96.2K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

ڈاکٹر کی بات پہ.جہاں حمنہ شاکڈ تھی وہی فاطمہ کو لگا کوئ زلزلہ اکے گزرا ہو..
ڈاکٹر نے کچھ میڈیسن دی اور جانے کو کہا..حمنہ سے زیادہ فاطمہ سکتہ میں تھی بار بار اسکے سامنے یمنہ اور مشتاق کا چہرہ آرہا تھا..جبکہ.حمنہ شاکڈ میں تھی مگر اسے یقین تھا کہ جیڈی یہ بات سن کے نہ صرف بہت خوش ہوگا بلکہ اپنے والدین کو اور جلد ازجلد لانے کی.کوشش کریگا…
فاطمہ کے باہر نکلنے پہ جب آفتاب نے فاطمہ کی حالت دیکھی تو اسے کچھ گڑ بڑ کا احساس ہوا اس نے فورا فاطمہ کو کندھوں سے تھاما اور پوچھا…
کیا ہوا فاطمہ کیسے طبیعت ہے حمنہ کی ؟؟؟
آفتاب کے جب سوال پوچھنے پہ فاطمہ.ہوش میں آئ.. اس سے پہلے فاطمہ کچھ بولتی آفتاب کو فاطمہ.کے پیچھے سے حمنہ آتی دیکھائ دی جو کافی پریشان لگ رہی تھی.
آفتاب کی نظروں کے تعاقب میں فاطمہ نے جب گردن گھما کر حمنہ کو دیکھا…
دو منٹ تک فاطمہ حمنہ کو دیکھتی رہی. اور پھر ہسپتال کے کوریڈور میں ایک زناٹے دار ٹھپر کی آواز گونجی.. جہاں آفتاب فاطمہ کو پہلی بار اتنے غصے میں دیکھ کے حیران تھا وہی حمنہ بھی شاکڈ کی.کیفیت میں تھی..
تم دھبہ ہو بیٹی ذات پہ تم جیسی لڑکیوں کی وجہ سے ہم جیسے لڑکیاں بھی رگڑے میں آتی ہے..تمہیں شرم نہی کسی غیر محرم کے سامنے اپنے ماں باپ کی تربیت کی دجھیاں اراتے ہوئے…کسی.کی ناجائز اولاد اپنی.کوکھ میں لیے کے گھوم.رہی کیا گارنٹی ہے کہ جس کیساتھ تم.رنگرلیاں منا رہی ہو وہ تمہیں اپنائے گا گارنٹی.ہے تمہارے پاسس؟؟
فاطمہ کی بات سن کے جہان حمنہ نے شرم سے اپنی.آنکھیں جھکالی. وہی آفتاب فاطمہ کو جلدی باہر آنے کا بول.کے خود باہر چلا گیا…
جیڈی ایسا نہی.ہے مجھے وہ وہ ضرور اپنائے گا..حمنہ سکتہ کی.کیفیت میں فاطمہ.کے سوالوں کا جواب دینے لگی..
فاطمہ نے ایک طنزیہ مسکراہٹ کیساتھ حمنہ کے منہ پہ اسکی رپورٹ ماری اور کہا..
کرو امید امید پہ تو دنیا قائم ہیں حمنہ مشتاق مگر جلدی کرنا کیونکہ مجھے انتظار رہے گا تمہاری شادی جو بقول جیڈی سے ہوگی اس میں آنے کا…یہ بول کے فاطمہ جیسی ہی.جانے کیلیے مڑی.. کہ حمنہ نے پیچھے کہا…
اگر ایسا ہوگیا فاطمہ میری جیڈی سے شادی ہوگئ تو؟؟؟
حمنہ کے بولنے پہ.فاطمہ نے.گھوم.کے حمنہ کو مسکرا کے دیکھا اور کہا..
تو جو چور کی سزا وہ میری سزا…..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
حمنہ دوپہر میں گھر پہنچی تو اج مشتاق صاحب اسے گھر میں ہی ملے. مشتاق صاحب ہنس ہنس کے فون پہ.کسی سے بات کررہے تھے. مشتاق صاحب کو یو ہنستا مسکراتا دیکھ دو منٹ کیلیے فاطمہ کی باتیں سوچ کے حمنہ کو دل زورو سے ڈھرکا. اور اسنے دل سے دعا کی کے فاطمہ کی.جیڈی کے بارے میں رائے غلط ہو..مگر ضروری.نہی کہ انسان گناہ کرلے اور بنا الللہ سے معافی مانگے..دعائیں پوری ہونے کی امید لگائے اور الللہ.اس کی امیدیں پوری کرے…
مشتاق صاحب نے جب کال کٹ کی تو انکی نظر دروازے پہ.کھڑی حمنہ پہ پڑی..انہوں نے وہی.سے حمنہ کو باہنوں میں آنے.کا اشارہ کرا تو وہ چلتی.ہو مشتاق صاحب کی باہنوں میں سمائ اور انکے سینے سے لگے لگے کہا..پاپا اج اپ جلدی آگئے آفس سے..؟؟
ہان بیٹا اج اپنی پرنسس سے ضروری بات کرنی تھی اس لیہ اپ جا کے فریش ہوجاو ساتھ میں لنچ کرینگے پھر میں اپنی بیٹی سے آج کچھ مانگونگا.. حمنہ پریشان کن انداز میں اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئ..¤¤¤¤¤
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
خالد کو شاہ زین نے مشتاق صاحب کی ساری باتیں گوشگزرا کردی..مگر خالد کو نہ خوشی ہوئ اور نہ اس نے شاہ زین کو مبارک بعد دی..شاہ زین نے جب خالد کے رویہ کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا…
شاہ زین تیرا سوا میرا کوئ نہی.اس دنیا میں اور میں نہی چاہتا کے تیرا دل توٹے مگر میں تجھے حقیقت بتائے بغیر بھی نہی رو سکتا …
خالدصاف صاف کہو کیا کہنا چاہتا ہے..؟؟؟؟؟
شاہ زین حمنہ تیرے قابل.نہی ..کچھ دنوں پہلے میں اپنے دوست کے ملنے اسکے فلیٹ گیا. واپسی پہ میں نے وہاں حمنہ کو دیکھا کسی فلیٹ سے نکلتے ہوئے اور جس حالت میں حمنہ تھی مجھے لگتا ہے
کیا لگتا ہے خالد..
مجھے لگتا ہے شاہ زین وہ اپنا سب کچھ اس فلیٹ میں چھوڑ آئ تھی..خالد کی بات کا مطلب شاہ زین اچھی طرج سمجھ چکا تھا..مگر دل کسی طور پہ خالد کی بات سمجھنا نہی چاہتا تھا.
شاہ زین پریشان کن حالت میں خالد کے پاس سے اٹھا اور کہا.
تجھے غلط فہمی بھی تو ہوسکتی ہے. کیا پتہ وہ کسی یونی کی دوست سے ملنے گئ ہو..؟؟؟
اور کیا پتہ وہ لڑکی ہو تو بھی نہ خالد خاماخائ میں الٹی سیدھی بکواس کرتا ہے..
اور کیا پتہ شاہ زین وہ کوئ دوست لڑکا ہو اور شاید دوستی سے بڑھ کر انکے درمیان رشتہ ہو..محبت تو کرتا ہے حمنہ سے شاہ زین وہ نہی..خالد کی باتوں نے شاہ زین کی دنیا ہلادی تھی..مگر پھر بھی اسسے اپنی مانگی ہوئ دعاوں پہ.پورا یقین تھا…
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
لنچ سے فارغ ہوکے مشتاق صاحب نے حمنہ کو اپنے کمرے میں بلایا..
جی پاپا اپنے بلایا…
حمنہ نے مشتاق کے کمرے میں آتے بولا…
ہاں بیٹا ادھر آؤ میرے پاس..
حمنہ مشتاق صاحب سے لگ کے بیٹھی تو دوسری طرف یمنہ بیگم.بھی آکے حمنہ کے ساتھ بیٹھ گئ..
مشتاق صاحب نے حمنہ کے بال سہلاتے ہوئے کہا..
حمنہ اپکے پاپا نے اپکے لیہ ایک فیصلہ لیا ہے اور مجھے پتہ ہے میری بیٹی میرے فیصلہ کی.لاج رکھے گی…
پاپا ضرور رکھونگی. اپ بتائے تو صحیح…
بیٹا میں نے اور اپکی ماما نے اپکی کی شادی شاہ زین سے کرنے.کا فیصلہ کیا ہے.
مشتاق کی بات تھی یہ کوئ گرم سیسہ حمنہ ایک جھٹکے سے ان دونوں کے درمیان میں سے اٹھی.. اور کہاں..
پاپا مگر یہ میری لائف ہے اور میں میں….
اور میں میں کیا مشتاق صاحب کی.گرجدار آواز اج پہلی بار حمنہ کیلیے اونچی ہوئ..
وہ پاپا میں کسی کو پسند کرتی ہو..میری.یونی میں پڑھتا ہے..
دیکھا اپنے اپنی بیٹی کے کارنامے اس لیہ ابھی یمنہ بیگم اپنی آگے کی بات مکمل.کرتی مشتاق صاحب نے ہاتھ اٹھا کے انہیں اگے کہنے سے روکا.اور حمنہ سے کہا…
ٹھیک ہے پانچ دن ہیں تمہارے پاس اسکے گھر والوں کو بولو رشتہ بھیجے ہمارے گھر.. اگر ایسا نہی ہوا تو چھٹے دن تمہارا اور شاہ زین کا نکاح ہوگا.. اب تم جا سکتی.ہو ..
اتنا بول کے مشتاق صاحب کمرے میں.محلق اسٹڈی میں چلے گئے.. یمنہ بیگم بھی غصہ میں منہ پھیر گئ..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ان پانچ دونوں میں حمنہ نے شہزاد اور صابر کی بہت منتیں کی مگر ان دونوں میں سے کسی نے بھی حمنہ کو جیڈی کا پتہ نہی بتایا ہزار بار وہ جیڈی کے نمبر پہ.کال.کرچکی تھی ہزار بار وہ جیڈی کے فلیٹ کے چکر لگا چکی تھی. مگر بے سود اج مشتاق صاحب کی ڈیڈ لائن کا آخری دن تھا..جب حمنہ ہر طرح سے مایوس ہوگئ تو بہت روئ. کے اچانک اسے روتے روتے کسی کا خیال آیا.
حمنہ نے گاڑی فاطمہ کے گھر آگے روکی. مگر اس میں اتنی ہمت نہی تھی کہ وہ اندر جائے ..حمنہ نے بہت ہمت کرکے فاطمہ کے گھر کا دروازہ بجایا تو ایک ہی ناکک پہ.کھل.گیا .
فاطمہ نے حیران کن نظروں سے حمنہ کو دیکھا کیونکہ اسے اندازہ نہی تھا.کہ حمنہ اسطرح اچانک اسکے گھر میں آئ گی..
حمنہ کے پہناوا اج بلکل الگ تھا سادہ سی شلوار قمیض میں اجڑی ہوئ حالت روئ آنکھیں وہ اسے وہ.حمنہ نہہی لگی جسکا یونی.مین چرچا تھا…
فاطمہ نے آگے بڑھ کے اسکا ہاتھ تھاما اور اندر لے کے دروازہ بند کردیا..فاطمہ.کے امی ابو کسی کام سے باہر گئے ہوئے تھے جسکی وجہ سے وہ سمجھی کہ وہی ہونگے اس لیہ حمنہ کے ایک بار کے ناکک پہ.اس نے دروازہ کھول دیا..
فاطمہ اسے لیہ.کے کمرے میں آئ اور پھر جاکے اسکے لیہ.پانی لائ..حمنہ پانی پیتے پیتے ہی رو پڑی..فاطمہ نے اسکے ہاتھ سے گلاس لیا اور اسے گلے سے لگالیا…
تھوڑی دیر بعد وہ.الگ ہوئ تو فاطمہ نے اس کا چہرہ دیکھ کے پوچھا…
نہی ملا نہ.جیڈی حمنہ؟؟؟
فاطمہ کا سوال.تھا یہ.حمنہ کے منہ پہ تمانچہ یہ بات حمنہ سمجھ نہ سکی فاطمہ کی بات پہ حمنہ مشتاق صاحب کا سے لے کے شاہ زین سے نکاح تک سب بتا دیا…
فاطمہ نے ایک.لمبی سانس لی اور کہا..
حمنہ میں تمہں ابھی بھی جیڈی کے بارے میں کچھ نہی سمجھاونگی جب تک تم اس سے مل.نہ.لو ہاں اتنا ضرور کہونگی موقع دیکھ کے شاہ زین سے بات کرو اسے اپنی.کنڈیشن بتاو.. کیا پتہ وہ تمہاری مدد کرسکے اور اج انکل سے جاکے بات کرو کہ نکاح کیلیے نہی تم.منگنی کیلیے تیار ہو..
فاطمہ کی باتوں نے حمنہ کو کافی حد تک سکون دیا..اس نے فاطمہ سے سچے دل سے معافی مانگی اور اپنے گھر کی طرف چل پڑی..
گھر پہنچ کے حمنہ نے مشتاق صاحب سے بات کی تو انہین خوشی ہوئ اور وہ شاہ زین سے منگنی کرانے کیلیے راضی ہوگئے..
ادھر شاہ زین نے اپنی.منگنی کے سارے انتظام.خود کیہ کیونکہ حویلی.میں دو دو شادیان تھی اس لیہ وہاں سے کسی نے بھی آنے کی.حامی نہی بھری…اور شاہ زین یہ بعد مشتاق صاحب کو بتا چکا تھا…
گرے کلر کی شرارے میں حمنہ.کا روپ نکل کے آیا تھا. ابھی وہ اپنے کمرے میں تیار ہی ہورہی تھی کہ.اسکے نمبر پہ.فاطمہ کی.کال آنے لگی. وہ.حمنہ کی منگنی.میں آ نہی اسکی کیونکہ اسکی امی.کی طبیعت ٹھیک نہی تھی..
کال رییسو کرتے ہی فاطمہ نے .حمنہ سے کہا..
بات کی.حمنہ شاہ زین سے…
نہی.یار فاطمہ سمجھ ہی نہی آرہا کیسے بات کرو کیسے اسے بتاو کے میں پریگنٹ ہو..اتنا بولنا کے حمنہ کو اپنے پیچحے کچھ گرنے کی آواز آئ..
جاری.ہے…