Rate this Novel
Episode 28
حمنہ کے ہاں کرنے کی دیر تھی..کہ.سب کام منٹوں میں ہونے لگا. خالد آفتاب فاطمہ سب ہی شادی کی تیاریوں میں لگ گئے شاہ زین نے سب کو ہدایت کی تھی. کہ شادی ایسی ہی ہوگی جیسے مشتاق صاحب اپنی بیٹی کی کرنا چاہتے تھے..
حمنہ ولا کو جہاں خوبصورتی سے سجایا گیا..حمنہ کی خواہش کے مد نظر رکھتے ہوئے آفتاب اور فاطمہ نے ریڈ روز کا کمبینیشن زیادہ رکھا..
تو ادھر خالد اور شاہ زین بھی بھر پور طریقے سے شاہ زین کے نیو بنگلے کی سجاوٹ میں لگے تھے جو شاہ زین نے اپنی خود کی کمائ سے حمنہ کیلیے خریدا تھا..
شاہ نے خان حویلی.میں صرف نورین بیگم کو اپنی شادی کا بتایا تھا..
نورین بیگم کو جہاں شاہ زین کی شادی کی خوشی ہوی وہی دگنی خوشی یہ.جان کے ہوئ کے شاہ زین شادی.حمنہ سے کررہا ہے..
اج.مایوں کا فنکشن تھا..
صبح سے ہی جہان فاطمہ اآفتاب اور خالد گھن چکر بنے ہوئے تھے..
وہی تابندہ بیگم اور فاطمہ کی امی بھی ساری رسموں کی تیاریوں میں.لگی تھی.کامران اور شیخ صاحب سارا باہر کا کام نمٹا رہے تھے..حمنہ اپنے.کمرےکی کھڑکی مین کھڑی بہتی آنکھوں سے ان.لوگوں کو سارے کام کرتی دیکھ رہی تھی.اسے یقین نہ آرہا تھا.کہ شاہ زین سے خالی شادی کیلیے ہاں کرنے پہ اتنے لوگوں کی.خوشی جڑی ہے.. حمنہ نے پریگنٹ ہے یہ بات صرف ان پانچوں میں ہی.تھی…
ابھی حمنہ انہی سوچوں میں گم تھی..
کہ ظہر کی اذان ہوگئ..
اور حمنہ نماز پڑھنے کی.نیت سے کھڑکی کے پاس سے ہٹ گئ..
یمنہ بیگم لاکھ سمجھاتی رہتی تھی.. کہ.حمنہ نماز پڑھو.. قرآن پاک کی تلاوت کرو. اپنی ڈریسنگ درست کرو مگر حمنہ تھی..کہ اپنی ہی من مانی کرتی تھی…
“اور کہتے ہیں جسے کوئ نہی سمجھا پاتا
اسے وقت بہت اچھی طرح سمجھا دیتا ہے”
جیڈی کے دھوکے سے لے کر اپنی.مان باپ کی.موت کے بعد حمنہ بہت بدل چکی تھی. پانچوں وقت کی نماز ہر وقت سر پہ.ڈوپٹہ ..یہ تھی اب کی حمنہ..
نماز پڑھ کے حمنہ نے جب دعا کیلیے ہاتھ اٹھائے تو غور سے اپنی.ہاتھوں کی.لکیروں کو دیکھنے لگی..
اورروتے روتے الللہ سے دعا مانگنے لگی..
یالللہ میں بہت گنہگار بندی ہو اپکی.. اپکی.ہر حدود کو توڑا ہے میں نے یاالللہ.پاک مجھے معاف کردے مجھے سکون دے دیں میری.وجہ سے شاہ زین کی.زندگی کبھی خراب نہ کرنا میرے والدین مجھ سے ناراض ہوکے گئے ہیں.. یاالللہ مجھے معاف کردے مجھے سکون دے دے اپکی بھروسہ پہ.میں یہ.شادی.کررہی ہو.. یاالللہ.میرے آنے والے کی بچے کی.زندگی.میری.جیسی.نہ ہو نہ. یہ بولتے حمنہ سجدے میں جھک گئ..اور کب اسکی آنکھ لگی ..اسے پتہ نہی چلا.
اپنے سر پہ.کسی کے ہاتھ کے احساس کے تحت جب حمنہ نے ہلکی.ہلکی.انکھیں کھولی تو اسکا سر اسکی.ماں.کی.گودھ میں تھا..حمنہ ایک.جھٹکے سے اٹھی اور حیران نظروں سے دیکھنے لگی…اور بے یقینی کی.کیفیت میں یمنہ بیگم کو جیسی چھونے لگی وہ غائب ہوگئ…حمنہ دیوانہ وار انہیں ڈھونڈنے لگی.. تو دور انہیں کوئ.تین لوگ دیکھائ دیے حمنہ نے قریب جا کے دیکھا تو مشتاق صاحب یمنہ بیگم مسکرا کے اسے دیکھ رہے تھے مگر جیسی ہی حمنہ نے تیسرے بندے کو دیکھنا چاہا…
اسے ایسا لگا کے کوئ اسکا پورا وجود ہلا رہا ہے.. حمنہ کی.آنکھ ایک.دم کھلی
تو سامنے فاطمہ تھی.جو کب سے اسے آوازیں دے رہی تھی..
حمنہ ایک دم ہڑ بڑا کے اٹھی اور ادھر ادھر دیکھنے لگی…فاطمہ.اسکی.ہر حرکت نوٹ کررہی تھی.
.آہستہ سے حمنہ کے کندھے پہ.ہاتھ رکھا اور کہا..
کیا.ہوا حمنہ کیا ڈھونڈ رہی ہو… ؟؟؟
فاطمہ.کے بولنے.پہ.حمنہ.کی سمجھ آیا کے وہ خواب دیکھ رپی تھی…یعنی اسکے الللہ نے اسے اشارہ دے دی تھا کہ.اسکے والدین اب اس سے ناراض نہی مگر وہ تیسرا شخص اسکے والدین کے ساتھ کون تھا…
حمنہ یہ.سوچ رہی تھی.جب ایک بار پھر فاطمہ نے اسکا.کندھا ہلایا..اور کہا..
کہاں گم ہو یار کب سے آوازیں دے رہی.ہو …یاد ہے نہ عصر کے وقت نکاح ہے تمہارا. جلدی سے مایوں کا جوڑا پہنو اسی مین نکاح ہے مین تمہاری ساری.چیزیں نکال رہی ہو جلدی کرو مجھے اور بھی کام ہے…
فاطمہ.اپنی ہی دھن میں بولے جارہی تھی جبکہ حمنہ کا دماغ اپنے خواب میں ہی.اٹکا ہوا تھا..وہ چاہ کر بھی فاطمہ کو اپنا خواب سنا نہی.پائ..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
پیلے لونگ غرارے اور وائٹ شارٹ شرٹ کیساتھ کنٹراس کا ڈوپٹہ اوڑھے پھولوں کا زیور پہنے حمنہ پہ ٹوتھ کے روپ آیا تھا…شاہ زین نے فاطمہ اور آفتاب کے گھر والوں سے خاص کرکے یہ.ریکوسٹ کی تھی کہ حمنہ کی شادی ایسی ہو کے اسے اپنے ماں باپ کی.کمی نہ ہو..جبکے شاہ زین دل یہ چاہتا تھا کہ حمنہ کے دل مین خیال کبھی نہی آئ کے وہ اس پہ ترس کھا کے اس سے شادی کررہا ہے..
فاطمہ نے بھی چٹی پٹی.کا غرارہ اور ریڈ قمیض کیساتھ میچنگ کا ڈوپٹہ لیا ہوا تھا..پھولوں کا زیور پہنے وہ کس طرح بھی حمنہ سے کم.نہی لگ رہی تھی..
وائٹ کاٹن کے سوٹ پہ یللو واسکٹ پہنے شاہ زین کسی ریاست کا شہزادہ لگ رہا تھا…جبکہ خالد اور آفتاب نے سمپل بیلک سوٹ پہنا تھا…خالد کا ارادہ اج مینا کو بھی لاہور سے خالہ کیساتھ بلوانے کا تھا مگر خالہ کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے یہ ہو نہ سکا..
گھر کے لان میں مایوں کا چھوٹا سا انتظام کیا گیا. جسمین گھر کے لوگ اور خاص کر فیملی کے لوگ شامل تھے..تابندہ بیگم.کے کہنے پہ.آج فاطمہ نے نقاب نہی کیا تھا..کیونکہ انہیں اپنے کچھ خاص لوگوں سے فاطمہ.کا اپنے بہو کے روپ میں تعارف کروانا تھا..
خالد اپنے کسی.جان پہچان والوں کیساتھ کھڑا باتیں کررہا تھا. جب اس کی نظر گھر کے اندر جانے والے راستہ پہ.پڑی ایک بہت ہی خوبصورت لڑکی.اسکو ہاتھ کے اشارہ سے اپنے طرف بلا رہی تھی..دو منٹ کیلیے تو خالد کو لگا. اسکے پیچھے کوئ ہے شاید جیسے وہ.بلا رہی ہے مگر پلٹنے پہ خالد کو اپنے پیچھے کوئ نہی.دیکھا..خالد نے جب اپنے اوپر ہاتھ رکھ کے اسے اشارے میں پوچھا ..تو اس لڑکی نے ہاں میں گردن ہلائ..
خالد شوکڈ تھا کیونکہ.وہ.لڑکی کو جانتا نہی.تھا ..اور جسطرح وہ.اسے بولا رہی تھی وہ بھی اتنی خوبصورت لڑکی خالد کافی شاکڈ تھا…
وہ تھوڑا گھبراتا ہوا اس لڑکی تک.پہنچا اس سے پہلے خالد کچھ بولتا..
وہ لڑکی بول پڑی…
ارے خالد بھائ قاضی کہاں رہ گئے ابھی تک نہی آئے..
اور لڑکی کے روپ فاطمہ.کی.آواز سن کے خالد دنگ رہ.گیا اور کہا.
ارے فاطمہ.یہ.تم ہو.. توبہ میں تو خامائ خوش فہمی کا شکار ہوگیا اتنی خوبصورت لڑکی کے بلانے پہ.ہی..
اپنی تعریف جہاں فاطمہ.جھینپی وہی آفتاب کا قہقہ خالد کے پیچھے سے گونجا…
ارے یار فاطمہ.نقاب میں رہنا تھا کافی لوگ غلط فہمی ہوگئ ہےآفتاب کی بات پہ خالد کا قہقہ گونجا وہی.فاطمہ.بھی جھینپ گئ. آفتاب کی نظروں سے جو مسلسل اسے اپنی نظروں کے حصار میں لیہ ہوئے تھا…
اور نہی تو کیا مجھے بھی غلط فہمی ہوئ مگر جب آواز سنی تو دل ٹوٹے ٹوٹے ہوگیا..کہ یہ.تو بہن ہے اپنی..
توبہ.ہے خالد بھائ اپ سے تو فاطمہ.کے شرمانے پہ خالد کا
بھر ہور قہقہ گونجا اور ساتھ مین اس نے فاطمہ.کے سر پہ ہاتھ رکھا اور کہا..
سدا خوش رہو. ..
میری پیاری بہنا…
یہ بول.کے خالد اندر بڑھا تو فاطمہ بھی جانے کیلیے مڑی مگر اسکی.کلائ آفتاب کی گرفت میں تھی..آفتاب نے فاطمہ.کو پکڑ کے کھینچا اور کہا..
کہاں جا رہی ہو ظالم بیوی مجھے میری بیوی کے حسن کو سرہانے تو دو یہ.بول کے آفتاب جیسی ہی فاطمہ کے لبوں پہ.جھکا ..فاطمہ نے اپنا پاوں زور سے آفتاب کے پاوں پہ.مارا اور کہا..
شرم.کرلے کچھ حد ہوگئ…
یہ.بول.کے فاطمہ اندر بڑھ گئ. جبکہ آفتاب کا اچھا خاصا موڈ آف ہو چکا…
قاضی صاحب کے آتے ہی نکاح شروع ہوا.. نکاح نامہ.پہ.سائن کرتے ہوئے حمنہ بے تحاشہ ہوئ…کامران اور شیخ صاحب نے باپ بن کے اسکے سر پہ.ہاتھ رکھا…تو تابندہ.بیگم اور فاطمہ.کی.امی.نے ماں.بن کے اسے سینے سے لگایا..
نکاح کی.رسم کے بعد حمنہ کو گھونگھٹ میں شاہ زین کے ساتھ بیٹھانے کیلیے باہر لایا گیا..فاطمہ.حمنہ کے ساتھ ہی چل رہی تھی. جب شاہ زین نے غور سے فاطمہ کو دیکھ کے اپنے برابر میں بیٹھے خالد سے پو چھا…
یار بات سن خالد..
ہاں بول…
یار یہ لڑکی.جو حمنہ کو لے کے آرہی ہے یہ.کون ہے ماشاءالللہ پیاری ہے..
شاہ زین کی بات پہ خالد نے اپنی.ہنسی دبائ اور کہا..
ابھی پتہ.چل.جایے گا…
حمنہ کو فاطمہ اسٹیج پہ لائ تو فاطمہ نے شاہ زین سے کہا..
شاہ زین بھائ یہ.لے اپکی.بیوی…..
ارے فاطمہ.یہ تم ہو..
شاہ زین کو بھی فاطمہ.کو دیکھ کے کافی حیرانی ہوئ ہمیشہ ان.لوگوں نے فاطمہ.کو نقاب میں ہی.دیکھا تھا
اس لیہ.جہان خالد کو دھوکا ہوا وہی شاہ زین کو بھی.ہوا..
اففف زین بھائ اب اپ خالد بھائ کی طرح شروع مت ہوجائیے گا…
نہی نہ بہنا میں تو بھول گیا..جب میری بیوی اتنی خوبصورت ہے تو اسکی دوست بھی اتنی پیاری.ہوگی..
اپنی تعریف پہ حمنہ نے کرب سے اپنی آنکھیں بند کی تھی..
فاطمہ نے اسٹیج سے اترتے ہوئے خالد سے کہا..
بھائ اپنے آفتاب کو دیکھا ہے…؟؟؟
نہی.فاطمہ وہ نکاح کے بعد سے نہی دیکھا.اور خالد کی بات پہ فاطمہ سمجھ گئ کے آفتاب اس سے سخت ناراض ہوگیا…
جاری ہے..
