Rate this Novel
Episode 17
خان تم.نے امجد کو کال کرکے بولا گاوں آنے کا؟؟؟
کہاں ہے وہ دو دن بعد اسکی منگنی ہے ابھی تک اسکا کوئ آتا پتہ نہی.
شیر خان جو اپنے سارے حساب کتاب دیکھ رہا تھا. نورین بیگم کی بات پہ خالی ہاں میں گردن ہلائ.اور کہا..
ہاں ام.نے اسکو بولا ہے کل صبح وہ آجائے گا.. اور تم نے شاہ زین کو بتایا.؟؟؟
اب شیر خان نے سوالایاں نظروں سے نورین بیگم کو کہا..
ہاں وہ بولتا ہے اسکی کوئ ڈیل شیل ہے وہ مل جائے تو منگنی والے دن آجائے گا..
ام تو بولتا ہے نورین بیگم لگے ہاتھ ااکی بھی منگنی کردو رابعہ کیساتھ ایسا نہ ہو اب کے جائے تو کوئ شہری لڑکی ساتھ لائے..
دروازے کے باہر کھڑی رابعہ کو جہاں شیر خان کی بات سن کے خوشی ہوئ وہی اگلی بات پہ اسکی دل کی دنیا ہل گئ..
اور وہ چپ چاپ.وہاں سے ہٹ گئ..
شیر خان کی بات نورین بیگم کو ہر لحاظ سے ٹھیک لگی اور وہ خود بھی یہی چاپتی تھی کہ اس بار وہ شاہ زین کے آنے پہ.اپنے دل.کی.مراد پوری کرلے..
مگر ضروری نہی ہر بار وہی ہو جو ہم.چاہے…
¤¤¤¤¤¤¤¤
شاہ زین اور خالد کی مشتاق صاحب کی ملاقات کافی جاندار رہی…
مشتاق صاحب کو زین اور خالد کافی سلجھے ہوئے لڑکے لگے…
ڈیل فائینل ہونے کے بعد خالد اپنی خالہ.کی.طرف نکلا اور شاہ زین گاوں کیلیے.
¤¤¤
امجد گاوں پہنچا تو نورین بیگم.نے اسے مبشرہ کی.تصویر دیکھائ جس کیساتھ ایک دن بعد اسکی منگنی تھی. امجد کو ان جھمیلوں سے کوئ فرق نی تھا.. مبشرہ کی تصویر اس نے ایک جھلک دیکھی اور اپنےکمرے کی طرف بڑھ گیا..مبشرہ نورین کی کزن کی بیٹی تھی جو اسی وادی میں رہتی تھی..جہان رابعہ بے صبری شاہ زین کا انتظار کررہی تھی وہی.. نورین بیگم نے اج پکا اردہ کرلیا تھا کہ نورین اور شاہ زین کی منگنی کے بجائے سیدھا نکاح ہی.کریگی
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
..
نمرہ اج کل بکریاں چلانے اکیلے ہی.جایا کرتی تھی. .کوئ تھا. جو اسکا بے صبری سے گھاٹ کے پاس انتظار کرتا تھا..کمسن کلی. نمرہ جسکی عمر ابھی جوانی کی دہلیز پہ ہی تھی..زمان کی باتوں نے اسے نئے خواب دیکھانا شروع کیہ. گھاٹ پہ ہوئ نمرہ اور زمان کی ملاقات اتفاقن تھی یا پھر کوئ مقصد یہ تو آنے والا وقت ہی بتانے والا تھا..
نمرہ اکثر دوپہر میں اس وقت بکریاں چلاتی جب نورین بیگم کے آرام کا وقت ہوتا..رابعہ کی وہ بہت لاڈلی تھی اس لیہ اس کے زرا سے اصرار پہ وہ اسے اجازت دے دیتی ساتھ آنے والی مہناز (نوکرانی) کو زرا سے پیسے دے کے وہ ساتھ آنے سے روکتی.. اور مہناز بھی اسی کی عمر کی.لڑکی خوشی خوشی وہ پیسے رکھ لیتی اور نمرہ کو اکیلے جانے کی اجازت دے دیتی مگر وہ یہ بات نہی جانتی تھی کہ اس کی زرا سی غفلت اسکے ماں باپ کیلیے ساری عمر کا روگ بن سکتی تھی…
¤¤¤¤¤¤¤¤¤
آفتاب نے فاطمہ کی انکوائری نکالی تو اسے پتہ چلا کے اسکے پاپا معملی سے کلرک ہیں .آفتاب اور فاطمہ کے اسٹیٹس میں بہت فرق تھا..مگر آفتاب نے سوچ لیا تھا. کہ جب محبت کی ہے تو سب سے پہلے اسے عزت دی جائے بعد میں اس سے اپنی محبت کا اظہار کیا جائے..
آفتاب یونی کے بعد اپنے دوستوں سے ملکے شیخ مینشن پہنچا. تو شیخ صاحب اور تابندہ بیگم اسے لان میں ہی.خوش گپے لگاتے یوئے دیکھے.. آفتاب نے سوچا موقع اچھا ہے اج بات کرلی جائے..یہ سوچ کے آفتاب نے لان کی طرف اپنے قدم بڑھائے اور وہاں پہنچ کے دونوں کو سلام کیا.. شیخ اور تابندہ نے خوش خوش اپنے اکلوتے بیٹے کے سلام کا جواب دیا.. تابندہ نے آفتاب کیلیے چائے بنائ.جبکہ شیخ صاحب مسلسل آفتاب کو غور غور سے دیکھ رہے تھے.. انکا بیٹا اج ضرورت سے زیادہ خاموش تھا..
آفتاب کو چپ.چاپ چائے پیتا دیکھ شیخ صاحب اور تابندہ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا..کہ جبھی شیخ صاحب نے آفتاب سے کہا..
کیا بات ہے اج ہمارا بیٹا بہت چپ چپ ہے کوئ بات ہے کیا؟؟؟
ہاں.پاپا بات تو کرنی ہے مگر ماما میری اپ سے ریکویسٹ ہے پہلے سکون سے میری بات سننے گا..
آفتاب کی بات کا جواب تابندہ کے بجائے شیخ صاحب نے دیا اور کہا..
تم بولو ہم سن رہے ہیں..
بات یہ.ہے پاپا میں اپنی یونی کی ایک لڑکی کو پسند کرتا ہو اور شادی.کرنا چاہتا ہو..یہ بول.کے آفتاب نے یونی میں ہوئ فاطمہ.سے پہلی ملاقات سے لے کے صابر اور فاطمہ کے درمیان ہونے والا سارا واقعہ ان دونوں.کو سنا دیا..
آفتاب کی بات سن کے شیخ صاحب تو بلکل خاموش ہوگئے جبکہ تابندہ بیگم.ہٹے سے ہی.اکھر گئ.
اور غصہ میں آفتاب سے کہا.
جو بھی.ہے آفتاب جو کچھ اس لڑکی نے تمہارے لیہ کیا اسکا.یہ مطلب یہ نہی.کہ ہم.اسے اپنے بہو بنائے..تم.بھول رہے ہو شاید ہم نے اپنی.کزن کی بیٹی سے تمہاری بات طے کردی ہے…
تابندہ کی بات سن.کے آفتاب نے کہا..
میں اس فیشن کی.دکان سے کبھی شادی نہی کرونگا.. جسکو صرف اپنی ذات سے مطلب ہے..زندگی میری.ہے ماما مجھے حق ہے اپنا ساتھی چننے کا ایک بار اپ لوگ فاطمہ سے مل.تو لے اگر اپکو پسند نہی آئ تو پھر جسا اپ.کہنگی میں وہ ہی کرونگا…یہ بول.کے آفتاب غصہ میں اند بڑھ گیا
رات کے کھانے پہ.سب ہی ٹیبل پہ.خاموشی سے کھانا کھانے میں مگن تھے جبکہ تابندہ کی نظرین اپنے خوبرو بیٹے پہ تھی. جس سے ہمیشہ تابندہ.کو یہ.شکایت رہی.کہ وہ.کھانا کھانے کے دوران ہی کیوں اپنی دن بھر کی کہانی سناتا ہے کھانا خاموشی سے کیوں نہیں کھاتا جبکہ اج وہ.خاموش تھا. اور یہ بات اج تابندہ سے برداشت نہی ہوئ..
جبھی وہ بول.پڑی..
کب جانا ہے اس لڑکی کے گھر؟؟؟؟
تابندہ کی بات پہ جہاں کھانا کھاتے شیخ صاحب کے لب مسکرائے وہی آفتاب تابندہ بیگم کی بات پہ پہلے تو چونکا اور پھر خوشی سے انکے گلے لگ گیا..
اور کہا..
ماما بس پرسوں اپ دونوں ان لوگوں کے گھر رشتہ لے کر جائیے گا.. اور داریکٹ نکاح کی بات کریگا…
ہم دونوں مطلب؟؟
شیخ صاحب نے آفتاب سے پوچھا…
وہ پاپا فاطمہ پردہ کرتی ہے یونی میں میں نے اسے اج تک نہی دیکھا..بس آنکھیں دیکھی ہیں. اور میں پاک رشتہ میں بندھنے کے بعد ہی اسے دیکھونگا..
یعنی تم نے اسے بنا دیکھے ہی اس سے محبت کرلی ؟؟
تابندہ بیگم کی.حیرانی اب بھی قائم تھی..
ماما محبت تو روح سے تعلق کا نام ہے چہرہ دیکھ کے محبت کی تو کیا کی.. کسی کا احساس ہی اپکا دل ڈھرکا جائے..میری نظر میں وہی محبت ہے..
میں اپ لوگوں کیساتھ جاونگا مگر گھر کے باہر ہی کھڑا رہونگا…
تابندہ بیگم اور شیخ صاحب کو اپنی تربیت پہ اج بہت فخر ہوا…
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
فاطمہ کے گھر رشتہ لیجانے سے پہلے آفتاب نے فاطمہ کے والد سے ملاقات کی انہیں اپنے جزبات سے اگاہ کیا اور یہ بھی بتایا کہ ان سب میں فاطمہ کی.غلطی نہی.. مگر اصل حیرانی فاطمہ کے والد کو جب ہوئ.جب انہی. آفتاب کے اسٹیٹس کا پتہ چلا.ساتھ میں یہ بھی کہ آفتاب نے اج تک فاطمہ کو دیکھا نہی…فاطمہ کے والد اتنے اونچے گھرانے میں رشتہ دینے سے کترارہے تھے مگر آفتاب کی تسلیوں نے انہیں کافی سکون دیا…بس آفتاب نے ان سے ایک ریکوسٹ کی کے فاطمہ کو یہ بات پتہ نہ چلے کہ میں اسکی یونی کا ہو…
دو دن کے اندر سارے معملات تہ ہوگئے. فاطمہ کے والد اور اسکی والدہ تو اپنے رب کا شکر کرتے نہی تھک رہے تھے.. جبکہ تابندہ بیگم تو فاطمہ کی خوبصورتی دیکھ کے ہی دنگ رہی گئے…انہیوں نے بہت مزہب طریقے سے تین دن بعد کی نکاح کی ڈیٹ فکس کی وہاں سب ہی مٹھائ کھانے مین مصروف تھے. جبکہ فاطمہ پریشانی کے عالم میں اپنے کمرے میں چکر کاٹ رہی.. اور سوچ رہی تھی کہ اتنے بڑے گھر کے لوگوں سے کیسے اسکا رشتہ آگیا.
ابھی وہ انہیں سوچوں میں گم تھی کہ جبھی اسکی نظریں اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر کھڑی گاڑی میں پڑی
فاطمہ گاڑی دیکھنے کیلیے جیسی ہی کھڑکی کے پاس گئ..اچانک گاڑی سے لگے کسی کو دیکھ کے وہ ساکت ہوگئ..
جاری ہے…
