیرہ کے قریب پہنچتے ہی المیر نے ہمایوں سے اعیرہ کا تعارف کروایا….
ہمایوں یہ میری چھوٹی بہن اعیرہ اور مونا سے تم مل چکے ہو..یہ.ہیے بھئ برتھ ڈے گرل…المیر نے مسکراہٹ کے ساتھ اعیرہ کا تعارف ہمایوں سے کرایا..
اعیرہ نے فورا اسے سلام کیا..ہمایوں نے اسکے سلام کا جواب دیا اور اس کیلیے لایا ہوا گفٹ اسکو دیا…
اس پہلے المیر کوئ اور بات کرتا.. کسی کے بلانے پہ.وہ اسطرف گیا.تو اعیرہ نے گھوم کے پہلے المیر کو دیکھا کہ وہ.کتنی دور گیا..اور پھر فورا ہمایوں کی.طرف مڑی. اور رازدرانہ انداز میں ہمایوں کی.طرف جھکی اور کہا..
ہمایوں بھی اسی.کے اسٹائل میں اسکی طرف جھکا اور کان لگا کے اس کی بات سننے لگا.
اعیرہ نے ہمایوں سے کہا..
بات سنے اپ یہ بات یہان کسی کو نہی بتائیے گا کہ میں نے اپکی جان بچائ تھی.. ورنہ.میرہ ماما مجھے بہت ڈانٹینگی…پلیز… ہمایوں اسکی بات سن کے سیدھا ہوا اور اسکو دیکھنے لگا..ڈراک پرپل کلر کی لونگ میکسی میں اسکا سراپا.. ہمایوں کے دل کے تار چھیررہا تھا..ہم رنگ سر پہ اسکارف باندھے..سائیڈ میں ہم رنگ ڈوپٹہ لیا وہ ہمایوں کو سچ مچ کی.کوئ پری.لگی…
تھوڑی دیر تک جب ہمایوں کچھ نہ بولا تو اعیرہ پھر سے بولی..
اب میری.اتنی سی بات نہی.مان رہے..میں نے اپکی جان بچآئ شاید اپ بھول رہے ہیں…؟؟؟
ہمایوں اس کی بات پہ.دل.کھول کر مسکرایا.. اور تب اعیرہ کو انعم کی بات سو فیصد درست لگی اور اعیرہ نے دل میں کہا..
یار انعم تو ٹھیک بول رہی تھی یہ تو اچھا خاصا ہینڈسم ہے…
ہمایوں نے کہا…
ٹھیک ہے لٹل اینجل میں اپکی بات مان رہا ہو مگر ..میری ایک شرت ہے.؟؟؟
اعیرہ نے ادھر ادھر دیکھا اور فورا کہا..
بولے مجھے اپکی.ہر شرت منظور ہے…
میری شرت یہ ہے کہ اپ مجھے انکل نہی. بولاوگی…
کیونکہ اپکے بھائ.کی.عمر اور میری عمر صرف ایک سال کا فرق ہے…
ہمایوں کی بات سن کے اعیرہ مسکرائ اور کہا..
ٹھیک ہے ڈن…نہی.کہونگی..مگر پھر کیا.کہوں میں اپکو….
اعیرہ نے سوچنے کی ایکٹنگ تو ہمایوں کو اس پہ ٹوٹھ کے پیار آیا.
ہمم..
ہمایوں ہی بولونگی..نہی بلکے.ہمایوں بھائ….
ہاں یہ.ٹھیک ہے..
اعیرہ نے نے.یہ بول.کے ہمایوں کی طرف دیکھا جو اسے ہی دیکھنے میں مصروف تھا ..اچانک.اعیرہ کے دیکھنے پہ.چونکا اور کہاں..
ہمم جو دل کرے بولو.مجھے منظور ہے….
چلے اپ اپنا وعدہ یاد رکھنا اب میں چلتی ہو میرے فرینڈز ویٹ کررہے ہیں…یہ بول کے اعیرہ چلی گئ..مگر ہمایوں کو سکھ چین سب اپنے ساتھ لے گئ..قسمت کے اس فیصلے پہ ہمایوں کی خود کی ہنسی نکل.گئ .اور اس نے نفی میں گردن ہلائ اور ہاتھ میں پکڑا جوس کا گلاس پینے لگا جب المیر نے اس کے پاس اکے کہا…
.
مل لیا اعیرہ سے…؟؟؟
ہمم میں تو مل.لیا تو بتا تیری والی کہاں ہے..؟؟
ہمایوں کے بولنے پہ.المیر نے.مونا کیساتھ کھڑی آفرین کو ہمایوں کودیکھایا..
آفرین کو دیکھ کے ہمایوں نے المیر سے کہا..
ماشاءاللہ.بھابھی تو بہت پیاری ہے. مگر مجھے کیوں ایسا لگا رہا ہے کے وہ غصہ میں تجھے گھور رہی ہے..یہ بول.کے ہمایوں چپ ہو تو المیر نے بھی آفرین کے چہرے کے ایکپریشن نوٹ کرکے ہمایوں کو دیکھا….اس سے پہلے المیر کچھ کہتا.. آفرین ان دونوں تک آئ اور المیر سے کہا..
تم اپنے اپکو سمجھتے کیا ہو مسٹر المیر مسئلہ کیا ہے تمہارا؟؟؟؟
آفرین کو اتنا غصہ میں دیکھ کے جہان المیر سنجیدہ ہوا وہی ہمایوں کا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا…
کہنا کیا چاہتی ہو آفرین کھل کے کہو….المیر نے بھی لہجے میں غصہ سموئے آفرین سے کہا…
اوہ مسٹر کی.معصومیت تو دیکھو..دوسروں کی زندگیوں میں مداخلت بھی کرتے پیں اور پھر انہیں سمجھ میں نہی اتا کہ سامنے والا بول.کیا رہا.ہے…تم کس حق سے مجھے فولو کررہے ہو کس حق سے تم نے آصف کو دھمکی.دی کو وہ مجھ سے دور رہے..؟؟
آفرین کے بولنے پہ جہاں المیر کو سارا ماجرا سمجھ آیا وہی ہمایوں کو کچھ کچھ کہانی سمجھ میں آنے لگی..
المیر نے ایک لمبی سانس لی اور کہا..
آفرین وہ اس دن جسی اور لڑکی.کیساتھ ہوٹل کر روم سے نکل رہا تھا اور ان دونوں.کو دیکھ کے.کوئ بھی آسانی سے بتا سکتا تھا کہ.انکا رشتہ آپس میں.کیا.ہے .میں تو بس اسے وارن…….ابھی المیر کے الفاظ منہ میں ہی تھے…
کہ.آفرین نے غصہ میں اپنے دانت پیستے ہوئے کہا..
shut up.just shut up stay away for my.life mr.almeer
میری زندگی سے دور رہو.. آصف کیسا ہے کیسا نہی.یہ میں تم سے بہتر جانتی ہو.. اور تم ہو کون بھئ کہاں سے اگئ کباب میں ہڈی بن نے..اج کے بعد اگر تم نے مجھے فولو کیا…یہ.آصف کساتھ کسی بھی قسم.کی کوئ بدتمیزی کی تو یاد رکھنا میں اس بار تم سے نہی تمہارے ڈیڈ سے بات کرونگی. پھر دیتے رہنا انہیں جواب آی سمجھ گھٹیا انسان….
یہ.بول.کے.آفرین تیزی سے واک آوٹ کرگئ..
جبکہ المیر نے بہت مشکل سے اپنا غصہ ضبط کیا..ہمایوں نے المیر کے کندھے پہ.ہاتھ رکھ کے اسے تسلی دی اور کہا..
جانے دے یار المیر..اسکی زندگی.ہے جیسی.چاہے گزارے…
تو چھوڑ دے اسکو اسکے حال…..
المیر نے پہلے غصہ سے ہمایوں.کو دیکھا اور کہا..
محبت کرنے.لگا ہو اس سے نہی دیکھ سے سکتا اسے غلط انسان کے ساتھ…اگر آصف ایک پرسنٹ بھی آفرین کیساتھ مخلص ہوتا تو اسکی خوشیوں کا میں محافظ ہوتا..مگر اب نہی اب یہ.مجھے ضد دلاگئ..محبت تھی اس لیہ ابھی.تک چھوڑا ہوا تھا..اب یہ آفرین ضد بن چکی ہے بہت جلد اسے اگر تیری بھابھی نہی بنایا تو میرا نام بھی المیر آفتاب نہی..یہ بول کے المیر نے ہمایوں کو آنکھ ماری تو ہمایوں قہقہ لگاتے ہوئے اس سے کہاں..
سنبھل کر بھابھی بہت ٹھیری کھیر ہے…
المیر نے اسکی بات پہ اس کے قریب جھک کے شیطانی مسکراہٹ لیہ کہا..
اور مجھے کھیر بہت پسند ہے. یہ بول کے المیر نے ہمایوں کو آنکھ ماری اور ان دونوں کا مشترکہ قہقہ لاونج میں گونجا……
¤¤¤¤¤¤¤
اج شام.میں ہمایوں کی.کراچی.کی فلائٹ تھی… بہت اصرار کرنے پہ اج.وہ.المیر کیساتھ دوپہر کا لنچ کرنے ایک ریسٹورینٹ آیا.تھا…المیر نے ہمایوں کو بہت کہا..کہ.اسکے گھر میں اچھا سا لنچ کرتے ہیں مگر ہمایوں نےسہولت سے انکار کردیا کیونکہ جاتے وقت وہ.اعیرہ کا سامنا کرنا نہی.چاہتا تھا…بہت کوشش کے باوجود وہ اعیرہ کو اپنے دل.پہ براجمان ہونے سے روک نہی پایا مگر اج کراچی جانے سے پہلے ہمایوں المیر کو بتانا چاہتا تھا…کہ.وہ.اسکی بہن سے محبت کرنے لگا ہے ایک بار پھر اپنی قسمت آزمانا چاہتا تھا.
ابھی وہ دونوں لنچ کررہے تھے.. کہ.کسی کے ہنسنے کی آواز پہ المیر کا منہ میں جاتا چمچ ایک دم رکا اس نے گردن گھما کے دیکھا تو. آفرین اپنی دو دوستوں کیساتھ لنچ کررہی تھی..
ہمایوں. نے پہلے المیر کو دیکھا اور پھر اسکی نظروں کے تعاقب میں آفرین کو..
المیر نے جھک کے ہمایوں سے سرگوشی والے انداز میں کہا…جاتے جاتے بھابھی سے تو ملتا جا اپنی… .
ہمایوں.نے ہنستے ہوئے نفی میں گردن ہلائ..کھانا تو وہ دونوں کھا ہی.چکے تھے.. اس لیہ المیر نے بل.پے کیا اور وہ دونوں آفرین کی ٹیپل.پہ.پہنچ گئے..
المیر نے ٹیبل کے پاس کھڑے ہوکے اسکی دوستوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا جو آفرین سے باتوں مین مصروف تھی..
اسلام وعیلکم میری پیاری.پیاری سالیوں..
…..
آفرین کی دونوں دوستوں نے.جہاں تعجب سے سے المیر کو دیکھا تو کچھ ایسا ہی حال.آفرین کا بھی.تھا.
..
آفرین نے غصہ میں المیر کو گھورا اور دانت پیسس کے المیر سے ہلکی آواز میں ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا..
کیا بکواس کررہے ہو تم میری دوستوں سے دفعہ ہوجاوں اپنی.محنوس شکل لے کے..آفرین کی بات پہ.المیر نے اسکی برابر والی کرسی موڑی اور الٹا بیٹھ کے آفرین سے کہا..
اوہ کم اون جانمن معاف بھی کردو اب اتنا جدوجہد کے بعد صرف تمہاری خواہش پہ 3 مہینے سے پہلے ہماری شادی نہی ہوسکتی اب بس بھی کرو روٹھنا.
المیر کی.بات سن کے جہاں پانی پیتی آفرین بوکھلائ .وہی.اسکی دونوں دوستوں نے گھور کے آفرین کو دیکھا اور کہا..
افرین تم.نے ہمیں بتانا بھی گوارا نہی کرا..
ارے میری پیاری سا لیوں اپ انکو چھوڑو یہ بتاو اپکو اپکے دولہا بھائ کیسے لگے…؟؟
دونوں نے ایک ساتھ کہا..
اے ون بلکل پرفیکٹ ہماری دوست کیلیے…
المیر نے خوش ہو کے کہا..
ارے جیو میری سالیوں..چلے اب میں چلتا ہو اب شادی میں ملاقات ہوگی..
المیر اٹھنے لگا تو ان دونوں میں سے ایک لڑکی نے کہا..
ویسے جیجو یہ جو اپکا دوست اپکے ساتھ آیا تھا جو کال سن رہے ہیں وہاں.. یہ سنگل ہیں کیا..
المیر نے بہت مشکل سے اپنی ہنسی روکی اور ہمایوں کو دیکھا جو آفرین.کی ٹیبل پہ آیا ہی تھا کہ.اسکی.کوئ.کال آگئ اور وہ سائڈ میں ہوکے کال سننے لگا..
لڑکی کی بات ہمایوں کے کانوں میں پڑچکی تھی.. اور بہت حسسین انداز میں وہ مسکرایا تھا…
المیر نے پہلے ہمایوں کو دیکھا جو ایسے ہی دیکھ رہ تھا.
المیر نے ہمایوں کو آنکھ ماری اور کہا..
اوہ سو سوری میری پیاری سالی وہ تو انگیجیڈ ہے اور بہت جلد ڈبل ہونے والا ہے..
آفرین کی دوست کے تو منہ پہ یہ سن کے ہی افسردگی.چھاگئ..
آفرین بے بی زرا سائیڈ میں انا مجھے بات کرنی ہے یہ بول.کے المیر کرسی پہ سے اٹھا. تو آفرین بھی اپنا غصہ کنٹرول کرتے ہوئے المیر کے پیچھے گئ. اسکے پاس پہنچ کے اس سے پہلے آفرین کچھ کہتی المیر بول پڑا…
بہت پیار سے سمجھایا تھا.تمہیں کے دور رہو آصف سے مگر تم نے مجھے کیا کہا بیغیرت انسان..
اب تم دیکھتی جاو.. تین مہینے کے اندر اندر اگر تمیں آفرین المیر نہی بنایا تو میرا نام بھی المیر آفتاب نہی.. کہتے ہیں مس آفرین محبت میں زبردستی نہی چلتی مگر اب تم.میری محبت کیساتھ ساتھ ضد بھی بن چکی ہو…
اور میری ماما کہتی ہیں کہ.میں بہت ضدی ہو…
یہ بول کے المیر اور ہمایوں تو چلے گئے جبکہ آفرین سوچنے کے باوجود یہ سمجھ نہی پائ.کے اچانک اسکی زندگی زلزلوں کے جھٹکوں میں کیسے آگئ…
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ہمایوں کی فلائٹ میں ابھی ٹائم تھا وہ دونوں ابھی ویٹنگ ایریا میں ہی بیٹھے.. تھے کہ ہمایوں جسے المیر نے گاڑی میں ہی آفرین اور اسکے درمیان ہونے والی ساری باتیں بتا دی تھی..
المیر تجھے لگتا ہے یہ سب جو تو کررہا ہے آفرین کےساتھ ٹھیک ہے.. ایسے کسی کی لائف میں گھسنے کا حق مطلب تو سمجھ رہا ہے نہ میری بات..
ہاں ہمایوں میں سمجھ رہا ہو تیری بات مگر ہمایوں.الللہ دلوں کے حال بہتر جانتا ہے..اگر میرے دل.میں بے ایمیانی ہوگی آفرین کو لے کے تو میں کتنی بھی کوشش کرلو اسے پا نہی سکونگا..اور اگر میرا دل صاف ہے تو انشاءاللہ افرین تیری ہی بھابھی بنے گی…
المیر کی بات ہمایوں کو بلکل صحیح لگی..
ابھی وہ.لوگ باتیں کررہے تھے کہ ہمایوں کی فلائٹ اناونس ہوئ..
ہمایوں المیر کے بغل گیر ہوکے ہٹا تو المیر نے اس سے پوچھا..
ہمایوں تیری محبت کا کیا.. .؟؟؟؟
توایسی ہی جارہا ہے کچھ دن اور رکتا تو ہم.ڈھونڈتے اسے مل جاتی…
المیر کی بات سن کے.ہمایوں ایک پھیکی.ہنسی ہنسا اور المیر سے کہا.
مل گئ وہ دوبارہ اور اس بار تو بھی مل چکا..بلکہ مجھے سے زیادہ بہتر تو جانتا ہے اسے..
مطلب مین سمجھا نہی.. المیر نے نہ سمجھی کے عالم میں ہمایوں کو کہا..
ہمایوں نے ایک لمبی سانس لی اور کہا..
المیر تمہاری اعیرہ ہی وہ لڑکی ہے جس نے میری جان بچائ. تیرا جو بھی فیصلہ ہوگا مجھے منظور ہوگا..میں تیری کال کا ویٹ کرونگا..
یہ بول.کے ہمایوں تو چلا گیا.مگر المیر کیلیے فیصلہ کرنا مشکل تھا بہت مشکل کیونکہ اعیرہ اور ہمایوں کی.عمروں میں بہت فرق تھا…
جاری ہے.
